فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا ضروری
محمد یونس نئی دہلی
مکرمی:فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے مقصد سے بینی گنج ضلع فیض آبادکے باشندہ اختر علی جو بی ایس این ایل آفس فیض آباد میں بطور ٹیکنیشن ملازمت کرتے ہیں۔اپنے ساتھیوں کی مدد سے بی ایس این ایل آفس کمپلیکس میں واقع شیولنگ کی تجدید کرائ۔11 ستمبر 2019 کو پوجا کے شیولنگ کا افتتاح کیا اور فیض آباد کے لوگوں کیلئے دعوت کا انتظام کیا۔یہ نیک کام سماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال پیش کرتا ہے اور تمام مکتب فکر کے لوگوں کو آپس میں مل جل کر اور محبت سے رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔اس کے علاوہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک اور مثال ہے۔ شہر قاضی کے گھر میں ایک ہندو لڑکے کی پیدائش۔ہوا یوں کہ راجندر گپتا موٹرسائیکل سے اپنی حاملہ بیوی پونم گپتا کی ڈلیوری کے لئےانہیں گوند نگر,کانپور اسپتال لے جارہے تھے۔ لیکن راستے میں ٹریفک کا لمبا جام تھا۔ پونم گپتا شدید تکلیف میں مبتلا تھیں لیکن خدا کے فضل سےمقامی مسلم عورت نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے حاملہ عورت کو شہر قاضی (محمد اطہر) کے گھر لے گئیں۔وہاں مسلم خواتین شاہانہ اطہر,عتیق النساء،ریشمااور ثانیہ بیگم وغیرہ نے ڈلیوری کرائ۔جوڑے نےخوش ہوکر کہا کہ شہر قاضی کا گھرپونم کی والدہ کے گھر کی طرح ہے۔اس کے بعدنومولود بچےکا نام ٹیپو سلطان رکھا گیااورامید ظاہر کی گئ کہ یہ لڑکا ہندو مسلم بھائی چارے کی علامت ہوگا۔
محمد یونس
نئ دہلی
محمد یونس نئی دہلی
مکرمی:فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے مقصد سے بینی گنج ضلع فیض آبادکے باشندہ اختر علی جو بی ایس این ایل آفس فیض آباد میں بطور ٹیکنیشن ملازمت کرتے ہیں۔اپنے ساتھیوں کی مدد سے بی ایس این ایل آفس کمپلیکس میں واقع شیولنگ کی تجدید کرائ۔11 ستمبر 2019 کو پوجا کے شیولنگ کا افتتاح کیا اور فیض آباد کے لوگوں کیلئے دعوت کا انتظام کیا۔یہ نیک کام سماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال پیش کرتا ہے اور تمام مکتب فکر کے لوگوں کو آپس میں مل جل کر اور محبت سے رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔اس کے علاوہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک اور مثال ہے۔ شہر قاضی کے گھر میں ایک ہندو لڑکے کی پیدائش۔ہوا یوں کہ راجندر گپتا موٹرسائیکل سے اپنی حاملہ بیوی پونم گپتا کی ڈلیوری کے لئےانہیں گوند نگر,کانپور اسپتال لے جارہے تھے۔ لیکن راستے میں ٹریفک کا لمبا جام تھا۔ پونم گپتا شدید تکلیف میں مبتلا تھیں لیکن خدا کے فضل سےمقامی مسلم عورت نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے حاملہ عورت کو شہر قاضی (محمد اطہر) کے گھر لے گئیں۔وہاں مسلم خواتین شاہانہ اطہر,عتیق النساء،ریشمااور ثانیہ بیگم وغیرہ نے ڈلیوری کرائ۔جوڑے نےخوش ہوکر کہا کہ شہر قاضی کا گھرپونم کی والدہ کے گھر کی طرح ہے۔اس کے بعدنومولود بچےکا نام ٹیپو سلطان رکھا گیااورامید ظاہر کی گئ کہ یہ لڑکا ہندو مسلم بھائی چارے کی علامت ہوگا۔
محمد یونس
نئ دہلی