اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Tuesday, 27 August 2019

ایک انتہائی اہم اور افسوس ناک خبر

* ایک انتہائی اہم اورافسوسناک خبر*
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد معاذ صاحب رشادی مہتمم دارالعلوم سبیل الرشاد بینگلور

کاآج بتاریخ 27.08.2019 اچانک انتقال ہوگیا....😢

انا للہ و انا الیہ راجعون

حسرت تو ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے،
کے مصداق ان کی موت ہے، اللہ رب العزت حضرت کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے، یقیناً دارالعلوم سبیل ارشاد کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے،

اللہ رب العزت ادارہ کو نعم البدل عطاء فرمائے.

مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوار الاسلام میں آج شجر کاری مہم

رپورٹ :محمد دلشاد قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
روشنگڑھ/باغپت(آئی این اے نیوز 27 اگست2019) باغپت ضلع کے روشنگڑھ گاؤں کے مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوارالاسلام میں آج شیخ الہند پارک میں شجر کاری مہم کے تحت درخت لگانے کا اہتمام کیا گیا، مدرسہ ھذا کے ناظم اعلی مفتی محمد دلشاد قاسمی نے اپنے دست مبارک سے سائیکس کا درخت لگا کر جمعیت یوتھ کلب کے ذریعہ چلائے جارہے شجر کاری مہم کا افتتاح کیا.
اس موقع پر انہوں نے شجرکاری مہم پر روشنی ڈالی ،اور انہوں نے مزید کہا کہ جس شخصیت کے نام پر  اس پارک کو بنایا گیا تھاوہ شخصیت آزادی کا مرد مجاھد شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ کی ہے، جن کی اس ملک کے لئے بے پناہ قربانیاں ہیں، جن کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، ہم سب حضرت والا کی سیرت کو پڑھے اور جو قربانیاں انہوں نے اس ملک کے لیے پیش کی ہے اسی طرح خود کو تیار کریں، اور یہ پارک ان شاءاللہ حضرت والا کی روح کو آرام پہنچانے کے لیے بہت بڑا قدم ہے جو مدرسہ ھذا کی انتظامیہ نے اٹھایا اسی طرح دیگر اپنے بزرگوں کے نام پر پارک یا عمارت قائم کیے جائیں تاکہ ان کی خدمات آنے والی نسل کے لیے مشعل راہ بن سکے اور ان سے اثر لے سکے، اس موقع پر حافظ عبد القیوم، رام کمار اور مدرسہ کے طلبہ سمیت گاؤں کے معزز حضرات و مدرسہ ھذا کے مدرسین موجود رہے.

ذاکر نائیک کا بیان تکلیف دہ، ملیشیائی وزیر داخلہ محی الدین

کوالالمپور: متنازع اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ملیشیا میں عوام تقاریر پر پابندی کے بعد ملیشیائی وزیر داخلہ محی الدین نے کہا کہ کوئی بھی شخص ملک کے قانون سے بالا ترنہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کا بیان قابل تکلیف ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں خود کو واپسی کے اعلان کے جواب میں ذاکر نائیک نے بیرساما سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملیشیا کے چینی شہریو ں سے واپس جانے کے لئے کہاگیا تھا۔ وہ تو سب سے قدیم مہمان ہیں۔
ملیشیا میں ہندؤوں کا موازانہ ہندوستانی مسلمانو ں سے کرنے کی کئی لوگو ں نے مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہاں کے ہندووں کو ہندوستان کے مسلمانوں کے مقابلہ میں سو فیصد سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ واضح رہے کہ ذاکر نائیک کو ملیشیا میں شہریت دی گئی ہے۔ وہ گذشتہ تین سال سے ملیشیا میں ہی مقیم ہیں۔ وہ ہندوستان میں انتہائی مطلو ب شخص ہیں۔ ان پر ہندوستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو بگاڑنے اور غیر قانونی سرگرمیاں چلانے کا الزام عائد ہے۔

بابری مسجد معاملہ، ہندو فریق ہی آمنے سامنے

بابری مسجد معاملہ : ہندو فریق ہی آمنے سامنے ،نرموہی اکھاڑا نے رام للا کی دعویداری خارج کیا
واضح ہوکہ بابری مسجد رام جنم بھومی معاملے میں چل رہی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ زمین کےمالکانہ حق کولےکرہندو فریق نرموہی اکھاڑہ، اوررام للا وراجمان کی عرضی کی غیرضروری طورپرمخالفت کررہا ہے ، چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے قیادت والی پانچ رکنی آئینی بینچ نے نرموہی اکھاڑہ کے ذریعہ یہ کہےجانے کی مذمت کی کہ 'شبیت' (عبادت گزار) ہونےکےناطے صرف اس کی عرضی ہی غورکرنےکی اہل ہے اورانوچردیوکی نندن اگروال کےذریعہ دیوتا 'رام للا وراجمان' کی طرف سے دائرعرضی پرغورنہیں کیا جانا چاہۓ

ہجومی دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے والے اسلم خان کی کیس کی اپڈیٹ

ہجومی دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہونچانے والے اسلم خان کیس کی اپڈیٹ

16 اگست کی شام مدھیہ پردیش کے اشوک نگر ضلع کے اسلم خان نے اس کی لنچنگ کی کوشش کرنے والی بھیڑ میں سے دو کو موت کے گھاٹ اتار دیا ایک کو شدید طور پر زخمی کردیا.
اسلم رتلام میں کام کرتا ہے چھٹیوں میں اپنے پھوپھی کے گھر گیا تھا وہاں سے بقرعید کے بعد اپنے گھر چندیری ضلع اشوک نگر واپس آرہا تھا راستہ میں یہ واقعہ ہوا ہے.
اسلم کے والد کے بقول چند لڑکوں نے گھیر کر اسلم کو زد و کوب کیا اور اس کے والد کے بقول زبردستی جے شری رام کہنے پر مجبور کیا تب اسلم نے  جوابی وار کردیا. اور دو کی موت ہوگئی.
اسلم کے خلاف چندیری تھانہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے. لیکن کئی روز تک نا تو اس کے اہل خانہ کو اس سے ملنے دیا گیا ہے اور نا ہی ایف آئی آر کی کاپی اس کے والد کو دی گئی.لیکن مقامی ایم. ایل.اے اور بجرنگ دل نے اخبارات کے ذریعہ اس واقعہ کا رخ بدل کر اسے پرانی رنجش اور چھیڑخانی کا نتیجہ قرار دینے کی کوشش کی ہے.

