اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: مذہب اسلام نے عورتوں کو ایک بلند مقام و مرتبہ عطا کیا: مولانا سید صہیب حسینی ندوی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 20 March 2019

مذہب اسلام نے عورتوں کو ایک بلند مقام و مرتبہ عطا کیا: مولانا سید صہیب حسینی ندوی

مدرسہ حفصہ للبنات قصبہ بلھرہ میں اجتماع خواتین بعنوان اسلام میں عورتوں کا مقام و مرتبہ کا انعقاد.

فتحپور/بارہ بنکی(آئی این اے نیوز 20/مارچ 2019) اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے عورت کو ذلت و پستی سے نکال کر اسے شرف انسانیت بخشا اور ایک ایسا بلند مقام و مرتبہ عطا کیا جو مقام آج تک کوئی مذہب نہی دے سکا اور آج تک تاریخ انسانی اسکی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ عورتوں کو چاہیے کہ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں اور ازواج مطہرات بنات طیبات اور اکابر صحابیات کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوں اور ایک مثالی خاتون کا نمونہ پیش کرتے ہوئے  گھر اور معاشرے کی اصلاح کا اہم ترین فریضہ انجام دیں اور اپنے بچوں کی دینی تعلیمی اور  اخلاقی فکر کریں، مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا سید صہیب حسینی ندوی شیخ التفسیر دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو نے کیا وہ  مدرسہ حفصہ للبنات  قصبہ بلہرہ میں اجتماع خواتین بعنوان اسلام میں عورتوں کا مقام و مرتبہ و انکی زمہ داریاں سے  خصوصی خطاب کر رہے تھے ۔
مولانا نے مزید کہا کہ عورتوں کا کام صرف کھانے  پکانے اور  گھر کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا نہی ہے  بلکہ اسکے ساتھ  ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ دینی علوم سے خود آراستہ ہوں اور اپنے بچوں کی دینی پرورش کریں تاکہ وہ دین کے داعی اور اسلام کے ترجمان بن کر اسلام کی خدمت اور معاشرے کی اصلاح کا کام کریں اسمی  ترقی اور تقرب الی اللہ کا بڑا سامان ہے  اور نجات کا ذریعہ ہے.
مولانا سید صہیب حسینی ندوی نے  ناظم مدرسہ  مولانا سراج احمد ندوی اور قاری عطاء الرحمن بلھروی کو اجتماع کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی  اور وقت کی ضرورت بتاتے  ہوئے یہ کہا کہ خواتین معاشرہ کی اصلاح میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین اخلاقی بے راہ روی اباحیت بے حجابی اور بے حیائی سے کلی طور پر اجتناب کرتے ہوئے اپنی عفت و عصمت عزت نفس اور اپنے وقار کی حفاظت کریں اور دینی علمی اور معاشرتی خدمات انجام دیں.
مولانا آفتاب عالم ندوی خیرآبادی مبلغ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو  نے اپنے خطاب میں کہاکہ  عورت کی مثال سماج میں ریڑھ کہ ہڈی کی طرح  ہے اگر ریڑھ کی ہڈی درست ہے تو پورا جسم درست ہے اور وہ ایک دوسرے کی مدد کرسکتا ہے ایسے ہی عورت اگر صالصہ عابدہ اور ساجدہ ہو تو اسکی کوخ سے نکلنے والی اولاد بھی صالح اور معاشرے کیلیے مفید بنے گی مولانا ندوی نے مزید کہا کہ تاریخ انسانی اس بات پر شاہد ھیکہ مردوں کی ترقی میں ماؤں کا بہت بڑا کردار رہا ہے اسلئے یہ بات کہی گئی کہ ایک لڑکی کی تعلیم گویا پورے خاندان کی تعلیم ہے ۔اسلئیے ہمیں چاہئے کہ وہ گھر اندر قرآن کی تلاوت نمازوں اور سنتوں کا اہتمام کرتے ہوئے  اپنے بچوں کو  دینی تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ وہ اپنے حقوق جو قرآن و حدیث میں دئیے گئے ہیں سمجھ سکیں اور  ایک مثالی معاشرہ وجود میں آسکے.
ناظم ادارہ ہذا  مولانا سراج احمد ندوی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے  عورتوں کو مردوں کے برابر درجہ دیا ہے ماں کی گود بچہ کیلئے پہلا مدرسہ ہے
 مولانا نے خصو صاً ان خواتین سے گزارش کہ  جو اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو گئی ہیں یا جن کی ذمہ داریوں کا بوجھ کم ہو گیا ہے اُن پر لازم ہے کہ دین کی اشاعت اور دعوت و تبلیغ کے لئے وقت نکالیں ،اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کر کے گھروں کے اندر تعلیم  کریں تا کہ ان بہنوں کو جو تعلیم ِ اسلامی سے ناواقف ہیں ان کو دین کی بنیادی ضروری تعلیم حاصل ہو جائے.
مولانا انظر بھوپالی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ اسلام کا پہلا حکم تعلیم کی دعوت دیتا ہے ہمیں تعلیم کو عصری اور دینی خانوں میں تقسیم نہیں کرنا چاہئے، دینی اور عصری دونوں علوم سے آراستگی ناگزیر ہے
اس موقع پر مدرسہ کی طالبات نے پروگرام پیش کیا.
خصوصی شرکاء میں مولانا ضیاء الحسن ندوی، مولانا معین الدین ندوی، مولانا عتیق الرحمن مظاہری، قاری ظہیر الاسلام بہادر گنج، قاری عطاء الرحمن بلھروی، حافظ محمد ذاکر ٹینٹ ہاوس، محمد منصور خان، شیخ بلال الرحمن وارثی، حافظ عظمت علی، حافظ محمد نعمان، محمد حسن صدیقی فتح پور، صدیق الرحمن، محمد نیاز، سہیل الرحمان، محمد نثار مستری، قاری محمد ارشاد نورانی، ضیاء الرحمن محمد زاہد وغیرہ موجود تھے اجتماع میں خواتین نے کافی تعداد میں شرکت کی قاری عطاء الرحمن نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا .