ایک مسلمان کا مقصدِ زندگی کیا ہو؟
قسط نمبر ۲
انظرالاسلام بن شبیراحمد
عبادت کی سب سے جامع تعریف شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ نے اپنی تصنیف ’کتاب العبودیہ‘ میں ان الفاظ کے ساتھ کی ہے:
’’الْعِبَادَۃُ ھِیَ اِسْمٌ جَامِعٌ لِکُلِّ مَا یُحِبُّہُ اللّٰہُ وَ یَرْضَاہُُ مِنَ الْاَقْوَالِ وَالْاَعْمَالِ الْبَاطِنَۃِ وَالْظَّاھِرَۃِ فَالصَّلَاۃُ، وَالزَّکَاۃُ، وَالصِّیَامُ، وَالْحَجُّ، وَصِدْقُ الْحَدِیْثِ، وَأَدَائُ الْاَمَانَۃِ، وَبِرُّ الْوَالِدَیْنِ، وَصِلَۃُ الْاَرْحَامِ، وَالْوَفَائُ بِالْعُھُودِ، وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَالْجِھَادُ لِلْکُفَّارِ وَ الْمُنَافِقِینَ، وَالْاِحْسَانُ لِلْجَارِ، وَالْیَتِیمِ، وَالْمِسْکِینِ، وَابْنِ الْسَّبِیلِ، وَالْمَمْلُوکِ؛مِنَ الْآدَمِیِّینَ وَالْبَھَائِمِ، وَالدُّعَائُ، وَ الذِّکْرُ، وَالْقِرَائَ ۃُ، وَأَمْثَالُ ذٰلِکَ مِنَ الْعِبَادَۃِ۔ وَ کَذٰلِکَ حُبُّ اللّٰہِ وَ رَسُولِہِ، وَ خَشْیَۃُ اللّٰہِ وَ الْاِنَابَۃُ اِلَیْہِ، وَ اِخْلَاصُ الدِّینِ لَہُ، وَ الصَّبْرُ لِحُکْمِہِ، وَ الْشُّکْرُ لِنِعَمِہِ، وَالرِّضَا بِقَضَائِہِ، وَ الْتَّوَکُّلُ عَلَیہِ، وَالرَّجَائُ لِرَحْمَتِہِ، وَالْخَوْفُ مِنْ عَذَابِہِ، وَأَمْثَالُ ذٰلِکَ ھِیَ مِنَ الْعِبَادَۃِ لِلّٰہِ‘‘ (کتاب العبودیہ، جامع شیخ الاسلام ابن تیمیۃ، ص۴)۔
ترجمہ: ’’عبادت ایک جامع لفظ ہے جو اللہ تعالیٰ کے تمام محبوب و پسندیدہ، ظاہری و باطنی اقوال و اعمال( افعال) کو شامل ہے، چنانچہ نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، بات میں سچائی، امانت کی ادائیگی، والدین سے حسن سلوک، رشتہ داروں سے نیکی، وعدوں کو پورا کرنا، نیکی کا حکم، برائی سے روکنا، کفارومنافقین سے جہاد، پڑوسیوں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور زیر دست انسانوں اور جانوروں کے ساتھ بھلائی، دعا، ذکر، قرأت اور ان جیسی اورباتیں سب عبادات ہیں، اسی طرح اللہ و رسول ؐ سے محبت، اللہ کا ڈر اور اس کی طرف رجوع، دین کو اسی کے لئے خالص کرنا، اس کے حکم پر ڈٹ جانا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا، اس کی قضاء و قدر پر راضی رہنا، اس پر توکل کرنا، اس کی رحمت کی امید اور اس کے عذاب کا خوف اور ان جیسی اورباتیں بھی اللہ کی عبادات ہیں ‘‘۔
لفظ ’عبادت‘ کی ان تشریحات پر غور کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ عبادت مکمل اطاعت و فرمانبرداری کا نام ہے جس میں انتہا درجہ کا خضوع، تذلل اور عاجزی شامل ہو اور جس کا محرک اللہ کی عظمت و محبت ہو اور اس کا دائرہ ظاہر ہے چند مخصوص اسلامی عبادتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ زندگی کے تمام شعبوں کو اپنے وسعت میں سموئے ہوئے ہے۔ اس لئے صرف نماز، روزہ، تلاوت و اذکار وغیرہ میں ہی محدود رہ کر یہ سمجھنا کہ ہم نے مقصد زندگی کو حاصل کرلیادرست نہیں جب تک انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام متعلقہ شعبوں یعنی اخلاقیات، معاملات، معیشت ( اور اس کے مختلف ذرائع مثلاً ملازمت، تجارت، زراعت، صنعت و حرفت وغیرہ)، معاشرت، سیاست و نظام حکومت، اور نظام عدل و انصاف وغیرہ میں اللہ کے احکامات کو نافذ نہ کرے۔