ذیشان الہی منیر تیمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اورنگ آباد/مہاراشٹرا(آئی این اے نیوز 25/مارچ 2019) ڈاکٹر پٹھان وسیم سر کی ڈاکٹریت کی ڈگری کے حصول کو یادگار اور پروقار بنانے کے ساتھ ساتھ مانو کالج کے تمام طلبہ و طالبات کی جانب سے سر کو تہنیت، مبارکبادی، خراج تحسین اور گلہائے عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک خوبصورت محفل کا انعقاد آج کیا گیا، اس پروگرام کی صدارت کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عبد الرحیم سر فرما رہے تھے جب کہ نظامت کی ذمہ داری مولانا صغیر کے ہاتھ میں تھی ۔
اس پروگرام کی ابتداء حافظ مشکور نے قرآن مقدس کی چند آیتوں کے مد نظر کیا ۔قرآن کی تلاوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نعتیہ اشعار گنگنانے کے لئے جنید بھائی تشریف لائے اور بہترین و مسحور کن لب و لہجہ میں سامعین کے خوبصورت سماعتوں کے حوالے کچھ اشعار کئے ۔پھر اس کے بعد پروفیسر ڈاکٹر پٹھان وسیم سر ڈائج پے تشریف لائے انہوں تمام اساتذۃ و معلمات اور طلبہ و طالبات کا اس خوبصورت مجلس کو سجانے اور گلہائے عقیدت پیش کرنے کے لئے شکریہ ادا کیئے ۔پھر اس کے بعد طلبہ و طالبات کی خواہشات اور اصرار کی وجہ کر آپ نے چند چیدہ چنیدہ اشعار گنگنائے جس کی وجہ سے مجلس میں مزید چار چاند لگ گیا ۔آپ کے گنگنائے ہوئے اشعار میں سے چار مصرعے ذیل میں درج کئے جارہے ہیں ۔
پانی میں نیکیوں کو بہانے میں رہ گیا
احسان کیا اور جتانے میں رہ گیا
زردار کو نصیب ہوئی حج کی سعادت
میں بیٹیوں کی شادی رچانے میں رہ گیا
دکتور صاحب کی خوبصورت اشعار کو سننے کے بعد تمام طلبہ و طالبات کی جانب سے طلبہ و طالبات کے سی آر محمد ہارون نے پروفیسر ڈاکٹر وسیم سر کو ڈاکٹریت کی ڈگری کے حصول کے لئے گلہائے عقیدت پیش کئے اور مزید بہتر مستقبل کے لئے دعائیں دی ۔
اس پروگرام میں باالعموم کالج کے تمام اساتذۃ، معلمات اور طلبہ و طالبات شامل تھے لیکن باالخصوص میں کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عبد الرحیم سر، پروفیسر ڈاکٹر بدر الاسلام سر، پروفیسر ڈاکٹر خان شہناز بانو میم،پروفیسر نزہت پروین میم، پروفیسر عظمی صدیقی میم، پروفیسر قیصر جہاں چودھری میم، مولانا معصوم اشرف السلفی، مولانا عبد اللہ تیمی، مولانا نیر اعظم سنابلی، مولانا زاہد ندوی، مفتی ندیم قاسمی، تبارک ندوی، انجینئر غلام مصطفی، ذیشان الہی منیر تیمی، محمد علی، محمد شہاب الدین، محمد عمران،امتیاز ،قادر، احمد رضا، افروز، شریف الحق، سلمان، فداء الحق، شمشاد، سیماب، ترنم، عمرانہ، روبینہ، ماہ طلعت اور نمراء وغیرہ کے نام قابل ذکر ہے ۔
