شفیق الرحمن نئی دہلی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
مکرمی!حضرت محمدمصطفی ﷺکے ماننے والے سماجی اعتبار سبھی برابر ہیں۔ ان کے درمیان ذات ، رنگ و نسل اور علاقے کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہے۔یہاں تک کہ محمد ﷺ کے ماننے والے اگرمذکورہ چیزوں کو لیکرآپس میں تفریق کرتے ہیں تو وہ گنہگار ہونگے۔
اسلام مذہب میں عربی اور عجمی میں کوئی فرق نہیں ہے۔اسلام میں نہ تو گورے کو کالے پر فوقیت حاصل ہے اور نہ کالے کو گورے پر۔اسلام میں تقویٰ کی بنیاد پرانسانوں کو اعلیٰ مقام حاصل ہوتا ہے ۔اناانسان کو صحیح راستے سے بھٹکا کر تکبر کی راہ پر لگاتی ہے ۔انا انسان کو انسانیت ، امن و شانتی سے دور کرتی ہے ۔اسلام کے مطابق جس کے اندر ذرہ برابربھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا.
اسلام نوعِ انسان کیلئے رحمت اور تحفہ ہے ۔اسلام انسان کو ایماندار، پرہیزگاری کا درس دیتا ہے۔مسلمانوں کو حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کو اپنا رول ماڈل بنا نا چاہئے۔حضرت محمد ﷺ کے راستے پر چلتے ہوئے ہم نیک ، پرہیز گار اور دیندار بننے کی کامیاب کو شش کر سکتے ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
مکرمی!حضرت محمدمصطفی ﷺکے ماننے والے سماجی اعتبار سبھی برابر ہیں۔ ان کے درمیان ذات ، رنگ و نسل اور علاقے کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہے۔یہاں تک کہ محمد ﷺ کے ماننے والے اگرمذکورہ چیزوں کو لیکرآپس میں تفریق کرتے ہیں تو وہ گنہگار ہونگے۔
اسلام مذہب میں عربی اور عجمی میں کوئی فرق نہیں ہے۔اسلام میں نہ تو گورے کو کالے پر فوقیت حاصل ہے اور نہ کالے کو گورے پر۔اسلام میں تقویٰ کی بنیاد پرانسانوں کو اعلیٰ مقام حاصل ہوتا ہے ۔اناانسان کو صحیح راستے سے بھٹکا کر تکبر کی راہ پر لگاتی ہے ۔انا انسان کو انسانیت ، امن و شانتی سے دور کرتی ہے ۔اسلام کے مطابق جس کے اندر ذرہ برابربھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا.
اسلام نوعِ انسان کیلئے رحمت اور تحفہ ہے ۔اسلام انسان کو ایماندار، پرہیزگاری کا درس دیتا ہے۔مسلمانوں کو حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کو اپنا رول ماڈل بنا نا چاہئے۔حضرت محمد ﷺ کے راستے پر چلتے ہوئے ہم نیک ، پرہیز گار اور دیندار بننے کی کامیاب کو شش کر سکتے ہیں ۔