17 اگست کو جیسے ہی اس واقعہ کی اطلاع ہمیں ملی.
ہم نے اپنے اندور و گونہ کے دوستوں کو معاملہ کی تحقیق کے لئے لگایا.گونہ ضلع کے ہمارے چند دوست اسلم کے گاؤں پہونچے اور اس کے اہل خانہ سے ملنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے.البتہ علاقہ کے لوگوں سے مل کر اسلم کے والد اسلام صاحب کا نمبر لے آئے.کچھ لوگوں نے چھیڑخانی کے اس واقعہ کی تصدیق بھی کی.

الغرض 17 اگست کو ہم نے جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنی صاحب,مولانا فضل الرحمان سکریٹری جمعیت علماء  (الف),سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی,مشہور لاء فرم اے. پی. سی. آر کے کنوینر ابوبکر سباق ایڈووکیٹ اور پاپولرفرنٹ آف انڈیا کے ذمہ داروں کو اس واقعہ کی مکمل اطلاع دی.اور قانونی امداد کی درخواست کی, مولانا محمود مدنی صاحب نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی اور معاملہ کی تحقیق کے لئے ناچیز کو کہا.
18 اگست کو میں نے دوبارہ اسلم کے والد سے تفصیلات جانی,اور اشوک نگر کے ایس پی و چندیری کے ایس.ایچ.او سے بات کی اور کیس کی تفصیلات جانی اور ایف آئی آر کی کاپی حاصل کی.
اسلم کے خلاف "302 قتل,307 اقدام قتل,323.34خطرناک طریقہ سے جان سے مارنے کی کوشش" جیسی سنگین دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے.
ان تمام تفصیلات سے ہم نے مولانا محمود مدنی سمیت سبھی کو مطلع کردیا ہے.اور انہوں نے اپنی سطح پر کام بھی شروع کردیا ہے.مولانا فضل الرحمان صاحب نے بھی اعلی قیادت کو ممکل تفصیلات سے آگاہ کیا.
نتیجتاً جمعیت علماء مدھیہ پردیش یونٹ نے اسلم کا کیس لڑنے کا اعلان کردیا ہے.
اور اسلم کے والد کی دس ہزار روپے کی مدد بھی کی ہے.
سردست اسلم کے ماموں جو خود بھی وکیل ہیں وہ اس کیس کو دیکھ رہے ہیں.
ادھر 20  اگست کو APCR کی ٹیم انور صفی صاحب کی قیادت میں اسلم کے والد سے ملنے پہونچی ہے.
نیز تنظیم ابنائے مدارس نے بھی ایک مقامی وکیل متعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو سول کورٹ میں کیس کی دیکھ ریکھ کرے گا تاکہ پولیس کیس کو الجھا نا سکے جس کی ذمہ داری اندور کے سماجی کارکنوں کو دی گئی ہے.
ادھر مدھیہ پردیش کی کئی ملی تنظیموں اور شخصیات نے بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے.
اہل خانہ اور عینی شاھدین کے مطابق اسلم نے سیلف ڈیفینس میں ایسا کیا ہے اس لئے اس کو انصاف دلانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے.
تاکہ ہجومی دہشت گردوں کے حوصلے پست ہوں.
ان شاءاللہ آگے کی کارروائی سے بھی آپ حضرات کو مطلع کیا جائے گا.
مہدی حسن عینی و جملہ کارکنان تنظیم ابنائے مدارس 

