نئ دہلی(آئی این اے نیوز 9/اگست2019) دہلی کے کھڈا کالونی باشندہ ظہیر کے ساتھ دل دہلا دینے والا حادثہ روشنی میں آیا ہے۔ اس معاملے کو لیکر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا (دہلی)کے صدر سراج طالب نے محمد ظہیر سے ملاقات اور کرائم برانچ کے ذریعے ان پر کئے گئے ظلم کی روداد سن کر اس زیادتی کے خلاف مضبوطی سے لڑائی لڑنے کی یقین دہانی کی اور ہر ممکن تعاون کا وعدہ کیا۔
واضح ہو کہ 31جولائی کو محمد ظہیر اپنے ایک دوست کے ساتھ گھرپر باتیں کر رہے تھے کہ اچانک کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہیں اور ہاتھ میں پستول نکال کر انکو اپنے ساتھ چلنے کو کہتے ہیں انکے پوچھنے پر وہ خود کو کرائم برانچ کا بتاتے ہیں پھر باہر کھڑی گاڑی میں بٹھا لیتے ہیں۔ محمد ظہیر اور انکے دوست عبدالجبار کے منت سماجت کرنے پر اور خود کو بے گناہ بتانے پر محمد ظہیر کو راستے میں چھوڑ دیتے ہیں اور عبدالجبار کو ایک گھنٹے کے بعد لیکن دوسرے ہی دن محمد ظہیر کو ایک علاقائی شخص سونو کے ذریعے محمد ظہیر کو کرئم برانچ آفس اوکھلا فیز 1 بلوایا جاتا ہے۔ جہاں ایس آئی اودھیش شرما محمد ظہیر کو مارتا ہوا لاک اپ کے پاس لے جاتا ہے اور اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ اسکی بےرحمی سے پٹائی کرتا ہے جب وہ نیم مردہ حالت میں زمین پر پڑ جاتا ہے تو تین لوگ اس کے منھ میں پیشاب کرتے ہیں ساتھ ہی ایک قیدی جو پہلے سے ہی لاکپ میں بند ہوتا ہے اسکے کپڑے اتروا کر اسکے ساتھ نازیبا حرکت کرنے پر مجبور کرتے ہیں اس دوران بہت سارے کورے کاغذات پر دستخط کروائے جاتے ہیں اور پھر ظہیر کے بہت منت سماجت اور حالات خراب ہو نے پر اسے چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں سے وہ بذریعہ آٹو گھر پہنچتا ہے اسکی حالت کو دیکھ گھر میں ایک ماتم چھا جاتا ہے بعد میں سونو کے ذریعے 25000 ہزار کا مطالبہ یہ کہکر کیا جاتا ہے کہ اودھش شرما کو دینا ہے۔ محمد ظہیر نے اس کی جانکاری ایس ایچ او کالندی کنج کو دی اور ایف آئی آر کی تحریر جسے ایس ایچ او نے درج کر نے سے منع کردیا ۔
اس موقع پر سراج طالب نے قانونی کارروائی میں ہر ممکن تعاون کا وعدہ کیا ہے ۔
ساتھ ہی عارف اخلاق(آرگنائزیشن سکریٹری ویلفیئر پارٹی آف انڈیا دہلی ) نے ایس ایچ او سے بات کرکے ایف آئی آر درج کرنے کو کہا۔تاہم ایف آئی آر ابھی درج نہیں ہوئ ہے۔
واضح ہو کہ 31جولائی کو محمد ظہیر اپنے ایک دوست کے ساتھ گھرپر باتیں کر رہے تھے کہ اچانک کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہیں اور ہاتھ میں پستول نکال کر انکو اپنے ساتھ چلنے کو کہتے ہیں انکے پوچھنے پر وہ خود کو کرائم برانچ کا بتاتے ہیں پھر باہر کھڑی گاڑی میں بٹھا لیتے ہیں۔ محمد ظہیر اور انکے دوست عبدالجبار کے منت سماجت کرنے پر اور خود کو بے گناہ بتانے پر محمد ظہیر کو راستے میں چھوڑ دیتے ہیں اور عبدالجبار کو ایک گھنٹے کے بعد لیکن دوسرے ہی دن محمد ظہیر کو ایک علاقائی شخص سونو کے ذریعے محمد ظہیر کو کرئم برانچ آفس اوکھلا فیز 1 بلوایا جاتا ہے۔ جہاں ایس آئی اودھیش شرما محمد ظہیر کو مارتا ہوا لاک اپ کے پاس لے جاتا ہے اور اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ اسکی بےرحمی سے پٹائی کرتا ہے جب وہ نیم مردہ حالت میں زمین پر پڑ جاتا ہے تو تین لوگ اس کے منھ میں پیشاب کرتے ہیں ساتھ ہی ایک قیدی جو پہلے سے ہی لاکپ میں بند ہوتا ہے اسکے کپڑے اتروا کر اسکے ساتھ نازیبا حرکت کرنے پر مجبور کرتے ہیں اس دوران بہت سارے کورے کاغذات پر دستخط کروائے جاتے ہیں اور پھر ظہیر کے بہت منت سماجت اور حالات خراب ہو نے پر اسے چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں سے وہ بذریعہ آٹو گھر پہنچتا ہے اسکی حالت کو دیکھ گھر میں ایک ماتم چھا جاتا ہے بعد میں سونو کے ذریعے 25000 ہزار کا مطالبہ یہ کہکر کیا جاتا ہے کہ اودھش شرما کو دینا ہے۔ محمد ظہیر نے اس کی جانکاری ایس ایچ او کالندی کنج کو دی اور ایف آئی آر کی تحریر جسے ایس ایچ او نے درج کر نے سے منع کردیا ۔
اس موقع پر سراج طالب نے قانونی کارروائی میں ہر ممکن تعاون کا وعدہ کیا ہے ۔
ساتھ ہی عارف اخلاق(آرگنائزیشن سکریٹری ویلفیئر پارٹی آف انڈیا دہلی ) نے ایس ایچ او سے بات کرکے ایف آئی آر درج کرنے کو کہا۔تاہم ایف آئی آر ابھی درج نہیں ہوئ ہے۔
