اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 5 January 2020

*جےاین یو میں جَنگلی ظلم کا ننگا ناچ* *سمیع اللّٰہ خان* ۵ جنوری، بروز اتوار

*جےاین یو میں جَنگلی ظلم کا ننگا ناچ*


*سمیع اللّٰہ خان*
۵ جنوری، بروز اتوار


اسوقت دل دہلا دینے والی خبریں آرہی ہیں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سے

راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ۔ آر ایس ایس، کی اسٹوڈنٹ وِنگ،ABVP کے غنڈوں نے یونیورسٹی میں گھس کر حیوانیت کا ننگا ناچ برپا کر رکھاہے

راجدھانی دہلی میں کھلے عام ایک سنٹرل یونیورسٹی کے اندر درندگی مچائی گئی
پولیس فورس نے غنڈوں کا ساتھ دیا ہے، حتیٰ کہ جے این یو میں موجود سَنگھی ذہنیت کے حامل جانوروں نے بھی بچوں اور بچیوں پر ظالمانہ قیامت خیزی کی راہ ہموار کی

 لوہے کے راڈ اور ہتھیاروں سے عمر دراز خواتین کے سر پھاڑ دیے گئے، اسٹوڈنٹس کو وحشیانہ زدوکوب کیاگیا
لیکن دہلی کی وہ پولیس فورس جس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اندر گھس کر طلباء کو پیٹا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کت بچوں پر فائرنگ کی، وہی پولیس کا محکمہ آر ایس ایس کے غنڈوں کو روک نہیں سکا
یہ پولیس فورس نہیں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے دلال اور غلام ہیں

اور ان جانور صفت بے رحم شیطانوں نے یونیورسٹی میں بچوں، بچیوں اور اساتذہ کو بری طرح سے درندگی کا شکار بنا ڈالا
ابھی بھی ظلم و بربریت کا جنگلی طوفان مچا ہوا ہے، جے این یو کیمپس میں خون کے پیاسے زہریلے درندے دندناتے پھر رہےہیں، بچے کمروں میں چھپے ہوئے جان بچا رہےہیں، یہ سب کچھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی ناک کے نیچے ہورہاہے
موجودہ ہندوستانی جمہوریت پر قابض حکمران ٹولہ غنڈے موالیوں کا ہجوم ہے، یہ کھلے ہوئے سانڈ بن چکے ہیں

یہ حیوانیت ہندوستان کی راجدھانی میں ہوئی، یہ سب کچھ پولیس اور فورس کی آنکھوں کے سامنے ہوا
اس درندگی نے ایک بار پھر صدیوں پرانی جنگلی کلچر کی یاد تازہ کردی، آج کے اس واقعے نے اور خواتین کے بہتے خون نے ہندوستان میں انسانیت کے وجود پر یقینی سوالیہ نشان قائم کردیاہے

 ظلم کرنے والے آر ایس ایس کے خبیث درندوں اور حکومت سے شہہ پانے والے غنڈوں ہندوستان کی سالمیت کو خطرناک سمت میں لے جارہےہیں لیکن افسوس کہ اس انارکی سے حفاظت کی کوئي ٹھوس بنیاد نظر نہیں آتی_

یہ سب جو کچھ ہورہاہے وہ ہندوستان کا مستقبل تاریک کررہاہے
یہ جمہوریت اور آئین ہند کی دھجیاں اڑا رہاہے
یہ بالکل برداشت نہیں کیاجائے گا، اس آگ کو بھڑکانے والے خود اپنی قبر کھود رہےہیں

اگر آپ کے دل میں ایک عدد انسانی دل دھڑک رہا ہے اور اس پر زندگی پرستی کا مرض مسلط نہیں ہوا ہے تو اٹھیے اور للکاریے، ہندوستان میں قانون کی بالادستی کو جانوروں سے بچائیے، اپنی نسل کو آگ کے انگاروں میں دہکنے سے بچائیے، جے این یو، جامعہ ملیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بچوں اور بچیوں پر جو ظالمانہ اور وحشیانہ قیامت برپا کی گئی ہے اس کو محسوس کیجیے اگر آپ انسان ہیں؟! ان پر ظلم و ستم اسی لیے برپا ہےکہ انہوں نے آپکے وجود کی لڑائی کو بلند کیا اور ملک میں حیوانیت کو قبول نہیں کرنے کا اعلان کیا_

*سمیع اللّٰہ خان*
۵ جنوری، بروز اتوار

Saturday, 4 January 2020

آئین کی روح سے کھلواڑ کی اجازت کسی کو بھی نہیں :شیخ ابو بکر

کوچین (کیرالہ)،5 جنوری 2020 
قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کی مخالفت کرتے ہوئے کیرالہ مسلم لیگ کے صدر پاناکاڈ سید حیدر علی شہاب تنگل نے کہاکہ ہندوستان کسی ایک کا نہیں بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو یہاں پیدا ہوا ہے اس ملک میں اسکی موت اور زندگی کے لئے بنیادی حقوق ہیں۔یہ بات انہوں نے مسلم آرگنائزیشن کے زیراہتمام ریاست کی مختلف ملی ومذہبی تنظیموں کا متحدہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہاکہ یہ ملک ہر باشندے کا ہے اور غیرآئینی قانون کی آڑ میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستانی سے ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگنا اس کی توہین کرنے کے مترادف ہے اس لئے قانون کو یکسر مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پرلاکھوں کے جم غفیر سے کلیدی خطاب میں گرانڈ مفتی آف انڈیا شیخ ابوبکر احمد نے کہاکہ ہم پُرامن طورپرقانون کے دائرہ میں رہ کر جمہوری طریقے سے اس ایکٹ کے خلاف کھڑے ہیں۔آئین کی بنیادی روح سے کھلواڑ قطعا برداشت نہیں ہے۔شیخ نے کہاکہ آج پورا ملک سڑکوں پر اترا ہے،امن وچین لوگوں کا چھن گیا ہے، مذہب کے نام ہمیں تقسیم کیا جارہا ہے،جو آئین کے خلاف ہے۔شیخ ابوبکر نے کہاکہ کیا سرکار ہمیں بتائے گی کہ پُرامن زندگی گذارنے میں ہمارے بنیادی حقوق کیا ہیں؟ ہندوستانی مسلمان کبھی آئین کے خلاف قدم نہیں اٹھاتا، ہم اس ملک کے باعز ت شہری ہیں، یہ ملک کسی پارٹی،دھرم،ذات یا مذہب کا نہیں ہے۔ بلکہ یہاں کے بسنے والے ہر شہری ہندو،مسلم،سکھ عیسائی ودیگر سارے لوگوں کا ہے۔ہمیں مذہب اور ذات،نسل کے نام پر تقسیم کرنے والے تخریب کار ہیں۔شیخ نے کہاکہ ہم مسلم ہیں اس لئے ہمارے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جاتا ہے، انہوں نے کہاکہ مسلمان اس ملک سے پیار ومحبت کرتا ہے، امن وشانتی کا پیغام عام کرتا ہے۔
مسلم آرگنائزیشن کے زیراہتمام منعقدہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مارچ اور احتجاجی جلسہ میں ریاست کی ملی ومذہبی تنظیموں کے سربراہان، عمائدین، علما، ریاستی اسمبلی کے اراکین،اراکین پارلیمان سمیت لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک رہے۔ پروگررام سے دلت لیڈر جگنیش میوانی، ممبر آف پارلیمنٹ پی کے کنیالی کٹی،بینی بہانن (ایم پی) ٹی جے ونود نے بھی خطاب کیا۔اجلاس پُرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔
شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مسلم آرگنائزیشن کے زیراہتمام ریاست کی مختلف ملی ومذہبی تنظیموں کا متحدہ مارچ شہر کوچین کے جواہر لال نہرو انٹر نیشنل اسٹیڈیم سے بنرجی روڈ ہوتے ہوئے مرین روڈ تک نکالا گیا۔ مظاہرین اپنے ہاتھوں میں قومی پرچم، مولانا ابوالکلام آزاد،ڈاکڑ بھیم راؤ امبیڈکر،مہاتما گاندی کی تصاویر لئے ہوئے تھے۔ این آرسی اور سی اے اے،این پی آر کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی،اور ملک بچاؤ، دستوربچاؤ کا عزم مصمم کیا گیا۔

اُلٹا لٹکا کر داڑھی منڈوائوں گا بی جے پی ایم پی کی اویسی کو دھمکی

اُلٹا لٹکا کر داڑھی منڈوائوں گا
بی جے پی ایم پی کی اویسی کو دھمکی
حیدرآباد۔ 5؍جنوری:تلنگانہ کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ دھرم پوری اروند نے آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سربراہ اسدالدین اویسی سے متعلق ایک انتہائی متنازعہ بیان دیا ہے جو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہا ہے۔ تلنگانہ کے نظام آباد پارلیمانی حلقہ سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ اروند نے دھمکی بھرے انداز میں کہا ہے کہ ’’میں تم کو (اسدالدین اویسی) متنبہ کرتا ہوں کہ میں کرین سے الٹا لٹکا کر تمھاری داڑھی کاٹوں گا۔ اس کے بعد میں تمھاری داڑھی کو تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کو لگا کر اس کو پروموشن دوں گا۔‘‘ بتایا جاتا ہے کہ دھرم پوری نے اویسی کے خلاف یہ بیان 3 دسمبر یعنی جمعہ کے روز دیا تھا۔دراصل دھرم پوری اروند اسدالدین اویسی کے خلاف پہلے بھی بیان دیتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ انھوں نے الٹا لٹکا کر داڑھی منڈوانے کا جو بیان دیا ہے، وہ ان کی تنگ ذہنی اور مذہبی منافرت سے بھری سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے قبل بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے اویسی کے خلاف گزشتہ مہینے اس وقت بیان دیا تھا جب وہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ دھرم پوری نے کہا تھا کہ ’’اسدالدین اویسی شہریت ترمیمی قانون کو غیر آئینی اور فرقہ واریت پر مبنی قرار دے کر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا اویسی پاکستان اور بنگلہ دیش سے انتخاب لڑنا چاہتے ہیں؟‘‘ انھوں نے اویسی پر یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ وہ اپنے بیانات سے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نگر پریشد اسکول سندھ کھیڑ راجہ میں ساوتری بائی پھولے کی جینتی منائی گئی سندھ کھیڑ راجہ ضلع بلڈانہ ذوالقرنین احمد

نگر پریشد اسکول سندھ کھیڑ راجہ میں ساوتری بائی پھولے کی جینتی منائی گئی

سندھ کھیڑ راجہ ضلع بلڈانہ
ذوالقرنین احمد
5/جنوری 2020 آئی این اے نیوز
 نگر پریشد اردو اسکول سندھ کھیڑ راجہ ضلع بلڈانہ میں ساوتری بائی پھولے کی یوم پیدائش کے موقع پر ریلی نکالی گئی۔
ملک بھر میں ساوتری بائی پھولے کی پیدائش پر انھیں یاد کیا جاتا ہے۔ اسکولوں میں تعلیمی نسواں کے تعلق سے بیداری مہم چلائی جاتی ہے۔
ساویتربائی پھول 3 جنوری 1831 کو مہاراشٹر کے ضلع ستارا کے نائگاؤں گاؤں میں پیدا ہوئے جو پونے سے 50 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ساویتربائی پھولے لکشمی اور کھنڈوجی نیویشے پاٹل کی بڑی بیٹی تھیں ، ان دونوں کا تعلق مالی برادری سے تھا۔ 10 سال کی عمر میں ساوتری بائی پھولے کی شادی جیوتی راؤ پہلے سی ہوئی تھی۔ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھی لیکن جیوتی راؤ پھولے نے گھر پر ہی انکو تعلیم دی اسکے بعد ساوتری بائی پھولے نے نچلے طبقے کے لوگوں کو تعلیم دینی شروع کی انہیں ہندوستان کی پہلی خاتون ٹیچر کا اعزاز حاصل ہے۔ انھوں نے لڑکیوں کو تعلیم دلانے پر زور دیا تھا۔ ہر سال انکی انکی پیدائش کے دن انہیں یاد کیا جاتا ہے اسکولوں میں پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ اسی ضمن میں 3 جنوری کو نگر پریشد اردو اسکول سندھ کھیڑ راجہ ضلع بلڈانہ میں ریلی نکالی گئی اور اسکے بعد اسکول میں پروگرام رکھا گیا جس میں سندھ کھیڑ راجہ کے صدر بلدیہ نے لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جناب فیصل سر نے ساوتری بائی پھولے کی زندگی کےبارے میں طلباء کو معلومات فراہم کی۔ اس موقع پر نگر سیوک عظیم تنبولی، سمینہ باجی، زرینہ باجی، اسلم سر و کثیر تعداد میں طلباءموجود تھے۔