جس نے متعلقہ شعبوں میں اللہ کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کردیااور کامل اطاعت پر پابندی برتی وہ عبادت و بندگی کے حق کو ادا کرنے کی سعی کرنے والا کہا جائے گا۔نیزاللہ کی اطاعت میں اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت و اتباع بھی شامل ہے۔اسی لئے بندگی کے اس مقام و مرتبہ کو حاصل کرنے والے کے لئے کامیابی کی ضمانت دی گئی ہے:
وَمَن یُطِعْ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزاً عَظِیْماً
’’اور جس نے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے رسول کی تو یقینا وہ بڑی مراد کو پہنچا‘‘۔ (الاحزاب:۷۱)۔
اسی طرح سورۃ النسآء میں وراثت کے احکام بیان کرنے کے بعد ارشاد ہے:
تِلْکَ حُدُودُ اللّٰہِ وَمَن یُطِعِ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ یُدْخِلْہُ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْم ہ وَمَن یَعْصِ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَیَتَعَدَّ حُدُودَہُ یُدْخِلْہُ نَاراً خَالِداً فِیْہَا وَلَہُ عَذَابٌ مُّہِیْن. (النسآء:۱۳-۱۴)
ترجمہ:’’یہ (تمام احکام) اللہ کی حدیں ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا اللہ تعالیٰ اُس کو جنتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اُس کی حدوں سے نکل جائے گا اُس کو اللہ دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا اور اُس کو ذلت کا عذاب ہو گا ‘‘۔
عنی نہ صرف یہ کہ اطاعت پر کامیابی کا وعدہ ہے بلکہ اس سے روگردانی پر جہنم کی دھمکی اور وعید بھی ہے۔
یہ تو وہ بنیادی مقصد تھا جس کے لئے اللہ رب العزت نے ساری انسانیت کو پیدا فرمایا۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور ہدف بھی ہے جسے مسلمانوں کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا چاہیے اور وہ ہے تمام ادیان پر دین اسلام کو غالب کرنے کی کوشش۔رسول کریم ﷺ کی بعثت کا یہ ایک بنیادی مقصد ہے۔چنانچہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ.(التوبہ:۳۳)۔
’’ وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت (کا سامان یعنی قرآن) اور دینِ حق(یعنی اسلام ) دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں ‘‘۔
اس مقصد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں تین جگہ یہ آیت لائی گئی ہے سورۃ الصف کی آیت نمبر ۹ میں تو بعینہ اور سورۃ الفتح کی آیت ۲۸ میں آخری الفاظ کے تغیر کے ساتھ یعنی وہاں پر{وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُون}کی جگہ پر { وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا ہ} ہے جس کا مطلب ہے’’ اور اللہ (اس بات پر) کافی گواہ ہے ‘‘۔