اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: علامہ شبلی کی تعزیتی تحریریں،مبصر:شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 15 September 2019

علامہ شبلی کی تعزیتی تحریریں،مبصر:شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)



علامہ شبلی نعمانی کے حزنیہ شہ پارے

ناب کتاب:   علامہ شبلی کی تعزیتی تحریریں
مصنف:  ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی
صفحات:  ۹۶، قیمت -/۱۸۰
ناشر:  دارالمصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ
مبصر:  شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
علامہ شبلی نعمانی  نے جس صنف میں بھی طبع آزمائی کی اسے مجروح سلطان پوری کے اس مصرعے
جسے چھوتا گیا وہ جاوداں بنتا گیا
کے مصداق یاد گار بنادیا، اسی لیے آج بھی علامہ شبلی کی تحریریں زندہ ہیں، نہ صرف زندہ بلکہ اس دور میں بھی جب کہ اردو زبان وادب کا برا حال ہے، شو ق وذوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ حال ہی میں علامہ شبلی نعمانی کی تعزیتی تحریروں پر مشتمل ایک کتاب آئی ہے جسے پڑھ کر یہ کہے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ ایک عظیم قلمکار کی یہ حزنیہ تحریریں بلاشک وشبہ نثر پارہ کا شہہ کار ہیں۔ ان تعزیتی تحریروں کو جمع کرنے کا کام کسی اور نے نہیں ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی نے کیا ہے جن کی شناخت ’ماہر شبلیات‘ کے طو رپر مسلم ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے علامہ شبلی نعمانی کی حیات وخدمات پر تحقیق کے لیے اپنی زندگی گویا وقف کررکھی ہے اور اب تک ان کی کئی ایسی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جو حیات شبلی کے اُن گوشوں کو منور کرتی ہیں جن پر پہلے لوگوں کی نظر نہیں گئی تھی۔ یہ تازہ کتاب ’علامہ شبلی کی تعزیتی تحریریں‘ بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے۔
کتاب دارالمصنفین ، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ سے شائع کی گئی ہے۔ مذکورہ ادارہ کے ڈائریکٹر اشتیاق احمد ظلّی نے ’پیش لفظ‘ میں ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کا بجا طو رپر شکریہ ادا کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’ہم ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی صاحب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان بکھرے ہوئے شہ پاروں کو بڑے تفحص اور محنت سے جمع کیا اور ان پر مفید حواشی کا اضافہ کیا اور اس طرح ان بکھری ہوئی تحریروں سے استفادہ کی راہ روشن ہوئی‘‘۔
ڈاکٹر صاحب کا ’دیباچہ‘ علامہ شبلی نعمانی کی تعزیتی تحریروں کے حوالے سے انتہائی عالمانہ ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں ’’علامہ شبلی کی ان تحریروں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا انداز نگارش ہے۔ وہ حزنیہ اور غمناک الفاظ سے درد واثر اس طرح بیان کرتے ہیں کہ تحریر کی پوری فضا غم ناک ہوجاتی ہے۔ بعض تحریریں تو حزنیہ نثر کا شہ پارہ ہیں۔ خاص طور پر جب وہ کسی کی والدہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہیں تو ان کے سامنے خود ان کی والدہ (قائمہ بی بی) کا سراپا آجاتا ہے او ران کا قلم شدت غم سے بے قابو ہونے لگتا ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق علامہ شبلی کی حزنیہ نثر کا یہ جو پہلو ہے وہ یقینا ان کے قدر دانوں کےلیے دلچسپی کی چیز ہے اسی لیے ان کی تحریروں کو انہوں نے جمع کردیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے صرف تحریر یں جمع ہی نہیں کیں ان کی افادیت کے پیش نظر تعلیقات اور حواشی کا اہتمام کیا۔ حواشی جو ہیں ان میں علامہ شبلی کے تعلق سے بعض نئی معلومات بھی آگئی ہے۔ کتاب میں اشخاص اور کتب او رمقامات کا اشاریہ بھی شامل کیاگیا ہے او رکتابیات بھی۔ کتاب میں ’علامہ شبلی نعمانی پر ایک نظر‘ کے عنوان سے ایک مضمون بھی شامل ہے جو ان کی حیات وخدمات کو کوزہ میں دریا کے مصدا ق پیش کرتا ہے۔ جو حزنیہ تحریریں اس کتاب میں جمع کی گئی ہیں ان میںایک مرثیہ بھی شامل ہے جو علامہ شبلی کے بھائی مولوی محمد اسحاق وکیل ہائی کورٹ کی ناگہانی موت پر کہاگیا تھا۔ پروفیسر کلیم الدین احمد نے اس مرثیہ کو علامہ شبلی کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیا ہے۔ اور عبداللطیف اعظمی نے اسے مرزا غالب کے مرثیہ کے مقابلے برتر قرار دیا ہے۔ مرثیہ کے چند مصرعے ملاحظہ ہوں   ؎
آہ بھائی ترے مرنے کے تھے یہ بھی کوئی دن
وہ ترا اوج شباب اور وہ بچے کمسن
مسند حلقہ ٔ احباب ہے سونی تجھ بن
تو ہی تھا اب خلف صدر نشینان مسن
دن جب آئے کہ تجھے رہبر جمہور کہوں
چرخ اب مجھ سے یہ کہتا ہے کہ مغفور کہوں
چند تعزیت ناموں کے اقتباسات ملاحظہ کریں۔
’’محسن الملک!جا اور خوش خوش خدا کے سایہ رحمت میں آرام کر۔ تو درد بھرا دل رکھتا تھا۔ لوگ بھی تیرے لیے روئیں گے او ربہت روئیں گے‘‘۔ (نواب محسن الملک)
’’قومی عمارت کے ستون ہل گئے یعنی سر سید احمد خان بہادر اپنے پروردگار کے جوار رحمت میں گئے اور یہ سانحہ یک شنبہ ۲۷ مارچ کو پیش آیا او رہماری قوم کا شیرازہ بکھر گیا میں کچھ دنوں تک کوئی کام نہیں کرسکتا‘‘۔
کتاب میں اپنے ’حادثہ پا‘ پر بھی ان کی تحریر  شامل ہے۔ علامہ شبلی نعمانی کی تحریروں کے قدر دانوں کےلیے یہ ایک قیمتی تحفہ ہے۔ ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی اس کتاب کےلیے دل کی گہرائیوں سے ہم سب کے شکریے کے مستحق ہیں۔