گاؤں آج بھی بے خبر ہے ۔۔ از قلم :عزیز اعظمی اصلاحی

گاؤں آج بھی بے خبر ہے ۔۔

از قلم :عزیز اعظمی اصلاحی

بیس کروڑ مسلمانوں سے نفرت اور انھیں برباد کرنے کے چکر میں سو کروڑ ہندو بھائیوں کی زندگی اور انکے مستقبل کو برباد کیا جا رہا ہے ۔۔ جہاں نفرت ہوگی وہاں امن نہیں ہوسکتا ۔۔۔ اور جہاں امن نہیں ہوگا وہاں خوشحالی نہیں آسکتی یہ بات ہمیں گاؤں ، دیہات کے ہر طبقے کے پاس جاکر سمجھانے کی ضرورت ہے ۔۔

این پی آر ، این آر سی اور کیب کیا  کیا ہے اس کے نقصانات کیا ہیں اور یہ کس طرح ہر ہندوستانی چاہے وہ ہندو ہو یا مسلم ہو اس پر اثر انداز ہوگا ، اس قانون کے عمل میں کاغذات کو لیکر ہماری زندگی میں کیسی کیسی مشکلات آئیں گیں یہ بات عام عوام کو سمجھانے کی ضرورت ہے ۔۔

پچھلے 22 دنوں سے ملک گیر پیمانے پر احتجاج ہو رہا ہے جامعہ ملیہ ، علی گڑھ یونیورسٹی اور اتر پردیش میں حکومت کی طرف سے کس قدر بربریت کی گئی جو آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے درجنوں بے گناہ نوجوانوں کو گولی مار دی گئی ،  کئی طلباء کو شہید کیا گیا ، درجنوں طلباء کے ہاتھ پیر لاٹھیوں سے توڑ دیئے گئے اور اس بے رحمی سے پیٹا گیا کہ وہ ہاتھ پیر سے معذور ہوگئے ، اپنی آنکھیں کھو دیں ۔۔۔

 زرا سوچیئے اس ماں پر کیا گزری ہوگی جب اس کا بچہ یونیورسٹی سے ڈگری لیکر گھر پہونچنے کے بجائے اپنی پھوٹی ہوئی آنکھ لے کر پہونچا ہوگا  ۔۔

اس بوڑھے باپ پر کیا گزری ہوگی جب بیٹا سہارا بننے کے بجائے ٹانگوں سے معذور گھر پہونچا ہوگا  ۔۔

ذرا سوچئے اس گھر پر کیا گزری ہوگی جب خوشحال مستقبل کی آرزو لئے بیٹھے والدین بیٹے کی نوکری کی خبر سننے کے بجائے بیٹے کی موت کی خبر سنی ہوگی ۔۔

اگر ہم نے کچھ نہیں کیا ، کوئی مظاہرہ نہیں کیا ،کوئی احتجاج نہیں کیا تو کم از کم ہمیں ان شہیدوں کی قربانیوں کا احساس تو ہونا چاہئے جنھوں نے اس ملک کے آئین کو بچانے کے لئے ہمارے بچوں کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لئے اپنی زندگی قربان کر دی ۔ انھوں  نے اپنا حق ادا کر دیا،  ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم بھی اپنا حق ادا کریں انکی قربانی کو رائیگاں نہ جانے دیں ظلم و جبر کے خلاف ہورہے اس احتجاج کو انجام تک  لے جائیں ۔۔

 خطہ اعظم گڑھ کو احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی جب کہ پورا ملک 22 دنوں سے سراپا احتجاج ہے ۔۔ اس امتیازی قانون کے خلاف خطہ اعظم گڑھ کو دفعہ 144 کی ہتکڑی پہنا دی گئی ۔۔ علاقے کی مذہبی ، سیاسی و سماجی شخصیات خاموش ہوگئیں اس خاموشی کی ایک وجہ کہیں نہ کہیں گستاخ رسول کے موقع پر ہونے والا احتجاج بھی ہے ۔۔ اگر انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہیں ملی تو احتجاج کے دوسرے متبادل طریقے بھی ہیں جس کا ایک منظم لائحہ عمل سرکردہ شخصیات کی زیر نگرانی ترتیب دیا جانا چاہئے ۔۔ جس سے لوگوں میں شعور و آگاہی پیدا ہو   جلسے ، جلوس ، کانفرنس ، مشاعرہ ، ٹورنامنٹ ، پروگرام کو ملتوی کرکے بھی اپنا احتجاج درج کرایا جا سکتا ہے ۔۔ اگر ہم اتنا بھی نہ کرکے لہو و لعب میں مست رہے تو یہ بے حسی دیار شبلی کے شایان شان نہیں ۔۔

 اس امتیازی غیر منصفانہ قانون کے بارے خطے کی ایک بڑی آبادی جانتی بھی نہیں کی یہ ہے کیا ؟  اس کے نقصانات کیا ہیں ؟ عام زندگی اس سے قدر متاثر ہوگی انھیں اس کا کوئی علم نہیں بس وہ اتنا جانتے ہیں کہ لوگ اس قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اگر ہمیں موقع ملا تو ہم بھی اس میں شامل ہونگے لیکن اس قانون کی خطر ناکی اور اسکی حقیقت سے ناواقف ہیں انھیں اس قانون سے واقف کرانا بھی ایک اہم کام ہے جو اہل علاقہ کے باشعور لوگوں کو کرنا چاہئے تاکہ حکومت کی کارستانیوں کا صحیح علم لوگوں کو ہوسکے کہ وہ ملک کی عوام کو نظر انداز کرکے  اپنی انا و تکبر میں اس ملک کو بربادی کے کس دلدل میں دھکیل رہے  ہیں ۔ 

اگر ہمیں احتجاج کی اجازت نہیں ملی تو ہم اتنا ضرور کرسکتے ہیں کہ دیہی علاقوں کے چھوٹے بڑے گاؤں کے پڑھے لکھے لوگوں کو جس میں ہندو مسلم سب شامل ہوں انھیں حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا جائے کیونکہ اب یہ موضوع صرف شہروں کا موضوع نہیں ، یونیورسٹی اور کالج کا موضوع نہیں بلکہ گلی ، محلوں کا موضوع بن چکا ہے ۔۔ اس لئے اس کی حقیقت کو جاننا ضروری ہے ، شہروں میں رہنے والے اسکے مضر اثرات کو سمجھتے ہیں اس قانون کی حقیقت اور اسکے پیچھے کے منصوبے کو جانتے ہیں اس لئے وہ سڑکوں پر ہیں لیکن دیہات و قصبات میں رہنے والوں لوگوں کو اس کی حقیقت کا علم نہیں اس لئے انھیں سمجھانا ضروری ہے ۔۔

حکومت اپنے پیمانے پر یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس قانون سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں  داروغہ جی اور  کانسٹیبل آئے اور دس بیس لوگوں کو اکٹھا کیا سمجھایا کہ اس قانون سے گھبرانے کی ضرورت نہیں کسی کی شہریت نہیں چھینی جائے گی اور لوگ مطمئن ہوگئے ۔۔ لیکن ہم نے ان سے سوال نہیں کیا کہ کیا ہمیں اسکے لئے لائن میں کھڑے نہیں ہونا ہوگا ؟  کیا کاغذات سہی کرانے کے لئے ہمیں دفتروں کے چکر نہیں کاٹنے ہونگے ؟ کون کون سے کاغذات شہریت ثابت کرنے کے کے لئے درکار ہونگے ؟  اس طرح کے بہت سارے سوالات ہیں جس کا جواب داروغہ جی دئیے بغیر اس قانون کو صحیح ثابت کرکے چلے جاتے ہیں اور ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اگر ملک کی اکثریت ، بڑے بڑے جج اور وکلاء ، بڑے بڑے دانشور مصنف و مؤرخ اس قانون کے خلاف سراپا احتجاج ہیں تو یہ بات قابل اطمینان نہیں ہمیں اسے سمجھنا اور سمجھانا ہوگا ۔۔۔  اس لئے علاقے کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ دیہاتوں میں جائیں اور اس قانون کی اصلیت و حقیقت لوگوں کو سمجھائیں یہ ملک و آئین کے تحفظ میں ایک نہایت ہی مثبت اور مؤثر قدم ہوگا ۔۔

عزیز اعظمی

پنجاب میں مرکز اور یوپی سرکار کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا جگہ جگہ زبردست احتجاجی مظاہرے ، خون کے آخری قطرے تک بھارت کے دستور کی حفاظت کرینگے ۔شاہی امام مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کا اعلان

پنجاب میں مرکز اور یوپی سرکار کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا
جگہ جگہ زبردست احتجاجی مظاہرے ، خون کے آخری قطرے تک بھارت کے دستور کی حفاظت کرینگے ۔شاہی امام مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کا اعلان
لدھیانہ :4جنوری ( مستقیم ) گزشتہ دنوں لدھیانہ جامع مسجد میں پنجاب بھر کے مسلمانوں کے ہوئے اجلاس میں کئے گئے اعلان کے مطابق آج پنجا ب بھر میں درجنوں مقامات پر یوم سیاہ منایا گیا اور مرکز و یوپی سرکار کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے نائب شاہی امام مولانا محمد عثمان لدھیانوی نے بتایا کہ امرتسر ، جالندھر ، پھگواڑہ ، کورتھلہ ، موگا ، فیروزپور ، بٹھدنڈہ ، سمرالہ کھمانون،ہوشیار ہور ، نواں شہر ، گڑھ شنکر ، مال پور اچھروال ، جیجوں ، املوہ ، گوبند گڑھ ، منڈی احمد گڑھ جگرائوں ، ملاں پور ، روپڑ ، گرداسپور ، کلانور ، ترنتارن ، پائل ، سنگرور ، برنالہ ، پٹیالہ ، لہرا گاگا ، کھنوری ، دینا نگر ، پٹھانکوٹ ، منوال ، لبڑا ، کھنہ ، مکیریاں ، کوٹ کپورہ ، کرتارپور ، مانسہ ، مکتسر صاحب ، جنڈیالہ ، نکودر ، سمیت متعدد شہروں میں سی اے اے اور مرکز کی حکومت کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ، لدھیانہ جامع مسجد کے باہر یوم سیاہ مناتے ہوئے ہزاروں مسلمانوں نے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کی قیادت میں زبردست احتجاج کیا اور سٹی مجسٹریٹ امرجیت سنگھ بینس کو مجلس احرار اسلام ہند کی جانب سے بھارت کے راشٹر پتی شری رام ناتھ کوند جی کے نام میمورنڈم دیا گیا ، اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے شیر اسلام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے کہا کہ آج پنجاب بھر میں مسلمانوں لے ساتھ پند سکھ بھائیوں کا یوم دسیاہ کے پروگرام میں شامل ہونا مرکز کی حکومت کو یہ پیغام دیتا ہے بھارت کے سبھی لوگ اس کالے قانون کے خلاف ہیں ، انہوں نے کہا کہ شرم کی بات ہے مرکز کی بھاجپا سرکار اپنی ہی عوام سے بات کرنے کی بجائے طاقت کے بل پر آواز کو دبانا چاہتی ہے ،شاہی امام پنجاب نے کہا کہ احتجاج کرنا عوام کا حق ہے انگریز کے دور میں احتجاج ہوتے تھے اور جنرل ڈائر جیسے لوگ اس آواز کو گولیوں سے دبانا چاہتے تھے ، شاہی امام مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے کہا کہ سی اے اے ایسا کالا قانون ہے جو کہ عوام کو مذہب کے نام پر باٹنا چاہتا ہے ،جبکہ ملک کا دستو ر اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ یہ ملک سب کا برابر ہے کسی بھی مذہب کے نام پر قانون نہیں بنایا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور ہمارے پردھان منتری جی اس مہان لوک تنتر کو روٹی کپڑا اور مکان کی بجائے دھرموں میں پھنسا کر اصل مدعوں سے بھٹکا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ یہ جو احتجاج ہو رہے ہیں انکو صرف مسلمانوں کا احتجاج کہنے والوں کی زبان ہندو سکھ اور دلت بھائیوں نے شامل ہو کربند کر دی ہے ،شاہی امام نے کہا کہ ہم آج یوپی پولیس کی غنڈہ گردی کی مزمت کرتے ہوئے راشٹرپتی جی سے مانگ کرتے ہیں کہ جن پولیس والوں نے قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی ہتیا کی ان کے خلاف فوری طور پر قتک کا مقدمہ درج کیا جائے،انہوں نے کہا کہ اگر رکشک ہء بھشک بن جائیں گے تو پھر لوک تنتر کی حفاظت کو کریگا ، ایک سوال کے جواب میں شاہی امام نے کہا کہ یہ تحریک جاری رہیگی اور پنجاب کی عوام کی جانب سے آنیوالے ایک دو دن میں آگے کا پروگرام جاری کر دیا جائیگا ، قابل ذکر ہیکہ لدھیانہ کی مسجد ابوبکر ایل بلاک ، سنی مسجد رندھیر سنگھ نگر ، مسجد صوفیاں باغ ، مسجد چنگی والی روہو ں روڑ ، مسجد تقویٰ رام نگر منڈیاں ،مسجد بلال ، نوری مسجد کندپوری، نوری سنی جامع مسجد شوپوری ، سنی نوری مسجد ، مسجد عمر فاروق دانہ مڈی ، مسجد عثمان غنی ، مسجد ایم مینارہ ، مسجد شکتی نگر ، مسجد مدرسہ مایاپوری ، مسجد پنجابی باغ ، مدینہ مسجد تاج پور روڑ م مسجد بھامیہ کلاں ، مسجد مصلیٰ پریت پیلس ، مسجد گل چونک ، مسجد لوہارہ ، مدینہ مسجد شیرپور، مسجد ٹنڈاری ، مسجد مدرسہ باڈیوال ، مسجد جسیان روڑ ، مسجد پی اے یو ، مسجد آزاد نگر ،مسجد ماڈل کالونی ، مصلی ٰ قداوئی نگر ، مسجد ٹرانسپورٹ نگر ، مسجد احرار برائون روڈ ، مسجد کوٹ منگل سنگھ ، مسجد بھٹیاں جالندھر بائی پاس ، مسجد کیلاش نگر ،سمیت متعدد مقامات پر شہر میں پانچ لاکھ سے زائد مسلمانوں نے یوم سیاہ مناتے ہوئے زبردست احتجاج کیا اور ضلع حکام کو میمورنڈ م دیا ۔

