کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلماں بھی ایک
از✍
احتشام الحق، مظاہری، کبیر نگری،
اس وقت ہر شخص نوحہ کناں اور شکوہ سنج نظر آتا ھے کہ مسلمان ایک نہیں ہیں مسلمانوں میں اتحاد نھیں، مسلم لیڈروں میں اتحاد نھیں مسلم تنظیموں میں اتحاد نھیں، اور زبان سے اتحاد کا لفظ بار بار دہرانے سے اتحاد نھیں پیدا ہوتا، جس طرح پانی آکسیجن اور ہائیڈرو جن سے مرکب ہو تا ھے، اسی طرح سے اتحاد بھی کچھ صفات سے مرکب ہوتا ھے، اتحاد پیدا کرنے کےلئے اپنے اندر کچھ صفات کا پیدا کرنا ضروری ھے اور وہ صفات ہیں : مسلمانوں کا احترام اور ان سے محبت اور اپنے مفاد سے زیادہ دوسروں کے مفاد کی حفاظت اور عیب چینی، اور غیبت کی عادت سے مکمل پرہیز، جب یہ صفات پیدا ہو جاتی ہیں، تو ایک مسلمان دنیا کے تمام مسلمانوں سے محبت اور اتحاد کے رشتہ سے بندھ جاتا ھے، مختلف طبقاتِ ملت کے باہمی حالات کے جائزے اور طویل غور و فکر اور صحابۂ کرام و تابعین عظام، کے معاشرے کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ھے کہ مسالک و مکاتب فکر کے ہزار اختلاف کے باوجود اگر مسلمانوں کے مختلف طبقات کے درمیان اسلامی اخوت کے رشتے استور، اور انکے معاشرتی تعلقات ہموار ہوں تو اس میل جول اور اس قرب و یگانگت سے سینکڑوں خلیجیں پٹتی رہتی ہیں اور وقتا فوقتا کھڑی ہو نے والی سینکڑوں تفریق کی دیواریں خود بخود منہدم ہوتی رہتی ہیں،
حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک درخت ھے اور فقہی احکام اور جزوی مسائل اس کی شاخیں اور پتیاں ہیں، اور ملت کے تمام افراد جس رشتۂ اخوت میں بند ھے ہوئے ہیں وہ اصل اسلامی رشتہ ھے جو ایک بنادی رشتہ ھے، اتحاد کے مطلوبہ اوصاف میں بیجا بحث، ومباحثہ سے پرہیز بھی ھے اگر آدمی بحث و مباحثہ سے بچتے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں سے میل جول اور معاشرتی تعلقات برقرار رکھے تو نہ صرف یہ کہ بہت سی غلط فہمیاں ختم ہوجاتی ہیں بلکہ باہمی تعاون کی نئی راہیں کھل جاتی ہیں اور خود متنازع مسائل کے بارے میں بھی ایک دوسرے کے لئے گوشۂ نرم اور جذبۂ ہمدردی پیدا ہوتا ھے،
یہی وجہ ھے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : لوگوں! فرمانبرداری کو اپنا شیوہ بنالو اور اجتماعیت کو قائم رکھو یہی اللہ تعالی کی وہ محکم رسی ھے جسے مضبوط پکڑے رہنے کا اس نے حکم دیا ھے،
اللہ تعالی چاہتے ہیں کہ مسلم معاشرے میں باہمی اعتماد کی فضا قائم ہو اور خوشگوار تعلقات کا ماحول پیدا ہو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرتی تعلقات کی درستی کو نماز و روزہ جیسے ارکان اسلام سے بھی زیادہ اہم قرار دیا ھے،
مسلمانوں کا آپس میں اس عظیم و بلند اور طاقت ور رشتے کو ان جزوی اختلافات کی وجہ سے نظر انداز کرنا سخت غفلت اور بڑی حقیقت نا شناسی کی علامت اور احکام شریعت کے باہمی درجات و مراتب کو نہ پہچاننے کی دلیل ھے، افسوس کی بات یہ ھے کہ اس وقت مسلم معاشرے کا حال بڑا ابتر ھو چکا ھے ، زبان کھلتی ھے تو غیبت اور بد گوئی پر کھلتی ھے، دوسروں کی اچھی باتوں اور نیک کاموں کے تذکرہ میں بخل سے کام لیا جاتا ھے، کشادہ دلی کے بجائے تنگ دلی، وسعت ظرفی کے بجائے تنگ ظرفی کا ثبوت پیش کیا جاتا ھے، حالانکہ اسلام میں جو معاشرہ مطلوب ھے وہ اخلاص کی روح کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا معاشرہ ھے وہ ایسا معاشرہ ھے جس میں بظاہر بلکہ بباطن بھی ایک دوسرے سے محبت ہوتی ھے اور آپس کا اعتماد باقی رہتا ھے،
