ارقم المعلم بمدینۃ العلوم گاگریا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زندگی کی ۲۸ بہاریں دیکھ چکا، آج بیٹھے بٹھائے مڑکر جو پیچھے دیکھا تو نظر آیا، زندگی میں فتح ونیک نامی کے فراز، ناکامی و نامرادی کے نشیب۔ سستی،کاہلی اور غفلت کے بھول بھُلیوں کے بیچ جہدِمسلسل کے روشن کوہسار بھی بفضل اللہ ہیں۔ان سب سے نمایاں زندگی کے اس سفر میں چند روشن تابناک جھانکتے ستارے بھی نظر آرہے ہیں۔ یہ وہ جگمگاتے ستارے ہیں جنہوں نے ایسے وقت میں اپنی ضوفشانی سے راہنمائی کی، جب ہر طرف گھٹاٹوپ اندھیرا ہی اندھیرا تھا،ایسے مشکل وقت میں قدم قدم پر راہزن تو ملتے ہیں مگر راہبروں کا دور دور تک اتا پتہ نہیں ہوتا۔ یہ میرے والی یااساتذہ ہوتے تب تو سمجھ آتا کہ ہر کوئی اپنے ماتحت پر توجہ اور شاگرد پر محنت فرماتاہے، قربان جاؤں میں ان کی فطرتِ سلیمہ پر کہ انہوں نے دوستی وہمسری میں وہ کچھ عطافرمادیا، جو بڑی مشکل سے اساتذہ اور بڑوں سے حاصل کیا جاسکتاہے۔ فجزاہم اللہ عنی خیر الجزاء
ان کے اتنے بڑے احسانات کے بوجھ سے جب بھی سرجھکا تووہ ناراض ہوکر بیگانگی پر شکوہ فرمانے لگ جاتے ہیں۔ اتنی بڑی خدمات پر بے ساختہ انہیں جب بھی استاذ کہ پکارا جوابا اپنائیت بھری ڈانٹ ہی حاصل ہوئی، میں ان کی جائز تعریف کرکے احسان کابدلہ چکانے کی کوشش کرتاہوں تو وہ روٹھ جاتے ہیں۔ کیا چودہویں صدی میں اس قسم کے لوگ موجود ہیں؟
جی ہاں!!!
؎ابھی کچھ لوگ باقی ہیں اس جہاں میں۔
چلیں ان کی ناراضگی اور ملامت کی پرواہ کیے بغیر آج کی مجلس انہیں کے نام کرتے ہیں۔
آپ بھی بے چین ہوں گے کہ آخر اس زمانے میں ایساوفا واخلاص کا پیکر ہے کون؟
آپ مطمئن رہیں یہ کوئی نہ آسمانی مخلوق ہے نہ خلائی بلکہ آپ ہی میں سے چند ہستیاں ہیں۔ آئیں ان کے ناموں اور کارناموں سے اپنے آپ کو سنوارنے کی کوشش کریں۔
حضرت مولانا عبدالرحیم ساوندی۔ ۲۰۱۲ میں حضرت سے پہلی ملاقات ہوئی، حفظ کے ماہر استاذ، قابل رشک منتظم ہونے کے ساتھ ساتھ قوم و ملت عظیم رہبر بھی ہیں، میں نے کئی ایک چودھری، پٹیل اورسماجی رہبر دیکھے، مگر ان سا ذکی، معاملہ فہم اور راست باز کسی کو نہیں پایا،جب تک ان کا ساتھ رہا ہم بھائیوں کی طرح رہے، آج بھی ان کو وہی مقام حاصل ہے۔ان سے ابھی بھی وقتا فوقتا مشاورت ہوتی رہتی ہے۔
قاری عبدالرزاق مانک لاؤ۔آپ کم سخن، خاموش مزاج اور گہری طبیعت کے مالک ہیں، یہ شعر آپ پر فٹ آتاہے۔
جو چپ بیٹھوں تو اک کوہِ گراں معلوم ہوتا ہوں۔
جولب کھولوں تو اک دریائے رواں معلوم ہوتا ہوں
آپ کی وسیع معلومات، حالات حاضرہ پر نظر اور مضبوط نظریات سے بہت کچھ حاصل ہوا، جب تک پڑوس میں رہا، آپ کی فیاضی اور سخاوت سے ہمیشہ مستفیض ہوتارہا۔