Friday, 3 January 2020

یہ تحریک مولانا کی قیادت میں نہیں بلکہ طلبہ کی قیادت میں چل رہی ہے سال نو پر حکومت اور عوام کے مابین ٹی ۲۰میچ چل رہا ہے جس میں جیت عوام کی ہی ہوگی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں احتجاج کے ۲۲؍ویں دن سابق راجیہ سبھا رکن محمد ادیب، ڈاکٹر شکیل احمد، سوامی اگنی ویش، پروفیسر اے آر اگوان اور سکھ گرو سمیت دیگر سرکردہ رہنمائوں کا خطاب، طلبۂ جامعہ کا مظاہرہ کررہی باہمت خواتین کی حمایت میں ’چلو شاہین باغ‘ کے نام سے کینڈل مارچ کا انعقاد

یہ تحریک مولانا کی قیادت میں نہیں بلکہ طلبہ کی قیادت میں چل رہی ہے
سال نو پر حکومت اور عوام کے مابین ٹی ۲۰میچ چل رہا ہے جس میں جیت عوام کی ہی ہوگی 
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں احتجاج کے ۲۲؍ویں دن سابق راجیہ سبھا رکن محمد ادیب، ڈاکٹر شکیل احمد، سوامی اگنی ویش، پروفیسر اے آر اگوان اور سکھ گرو سمیت دیگر سرکردہ رہنمائوں کا خطاب، طلبۂ جامعہ کا مظاہرہ کررہی باہمت خواتین کی حمایت میں ’چلو شاہین باغ‘ کے نام سے کینڈل مارچ کا انعقاد
نئی دہلی۔ ۳؍جنوری:(جامعہ کیمپس سے محمد علم اللہ کی رپورٹ) جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہورہے احتجاج کا آج ۲۲ واں دن تھا، اس تحریک میں اب تک خواتین کا کردار مرکزی رہاہے، وہیں دوسری طرف شاہین باغ بس اسٹینڈ پر بھی خواتین آئینی حقوق کی خلاف ورزی پر سخت سردی میں ڈٹی ہوئی ہیں۔ اسی کڑی میں آج جامعہ کے طلبہ کی جانب سے شاہین باغ کی باہمت خواتین کو حمایت دینے کےلیے جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کی جانب سے ایک کینڈل مارچ نکالا گیا۔ ’چلو شاہین باغ ‘ کے نام سے منعقدہ یہ کینڈل مارچ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیٹ نمبر ۷ سے شاہین باغ بس اسٹینڈ تک نکالاگیا۔ ادھر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ سے آج پروفیسر اے آر اگوان نے خطاب کیا ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ نئے سال میں حکومت اور عوام کے درمیان ٹوئنٹی ۲۰ میچ شروع ہوگیا ہے جس میں عوام کی جیت ہوگی۔ انہوں نے یوگوسلوایا کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ وہاں کے سیاست دانوں نے شہریت قانون کو کئی بار پاس کروایا وہ خالص قوم پرستی کا تصور چاہتے تھے، لیکن اس کا نتیجہ دیکھئے، آج دنیا میں یوگوسلوایا کا کوئی نام ونشان نہیں ہے، ہندوستانی حکومت بھی وہی کام کررہی ہے۔ انہوں نے سی اے اے کو فرقہ ورانہ قانون بتاتے ہوئے کہاکہ یہ بابا صاحب امیڈکر کے آئین کی روح کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ سابق راجیہ سبھا رکن محمد ادیب جامعہ کے طلبہ وطالبات کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جے پی تحریک کے وقت ہم نے دیکھا تھا کہ حکومت کس طرح بدلتی ہے، جب جب آئین پر حملہ ہوتا ہے تب تب ملک کی سرزمین سے تحریک کی ہوائیں چلتی ہیں، انہو ںنے اس تحریک میں مسلمانوں کے کردار پر کہاکہ یہ سب ہرے جھنڈے کے نیچے نہیں ترنگے کے نیچے جمع ہوئے ہیں، یہ تحریک مولانا کی قیادت میں نہیں بلکہ طلبہ کی قیادت میں چل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ گاندھی جی کی طرف ہونا ہمارا گناہ ہے ، کیا ہم نے جناح کی طرف نہ جاکر گاندھی جی کی طرف جاکر گناہ کیا ہے؟ ہم ایک ایسے ملک پر کیسے فخر کرسکتے ہیں جہاں لوگوں کو سسٹم پر اعتماد نہ ہو، جہاں قاتلوں کے حق میں فیصلے دئیے جاتے ہوں، جہاں گاندھی جی کے قاتل ملک چلا رہے ہوں، انہوں نے ہندو تو پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہاکہ ہم نہیں یہ طالبانی ہندو ملک کا وناش کررہے ہیں، انہوں نے مظاہرین کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہاکہ آپ سب گاندھی جی اور نہرو کا خواب پورا کررہے ہیں، کبھی کمزور مت پڑنا۔ سکھ کمیونٹی کے کارکن گور فتح سے آئے جگموہن جی نے اپنے خطاب میں کہاکہ وہ طلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر چاہے وہ طلبہ جس نے جامعہ کیمپس میں ہوئے تشدد کے بعد اپنی آنکھ کھودی، پھر وہ لڑکی جو پولس کی بربریت کے خلاف سر اُٹھا کر کھڑی تھی، انہو ںنے کہا کہ یہ حکومت اقلیتوں کو اپنا نشانہ بنارہی ہے، خواہ مسلم ہو یا سکھ۔ انہوں نے تمل پناہ گزیں کا مسئلہ اُٹھاتے ہوئے کہاکہ سی اے اے سے انہیں باہر رکھ دیاگیا ہے، انہوں نے کہاکہ وہ یہاں اس لیے آئے ہیں کیو ںکہ بھگت کبیر سنگھ نے ہمیں سکھایا تھا کہ جو پڑوسی کا ہوا وہ ا پنی بھی جان۔ انہوں نے جامعہ کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ جامعہ ۲۰۲۴ کا انتظار نہیں کرے گا، اس کا صاف اشارہ اس نے دے دیا ہے۔ ۲۰۲۴ کے الیکشن میں امیت شاہ، نریندر مودی کی مخالف ایک ایسا لیڈر چاہئے جو تعلیم اور ملک کا نظام چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ سابق مرکزی وزیر شکیل احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعہ ملک کی ایکتا کی حفاظت کا اپنا مشن مکمل کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ پانچ برسوں میں 560 پاکستانیوں کو ہندوستانی شہریت دی گئی ہے، جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں، اس میں ایک نام عدنان سمیع کا بھی ہے، انہوں نے آگے کہاکہ سنت وویکانند نے شکاگو میں کہا تھا کہ ہندوستان ہر مظلوم کو پناہ دیتا ہے، این آر سی صرف مسلمانوں کے  خلاف نہیں ہے  یہ غریبوں کے خلاف بھی ہے جس کا نمونہ آسام میں دیکھا گیا تھا۔ روما ملک نے اپنے خطاب میںکہاکہ میں نے جنگلوں کے درمیان آدی واسیوں کے ساتھ کام کیا ہے، جو تعداد میں مسلمانوں کے ہی برابر ہیں، وہ بھی آپ سبھی کی طرح جل جنگل زمین کی لڑائی لڑرہے ہیں، وہ بھی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم ۷۰ سال پرانے کاغذات کہاں سے لائیں گے۔ لیکن ان آدیواسیوں کا حوصلہ دیکھئے کہ انہوں نے کہاکہ ہم جیل نہیں جائیں گے بالکہ اپنے آئینی حقوق کےلیے لڑائی لڑیں گے۔ روما نے مشہور سماجی کارکن ساوتری بائی پھلے کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ آج ان کا یوم پیدائش ہے، وہ ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی تھیں جب خاتون کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں تھا، ایسے برہمن واد سماج میں ایک آدیواسی خاتون اور ایک مسلم خاتون فاطمہ شیخ نے اپنی آواز خواتین کےلیے بلند کی، جنہیں ہندوستان کی پہلی ماہر تعلیم کہاگیا۔ روما نے خاتون کی طاقت پر بات کرتے ہوئے کہاکہ جب خاتون مخالفت کرتی ہیں تو ہر کسی کو جھکنا پڑتا ہے۔ روما نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ وہ لوگ مظاہرین کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کررہے ہیں لیکن پھر بھی ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے۔ اس سے قبل  شاہین باغ میں سی اے اے ، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کررہی خواتین سے خطاب کرتے ہوئے مشہور روحانی گرو سوامی اگنی ویش نے انسانیت کو سب سے بڑا مذہب قرار ددیا اور کہاکہ آج ساری انسانی برادری کا متحد ہوکر ظلم کرنے والوں کے خلاف لڑنااور مظلوموں کا ساتھ دینا ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔ انہوں نے کہاکہ انسانیت ہمارا سب سے بڑا مذہب ہے اور اسی کو لیکر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے تناظر میں کہا کہ کچھ لوگ ہمیں باٹنے کی کوشش کریں گے لیکن ہمیں متحد رہنا ہے، کچھ لوگ کہیں کہ میں مسلمان کے درمیان کیوں ہوں، تو بتادوں کہ میرے بڑے بڑے اور زیادہ دوست مسلمان ہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ انسانیت کے پیغام کو عام کرنے کے لئے ہم افغانستان بھی جائیں گے، ایران بھی جائیں گے اور ساری دنیا جائیں گے اورآج سب سے زیادہ امن کی ضرورت ہے۔ انسانیت کے نام پر سب کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف خواتین کے احتجاج دیکھ کر اور خود کو آپ لوگوں کے درمیان پاکر قابل فخر محسوس کر رہا ہوں اور یہاں 20دن کی بچی سے لیکر 80سال کی خاتون تک ہیں۔ وہاں کا نظام دیکھنے والی صائمہ خاں نے بتایا کہ اس مظاہرے میں سوامی اگنی ویش کے علاوہ متعدد سماجی، تعلیمی،دیگر شعبہ ہائے حیات سے وابستہ افراد نے شرکت کی اور سبھوں نے اس کالے قانون کے خلاف متحد ہوکر لڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اس لڑائی کو متحد ہوکر لڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ تمام مذاہب سے وابستہ لوگوں سے منسلک ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی،دہلی یونورسٹی کے علاوہ دہلی کے سماجی کارکنان، سکھ، عیسائی اور سماج کے دیگر طبقے کے لوگوں نے اس مظاہرہ میں شرکت کی۔انہوں نے بتایا کہ اس مظاہرہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ باضابطہ منظم نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی کو اس مظاہرے میں شرکت کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ تمام لوگ خود اپنے آپ یہاں آرہے ہیں اور مظاہرے میں شامل ہورہے ہیں۔ یہاں کھانے پینے کا نظام بھی کوئی مستقل نہیں ہے لوگ خود بنواکر پہنچادیتے ہیں۔ چائے بنتی رہتی ہے، لوگ چائے کا سامان دے جاتے ہیں اور اس مظاہرہ منظم کرنے کے لئے کوئی باضابطہ چندہ نہیں لیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ دن رات کے مظاہرے میں حال ہی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آئی جی کے عہدے سے استعفی دینے والے عبد الرحمان،فلمی ہستی ذیشان ایوب، مشہور سماجی کارکن،مصنف اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، فلمی اداکارہ سورا بھاسکر، کانگریس لیڈر سندیپ دکشت،بارکونسل کے ارکان،  وکلاء،جے این یو کے پروفیسر،سیاست داں سریشٹھا سنگھ، الکالامبا،ایم ایل اے امانت اللہ خاں، سابق ایم ایل اے آصف محمد خاں، بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد، سماجی کارکن شبنم ہاشمی، پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمید، وغیرہ نے اب تک شرکت کرکے ہمارے کاز کی حمایت کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آگے بھی ملک کی اہم شخصیت کی شرکت کی توقع ہے۔ واضح رہے کہ 15دسمبر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری اور لڑکیوں کے ہاسٹل وغیرہ میں پولیس کی بربریت، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولیس کی وحشیانہ کاررائی اور قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف جامعہ نگر،شاہین باغ اور پوری دہلی کی خواتین 16دسمبر سے کالندی کنج سریتا وہار روڈ پر رات و دن کا دھرنا دے رہی ہیں۔اسی دن سے وہاں ایک شخص بھوک ہڑتال پر بھی ہے لیکن انتظامیہ نے اب تک اس کی کوئی خبر نہیں لی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کی قومی مجلس عاملہ کا اجلاس اختتام پذیر شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف سبھی مذاہب کے ذمہ دار افراد پر مشتمل ایک نمایندہ اجتماع بلانے کا اعلان، ہم خیال سیاسی پارٹیوں سے ملاقات۔ راجدھانی دہلی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں عوامی احتجاجی پروگرام کا فیصلہ۔ احتجاج میں شہید ہونے والے اہل خانہ کو ایک لاکھ کی مالی امداد اور متاثرین کو قانون مدد دینے کا اعلان۔ سی اے اے کے خلاف تجویز منظور۔ یوگی سرکار کے رویہ کی سخت مذمت


