رپورٹ! محمد سالم آزاد مدھوبنی
آج امت مسلمہ نے اپنے فرائض و اجبات میں سستی اور شریعت محمدی سے تغافل اور اللہ جل شانہ کی عبادت سے منہ موڑ کر شیطان کی پرستش کو اپنا شیواہ بنا لیا ہے اپنے شعار کو چھوڑ کر غیروں کا شعار اپنا لیا ہے تکبر کی وجہ سے اللہ کے بتائے ہوئے طریقے صراط مستقیم کو چھوڑ کر نفسانی خواہشات کے تابع ہوکر گمراہیوں کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے اور شریعت اسلامیہکی تعلیم کو پس پشت ڈال دیا ہے کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا کہ ہمارے اندر دہنی معاملات میں کتنی کوتا ہیاں و سستیاں گھر گئی ہیں آج نوجوان طبقہ کلبوں کا رسیاں ہو چکا ہے اور اپنے قیمتی اوقات کو تعلیم و تعلم تسبیح دعا و استغفار میں گذار نے کے بجائے پارکوں ہوٹلوں تھیٹروں اور موبائلوں لہو لعب میں ضائع کر رہا۔ہے قبل و خونر یزی فحاشی وعیاسی مین ملوث ہے اور مقصد حیات کو بھل چکا ہے آج ہم دینی احکامات کو اپنے اوپر بار سمجھ لیا ہے اور عیش و عشرت آرام و تنعم اور لہو لعب کی محفل آرائیوں کے سوا ہم زندگی کا کوئی مقصد نہیں سمجھتے اس حسین وقت میں جب کہ ساری مخلوقات اٹھ کر اللہ کی مدح سرائی میں رطب اللسان ہوتی ہے ہم اشرف المخلوقات ہونے کا دعوی کرنے والے انسان میٹھی نیند اور نرم و گدا بستر کو چھوڑ کر نماز کے لئے اٹھنا بیوقوفی سمجھتے ہیں اسی وجہ سے نیک لوگوں کی نسبت غفلت کے شکار اور گمراہی میں بھٹکے ہوئے افراد زیادہ ہیں اور موجودہ دور کی آزمائشوں کے باوجود لا پرواہی سے زندگی بسر کر رہے ہیں آج ہمیں اپنی آخرت کے بارے میں سوچنے تک کی فرصت نہیں سمجھنے کے لئے وقت نہیں آج ہم نے خدا کو فراموش کردیا ہے اطاعت رسول اور اطاعت الہی کو پس وپشت ڈال دیا ہے نبی سے رشتہ توڑ لیا ہے صحابہ کرام اور اسلاف کی قیمتی میراث کو پامال کر ڈالا ہے اسلام کی صحیح روشنی کو ہم نے چھوڑ دیا ہے آج مولانا ابوالکلام آزاد نگر بھوارہ مدرسہ اسلامیہ کی جامع مسجد میں خطبہ جمعہ سے قبل مولانا امام الحق تیمی نے اپنی جامع خطاب میں فرمایا کہ ماہ محرم کے معنی ہیں حرمت عزت والا مہینہ اللہ پاک نے قرآن مجید کی آیات بالا میں چار مہینے حرمت والے مہینے قرار دیئے ہیں جسکا مطلب یہ ہے کہ ان مہینوں کی عزت و حرمت کا تقاضا ہے کہ ان میں لڑائی جھگڑے بند کر دیئے جائیں ان کو نہایت ادب سے گزارہ جائے اللہ کے نزدیک گنتی کے لحاظ سے بارہ مہینے ہیں اللہ نے اپنا یہ نظام اس دن قائم کردیا تھا جس دن اس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں اللہ کا بہت ہی مصبوط قانون ہے پس تم ان چار مہینوں میں خاص طور پر ظلم و زیادتی نہ کرو ہاں اگر کفار مشرکین تم سے لرائی کریں تو تم بھی ان سے جوابی لڑائی کر سکتے ہو اور جان رکھو اللہ پاک کی مدد پرہیز گاروں کےساتھ۔ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عاشورہ کے دن سے بڑھ کر کسی اور دن کے روزے کو فضیلت دیتے اور ماہ رمضان سے بڑھ کر کسی اور مہینے کو فضیلت دیتے اگر مسلمان ان خرافات سے ہٹ کر ملت کی تعمیر و ترقی ان کے لئے علوم وفنون کی تعلیم گاہ ہے اشاعت اسلام پر یہ سرمایہ خرچ کریں تو کتنے بہتر نتائج نکل سکتے ہیں اور ملت اسلامیہ کا یہ شکستہ قلع ٹھیک ہو سکتا ہے کاش مسلمان وقت کی آواز سنیں اور بدعات و خرافات کو یکسر ترک کریں اور ہوش میں ائے اللہ تمام مسلمانوں کو آپس میں اتفاق و اتحاد عطا فرمائے آمین