اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 30 December 2019

جو لوگ ملک کے شہری کو کپڑوں سے پہچانتے ہیں وہ فاشسٹ ہیں وہ ملک توڑنا چاہتے ہیں جامعہ کے طلبہ کی تحریک ۱۸؍ویں دن بھی جاری، مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے افراد کی شرکت، قانون واپس لیے جانے تک جنگ جاری رکھنے کا عزم

جو لوگ ملک کے شہری کو کپڑوں سے پہچانتے ہیں وہ فاشسٹ ہیں وہ ملک توڑنا چاہتے ہیں
جامعہ کے طلبہ کی تحریک ۱۸؍ویں دن بھی جاری، مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے افراد کی شرکت، قانون واپس لیے جانے تک جنگ جاری رکھنے کا عزم
نئی دہلی۔ ۳۰؍دسمبر: (جامعہ کیمپس سے محمد علم اللہ کی رپورٹ) شہریت ترمیمی ایکٹ ، این آر سی اور این آر پی کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کی تحریک کا آج ۱۸؍واں دن تھا۔ آج کے دن سخت سردی کے باوجود طلبہ اور اوکھلا کے عوام ہزاروں کی تعداد میں اپنا احتجاج درج کرایا۔ ایک طرف جہاں احتجاج میں کئی سماجی کارکنان اور طلبہ لیڈران شامل ہوئے وہیں ہندوستانی سیاست کے کچھ پرانے چہرے بھی نظر آئے ان سبھوں نے حکومت کی مسلم مخالف پالیسی اور ملک کو تقسیم کرنے والی سازش کی مخالفت کی۔ احتجاج کو خطاب کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کے سابق ریاستی وزیر رما شنکر سنگھ نے کہاکہ مسلمان ہمیشہ سے ملک کے ساتھ تھا اور رہے گا، اس موقع پر انہوں نے مسلمانوں کو ملک سے باہر نکالنے کی بات کرنے والوں کی سخت مذمت کی اور کہاکہ جو جامعہ آزادی کی جنگ میں شامل تھا کوئی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا ، ان فرقہ پرستوں کے ارادے ٹوٹ جائیں گے لیکن جامعہ نہیں ٹوٹے گا۔ سماجی کارکن اویس سلطان خان نے کہاکہ جس مسلم قوم کو ملک کے اندر دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی سازش ہوتی تھی آج وہ قوم ملک کے آئین کو بچانے کے لیے سڑکوں پر ہے اور اس وقت تک سڑکوں سے و اپس نہیں لوٹے گی جب تک کہ انہیں ان کا حق نہیں مل جاتا۔ آج اس لڑائی میں مسلمان قیادت کررہے ہیں او رجمہوریت کےلیے دوسرے مذاہب کے افراد اس کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے احتجاج کے دوران سبھی کو مولانا ابوالکلام آزاد کی وہ قسمیں بھی یاد دلائیں جو انہوں نے ملک کی تقسیم کے وقت مسلمانوں کو کھلائی تھیں۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے جامعہ کے طلبہ اور اوکھلا کے عوام کو سلام پیش کرتے ہوئے کہاکہ جب تک اس تحریک میں ان کمیونٹی کا سہارا ملتا رہے گا جنہیں حکومت نے شہریت دینے کا وعدہ کیا ہے پھر اس تحریک کو کوئی نہیں توڑ پائے گا۔ اے آئی ایس اے دہلی کی صدر کنول پریت کور نے کہاکہ جو لوگ ملک کے شہری کو ان کے کپڑوں سے پہچانتے ہیں اور ان کے خلاف تشدد کی حمایت کرتے ہیں یہ اقتدار میں بیٹھے وہ فاشسٹ ہیں جو ملک کو توڑناچاہتے ہیں لیکن طلبہ نے ، شاہین باغ کی غیرت مند خواتین نے انہیں زور دار جواب دیا ہے۔ ڈی یو ٹی اے کی سابق صدر نندتا نارائن نے کہاکہ اقتدار میں آج جو سنگھی ذہنیت والے ہیں وہ ہر اس آواز کو دبانا چاہتے ہیں جو اس کے  خلاف ہے او رجمہوریت کے ساتھ لیکن جامعہ اور تمام یونیورسٹیوں کے طلبا ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ سی اے اے کے خلاف شروع اس تحریک کی ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس میں وہ لوگ بھی باہر نکل آئے ہیں جو اپنے آپ کو غیر سیاسی کہتے تھے۔ جے این یو کے طالب علم فاروق عالم نے مودی اور امیت شاہ کو ’ٹوایڈیٹس‘ کی جوڑی بتایا انہو ںنے موجودہ حکومت اور اس کےچہرے پر ایک گیت بھی پڑا جو انہوں نے خود لکھا تھا۔ بی ایس سی ای ایم کی صدر راجویر نے کہاکہ ہم طلبہ قوم پرست ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی پرست بھی ہیں دنیا میں جہاں جہاں ناانصافی ہوتی ہے اس کے خلاف ہم بولتے ہیں اور جو ناانصافی ملک کے اندر بی جے پی کی حکومت کررہی ہے اس کے خلاف بھی ہم بولیں گے۔ آج کے احتجاج میں ان مقررین کے ساتھ مقامی عوام اور دہلی کی مختلف یونیورسٹی سے آئے طلبہ نے بھی اپنی بات رکھی اور حکومت کی طلبہ مخالف یونیورسٹی پر حملہ کرنے والی پالیسیوں کی مخالفت کی۔ کئی طلبہ نے آج بھی ’ریڈ فار رولیوشن‘ کے نعرے کے ساتھ ریڈنگ سیشن کا انعقاد کیا۔ جامعہ کو آرڈینیشن کمیٹی کے اراکین او رجامعہ کے طلبا کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت جمہوریت مخالف قانون واپس نہیں لے لیتی تب تک یہ تحریک جاری رہے گی اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پوری تحریک میں انہیں جامعہ الومنائی اورملک کی دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ کا مکمل تعاون مل رہا ہے۔

ہمیں جان سے بھی زیادہ پیارا ہے ہندوستان ! ************************** تحریر :جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین)

ہمیں جان سے بھی زیادہ پیارا ہے ہندوستان !
                     **************************
تحریر :جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین)