جمعیۃ علماء ہند کی قومی مجلس عاملہ کا اجلاس اختتام پذیر
شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف سبھی مذاہب کے ذمہ دار افراد پر مشتمل ایک نمایندہ اجتماع بلانے کا اعلان، ہم خیال سیاسی پارٹیوں سے ملاقات۔ راجدھانی دہلی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں عوامی احتجاجی پروگرام کا فیصلہ۔ احتجاج میں شہید ہونے والے اہل خانہ کو ایک لاکھ کی مالی امداد اور متاثرین کو قانون مدد دینے کا اعلان۔ سی اے اے کے خلاف تجویز منظور۔ یوگی سرکار کے رویہ کی سخت مذمت

نئی دہلی۔۳/جنوری۰۲۰۲
شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی وغیرہ کے پس منظر میں جمعیۃ علماء ہند کی قومی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کے زیر صدارت مدنی ہال، صدر دفتر ۱۔ بہادر شاہ ظفر مارگ نئی دہلی میں منعقدا ہو۔
اجلاس میں ملک کے موجودہ حالات بالخصو ص سی اے اے، مجوزہ این آرسی،ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں اور پولس کارروائیوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال ہو ا۔مجلس عاملہ میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے ا ن قوانین کے عواقب و مضمرات اور موجودہ سرکار کے ارادوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، سپریم کورٹ کے وکیل اور رکن مجلس عاملہ شکیل احمد سید نے شہریت ترمیمی ایکٹ،اس سے پیدا شدہ خدشات اور اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کے ذریعہ سپریم کورٹ میں دائر عرضی پر رپورٹ پیش کی۔جس کے بعد مجلس عاملہ نے مذکورہ ایکٹ کے خلاف اہم تجویز منظور کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جمعیۃ علماء ہند اس امتیازی قانون کے خاتمے تک آئینی و جمہوری طریقہ پر ہر ممکن جد وجہد جاری رکھے گی۔
مجلس عاملہ نے یہ طے کیا کہ جلد ازجلد مسلم اور غیر مسلم ذمہ دار افراد پر مشتمل ایک نمایندہ اجتماع بلایا جائے اور شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف موثر اور طویل جد وجہد کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ اس’نمایندہ اجتماع‘ کے علاوہ دہلی اور مختلف صوبوں کے مرکزی شہروں میں بڑے عوامی احتجاجی پروگرام منعقد کیے جائیں۔یہ بھی طے پایا کہ جمعیۃ علماء ہند کا وفد مختلف ہم خیال سیاسی پارٹیوں کے ذمہ داران سے ملاقات کرے گا اور ان کو اس بات پر آمادہ کرے گا کہ وہ اس سیاہ قانون کے خلاف اپنے ورکرز کو ملک گیر سطح پر زمینی جد وجہد کے لیے میدان میں اتاریں۔مجلس عاملہ نے سی اے اے کے خلاف احتجاجات میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کو مبلغ ایک لاکھ مالی مدد دینے کا فیصلہ کیا ہے نیز یہ بھی طے کیا متاثرین کو ہر طرح کی قانونی امداد فراہم کی جائے گی۔
مجلس عاملہ نے سی اے اے ایکٹ کے خلاف اپنی منظور کردہ تجویز میں کہا ہے کہ”مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند کا یہ اجلاس حال میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ شہریت ترمیمی ایکٹ کو ملک کے دستور و آ ئین کے خلاف تصور کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کرتا ہے، کیوں کہ ظاہر نظر میں یہ ایکٹ دستور کی دفعہ (14اور 21)کے معارض ہے، اس میں ’غیر قانونی مہاجر‘کی تعریف کرتے ہوئے مذہبی بنیاد پر تفریق کی گئی ہے اور اس کا اطلاق صر ف مسلمانوں پر کرکے غیروں کو اس سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ واضح ہو کہ اصولی طور پر جمعیۃ علماء ہند کسی غیر مسلم کو شہریت دینے کے خلاف نہیں ہے، لیکن جس طرح ایک خاص تناظر میں مذہب کو بنیاد بنا کر تفریق کی گئی ہے،اسے دستور میں دی گئی آزادی کے خلاف سمجھتی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اس ایکٹ کی وجہ سے ملک کے سیکولر ڈھانچہ پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور اس کا واضح اثر صوبہ آسام میں این آرسی سے باہر رہ جانے وا لوں پر پڑے گا کہ غیر مسلموں کو تواس ایک ایکٹ کی وجہ سے راحت مل جائے گی لیکن مسلمان غیر قانونی مہاجر قرار پائیں گے۔اس صورت حال کی وجہ سے پورے ملک کے مسلمان اپنے مستقبل کو لے کر شدید تشویش میں مبتلا ہیں کہ اگر ملکی سطح پراین آرسی کا نفاذ ہو ا تو جو مسلمان کسی وجہ سے مکمل دستاویز نہ دکھا پائے گا اس کی شہریت مشکوک سمجھی جائے گی۔ بلاشبہ موجودہ شہریت ترمیمی ایکٹ اور اس کے این آرسی پر پڑنے والے اثرات سے تشویش پیدا ہو نا فطری ہے جس کا دور ہو نا ضروری ہے۔
اس لیے جمعیۃعلماء ہند تفریق پر مبنی اس قانون کو جلد ازجلد واپس لیے جانے کا مطالبہ کرتی ہے اور اس بات پر پرعزم ہے کہ وہ اس امتیازی قانون کے خاتمے تک آئینی و جمہوری طریقہ پر ہر ممکن جد وجہد جاری رکھے گی  (ان شاء اللہ تعالی)“
احتجاج میں تشدد اور پولس کے رویے کی مذمت:
”مجلس عاملہ جمعیۃ علما ء ہند شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کی قدر کرتے ہوئے اس میں ہر قسم کی تشدد کی مذمت کرتی ہے خواہ مظاہرین کی طرف سے ہو یاپولس کی طرف سے۔جمہوری حکومت میں احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، اس لیے جمعیۃ علماء ہند کا مطالبہ ہے کہ حکومت کسی بھی پر امن احتجاج کو روکنے کی ہرگز کوشش نہ کرے۔اس سے اشتعال پیدا ہوتا ہے جس سے بہرحال بچنے کی ضرورت ہے۔حالیہ دنوں میں بالخصوص یوپی حکومت کی طرف سے احتجاجیوں کے ساتھ منفی رویہ کی جمعیۃعلماء ہند پرزور مذمت کرتی ہے، اس بارے میں اترپردیش کے وزیر اعلی نے جس طرح کے سخت بیانات دے کر اپنی ظالم و جابر پولس کا حوصلہ بڑھانے کی بات کی ہے، اس نے انگریزوں کے زمانے کی یاد تازہ کردی ہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند بھی احتجاج کرنے والے افراد اور اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ پر امن طور پر اپنا مشن جاری رکھیں، منظم انداز میں احتجاج کریں اور شر پسند عناصر سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی حال میں مشتعل نہ ہوں بلکہ صبر وتحمل سے کام لیں اور قا نون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں ورنہ اس تحریک کو نقصان ہو گا۔“
ان تجاویز کے علاوہ مجلس عاملہ نے جمعیۃ علماء ہند کی جاری ممبر سازی کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے اعلان کیا کہ31/مارچ 2020ء تک ممبرسازی جاری رہے گی۔ اس کے بعد یکم اپریل تا25/اپریل مقامی یونٹوں کا انتخاب ہو گا اور 25/مئی تا 10/جون ضلعی انتخاب، 11/جون تا 30جون صوبائی جمعیتوں کا انتخاب ہو گا۔
مجلس عاملہ نے برطانیہ کے ممتاز عالم دین اور مفسرقرآن مولانا اظہار احمد صاحب والد محترم امام قاسم صاحب کی وفات حسر آیات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیااور اہل خانہ سے تعزیت مسنونہ کا اظہار کیا ہے۔مرحوم ایک عرصہ داز سے کرائیڈن جامع مسجد میں امام تھے۔
شرکائے اجلاس
 اجلاس میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری اور ناظم عمومی مولانا محمود مدنی کے علاوہ مولانا امان اللہ قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء ہند، مولانا رحمت ا للہ میر کشمیری، مفتی محمد سلمان منصورپوری استاذ حدیث جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد، حافظ ندیم صدیقی صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹرا، حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش، مفتی افتخار احمد قاسمی صدر جمعیۃ علماء کرناٹک، ایڈوکیٹ شکیل احمد سید، مولانا معزالدین احمد ناظم امارت شرعیہ ہند، مفتی محمد راشد اعظمی ا ستاذ دارالعلوم دیوبند، مولانا محمد سلمان بجنوری استاذ دارالعلوم دیوبند، مفتی شمس الدین بجلی بنگلور، مفتی محمد روشن مہاراشٹرا، مولانا رفیق احمد مظاہری صدر جمعیۃ علماء گجرات، مفتی احمد دیولہ گجرات،مولانا عبدالقادر آسام سکریٹری جمعیۃ علماء آسام، حاجی محمد ہارون بھوپال، مفتی حبیب الرحمن الہ آباد، مفتی محمد عفان منصورپوری جامع مسجد امروہہ، مولانا محمد عاقل گڑھی دولت صدر جمعیۃعلماء مغربی یوپی زون، مولانا محمد الیاس پپلی مزرعہ ہریانہ، حافظ سید محمد عاصم بنگلوراور مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند شریک ہوئے۔
۔۔۔۔
مدیر محتر م ا س پر یس ریلیز کو شائع فرما کر شکر گزار کریں۔
جاری کردہ
نیاز احمد فاروقی
سکریٹری جمعیۃ علماء ہند
9312228470

الفلاح فرنٹ کی جانب سے ضرورت مندوں میں کمبل تقسیم بلاتفریق ہم سب ایک دوسرے کی مدد کریں:ذاکر حسین

الفلاح فرنٹ کی جانب سے ضرورت مندوں میں کمبل تقسیم

بلاتفریق ہم سب ایک دوسرے کی مدد کریں:ذاکر حسین

اعظم گڑھ,3 جنوری 2020 آئی این اے نیوز
الفلاح فرنٹ کی کمبل تقسیم مہم کے تحت آج اعظم گڑھ کے موضع کجیاری اور گزشتہ روز اعظم گڑھ کے امباری میں ضرورت مندوں کے درمیان کمبل تقسیم کئے گئے۔اس موقع پر الفلاح فرنٹ صدر ذاکر حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ امسال سردی کے موسم ہمارا کمبل تقسیم مہم شروع کرنے کا مقصد ہم ان ضرورتمندوں تک جو اپنی پریشانی کسی سے بیان نہیں کر سکتے ان کے دروازے تک کمبل پہنچا دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اس نفرت کے ماحول میں مذہب اور ذات سے اوپر اٹھ کر بلا تفریق ایک دوسرے کی مدد کی جائے,یہ بھی ہمارا مقصد ہے۔ الفلاح فرنٹ کی جانب سے ضرورت مندوں میں کمبل ہمارا مقصد ہے۔غورطلب ہوکہ پوروانچل بالخصوص اعظم گڑھ کا معروف یوٹیوب چینل میک انفارمڈ
Youtube.com/MAKinformed (Youtube Channel Name: Makinformed)
الفلاح فرنٹ کی مذکورہ مہم کو اپنے چینل پر کل یعنی 4 جنوری کوصبح دس بجے دکھائے گا۔واضح رہے کہ سردی میں ضرورت مندوں تک کمبل پہنچانے کی غرض سے الفلاح فرنٹ کی جانب سے کمبل تقسیم مہم کا آغاذ کیا گیا