مفتی نیک محمد صاحب۔ غضب کی صلاحیت اور متعدد فنون میں مہارت کا حامل یہ نوجوان کسی افسانوی کردار سے کم نہیں ہے۔ ان سے رابطے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ میرا لکھنے لکھانے کا سفر، جس کا آغاز ۲۰۱۱ میں مدرسہ تعلیم الاطفال ملوا سے شروع ہوا تھا، چند مخلصین کے سہارے جاری وساری تھا، ان دنوں ایک دوست کے حکم پر اپنی مشقیہ تحریروں کو بغرض اصلاح واٹس ایپ پر شیئر کرنا شروع کیا۔ ایک دن ایک صاحب پرسنل پر حاضر ہوئے اور اس طرز سے اصلاح کی کہ میں حیران رہ گیا۔ میں نے درخواست کی آپ سرِ بزم ہی غلطیاں بتادیا کریں مگر وہ کسی طور راضی نہیں ہوئے۔ یہ کوئی اور نہیں بلکہ مفتی نیک محمد تھے۔ فرمایا کہ واقعی گر کچھ سیکھنا ہے تو مکمل تصحیح کے بغیر تحریر شائع نہ کیا کریں۔ میں نے جرات سے کام لیتے ہوئے عرض کیا، سیکھنے والوں کے لیے غلطیاں اتنا بڑا عیب نہیں ہوا کرتی۔ حکم ہوا کہ کہ زندگی میں خیر خواہ کم؛ بدخواہ زیادہ ہوتے ہیں، مصلح کم اور مفسد زیادہ ملیں گے۔ اس وقت یہ چھوٹی سی بات سمجھ نہ آئی مگر اب اچھی طرح ذہن نشین ہوچکی ہے۔ میں دن یارات کے کسی بھی پہر ان کو کوئی تحریر بھیجتا وہ اسی وقت مجھے وقت عنایت فرماتے۔ آج بھی ہمارے نظریات کافی مختلف ہیں، سرِ عام موافقت و مخالفت بھی ہوتی رہتی ہے، مگر بحمداللہ اس سے یہ سلسلہ کبھی متاثر نہیں ہوا۔
مولاناامام تاملیاری دس سال کی رفاقت میں تعلیم تعلم میں معاونت رہی۔ ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور رہن سہن کو پہلے پہل دیکھنے والا یہی تصور کرتا کہ یہ سگے بھائی ہیں۔ ان کاخاص وصف استقلال اور استقامت ہے، اس مرد آہن کی استقامت پر پہاڑ بھی رشک کرتے ہوں گے۔ ان کے اسی وصف کی بدولت ہم نے ملکر جامعیہ قاسمیہ کھروڈ میں مفتی زبیر صاحب کی زیر نگرانی نحو وصرف از سرے نو پڑھا۔
مولانا ارشد ندوی۔ ہم میں سے اکثر کی سوچ یہی رہتی ہے کہ شہزادگی اور صاحب زادگی کا محنت وصلاحیت سے بھلا کیا لینا دینا۔خصوصا باڑمیر میں۔ مگر یہ بھرم اس وقت ٹوٹا جب بیت بازی میں ندوی جی سے پنگا لیا تو محسوس ہی نہیں بلکہ یقین ہوگیا کہ یہ پتھر بھاری ہے۔ پھر مجھے جب بھی تحریرات کو سنوارنے کے لیے اشعار کی ضرورت پڑتی انہیں کی طرف رجوع کرتا، اور نظر ثانی اور اصلاح بھی ان سے کرواتا رہتاہوں، یوں یہ بھی میرے خاص الخاص کے زمرے آپہنچے۔
مولانا اسلام الدین ننؤ ان سے گہرا تعلق رہا۔ مال کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ بہت ہی عمدہ ہندی مترجم ہیں، ان سے استفادہ بنات میں قیام کے دوران خوب کیا، مولانا بھی اپنی مصروفیت کو بالائے طاق رکھ کر مجھے وقت دیتے رہے، کانگریس کا اصل چہرہ انہیں کی خاص نگرانی میں ہندی میں لکھا۔
