محمد غالب فلاحی
____________
13 ستمبر 2008 کو دہلی بم دھماکوں سے دہل گیا تھا ایسے میں دہلی سرکار اور سینٹرل سرکار پر سوالات کھڑے ہونے شروع ہی ہوئے تھے کہ وزیر داخلہ پی چتمبرم نے دہلی پولیس کو حکم دیا کہ اس معاملے میں جو لوگ شامل ہیں انھیں جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور اس معاملہ کو رفع دفع کیا جائے کیونکہ کہ دہلی میں الیکشن قریب تھا اور انھیں اپنی سرکار بچانی تھی ایسے میں دہلی پولیس نے بٹلہ ہاؤس فرضی انکاؤنٹر کو انجام دیا اور اس میں اعظم گڑھ کے دو نوجوان عاطف اور ساجد (جو کہ جامعہ ملیہ میں طالب علم تھے) کو مار دیا گیا اور انہیں دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا لیکن اس معاملے کے بعد ملک بھر میں دہلی پولیس اور حکومت کے خلاف احتجاج ہوئے اور جانچ کا مطالبہ کیا گیا لیکن حکومت نے جانچ نہیں کروائی اور دہلی میں دوبارہ کانگریس کی سرکار بن گئی لیکن اعظم گڑھ میں مسلسل اس معاملہ پر آواز اٹھائی گئی اور اسی واقعہ کے بعد اعظم گڑھ کے متحرک افراد نے راشٹریہ علماء کونسل کے نام سے ایک پارٹی بنائی جسکا مقصد بے گناہ مسلمانوں کے لیے آواز اٹھانا تھا راشٹریہ علماء کونسل بننے کے بعد سے اب تک بٹلہ ہاؤس فرضی انکاؤنٹر کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے
اور حکومت سے جانچ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جب راشٹریہ علماء کونسل کا ایک وفد دہلی آیا اور وزیر داخلہ پی چتمبرم سے ملاقات کی تو اس نے کہا کہ اگر جانچ کرائی گئی تو دہلی پولیس کی بدنامی ہو گی پھر دہلی میں اروند کجریوال کی حکومت آئی اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 1984 میں ہونے والے دنگے اور بٹلہ ہاؤس فرضی انکاؤنٹر کا جانچ کرائیں گے لیکن کجریوال گورنمنٹ نے سکھ دنگے کی جانچ تو کرا دی لیکن بٹلہ ہاؤس فرضی انکاؤنٹر کی جانچ نہیں کرائی راشٹریہ علماء کونسل اور بٹلہ ہاؤس فرضی انکاؤنٹر پر آواز اٹھانے والوں کا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ اس معاملہ کی سی بی آئی جانچ کرائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ جائے.
لیکن حالیہ دنوں میں بٹلہ ہاؤس کے اوپر ایک فلم بنائی گئی جس کا لوگوں نے ورودھ کیا اس فلم کے ذریعہ لوگوں کا مائنڈ سیٹ کرنے اور بے قصور نوجوان کو دہشت گرد کے طور پر پیش کر کے معاملے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے حکومت کو پتا ہے اگر جانچ ہوئی تو پردہ فاش ہو جائے گا اسی لئے وہ جانچ نہیں کرانا چاہتی. 19 ستمبر کو انکاؤنٹر کے پورے گیارہ سال ہونے جا رہے ہیں اور جنتر منتر پر اسی تاریخ کو راشٹریہ علماء کونسل کی طرف سے ایک احتجاج ہونے جا رہا ہے اور اس میں جانچ کا مطالبہ کیا جائے گا امید ہے کہ لوگ اس واقعہ کو بھولیں گے نہیں اور اپنی آواز اس وقت تک اٹھاتے رہیں گے جب تک حقیقت سامنے نہ آجائے اور مجرموں کو سزا نہ مل جائے.
____________
13 ستمبر 2008 کو دہلی بم دھماکوں سے دہل گیا تھا ایسے میں دہلی سرکار اور سینٹرل سرکار پر سوالات کھڑے ہونے شروع ہی ہوئے تھے کہ وزیر داخلہ پی چتمبرم نے دہلی پولیس کو حکم دیا کہ اس معاملے میں جو لوگ شامل ہیں انھیں جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور اس معاملہ کو رفع دفع کیا جائے کیونکہ کہ دہلی میں الیکشن قریب تھا اور انھیں اپنی سرکار بچانی تھی ایسے میں دہلی پولیس نے بٹلہ ہاؤس فرضی انکاؤنٹر کو انجام دیا اور اس میں اعظم گڑھ کے دو نوجوان عاطف اور ساجد (جو کہ جامعہ ملیہ میں طالب علم تھے) کو مار دیا گیا اور انہیں دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا لیکن اس معاملے کے بعد ملک بھر میں دہلی پولیس اور حکومت کے خلاف احتجاج ہوئے اور جانچ کا مطالبہ کیا گیا لیکن حکومت نے جانچ نہیں کروائی اور دہلی میں دوبارہ کانگریس کی سرکار بن گئی لیکن اعظم گڑھ میں مسلسل اس معاملہ پر آواز اٹھائی گئی اور اسی واقعہ کے بعد اعظم گڑھ کے متحرک افراد نے راشٹریہ علماء کونسل کے نام سے ایک پارٹی بنائی جسکا مقصد بے گناہ مسلمانوں کے لیے آواز اٹھانا تھا راشٹریہ علماء کونسل بننے کے بعد سے اب تک بٹلہ ہاؤس فرضی انکاؤنٹر کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے
اور حکومت سے جانچ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جب راشٹریہ علماء کونسل کا ایک وفد دہلی آیا اور وزیر داخلہ پی چتمبرم سے ملاقات کی تو اس نے کہا کہ اگر جانچ کرائی گئی تو دہلی پولیس کی بدنامی ہو گی پھر دہلی میں اروند کجریوال کی حکومت آئی اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 1984 میں ہونے والے دنگے اور بٹلہ ہاؤس فرضی انکاؤنٹر کا جانچ کرائیں گے لیکن کجریوال گورنمنٹ نے سکھ دنگے کی جانچ تو کرا دی لیکن بٹلہ ہاؤس فرضی انکاؤنٹر کی جانچ نہیں کرائی راشٹریہ علماء کونسل اور بٹلہ ہاؤس فرضی انکاؤنٹر پر آواز اٹھانے والوں کا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ اس معاملہ کی سی بی آئی جانچ کرائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ جائے.
لیکن حالیہ دنوں میں بٹلہ ہاؤس کے اوپر ایک فلم بنائی گئی جس کا لوگوں نے ورودھ کیا اس فلم کے ذریعہ لوگوں کا مائنڈ سیٹ کرنے اور بے قصور نوجوان کو دہشت گرد کے طور پر پیش کر کے معاملے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے حکومت کو پتا ہے اگر جانچ ہوئی تو پردہ فاش ہو جائے گا اسی لئے وہ جانچ نہیں کرانا چاہتی. 19 ستمبر کو انکاؤنٹر کے پورے گیارہ سال ہونے جا رہے ہیں اور جنتر منتر پر اسی تاریخ کو راشٹریہ علماء کونسل کی طرف سے ایک احتجاج ہونے جا رہا ہے اور اس میں جانچ کا مطالبہ کیا جائے گا امید ہے کہ لوگ اس واقعہ کو بھولیں گے نہیں اور اپنی آواز اس وقت تک اٹھاتے رہیں گے جب تک حقیقت سامنے نہ آجائے اور مجرموں کو سزا نہ مل جائے.