این آر سی تاریخ کی بدترین نسل کشی کا مقدمہ ہے یاسر ندیم الواجدی

این آر سی تاریخ کی بدترین نسل کشی کا مقدمہ ہے

یاسر ندیم الواجدی

وزیر اعظم مودی اگرچہ رام لیلا میدان سے یہ اعلان کرچکے ہیں کہ ان کی حکومت این آر سی پر غور نہیں کر رہی ہے، لیکن ان کے وزیر داخلہ امت شاہ اپنے پارلیمانی وغیرپارلیمانی بیانات کے ذریعے این آر سی کے نفاذ پر اصرار کرتے آئے ہیں۔ حکومت این آر سی کے پہلے قدم  این پی آر کے نفاذ کا اعلان کرچکی ہے۔ ملک بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور فاشسٹ تنظیمیں اپنے تمام تر وسائل اس پورے قضیے کو مسلمان بنام حکومت بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ 9 اگست 2019 کو ہم نے این آر سی کے تعلق سے ایک تفصیلی تحریر لکھی تھی، جس کو کچھ لوگوں نے افواہ اور ڈر پھیلانے کا الزام لگاکر مسترد کردیا تھا۔ ہم نے اپنی اُس تحریر کا آغاز اس دعا سے کیا تھا کہ خدا کرے جو کچھ ہم لکھ رہے ہیں وہ کبھی سچ ثابت نہ ہو۔ اِس تحریر کا آغاز بھی میں اسی دعا کے ساتھ کرنا چاہوں گا کہ اللہ تعالی مسلمانان ہند کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور کبھی ان کو مصیبتوں میں گرفتار نہ کرے۔

کچھ باتیں ناگوار ہونے کے باوجود ایسی ہوتی ہیں کہ اگر ان کا تحلیل وتجزیہ نہ کیا جائے، تو حقیقی صورتحال کا ادراک نہیں ہوپاتا۔ ایک بڑی تعداد اب اس بات کو تسلیم کرنے لگی ہے کہ اگر این آر سی ملک میں نافذ ہوتا ہے، تو لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ حق شہریت سے محروم ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کو جائیدادوں سے بے دخل کیا جا سکتا ہے، ملازمتوں سے برطرف کیا جاسکتا ہے اور ڈٹینشن کیمپس میں بھی ڈالا جاسکتا ہے۔ جو لوگ ان خدشات کو آج بھی افواہ تسلیم کرتے ہیں، انہیں بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس پورے قصے میں جس لفظ کا ذکر نہیں ہے وہ ہے نسل کشی۔ این آر سی نافذ ہونے کی صورت میں نسل کشی فوری شروع نہیں ہوگی، بلکہ گزشتہ سو سال میں ہونے والی مختلف نسل کشیوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں، تو ظالم معاشرہ مظلوموں پر ظلم کی بنیاد پڑنے کے تیس سال کے آس پاس حملہ آور ہوتا ہے اور کمزوروں کی نسل کشی کر دیتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ظلم وستم کا سلسلہ مختلف شکلوں میں جاری رہتا ہے۔  گزشتہ سو سال میں ہونے والی تین بڑی نسل کشیوں کو ہم بطور مثال پیش کر سکتے ہیں:

1- زار روس کی موت کے بعد ولادیمیرلینن نے سوویت یونین کی بنیاد رکھی۔ زار کی موت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یوکرین نے روس سے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا تھا۔ لینن نے 917 میں یوکرین پر دوبارہ قبضہ کی مہم کا آغاز کیا اور تین چار سال کی جدوجہد کے بعد قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ 1924 میں لینن کے مرنے کے بعد اسٹالن اس کا جانشین بنا۔ اس ظالم حکمران کو یہ برداشت نہیں تھا کہ اس کے ماتحت علاقوں میں کسی بھی طرح کی آواز اس کے خلاف اٹھے۔ چنانچہ 1929 میں اس نے پانچ ہزار سے زائد یوکرینی پروفیسرز، سائنس داں، ماہرین تعلیم اور مذہبی قائدین کو گرفتار کرلیا اور ان کی بڑی تعداد کو بغیر کسی مقدمے کے قتل کر دیا گیا یا باقی بچ جانے والوں کو ڈیٹینشن کیمپس میں بھیج دیا گیا۔ یوکرین کی 80 فیصد آبادی زراعت پیشہ تھی۔ ان کسانوں میں کچھ ایسے بھی تھے جن کی ملکیت میں 24 ایکڑ سے زائد زمینیں تھیں اور یہ لوگ نسبتا امیر تھے۔ یوکرین میں ان لوگوں کو "کُلاک" کہا جاتا تھا۔ اسٹالن  کو یہ خدشہ تھا کہ زمین داروں کے اسی طبقے کے ذریعے دوبارہ بغاوت ہو سکتی ہے، لہذا اس نے اس طبقہ کے افراد کو تمام انسانی اور شہری حقوق سے محروم کردیا۔ ان کو سرکاری طور پر "عوام دشمن" اور "ملک دشمن" قرار دیا گیا، ان کی نسل کشی کی گئی اور بچ جانے والوں کو سائبیریا کے جنگلات میں قائم ڈیٹینشن سینٹرز میں بند کردیا گیا۔ اسٹالن کے ذریعے کی جانے والی اس نسل کشی میں سات لاکھ لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ ظلم کی بنیاد پڑنے کے بارہ سالوں بعد یہ نسل کشی ہوئی۔

2- سنہ 1933 میں، دس سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد ہٹلر نے جرمنی کا اقتدار سنبھالا۔  یہودی اس ملک میں صدیوں سے رہتے چلے آرہے تھے، وہ اپنے آپ کو وطنی اعتبار سے جرمن اور مذہبی اعتبار سے یہودی قرار دیتے تھے۔ انہوں نے اپنے ملک کے لیے دوسرے جرمنوں کے شانہ بشانہ قربانیاں بھی دیں تھی۔ لیکن ہٹلر نے نسل پرستی کا سہارا لیکر اقتدار پر قبضہ کیا اور انیس سو پینتیس میں نوریمبرگ لا ملک میں نافذ کردیا، جس کے نتیجے میں یہودیوں کی جرمن شہریت چھین لی گئی، غیر یہودیوں کے ساتھ ان کے شادی بیاہ کو غیر قانونی قرار دیا گیا، فوج اور پولیس کی ملازمتوں  سے ان کو نکالا گیا، اسکولوں اور کالجوں سے بھی ان کو محروم کر دیا گیا۔ اس عرصے میں یہودیوں کے خلاف ہٹلر کے وزیر جوزف جوبیلس نے جرمنی میں پروپیگنڈا مہم شروع کی، ان کو جرمنوں کا دشمن اور ملک کا غدار قرار دیا گیا۔ اخبارات میں یہود مخالف مضامین شائع ہونے لگے، جگہ جگہ ان کے خلاف پوسٹرز لگنے لگے، جرمن فلم انڈسٹری بھی ان کے خلاف میدان میں آگئی، فلموں میں ان کو ملک دشمن دکھایا جانے لگا اور آخرکار اسکولوں کا نصاب بھی بدل دیا گیا۔ انیس سو انتالیس میں ہٹلر نے اپنے زیر نگیں علاقوں میں کانسنٹریشن کیمپس کی تعمیر کا حکم دیا اور 1942 سے سرکاری فوجیوں نے بڑے پیمانے پر یہودیوں کا قتل عام کرنا شروع کردیا۔ لاکھوں کی تعداد میں ان کو کانسنٹریشن کیمپس میں لایا جاتا اور گیس چیمبرز میں بند کرکے ہلاک کردیا جاتا۔ ان کی ہلاکت پر نفرت کے پروپیکینڈے سے متاثر جرمنوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔ یہودیوں سے جرمنی کی شہریت چھینے جانے کے سات سال کے بعد ان کی نسل کشی کی گئی۔

3- برما نے انیس سو بیاسی میں سٹیزن شپ قانون ملک میں متعارف کرایا اور روہنگیا مسلمانوں کو شہریت سے محروم کردیا۔ اس قانون سے پہلے بھی روہنگیا کوئی اچھی حالت میں نہیں تھے۔ دو سے زائد بچے پیدا کرنا قانونا جرم تھا، ان کی بہت سی زمینیں چھین لی گئیں تھی اور ان کی ایک بڑی تعداد کو صفائی کرمچاری قرار دے دیا گیا تھا۔ لیکن 1982 کے شہریت قانون کے بعد ان پر ظلم میں اضافہ ہوا اور دو ہزار سترہ میں ان کی نسل کشی شروع ہوگئی، خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی گئی، گھروں کو مسمار کردیا گیا اور روہنگیا کی پوری نسل کو ملک دشمن قرار دے دیا گیا۔ اس ظلم میں برمی فوج کے ساتھ مقامی بودھ آبادی نے بھی پورا حصہ لیا۔ مقامی لوگوں کو یہ لالچ تھا کہ روہنگیا کے خاتمہ کے بعد ان کی زمینیں مقامی لوگوں کے ہی قبضے میں آنی ییں۔ روہنگیا کے خلاف نسل کشی ظلم کی بنیاد پڑنے کے 35 سال کے بعد شروع ہوئی۔

ان تین مثالوں سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ نسلی یا مذہبی آبادی کی شہریت ختم کرنے کے فورا بعد اس کی نسل کشی کا آغاز نہیں ہوا، بلکہ چند سالوں تک اکثریتی آبادی میں نفرت کا پروپیگنڈا کرکے پہلے ماحول بنایا گیا اور پھر مقصد کو انجام دیا گیا۔ نسل کشی اچانک نہیں ہوتی ہے، بلکہ فاشسٹ طاقتیں اس کے لیے اسٹیج تیار کرتی ہیں، اس کے پیچھے کئی سالوں کی محنت ہوتی ہے، تب جاکر نسل کشی کا جرم انجام دیا جاتا ہے۔

"جینوسائڈ واچ" نامی ادارے کے صدر ڈاکٹر جارج اسٹانٹن نے نسل کشی  کے دس ادوار لکھے ہیں۔  ذیل میں مختصراً ان ادوار کو بھارت کی موجودہ صورت حال سے موازنہ کرکے ذکر کیا جاتا ہے۔ آپ ان ادوار کو غور سے پڑھیے اور خود فیصلہ کیجیے کہ بھارت اس وقت کہاں کھڑا ہے۔ کیا نسل کشی محض ایک فریب ہے یا واقعی ایک خوفناک امکان ہے۔  یہ ادوار کچھ اس طرح ہیں:

1- کلاسیفیکیشن: ملک کے عوام کو نسلی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا جاتا ہے، "ہم اور وہ" کے درمیان آبادی کو بانٹ دیا جاتا ہے، نسل کشی کی طرف یہ پہلا قدم ہے۔ 

بھارت میں یہ تقسیم یوں تو بہت پرانی ہے، لیکن آزادی کے بعد سے اب تک اس تقسیم میں شدت ہی پیدا ہوئی ہے۔

2- سمبلائزیشن: یہ نسل کشی کی طرف دوسرا قدم ہے، اس درجے میں آکر مختلف نسلی اور مذہبی گروہوں کے مختلف لباس اور رنگ متعین ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ یہ چیز فطری ہیں اور یہ ضروری نہیں ہے کہ الگ رنگ ولباس کا نتیجہ نسل کشی ہی ہو، لیکن جب رنگ ولباس سے اچھے اور برے کی پہچان ہونے لگے تو سمجھ لیجیے کہ نسل کشی کی طرف دوسرا قدم اٹھا لیا گیا ہے۔

کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے، ملک کے وزیراعظم نے حال ہی میں توڑ پھوڑ کرنے والوں کو ان کے لباس سے پہچاننے کی بات کہی ہے۔

3- ڈسکریمنیش: یعنی نسلی امتیاز۔ غالب گروہ اقلیتوں کے معاشرتی اور قانونی حقوق رفتہ رفتہ چھیننا شروع کردیتا ہے۔ حتی کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ مغلوب گروہ کی شہریت بھی سلب کرلی جاتی ہے، جس سے ان پر ظلم وستم کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔ بھارت میں چند ماہ کے اندر، طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون لاکر شریعت میں مداخلت کا راستہ کھول دیا گیا، بابری مسجد کو اکثریتی معاشرے کی تسلی کی خاطر عدالتی نظام کے تحت چھینا گیا، یکساں سول کوڈ کسی بھی وقت لایا جاسکتا ہے، این آر سی اور این پی آر کے ذریعے شہریت چھینے جانے کا آغاز ہوچکا ہے۔ آسام میں بہت سے بھارتیوں کی شہریت پہلے ہی ختم کی جاچکی ہے۔

4- ڈی ہیومنائزیشن: اس درجے پر آکر غالب گروہ مغلوب کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنا شروع کردیتا ہے۔ مغلوب گروہ کو جانور کے برابر سمجھ لیا جاتا ہے اور ان کو معاشرے کا ناسور اور کینسر تصور کیا جاتا ہے۔ اس پروپیگنڈے کو بڑھاوا دینے کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی سرگرم ہوجاتا ہے۔

اس اصول کا بھارت کے موجودہ حالات سے موازنہ کیجیے۔ گائے کے مقابلے ایک مسلمان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اب تک سینکڑوں لوگوں کو ایک جانور کی وجہ سے ہجومی تشدد کے ذریعے ہلاک کردیا گیا۔ میڈیا میں کھلم کھلا یہ کہا جارہا ہے کہ اگر گائے کا احترام نہیں کرسکتے تو جاؤ پاکستان۔ اکثریت کو اقلیت کے خلاف غیر انسانی سلوک پر بھڑکانے کے لیے میڈیا مکمل طور پر سرگرم عمل ہے اور کھلم کھلا مسلمانوں کو ذلیل کیے جانے کا عمل دن رات جاری ہے۔

