محمد سالم آزاد
ــــــــــــــــــــــــ
مدھوبنی(آئی این اے نیوز 16/مارچ 2019) مدھوبنی شہر سے متصل بلوا کے سپتہ میں جامع مسجد کے امام و خطیب نے خطبہ جمعہ سے قبل اپنی تقریر میں کہا کہ وہ اولاد نہایت ہی خوش قسمت ہے جس نے اپنے والدین کو عقل و شعور میں پایا اور ان کی خدمت کرکے جنت کی شاہ قلیدی حاصل کر لیا، والدین کا رشتہ ایک ایسا عظیم رشتہ ہے جو سب سے زیادہ حسن سلوک عزت و توقیر اطاعت و فرماں برداری احسان و اکرام اور ادب واحترام کا متقاضی ہے، والدین ایک عظیم نعمت اور عطیہ ربانی ہے زجر و توبیخ کرنا اور ڈانٹ ڈپٹ کرنا دور کی بات ہے اسلام نے تو انہیں اف بھی کہنے کی اجازت نہیں دی ہے ایک مطیع و فرمانبردار اور صالح اولاد کی یہ ذمہ داری ہے کہ والدین کے سامنے متواضعانہ انداز میں پیش ہو اور ان کا حکم بجا لائے، بد قسمت اولاد آج والدین کے حقوق کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور بسا اوقات تو یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ والدین کے مقابلے میں جانوروں کو ترجیح دیتے ہیں.
مولانا کمالی نے کہا کہ آج مسلما نوں پر جو حالات آرہے ہیں وہ علماء کرام کے خون چوسنے کی وجہ سے ہی آرہے ہے جو قوم اپنے علماء کا خون چوسے وہ کیسے رحمت خداوندی کی مستحق ہو سکتی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کو خطاب کر کے فرمایا تھا کہ تجھ سے عزت والا ایک مسلمان ہے، تو جب ایک مسلمان حجر اسود سے زیادہ افضل ہے تو عالم دین یقینا بدرجہ افضل ہے، لہذا مسجد سے افضل مسجد کا امام ہے اب اگر ممبران مسجد کمیٹی انتظامیہ اور متولی حضرات کا ائمہ مساجد اور اساتذہ کرام کو کمتر اور مسجد اور مدارس کو ان سے افضل سمجھ رہے ہیں تو پوری امت کا اللہ ہی حافظ ہے، میرا بارہا کا تجربہ ہے کہ جب بھی مسجد کمیٹی کے پاس کچھ بیلنس بڑھ گیا ہے تو ان کی سوچ فکر بس یہی ہوتی ہے کہ کس طرح اس پیسے کو پیشاب خانہ، بیت الخلاء، اینٹ گاڑ اور مٹی میں لگا دیا جائے، چاہے ان کو کوئی چیز بنی بنائی توڑ کر ہی کیوں نہ بنائی پڑے، مگر ان کے ذہن میں یہ نہیں آتا کہ امام یا مؤذن یا مدارس کی تنخواہوں میں اضافہ کردیا جائے یا ان کی کسی ضرورت پر خرچ کردیا جائے یا مکتب میں اساتذہ کا اضافہ کردیا جائے، حرف غلط کی طرح بھی دماغ میں ایسی باتیں نہیں آتی، ہندوستان کی بیشتر مساجد و مدارس کے ہزاروں ائمہ و اساتذہ کرام کرایہ کے مکانوں میں یا مساجد کے حجرہ میں رہ کر زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر مساجد و مدارس کے انتظامیہ کو ذرا بھی رحم نہیں آیا اور خوف خدا سے عاری کر امت کے لاکھوں کڑوروں روپے غیر ضروری تعمیرات میں لگا دیتے ہیں ایسے منتظمین کو یاد رکھنا چاہیے کہ حساب و کتاب کا دن اور اعمال تولنے والی ترازو کے لئے بھی ہے، اللہ تعالی ہم سب کو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے راستوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے امین.