آج پورے ملک میں افراتفری کا ماحول ہے، کہیں بیان بازی، کہیں نعرے بازی کہیں احتجاج، کہیں گرفتاری، کہیں لاٹھی چارج نتیجہ یہ ہے کہ کاروباری حالت مفلوج ہوتی جا رہی ہے کتنے غریبوں کے گھروں میں روزی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں چولہے میں آگ نہیں جل رہی ہے  تاجروں، محنت کشوں، مزدوروں کے اندر تشویش ہے ڈر اور خوف ہے کیونکہ تجارت کے لئے ایک شہر سے دوسرے شہر بھی جانا پڑتا ہے، مزدوری کرنے کے لیے بھی ادھر ادھر بھاگ دوڑ کرنا پڑتا ہے اور آج کے دور میں سفر کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں جلوس نہ نکل جائے، کہیں جلوس میں کوئی شرپسند عناصر پتھر نہ پھینک دے، کہیں پولیس لاٹھی چارج نہ کردے، کہیں گرفتاری نہ ہونے لگے اور اس گرفتاری کی زد میں ہم مزدور بھی نہ آجائیں اگر ایسا ہوگیا تو ہمارے بچے بھوکوں مرجائینگے کیونکہ ہم تو پہلے سے اس حالت میں میں مبتلا ہیں کہ روز کنواں کھودتے روز پانی پیتے ہیں، کھانے کے لیے پہلے سے ہمارے گھروں میں ناپا شوربا اور گنی روٹی ہے ایک مزدور کا گذر بسر کیسے ہوتا ہے یہ ایک مزدور ہی جانتا ہے شیش محل میں رہنے والے لوگ جھونپڑی میں رہنے والوں کا حال کیا جانیں، اونچی اونچی کاروں میں چلنے والے لوگ سرد موسم میں سرد ہواؤں کا سامنا کرتے ہوئے اور ٹھٹھرتے کانپتے ہوئے پیدل چلنے والوں کا حال کیا جانیں، بڑی بڑی باتیں کرنے والے ذرا رات کے اندھیرے میں نکلیں اور نگاہ اٹھا اٹھا کر روڈ پر دیکھیں، چھانی چھپڑ اور کچے مکانات کو دیکھیں، ایک ایک چادر اوڑھ کر روڈ کے کنارے سوئے ہوئے لوگوں کو دیکھیں، جان لیوا سردی کے موسم میں رات رات بھر مزدوری کرنے والوں کو دیکھیں اور دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں اور غور کریں کہ ان کے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے قدم اٹھانے کی ضرورت ہے یا شہریت تر میمی قانون نافذ کرنے کی ضرورت ہے آج ملک میں جتنی بھی ہنگامی صورتحال ہے وہ صرف اور صرف شہریت تر میمی قانون کی وجہ سے ہے این آر سی اور سی اے اے کی وجہ سے ہے ایسا قانون بنانے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ ہم کس سے شہریت کا ثبوت مانگ رہے ہیں جو اسی وطن عزیز میں پیدا ہوا ہے اور حق رائے دہی کا استعمال بھی کرتا رہا ہے اور حقیقت میں دیکھا جائے تو ووٹ دینے کا حق اسی کو ہوتا ہے جو ملک کا شہری ہوتا ہے تو یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ ہم نے ووٹ دیا اور ہمارے ووٹوں کی وجہ سے حکومت بنی تو حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد کہا جائے کہ آپ اپنی شہریت ثابت کریں اور چلئے تھوڑی دیر کے لیے اس قانون کی ضرورت کو مان ہی لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مذہبی بنیادوں پر شہریت دینے کا ذکر کیوں کیا گیا جبکہ ہمارے ملک میں جمہوریت ہے، ہمارے ملک میں بہترین آئین ہے، بہترین دستور ہے اور اس دستور نے سب کو برابری کا حق دیا ہے، اس دستور میں سب کے جذبات کی قدر کیگئ ہے سب کے جذبات کا احترام کیا گیا ہے، مساجد و منادر، اسکول و مدارس کے قیام کی منظوری دی گئی ہے تقریر و تحریر کی آزادی دی گئی ہے، ہر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اپنے اپنے مذہبی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے اور تبلیغ و اشاعت کا حق دیا گیا ہے اور اسی بنیاد پر پوری دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کی شکل میں ہمارے ہندوستان کا پرچم سب سے زیادہ بلند ہے ہندوستان کو امن کا گہوارہ کہا جاتا ہے گنگا جمنی تہذیب کا سنگم اور مرکز کہا جاتا ہے صوفی سنتوں کی آماجگاہ کہا جاتا ہے پھر ملک کے دستور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کیا ضرورت ہے کیوں ایسا قانون لایا گیا کہ ملک کا ہر انصاف پسند و سیکولر مزاج انسان کے پیروں تلے زمین کھسک نے لگی لوگ احتجاج و مظاہرہ کرنے لگے کچھ صوبائی حکومتیں بھی اس کو ماننے سے انکار کرنے لگیں وجہ یہی ہے کہ اس قانون سے مذہبی منافرت پھیلنے کا خطرہ ہے ملک کے تانے بانے کو بکھرنے کا خطرہ ہے اور ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے کا خطرہ ہے اگر سی اے اے میں یہ کہا گیا ہوتا کہ جو لوگ بھی دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے ہیں اور شہریت محروم ہیں تو انہیں بلا کسی مذہبی تفریق کے شہریت دی جائے گی تو یقیناً ملک میں واویلا نہیں ہوتا مگر بی جے پی حکومت نے ایسا نہ کر کے اور مذہبی بنیادوں پر شہریت دینے کا ذکر کرکے ملک کے آئین، دستور اور جمہوری ڈھانچے کو ہلادیا اور پورے ملک میں لوگ ائین کے وقار کو بچانے کیلئے، جمہوری نظام کو بچانے کیلئے، اپنی اور ہندوستان کی پہچان کو بچانے کیلئے احتجاج اور مظاہرے کے لیے میدان میں آگئے ان سب کے باوجود بھی حکومت اپنے روئیے کو تبدیل کرنے کے بجائے جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے صرف بیان بازی سے کام چلانا چاہتی ہے اور یہ تو احساس ہورہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو شائد یہ گمان نہیں رہا ہوگا کہ اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج و مظاہرہ شروع ہوجائے گا اسی لئے اب جھوٹ پر جھوٹ بولا جارہا ہے اور ہر جھوٹ پکڑا بھی جارہا ہے اور اب تو احتجاج و مظاہرے کو ہندو مسلم کا رنگ دینے کی بھی کوشش کی جارہی ہے لیکن قابل مبارکباد ہیں برادران وطن جو کاندھے سے کاندھا ملاکر چل رہے ہیں، قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں اور آواز میں آواز ملاکر شہریت تر میمی ایکٹ کی مخالفت میں صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں اور اس بات کا ثبوت پیش کر رہے ہیں کہ یہ ملک ہندو مسلم، سکھ عیسائی سب کا ہے اور سب نے مل کر آزادی کی لڑائی لڑی ہے اور انگریزوں کے چنگل سے آزاد کرایا ہے سب نے قربانیاں دی ہیں اور آزادی حاصل ہونے کے بعد ہندوستان کو سب نے سجایا ہے سب نے سنوارا ہے اور جب بھی کوئی وقت آیا ہے تو سب نے مل کر مقابلہ کیا ہے یہ ایک ایسا سچ ہے کہ جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا اس لئے حکومت وقت کو یہ سوچنا چاہیے کہ جس قانون کی پورے ملک میں مخالفت ہورہی ہے اسے واپس لیا جائے تاکہ حکومت پر سب کا اعتماد قائم ہوسکے اور ملک میں امن و سلامتی کا ماحول پیدا ہوسکے صنعتوں کو فروغ حاصل ہوسکے بلا کسی مذہبی تفریق کے غریب محنت کش مزدوروں کے اندر خوشحالی اسکے اور ہمارا ملک ترقی کی راہوں پر گامزن رہے ملک کی عوام کے جذبات کا احترام کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے حکمراں کیلئے رعایا اولاد کی طرح ہوتی ہے جس کے ساتھ انصاف کرنا لازمی ہے کل میدان محشر میں اللہ رب العالمین دنیا کے سارے حکمرانوں کو کھڑا کر کے پوچھے گا لمن  لملك اليوم بتاؤ اج کے دن کا مالک کون ہے، بتاؤ آج کے دن بادشاہ کون ہے تو اس دن دنیا کے سارے حکمران لرزہ براندام ہونگے اور کانپتے ہوئے کہیں گے کہ اے اللہ تو ہی ہمیشہ سے بادشاہ رہا ہے اور آج بھی تو ہی بادشاہ ہے اور ہمیشہ توہی بادشاہ رہے گا اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا کے ہر حکمران سے حساب لیگا چاہے وہ کسی گاؤں کی حکمرانی کی ہو یا کسی ملک کی حکمرانی کی ہو یا پوری دنیا پر حکومت کی ہو پرامن احتجاج کا حق بھی دستور ہند نے ہی دیا ہے اب اگر طاقت کے بل پر احتجاج کو روکا جائے گا اور زبان بند کرائی جائے گی تو یہ جمہوریت کا گلا گھونٹ نے کے مترادف ہوگا یہ ملک سے محبت ہی تو ہے کہ لوگ احتجاج بھی کررہے ہیں تو ساتھ میں قومی پرچم بھی لہرا رہے ہیں اور یہ اعلان کررہے ہیں کہ اے وطن تو ہمیں جان سے بھی زیادہ پیارا ہے ہندوستان زندہ باد ہندوستان زندہ باد -
javedbharti508@gmail.com
       - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -

ایڈیشنل چیف سکریٹری ہوم / انفارمیشن ، پہلی بار اسمبلی کے احاطے میں تقریر کرنے کا موقع ملا آئینہ صدر نجم احسن کی قابل ستائش کاوش پٹل کے ملازمین اور صحافیوں کو اعزازات سے نوازا گیا