Monday, 26 August 2019

ہاں میں پی چدمبرم ہوں---

ہاں میں پی چدمبرم ہوں۔۔۔!
نازش ہما قاسمی
جی سینئر کانگریسی لیڈر،سفید پوش، لنگی اور شرٹ میں پوری زندگی گزاردینے والا، قد آور سیاست داں، بہترین بزنس مین ، اربوں کی پراپرٹی کا مالک، اعلیٰ تعلیم یافتہ، سابق وزیر داخلہ و وزیر مالیات، راجیہ سبھا کا موجودہ ممبر، بٹلہ ہائوس انکائونٹر کو درست قرار دینے والا، دس سال پہلے موجودہ وزیر داخلہ کوسہراب الدین شیخ فرضی انکائونٹر معاملے میں گجرات بدر کرنے والا، انا ہزارے کو گرفتار کرکے تہاڑ بھیجنے والا، رام لیلا میدان میں رام دیو پر لاٹھی چارج کرانے والا، پلانی اپن چدمبرم ہوں۔ میری پیدائش آزادی ہند سے دو سال قبل ریاست تملناڈو کے شیو گنگا ضلع کے کناڈوکتھن گائوں میں ہوئی۔ میرے والد کا نام پلانی اپن اور والدہ کا نام لکشمی اچھی ہے۔ میری شادی ۱۱؍دسمبر ۱۹۶۸ کو نیلنی چدمبرم سے ہوئی جس سے میرا ایک بیٹا کارتی چدمبرم ہے جو فی الحال لوک سبھا کا ممبر ہے۔ میری ابتدائی تعلیم ایس ٹی تھامس کانوینٹ چنئی، مدراس کانوینٹ ہائر سکینڈری اسکول چنئی سے ہوئی ۔ پریسینڈنسی کالج سے اسٹیٹس ٹکس میں بیچلر آف سائنس (بی ایس سی) کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد مدراس لاء کالج سے بیچلر آف لاء(ایل ایل بی) کیا پھر بین الاقوامی طور پر مشہور ہارورڈ بزنس اسکول یو ایس اے سے بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) کی تعلیم حاصل کی ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد بطور وکیل چنئی ہائی کورٹ سے منسلک ہواپھر سپریم کورٹ اور ملک کی دیگر ہائی کورٹوں میں بھی پریکٹس کیا۔ ۱۹۷۲ میں سیاست میں قدم رکھا اور انڈین نیشنل کانگریس کا دامن تھاما۔ ۱۹۷۳ سے ۱۹۷۶ تک تمل ناڈو یوتھ کانگریس کا صدر رہا۔ ۱۹۷۶ سے ۱۹۷۷ تک ریاستی جنرل سکریٹری کے طور پر کام کیا۔ ۱۹۸۴ میں لوک سبھا کےلیے شیوگنگا حلقہ انتخاب سے ممبر آف لوک سبھا منتخب ہوا۔ پھر ۱۹۹۱، ۱۹۹۸، ۲۰۰۴ اور ۲۰۰۹ تک اسی حلقہ سے جیت درج کراتا رہا۔ سال ۱۹۹۱ میں مجھے وزیر مملکت برائے تجارت بنایاگیا، لیکن ایک سال بعد ہنگاموں کی وجہ سے مجھے استعفیٰ دینا پڑا ۔ ۱۹۹۵ میں پھر میں اسی عہدے کےلیے چنا گیا ۔ ۱۹۹۶ میں میں کانگریس پارٹی سے استعفیٰ دے دیا، پھر جی کے موپنار کے ہمراہ تمل منیلا کانگریس (ٹی ایم سی) کی بنیاد ڈالی ۔ اس پارٹی کا انضمام ۲۰۰۲ میں کانگریس میں ہوگیا تھا۔ ۱۹۹۶ کے عام انتخابات میں ترنمول کانگریس پارٹی نے قومی و علاقائی پارٹیوں کے ساتھ گٹھ بندھن کرکے حکومت سازی کی اور میں اس حکومت میں وزیر مالیات کا حلف لیا۔ ۱۹۹۸ میں حکومت گرنے کے بعد بھی اس عہدے پر متمکن رہا۔ ۲۰۰۱ میں ترنمول پارٹی سے الگ ہوکر اپنی ’کانگریس جنا نایک پیروائی پارٹی ‘کی بنیاد ڈالی پھر اسے ۲۰۰۴ میں کانگریس پارٹی میں ضم کردیا۔ سال ۲۰۰۴ میں منموہن سنگھ کے دور اقتدار میں وزیر مالیات منتخب ہوا، سال ۲۰۰۸ تک اسی عہدے پر برقرار رہا پھر شیوراج پاٹل کے استعفیٰ کے بعد وزیر داخلہ بنا اور ۲۰۱۲تک وزیر داخلہ کے طو رپر کام کیا اس دوران ملک کے مسلم نوجوانوں کا وہ حال کیا کہ اب تک سینکڑوں جیلوں کی سلاخوں میں بند ہیں۔ دہشت گردی کے مختلف نام ایجاد کیے، اس وقت ایجنسیاں میرے ہاتھوں میں تھیں ، سی بی آئی، این آئی اے کا سرکاری استعمال مسلمانوں کے خلاف کیا۔ مسلم نوجوان جو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے انہیں انکائونٹر میں مار گروایا، جیلوں میں ٹھونس دیا، انڈین مجاہدین کے ناموں پر ان کی گرفتاریاں کروائیں،اعظم گڑھ کے سنجر پور سے لے کر کرناٹک کے بھٹکل تک مسلمانوں کو پریشان کیا ۔ ۲۰۱۲ میں جب پرنب مکھرجی صدرجمہوریہ منتخب ہوئے تو میں نے پھر وزیر مالیات کا عہدہ سنبھالا، وزیر مالیات رہتے ہوئے میں نے ملک کی معیشت کو سدھارنے کے لیے بہت کام کیے، کسانوں کے قرض معاف کرنے کی پہل کی۔ ہاں میں وہی پی چدمبرم ہوں جس نے بٹلہ ہائوس فرضی انکائونٹر کو درست قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حادثہ ۲۰۰۸ میں میرے وزارت داخلہ کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہوا تھا؛ لیکن جب میرے معاون میں سے ایک نے مشورہ دیا کہ یہ مڈبھیڑ فرضی ہوسکتا ہے تو میں نے اس معاملے کو نجی طورپر دیکھا اور ایجنسیوں سے بات چیت کی جس میں مجھے کافی وقت لگا اور اخیر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ انکائونٹر درست تھا مجھے اس انکائونٹر میں مارے گئے پولس افسر پر بہت افسوس بھی ہوا ۔ مجھے خوشی ہوئی تھی کہ پولس اس معاملے کو حقیقت ثابت کرنے میں کامیاب ہوئی ۔ ہاں میں وہی پی چدمبرم ہوں جس نے ۲۰۱۰ سہراب الدین فرضی انکائونٹر معاملے میں موجودہ وزیر داخلہ امیت شاہ کو گرفتار کیا تھا انہیں گجرات سے دربدر کیا تھا۔ لیکن اب حالات نے کروٹ لی۔ میں ایک مجرم کی طرح سی بی آئی کے شکنجے میں آیا اور امیت شاہ وزیر داخلہ ہیں۔ راحت اندوری کا شعر سچ ثابت ہوا کہ
جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے
میں اس وقت کرایے دار تھا لیکن ذاتی مکان سمجھ بیٹھا تھا کہ یہ کرسی ہمیشہ میرے ہاتھوں میں رہے گی، ہمیشہ میں ہی اقتدار پر قابض رہو نگا؛ لیکن نہیں ایسا نہیں ہوتا حالات پلٹتے رہتے ہیں کبھی میں تو کبھی وہ تو کبھی کوئی اور اس کرسی پر بیٹھتا ہے۔ میری سوچ غلط تھی، میرا تصور وہم تھا۔ اب میرا احتساب شروع ہوچکا ہے ۔ ۲۰ اگست کو دہلی ہائی کورٹ نےمیری پیشگی درخواست ضمانت کو مسترد کردی اور میرے دور اقتدار میں رہتے ہوئے تین ہزار کروڑ روپے کے ایئرسیل میکسس سودے اور آئی این ایکس میڈیا کے 305 کروڑ روپئے والے معاملے میں مجھے ۳۰ گھنٹہ چھپ چھپا کر رہنے کے بعد ۲۱؍اگست کی شب دس بجے سی بی آئی نے میرے گھر کی دیوار پھلانگ کر مجھے اندر سے باہر نکالا اور گرفتار کرلیا۔ میں نے اپنی گرفتاری سے قبل کانگریس آفس میں پریس کانفرنس بھی کی اور اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا میں نے او رمیرے خاندان کے کسی رکن نے کوئی جرم نہیں کیا ہے اور میرے خلاف جو بھی کارروائی ہورہی ہے وہ غلط ذہنیت کے تحت کی جارہی ہے۔ میری پارٹی کے لوگ ا سے بدلے کی کارروائی قرار دے رہے ہیں ، پارٹی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے میری حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’چدمبرم کا گناہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے ملک کی گرتی معیشت پر اپنی آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت سے سب واقف ہیں کہ مودی حکومت کی دوسری پاری میں معیشت کا برا حال ہے، ہرشعبہ کی صنعتوں میں تالا بندی کی تلوار لٹک رہی ہے، روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلہ گر رہی ہے اور ڈالر وزیر اعظم کی عمر کو بھی پار کر گیا ہے، ملک کو درپیش ان سنگین مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ایسے شخص کو گرفتار کیا جو نہ صرف اقتصادیات کی اچھی سمجھ رکھتا ہے بلکہ ملک کے معروف وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے 40 سال عوام کو دیئے ہیں‘‘ انہوں نے تو اسے جمہوریت کا قتل تک قرار دیا ہے۔ کچھ تو میرے کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کیے جانے کے بعد بیان جس میں کہا تھا کہ آرٹیکل ۳۷۰ کو ختم کرنا گناہ عظیم ہے اس کی بنیاد پر مجھے گرفتار کیا گیا ہے لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ جو میں نے اقتدار میں رہتے ہوئے کیا اس کا صلہ مجھے مل رہا ہے اور اب مجھے اس شعر کی صداقت میں کوئی شک وشبہ نہیں رہا کہ
عدل و انصاف فقط حشر پہ موقوف نہیں
 زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے

مرد مجاہد گھبرایا نہیں کرتے جیل کی سلاخوں سے

#مرد #مجاہد گھبرایا نہیں کرتے جیل کی سلاخوں سے۔

جب سے #بھاجپا  سینٹرل اور صوبائی حکومت میں  آئی ہےاس کے ساتھ ساتھ ذیلی #شاخائیں بھی حرکت میں آگئی ہیں ۔ہر کسی کو ڈرانے دھمکانے اس کی پوزیشن خراب کرنے اور بدنام کرنے میں پوری طرح لگی ہوئی ہیں ۔اس بار #علاقے کے #مشہور اور ابھرتے نیتا کئی بار رانی کی سرا ے کے #بلاک #پرمکھ رہے جناب #اسرار  #احمد صاحب بھی اسی کا #شکار ہو گئے ۔جب کہ سارا علاقہ جانتا ہے کہ وہ کافی ایمان دار  سلجھےاور غریبوں کے بہت کام آنے والے شخص ہیں ان کی خیر خواہی کے ہندو مسلم سب  گواہ ہیں  ابھی ایک #آواز پر سارا علاقہ اکٹھا ہو سکتا ہے لیکن خود اسرار  احمد کے منع کرنے پر سب #خاموش ہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ کون صحیح اور کون غلط ہے ۔ انکی تقریبا30 سال کے راجنیتی سفر میں ایک بھی مقدمہ نہیں ہے ۔یہ اُن پر راجنیتک سازش ہو رہی ہے۔
پرمکھ جی ہم سب آپ کے ساتھ ہیں ہندو مسلم ہر ورگ کے غریبوں کی دعائیں  آپ کے ساتھ ہیں ۔ان شاء اللہ خیر ہو گا۔

منموہن سنگھ کی خصوصی سیکورٹی ایس پی جی ختم

نئی دہلی-26 اگست
مرکزی حکومت نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو فراہم کی جانے والی ایس پی جی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔ ایس پی جی کے بجائے ، انہیں وزارت داخلہ نے سی آر پی ایف سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ  انٹیلی جنس کی تجویز کے بعد وزارت داخلہ نے یہ فیصلہ لیا ہے۔  ایس پی جی سیکیورٹی فی الحال چار اعلی سیاسی شخصیات یعنی وزیر اعظم نریندر مودی ، کانگریس کے سربراہ سونیا گاندھی اور ان کے بیٹے راہول گاندھی اور بیٹی پریانکا گاندھی واڈرا تک محدود ہے