5- آرگنائزیشن: نسل کشی ہمیشہ منظم ہوتی ہے، اس کے لیے کبھی حکومت کھل کر میدان میں آجاتی ہے اور کبھی ملیٹنٹ گروہوں کا سہارا لیا جاتا ہے اور ان کو تیار کیا جاتا ہے۔ جارج اسٹانٹن کے مطابق دارفور میں سوڈانی فوج کے ذریعے "جنجاویڈ" نامی گروپ کا اسی لیے استعمال کیا گیا۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ بھارت میں آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کو بھی مختلف مواقع پر حکومتی سرپرستی حاصل رہی ہے۔

یہ واضح رہے کہ دو ہزار سترہ میں سی آئی اے نے بجرنگ دل کو ملیٹنٹ گروپ قرار دیا ہے اور حالیہ مظاہروں کے بعد پولیس ایکشن میں بجرنگ دل نیز آر ایس ایس کے کارندوں کی بربریت اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی ہے۔

6- پولرائزیشن: اس اسٹیج پر اکثریت اور اقلیت کے تعلقات کو بری طرح سے مجروح کیا جاتا ہے، بین المذاھب شادیوں پر پابندی عاید کی جاتی ہے، اکثریتی سماج کی معتدل شخصیات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کو گرفتار یا قتل کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اقلیتی سماج کی لیڈر شپ کو ختم کیا جاتا ہے۔

بھارت میں گوری لنکیش اور ان جیسی بہت سی آوازوں کو دبایا جارہا ہے۔ جن کو قتل نہیں کیا جاسکتا، ان پر مقدمات قائم کیے جارہے ہیں۔ مسلم لیڈر شپ اولا تو موجود نہیں ہے اور جو ہے، اس کا نمبر ابھی نہیں آیا ہے، کیوں کہ اکثریتی سماج میں ابھی بہت سی معتدل اور انصاف پسند آوازیں باقی ہیں جو فاشسٹ طاقتوں کے نشانے پر ہیں۔

7- پرپریشن: اس مرحلے میں نسل کشی کی ٹریننگ ہوتی ہے، لوگوں کو ہتھیار چلانے کی مشق کرائی جاتی ہے، ان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ آخری حل یہی ہے۔ جرمنوں میں یہود کے خلاف فائنل سلوشن کی صدا بلند کی گئی تھی۔ لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ اگر ہم نے یہ قدم نہیں اٹھایا تو ہم ختم ہوجائیں گے۔

بھارت میں ہتھیار چلانے کی ٹریننگ کس تنظیم کے افراد منظم طریقے سے حاصل کررہے ہیں، یہ بتانے اور ثابت کرنے کی اب ضرورت نہیں ہے۔ ان فاشسٹ طاقتوں کی طرف سے یہ بتایا جارہا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور دوہزار پچاس تک مسلمان اکثریت میں آجائیں گے۔ سی اے اے نامی قانون کے ذریعے اکثریت کو یہ میسج دیدیا گیا کہ جن ملکوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں انھوں نے اقلیتوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ہیں، پاکستان میں آزادی کے وقت تیئیس فیصد ہندو تھے جو اب صرف تین فیصد رہ گئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مشہور جرنلسٹ پرسوں واچپئ کے مطابق آر ایس ایس حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ ہندو راشٹر کا قیام اگر ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔

8- پرسیکیوشن: یعنی اقلیتی گروہ کو سب سے پہلے اکثریتی سماج سے ممتاز کردیا جاتا ہے، ان کے علاقے الگ کردیے جاتے ہیں، اپنے علاقوں میں ان کو جگہ نہیں دی جاتی ہے، بلکہ اقلیتی برادری کے لوگوں کی زمینیں اور جائدادیں ضبط کرلی جاتی ہیں، ان کو ڈٹینشن یا کانسنٹریشن کیمپس میں ڈال دیا جاتا ہے۔

بھارت میں اقلیتیں اپنے لباس اور بہت سی معاشرتی خصوصیات کی بنا پر پہلے ہی ممتاز ہیں۔ تقریبا ہر شہر میں مسلم آبادی الگ ہے۔ مسلمانوں کو اکثریتی علاقوں میں رہنے کے لیے مکانات مشکل ہی سے ملتے ہیں۔ مختلف صوبوں میں ڈٹینشن کیمپس کی تعمیر جاری ہے۔ آسام میں بہت سے لوگوں کو پہلے ہی ڈٹینشن کیمپ میں ڈالا جاچکا ہے۔

9- ایکسٹرمنیشن: یعنی اس مرحلے پر آکر قتل عام شروع ہوتا ہے، جس کو عالمی قانون کی زبان میں نسل کشی کہا جاتا ہے۔ عورتوں کا ریپ کیا جاتا ہے، لاشوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے، اس مرحلے پر فوج بھی ملیٹنٹ گروپس کے ساتھ مل جاتی ہے اور اقلیتوں کے خلاف غیر انسانی سلوک کرتی ہے اور لاکھوں لوگوں کو قتل کردیتی ہے اور ان کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں ڈال دیا جاتا ہے۔

10- ڈینایل: یعنی انکار۔ عموما مندرجہ بالا تمام مراحل میں اور خصوصا نسل کشی کے بعد حکومت کی طرف سے انکار کیا جاتا ہے کہ کسی بھی قسم کی نسل کشی سر زد ہوئی ہے۔ حکومت آزادانہ انکوائری میں رکاوٹ بنتی ہے اور کبھی اپنا جرم تسلیم نہیں کرتی۔ وہ امتیازی قانون بناتی بھی ہے اور اس کو تسلیم بھی نہیں کرتی ہے۔

آپ سی اے اے کو ہی دیکھ لیجیے کہ یہ واضح طور پر ایک امتیازی قانون ہے، لیکن حکومت اس کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ 

 یہ دس ادوار ہمارے خود ساختہ نہیں ہیں، بلکہ ڈاکٹر جارج اسٹانٹن کی ریسرچ کا حصہ ہیں، البتہ ہم نے بھارت کے حالات سے موازنہ کرکے کچھ اضافات ضرور کیے ہیں۔ آپ خود اندازہ لگائیے کہ ہم ان دس ادوار میں سے کس دور میں چل رہے ہیں۔ جس طرح فاشسٹ طاقتوں کے لیے یہ صورت حال "ابھی نہیں تو کبھی نہیں" کا مصداق ہے، ملک کے انصاف پسند لوگوں اور اقلیتوں کے لیے بھی "کرو یا مرو" جیسی صورت حال ہے۔ اگر کچھ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ سی اے اے کا ملک کے مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے کیوں کہ وزیر اعظم بھی زور دیکر یہ بات کہہ چکے ہیں، تو ایسے لوگ یا تو خواب خرگوش میں گرفتار ہیں، یا اپنے پرانے کرپشن اور دنیوی مفادات کی وجہ سے "مجبور" ہیں۔ آج اگر ملک خاموش بیٹھ گیا اور این پی آر کا عمل شروع ہوگیا تو حالات آئندہ چند سالوں میں کیا ہوں گے، اس کا اندازہ ان سطور کے پڑھنے کے بعد بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن میری دعا یہی ہے کہ خدا کرے کہ میں غلط ہوں، خدا کرے کہ میں غلط ہوں، خدا کرے کہ میں غلط ہوں۔

Thursday, 2 January 2020

جسم و زباں کی موت سے پہلے بول! کہ یہ تھوڑا وقت بہت ہے تحریر : وزیر احمد مصباحی پریہار ،دھوریہ (بانکا)

جسم و زباں کی موت سے پہلے بول! کہ یہ تھوڑا وقت بہت ہے

تحریر : وزیر احمد مصباحی
      پریہار ،دھوریہ (بانکا)
رابطہ نمبر :6394421415
Wazirmisbahi87@gmail.com