ایڈیشنل چیف سکریٹری ہوم / انفارمیشن ، پہلی بار اسمبلی کے احاطے میں تقریر کرنے کا موقع ملا

 آئینہ صدر نجم احسن کی قابل ستائش کاوش

پٹل کے ملازمین اور صحافیوں کو اعزازات سے نوازا گیا


   لکھنؤ(عبید الرحمن الحسینی)
30 دسمبر 2019 آئی این اے نیوز
 اترپردیش کی راجدھانی لکھنو میں قانون ساز اسمبلی کے سینٹرل ہال میں لکھنؤ ریڈر کے ایڈیٹر و صدر آل انڈیا نیوز پیپر ایسوسی ایشن(AINA) جناب نجم احسن کی طرف سے ایک اعزازی کی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں گاندھی جینتی کی 150 ویں برسی کے موقع پر 36 گھنٹوں کے تاریخی بلاتعطل ایوان پر اسمبلی کے چیف سکریٹری اور مارشل سمیت بورڈ کے عملہ اور مارشلز کو اعزاز سے نوازا گیا،

 پینل کے تقریبا 20 ملازمین اور کچھ صحافیوں کو Mementos اورشالس دے کر اعزاز سے نوازا گیا۔

اعزاز پانے والے ممتاز افراد میں ایڈیشنل پرنسپل سکریٹری ، ہوم / انفارمیشن ، پرنسپل سکریٹری قانون ساز اسمبلی ، مارشل ، بورڈ عملہ، صحافت میں اعزاز پانے والوں میں سینئر صحافی سریش بہادر سنگھ ، آکاش شیکھر شرما ، پرویز عالم ، منوج مشرا ، ڈی پی شکلا ، علاؤالدین تھے۔

اس دوران چیف سکریٹری ہوم جناب اونیش کمار اوستھی جی نے کہا کہ ودھان سبھا میں پھلی بار مجھے کچھ کہنے کا موقع ملا ہے، یہ بھی وقت وقت کی بات ہے، اور مزید انہوں نے کہا کہ ہمارا پردیش بہت سارے لوگوں کا پردیش ہے، ہمارا پردیش گاؤں کا پردیش ہے، ہمارا پردیش گھر کا پردیش ہے، اس کی حفاظت کی ہم سب کی ذمہداری ہے،

اور انہوں نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ ہمارے صحافیوں کی قلم کی مضبوطی بیباک آواز سے بہت ساری خامیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

اس پروگرام میں سینئر صحافی ایڈیٹر وائس آف انڈونیپال نیوز و آل انڈیا نیوز پیپر ایسوسی ایشن کے ضلع صدر ساجد حلیمی ، معروف سوشلسٹ و ممتاز صحافی شمس الضحیٰ خان، روزنامہ لکھنؤ ریڈر بیورو چیف فیروز خان، سینئر صحافی اوم کشواہا، انیل سینی کے علاوہ بورڈ کے عملہ کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

Sunday, 29 December 2019

شہریت ترمیمی بل ظالمانہ اور دستور ہند کے خلاف ہے: قاری عطاء الرحمن بلھروی

حکومت اس سیاہ بل کو واپس لے اور گرفتار لوگوں کو رہا کرے ، اس سیاہ قانون سے ملک کی سالمیت کو نقصان پہونچے گا
لکھنؤ(آئی این اے نیوز 30/دسمبر 2019)شہریت ترمیمی بل ظالمانہ  متعصبانہ اور غیر آئینی ہونے کیساتھ جمہوریت کی روح اور خود اس ملک کے مزاج کیخلاف ہے حکومت نے جو شہریت ترمیمی بل پاس کیا ہے  اس سے پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا اس بل سے نفرت کی دیواریں قائم ہوں گی حکومت  شہریت بل کے پردہ میں یہاں کے باشندوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتی ہے جس سے ملک کی سالمیت کو نقصان پہونچے گا
مذکورہ خیالات کا اظہار  قاری عطاء الرحمن بلھروی امام جمعہ مسجد عثمانیہ احاطہ سنگی بیگ نخاس لکھنو نے   میں شہریت ترمیمی بل(cab) پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا
انھوں نے کہا کہ یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں بلکہ یہ ملک سب کا ہے مسلمان اس ملک کے کرایہ دار نہی بلکہ برابر کے حصہ دار ہیں اسکی حفاظت ہرشہری کی ذمہ داری ہے جو بل پاس ہوا ہے اس خطرناک  بل سے ملک میں صدیوں سے موجود مذہبی اور تہذیبی اتحاد کو شدید خطرہ لاحق ہے یہ مسئلہ انسانی حقوق اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا مسئلہ  ہے
قاری عطاء الرحمن نے مزید کہا کہ  یہ بل صرف مسلمانوں کے خلاف ہی نہی بلکہ اس ملک میں بسنے والے سبھی دھرم کے غریب لوگوں کے خلاف اور خاص طور سے دلتوں آدیواسیوں کے خلاف ہے ضروری ہیکہ جب تک یہ بل سرکار واپس نہ لے اسوقت تک پر امن مظاہرہ کرتے رہیں اور  تشدد سے بچیں
قاری عطاء الرحمن بلھروی  نے کہا کہ سرکار سے یہ مطالبہ ہیکہ وہ فورا اس بل کو واپس لے کر ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو باقی رکھے ورنہ اسکے نتائج بھیانک ہوں گے  اور اسکا خمیازہ پورے ہندوستان کے باشندوں کو بھگتنا پڑے گا جن لوگوں کو حکومت نے گرفتار کیا ہے حکومت فورا انکو رہا کرے اور جو اس میں ہلاک ہوگئے ہیں سرکار انکے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دے
مسلمانوں سے مطالبہ ہیکہ  وہ اللہ سے اپنے رشتہ کو مضبوط کریں اور  متحدہ طور پر  اس بل کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں اور جب تک کے سرکار یہ بل واپس نہ لے لے اسوقت تک خصوصا مسلمان چین سے نہ بیٹھیں اور  ہر مذہب اور ہر برادری کی ذمہ داری ہے کہ مذہب سے اوپر اٹھ کر صرف ہندوستانی ہونے کی بنیاد پر قانون کو ہاتھ میں لئے بغیر اپنی بات ایوانوں تک پہنچائیں  ورنہ وہ دن دور نہی کہ یہ ملک ہندوراشٹریہ ہوجائے گا اور مسلمانوں کو ہراستی مرکز میں ڈھکیل دیا جائے گا
ملکی سطح پر تمام ملی تنظیموں کے اشتراک سے امن پسند برادران وطن کو ساتھ لیکر اس بل کی پرزور مخالفت کرنا چاہئے  ہم سب کی ذمہ داری ہیکہ ہم اپنے طور پر ہر تدبیر اختیار کریں اور  ارباب حل و عقد، ملی قائدین،علماء، دانشور، ائمہ مساجد، سماجی خدمت کار سرجوڑ کر اس مسئلہ کے لئے نئی حکمت عملی طے کریں

میرٹھ ایس پی کے ویڈیو پر بی جے پی میں انتشار، نقوی نے کیا کارروائی کا مطالبہ لیکن... ایک طرف یو پی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے میرٹھ ایس پی کا دفاع کیا ہے تو دوسری طرف سینئر بی جے پی لیڈر مختار عباس نقوی نے کہا کہ اگر یہ بیان دیا گیا ہے تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔


میرٹھ ایس پی کے ویڈیو پر بی جے پی میں انتشار، نقوی نے کیا کارروائی کا مطالبہ لیکن...