پرگیہ ٹھاکر نے دیا مضحکہ خیز بیان، کہا جیٹلی ،سشما اور بابو لال کو جادو ٹونا کے ذریعے مارا گیا

نئی دہلی 
بی جے پی کے سرکردہ لیڈران ارون جیٹلی، سشما سوراج اور بابو لال گور کا گزشتہ کچھ دنوں میں انتقال ہو گیا جس سے بی جے پی میں ایک غم کا ماحول ہے۔ اس درمیان بھوپال سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور شعلہ بیان خاتون لیڈر پرگیہ ٹھاکر نے ایک انتہائی مضحکہ خیز بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہے کہ بی جے پی کے کئی سرکردہ لیڈران کا انتقال بے وقت ہو گیا ہے اور اس کے پیچھے اپوزیشن پارٹیوں کی سازش ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کے اوپر جادو-ٹونا جیسا کچھ کیا جا رہا ہے جس سے ان کی موت ہو رہی ہے۔
دراصل پرگیہ سنگھ ٹھاکر آج بی جے پی کے آنجہانی لیڈروں کو دیئے جارہے خراج عقیدت کے پروگرام میں شریک ہوئیں اور وہیں مذکورہ متنازعہ بیان دیا۔ اس بیان کے بعدایک بار پھر سے پارٹی کےلئے مشکلیں پیدا ہوگئی ہیں۔ سابق مرکزی وزیر ارون جیٹلی اور سابق وزیراعلی بابولال گور کی یاد میں منعقد جلسے میں دونوں لیڈروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’مجھے کچھ دن پہلے کسی نے اپوزیشن کے تئیں آگاہ کیاتھا اور اب پارٹی کے تین سینئر لیڈروں کے بے وقت انتقال سے لگنے لگا ہے کہ انہیں کیوں اپوزیشن کے تئیں آگاہ کیاگیاتھا۔‘‘
پرگیہ ٹھاکر کا ایک ویڈیو بھی خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ نے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کیا ہے۔ اس میں وہ کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ ’’ آپ سادھنا (عبادت) کم مت کرنا۔ اس کا وقت بڑھاتے رہنا۔ سادھنا کم مت کرنا کیونکہ بہت برا وقت ہے۔ اپوزیشن کوئی ایسا کام کر رہا ہے، کوئی ایسی مارک شکتی (جادو-ٹونا) کا استعمال کر رہا ہے جو بی جے پی کو نقصان پہنچانے کے لیے ہے۔‘‘ ویڈیو میں وہ مزید کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ ’’آپ ٹارگیٹ ہیں، اس لیے دھیان رکھیے گا۔ ایک مہاراج جی کی بات کو میں نے بھیڑ میں چلتے چلتے سنا اور بھول گئی۔ لیکن آج جب میں یہ دیکھتی ہوں کہ واقعی میں ہماری اعلیٰ قیادت، کبھی سشما جی، بابو لال جی، پھر جیٹلی جی، اور ایسے کئی لیڈران جو درد سہتے ہیں، من میں سوال اٹھتا ہے کہ کہیں یہ سچ تو نہیں۔ لیکن یہ سچ ہے کہ ہمارے بیچ سے ہماری قیادت، لگاتار جا رہی ہے، وقت سے پہلے ہمارے لیڈران جا رہے ہیں۔‘‘

این آر سی کے لیے مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں نے نقلی دستاویزات جمع کیے

گوہاٹی: آسام میں انتہائی متنازعہ این آر سی نے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں نے شہریوں کے قومی رجسٹر میں داخلے کے لئے دستاویزات جعلی بنائیں ، قریبی ذرائع نے اتوار کے روز اس کی جانکاری دیی
آسام کے بونافیڈ شہریوں کی شناخت کرنے والی آخری این آر سی فہرست 31 اگست کو شائع ہونے والی ہے۔ آسام سے منفرد این آر سی کو اپ ڈیٹ کرنے کی مشق سپریم کورٹ کی نگرانی میں کی جارہی ہے۔ اتوار کے روز اس کی جانکاری دی.
ذرائع نے بتایا ، "دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جعلسازی کا ارتکاب ہندو درخواست دہندگان کی ایک بہت بڑی تعداد کے ذریعہ کیا جا رہا ہے۔ در حقیقت جعلی دستاویزات میں سے 50 فیصد سے زیادہ ان کے پاس ہیں ،”

چار اسمبلی سیٹوں پر 23 ستمبر کو ہونگے ضمنی انتخابات

چار اسمبلی سیٹوں پر 23 ستمبر کو ہونگے ضمنی انتخابا*ت
*کاغذات نامزدگی 7 ستمبر تک واپس لیے جا سکیں گے*
واضح ہوکہ الیکشن کمیشن نے چھتیس گڑھ، کیرالہ، تری پورہ اور اترپردیش کی چار خالی اسمبلی سیٹوں کیلئے ضمنی انتخابات 23 ستمبر کو کرانے کا اعلان کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اتوار کے روز پریس ریلیز میں یہ اعلان کیا۔ ضمنی انتخابات کیلئے نوٹیفکیشن 28 اگست کو جاری کیا جائے گا، پرچہ نامزدگی کی آخری تاریخ 4ستمبر ہے جبکہ 5ستمبر کو اسکی جانچ پڑتال ہوگی اور 7ستمبر تک کاغذات نامزدگی واپس لیے جاسکیں گے۔

Sunday, 25 August 2019

جمعیت علماء شہر کانپور کے زیر اہتمام امن ایکتا سمیلن کا انعقاد ،مختلف دھرم گروؤں کی شرکت