ــــــــــــــــــــــــ
مدھوبنی(آئی این اے نیوز 16/مارچ 2019) مدھوبنی شہر سے متصل بلوا کے سپتہ میں جامع مسجد کے امام و خطیب نے خطبہ جمعہ سے قبل اپنی تقریر میں کہا کہ وہ اولاد نہایت ہی خوش قسمت ہے جس نے اپنے والدین کو عقل و شعور میں پایا اور ان کی خدمت کرکے جنت کی شاہ قلیدی حاصل کر لیا، والدین کا رشتہ ایک ایسا عظیم رشتہ ہے جو سب سے زیادہ حسن سلوک عزت و توقیر اطاعت و فرماں برداری احسان و اکرام اور ادب واحترام کا متقاضی ہے، والدین ایک عظیم نعمت اور عطیہ ربانی ہے زجر و توبیخ کرنا اور ڈانٹ ڈپٹ کرنا دور کی بات ہے اسلام نے تو انہیں اف بھی کہنے کی اجازت نہیں دی ہے ایک مطیع و فرمانبردار اور صالح اولاد کی یہ ذمہ داری ہے کہ والدین کے سامنے متواضعانہ انداز میں پیش ہو اور ان کا حکم بجا لائے، بد قسمت اولاد آج والدین کے حقوق کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور بسا اوقات تو یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ والدین کے مقابلے میں جانوروں کو ترجیح دیتے ہیں.
مولانا کمالی نے کہا کہ آج مسلما نوں پر جو حالات آرہے ہیں وہ علماء کرام کے خون چوسنے کی وجہ سے ہی آرہے ہے جو قوم اپنے علماء کا خون چوسے وہ کیسے رحمت خداوندی کی مستحق ہو سکتی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کو خطاب کر کے فرمایا تھا کہ تجھ سے عزت والا ایک مسلمان ہے، تو جب ایک مسلمان حجر اسود سے زیادہ افضل ہے تو عالم دین یقینا بدرجہ افضل ہے، لہذا مسجد سے افضل مسجد کا امام ہے اب اگر ممبران مسجد کمیٹی انتظامیہ اور متولی حضرات کا ائمہ مساجد اور اساتذہ کرام کو کمتر اور مسجد اور مدارس کو ان سے افضل سمجھ رہے ہیں تو پوری امت کا اللہ ہی حافظ ہے، میرا بارہا کا تجربہ ہے کہ جب بھی مسجد کمیٹی کے پاس کچھ بیلنس بڑھ گیا ہے تو ان کی سوچ فکر بس یہی ہوتی ہے کہ کس طرح اس پیسے کو پیشاب خانہ، بیت الخلاء، اینٹ گاڑ اور مٹی میں لگا دیا جائے، چاہے ان کو کوئی چیز بنی بنائی توڑ کر ہی کیوں نہ بنائی پڑے، مگر ان کے ذہن میں یہ نہیں آتا کہ امام یا مؤذن یا مدارس کی تنخواہوں میں اضافہ کردیا جائے یا ان کی کسی ضرورت پر خرچ کردیا جائے یا مکتب میں اساتذہ کا اضافہ کردیا جائے، حرف غلط کی طرح بھی دماغ میں ایسی باتیں نہیں آتی، ہندوستان کی بیشتر مساجد و مدارس کے ہزاروں ائمہ و اساتذہ کرام کرایہ کے مکانوں میں یا مساجد کے حجرہ میں رہ کر زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر مساجد و مدارس کے انتظامیہ کو ذرا بھی رحم نہیں آیا اور خوف خدا سے عاری کر امت کے لاکھوں کڑوروں روپے غیر ضروری تعمیرات میں لگا دیتے ہیں ایسے منتظمین کو یاد رکھنا چاہیے کہ حساب و کتاب کا دن اور اعمال تولنے والی ترازو کے لئے بھی ہے، اللہ تعالی ہم سب کو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے راستوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے امین.