تحریر کے لوازمات میں سے ایک لازم لیپ ٹاپ ہے، وہ کسی ولی اللہ کی بدولت بآسانی میسر آگیا، مگر اب اس کو سیکھنا یہ بھی ایک بہت بڑا چیلینج تھا، یہ خدمت اللہ نے سر جبلی کے ذمے رکھی تھی۔ دیگر کئی دوستوں نے اس فن کو سکھانے کی کوشش کی سب کا شکرگزار ہوں۔ لیکن سر نے پاور پوائنٹ، کلک، فوٹوشاپ اور کورل سکھائے، غضب یہ کے نئے نئے ورژن کریک کرنے کا طریقہ بھی بتلایا۔ پرانے ماہرین ایم ایس دس اور سات استعمال کرتے ہیں، مگر بفضل اللہ میرے پاس ایم ایس سولہ کورل سترہ اور فوٹوشاپ پندرہ ہے۔ کلک بغیر ہزاروں روپیے خرچ کیے انسٹال ہی نہیں ہوتا، مگر سر کی کرم فرمائی سے فری میں صرف انسٹال ہی نہیں کیا بلکہ کچھ حد تک سیکھ بھی گیا۔اللہ ان سب کو سلامت رکھے۔ آمین۔
ایک بات پلے باندھ لیں کہ ہر چمکتا سونا نہیں ہوتا، دور سے نظر آتا پانی ہوسکتا ہے سراب ہو حقیقت نہ ہو۔زندگی میں سینکڑوں دوستوں سے پالا پڑا ان میں صرف یہ چند ہستیاں کھری اتریں۔ بس آج کی مجلس کا یہ سبق ہے کہ ہر صلاحیت مند مفتی نیک محمد نہیں ہوتا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زندگی کی ۲۸ بہاریں دیکھ چکا، آج بیٹھے بٹھائے مڑکر جو پیچھے دیکھا تو نظر آیا، زندگی میں فتح ونیک نامی کے فراز، ناکامی و نامرادی کے نشیب۔ سستی،کاہلی اور غفلت کے بھول بھُلیوں کے بیچ جہدِمسلسل کے روشن کوہسار بھی بفضل اللہ ہیں۔ان سب سے نمایاں زندگی کے اس سفر میں چند روشن تابناک جھانکتے ستارے بھی نظر آرہے ہیں۔ یہ وہ جگمگاتے ستارے ہیں جنہوں نے ایسے وقت میں اپنی ضوفشانی سے راہنمائی کی، جب ہر طرف گھٹاٹوپ اندھیرا ہی اندھیرا تھا،ایسے مشکل وقت میں قدم قدم پر راہزن تو ملتے ہیں مگر راہبروں کا دور دور تک اتا پتہ نہیں ہوتا۔ یہ میرے والی یااساتذہ ہوتے تب تو سمجھ آتا کہ ہر کوئی اپنے ماتحت پر توجہ اور شاگرد پر محنت فرماتاہے، قربان جاؤں میں ان کی فطرتِ سلیمہ پر کہ انہوں نے دوستی وہمسری میں وہ کچھ عطافرمادیا، جو بڑی مشکل سے اساتذہ اور بڑوں سے حاصل کیا جاسکتاہے۔ فجزاہم اللہ عنی خیر الجزاء
ان کے اتنے بڑے احسانات کے بوجھ سے جب بھی سرجھکا تووہ ناراض ہوکر بیگانگی پر شکوہ فرمانے لگ جاتے ہیں۔ اتنی بڑی خدمات پر بے ساختہ انہیں جب بھی استاذ کہ پکارا جوابا اپنائیت بھری ڈانٹ ہی حاصل ہوئی، میں ان کی جائز تعریف کرکے احسان کابدلہ چکانے کی کوشش کرتاہوں تو وہ روٹھ جاتے ہیں۔ کیا چودہویں صدی میں اس قسم کے لوگ موجود ہیں؟
جی ہاں!!!
