(مولانا حسیب صدیقی قاسمی کا سانحہ وفات )
ـــــــــــــــــــــــ
دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ رقم کرتے ہیں اور اپنے اکابرین کے قائم کردہ اصولوں کے مطابق زندگی گزار کر ایسے کار ہائے نمایاں انجام دیتے ہیں جنہیں تاریخ اپنے گوشوں میں محفوظ کرتی ہے اوروہ آنے والی نسلوں کے لئے نہ صرف یہ کہ مشعل راہ ہوتے ہیں بلکہ ان شخصیات کی ہمہ جہت جدوجہد ،فکر اور قوم و ملت کے درد کو اجاگربھی کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت آج دیوبند کو روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے آخری سفر پر رخصت ہوگئی ہے، یقینا انسان کی یہی حقیقت ہے ،جو اس دنیا میںآیاہے اس کو اپنے مالک کی طرف لوٹنا ضرور ہے ،لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیںجن کے لوٹنے سے نہ جانے کے کتنے گھروںمیں ماتم پسرجاتا ہے ،
نہ جانے کتنے لوگ اپنے آپ کو یتیم محسوس کرتے ہیں اور نہ جانے کتنے اپنے رہنمائ، مخلص،کرم فرمااور ہمدرد و سرپرست سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس میں کوئی تامل نہیںہے کہ آج دیوبند یتیم ہوگیاہے۔ ایک جانب دارالعلوم دیوبند کے سبب دیوبند کی تاریخ سے پوری دنیا واقف ہے وہیں دوسری طرف خاموشی کے ساتھ مولانا حسیب صدیقی نے دیوبند میں جو تعلیمی، ملی ،اقتصادی اور سماجی و سیاسی خدمات انجام دیں ہیں وہ تاریخ دیوبند کا ایسا زریں حصہ ہے جو ہمیشہ سنہرے الفاظ میں رقم ہوگا۔ خدمت اور تعلیم بالخصوص مسلمانوں کی معیشت کو مضبوط بنانے اور کمزور طبقات کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور بچیوں کی تعلیم کے میدان میں مولانا حسیب صدیقی نے عظیم کارنامے انجام دیئے ہیں۔ آپ کی محفل میں بیٹھنے والے اور آپ کے ساتھ وقت گزارنے والے لوگ بہت اچھی طرح جانتے ہیں آپ اکابرین دیوبند سے والہانہ تعلق ،محبت اور انسیت رکھتے تھے، قومی کی تعلیمی اور اقتصادی کمزوری کو آپ تمام مسائل کی جڑ سمجھتے تھے اور ہمیشہ اس عنوان پر نہ صرف یہ کہ گفتگو کرتے تھے بلکہ اخبارات اور رسائل میں اس مسئلہ پر خود لکھتے اور لکھنے پڑھنے والے لوگوں سے اس عنوان پر زیادہ زیادہ تحریریں عام پر کرنے پر زور دیتے تھے۔ آپ کی نرم مزاجی،شگفتگی ،بلند اخلاق اور بلند کردار کے سبب آپ دیوبند کی مقبول ترین شخصیت تھے۔ مسلم فنڈ دیوبند اور اس کے تحت قائم کردہ درجنوں ادارے آپ کی فکر اور اس فکر پر عمل جامہ پہنانے کی جدوجہد کی زندہ مثال ہے۔ مولانا حسیب صدیقی شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کو شاگرد رشید تھے، سرزمین دیوبند کی ایک عظیم عہد ساز شخصیت تھے،جن کی پوری زندگی لوگوں کی بھلائی اور خیر خواہی میں گزری ہے،نرم لہجہ، شگفتہ اور شائستگی ،بلند اخلاق،ملنساری ، چھوٹوں پر شفقت اور کسی کی تکلیف کو دیکھ کر تڑپ اٹھنا آپ کی زندگی کا خاصہ تھا۔ دیوبند میں جگہ جگہ آپ کے خدمت کا اثر نظر آتاہے۔ آج دیوبند میں ان کے قائم کردہ ایک درجن ایسے ادارے ہیں جو ان کی اقتصادی،ملی،تعلیمی،سماجی ، سیاسی ،ادبی اور صحافتی کی خدمات کی عظیم الشان نظیر بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ آپ گزشتہ تقریباً بچپن سے ملک و ملت کی ایسی نمایاںخدمات کررہے تھے جو ناصرف ناقابل فراموش ہے بلکہ دیوبند کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جو ہمیشہ سنہرے الفاظ میں درج ہوگا۔ فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنیؒ کے ذریعہ 1961ءمیں قائم کردہ ادارہ کو مرحوم مولانا حسیب صدیقی نے اپنے خو ن جگر سے اس ادارہ کو مسلم فنڈ دیوبندکی شکل میں ایک تناور شجر بنایا ہے،جس سے آج بلا تفریق مذہب و ملت لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو فائدہ پہنچ رہاہے۔