از قلم: احتشام الحق چھتہی ضلع سنت کبیر نگر، یوپی
ـــــــــــــــــــــــــــ
ماہ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے، اس میں عبادات کے گلہائے رنگا رنگ کھلتے ہیں، ایک ایک عبادات اپنے جلو میں کئی دوسری عبادتوں کو لئے ہوئے ہوتی ہے، اگر ہم موقع سے فائدہ اٹھانے کا ہنر رکھتے ہوں تو ایک عبادت کے ذریعہ بعض دوسری عبادتوں کا ثواب بھی ذخیرہ آخرت کر سکتے ہیں، اور دنیاو آخرت کی فلاح و بہبود سے مہریاب ہو سکتے ہیں، افطار کرانا اس ماہ کی اہم ترین عبادت میں سے ہے، احادیث میں اس کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، ایک حدیث میں ہے کی جو شخص کسی روزہ دار کو حلال کھانے سے افطار کرائے تو رمضان کی ساعتوں میں فرشتے اس پر رحمت بھیجتے ہیں، اور شبِ قدر میں خود حضرت جبرئیل امین اس پر رحمت بھیجتے ہیں (کنز العمال)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ روزہ دار کو افطار کرانے پر اللہ تعالی تین انعام فرماتے ہیں گناہوں کی مغفرت، دوزخ کی آگ سے نجات، روزہ دار کے برابر ثواب.
اور یہ ضروری نہیں کہ افطار میں پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے، بلکہ ایک کھجور یا دودھ کی کچھ لسی یا پانی کے ایک گھونٹ کا بھی اتنا ہی اجر ہے (صحیح ابن خزیم)
ان اہم بشارتوں پر مبنی اس عبادت کو ادا کرتے وقت اگر ذرا سی موقع شناسی ، کشادہ دلی ، اور حوصلہ مندی کا مظاھرہ کیا جائے تو صلہ رحمی جیسی اہم عبادت انجام پزیر ہوسکتی ہے.
آج ہمارا معاشرہ نفرتوں کی آگ میں جھلس رہا ہے، ایک ہی ماں باپ کی اولاد باہم دست گریباں ہے، ہم سایہ ہم سایہ کے سائے سے متنفر ہے،
ہماری دیواریں ملی ہوئی ہوتی ہیں لیکن ہمارے دل ملےہوئے نہیں ہوتے، اسلام اس صورت حال کو ختم کرنے اور بتانِ نفرت کو توڑ کر محبت کے تاج محل تعمیر کرنے کا حکم دیتا ہے، رشتے ناطے جوڑنے کی تلقین کرتا ہے.
مشہور حدیث ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس سے رشتہ جوڑو جو تم سے رشتہ توڑے اور صلہ رحمی کی ترغیب دلاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت اور اس کی عمر میں برکت ہو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے (مسلم)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلہ رحمی کرنے والوں کے لئے مدد خداوندی کے ہم رکاب رہنے کی بشارت بیان فرمائی ہے.
روایت میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے میرے کچھ رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں انکے ساتھ حسن سلوک کرتا ہوں وہ میرے ساتھ بد سلوکی کرتے ہیں، میں انکے ساتھ برد باری سے پیش آتا ہوں وہ میرے ساتھ جہالت سے پیش آتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ جو کچھ تم نے کہا اگر یہ سچ ہے تو تم ان کے منھ پر راکھ ملتے ہو، جب تک تمہارا یہ عمل جاری رہے گا اللہ کی طرف سے تمہاری مدد ہوتی رہے گی (مسلم)
اور اسلام میں رشتہ داروں کے بعد پڑوسیوں کےساتھ حسن سلوک کی سب سے زیادہ تاکید کی گئی ہے، احادیث میں جابجا پڑوسیوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھنے، ان کے ساتھ بہتر سلوک کرنے اور ان کا تعاون کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، لیکن زندگی کے طویل سفر میں کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی معاملہ کو لے کر رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے مابین تناؤ اور دوریاں پیدا ہوجاتی ہیں، ماہ رمضان ان دوریوں کو مٹانے کا بڑا زریں موقع فراہم کرتا ہے، اللہ رب العزت کی رضا کی خاطر فریقین میں سے کوئی پہل کرلے ، اور کسی دن بقدر استطاعت عمدہ افطار (اگر ممکن ہو تو انکی کوئی پسندیدہ ڈش بھی بھی) تیار کرکے ایسے رشتہ دار یا پڑوسی کو بھیج دے، اور چوں کہ اس مہینہ میں لوگوں کے دل نرم اور مزاج نیکی کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں، اس لئے قبول کرلئے جانے کی امیدیں دوسرے ماہ کے مقابل زیادہ ہیں.
اگر شرف قبولیت سے نواز دیا جائے تو آئندہ موقع کی تلاش میں رہ کر اس سلسلہ کو مزید آگے بڑھایا جائے، اور عید کے دن گلے مل کر تمام گِلے شکوے دور کر لئے جائیں.
