مدھوبنی! رپورٹ محمد سالم آزاد
4 اکتوبر آئی این اے نیوز 2019
آج کی دنیا اور ہمارا ملک ایک طرف تو ترقی و ایجادات اور سائنس اور ٹیکنا لوجی کے میدان میں تیزی سے قدم بڑھا رہا ہے تو دوسری طرف انسانیت اس سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ خوف وہراس جبرو اکرہ بھوک و افلاس ظلم و تشدت دہشت و بر بریت نفرت و وحشت کے قعر عمیق میں گرتی جارہی ہے بدامنی خود غرضی مفاد پرستی تعصب و عصبیت عدوان و شرکشی بدد یانتی و بدکرداری قتل و خونریزی فحاشی زناکاری اور بے حیا ئی دور دورہ ہے عدل و انصاف کا فقدان ہے ظلم و زیادتی شباب پر ہے سود خوری خیانت و بے ایمانی بد عہدی بد کرداری بہتان تراشی افترا پردازی دل آزاری تفرقہ بازی انتہا پسندی عہد و ذمہ داریوں سے بے اعتنائی و عدم احساس جیسی خرابیاں اور مہلک بیماریاں ملک اور معاشرہ کے ناسور بنتی جا رہی ہے عیاری و مکاری دھوکا دھڑی کو فن و فراست کی علامت اور شاطرانہ شان سمجھا جانے لگا ہے اور عریانیت و بے حیائی کو ترقی کی شا ہراہ غرض یہ کہ ملک و سماج بدامنی کی آما جگاہ بنتا جا رہا ہے رعایا اور عوام سربہ گریباں اور انگشت بدندا ں ہیں سیاسی اہل کار اپنے تز ویری بیان اور فن سے عوام کو مسحور کرنے میں لگے ہیں فوائد اور ترقی کی جھڑیاں لگا کر مطمئن کرنے میں کوشا ں ہیں امن و قانون کے رکھوالے اور پاسدار ان ملک و ملت بز عم خویش ملک و ملت کی فلا ح و بہبود کے لئے پسینہ بہانے میں مصروف ہیں انسانیت کراہ رہی ہے مذہبی و اخلاقی قدریں پال مال اور نا پید ہورہی ہیں اقتصادو معیشت کو گھن لگ رہا ہے بد عنوانی سر چڑھ کر بول رہی ہے نفرت کا جن اور عداوت کا عفریت بوتل سے باہر مستقر ہوگیا ہے فساد و بردباری کو مکمل بڑھاوا مل رہا ہے اور ملک و معا شرہ بدامنی سے دو چار ہے ایسے حالات میں اس بات کی شدید حا جت ہے کہ اس کے اسباب و عوامل پر سنجید گی سے غور و فکر کیا جائے اور ملک و سماج میں بڑھتی بدامنی کا سد باب کیا جائے مدرسہ اسلامیہ کی جامع مسجد مولانا ابوالکلام آزاد نگر بھوارہ میں خطبہ جمعہ سے قبل مولانا محمد نورالعین سلفی نے کہا کہ آج صورت حال بد سے بد تر ہے نئی نسل کی بے راہ روی اس قدر بڑھ چکی ہے ہر والدین کے آنکھوں کی نیند اور دل کا قرار لٹ چکا ہے ہر وقت فکر لگی رہتی ہے کہ کہیں کلنک کا ٹیکہ ہمارے ماتھے پر بھی نہ لگ جائے کیوں کہ ماضی قریب میں اس طرح کے بہت سے ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جس وہ خاندان اپنے گائوں سماج میں ایک وقار تھا جس کی عزت و شرافت کے گن گائے جاتے تھے اور جس کی پاک دامنی چرچا کیا جاتا تھا انہیں بچوں کو موبائل تھمانے کی وجہ سے اس طرح کی رسوائی پڑی کی سماج و معا شر ہ میں تو کیا اس دنیا میں بھی رہنے کے قابل نہ رہنے دیا افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ اس طرح کے حادثات و واقعات سے ہم سبق حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی اس جانب اپنی توجہ نہیں دیتے ہیں صرف فکر اور رنج سے آج تک نہ کوئی کام ہوا ہے اور نہ قیامت تک ہوگا بلکہ فکر اور سوچ کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا تھبی جا کر کوئی بات بنے گی اور ہم اپنے اس بڑائی کو ختم کرنے میں کامیاب ہونگے اللہ ہم تمام مسلمانوں کو صر اط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین
4 اکتوبر آئی این اے نیوز 2019
آج کی دنیا اور ہمارا ملک ایک طرف تو ترقی و ایجادات اور سائنس اور ٹیکنا لوجی کے میدان میں تیزی سے قدم بڑھا رہا ہے تو دوسری طرف انسانیت اس سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ خوف وہراس جبرو اکرہ بھوک و افلاس ظلم و تشدت دہشت و بر بریت نفرت و وحشت کے قعر عمیق میں گرتی جارہی ہے بدامنی خود غرضی مفاد پرستی تعصب و عصبیت عدوان و شرکشی بدد یانتی و بدکرداری قتل و خونریزی فحاشی زناکاری اور بے حیا ئی دور دورہ ہے عدل و انصاف کا فقدان ہے ظلم و زیادتی شباب پر ہے سود خوری خیانت و بے ایمانی بد عہدی بد کرداری بہتان تراشی افترا پردازی دل آزاری تفرقہ بازی انتہا پسندی عہد و ذمہ داریوں سے بے اعتنائی و عدم احساس جیسی خرابیاں اور مہلک بیماریاں ملک اور معاشرہ کے ناسور بنتی جا رہی ہے عیاری و مکاری دھوکا دھڑی کو فن و فراست کی علامت اور شاطرانہ شان سمجھا جانے لگا ہے اور عریانیت و بے حیائی کو ترقی کی شا ہراہ غرض یہ کہ ملک و سماج بدامنی کی آما جگاہ بنتا جا رہا ہے رعایا اور عوام سربہ گریباں اور انگشت بدندا ں ہیں سیاسی اہل کار اپنے تز ویری بیان اور فن سے عوام کو مسحور کرنے میں لگے ہیں فوائد اور ترقی کی جھڑیاں لگا کر مطمئن کرنے میں کوشا ں ہیں امن و قانون کے رکھوالے اور پاسدار ان ملک و ملت بز عم خویش ملک و ملت کی فلا ح و بہبود کے لئے پسینہ بہانے میں مصروف ہیں انسانیت کراہ رہی ہے مذہبی و اخلاقی قدریں پال مال اور نا پید ہورہی ہیں اقتصادو معیشت کو گھن لگ رہا ہے بد عنوانی سر چڑھ کر بول رہی ہے نفرت کا جن اور عداوت کا عفریت بوتل سے باہر مستقر ہوگیا ہے فساد و بردباری کو مکمل بڑھاوا مل رہا ہے اور ملک و معا شرہ بدامنی سے دو چار ہے ایسے حالات میں اس بات کی شدید حا جت ہے کہ اس کے اسباب و عوامل پر سنجید گی سے غور و فکر کیا جائے اور ملک و سماج میں بڑھتی بدامنی کا سد باب کیا جائے مدرسہ اسلامیہ کی جامع مسجد مولانا ابوالکلام آزاد نگر بھوارہ میں خطبہ جمعہ سے قبل مولانا محمد نورالعین سلفی نے کہا کہ آج صورت حال بد سے بد تر ہے نئی نسل کی بے راہ روی اس قدر بڑھ چکی ہے ہر والدین کے آنکھوں کی نیند اور دل کا قرار لٹ چکا ہے ہر وقت فکر لگی رہتی ہے کہ کہیں کلنک کا ٹیکہ ہمارے ماتھے پر بھی نہ لگ جائے کیوں کہ ماضی قریب میں اس طرح کے بہت سے ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جس وہ خاندان اپنے گائوں سماج میں ایک وقار تھا جس کی عزت و شرافت کے گن گائے جاتے تھے اور جس کی پاک دامنی چرچا کیا جاتا تھا انہیں بچوں کو موبائل تھمانے کی وجہ سے اس طرح کی رسوائی پڑی کی سماج و معا شر ہ میں تو کیا اس دنیا میں بھی رہنے کے قابل نہ رہنے دیا افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ اس طرح کے حادثات و واقعات سے ہم سبق حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی اس جانب اپنی توجہ نہیں دیتے ہیں صرف فکر اور رنج سے آج تک نہ کوئی کام ہوا ہے اور نہ قیامت تک ہوگا بلکہ فکر اور سوچ کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا تھبی جا کر کوئی بات بنے گی اور ہم اپنے اس بڑائی کو ختم کرنے میں کامیاب ہونگے اللہ ہم تمام مسلمانوں کو صر اط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین
