اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: مرکز المعارف کے فضلاء نے ثابت کردیا کہ زبان پر کسی کا قبضہ نہیں ہوتا، یہ علماء موجودہ ہندوستان میں سماج اور معاشرہ کے لیے آئیڈیل اور مشعلِ راہ ہیں

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 5 October 2019

مرکز المعارف کے فضلاء نے ثابت کردیا کہ زبان پر کسی کا قبضہ نہیں ہوتا، یہ علماء موجودہ ہندوستان میں سماج اور معاشرہ کے لیے آئیڈیل اور مشعلِ راہ ہیں

مرکز المعارف کے فضلاءنے ثابت کردیا کہ زبان پر کسی کا قبضہ نہیں ہوتا ۔یہ علماءموجودہ ہندوستان میں سماج اور معاشرہ کیلئے آئیڈیل اور مشعل راہ ہیں
نئی دہلی ۔5اکتوبر 2019(پریس ریلیز )
علماءکرام اور مدارس کے فضلاءنے اپنے عمل سے یہ ثابت کردیاہے کہ زبان پر کسی کا قبضہ نہیں ہوتاہے ،یہ ایک میڈیم ہے جسے کوئی بھی اپنا سکتاہے اور آج انہوں نے اپنالیاہے ۔ یہاں آنے قبل مجھے انداز ہ نہیں تھاکہ مدارس کے فضلاءاتنی روانی ، سلاست اور بیباکی کے ساتھ انگریزی بولتے ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہارمرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کی سلور جبلی پر ہونے والے بین الاقوامی سیمنار کے دوسرے سیشن میں سینئر جرنلسٹ اے یو آصف نے کیا ۔ اس موقع پر انہو ںنے بھی کہاکہ مشترکہ تہذیب وثقافت پر مدارس کے علماءکام کررہے ہیں اسی کو آئیڈیل اور مثالی بنانے کی ضرروت ہے ۔ داراشکوہ کے مشترکہ کلچر کی کوئی ضرروت نہیں ہے ۔جے این یو کے پروفیسر ڈاکٹر معین الدین جنابرے مرکزالمعارف کے اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ یہ علماءدین کے کام کو مزیددور تک پہونچائیں گے ۔ مولانا محمد شوکت بستوی استاذ درالعلوم دیوبند نے کہاکہ مرکز المعارف کے قیام کے بعد طلبہ انگریزی زبان سیکھ کر دارالعلوم دیوبند کے فیض اور مشن کو پوری دنیا تک آسانی کے ساتھ پہونچارہے ہیں جو ایک نمایاں اور عظیم کامیابی ہے ۔
دوسرے بزنس سیشن میں تقریبا 10 اسکالرس نے مشترکہ کلچر اور علماءکے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا ۔ مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کی سلور جبلی کے دوسرے دن صبح 8بجے سے 2بجے تک انگریزی زبان میں کل ہند تقریری مسابقہ کا انعقاد عمل میں آیاجس میں ملک کے گیارہ اداروں سے تعلق رکھنے والے 33 طلبہ نے شرکت کی ۔ تمام طلبہ کو سات سات منٹ کا وقت دیاگیا جس میں انہوں نے انگریزی زبان میں اپنی تقریر پیش کی ۔ معروف ٹرینر منور الزماں ۔ مولانا سعید احمد قاسمی اسسٹنٹ ایڈیٹر اسلام اور عصر حاضر جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی اورانگریزی کے معروف صحافی ڈاکٹر ضیاء السلام نے ججز کے فرائض انجام دیا ۔قابل غور ہے کہ پہلے ہر ایک ادارے میں موجود تمام طلبہ کے درمیان مسابقہ ہوتاہے جس میں اول دوم سوم پوزیشن حاصل کرنے والے کل ہند تقریری مسابقہ میں شرکت اہل قرار پاتے ہیں،نتیجہ کا اعلان کل 6اکتوبر کو اختتامی اجلاس میں کیاجائے گا جس میں اول دوم اور سوم پوزیشن لانے والوں کو خصوصی انعام سے نوازا جائے گا اس کے علاوہ ایک انعام مجموعی طور پر سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے ادارے کو بھی دیا جائے گا ۔
اس موقع پر منور الزمان نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ تقریبا تمام طلبہ کی کار کردگی شاند ار ، قابل ستائش اور بہترین تھی ۔ زبان ،موضوع ، مواد اور ادائیگی کسی بھی چیز میں کوئی کمی نہیں تھی ۔ مولانا سعید انور قاسمی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کو سننے کے بعد یہ احساس ہوتاہے کہ کسی معیاری یونیورسیٹی میں ایم اے اور ایم فل کے شعبہ میں زیر تعلیم ہیں ۔ معروف صحافی ڈاکٹر زین الاسلام نے بھی مدارس کے طلبہ کارکردگی پر خوشگوار حیرانگی کا اظہار کیا ۔
سلور جبلی کے دوسرے تین ڈھائی بجے تیسرے بزنس سیشن کا انعقاد ہندوستان کے مسلم نوجوان اور آگے کی راہ “ کے عنوا ن پر منعقد ہوا جس میں تقریبا 9 اسکالر س اور علماءنے اپنا مقالہ پیش کیا ۔ پینلسٹ کے طور پر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان چیرمین دہلی اقلیتی کمیشن ۔ مولانا محمود احمد خان دریاآبادی جنرل سکریٹری آل انڈیا علماءکونسل ۔ ڈاکٹر شمس الرب خان پروفیسر کنگ خالد یونیورسیٹی سعودی عربیہ ۔ ڈاکٹر عرشی خان پروفیسر علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی علی گڑھ ۔ ڈاکٹر مولانا مشتاق احمد رشادی ۔ محمدلطیف خان نے شرکت کی ۔
ایم ایم ای آر سی سلور جبلی کے تحت منعقد ہونے والے سہ روزہ انٹر نیشنل سمینار کا آخری اور اختتامی اجلاس آج 6اکتوبر کو دہلی میں کانسٹی ٹیوشن کلب کے ماﺅ لنکر ہال میں منعقد ہورہاہے جس میں مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی مہتمم درالعلوم دیوبند ۔ مولانا سید محمد ارشد مدنی جنرل سکریٹری جمعیت علماءہند ۔ ڈاکٹر اسلم پرویز وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی علی گڑھ ۔ مولانا بدرالدین اجمل بانی مرکز المعارف و ایم پی لوک سبھا ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سمیت متعدد علماءواسکالرس شرکت کریں گے ۔