دین اسلام کو باقی ادیان پر غالب کرنے کا یہ مشن معقولیت اور دلیل و حجت کے اعتبار سے بھی ہے کہ ہر شخص پر یہ عیاں ہوجائے کہ اسلام ہی حق ہے اور اس کے مقابل و مخالف جو کچھ بھی ہے وہ سب باطل ہے، افرادی قوت کے اعتبار سے بھی ہے یعنی انسانوں کی اکثریت دین اسلام کو اپنا لے اور اس پر عمل پیرا ہوجائے اور حکومت و سلطنت کے اعتبار سے بھی ہے یعنی نظام خلافت اسلامی کا قیام عمل میں آجائے اور طاغوتی طاقتیں اسلامی حکومت کے آگے سر نگوں ہوجائیں۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے دلائل، حجت و برہان اور حکمت کے ساتھ اقوام عالم کو اسلام کی دعوت دینا، نوواردوں کی تعلیم و تربیت اور دعوت کی راہ میں حائل ہونے والی مخالف قوتوں کا استیصال وغیرہ حکمت عملی رسول پاک ﷺ کی سیرت طیبہ سے ثابت ہے۔اسلام مخالف قوتوں کا استیصال تو ہمارے بس میں نہیں کیوں کہ یہ اسلامی حکومتوں کا کام ہے لیکن دعوت دین اور تعلیم و تعلم کے مختلف طریقے تو ہم اپناہی سکتے ہیں اور اس مشن کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ کوشش کرنا ہمارے ذمہ ہے اور اس کے نتائج دینا اللہ کے بس میں ہے۔
یہاں کسی کو یہ اشکال نہ ہو کہ دین اسلام کو غالب کرنے کا یہ مشن رسول پاک ﷺ تک ہی محدود تھا اور بعد کے ادوار میں یہ ساقط ہوگیا؟ اگر ایسا ہوتا تو خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اس کے لئے اتنی قربانیاں نہ دیتے اور نہ ہی اتنی مشقتیں اٹھاتے؟ حقیقت یہ کہ رسول پاک ﷺ کے اس مشن میں آپ کی امت بھی برابر کی شریک ہے جس کی وضاحت قرآن کریم نے یوں کیا ہے:
قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ اَدْعُوْآ اِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیَْرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ ط. ( سورۃ یوسف :۱۰۸)۔
’’آپؐ فرمادیجئے کہ یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں سمجھ بوجھ کے مطابق، میں ( بھی) اور وہ (بھی ) جس نے میری پیروی کی‘‘۔
قسط نمبر ۲
انظرالاسلام بن شبیراحمد
عبادت کی سب سے جامع تعریف شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ نے اپنی تصنیف ’کتاب العبودیہ‘ میں ان الفاظ کے ساتھ کی ہے:
’’الْعِبَادَۃُ ھِیَ اِسْمٌ جَامِعٌ لِکُلِّ مَا یُحِبُّہُ اللّٰہُ وَ یَرْضَاہُُ مِنَ الْاَقْوَالِ وَالْاَعْمَالِ الْبَاطِنَۃِ وَالْظَّاھِرَۃِ فَالصَّلَاۃُ، وَالزَّکَاۃُ، وَالصِّیَامُ، وَالْحَجُّ، وَصِدْقُ الْحَدِیْثِ، وَأَدَائُ الْاَمَانَۃِ، وَبِرُّ الْوَالِدَیْنِ، وَصِلَۃُ الْاَرْحَامِ، وَالْوَفَائُ بِالْعُھُودِ، وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَالْجِھَادُ لِلْکُفَّارِ وَ الْمُنَافِقِینَ، وَالْاِحْسَانُ لِلْجَارِ، وَالْیَتِیمِ، وَالْمِسْکِینِ، وَابْنِ الْسَّبِیلِ، وَالْمَمْلُوکِ؛مِنَ الْآدَمِیِّینَ وَالْبَھَائِمِ، وَالدُّعَائُ، وَ الذِّکْرُ، وَالْقِرَائَ ۃُ، وَأَمْثَالُ ذٰلِکَ مِنَ الْعِبَادَۃِ۔ وَ کَذٰلِکَ حُبُّ اللّٰہِ وَ رَسُولِہِ، وَ خَشْیَۃُ اللّٰہِ وَ الْاِنَابَۃُ اِلَیْہِ، وَ اِخْلَاصُ الدِّینِ لَہُ، وَ الصَّبْرُ لِحُکْمِہِ، وَ الْشُّکْرُ لِنِعَمِہِ، وَالرِّضَا بِقَضَائِہِ، وَ الْتَّوَکُّلُ عَلَیہِ، وَالرَّجَائُ لِرَحْمَتِہِ، وَالْخَوْفُ مِنْ عَذَابِہِ، وَأَمْثَالُ ذٰلِکَ ھِیَ مِنَ الْعِبَادَۃِ لِلّٰہِ‘‘ (کتاب العبودیہ، جامع شیخ الاسلام ابن تیمیۃ، ص۴)۔