جمعیۃ علماء شہر کانپور کے زیر اہتمام امن و ایکتا سمیلن کا انعقاد، مختلف دھرم گروؤں کی شرکت۔

• جمعیۃ علماء کی مہم ایک دن ضرور رنگ لائے گی اور اس دن ہر طرف امن،سکون اور پیار و محبت کا ماحول ہوگا۔ جمعیۃ علماء اور مولانا اسامہ جیسے لوگوں کی محنت ہم سبھی کیلئے مثال ہے۔ اودھو سروپ برہمچاری، شاگرد خاص سوامی سواروپ آنند سرسوتی

• ملک کی تمام خانقاہوں نے ہمیشہ محبت کا پیغام دیا ہے،سبھی لوگوں کو ایسے پروگراموں میں شرکت کرنا چاہئے۔ سجادہ نشین سید محضر علی، خانقاہ قطب مدار

• غلط فہمی پیدا کرنے والے ہر دور میں رہے ہیں لیکن ہمارے ملک کی زمین کے مزاج میں محبت ہے۔ مولانا متین الحق اسامہ، صدر جمعیۃ علماء یوپی

• نفرت کی سیاست کے سبب ہم لوگ اپنوں سے ہی دور ہو گئے، ہم مل جل کر ہی ملک کے دشمنوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ سردار ہروندر سنگھ لارڈ

• ہمیں حکومتوں سے کوئی مطالبہ نہیں اور کوئی امید بھی نہیں رکھتے،ہم ملک کو پھر سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مفتی عفان منصورپوری

• جمعیۃ علماء نے اس مایوسی اور نا امیدی کے ماحول میں یہ آواز اٹھائی ہے ہم سبھی لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ مفتی حذیفہ قاسمی

کانپور 25 اگست۔
سماج میں امن و اتحاد اور ہم آہنگی بنانے، فرقہ پرستوں کے عزائم ناکام بنانے، مذہب و راشٹرواد کے نام پر تشدد، ماب لنچنگ اور دہشت گردی کو روکنے کیلئے قانون کے دائرے میں رہ کرہر ممکن جد وجہد کرتے ہوئے تخریبی قوتوں کے منصوبے ناکا م کرنے کیلئے شہر ی جمعیۃ علماء کانپور کے زیر اہتمام راگیندر سروپ آڈیٹوریم میں جمعیۃ علماء صوبہ اترپردیش کے صدر حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی قاضی شہر کانپور کی صدارت میں عظیم الشان امن وایکتا سمیلن کا انعقاد کیا گیا جس میں ہندو مسلم، سکھ،عیسائی سمیت تمام مذاہب اور مسالک کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

سمیلن میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے جگد گرو شنکراچاریہ کے خاص شیش عالیجناب اودھو سروپ برہمچاری جی نے کہا کہ کوئی شخص محض اپنے لئے اپنے پیٹ اور پُتر(بیٹے) کیلئے جیا تو کیا جیا، اصل زندگی تو وہ ہے جو دوسروں کی بھلائی کیلئے جی جائے۔ انہوں نے امن و ایکتا کے قیام کیلئے جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم سے مولانا اسامہ قاسمی کے ذریعہ کی جانے والی محنتوں کو دیکھ کر کہا کہ میں یہاں آنے پر فخر محسوس کر رہا ہوں۔ آخر ہم ہندوستان میں ہی جنمے ہیں، یہاں کی مٹی ہمارے خون میں شامل ہے۔ انہوں نے کوے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک کوّے کو کوئی مار دیتا ہے تو تمام کوے مل کر اس مرے ہوئے کوے کو چھونے نہیں دیتے، کیا ہمیں ان کے اتحاد سے سبق نہیں لینا چاہئے، کیا ہم اس سے بھی زیادہ گئے گزرے ہوئے گئے ہیں۔ اگر ہم سب متحدہو گئے تو کون مائی کا لال پیدا نہیں ہوا جو ہمارے ملک کو کمزور کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ بہکانے والے اپنا کام کریں گے لیکن جمعیۃ علماء اور مولانا اسامہ جیسے لوگوں کی محنتوں کو بھی ہمیں دیکھنا چاہئے، یہ سبھی کیلئے مثال ہیں۔ ہم کسی کے بسانے سے یہاں نہیں ہیں، ہمیں خدا نے یہاں پیدا کیا ہے یہ ہماری خوش نصیبی ہے۔ محض اپنے تک محدود نہیں رہ کر اب ہمیں مستقبل میں آنے والی نسلوں کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا، ان کیلئے صاف پینے کا پانی اور صاف ہوا بچا کر رکھنی ہوگی، ورنہ آنے والے حالات مزید خطرناک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء کی مہم ایک دن ضرور رنگ لائے گی اور اس دن ہر طر ف امن،سکون اور پیار و محبت کا ماحول ہوگا۔

خانقاہ قطب المدار ؒ مکن پور شریف کے سجادہ نشین نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا ضرورت اس بات کی ہے ہم سب مل جل کر رہیں۔مکن پور شریف سمیت ملک کی تمام خانقاہوں نے ہمیشہ محبت کا پیغام دیا ہے،سبھی لوگوں کو ایسے پروگراموں میں شرکت کرنا چاہئے۔ مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا، ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستان ہمارا، ہمارا وطن ہندوستان ہے، ہماری روایت رہی ہے کہ ہم نے ہمیشہ امن کوعام کیا ہے، لوگوں کو محبت کا پیغام دیا ہے۔