ایک طرف یو پی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے میرٹھ ایس پی کا دفاع کیا ہے تو دوسری طرف سینئر بی جے پی لیڈر مختار عباس نقوی نے کہا کہ اگر یہ بیان دیا گیا ہے تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

نئی دہلی :29 دسمبر 2019 
اتر پردیش کے میرٹھ میں گزشتہ 20 دسمبر کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ایس پی سٹی نے جس طرح کے الفاظ کا استعمال کیا تھا اس کی مذمت پورے ملک میں ہو رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے ایس پی سٹی اکھلیش نارائن سنگھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی تک نے اس معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے باوجود اتر پردیش حکومت ایس پی سٹی کے بیان کو صحیح ٹھہرانے میں مصروف ہے۔ اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے میرٹھ ایس پی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان غلط نہیں ہے بلکہ لوگ اسے غلط طریقے سے لے رہے ہیں۔
کیشو پرساد موریہ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ "انھوں نے (ایس پی سٹی نے) سبھی مسلمانوں کے لیے ایسا نہیں کہا، لیکن شاید جو لوگ پاکستان کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے، انھوں نے پتھراو کیا۔ ایسی سرگرمیوں میں شامل کسی بھی شخص کے لیے ایس پی سٹی کا بیان غلط نہیں ہے۔"
کیشو پرساد موریہ کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر مختار عباس نقوی خود ایس پی سٹی کے بیان کی تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ کارروائی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ نقوی نے کہا کہ "اگر یہ سچ ہے کہ ایس پی نے ویڈیو میں یہ بیان دیا ہے، تو یہ قابل مذمت ہے۔ ان کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہیے۔ کسی بھی سطح پر تشدد، پولس کے ذریعہ ہو یا بھیڑ کے ذریعہ، یہ ناقابل قبول ہے۔ یہ جمہوری ملک کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ پولس کو اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے کہ جو بے قصور ہیں، وہ متاثر نہ ہوں۔"
مختار عباس نقوی سے پہلے بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے بھی ایس پی سٹی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انھوں نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ "اتر پردیش سمیت پورے ملک میں سالوں سے مقم مسلمان ہندوستانی ہیں نہ کہ پاکستانی۔ یعنی سی اے اے/این آر سی کے خلاف مظاہرہ کے دوران خاص کر اتر پردیش کے میرٹھ ایس پی سٹی کے ذریعہ ان کے تئیں فرقہ پرستی پر مبنی زبان استعمال کرنا یا تبصرہ کرنا انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔"
واضح رہے کہ ہفتہ کے روز میرٹھ کے ایس پی سٹی اکھلیش نارائن سنگھ کا ایک ویڈیو سامنے آیا تھا۔ یہ ویڈیو 20 دسمبر کا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے مسلم طبقہ کے لوگوں سے ایس پی سٹی یہ کہہ رہے ہیں کہ جو لوگ کالی پٹی باندھ کر مظاہرہ کر رہے ہیں وہ پاکستان چلے جائیں۔ سٹی ایس پی کو ویڈیو میں یہ بھی کہتے ہوئے صاف سنا جا سکتا ہے کہ "کھاوگے کہیں کا اور گاو گے کہیں کا، آپ کے فوٹو لے لیے گئے ہیں، لوگوں کی پہچان ہو گئی ہے، گلی میں کچھ ہو گیا تو تم لوگ قیمت چکاو گے۔"

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف طلبہ جامعہ کا احتجاج ۱۷؍ویں دن بھی جاری پولس کی بربریت کےخلاف ’جامعہ والا باغ‘ کا ناٹک پیش کیاگیا ، ڈاکٹر ظفرالاسلام سمیت کئی اہم لیڈران وشخصیات کی شرکت

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف طلبہ جامعہ کا احتجاج ۱۷؍ویں دن بھی جاری
پولس کی بربریت کےخلاف ’جامعہ والا باغ‘ کا ناٹک پیش کیاگیا ، ڈاکٹر ظفرالاسلام سمیت کئی اہم لیڈران وشخصیات کی شرکت
نئی دہلی۔ ۲۹؍دسمبر: (جامعہ کیمپس سے محمد علم اللہ کی رپورٹ) شہریت ترمیمی قانون ، این آر سی اور این آر پی کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کے احتجاج کا آج ۱۷؍واں دن تھا، آج صبح سے ہی طلبا اور اوکھلا کے عوام اور  کئی نوکری پیشہ افراد موقعہ احتجاج پر ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے، احتجاج می ںکئی سماجی ، وسیاسی اور صحافی حضرات بھی موجود تھے۔ جن میں راجیہ سبھا رکن جاوید علی خان، طلبہ لیڈر عائشہ گھوش اور صحافی مسیح الزماں انصاری شامل ہیں، ان سبھی نے حکومت کی مسلم مخالف اور ملک کو تقسیم کرنے کی پالیسی کی مخالفت کی۔ آج جامعہ ملیہ احتجاج کی اسی کڑی میں جامعہ ہمدرد الومنائی سے منسلک طلبہ کے ذریعے ایک ناٹک بھی پیش کیاگیا، جامعہ والا باغ کے اس ناٹک میں گزشتہ 15 دسمبر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولس کے ذریعے تشدد کو دکھایاگیا ۔ واضح رہے کہ دہلی پولس کے ذریعے ۱۵ دسمبر کو جامعہ کیمپس میں طلبا کے ساتھ زیادتی، مارپیٹ مسجد اور لائبریری میں گھس کر طلبہ وطالبات کو زدوکوب کیاگیا تھا جس میں سینکڑوں طلبا وطالبات زخمی ہوگئے تھے، اور جامعہ کیمپس کی جائیداد کو بھی کافی نقصان اُٹھانا پڑا تھا۔ راجیہ سبھا رکن جاوید علی خان نے مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کی قیادت طلبہ کررہے ہیں اس لیے یہ تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک حکومت اپنے آئین مخالف قانون کو واپس نہ لے لے۔ آج کے اس احتجاج میں دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان بھی شامل ہوئے انہو ںنے طلبا کی اس تحریک کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ملک کا ایک ایک شہری اس تحریک میں حصہ لیں۔ صحافی مسیح انصاری نے کہا کہ  یہ تحریک قومی تحریک ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اس تحریک میں سنگھ اور آر ایس ایس کو چھوڑ کر ملک کی ہر کمیونٹی کے افراد شامل ہیں۔ جے این یو ایس یو کی صدر عائشہ گھوش نے کہاکہ یہ تحریک ملک کی سبھی یونیورسٹیوں میں چلے گی اور جب تک یہ جمہوریت مخالف حکومت اقتدار سے بے دخل نہیں ہوجاتی تب تک یہ جاری رہے گی۔ نیشنل ایلائنس آف پاپولس مومنٹ کے رکن ومل بھائی نے کہاکہ یہ لڑائی اپنے حقوق کو بچانے کی لڑائی ہے ، اس موقع پر انہوں نے اترپردیش کے مختلف اضلاع میں مظاہرین پر پولس کے ذریعے کی گئی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ جس نے بھی اس تشدد میں کوئی اپنا کھویا ہے اس کے دکھ کا اندازہ لگانا مشکل ہے یہ ملک کے شہری کےلیے آفت کی گھڑی ہے۔ آج  مظاہرین میں ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے وکیل انل نوریا، ساوتھ ایشین پریس کے آبھا تھپلال، مشہور فیشن ڈائزائنر ترون تہلانی، جامعہ طلبہ یونین کے سابق سکریٹری مہیندر رانی والا، جے این یو طلبہ یونین صدر کی سابق امیدوار پرینکا بھارتی اور  روپل پربھاکر بھی موجود تھیں۔ آج بھی احتجاج کے دوران گاندھی جی کے ذریعے پڑھی جانے والی تمام مذاہب کی دعا پڑھی گئی، وہیں کئی طلبا نے  اپنی لائبریری سجاکر ریڈنگ سیشن بھی جاری رکھا ، انہوں نے اپنے ریڈنگ سیشن کا نام ’ریڈ فار ریولوشن‘ دیا۔ آج کے مظاہرین میں حکومت مخالف اور ان کی جابرانہ پالیسیوں پر زبردست حملہ کیاگیا۔ جامعہ کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اراکین نے بتایاکہ یہ تحریک جاری رہے گی، اس پوری تحریک میں انہیں جامعہ کے سابق طلبا اور مقامی لوگوں کا مکمل تعاون رہے گا۔