ترجمہ: ’’عبادت ایک جامع لفظ ہے جو اللہ تعالیٰ کے تمام محبوب و پسندیدہ، ظاہری و باطنی اقوال و اعمال( افعال) کو شامل ہے، چنانچہ نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، بات میں سچائی، امانت کی ادائیگی، والدین سے حسن سلوک، رشتہ داروں سے نیکی، وعدوں کو پورا کرنا، نیکی کا حکم، برائی سے روکنا، کفارومنافقین سے جہاد، پڑوسیوں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور زیر دست انسانوں اور جانوروں کے ساتھ بھلائی، دعا، ذکر، قرأت اور ان جیسی اورباتیں سب عبادات ہیں، اسی طرح اللہ و رسول ؐ سے محبت، اللہ کا ڈر اور اس کی طرف رجوع، دین کو اسی کے لئے خالص کرنا، اس کے حکم پر ڈٹ جانا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا، اس کی قضاء و قدر پر راضی رہنا، اس پر توکل کرنا، اس کی رحمت کی امید اور اس کے عذاب کا خوف اور ان جیسی اورباتیں بھی اللہ کی عبادات ہیں ‘‘۔
لفظ ’عبادت‘ کی ان تشریحات پر غور کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ عبادت مکمل اطاعت و فرمانبرداری کا نام ہے جس میں انتہا درجہ کا خضوع، تذلل اور عاجزی شامل ہو اور جس کا محرک اللہ کی عظمت و محبت ہو اور اس کا دائرہ ظاہر ہے چند مخصوص اسلامی عبادتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ زندگی کے تمام شعبوں کو اپنے وسعت میں سموئے ہوئے ہے۔ اس لئے صرف نماز، روزہ، تلاوت و اذکار وغیرہ میں ہی محدود رہ کر یہ سمجھنا کہ ہم نے مقصد زندگی کو حاصل کرلیادرست نہیں جب تک انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام متعلقہ شعبوں یعنی اخلاقیات، معاملات، معیشت ( اور اس کے مختلف ذرائع مثلاً ملازمت، تجارت، زراعت، صنعت و حرفت وغیرہ)، معاشرت، سیاست و نظام حکومت، اور نظام عدل و انصاف وغیرہ میں اللہ کے احکامات کو نافذ نہ کرے۔جس نے متعلقہ شعبوں میں اللہ کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کردیااور کامل اطاعت پر پابندی برتی وہ عبادت و بندگی کے حق کو ادا کرنے کی سعی کرنے والا کہا جائے گا۔نیزاللہ کی اطاعت میں اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت و اتباع بھی شامل ہے۔اسی لئے بندگی کے اس مقام و مرتبہ کو حاصل کرنے والے کے لئے کامیابی کی ضمانت دی گئی ہے:
وَمَن یُطِعْ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزاً عَظِیْماً
’’اور جس نے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے رسول کی تو یقینا وہ بڑی مراد کو پہنچا‘‘۔ (الاحزاب:۷۱)۔
اسی طرح سورۃ النسآء میں وراثت کے احکام بیان کرنے کے بعد ارشاد ہے:
تِلْکَ حُدُودُ اللّٰہِ وَمَن یُطِعِ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ یُدْخِلْہُ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْم ہ وَمَن یَعْصِ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَیَتَعَدَّ حُدُودَہُ یُدْخِلْہُ نَاراً خَالِداً فِیْہَا وَلَہُ عَذَابٌ مُّہِیْن. (النسآء:۱۳-۱۴)
ترجمہ:’’یہ (تمام احکام) اللہ کی حدیں ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا اللہ تعالیٰ اُس کو جنتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اُس کی حدوں سے نکل جائے گا اُس کو اللہ دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا اور اُس کو ذلت کا عذاب ہو گا ‘‘۔