اس پروگرام کا اختتام کالج کے پرنسپل کے صدارتی کلمات سے ہوا ۔آپ نے اپنے چند منٹ کی صدارتی کلمات میں بہت بڑی بات کہہ دی۔آپ نے جہاں ایک طرف ڈاکٹر وسیم سر کی اس کامیابی پر انہیں مبارکبادی دی اور بہتر مسقبل کے لئے دعائیں دی وہی دوسری طرف طلبہ و طالبات کو بھی اس طرح کے بہتر اور اعلی ڈگری کے حصول کی جانب توجہ مبذول کرائی ۔مجموعی طور پر آج کا یہ پروگرام بہت حد تک کامیاب اور یادگار پروگرام رہا ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اورنگ آباد/مہاراشٹرا(آئی این اے نیوز 25/مارچ 2019) ڈاکٹر پٹھان وسیم سر کی ڈاکٹریت کی ڈگری کے حصول کو یادگار اور پروقار بنانے کے ساتھ ساتھ مانو کالج کے تمام طلبہ و طالبات کی جانب سے سر کو تہنیت، مبارکبادی، خراج تحسین اور گلہائے عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک خوبصورت محفل کا انعقاد آج کیا گیا، اس پروگرام کی صدارت کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عبد الرحیم سر فرما رہے تھے جب کہ نظامت کی ذمہ داری مولانا صغیر کے ہاتھ میں تھی ۔
اس پروگرام کی ابتداء حافظ مشکور نے قرآن مقدس کی چند آیتوں کے مد نظر کیا ۔قرآن کی تلاوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نعتیہ اشعار گنگنانے کے لئے جنید بھائی تشریف لائے اور بہترین و مسحور کن لب و لہجہ میں سامعین کے خوبصورت سماعتوں کے حوالے کچھ اشعار کئے ۔پھر اس کے بعد پروفیسر ڈاکٹر پٹھان وسیم سر ڈائج پے تشریف لائے انہوں تمام اساتذۃ و معلمات اور طلبہ و طالبات کا اس خوبصورت مجلس کو سجانے اور گلہائے عقیدت پیش کرنے کے لئے شکریہ ادا کیئے ۔پھر اس کے بعد طلبہ و طالبات کی خواہشات اور اصرار کی وجہ کر آپ نے چند چیدہ چنیدہ اشعار گنگنائے جس کی وجہ سے مجلس میں مزید چار چاند لگ گیا ۔آپ کے گنگنائے ہوئے اشعار میں سے چار مصرعے ذیل میں درج کئے جارہے ہیں ۔
پانی میں نیکیوں کو بہانے میں رہ گیا
احسان کیا اور جتانے میں رہ گیا
زردار کو نصیب ہوئی حج کی سعادت
میں بیٹیوں کی شادی رچانے میں رہ گیا
دکتور صاحب کی خوبصورت اشعار کو سننے کے بعد تمام طلبہ و طالبات کی جانب سے طلبہ و طالبات کے سی آر محمد ہارون نے پروفیسر ڈاکٹر وسیم سر کو ڈاکٹریت کی ڈگری کے حصول کے لئے گلہائے عقیدت پیش کئے اور مزید بہتر مستقبل کے لئے دعائیں دی ۔
اس پروگرام میں باالعموم کالج کے تمام اساتذۃ، معلمات اور طلبہ و طالبات شامل تھے لیکن باالخصوص میں کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عبد الرحیم سر، پروفیسر ڈاکٹر بدر الاسلام سر، پروفیسر ڈاکٹر خان شہناز بانو میم،پروفیسر نزہت پروین میم، پروفیسر عظمی صدیقی میم، پروفیسر قیصر جہاں چودھری میم، مولانا معصوم اشرف السلفی، مولانا عبد اللہ تیمی، مولانا نیر اعظم سنابلی، مولانا زاہد ندوی، مفتی ندیم قاسمی، تبارک ندوی، انجینئر غلام مصطفی، ذیشان الہی منیر تیمی، محمد علی، محمد شہاب الدین، محمد عمران،امتیاز ،قادر، احمد رضا، افروز، شریف الحق، سلمان، فداء الحق، شمشاد، سیماب، ترنم، عمرانہ، روبینہ، ماہ طلعت اور نمراء وغیرہ کے نام قابل ذکر ہے ۔
اس پروگرام کا اختتام کالج کے پرنسپل کے صدارتی کلمات سے ہوا ۔آپ نے اپنے چند منٹ کی صدارتی کلمات میں بہت بڑی بات کہہ دی۔آپ نے جہاں ایک طرف ڈاکٹر وسیم سر کی اس کامیابی پر انہیں مبارکبادی دی اور بہتر مسقبل کے لئے دعائیں دی وہی دوسری طرف طلبہ و طالبات کو بھی اس طرح کے بہتر اور اعلی ڈگری کے حصول کی جانب توجہ مبذول کرائی ۔مجموعی طور پر آج کا یہ پروگرام بہت حد تک کامیاب اور یادگار پروگرام رہا ۔