*این آر سی اور سی اے اے کے خلاف جمیعت علماء سرائے میرکا دستخطی مہم چلانے کا فیصلہ ، ڈاؤٹ فل کے خوف سے عام لوگ پریشان : مفتی اشفاق احمد اعظمی*

*این آر سی اور سی اے اے کے خلاف جمیعت علماء سرائے میرکا دستخطی مہم چلانے کا فیصلہ ، ڈاؤٹ فل کے خوف سے عام لوگ پریشان : مفتی اشفاق احمد اعظمی*

سرائے میر اعظم گڑھ :29 دسمبر 2019 آئی این اے نیوز

جمیعت علماء سرائے میرکی مجلس منتظمہ کا اجلاس آج ہوا، جس میں اراکین نے شرکت کی اور موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا اور سی اے اے اوراین آر سی کی وجہ سے پیدا صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اترپردیش میں بعض جگہوں پر پولیس کے ظلم و بربریت کی مذمت کی گئی اور متاثرین کو فسادی کے بجائے شہید کے درجہ دینے کی بات کی ستائش کی گئی اور اجلاس میں جمیعت علماء سراۓ میر کی طرف سے ایس ڈی ایم پھولپور کو صدر جمہوریہ سے منسوب میمورنڈم پیش کیا گیا جس میں سیاہ قانون سی اے اے کے واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اتفاق رائے سے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف دستخطی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا اور حلقہ سرا میر کے مختلف گاؤں سے ایک لاکھ دستخط کا نشانہ مقررکیاگیا فارم دو مطالبہ پر مشتمل ہے نمبر ایک 2019 سی اے اے کو آئین ہند کے خلاف تفریق پر مبنی اور ملک کے لیے نقصان دے مانتے ہیں اور عزت مآب صدر جمہوریہ ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سے قانون کو واپس لیا جائے یا اس میں مسلم اقلیت اور دیگر پڑوسی ملکوں کو شامل کیا جائے نمبر2 آسام این آر سی ضرورت اور مطالبہ پر نافذ کیا گیا اس کے باوجود تلخ تجربات اور گوناگوں مشکلات کی وجہ سے ہمارا مطالبہ ہے کہ عام آدمیوں کی  شہریت سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے بلکہ پورے ملک میں بلاضرورت بلامطالبہ سی اے اے اور این آر سی نافذ نہ کیجاۓ اور این پی آر پر عمل درآمد کو روکا جائے اس کی جگہ ملک میں بنے ہوئے آدھار کارڈ سے شہریت کارڈ تیار کیا جائے تاکہ خوف و ہراس اور ڈاٶڈ فل  کا خوف اندر سے دور ہو اور ملک میں امن وامان قائم رہے ہے ایس ڈی ایم نے دستخطی مہم کی تائید کی ہے اور اچھا قدم بتایا اور کہا کہ ملک  جمہوری ہے اتفاق اور عدم اتفاق دونوں کا اختیار ہے پرامن طریقے سے اپنی آواز سرکار تک پہنچانا ہر شہری کا دستوری حق ہے۔
مفتی اشفاق احمد اعظمی نے سی اے اے اور این آر سی  کے تعلق سے بتایا کہ اس سیاہ قانون سے ملک میں اضطراب اور بے چینی ہے یونیورسٹی کے طلبہ سڑکوں پر اترے ہیں اپوزیشن پارٹیاں مسلسل مخالفت اور مظاہرہ کر رہی ہیں پورا ملک ہندو مسلمان سب ایک ساتھ کھڑے ہیں مگر مرکزی اور ریاستی بی جے پی سرکار سنجیدگی سے نوٹس لینے کے بجائے مخالف نظریہ کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہی ہے اور سرکاری مشینری کا بیجا استعمال کرکے انتقام کے جذبہ سے عام لوگوں پر حملہ آور ہیں ایسی صورت میں دانشمندی اور شعور سے کام لیں جمیعت علماء ہمیشہ خود سڑک پر اترنے اور دھرنا پردرشن سے دور رہی ہے مگر یہ جمہوری حق ہے جو لوگ استعمال کرتے ہیں ان کی مخالفت نہیں کرتی ہے مقصد میں وہ ساتھ ہیں طریقہ کار اسکا الگ ہے آئین بچانے کے لیے جو بھی میدان میں اپنی قربانیاں پیش کرتے ہیں ان کی جراءتوں کو سلام کرتی ہے ان کی تحریک میں برابر کی شریک ہےانہوں نےکہا دستخطی مہم کا فیصلہ اچھا قدم ہے عدم تشدد سے ملک آزاد ہوا ہے عدم تشدد اسلام بھی سکھاتا ہے جس کو گاندھی جی نے بھی قبول کیا اور اپنایا ہمیں عدم تشدد کے راستے میں پوری جرآت و ہمت سے لگنا ہے انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے انگریزوں کے دور کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اپنے مفاد میں انسانی جانوں کی نہ کوئی قیمت ہے  اور نہ ملک کا نقصان اور نہ ہی امن کی پرواہ ہے اس لیے مخالفت کی تحریک کو حکمت عملی سامنے چلانا ہوگا اس اجلاس میں خصوصیت کے ساتھ مولانا شاہد القاسمی ، مولانا شمیم احمد، مولانا محمد افضل، مفتی محمد اعظم اعظمی، مولانا محمد انور ،مولانا فہیم احمد، مولانا مستقیم ،مولانا محمد اظفر، حافظ عبدالعظیم ،مولانا محمد انظر، مفتی محمد راشد، وصی صدیقی، محمد اکرم ،محمد فیصل، محفوظ احمد اصلاحی محمد اصغر، کے علاوہ بڑی تعداد میں اراکین نے شرکت کی۔

پاورلوم بنکروں کے بدحالی کی ذمہ دار حکومت ہے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طالبہ ام کلثوم انصاری نے کیا اپنے خیالات کا اظہار

پاورلوم بنکروں کے بدحالی کی ذمہ دار حکومت ہے

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طالبہ ام کلثوم انصاری نے کیا اپنے خیالات کا اظہار
معراج احمد انصاری
ٹانڈه/امبيڈکرنگر :29 دسمبر 2019 آئی این اے نیوز
ٹانڈه پاورلوم بنکروں کے مسائل زیادہ، وسائل کم ہیں۔ دراصل اس کی خاص وجہ بنکروں کے ساتھ صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی جانبدارانہ پالیسی ہی رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طالبہ محترمہ ام کلثوم انصاری نے ہمارے نمائندہ سے باتچیت کے دوران کیا۔ محترمہ نے کہا کہ اگر کپڑا بنائی کی صنعت اور اس سے وابستہ لوگوں کو بھی کسانوں کی طرح دیکھا جاتا تو آج یہ بدحالی کے حالات پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتیں بنکروں کے ساتھ جانبدارنہ برتاؤ کرتی رہی اور ان کے مسائل کو حل کرنے میں ذرا بھی سنجیدہ نہیں رہی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سے قبل کی حکومتوں نے بھی بنکروں کے مسائل کو حل کرنے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں کی۔ واضح رہے کہ ٹانڈہ کے ایک غریب بنکر خاندان سے وابستہ ام کلثوم کی ذہانت کے  چرچے شہر میں تب ہونے شروع ہوئے  جب انہوں نے پاورلوم کی ہڑتال کے دوران گزشتہ روز ضلع کے اعلیٰ افسران اور بنکروں کی منعقد مشترکہ اجلاس میں پہنچ کر بڑی بےباکی اور ہمت کے ساتھ بنکروں کے تمام مسائل کو زوردار طریقے سے پیش کیا اور پاورلوم بنکروں کو فلیٹ ریٹ میں بجلی کی فراہمی کو جاری رکھے جانے کا مطالبہ کیا۔ ٹانڈہ کی اس شہزادی نے موجودہ تعلیمی ماحول کے تئیں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  بنکروں کی بدحالی کا سب سے بڑا سبب تعلیمی فقدان ہے۔ تعلیم نہ ہونے کے سبب یہ طبقہ اپنے آئینی اور دستوری حقوق بھی حاصل نہیں کر پا رہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنکروں کی بدحالی سے نمٹنے کے لئے حکومت نے تو کئی ادارے بنائے لیکن ان کی سفارشات کو ایمانداری کے ساتھ لاگو نہیں کیا گیا جس کا نتیجہ سامنے ہے۔ انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ٹانڈہ شہر کو دیکھ کر ایسا محسوس کرتا ہے کہ یہ صنعتی شہر بہت سی سہولتوں اور  توجوہات سے محروم ہے، مگر یہاں کی عوام آج بھی بجائے شکایت کرنے کے سہولیت کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو انکا شہری حق ہے۔ دیکھیں اس صنعتی شہر میں کب ایسے وسائل پیدا ہوتے ہیں، جن  سے مسائل ختم ہو اور بنکروں کا واحد روزی روٹی کا ذریعہ پاورلوم صنعت انہیں روزگار فراہم کرنے میں متحرک ہو جائے۔ جس سے یہاں کے بنکروں کی اقتصادی اور سماجی حالت بہتر ہو جائے۔ محترمہ نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف پورے ملک میں جاری تحریکات کا ذکر کرتے ہوئے اس قانون کی سخت لفظوں میں مخالفت کی اور کہا کہ شہریت تر میمی قانون ملک کے سیکولر کردار اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی طرح کے تشدد کی حمایت نہیں کرتیں ہوں لیکن ملک کے مستقبل کے معمر طبقے کے ساتھ پولیس کا وحشیانہ سلوک اور انکے ساتھ کی گئی زیادتی اور مظالم کی سخت مذمت کرتی ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت میں ہر ایک کو پر امن طریقے سے احتجاج کرنے کا اختیار خود آئین نے دیا ہے، اگر حکومت اپنے خلاف کسی احتجاج یا تنقید کو برداشت نہیں کرتی تو یہ ملک کے آئین کے منافی ہے، کیونکہ حکومت طاقت کی بنیاد پر کسی کے آواز کو پست نہیں کر سکتی، ہمارا ملک دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ ام کلثوم نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سمیت دیگر تمام تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات پر پولیس کی بربریت کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔

جامعہ نگر: کپکنا دینے والی سردی میں بھی نہیں کم ہورہا ہے خواتین کا حوصلہ، شاہین باغ کا خواتین کا احتجاج جاری رہا

جامعہ نگر: کپکنا دینے والی سردی میں بھی نہیں کم ہورہا ہے خواتین کا حوصلہ، شاہین باغ کا خواتین کا احتجاج جاری رہا 

ایسے حالات میں جب انتہائی سخت سردی میں لوگوں کا گھروں سےنکلنا مشکل ہورہا ہو، شاہین باغ کی خواتین مسلسل 14 روز سے دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ دن ورات وہ اپنے حقوق کی آواز کے ساتھ یہاں سے نہ ہٹنے کے اپنے موقف پرقائم ہیں۔
نئی دہلی /29 دسمبر ٢٠١٩۔آئی این اے نیوز 
=============================
: شمالی ہندوستان سمیت ملک بھرمیں کپکپا دینےوالی سردی کےدرمیان بھی شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کا سلسلہ رکنےکا نام نہیں لے رہا ہے۔ اسی ضمن میں جامعہ نگرکےشاہین باغ علاقےمیں انتہائی سرد موسم میں بھی خواتین کے جذبے اورحوصلے میں کسی طرح کی کمی نہیں آرہی ہےاورسینکڑوں کی تعداد میں خواتین انتہائی سرد موسم میں بھی رات میں شاہین باغ واقع ہائی وے پربیٹھ کراحتجاج کررہی ہیں۔
1577564594570408-0
 ایسے حالات میں جب لوگوں کا گھرسےنکلنا مشکل ہورہا ہو، ایسےحالات میں خواتین کا احتجاج پر بیٹھنا ان کی سخت ناراضگی کو ظاہر کرتا ہے۔
واضح رہےکہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مسلم خواتین کی ناراضگی کا سلسلہ گزشتہ 14 راتوں سےجاری ہے۔ تاہم جامعہ نگرکی خواتین کی ناراضگی میں اس وقت اضافہ ہوگیا، جب دہلی پولیس کے ذریعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں اندرگھس کرطلباء کے خلاف کارروائی کی گئی اورلائبریری میں آنسوگیس کےگولے داغےگئے۔ اس کے بعد شاہین باغ میں اپنی نوعیت کا مختلف احتجاج شروع کیا گیا، جہاں پرخواتین گھروں سے باہرنکل کراحتجاج  پربیٹھ گئیں۔ شاہین باغ میں ہونے والے احتجاج میں مختلف کلچرل پروگرام اورشاعری کے ذریعہ لوگ اپنی بات رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی یہاں سےآزادی کےنعرے اور اپنے حقوق کےنعرے بھی لگائے جارہے ہیں۔
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں مردو خواتین کے ساتھ بچے بھی شامل ہیں۔
مظاہرین نے سریتا وہار- نوئیڈوا ہائی وے پرایک عارضی خیمہ قائم کرلیا ہے اوروہ دن ورات یہاں بیٹھے رہتے ہیں۔ یہاں ایک اسٹیج بھی بنایا گیا ہے، جس پردن ورات مقامی لوگ موجود رہتےہیں۔ اس احتجاج میں شامل ہونے والوں کے کھانے پانی اورچائےکا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔  100 لو گوں کا رضاکارانہ گروپ ہے، جو باری باری چائے، کھانا، پانی اوردوسری چیزوں کا انتظام کرتا ہے۔ ساتھ ہی خواتین کےتحفظ کے لئے بھی ایک گروپ راتوں کو موجود رہتا ہے اوراپنی ذمہ داری کو انجام دیتا ہے۔
واضح رہےکہ قومی راجدھانی دہلی میں سردی نےآج 118 سال کا ریکارڈ توڑدیا ہے۔  محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتہ کی صبح 8.30 بجے دہلی کے لودھی روڈ علاقہ میں درجہ حرارت ابھی تک کا سب سے کم 1.7 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ وہیں صفدرجنگ انکلیو میں 2.4، پالم میں 3.1 اورآیا نگرمیں درجہ حرارت 1.9 ڈگری سیلیس ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے پہلےآج صبح 6 بج کر10 منٹ پردہلی میں درجہ حرارت 2.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ دہلی میں سردی کا عالم یہ ہےکہ لوگوں کوآگ کا سہارا لینا پڑرہا ہے۔ انسان کے ساتھ ساتھ جانوربھی اس کڑاکےکی ٹھنڈ سے پریشان ہیں، لیکن جامعہ نگر اورشاہین باغ کی خواتین کے حوصلے میں کسی طرح سے کوئی کمی نہیں آرہی ہے۔