اگر ہم نے ماہ رمضان کے اس سنہرے موقع سے فائدہ اٹھایا تو ہمارا گھر امن و سکون کے گہوارے اور ہمارا ماحول و محلہ جنت نشاں بن جائیگا، اور گھر سے شروع ہونے والی اتحاد کی یہ مہم ملکی اور عالمی اتحاد کی طرف ایک بڑی پیش قدمی ثابت ہوگی. ان شاء اللہ
ـــــــــــــــــــــــــــ
ماہ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے، اس میں عبادات کے گلہائے رنگا رنگ کھلتے ہیں، ایک ایک عبادات اپنے جلو میں کئی دوسری عبادتوں کو لئے ہوئے ہوتی ہے، اگر ہم موقع سے فائدہ اٹھانے کا ہنر رکھتے ہوں تو ایک عبادت کے ذریعہ بعض دوسری عبادتوں کا ثواب بھی ذخیرہ آخرت کر سکتے ہیں، اور دنیاو آخرت کی فلاح و بہبود سے مہریاب ہو سکتے ہیں، افطار کرانا اس ماہ کی اہم ترین عبادت میں سے ہے، احادیث میں اس کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، ایک حدیث میں ہے کی جو شخص کسی روزہ دار کو حلال کھانے سے افطار کرائے تو رمضان کی ساعتوں میں فرشتے اس پر رحمت بھیجتے ہیں، اور شبِ قدر میں خود حضرت جبرئیل امین اس پر رحمت بھیجتے ہیں (کنز العمال)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ روزہ دار کو افطار کرانے پر اللہ تعالی تین انعام فرماتے ہیں گناہوں کی مغفرت، دوزخ کی آگ سے نجات، روزہ دار کے برابر ثواب.
اور یہ ضروری نہیں کہ افطار میں پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے، بلکہ ایک کھجور یا دودھ کی کچھ لسی یا پانی کے ایک گھونٹ کا بھی اتنا ہی اجر ہے (صحیح ابن خزیم)
ان اہم بشارتوں پر مبنی اس عبادت کو ادا کرتے وقت اگر ذرا سی موقع شناسی ، کشادہ دلی ، اور حوصلہ مندی کا مظاھرہ کیا جائے تو صلہ رحمی جیسی اہم عبادت انجام پزیر ہوسکتی ہے.
آج ہمارا معاشرہ نفرتوں کی آگ میں جھلس رہا ہے، ایک ہی ماں باپ کی اولاد باہم دست گریباں ہے، ہم سایہ ہم سایہ کے سائے سے متنفر ہے،
ہماری دیواریں ملی ہوئی ہوتی ہیں لیکن ہمارے دل ملےہوئے نہیں ہوتے، اسلام اس صورت حال کو ختم کرنے اور بتانِ نفرت کو توڑ کر محبت کے تاج محل تعمیر کرنے کا حکم دیتا ہے، رشتے ناطے جوڑنے کی تلقین کرتا ہے.
مشہور حدیث ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس سے رشتہ جوڑو جو تم سے رشتہ توڑے اور صلہ رحمی کی ترغیب دلاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت اور اس کی عمر میں برکت ہو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے (مسلم)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلہ رحمی کرنے والوں کے لئے مدد خداوندی کے ہم رکاب رہنے کی بشارت بیان فرمائی ہے.
روایت میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے میرے کچھ رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں انکے ساتھ حسن سلوک کرتا ہوں وہ میرے ساتھ بد سلوکی کرتے ہیں، میں انکے ساتھ برد باری سے پیش آتا ہوں وہ میرے ساتھ جہالت سے پیش آتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ جو کچھ تم نے کہا اگر یہ سچ ہے تو تم ان کے منھ پر راکھ ملتے ہو، جب تک تمہارا یہ عمل جاری رہے گا اللہ کی طرف سے تمہاری مدد ہوتی رہے گی (مسلم)
اور اسلام میں رشتہ داروں کے بعد پڑوسیوں کےساتھ حسن سلوک کی سب سے زیادہ تاکید کی گئی ہے، احادیث میں جابجا پڑوسیوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھنے، ان کے ساتھ بہتر سلوک کرنے اور ان کا تعاون کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، لیکن زندگی کے طویل سفر میں کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی معاملہ کو لے کر رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے مابین تناؤ اور دوریاں پیدا ہوجاتی ہیں، ماہ رمضان ان دوریوں کو مٹانے کا بڑا زریں موقع فراہم کرتا ہے، اللہ رب العزت کی رضا کی خاطر فریقین میں سے کوئی پہل کرلے ، اور کسی دن بقدر استطاعت عمدہ افطار (اگر ممکن ہو تو انکی کوئی پسندیدہ ڈش بھی بھی) تیار کرکے ایسے رشتہ دار یا پڑوسی کو بھیج دے، اور چوں کہ اس مہینہ میں لوگوں کے دل نرم اور مزاج نیکی کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں، اس لئے قبول کرلئے جانے کی امیدیں دوسرے ماہ کے مقابل زیادہ ہیں.
اگر شرف قبولیت سے نواز دیا جائے تو آئندہ موقع کی تلاش میں رہ کر اس سلسلہ کو مزید آگے بڑھایا جائے، اور عید کے دن گلے مل کر تمام گِلے شکوے دور کر لئے جائیں.
اگر ہم نے ماہ رمضان کے اس سنہرے موقع سے فائدہ اٹھایا تو ہمارا گھر امن و سکون کے گہوارے اور ہمارا ماحول و محلہ جنت نشاں بن جائیگا، اور گھر سے شروع ہونے والی اتحاد کی یہ مہم ملکی اور عالمی اتحاد کی طرف ایک بڑی پیش قدمی ثابت ہوگی. ان شاء اللہ