      ملک بھر میں این آر سی، سی اے بی، سی اے اے اور این پی آر کی شور سنائی دینے سے قبل تو مسلمانوں کی گروہ بندیاں، فرقہ پرستی، مسلک مسلک کے گھناؤنے کھیل، ایک ہی محلہ میں واقع پارٹی بندی کے نام پر ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مسجدوں کی تعمیر ، الگ تھلگ خانقاہیں، ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا، فتویٰ بازی کرنا، کسی کو دین سے نکال کر گمراہ و بددین قرار دے دینا اور دوسروں کی دھجیاں اڑانے خاطر کتابچے و لٹریچر شائع کروا کر شاہراہ عام پر تقسیم کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب ایسے پرخطر مثال ہیں جنھوں نے اب تک لفظ "اتحاد" کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیا تھا. جب بھی کسی سے اتحاد کی بات سنتا تو بے اختیار ہنسی آنے لگتی کہ دیکھیں تو سہی ! یہ شخص کس طرح اول فول بک رہا ہے اور سامعین کو پہیلیاں سنا سنا کر بہلانے و پھسلانے کا کام کر رہا ہے. مگر ۔۔۔ مگر مودی و شاہ کے ذریعے پاس کیے گیے حالیہ سیاہ قانون نے تو اس دم توڑتے لفظ " اتحاد" کو پھر سے زندہ کر دیا. اس کی رگ جاں میں ایک ایسی نئی روح پھونک دی کہ وہ اب تک اتنی کڑاکے کی ٹھنڈی ہونے کے باوجود برابر اپنی شان و شوکت دکھاتا ہی چلا جا رہا ہے. جی ہاں! آپ بالکل ٹھیک سمجھ رہے ہیں. آج کے کالم میں جس اتحاد و یکجہتی کی میں بات کرنا چاہتا ہوں، وہ وطن عزیز میں ہو رہے وہی احتجاجات و مظاہرے ہیں، جن کی ابتدا ملک کی دو مشہور یونیورسٹی "جامعہ ملیہ اسلامیہ" اور " علی گڑھ مسلم یونیورسٹی" نے کی ہیں. ایک بات ضرور یاد رکھیں کہ یہ وہ اتحاد نہیں ہے کہ دو مسلک والوں نے سارے شکوے گلے بھلا کر مسلک مسلک کھیلنا بند کر دیا ہے اور ایک دوسرے پہ کیچڑ اچھالنا بھی _ نہیں ۔۔۔ ہرگز نہیں ۔۔۔ بلکہ یہ اتحاد اس حکومت کے خلاف وجود میں آیا ہے، جس نے اسے غیر ملکی قرار دینے کی گھٹیا کوشش کی ہے تا کہ اس کے سارے املاک و جائداد ضبط کر لیے جائیں. یقین جانیں! اس اتحاد کو چنگاری سے شعلہ جوالہ بنا دینے میں نوجوان طبقوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے. اب تک آپ یہ بھی سنتے چلے آ رہے تھے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔۔مگر ۔۔۔شاہین باغ کی شاہین صفت ماؤں و بہنوں نے یہ ثابت کر دیا کہ نہیں! ہم جو نصف ماہ یا اس سے زیادہ دنوں سے اس کھلے آسمان تلے ایک تحریک چھیڑے بیٹھے ہیں یہ تاریخ میں ایک منفرد شناخت و چھاپ چھوڑنے والی ہے. جی ہاں! اب قیادت کی ذمہ داری بھی نوجوانوں نے سنبھال لی ہیں. اب وہ قائدین، جن کا نام مبارک آپ بڑی بڑی کانفرنسوں میں سنا کرتے تھے، انھوں نے اب یا تو مورچہ سنبھالنا چھوڑ دیا ہے یا۔۔۔یا وہ تا ہنوز صرف یوں ہی اوٹ پیچھے بناوٹی اصولوں میں بھولے بھالے سادہ دل عوام کے دلوں پر اپنی بے بنیاد قائدانہ صلاحیتوں کا دھونس جما رہے تھے.... مگر کیا کیجیے گا! اب تو یہ ساری حقیقتیں اور بناوٹیں واشگاف ہو چکی ہیں۔
       کیا آپ کو نہیں لگتا ہے کہ اس اتحاد کی چنگاری کو بہت پہلے ہی روشن ہو جانی چاہیے تھی؟ جی اگر ہم نے اس اتحاد کی دیپ کو ہندو، مسلم، سیکھ اور عیسائی کی مشترکہ تیل سے بہت پہلے ہی روشن کر لی ہوتی تو آج ہمیں اور آپ کو ملک بھر میں چل رہے ان مخالف ہواؤں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا. خیر ۔۔۔ دیر آید درست آید ۔۔۔ اب یہ بات بھی دریچہ ذہن میں محفوظ رہنی چاہیے کہ اس وقت یہ پہل ایک تحریک اور Movement کی حیثیت اختیار کر چکی ہے. اس میں کئی ایک ہمارے افراد اپنی جان تک بھی گنوا چکے ہیں. کبھی ہمارے بھائیوں کے لہو سے یوپی کی سرزمین سرخ ہوئی ہے تو کبھی راجدھانی دہلی کی، اور زخم کے انگاروں پہ تو انگنت افراد چل چکے ہیں ۔ مگر اب بھی اس خون جما دینے والی ٹھنڈی میں جمہوری اقدار کو بچانے کے لیے ہر انصاف پسند کا دل و دماغ برابر حرکت کر رہا ہے. جب تک جامعہ کی چہاردیواری سے "ہم لے کے رہیں گے آزادی" کے فلک شگاف نعرے اور شاہین باغ سے شیرنیوں کی دہاڑے سنائی دیتی رہیں گے ۔۔۔تب تک شب دیجور میں امیدوں کے چراغ کے ساتھ ہماری دم توڑتی وجود کی مدھم مدھم سی روشنی بھی زنداں کے دیوار سے چھن چھن کر جمہوریت کی بقا کے لیے آواز لگاتی رہے گی. یہ ایک انقلاب ہے جو آزاد بھارت میں پہلی مرتبہ آزادی کے خوبصورت لباس میں ملبوس ہوئے سر چڑھ کر بول رہا ہے. بس ہمیں اور آپ کو کرنا یہ ہے کہ اسے نحیف و لاغر نہیں ہونے دینا ہے.... انقلاب، انقلاب کا نعرہ جس طرح بھی ہو، بلند کرتے رہنا ہے، اگرچہ جان و مال کی عظیم قربانی ہی کیوں نہ دے کر اسے جوان رکھنا پڑے. یہ لمحے بھر کی غلطیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ ہمیں اور آپ کو یہ خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے. اس موقع پر اگر نوجوان لہو سست پڑ گیا تو پھر ہماری وجود میں وہ گھن بھی لگ جائیں گے جس کے درپے مودی، شاہ اور یوگی جیسے غنڈے ہیں. اس وقت بہت سے سرخیل حضرات جگہ جگہ عظیم الشان ریلیاں کرکے برابر کمک پہنچانے کا کام کر رہے ہیں. مسلموں کے ساتھ ساتھ کئی ایک ایسے نام و اپوزیشن پارٹیوں کے سیاسی رہنما ہیں جو ذات پات اور مذہب و مسلک سے کوسوں اوپر اٹھ کر اسے تیز و تند لو عطا کر دینے میں مصروف ہیں. مگر! مودی ،شاہ اور یوگی ہیں کہ جنرل ڈائر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آر ایس ایس کے غنڈوں سہارے جلیاں والا باغ کا سماں ہر جگہ پیدا کر دینے پہ مصر ہیں. ابھی حال ہی میں مودی کی نگری "بنارس" میں جس قدر بے دردی کے ساتھ پولیس کے بھیس میں حکومتی غنڈوں نے ایک مدرسہ کے ننھے منھے نہتھے طالب علموں پر لاٹھیاں برسائی ہیں اسے ہرگز کبھی نہیں بھلایا جا سکتا ہے. میرٹھ، سہارنپور، لکھنؤ، رام پور، کانپور، سنبھل اور مرادآباد جیسے اضلاع میں جس طرح پولیس نے مسلم گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ اور چھن جھپٹ کی ہیں وہ کسی بھی طور پر ہندوستانی جمہوریت سے میل نہیں کھاتا ہے. ہٹلر شاہی کو جس قدر لوگ پہلے جانتے تھے، مودی اور شاہ کی من مانی نے ہندوستانی آنکھوں کے سامنے اس کی مثال زندہ کر دینے میں بھڑکتی آگ میں گھی ڈالنے جیسا کام کیا ہے. یوپی پولیس کی شوریدہ سری اور اندھ بھکتی تو دیکھیے کہ 20،دسمبر 2019 کو فیروز آباد میں ہوئے احتجاج کی بدولت شہر کی امن و آشتی کو جن دو سو لوگوں سے خطرہ لاحق ہے، اس میں ایک نام "بننے خان" بھی ہے، جو تقریباً 6،سال قبل ہی وفات پا چکے ہیں اور اب جا کر مودی حکومت کو اس سے خطرہ لاحق ہو رہا ہے. پولیس کی نوٹس کے مطابق اسے دس لاکھ روپیے بطورِ ضمانت ادا کرنی ہے. ہائے افسوس! اس کاروائی پہ تو سر پیٹ لینے کو دل کرتا ہے جی ہاں! جب اندھ بھکتی میں ساری عقل مار لی جاتی ہیں تو ایسے ہی بھونڈے مقدمات وجود میں آتے ہیں.
      اس وقت ہندوستان برابر اپنا رنگ و روپ بدل رہ ہے. مٹھی بھر لوگ آر ایس ایس کی چڈی پہن کر ساورکر، ہٹلر اور جنرل ڈائر جیسے خونخوار درندوں کی داستان دلخراش دہرانا چاہتے ہیں. پر انھیں اب بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اقتدار کے نشے میں جب ظلم و ستم آوارہ ہو جائے تو وہی افیون و زہر بن کر خود ظالموں کی خون پی جاتا ہے ۔۔۔ بس تھوڑا اور انتظار کرلیں. ملک کی 95٪ عوام تخت و تاج چھین لیں گے. اگر جمہوریت کی نگری میں عوام کسی کو حکومتی باگ ڈور سونپنا جانتے ہیں تو وقت آنے پر وہ اس سے چھن کر ذلت و نکبت کے دھول بھی چٹانا جانتے ہیں. اس وقت ملک کا وہ کون سا حصہ نہیں ہوگا کہ جہاں عوام مشتعل ہو کر روڈ پر نہ اترے ہوں؟  مگر یہ شاہ اور مودی Twitter، گودی میڈیا اور پنڈت سدھ بھاونا کو ساتھ لے کر پوری دنیا کو #IndiaSupport NRC NPR & CAA کی مہم میں شریک کرنا چاہتے ہیں. اتنے کم بخت و ظالم حکومت تو آزاد بھارت میں کبھی نہیں آئی تھی کہ وہ مسلم دشمنی میں اس قدر اتاولے ہو جائے کہ گنگا جمنی تہذیب ہی داؤ پر لگا دے. آخر جن کے دامن ہی گجراتی مظلوم مسلمانوں کے لہو سے شرابور ہوں، گو وہ کب مسلمانوں تئیں وفادار و خیر خواہ ہو سکتے ہیں؟ کبھی نہیں ۔۔۔ہرگز نہیں ۔ مگر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سلام ہے ان بھائیوں، بہنوں، ماؤں، Social activities اور حزب مخالف سیاسی رہنماؤں پر جو اس سیاہ قانون کے خلاف مسلسل لکھ، بول رہے ہیں. تحریک کی خوبصورتی کو مذہبی رنگ میں رنگنے نہیں دے رہے ہیں اور برابر عملی اقدامات کر رہے ہیں. یقیناً اس وقت پوری دنیا میں امن پسند افراد اس کالے قانون پر تھو تھو کر رہے ہیں ۔ خیر، اب ملک کے سیکولر عوام جاگ چکے ہیں۔ ضرور ہمارے مرحوم بھائیوں کے لہو، ماؤں و بہنوں کی شب بیداریاں، بوڑھے باپ کی آہ و فغاں اور نوجوانوں کے کوہ پیماں امنگ و حوصلے ضرور رنگ لائیں گے. مودی جی! یہ ضرور یاد رکھنا کہ آپ نے اس قوم سے آنکھیں لڑانے کا کام کیا ہے جہاں سے دوسری اقوام جذبات و حوصلوں کی بھیک لیا کرتے ہیں. اب ہمارے بڑھتے قدم درمیاں میں روک نہ پاؤ گے! کیوں کہ ہم اس جمہوریت کی نگری میں آزاد ہند کے سورماؤں جیسے : بھیم راؤ امبیڈکر، اشفاق اللہ خان، سبھاش چندر بوش، گاندھی جی، ابوالکلام آزاد، علامہ فضل حق خیر آبادی اور رام پرساد بسمل جیسوں کے ماننے والے ہیں. ہمیں جناح، ساورکر، گاندھی کے قاتل گوڈسے، جنرل ڈائر، ویڈولف ہٹلر کے عقائد و نظریات سے کوئی سروکار نہیں ۔بس یہ سب تمھیں مبارک!!! ہمارے کام تو یہی بہترین ترجمانی کرنے والا نظم ہے __

             *_تانا شاہ آکر جائیں گے_*
            *_ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے_*
            *_تم آنسوں گیس اچھالوگے_*
              *_تم زہر کی چاے ابالوگے_*
             *_ہم پیار کی شکر گھول کے اسکو_*
             *_گٹ گٹ گٹ پی جائیں گے_*
              *_ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے_*
             *_یہ دیش ہی اپنا حاصل ہے_*
           *_جہاں رام پرساد بھی بسمل ہے_*
                *_مٹی کو کیسے باٹوگے_*
          *_سب کا ہی خون تو شامل ہے_*
             *_پولس سے لٹھ پڑھادوگے_*
              *_تم میٹرو بند کرادوگے_*
              *_ہم پیدل پیدل آئیں گے_*
                *_ہم کاغذ نہیں دکھائیں_*
              *_ہم منجی یہیں بچھائیں گے_*
             *_ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے_*
               *_ہم سنویدھان بچائیں گے_*
           *_ہم جن گن من بھی گائیں گے_*
               *_ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے_*
               *_تم ذات پات سے بانٹو گے_*
               *_ہم بھات مانگتے جائیں گے_*
                  *_ہم کاغذ نہیں دکھائیں_*

وقت کی خون آشام لوح پر داستان عیش شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

وقت کی خون آشام لوح پر داستان عیش

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

   ملک عزیز میں انسانیت سر عام رسوا ہے، مشرقی روایات سسک رہی ہے'، گنگا جمنی تہذیب نفرتوں کی چتا پر جل رہی ہے'، مساوات ورواداری فرقہ وارانہ عفریت کے خوفناک چنگل میں آخری سانسیں لے رہی ہے، اقتدار کی شمشیریں بے نیام ہیں، جمہوریت نسلی تعصب کی صلیب پر معلق کردی گئی ہے'، انصاف وعدالت کو کمیونزم کے تختۂ دار پر کھینچ دیا گیا ہے، انسانیت فریاد کررہی ہے'،عوام سراپا احتجاج ہے،
   فکری آزادیاں مسلوب اور جمہوری حقوق پامال ہیں،
   ماحول سوگوار اور فضائیں لہو لہو ہیں'، ہر سو جابرانہ بربریت کی حکمرانی ہے' افکار و نظریات نہیں بلکہ اب ملت ہی کی بقا خطرے میں ہے' ،اسلامیان ہند کے ہزاروں نوجوان جان لیوا سرد موسم میں کھلے آسمان کے نیچے حقوق انسانی کی بقا وتحفظ کے لئے جان کی بازیاں لگائے ہوئے ہیں بیسیوں فرزندان اسلام اس اسٹیج پر اپنی جان کی بازی ہار گئے اور دوسروں کو سرفروشیوں کا پیغام دے گئے۔
اس خون آشام ماحول اور کرب واضطراب میں ڈوبی فضاؤں میں وقت کا تقاضا تھا کہ پوری ملت متحد ہوکر اس ایک کاز پر ایک نصب العین پر جمع ہوجاتی۔۔
مگر یہ کس قدر بے غیرتی اور بے حسی کی بات ہے'کہ اسی ملت کے نام نہاد رہنماؤں کی طرف سے جشن ثقافت اور محفل عیش کا اہتمام ہورہا ہے'
حیرت یہ ہے'کہ یہ جشن اس علاقائی تنظیم کی طرف سے منعقد ہورہاہے جس نے ملک ہی نام پر زریں تاریخ ماضی میں رقم کی ہے'،

جی ہاں۔۔۔وہی تحریک جسے دنیا جمعیت علماء ہند کے نام سے جانتی ہے ایک ایسے وقت میں جب پورا ملک آتش و آہن میں جل رہاہے ملت کا وجود خطرے میں ہے کلکتہ کی جمعیت علماء نے 4 جنوری کو عالمی پیمانے پر محفل قرات کا عظیم الشان اجلاس کے انعقاد کا اعلان کر کے قوم وملت کے حوالے انتہائی بدترین بے حسی اور نہایت غیر ذمہ دارانہ کردار کا ثبوت دیا ہے'اس کی ذمہ داری تھی کہ اس سلسلے میں مضبوط لائحہ عمل تیار کرتی،اس سے یہ کام اگر نہیں ہوسکا تو کم از کم خاموش رہتی،مگر ملت کے درد اس کے غم سے عاری اس کے رہنماؤں نے اتنا بھی نہ سوچا کہ ایسے حالات میں اس طرح کی مجلسیں ملک گیر احتجاج کو بے اثر کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں دوسرے انہیں اتنا بھی شعور نہیں ہے کہ وطن کے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹی ہوئی ہے اور یہ جشن کا اہتمام کررہےہیں ،یہی لوگ ہیں جنھوں نے قوموں کی دستاروں کو بیچ کھایا ہے'،اسی قماش کے لوگ جبہ و دستار کی صورت میں آکر کاروان قوم کے سرمایہ پر راہزنی کرتے ہیں،
یہ ضمیر وظرف کے سوداگر ہیں جو اپنی انا کے حصار میں جیتے ہیں اور اپنی ذات کے خول میں بند رہتے ہیں، انہیں نہ قوم کے مستقبل کی پروا ہوتی ہے'،نہ حال کی فکر، یہ مفادات کی دنیا میں جیتے ہیں اور عیارانہ چالوں اور منافقانہ کرداروں کے ذریعے اپنی دنیا سنوارتے ہیں ،  زمانے کے تقاضوں سے بے خبر اور ملت کے سودو زیاں کے احساس سے محروم ان افراد کو کون سمجھائے کہ غفلتوں کا تصوراتی محل پائیدار نہیں ہوتا ہے'، خوابوں کی دنیا کے لئے ثبات نہیں ہے'، تمہارے عیش کا چراغ جل رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہوائیں تم پر مہربان ہیں بلکہ ابھی وہ دوسروں کی شمع حیات گل کرنے میں مصروف ہیں اس لئے تمہارا نمبر آنے میں کچھ لمحے باقی ہیں ،لیکن یہ طے ہے کہ اس کی زد سے تمہارے چراغ ہائے ہستی قطعاًمحفوظ  نہیں ہیں،
 ایسے لوگ جو سر پر طوفانوں کی گھٹاؤں کو دیکھ کر بھی خواب عیش سے نہ اٹھ سکیں، ظلم وبربریت کا لہو رنگ ماحول بھی ان کے احساسات میں درد کی کسک نہ پیدا کرسکے، حکومت کی سفاکیت،اور اقتدار کی بربریت بھی جن کے دلوں میں تڑپ کی آگ نہ جلا سکے،
 ان کے بارے میں اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ
خدا انہیں کسی طوفاں سے آشنا کردے
کہ ان کی بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