*عمر رفتہ اور سال نو* *ریان داؤد سیہی پور* *متعلم جامعہ شیخ الہند*

*عمر رفتہ اور سال نو*

*ریان داؤد سیہی پور*
*متعلم جامعہ شیخ الہند*

زندگی اللہ پاک کا عظیم عطیہ اور قیمتی امانت ہے ؛اس کا درست استعمال انسان کے لیے دنیوی کامیابی اور اخروی سرفرازی کا سبب ہے اوراس کا ضیاع انسان کو ہلاکت وبربادی کے دہانے تک پہونچادیتا ہے۔ قیامت میں انسان کو اپنے ہر قول و عمل کا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے پورا حساب دیناہے ؛اس لیے ضروری ہے کہ انسان کسی بھی عمل کو انجام دینے سے پہلے اس بات پر بہ خوبی غورکرلے کہ اس عمل کے ارتکاب کی صورت میں وہ کل کیا صفائی پیش کرے گااور اپنے معبود حقیقی کو کیا منہ دکھائے گا؟؟۔آج مسلمانوں نے دیگر اقوام کی دیکھا دیکھی بہت سی ان چیزوں کواپنی زندگی کا حصہ بنالیا اور انہیں اپنے لیے لازم و ضروری سمجھ لیا؛جو دین و دنیا دونوں کی تباہی و بربادی کا ذریعہ ہیں
انہیں خرافات اور ناجائز رسومات میں "سال نو کا جشن” بھی
دنیا کےتمام  مذاہب اور قوموں میں تہوار اور خوشیاں منانے کے مختلف طریقے ہیں ۔ہر  ایک  تہوار  کا کوئی نہ کوئی پس منظر ہے اور  ہر تہوار کوئی نہ کوئی پیغام دے کر جاتا ہے جن  سےنیکیوں کی ترغیب ملتی ہے اور برائیوں کو ختم کرنے کی دعوت ملتی ہے ۔ لیکن لوگوں میں بگاڑ آنےکی وجہ سے  ان میں ایسی بدعات وخرافات بھی شامل ہوگئی ہیں کہ ان کا اصل مقصد ہی فوت جاتا ہے ۔جیسے   جیسے دنیا ترقی کی منازل طے کرتی گئی انسانوں نےکلچر اور آرٹ کےنام سے نئے نئے  جشن  اور تہوار وضع کیےانہی میں سے ایک نئے سال کاجشن ہے ۔ نئے سال کےجشن میں  دنیا بھر میں  رنگ برنگی لائٹوں اور قمقمو ں سے  اہم عمارات کو  سجایا جاتا ہے اور 31؍دسمبر کی رات  میں 12؍بجنے کا انتظار کیا  جاتا ہے۔ 12؍بجتے  ہی ایک دوسرے کو مبارک باد دی جاتی کیک کاٹا جاتا ہے ، ہرطرف ہیپی نیوائیر کی صدا گونجتی ہے،آتش بازیاں کی جاتی ہے  اور مختلف نائٹ کلبوں میں تفریحی پروگرام رکھا جاتا ہےجس میں شراب وشباب اور ڈانس کابھر پور انتظام  رہتا ہے  اس لیے کہ ان کی تفریح صرف دوچیزوں سےممکن ہے شراب اور عورت۔

’نئے سال یا مہینے کی آمد پہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے: اے اللہ! ہمیں اس میں امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ داخل فرما۔ شیطان کے حملوں سے بچا اور رحمن کی رضامندی عطاء فرما۔‘‘ نیا سال منانے والے اور اسکی مبارک باد دینے والے الله کے نبی کی یہ حدیث یاد رکھیں’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ کل قیامت کے دن انہیں میں شمار ہوگا‘‘(ابو داؤد)
غورکیاجائے تونیا سال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کی طرف متوجہ کرتاہے کہ ہماری زندگی کا جو ایک سال کم ہوگیا ہے اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟کیوں کہ وقت کی مثال تیز دھوپ میں رکھی ہوئی برف کی اس سیل سے دی جاتی ہے ؛جس سے اگر فائدہ اٹھایا جائے تو بہتر ورنہ وہ تو بہر حال پگھل ہی جاتی ہے۔

شہریت ترمیمی قانون ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے لئے مھلک مولانا محمد علی نعیم رازی کا چیف جسٹس آف انڈیا کے نام مکتوب

شہریت ترمیمی قانون ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے لئے مھلک

مولانا محمد علی نعیم رازی کا چیف جسٹس آف انڈیا کے نام مکتوب
٢٩ دسمبر
لکھنؤ: معروف سماجی خدمتگار مولانا محمد علی نعیم رازی نجیب آبادی نے چیف جسٹس آف انڈیا کے نام تحریر ایک مکتوب میں شہریت ترمیمی بل کو ملک کے لئے بیحد خطرناک بتاتے ہوئے اس کو عدالت عظمیٰ کے ذریعے فوری طور پر منسوخ کئے جانے کا مطالبہ کیا
مولانا محمد علی نعیم رازی نے اپنے مکتوب میں لکھا کہ حال ہی میں منظور شدہ شہریت ترمیمی قانون ملک کے بنیادی آئین سے متصادم ہے اور قانون کی دفعہ ١٤ اور ١٥ کی صراحتاً خلاف ورزی ہے آئین کی ان دفعات میں صراحتاً اس بات کا ذکر ہے کہ ملک کے شہریوں کے درمیان  مذہب،رنگ،نسل اور علاقے کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی تفریق نہیں کی جا سکتی ہے لہذا شہریت ترمیمی قانون آئین کی ان دفعات سے صراحتاً متصادم ہے
مولانا محمد علی نعیم رازی نے چیف جسٹس سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ حکمران جماعت نے اس قانون کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے تعداد کی بنیاد پر منظور کرالیا ہے اور ملک کے صدر جمہوریہ بھی اس پر دستخط کرچکے ہیں ایسے حالات میں ملک کے انصاف پسند اور آئین میں یقین رکھنے والے سیکولر طبقے کی امید بھری نگاہیں عدالت عظمیٰ اور آپ کی جانب ہیں اس نازک وقت میں آپ ملک کو تباہی اور بربادی کی جانب گامزن ہونے سے بچائے
مولانا محمد علی نعیم رازی نے اپنے مکتوب میں لکھا کہ ملک کی آزادی کے وقت ہمارے اکابر نے دوقومی نظریہ کو مسترد کردیا تھا اور ایک سیکولر ریاست کو تسلیم کیا تھا لیکن افسوس کہ آزادی کے سات دہائیوں بعد ایک بار پھر سے مذہبی تفریق کے ذریعے دوقومی نظریہ کو زندہ کیا جارہا ہے جو ملک اور تمام باشندگان ملک کے لئے بیحد نقصان دہ ہے نیز ملک کی ہزارہا برس قدیم گنگا جمنی تہذیب کے لئے بھی مہلک ہے

آخر میں مولانا محمد علی نعیم رازی نے قابل احترام چیف جسٹس آف انڈیا سے امید ظاہر کی کہ وہ یقینا ملک کے آئین کی حفاظت کرتے ہوئے اس سیاہ قانون کو ختم کریں گے اور ملک کے انصاف پسند طبقہ کے عدلیہ کے تئیں یقین اور اعتماد کو متزلزل نہیں ہونے دیں گے

Saturday, 28 December 2019

تین دہائی فوج میں رہے فوجی ثناء اللہ کا سنسنی خیزخلاصہ گولپارا، تیج پور اور جورہاٹ میں حراستی مراکز نہیں تو کیا پکنک مقام ہیں