؎ابھی کچھ لوگ باقی ہیں اس جہاں میں۔
چلیں ان کی ناراضگی اور ملامت کی پرواہ کیے بغیر آج کی مجلس انہیں کے نام کرتے ہیں۔
آپ بھی بے چین ہوں گے کہ آخر اس زمانے میں ایساوفا واخلاص کا پیکر ہے کون؟
آپ مطمئن رہیں یہ کوئی نہ آسمانی مخلوق ہے نہ خلائی بلکہ آپ ہی میں سے چند ہستیاں ہیں۔ آئیں ان کے ناموں اور کارناموں سے اپنے آپ کو سنوارنے کی کوشش کریں۔
حضرت مولانا عبدالرحیم ساوندی۔ ۲۰۱۲ میں حضرت سے پہلی ملاقات ہوئی، حفظ کے ماہر استاذ، قابل رشک منتظم ہونے کے ساتھ ساتھ قوم و ملت عظیم رہبر بھی ہیں، میں نے کئی ایک چودھری، پٹیل اورسماجی رہبر دیکھے، مگر ان سا ذکی، معاملہ فہم اور راست باز کسی کو نہیں پایا،جب تک ان کا ساتھ رہا ہم بھائیوں کی طرح رہے، آج بھی ان کو وہی مقام حاصل ہے۔ان سے ابھی بھی وقتا فوقتا مشاورت ہوتی رہتی ہے۔
قاری عبدالرزاق مانک لاؤ۔آپ کم سخن، خاموش مزاج اور گہری طبیعت کے مالک ہیں، یہ شعر آپ پر فٹ آتاہے۔
جو چپ بیٹھوں تو اک کوہِ گراں معلوم ہوتا ہوں۔
جولب کھولوں تو اک دریائے رواں معلوم ہوتا ہوں
آپ کی وسیع معلومات، حالات حاضرہ پر نظر اور مضبوط نظریات سے بہت کچھ حاصل ہوا، جب تک پڑوس میں رہا، آپ کی فیاضی اور سخاوت سے ہمیشہ مستفیض ہوتارہا۔
مفتی نیک محمد صاحب۔ غضب کی صلاحیت اور متعدد فنون میں مہارت کا حامل یہ نوجوان کسی افسانوی کردار سے کم نہیں ہے۔ ان سے رابطے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ میرا لکھنے لکھانے کا سفر، جس کا آغاز ۲۰۱۱ میں مدرسہ تعلیم الاطفال ملوا سے شروع ہوا تھا، چند مخلصین کے سہارے جاری وساری تھا، ان دنوں ایک دوست کے حکم پر اپنی مشقیہ تحریروں کو بغرض اصلاح واٹس ایپ پر شیئر کرنا شروع کیا۔ ایک دن ایک صاحب پرسنل پر حاضر ہوئے اور اس طرز سے اصلاح کی کہ میں حیران رہ گیا۔ میں نے درخواست کی آپ سرِ بزم ہی غلطیاں بتادیا کریں مگر وہ کسی طور راضی نہیں ہوئے۔ یہ کوئی اور نہیں بلکہ مفتی نیک محمد تھے۔ فرمایا کہ واقعی گر کچھ سیکھنا ہے تو مکمل تصحیح کے بغیر تحریر شائع نہ کیا کریں۔ میں نے جرات سے کام لیتے ہوئے عرض کیا، سیکھنے والوں کے لیے غلطیاں اتنا بڑا عیب نہیں ہوا کرتی۔ حکم ہوا کہ کہ زندگی میں خیر خواہ کم؛ بدخواہ زیادہ ہوتے ہیں، مصلح کم اور مفسد زیادہ ملیں گے۔ اس وقت یہ چھوٹی سی بات سمجھ نہ آئی مگر اب اچھی طرح ذہن نشین ہوچکی ہے۔ میں دن یارات کے کسی بھی پہر ان کو کوئی تحریر بھیجتا وہ اسی وقت مجھے وقت عنایت فرماتے۔ آج بھی ہمارے نظریات کافی مختلف ہیں، سرِ عام موافقت و مخالفت بھی ہوتی رہتی ہے، مگر بحمداللہ اس سے یہ سلسلہ کبھی متاثر نہیں ہوا۔