معاشرے کی اصلاح اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ھے، قرآن مجید اور سنت نبوی میں کفر و شرک کے بعد جس کی سب سے زیادہ مزمت بیان کی گئی ھے وہ یہی تفریق اور معاشرے کا بگاڑ ھے، آج مسلمانوں پر ہر طرف سے نکبت و زلت کی یورش ہورہی ھے اس کا بڑا سبب یہی افتراق ھے، ایک امام کو ماننے والی جماعت، ایک رسول پر ایمان لانے والی، اور ایک کلمہ کی لڑی میں پر وئی ہوئی امت، ایک قبلہ کی طرف رخ کرنے والی جماعت، دوسری قوموں کی دسیسہ کاریوں اور مکاریوں کی بدولت نسلی، لسانی، وطنی قومیتوں کی نزر ہوگئی، اور عربی، مصری، شامی، ترکی، ایرانی، چینی، ہندوستانی پاکستانی، خانوں میں بٹ گئی ھے، حالانکہ، یہ تقسیم محض تعارف و امتیاز کے لئے تھی، جیسا کہ ارشاد خداوندی ھے، وجعناکم شعوباو قبائل لتعارفوا،،،،،، ( ہمیں نے تمہیں خاندانوں اور قبیلوں میں تعارف کے لئے تقسیم کیا ھے) مگر آج اخوت و ہمدردی بھی تقسیم ہوگئی اور معمولی معمولی اور ادنیٰ خواہشات پر بڑے سے بڑے تعلق کو قربان کردیا جارہا ھے ، جب کہ موجودہ مسلمانوں کی صورت حال میں اس بات کی اشد ضرورت ھے کہ ہم اپنے آپسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر متحد و متفق ہو جائیں ، اور اپنا معاشرہ ایسا اسلامی و مثالی معاشرہ بنائیں کہ اس سے عہد اول کی یاد تازہ ھو جائے،،،،،،، اور علامہ اقبال علیہ الرحمہ کا یہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر ہوجائے، اور ہم اس شعر کے مصداق بن جائیں،
بتانِ رنگ و بو کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ ایرانی رہے باقی، نہ تورانی نہ افغانی،
از✍
احتشام الحق، مظاہری، کبیر نگری،
اس وقت ہر شخص نوحہ کناں اور شکوہ سنج نظر آتا ھے کہ مسلمان ایک نہیں ہیں مسلمانوں میں اتحاد نھیں، مسلم لیڈروں میں اتحاد نھیں مسلم تنظیموں میں اتحاد نھیں، اور زبان سے اتحاد کا لفظ بار بار دہرانے سے اتحاد نھیں پیدا ہوتا، جس طرح پانی آکسیجن اور ہائیڈرو جن سے مرکب ہو تا ھے، اسی طرح سے اتحاد بھی کچھ صفات سے مرکب ہوتا ھے، اتحاد پیدا کرنے کےلئے اپنے اندر کچھ صفات کا پیدا کرنا ضروری ھے اور وہ صفات ہیں : مسلمانوں کا احترام اور ان سے محبت اور اپنے مفاد سے زیادہ دوسروں کے مفاد کی حفاظت اور عیب چینی، اور غیبت کی عادت سے مکمل پرہیز، جب یہ صفات پیدا ہو جاتی ہیں، تو ایک مسلمان دنیا کے تمام مسلمانوں سے محبت اور اتحاد کے رشتہ سے بندھ جاتا ھے، مختلف طبقاتِ ملت کے باہمی حالات کے جائزے اور طویل غور و فکر اور صحابۂ کرام و تابعین عظام، کے معاشرے کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ھے کہ مسالک و مکاتب فکر کے ہزار اختلاف کے باوجود اگر مسلمانوں کے مختلف طبقات کے درمیان اسلامی اخوت کے رشتے استور، اور انکے معاشرتی تعلقات ہموار ہوں تو اس میل جول اور اس قرب و یگانگت سے سینکڑوں خلیجیں پٹتی رہتی ہیں اور وقتا فوقتا کھڑی ہو نے والی سینکڑوں تفریق کی دیواریں خود بخود منہدم ہوتی رہتی ہیں،
حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک درخت ھے اور فقہی احکام اور جزوی مسائل اس کی شاخیں اور پتیاں ہیں، اور ملت کے تمام افراد جس رشتۂ اخوت میں بند ھے ہوئے ہیں وہ اصل اسلامی رشتہ ھے جو ایک بنادی رشتہ ھے، اتحاد کے مطلوبہ اوصاف میں بیجا بحث، ومباحثہ سے پرہیز بھی ھے اگر آدمی بحث و مباحثہ سے بچتے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں سے میل جول اور معاشرتی تعلقات برقرار رکھے تو نہ صرف یہ کہ بہت سی غلط فہمیاں ختم ہوجاتی ہیں بلکہ باہمی تعاون کی نئی راہیں کھل جاتی ہیں اور خود متنازع مسائل کے بارے میں بھی ایک دوسرے کے لئے گوشۂ نرم اور جذبۂ ہمدردی پیدا ہوتا ھے،
یہی وجہ ھے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : لوگوں! فرمانبرداری کو اپنا شیوہ بنالو اور اجتماعیت کو قائم رکھو یہی اللہ تعالی کی وہ محکم رسی ھے جسے مضبوط پکڑے رہنے کا اس نے حکم دیا ھے،
اللہ تعالی چاہتے ہیں کہ مسلم معاشرے میں باہمی اعتماد کی فضا قائم ہو اور خوشگوار تعلقات کا ماحول پیدا ہو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرتی تعلقات کی درستی کو نماز و روزہ جیسے ارکان اسلام سے بھی زیادہ اہم قرار دیا ھے،
مسلمانوں کا آپس میں اس عظیم و بلند اور طاقت ور رشتے کو ان جزوی اختلافات کی وجہ سے نظر انداز کرنا سخت غفلت اور بڑی حقیقت نا شناسی کی علامت اور احکام شریعت کے باہمی درجات و مراتب کو نہ پہچاننے کی دلیل ھے، افسوس کی بات یہ ھے کہ اس وقت مسلم معاشرے کا حال بڑا ابتر ھو چکا ھے ، زبان کھلتی ھے تو غیبت اور بد گوئی پر کھلتی ھے، دوسروں کی اچھی باتوں اور نیک کاموں کے تذکرہ میں بخل سے کام لیا جاتا ھے، کشادہ دلی کے بجائے تنگ دلی، وسعت ظرفی کے بجائے تنگ ظرفی کا ثبوت پیش کیا جاتا ھے، حالانکہ اسلام میں جو معاشرہ مطلوب ھے وہ اخلاص کی روح کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا معاشرہ ھے وہ ایسا معاشرہ ھے جس میں بظاہر بلکہ بباطن بھی ایک دوسرے سے محبت ہوتی ھے اور آپس کا اعتماد باقی رہتا ھے،
معاشرے کی اصلاح اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ھے، قرآن مجید اور سنت نبوی میں کفر و شرک کے بعد جس کی سب سے زیادہ مزمت بیان کی گئی ھے وہ یہی تفریق اور معاشرے کا بگاڑ ھے، آج مسلمانوں پر ہر طرف سے نکبت و زلت کی یورش ہورہی ھے اس کا بڑا سبب یہی افتراق ھے، ایک امام کو ماننے والی جماعت، ایک رسول پر ایمان لانے والی، اور ایک کلمہ کی لڑی میں پر وئی ہوئی امت، ایک قبلہ کی طرف رخ کرنے والی جماعت، دوسری قوموں کی دسیسہ کاریوں اور مکاریوں کی بدولت نسلی، لسانی، وطنی قومیتوں کی نزر ہوگئی، اور عربی، مصری، شامی، ترکی، ایرانی، چینی، ہندوستانی پاکستانی، خانوں میں بٹ گئی ھے، حالانکہ، یہ تقسیم محض تعارف و امتیاز کے لئے تھی، جیسا کہ ارشاد خداوندی ھے، وجعناکم شعوباو قبائل لتعارفوا،،،،،، ( ہمیں نے تمہیں خاندانوں اور قبیلوں میں تعارف کے لئے تقسیم کیا ھے) مگر آج اخوت و ہمدردی بھی تقسیم ہوگئی اور معمولی معمولی اور ادنیٰ خواہشات پر بڑے سے بڑے تعلق کو قربان کردیا جارہا ھے ، جب کہ موجودہ مسلمانوں کی صورت حال میں اس بات کی اشد ضرورت ھے کہ ہم اپنے آپسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر متحد و متفق ہو جائیں ، اور اپنا معاشرہ ایسا اسلامی و مثالی معاشرہ بنائیں کہ اس سے عہد اول کی یاد تازہ ھو جائے،،،،،،، اور علامہ اقبال علیہ الرحمہ کا یہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر ہوجائے، اور ہم اس شعر کے مصداق بن جائیں،
بتانِ رنگ و بو کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ ایرانی رہے باقی، نہ تورانی نہ افغانی،