تین دہائی فوج میں رہے فوجی ثناء اللہ کا سنسنی خیزخلاصہ
 گولپارا، تیج پور اور جورہاٹ میں حراستی مراکز نہیں تو کیا پکنک مقام ہیں
گوہاٹی۔۲۸؍دسمبر: میں ہندوستانی ہوں،ہندوستانی کے طور پر ہی مروںگا اور مجھے دفن بھی یہیں کیا جائے گا۔یہ جذبات ریٹائرڈ فوجی محمد ثناء اللہ کے ہیں، جنہوں نے زندگی کی تین دہائی تک ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دی۔آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آرسی) کی فائنل لسٹ میں نام نہیں آنے کے بعد انہیں گوہاٹی سے چار گھنٹے کے فاصلے پر واقع گولپارا کے ڈٹینشن سینٹر میں ڈال دیا گیا تھا،معاملہ عدالت میں پہنچا،آخر کار 8 جون کو گوہاٹی ہائی کورٹ سے انہیں ضمانت ملی لیکن اس وقت تک ثناء اللہ قریب سال بھر کا وقت ڈٹینشن سینٹر میں گزار چکے تھے۔ثناء اللہ سے جب وزیر اعظم مودی کے ڈٹینشن سینٹر پر دئے گئے بیان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے تلخی بھرے انداز میں کہاکہ اگر گولپارا، تیج پور اور جورہاٹ میں ڈٹینشن سینٹر نہیں ہیں تو کیا پکنک مقام ہیں؟۔ دراصل گولپارا ڈٹینشن سینٹر آسام کے 6 ڈٹینشن سینٹروں میں سے ایک ہے،بات چیت میں ثناء اللہ کے چہرے پر وہاں ان کے ساتھ ہوئے رویے کو لے کر مایوسی صاف جھلک رہی تھی۔ثناء اللہ نے کہاکہ این آرسی لسٹ میں سے 19 لاکھ لوگ باہری ہیں، ان میں سے ایک میں بھی ہوں،ورثہ ڈیٹا میں میں نے حکام کو 1966 کی ووٹر لسٹ دکھائی، جس میں میرے والد کا نام تھا،گھر کے باقی اراکین نے بھی ایسا ہی کیا تھا لیکن، میرے اوپر ایک فارنر کیس زیرالتوا تھا، تو میرا نام لسٹ میں نہیں آیا،میں نے فوج میں کشمیر سے لے کر منی پور تک فخر کے ساتھ اپنی ڈیوٹی کی،2017 میں گروپ کیپٹن کی پوسٹ سے ریٹائر ہوتے وقت تک مجھے نہیں معلوم تھا کہ اپنے ہی ملک میں مجھے غیر ملکی قرار دے دیا جائے گا۔ڈٹینشن سینٹر میں گزارے دنوں کو یاد کرتے ہوئے ثناء اللہ نے بتایاکہ ایک بیرک میں 40 سے 50 لوگ رکھے جاتے تھے،بیرک محض ایک چھوٹے سے کمرے جیسا تھا،جیسا سلوک وہاں ہوتا تھا، ویسا کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے،نام صرف ڈٹینشن سینٹر ہے، کارروائی مکمل جیل جیسی ہوتی ہے۔ثناء اللہ نے کہاکہ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں ڈٹینشن سینٹر ہیں ہی نہیں تو گولپارا، تیج پور اور جورہاٹ میں کیا ہیں؟ کیا وہ پکنک مقام ہیں؟ ڈٹینشن سینٹر نہ ہوں تو اسے دوسرا نام دے دو،اسے جیل بتا دو،جیل کے اندر اندر لوگوں کو کیوں رکھا جا رہا ہے؟ ۔ثناء اللہ کے خاندان کے لئے گزشتہ چند ماہ برے خواب کی طرح تھے،پانچ افراد کے خاندان میں ثناء اللہ سمیت بیوی اور تین بچے ہیں،ان کے ستگائوں میںاقع عام سے مکان تک ایک کچی پکی سڑک جاتی ہے،سالوں تک فوج میں کام کرنے کے بعد ثناء اللہ نے یہ مکان بنایا،اپنی عام آمدنی میں سے جو تھوڑی بہت بچت اس خاندان نے کی تھی، اس کا زیادہ تر حصہ قانونی فیس میں خرچ ہو گیا۔ثناء اللہ کی بیوی سلیمہ ٹھیک سے سو بھی نہیں پاتی ہیں۔ریٹائرڈ فوجی نے کہا کہ حکومت نے بھلے ہی این آرسی لسٹ سے باہر ہوئے لاکھوں قانونی مدد کا اعلان کیا ہو، لیکن ایسی کوئی مدد ملتی دکھائی نہیں دے رہی ہے،جو تھوڑی سی راحت کی بات ہے، وہ یہ کہ ثناء اللہ کا معاملہ میڈیا میں آ گیا،اس کے بعد انہیں گوہاٹی ہائی کورٹ سے 8 جون کو ضمانت ملی، انہیں پوری امید ہے کہ ملک کے لئے کی گئی خدمات کو دیکھتے ہوئے عدالت ان کے ساتھ انصاف ضرور کرے گی۔

شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف دیوبند میں احتجاجی مظاہرہ جاری ! انتظامیہ کو سخت انتباہ،پر امن احتجا ج پر کارروائی کرکے دکھائیں،۳۵۰؍ کارکنان نے گرفتاری دی

شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف دیوبند میں احتجاجی مظاہرہ جاری !
انتظامیہ کو سخت انتباہ،پر امن احتجا ج پر کارروائی کرکے دکھائیں،۳۵۰؍ کارکنان نے گرفتاری  دی
دیوبند۔۲۸؍دسمبر(ایس۔چودھری)سی اے اے اور این آرسی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کے تحت جاری احتجاجی مظاہرہ اور گرفتاری پروگرام کے دوران آج تنظیم کے ضلعی ذمہ داران نے پولیس انتظامیہ سے کہاکہ وہ جمعیۃ کی جانب سے چلائے جانے والے پر امن احتجاج کو سمجھیں اور جماعت کی تاریخ سے بھی واقفیت حاصل کریں، گزشتہ کئی دنوں سے جمعیۃ علماء ہند کے عہدیدان کو سخت لہجہ میں یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ اس احتجاج کے راستہ کو ترک کردیں لیکن جمعیۃ علماء ہند نے اپنے احتجاجی پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے واضح طورپر کہاکہ ان کے خلاف کارروائی کی دھمکی دینے والے کوئی کارروائی کرکے دکھائیں، اس دوران سی اے اے اور این آرسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 350؍ لوگوں نے اپنی گرفتاری دی۔ تفصیل کے مطابق بعد نماز ظہر دیوبند کے عیدگاہ میدان جمعیۃ کارکنان نے گرفتاری دینے کے لئے دھرنا دیا۔اس موقع پر پروگرام کی صدارت کررہے جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے صدر مولانا ظہور احمد قاسمی نے کہاکہ آزادی کی جنگ میں جمعیۃ علماء ہند کا اہم کردار ہے، انہوں نے کہاکہ جمعیۃ علماء کے پر امن احتجاج کو کچھ لوگ نشانہ بنارہے ہیں اور غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں، ان لوگوں نیز انتظامیہ کو شاید جمعیۃ علما ء ہندکی تاریخ سے واقفیت نہیں ہے۔ مولاناظہور احمد قاسمی نے کہاک میرٹھ،لکھنؤ،کانپور،بجنور،بنارس اور مظفرنگر سمیت دیگر شہروں میںہوئے پر امن احتجاج میں شامل مظاہرہ میں شامل لوگوں کو صوبہ کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حکم پر پولیس انتظامیہ نے اپنے ظلم و بربریت کانشانہ بنایا جو نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ کھلی دہشت گردی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک میں اپنا حق مانگنے والوں کو فسادی کہاجارہاہے، جو ہمیں لوٹ رہے ہیںوہیںہمیں کارروائی کئے جانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جسکو کبھی برداشت نہیںکیاجائیگا۔ جمعیۃ علماء کے ضلع جنرل سکریٹری ذہین احمد نے کہاکہ صوبہ جھارکھنڈ کے عوام حکومت وقت کو سبق سکھا دیاہے اور سی اے اے و این آرسی کا بہتر جواب دیا ہے۔انہوں سوال کیاکہ اگر ہم زیادتیوں اور نا انصافیوںکے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور آئین میں دیئے گئے حقوق کامطالبہ کرتے اور ان کی بازیابی کے لئے پرامن احتجاج کرتے ہیں تو ہمیں فسادی کہاجاتاہے۔ انہوں نے صوبہ کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو کہاکہ جو بی جے پی کے اراکین اسمبلی اسمبلی میں ان کے خلاف اپنے حقوق کے لئے احتجاج کررہے تھے کیاوہ بھی فسادی ہیں؟۔ اس دوران احتجاجی مظاہرین نے سی اے اے اور این آرسی کے خلاف زبردست نعرہ بازی کرتے ہوئے اس قانون کو واپس لینے کی مانگ کی۔ صدارت مولاناظہور قاسمی نے کی اور نظامت مولانا محمود صدیقی بستوی نے کی۔ اس دوران مولانا ابراہیم قاسمی، شہر سکریٹری عمیر احمد عثمانی، چودھری صادق سمیت سیکڑوں کارکنان موجودرہے۔ اس دوران 350؍ کارکنان نے اپنی گرفتاری دی،جنہیں گرفتار کرنے کے بعد ایس ڈی ایم نے موقع پر ہی رہا کردیا۔ احتجاج کے دوران ایس پی دیہات ودھیا ساگر مشر،ایس ڈی ایم راکیش کمار سنگھ،سی او چوب سنگھ،کوتولای انچارج یگ دت شرما سمیت بڑی تعداد میں پولیس فورس اور خفیہ محکمہ کے کارکنان مستعد نظر آئے۔