مولانا حسیب صدیقی نے مسلم فنڈ دیوبند کی شکل میں ملک و ملت کو ایک ایسااقتصادی نظام دیاہے جس سے روشنی پاکر ہندوستان میں متعدد ملی تنظیمیں اپنے اپنے علاقوں میں اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کے لئے ملک کے مختلف علاقوں میں اسی طرز کے سیکڑوںمعاشی ادارے قائم کرکے کمزور طبقات کی معیشت کو بہتر بنانے کاکام انجام دے رہے ہیں۔مسلم فنڈ دیوبند کے تحت انہوں نے بچیوں کی تعلیم کے لئے پبلک گرلز انٹر کالج، تکنیکی تعلیم کے لئے مدنی ٹیکنیکل انسٹی ٹیو ٹ اور مسلم فنڈ ناگل سمیت ایک درجن ایسے اداروں کا قیام کیا ہے جو خدمت خلق کے سفرپر رواں دواں ہیں۔ مولانا حسیب صدیقی جمعیة علماءہند کے قومی خازن تھے،گزشتہ پچاس سال سے آپ جمعیة علماءہند کے مختلف عہدوں پر رہ کر خدمت کررہے تھے، مدنی خانوادہ سے بے پناہ انسیت اور تعلق رکھتے تھے۔ آل انڈیا اقتصادی کونسل کے چیئرمین اوردیوبند میونسپل بورڈ کے سال 2007ءسے سال 2012ءتک چیئرمین رہے ہیں۔اس کے علاوہ بیشمار ایسے ادارے اور تنظیمیں ہیں جو آپ کی سرپرستی میں بہترین خدمات انجام دے رہی تھےں۔ذاتی طورپر آپ کے انتقال کا جس کا قدر صدمہ مجھے پہنچا ہے وہ آخرتک باقی رہے گا، میرے ساتھ آپ کی محبتیں اور کرم فرمائیاں کچھ ایسی رہی ہیں جنہیں کبھی فراموش کیا ہی نہیں جاسکتاہے،دیوبند آنا اور یہاں آکر اس طرح ٹھہر جانا ہے جیسے یہاں کی مٹی سے بنا ہوں،اس میں یقینی طورپر مولانا حسیب صدیقی کی بڑی محبتیں اور کرم فرمائیاں شامل ہیں،جن کو کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتاہوں ۔ آج مولانا حسیب صدیقی ہمارے درمیان نہیں ہے جس پر یقین کرنا بہت مشکل ہورہاہے،مگر ان کے جیسے ظرف اور اصولوں کے پابند بہت کم لوگ دنیا میں آتے ہیں۔ 84 سال کی عمرمیں جب لوگ اور ڈاکٹر بستر کو ترجیح دیتے ہیں تو اس وقت بھی آپ کے خون میں جذبہ ¿ خدمت خلق جنوں بن کر دوڑتا تھا۔بلند ہمت کے ایسے بہت کم لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ ہمیشہ مستعدی سے ڈیوٹی کرنا اور مسلم فنڈ سمیت تمام اداروں کی ہر چھوٹی چھوٹی چیزوں پر نظر رکھنا ،اداروں کے مسائل کو خندہ پیشانی کے ساتھ نہ صرف یہ کہ حل کرنا بلکہ ہر طرح کے لوگوں کو ڈیل کرنے کے بعد کبھی ماتھے پر شکن تک نہ لانا یہ بڑی ہمت کی بات تھی،تمام کارکنان کے مسائل کو شفقت کے ساتھ حل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے پچپن(55) سال تک کس طرح ان اداروں کو تناور درخت بنانے میں اپنے دن رات ایک کیے ۔ وقت کی پابندی آپ کے یہا ایسی تھی کہ آج کی نسلوںمیں ملنا ناممکن سی بات ہے ،معمولات زندگی صبح سے جو شروع ہوتے رات پہر تک اسی طرح جاری رہتے ہیں ۔ صبر و شکر اور ظرف کے ساتھ ایسی زندگی گزاری ہے جس کی دیوبند کی تاریخ میں ہمیشہ مثال دی جاتی رہے گی۔ حسیب صدیقی کے یہاں دس بجے کا مطلب 9:55 ہوتا تھا۔آپ کے قریبی لوگ جانتے ہیں آپ کے یہاں ہر کام کو لکھنے کا معمول تھا اور اپنے چھوٹوں کو بھی اس کی نصیحت کرتے تھے ،لکھنے کے بعد ہی کام کرتے تھے۔ ایک ڈائری گھر اور سفر ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتی تھی ۔ میں گزشتہ نو سال سے آپ کے معمولات کو بہت قریب سے مشاہدہ کررہاہوں میں نے آپ کو جو پایا ایسے چنندہ لوگ ہی ہوتے ہیں۔ الحمداللہ آپ کے ہونہار تین بیٹے ہیں جو آپ کے قائم کردہ اداروں کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں ،ہمیں یقین ہے کہ آپ کے قائم کردہ یہ درجنوں ادارے یونہی قوم وملت کی بے لوث خدمات انجام دیتے رہے گیں،جن کی ایک ایک اینٹ میںآپ کا خون پسینہ شامل ہے ،اور آپ کے قائم کردہ اصولوں پر حسب سابق قوم و ملت کی خدمات کا فریضہ انجام دیتے رہینگے ۔یقیناً اس مختصر تحریر میں مرحوم کی تاریخ ساز خدمات کا احاطہ کرنا نا ممکن ہے لیکن یہ نا چیز کے جذبات ہیں جو بے ساختہ کاغذ پر اتر گۓ ۔ دعاءکریں اللہ پاک مولانا حسیب صدیقی کی مغفرت فرماکر درجات بلند فرمائے۔
