محمد سالم آزاد
ــــــــــــــــــــــ
مدھوبنی(آئی این اے نیوز 19/مارچ 2019) آل انڈیا کارواں بیداری کے راشٹریہ صدر نظر عالم نے جمعہ کے روز نیوزی لینڈ کی دو مسجدوں میں اندھا دھند فائرنگ اور 49 نمازیوں کو شہید کردیا، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، بزدلانہ وحشیانہ انسانیت سوز انتہائی افسوسناک کاروائی قرار دیا.
نظر عالم صاحب نے مزید کہا ہے کہ مسلمان اور دہشت گردی کو لازم و ملزوم جاننے والی عالمی میڈیا آنکھ کھول کر دیکھیں کہ بے گناہ مسلمانوں کے خون سے مسجد کو رنگین کرنے والا کون ہے مسلمان ہے یا کوئی اور، اگر یہی حرکت کسی مسلمان نے کی ہوتی تو وہی میڈیا جس کو آج سانپ سونگھا ہوا ہے وہ مسلمانوں کو دہشت گرد کہتے کہتے آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہوتا، اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا بد بختانہ عمل ہے.
راشٹریہ صدر نے اپنے اخباری بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان انسانیت سوز اور بزدلانہ و بد بختانہ حرکتوں کے سدباب کیلئے مؤثر پالیسی مرتب کرے اور کسی خارجی امر سے متاثر ہوئے بغیر ایماندارانہ سوچ کے تحت مذہب رنگ و نسل کے بھید بھاؤ کے بغیر دہشت گردی کے عفریت کا سر کچلنے کا انتظام کرے، تاکہ انسانیت روز مرہ کی اس روح فرسا مصیبت سے نجات پا سکے اور عالمی سطح پر پرامن شہریوں کی جان و مال محفوظ رہ سکیں، بے قصوروں کو جان جانے پر شدید رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور ان کے لئے شہادت کا درجہ ملے.
راشٹریہ صدر نے مہلوکین کے پسماندگان کے ساتھ اظہار و تعزیت اور پر امن و بھائی چارگی کے ساتھ رہنے کی عام و خاص سے اپیل کی ہے.
ــــــــــــــــــــــ
مدھوبنی(آئی این اے نیوز 19/مارچ 2019) آل انڈیا کارواں بیداری کے راشٹریہ صدر نظر عالم نے جمعہ کے روز نیوزی لینڈ کی دو مسجدوں میں اندھا دھند فائرنگ اور 49 نمازیوں کو شہید کردیا، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، بزدلانہ وحشیانہ انسانیت سوز انتہائی افسوسناک کاروائی قرار دیا.
نظر عالم صاحب نے مزید کہا ہے کہ مسلمان اور دہشت گردی کو لازم و ملزوم جاننے والی عالمی میڈیا آنکھ کھول کر دیکھیں کہ بے گناہ مسلمانوں کے خون سے مسجد کو رنگین کرنے والا کون ہے مسلمان ہے یا کوئی اور، اگر یہی حرکت کسی مسلمان نے کی ہوتی تو وہی میڈیا جس کو آج سانپ سونگھا ہوا ہے وہ مسلمانوں کو دہشت گرد کہتے کہتے آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہوتا، اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا بد بختانہ عمل ہے.
راشٹریہ صدر نے اپنے اخباری بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان انسانیت سوز اور بزدلانہ و بد بختانہ حرکتوں کے سدباب کیلئے مؤثر پالیسی مرتب کرے اور کسی خارجی امر سے متاثر ہوئے بغیر ایماندارانہ سوچ کے تحت مذہب رنگ و نسل کے بھید بھاؤ کے بغیر دہشت گردی کے عفریت کا سر کچلنے کا انتظام کرے، تاکہ انسانیت روز مرہ کی اس روح فرسا مصیبت سے نجات پا سکے اور عالمی سطح پر پرامن شہریوں کی جان و مال محفوظ رہ سکیں، بے قصوروں کو جان جانے پر شدید رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور ان کے لئے شہادت کا درجہ ملے.
راشٹریہ صدر نے مہلوکین کے پسماندگان کے ساتھ اظہار و تعزیت اور پر امن و بھائی چارگی کے ساتھ رہنے کی عام و خاص سے اپیل کی ہے.