روش روش پہ خار ہیں بہار ہے دھواں دھواں شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی




 روش روش پہ خار ہیں بہار ہے دھواں دھواں

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

2019کی ساعتیں اپنے دامن میں  تار تار انسانیت،لٹی ہوئی عصمتوں، زخم زخم فضاؤں، بے بس مظلوموں کی آہوں،اور انا پرست اقتدار کے سفاک کرداروں کی دلخراش داستانوں کو سمیٹنے ہوئے رخصت ہو گئیں،
ایک نئے سال کا آغاز ہوا،2020کا سورج اسی آب وتاب کے ساتھ اپنی سنہری کرنوں سے ایک عالم کو اجالوں کی سوغات عطا کرتا ہوا نمودار ہوا،خود غرض دنیا نے اپنی وسعتوں کے مطابق اسی طرح اس کا استقبال کیا ماضی قریب میں جس طرح کرتی آئی تھی
شہنائیاں بجیں رقص ہوئے،نغموں کی برسات ہوئی،
موسیقی کی تانوں پر اجسام تھرکے، اور وہ سب کچھ ہوا جو جشن کے نام پر ہوتے ہیں،

لیکن۔۔۔آہ زندگی کے مقاصد سے بے خبر انسانیت کی اسی بھیڑ میں جب سڑکیں ان کے بے ہنگم رقص سے بھری ہوئی تھیں، میخانوں میں شراب کے دور چل رہے تھے،عیش ونشاط کی بزم آرائیاں شباب پر تھیں عین اسی لمحے انسانیت کے محافظوں کی ، آزادی کے متوالوں کی ،شمع وطن کے پروانوں کی،مساوات وعدالت کے علمبردار وں کی اور علم و ادب کے مسافروں کی ایک بڑی تعداد دارالحکومت دہلی کی شاہراہوں پر موسم سرما کی سخت یخ بستہ رات میں قانون وملک کی سلامتی کے لئے کھلے آسمان کے نیچے،شریانوں کو منجمد کردینے والے کہروں کا سامنا کرتی ہوئی سراپا احتجاج بن کر بے یارومددگار پڑی ہوئی تھی،
کیا مرد اور کیا خواتین کیا بچے اور کیا بوڑھے آج اٹھارہ روز سے اقتدار کی نسل پرستی اور فرقہ وارانہ کردار وقانون کے خلاف دن کا سکون اور راتوں کی نیند قربان کرکے سڑکوں پر انسانیت کے تحفظ اور اس کے حقوق کے لیے جان کی بازی لگا کر 1947سے پہلے ملک پر قربان ہونے والے مجاہدین کی داستان رقم کررہے ہیں،
پہلی جنوری کا سورج طلوع ہوا اور پوری آب وتاب سے جلوہ نما ہوا، تاریکیاں چھٹیں،سناٹے ٹوٹے،اوراجالوں کی چادریں ہر سو پھیل گئیں،
مگر حقیقت یہ ھے کہ درد آشنا دلوں اور اخلاق و انسانیت
کے پرستاروں کے لئے اس تاریخ کے آفتاب کی شعاعوں میں محفل جشن وطرب میں جگمگاتی ہوئی الیکٹرانک قندیلوں کی شوخیاں مفقود تھیں ،جس میں کاروبار ہستی کے ہنگاموں کا عکس نظر آتا ہے'شب گزیدہ سحر کے بعد پھیلی ہوئی ان کرنوں میں کسی ویران مزار پر رکھی ہوئی موم بتیوں کی اداسیاں جھلک رہی تھیں، شعاؤں میں وہ تابناکی نہیں تھی جو وادی کہسار سے لیکر دامن دل میں بھی بہاروں کا سماں پیدا کردیتی ہے'،ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ان سنہری چادروں میں انسانیت کے خون کی تصویریں تھیں، مساوات کے قتل کا عکس تھا،اقتدار کی بے حسی،اناپرستی ،طاقتوں کی بربریت، حکمران وقت کی سفاکیت، نسل پرستانہ جنون،
ایک کمیونٹی کے خلاف نفرت وتعصب اور مظلوموں کی بے بسی کی لہو رنگ تصویری داستان نمایاں تھی۔

ماحول جب کمزور انسانوں کے لہو سے رنگین ہو،سیاست جب چنگیزی کا روپ دھار لے،عدالت جب جانب دار ہوجائیں، انصاف ودیانت کے سوتے جب خشک ہوجائیں، نسل پرستانہ نظریات اور فرقہ وارانہ نظام کا جب ملک ووطن پر تسلط ہوجائے، وقت کا حاکم جب خود اپنی عوام کے خلاف آمادہ ظلم ہوکر حیوانیت پر اتر آئے تو ایسے ملک کے لئے،ایسے حالات میں اور ایسے معاشرے کے لئے مسرتوں کے لمحات اسی طرح ہوتے ہیں'جیسے جنازے کی موجودگی میں محفل عیش و نشاط، سو وجدان کی آواز ہے'کہ سلگتے ماحول کے اس لمحے میں نئے سال کے آفتاب میں ہمارے دلوں میں نہ کسی قسم کی کشش ہے'نہ جاذبیت،

طوفان آتے ہیں لمحوں میں آبادیوں کو تہ وبالا کرکے گذر جاتے ہیں'،سیلاب آتے ہیں' خوفناک موجیں بربادیوں کا سگنل دیتی ہیں اور فنا ہوجاتی ہیں'،
ظلم وبربریت کے جھونکے چلتے ھیں رخصت ہوجاتے ہیں' سیاسی ہواؤں کی سازشوں کے نتیجے میں ایک قوم پر پرسنل لا ء ماآب لینچیگ، مخصوص ریاستی حقوق پر شب خون اور عبادت گاہوں پر غاصبانہ تسلط اور پھر انصاف کے مندر سے زمیں دوز کارروائیوں ذریعے اس تسلط کے جواز نامے پر مشتمل قیامتیں آئیں اور قوم مسلم کے سروں سے گذر گئیں،مسلمانوں نے سارے دکھ سہ لئے،منافرت کے تمام رویوں اور قومیت ونظریات کے لحاظ سے حکومتی سطح پر تمام دہرے پیمانے پر صبر کرلیا۔۔۔
لیکن کہتے ہیں جب کسی درندے کو خون کا چسکا لگ جاتا ہے'تو اس سے کم پر اب راضی نہیں ہوتاہے، حکمران وقت کے مسلسل متعصبانہ اقدامات اور غیر منصفانہ پالیسیوں سے بھی ان کے دل کی پیاس نہ بجھی تو اس نے مسلمانوں کو ملک سے بے دخل کرنے کا ہی فیصلہ کرلیا اور این آر سی اور CAAکے نام پر ان کی شہریت پر حملہ کردیا ہے
جس وطن کے لیے قوم کے لاکھوں سپوتوں نے سردھڑ کی بازی لگا دی اسی سے محروم کرنے کی کوششیں اور سازشیں ایک جمہوری ملک میں کسی طرح قابل برداشت ہو سکتی تھیں نہ ہی قابل تسلیم۔۔۔

اس کے خلاف آواز اٹھنی تھی ،ایک دانشگاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے اٹھی،بلند ہوئی،اور جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک پر چھا گئی، اور ایک تحریک کی حیثیت اختیار کرگئی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مسلمان بھی شامل ہوئے ہندو بھی، دوسری یونیورسٹیوں کے اسٹوڈنٹس بھی کندھے سے کندھا ملا کر شریک سفر ہوئے اور عام آدمی بھی،
مزدور بھی شامل ہوئے اور کسان بھی، سیاسی گلیاروں کے سورما بھی نظر آئے اور مذہبی اور ادبی افراد بھی،

اقتدار کی جبینوں پر شکن آئی، طاقتیں حرکت میں آئیں ، شمشیریں بے نیام ہوئیں،بندوقوں نے دہانے 
کھولے، اور ایک لمحے میں سیکڑوں افراد خاک وخون میں تڑپ کر رہ گئے،حقوق انسانی کی آوازوں پر پابندیاں لگانے کے حوالے سے ظلم وجبر اور وحشت وبربریت کا سلسلہ شروع ہوا تو ہنوز تھم نہیں سکا،ملک کو انگریزی استعماریت کے عہد میں داخل کردیا گیا،آئین کو مجروح اور سیکولرازم کا گلا گھونٹ دیا گیا،

21دسمبر کو پٹنہ میں مظاہرین پر تشدد کی زد میں حنظلہ نامی ایک بے قصور نوجوان بھی آیا اسے اغوا کرلیا گیابارہ روز بعد جب اس کا وجود پولیس اسٹیشن سے برآمد ہوا تو جسم سے روح کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا، شہید حنظلہ اپنے والدین کا اکلوتا فرزند تھا جس نے ملک کے نام پر انسانیت کے تحفظ اور جمہوریت کی سالمیت کے خونی اسٹیج پر اپنی جان قربان کردی،
جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں مظاہرے کے دوران کیمپس کے اندر ملک کی بہادر فوجوں کی بربریت میں سیکڑوں افراد کے ساتھ عبید الرحمن اراضی بستوی
بھی تشدد کی زد میں آیا،اس کے جسم پر بھی بہادری کے جوہر دکھائے گئے اس کے وجود کو زخم زخم کیا گیا زندگی اور موت کی کشمکش میں آج وہ بھی زندگی کی بازی ہار کر شہادت کو گلے لگا لیا، 

ملک بھر میں اضطراب پیدا ہوا، انسانیت کا درد رکھنے والوں میں صف ماتم بچھ گئی، سیکولر دنیا سوگوار ہوئی، مگر جمہوریت کا چوتھا ستون میڈیا خاموش رہا حکومت کی بے حسی کے سمندر میں یہ قربانیاں بھی تموج پیدا نہ کرسکیں، طاقتوں کے پاؤں میں اس حوالے سے جنبش نہ ہو سکی،کہ جب قوت کا نشہ چھاتا ہے'، کبر و نخوت کے حصار میں فرمانروائی قید ہوجاتی ہے، نسل پرستی زندگی کا مقصد قرار پاتی ہے'،تو مساوات وانسانیت کی بہاریں رخصت ہوجاتی ہیں، رواداری اور انصاف بے موت مرجاتے ہیں'، اقتدار متعصب،میڈیا فرقہ پرست، سرمایہ دار بے رحم،سیاست مفادات کی کنیز،اور جمہوریت بے روح ہوجاتی ہے'،یہی وجہ ہے کہ شوشل میڈیا ٹیوٹر پر جب انصاف کی آوازیں بلند ہوئی اور ایک سیاہ قانون کی مخالف کا سیلاب اٹھا،ملک وحکومت کی رسوائی عام ہوئی تو خود حکمران وقت نے اپنے مخصوص ہمنواؤں کے ساتھ پروپیگنڈوں کا سلسلہ شروع کردیا،اور اپنی غیر آئینی پالیسی کو صحیح ثابت کرنے کے لئے انصاف ودیانت سے بے پروا کذب و افتراء اور مکر وفریب کو پھیلانے کے لئے پوری طاقت جھونک دی،

ایسی صورت حال میں نئے سال میں طلوع ہونے والے سورج کا ایک پژمردہ قوم کیونکر استقبال کرے،
کرہ ارض پر بے شمار مخلوق کو زندگی سے آشنا کرنے والی روپہلی کرنوں کو کس طرح حیات تازہ کا پیغام باور کرے، اس کے داغ داغ اجالوں کو کس امید پر امن وسلامتی کی نوید سمجھے،کہ یہاں درخت کی ایک شاخ نہیں
پورا گلشنِ ہستی موت کی خزاں کی زد میں ہے'،
المیہ یہ ہے کہ تاریکیوں کے اس سناٹے میں بھی ملت کے اتحاد کی کہیں سے کوئی آواز نہیں آتی،کہ شمع ملک کے پروانوں کی سرفروشانہ سرگرمیاں ناقابل شکست اور بحر بیکراں کی طرح ہوجائیں گے