جمعیۃ علماء اتر پردیش کے صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی قاضی شہر کانپور نے کہا کہ اسلامی نظام میں ہے کہ کوئی بھی کام کرو اللہ کا نا م لے کر شروع کر و، موجودہ وقت کے پروپگنڈے کا توڑ محبت ہے۔ آپ علمی اور عملی اعتبار سے اس کا جواب دیں۔ چھوٹی چھوٹی بات پر بھڑکنے اور مشتعل ہونے کے مزاج نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اس طرح کا مزاج بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ بنایا گیا ہے، ہماری زبان میں محبت والی ہونی چاہئے۔یہ نبی ؐکا فرمان ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے انسان سلامت نہیں وہ مومن نہیں۔ ہم ایمان والے ہیں، نبی کی باتوں کو ماننے والے ہیں ہماری زبان اور ہاتھوں سے انسان سلامت رہنے چاہئے۔ مولانا آزادؒ کا بیان جس میں انہو ں نے کہا تھا آسمان سے کوئی فرشتہ آزادی کیلئے آکر ہندو مسلمانوں کو الگ کرنے کی بات کہے تو میں اس سے انکار کر دوں گا کیونکہ آزاد تو ہم کچھ دنوں بعد بھی ہو جائیں گے لیکن اگر ہمارے آپس میں دل بنٹ گئے تو یہ انسانیت کا بہت بڑانقصان ہے۔ کوئی نہیں کہتا ہے آپ اپنا مذہب بدل دیں، ہر شخص اپنے مذہب پر چلیں لیکن اگرنفرت کی بات کرنے والے اگر مذہب کا لبادہ اوڑھ کر نفرت کی بات کریں تو حکمت سے اس کا جواب دیں۔ ہم اپنے دلوں کو ٹٹولیں کہ ہمارے دل میں سب کیلئے محبت ہے یا نہیں۔ ہم سب ایکتا، ملک کی ترقی اور یہاں امن کا قیام چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک کی زمین کے مزاج میں محبت ہے، غلط فہمی پیدا کرنے والے ہر دور میں رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ نفرت میں پائیداری نہیں ہوتی اورمحبت کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے قائد جمعیۃ علماء ہندکے جنرل سکریٹری مولانا سید محمود اسعدمدنی صاب ملک میں امن کے قیام اور ماحولیات میں بہتری کیلئے اس وقت سوامی چدانند سرسوتی جی کے ساتھ کئی دنوں کی شجرکاری یاترا پر ساتھ ساتھ ہیں۔

مولانا اسامہ قاسمی نے مجمع کے سامنے جمعیۃ علماء کا اعلامیہ بھی پیش کیا جس میں انہوں نے شہر میں ’سدبھاؤنا منچ‘کے قیام،ماب لنچنگ کے خلاف مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے قانون بنانے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی تمام لوگوں سے پانی بچانے، شجرکاری مہم چلانے کی بات بھی کہی۔

مولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری نے کہا کہ جمعیۃ علماء جس کی آواز پر ہم سبھی ایک پیغام لے کر جمع ہیں اس کی پوری تاریخ دیش بھکتی سے بھری پڑی ہے، ملک کی 100سالہ تاریخ اس کی گواہ ہے کہ ہر موقع پر قوم و ملت کیلئے اس جماعت کے افراد نے ہر طرح کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ موجودہ وقت میں کچھ لوگوں کے ذریعہ چرند و پرند کے نام پر خوف کا ماحول پیدا کیاجا رہا ہے، تو جمعیۃ علماء پھر ایسے لوگوں کو آئینہ دکھانے ایک مرتبہ میدان میں آئی ہے۔جو لوگ ملک کی سالمیت سے کھلواڑ کر رہے ہیں ہمیں ان کی سازشوں کو سمجھنا چاہئے۔ ہمیں حکومتوں سے کوئی مطالبہ نہیں اور کوئی امید بھی نہیں رکھتے،ہم ملک کو پھر سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں اسی مقصد کیلئے جمعیۃ علماء نے نفرت پھیلانے والی طاقتوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے کل بھی ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی تھی اور آج بھی مسلمان ملک کی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ لیکن یہاں کے کلچر اور یہاں کی ایکتا کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم باہر سے آنے والے دشمنوں کو بھی روکیں گے اور اندر سے ہمارے ملک کی تہذیب اور کلچر ختم کرنے والوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح اگر جسم کے کسی حصہ میں چوٹ لگتی ہے تو پورے جسم کو پریشانی ہوتی ہے اسی طرح ملک میں اگر ملک میں رہن ولے کسی فرقہ یا طبقہ کو تکلیف ہوتی ہے تو اس سے ملک کو تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ ملک ہمارا ہے ہم نے اس کو انگریزوں سے آزاد کرایا ہے،اس کو کسی طرح سے برباد نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن آج کا ماحول ایسا بنایاجا رہا ہے کہ ایک مسلمان ہندو اکثریتی علاقوں میں اکیلے جانے سے اور ہندو بھائی مسلم اکثریتی علاقوں میں جانے سے ڈرنے لگا ہے، ہمارا ملک کبھی ایسا نہیں تھا۔ہمیں اس ماحول کامقابلہ اپنے مذہب کی تعلیمات کی روشنی میں کرنا ہے۔ ہمیں تشدد کا جواب امن کے ساتھ دینا ہے۔ جو لوگ ملک میں مسلم مکت بھارت کا خواب دیکھنا چاہتے ہیں ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ یہ ملک ہمارا ہے، اگر ہمارے گھروں کو اجاڑا جائیگا تب بھی ہم کہیں نہیں جائیں گے، ہم آخری دم تک اپنے گھر اپنے وطن ہندوستان کی سالمیت کیلئے یکجہتی کوعام کرتے رہیں گے۔ یہی پیغام ہمیں نفرت پھلانے والوں تک پہنچانا ہے۔

