اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 29 July 2017

حـج ھاؤس کیلئے مسلم مہا سبھا کے صدر نے خون سے لکھا وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی کو خط!


رپورٹ: محمد عاصـــم اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
غازی آباد(آئی این اے نیوز 29/جولائی2017)مسلم مہا سبھا کے قومی صدر عمران خان کی طرف سے سرائے نظر علی والی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی،  اس کے بعد مسلم مہاسبھا کے قومی صدر عمران خان نے اپنے خون سے خط لکھا، اس میں لکھا کی عالی جناب یوگی جی حج ہاؤس کھلنا چاہئے اگر جلد سے جلد حج ہاؤس نہیں کھلا تو ایک بڑی تحریک کا آغاز ہوگا۔
عمران خان کے ساتھ تمام مسلم سبھا کے عہدیدار اور کارکنوں کے ساتھ میں سٹی مجسٹریٹ کی طرف سے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے نام میمو دیا گیا.
اس میمو کو دینے والوں میں اللو پردھان، ڈاکٹر وکیل صوبہ کور کمیٹی رکن عمران ملک، اتر پردیش انچارج حاجی ناظم، بھولو چودھری، مغربی اتر پردیش صدر صہیب سلماني، مغربی اتر پردیش انچارج گلزار صدیقی.وہیں صوبہ سیکرٹری جنرل حیدر علی، ضلع صدر انصار علوی پردیش، سیکرٹری جنرل نعمان خان، صوفی علی احمد، ماسٹر خیر الدین. اس دوران قومی صدر عمران خان نے کہا کہ مغربی اتر پردیش سے ایک بھاری تعداد میں حج مسافر جاتے ہیں، پچھلی حکومت نے حج ہاؤس کھلنے سے انہیں راحت ملی تھی، جو موجودہ حکومت نے اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بند کردی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانیاں ہورہی ہیں۔

Friday, 28 July 2017

دارالعلوم وقف دیوبند کا جدید طالب علم محمد ناظم میرٹھی کی ٹرین کے نیچے آنے سے موت!



رپورٹ: سلمان دہلوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیوبند(آئی این اے نیوز 28/جولائی 2017) آج دارالعلوم وقف دیوبند  کے ایک  جدید طالب علم محمد ناظم (جو کہ میرٹھ کا رہنے والا تھا) کا ٹرین کے نیچے آنے سے موت ہوگئی، "انا للہ وانا الیہ راجعون".
موصولہ خبر کے مطابق محمد ناظم میرٹھی کا اسی سال سوم عربی میں داخلہ ہوا تھا، اور آج وہ بھائلہ روڈ کی طرف ٹہلنے گیا تھا اسی وقت ٹرین آئی اور اسے اپنے لپٹ میں لے لیا جہاں محمد ناظم کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی، وہاں موجود دیگر طلبہ نے آناً فاناً دارالعلوم وقف کے انتظامیہ اور پولیس کو اطلاع دی، موقع پر پہنچی پولیس نے لاش کو اپنے قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے بھیجنے کی تیاری میں میں مصروف ہوگئے.
دارالعلوم وقف کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی صاحب بھی موقع پر پہنچ گئے جہاں طالب علم کی شناخت کے بعد مولانا قاسمی نے طالب علم کے اہل خانہ کو خبر کی.
واضح ہو کہ ریلوے پھاٹک کی طرف اکثر طلبہ ٹہلنے کے غرض سے جایا کرتے ہیں اور دارالعلوم وقف و دیگر مدارس کے ذمہ داران اس طرف جانے سے بارہا منع کرتے رہتے ہیں.

قاسمی کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ اپنے ایک سال کی کامیابی پر ویب ڈیزائنگ کیساتھ دیئے کچھ نئے کورس!



رپورٹ: محمد انظر اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سرائے میر/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 28/جولائی 2017) مشہور ٹیکنیکل ادارہ قاسمی کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ مین روڈ سرائے میر اعظم گڈھ کے منیجر محمد فیصل اعظمی نے کمپیوٹر کے ہر طرح کے کورس کے ساتھ اس سال سے انگلش اسپیکنگ تین مہینہ مکمل کورس اسی طرح ویب ڈیزائنگ کا مکمل کورس بائلوجی سائنس شوشل سائنس میتھ انگلش ہندی کوچنگ کورس کی منظوری دی.
 محمد فیصل اعظمی نے کہا کہ سرائے میر علاقے میں پہلی بار ویب ڈیزائنگ کا کورس شروع ہونے جارھا ہے جس سے علاقے کے طلبہ بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں تعلیمی ماحول کو آگے بڑھانے کے لئے ہر کورس کے لئے داخلہ جاری ہے.
 ڈائریکٹر محمد انظر اعظمی نے کہا کہ صبح 10  بجے سے رات 8 بجے تک کی بیچ ہے جبکہ طلبہ مدارس کی خصوصی بیچ بعد نماز ظہر اور عصر چلتی ہے اس سال بھی طلبہ مدارس کے لئے رجسٹریشن کے بعد مفت میں داخلہ فارم دیا جارہا ہے 1/اگست 2017 سے باضابطہ تعلیم کا آغاز کیا جارہا ہے.