عنی نہ صرف یہ کہ اطاعت پر کامیابی کا وعدہ ہے بلکہ اس سے روگردانی پر جہنم کی دھمکی اور وعید بھی ہے۔
یہ تو وہ بنیادی مقصد تھا جس کے لئے اللہ رب العزت نے ساری انسانیت کو پیدا فرمایا۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور ہدف بھی ہے جسے مسلمانوں کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا چاہیے اور وہ ہے تمام ادیان پر دین اسلام کو غالب کرنے کی کوشش۔رسول کریم ﷺ کی بعثت کا یہ ایک بنیادی مقصد ہے۔چنانچہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ.(التوبہ:۳۳)۔
’’ وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت (کا سامان یعنی قرآن) اور دینِ حق(یعنی اسلام ) دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں ‘‘۔
اس مقصد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں تین جگہ یہ آیت لائی گئی ہے سورۃ الصف کی آیت نمبر ۹ میں تو بعینہ اور سورۃ الفتح کی آیت ۲۸ میں آخری الفاظ کے تغیر کے ساتھ یعنی وہاں پر{وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُون}کی جگہ پر { وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا ہ} ہے جس کا مطلب ہے’’ اور اللہ (اس بات پر) کافی گواہ ہے ‘‘۔دین اسلام کو باقی ادیان پر غالب کرنے کا یہ مشن معقولیت اور دلیل و حجت کے اعتبار سے بھی ہے کہ ہر شخص پر یہ عیاں ہوجائے کہ اسلام ہی حق ہے اور اس کے مقابل و مخالف جو کچھ بھی ہے وہ سب باطل ہے، افرادی قوت کے اعتبار سے بھی ہے یعنی انسانوں کی اکثریت دین اسلام کو اپنا لے اور اس پر عمل پیرا ہوجائے اور حکومت و سلطنت کے اعتبار سے بھی ہے یعنی نظام خلافت اسلامی کا قیام عمل میں آجائے اور طاغوتی طاقتیں اسلامی حکومت کے آگے سر نگوں ہوجائیں۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے دلائل، حجت و برہان اور حکمت کے ساتھ اقوام عالم کو اسلام کی دعوت دینا، نوواردوں کی تعلیم و تربیت اور دعوت کی راہ میں حائل ہونے والی مخالف قوتوں کا استیصال وغیرہ حکمت عملی رسول پاک ﷺ کی سیرت طیبہ سے ثابت ہے۔اسلام مخالف قوتوں کا استیصال تو ہمارے بس میں نہیں کیوں کہ یہ اسلامی حکومتوں کا کام ہے لیکن دعوت دین اور تعلیم و تعلم کے مختلف طریقے تو ہم اپناہی سکتے ہیں اور اس مشن کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ کوشش کرنا ہمارے ذمہ ہے اور اس کے نتائج دینا اللہ کے بس میں ہے۔
یہاں کسی کو یہ اشکال نہ ہو کہ دین اسلام کو غالب کرنے کا یہ مشن رسول پاک ﷺ تک ہی محدود تھا اور بعد کے ادوار میں یہ ساقط ہوگیا؟ اگر ایسا ہوتا تو خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اس کے لئے اتنی قربانیاں نہ دیتے اور نہ ہی اتنی مشقتیں اٹھاتے؟ حقیقت یہ کہ رسول پاک ﷺ کے اس مشن میں آپ کی امت بھی برابر کی شریک ہے جس کی وضاحت قرآن کریم نے یوں کیا ہے:
قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ اَدْعُوْآ اِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیَْرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ ط. ( سورۃ یوسف :۱۰۸)۔
’’آپؐ فرمادیجئے کہ یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں سمجھ بوجھ کے مطابق، میں ( بھی) اور وہ (بھی ) جس نے میری پیروی کی‘‘۔