مدن گوپال سنگھ لاکڑاجی نے کہا کہ ہم نے جمعیۃ علماء کے ساتھ پرانے وقت سے کام کیا ہے۔ ہم نے قومی ایکتا کمیٹی قائم کی تھی۔سکھ مذہب کی تعلیم ہے کہ کوئی برا نہیں ہے سب اچھے ہیں۔ جو لوگ اسلام کو اُگرواد یعنی دہشت گردی سے جوڑنا چاہتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اُگرواد الگ چیز ہے، اسلام الگ چیز ہے، اگرواد کو سیاست کرنے کیلئے پھیلایا جاتا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم ہندوستانی ہیں۔جس طرح ایک لکڑی توڑی جا سکتی ہے، لیکن چار لکڑیوں کو توڑنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہم سب مل کر اپنے ملک کو وکاس کی طرف لے جانا چاہتے ہیں اور اگر ہم متحد ہو گئے تو ہماراملک مزید مضبوط ہو جائے گا، کوئی ہمارے ملک کو کمزور نہیں کر پائے گا۔

مسیجی سماج کی نمائندگی کرتے ہوئے پاسٹر ڈائمنڈ یوسف نے کہا کہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ آج ہم ایک ایسے سملین میں بیٹھے ہیں جہاں امن اور ایکتا کی بات ہو رہی ہے اس کا سب سے بڑا فائدہ ہمارے ملک کو ہوتا ہے۔ ہم یہاں اسی لئے موجود ہیں تاکہ ہم اپنی سوچ ایک دوسرے کو بتا سکیں۔ ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ ہم لوگوں کوملک کے تئیں ایمانداری کے بارے میں بتائیں۔ یہاں کے سنودھان نے ہمیں آزادی دی ہے کہ ہم کسی بھی مذہب پر عمل کریں۔ لیکن پچھلے دنوں میں لگاتار ہم جس درد کو سہہ رہے ہیں کہ وہ یہ ہے کہ ہم کو ثبوت دینا پڑ رہا ہے کہ ہم اس ملک کے وفادار ہیں، یہ اچھی چیز نہیں ہے۔ لوگوں کو دیکھنا چاہئے کہ کو ن انصاف کے ساتھ کام نہیں کر رہا ہے اور کس پر ظلم ہو رہا ہے۔ امن اورایکتا کے سبب ہی ہم مضبوط ہوئے ہیں۔ آگے بھی ہم اس مضبوط کرنے کیلئے کام کرتے رہیں گے۔ 

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ناظم تنظیم مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی نے کہا کہ سارے انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں، آبادی بڑھتی گئی، ضرورت کے اعتبار سے ہم نے الگ الگ پہچان قائم کر لی لیکن جہاں سے آ ئے ہیں پھر ہمیں وہیں پر جانا ہے، اس چیز کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ مفتی حذیفہ نے کہا کہ مسلم مکت بھارت کا خواب دیکھنے والے سن لیں کہ اس ملک کیلئے ہم نے قربانی دی ہیں۔ اگر 100شریف لوگوں میں 10لوگ بد تمیزی اورماحول کو خراب کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو شریف لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بزدلی چھوڑ کر ظلم یعنی بد تمیزی کو روکیں۔ جمعیۃ علماء نے اس مایوسی اور نا امیدی کے ماحول میں یہ آواز اٹھائی ہے ہم سبھی لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ ہمارے آباء واجداد عرب سے آئے تھے وہ ہتھیار اورطاقت لے کر نہیں آئے تھا وہ اخلاق لے کر آئے تھے، ہم بھی لوگوں کے سامنے اخلاق و کردار کانمونہ پیش کریں۔

سردار ہروندر سنگھ لارڈنے کہا کہ ہر سماج میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے ذاتی مفاد کیلئے نفرت کا ماحول بناتے ہیں۔ نفرت کی سیاست کے سبب ہم لوگ اپنوں سے ہی دور ہو گئے ہیں۔ ہم مل جل کر ہی ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہم مل کر اگر ایک دوسرے کی آواز اٹھائیں گے تو ہم سبھی مضبوط ہوں گے۔ آج قانون کا ہی ناجائز فائدہ اٹھا کر ہمیں بانٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے گرونانک جی کی پیدائش کے 550سال پورا ہونے پر پرکاش اتسو میں مولانا اسامہ قاسمی کو تمام احباب کے ساتھ شرکت کی دعوت بھی دی۔ اگر کہیں سکھوں کوپریشانی ہو تو آپ ہمارے ساتھ آئیں، اگر ہمارے سامنے کسی بھی مذہب پر زیادتی ہو گی تو ہم بھی اس کے ساتھ رہے ہیں اور آگے بھی رہیں گے۔

اس کے علاوہ سندھی سماج کےمہیش میگھانی، جمعیت اہل حدیث کانپور کے امیر محمد اقبال محمدی، مولانا نور الدین احمد قاسمی، مولانا محمد اکرم صاحب، مفتی عبد الرشید قاسمی، مفتی اقبال احمد قاسمی، چودھری ضیاء الاسلام، محمد راشد علیگ کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ حافظ ابودردا معوذ سلمہ نے نعت اور یکجہتی پر مبنی نظم پیش کیا۔ نظامت کے فرائض جمعیۃ علماء یوپی وسطی زون کے جنرل سکریٹری مفتی ظفر احمد قاسمی نے انجام دئے۔ شہری جمعیۃ کے صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں نے آئے ہوئے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع کثیر تعداد میں معززین شہر موجود رہے۔

بی جے پی کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی کی حالت نازک

*بی جے پی کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی کی حالت نازک. دہلی کے ایمس ہسپتال میں کرایا گیا داخل*ڈاکٹروں کی سخت نگرانی میں کی جارہی ہے چیک اپ*
*تازہ ترین اپڈیٹ*