مولاناامام تاملیاری دس سال کی رفاقت میں تعلیم تعلم میں معاونت رہی۔ ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور رہن سہن کو پہلے پہل دیکھنے والا یہی تصور کرتا کہ یہ سگے بھائی ہیں۔ ان کاخاص وصف استقلال اور استقامت ہے، اس مرد آہن کی استقامت پر پہاڑ بھی رشک کرتے ہوں گے۔ ان کے اسی وصف کی بدولت ہم نے ملکر جامعیہ قاسمیہ کھروڈ میں مفتی زبیر صاحب کی زیر نگرانی نحو وصرف از سرے نو پڑھا۔
مولانا ارشد ندوی۔ ہم میں سے اکثر کی سوچ یہی رہتی ہے کہ شہزادگی اور صاحب زادگی کا محنت وصلاحیت سے بھلا کیا لینا دینا۔خصوصا باڑمیر میں۔ مگر یہ بھرم اس وقت ٹوٹا جب بیت بازی میں ندوی جی سے پنگا لیا تو محسوس ہی نہیں بلکہ یقین ہوگیا کہ یہ پتھر بھاری ہے۔ پھر مجھے جب بھی تحریرات کو سنوارنے کے لیے اشعار کی ضرورت پڑتی انہیں کی طرف رجوع کرتا، اور نظر ثانی اور اصلاح بھی ان سے کرواتا رہتاہوں، یوں یہ بھی میرے خاص الخاص کے زمرے آپہنچے۔
مولانا اسلام الدین ننؤ ان سے گہرا تعلق رہا۔ مال کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ بہت ہی عمدہ ہندی مترجم ہیں، ان سے استفادہ بنات میں قیام کے دوران خوب کیا، مولانا بھی اپنی مصروفیت کو بالائے طاق رکھ کر مجھے وقت دیتے رہے، کانگریس کا اصل چہرہ انہیں کی خاص نگرانی میں ہندی میں لکھا۔
تحریر کے لوازمات میں سے ایک لازم لیپ ٹاپ ہے، وہ کسی ولی اللہ کی بدولت بآسانی میسر آگیا، مگر اب اس کو سیکھنا یہ بھی ایک بہت بڑا چیلینج تھا، یہ خدمت اللہ نے سر جبلی کے ذمے رکھی تھی۔ دیگر کئی دوستوں نے اس فن کو سکھانے کی کوشش کی سب کا شکرگزار ہوں۔ لیکن سر نے پاور پوائنٹ، کلک، فوٹوشاپ اور کورل سکھائے، غضب یہ کے نئے نئے ورژن کریک کرنے کا طریقہ بھی بتلایا۔ پرانے ماہرین ایم ایس دس اور سات استعمال کرتے ہیں، مگر بفضل اللہ میرے پاس ایم ایس سولہ کورل سترہ اور فوٹوشاپ پندرہ ہے۔ کلک بغیر ہزاروں روپیے خرچ کیے انسٹال ہی نہیں ہوتا، مگر سر کی کرم فرمائی سے فری میں صرف انسٹال ہی نہیں کیا بلکہ کچھ حد تک سیکھ بھی گیا۔اللہ ان سب کو سلامت رکھے۔ آمین۔
ایک بات پلے باندھ لیں کہ ہر چمکتا سونا نہیں ہوتا، دور سے نظر آتا پانی ہوسکتا ہے سراب ہو حقیقت نہ ہو۔زندگی میں سینکڑوں دوستوں سے پالا پڑا ان میں صرف یہ چند ہستیاں کھری اتریں۔ بس آج کی مجلس کا یہ سبق ہے کہ ہر صلاحیت مند مفتی نیک محمد نہیں ہوتا۔