پانی کے تنازعہ میں مارپیٹ، ایک زخمی!


رپورٹ: عبدالکافی چشتی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جین پور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 28/جولائی 2017) جين پور کوتوالی علاقے کے نوکا پورہ بیری ڈاڑ کا باشندہ سكھاری عمر 50 سال بیٹے چندرپتی پٹیل جمعرات کی رات 10:00 بجے اپنے دھان کے کھیت میں نہر سے پانی چلا رہا تھا، پانی چلانے کے تنازعہ کو لے کر گاؤں کے ہی دو لوگوں نے سكھاری کو کھیت میں ہی مار پیٹ کر زخمی کر دیا، زخمی حالت میں گاؤں کے لوگوں نے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر عظمت گڑھ لے گئے جہاں سے ڈاکٹر نے اعظم گڑھ کے لئے ریفر کر دیا.
بتا دیں کہ گزشتہ رات نہر سے سكھاری پانی چلا رہا تھا گاؤں کے ہی دلاری دیوی بیوی نورنگی اپنے کھیت میں پانی چلانے لگی اسی بات کو لے کر دونوں میں کہا سنی ہوئی دلاری گھر آکر بتایا،پھر 2 لوگ پہنچے اور پانی چلا رہے سكھاری کو مارپیٹ کر زخمی کر دیا.

یوم آزادی تقاریب میں برادرانِ وطن کو بھی مدعو کرکے گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیں: جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش


رپورٹ: شہــاب الــدیــن
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حیدرآباد(آئی این اے نیوز 28/جولائی 2017) جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پر دیش کا ارکین عا ملہ و اراکین منتظمہ کا ایک اہم اجلاس آج صبح دفتر ریاستی جمعیۃ علماء مسجد زم زم باغ عنبر پیٹھ، بصدا رت حضر ت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پر دیش منعقد ہوا ۔
اجلاس میں ملک کی مو جو دہ صورت حال پر غور و فکر کیا گیا کہ اس وقت ملک کے حالات پر قابو پانے کے لئے جذبات سے نہیں ؛ بلکہ پیار و محبت اور ہو ش و دانش مندی ہی مؤثر ذریعہ ہے ،جس کے لئے برادران وطن کے سا تھ مختلف موا قع پر منعقد ہونے والے اجلاس میں ان کے سامنے ملک کی آزادی میں اکابرین و اسلاف کی بے مثال قربانیاں اور مسلمانوں کا عظیم الشان ماضی پیش کیا جائے، اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، ملک و ملت کی سالمیت اور گنگا جمنی تہذیب کو باقی رکھنے کے لیے کسی بھی موقع کو گنوائے بغیر ہمیں آگے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اشد ضرورت ہے ۔ حال ہی میں جمعیۃ علماء کے مرکزی عاملہ کی منعقدہ مشاورتی نشست میں طئے پائے امن مارچ کے انعقاد کے سلسلہ میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ان شاء اللہ 13/اگست کو ریاستی جمعیۃ علماء کی یونٹیں اپنے اپنے متعلقہ حلقہ جات شہر و اضلاع میں خا مو شی کے ساتھ ’’ امن مارچ ‘‘منعقد کریں گی ،ہا تھ میں صرف پلے کارڈ ہوگا کوئی بیان بازی نہیں ہوگی ۔ ورکننگ کمیٹی جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش نے متفقہ طور پر اس تجویز کو منظور کیا کہ فلسطینی مسلمانوں پر اسرا ئیل کی جو بربریت کا سلسلہ جاری ہے ، اور مسجد اقصیٰ کے اطراف و اکناف پر نا جائز قبضہ کرکے نت نئی مصیبتیں کھڑی کررہے ہیں جمعیۃ علماء اس کی سخت مذمت کرتی ہے اور حکو مت ہند سے مطالبہ کرتی ہے کہ انسانیت کے ناتے اقوام متحدہ میں آواز اٹھائی جا ئے ۔
اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ دونوں ریاستوں میں جمعیۃ علماء کے تعمیری اور تنظیمی کاموں کو مستحکم کرنے کے لئے مختلف اضلاع میں کارکنانِ جمعیۃ کو جوڑ کر تربیتی کیمپ منعقد کرے گی اور اس سو سالہ قدیم جما عت کے پیغام کو جیسے ہمارے اکابر علماء کرام نے ہم کو نہج دیا ہے، اسی نہج پر کام کر تے ہوئے اس کاز کو آگے بڑھائیں گے ۔خصوصاً جہاں مسلمانوں کی زیادہ آبادی ہے اور اس مقام پر جہاں کم آبا دی ہے ہر ضلع کے ذمہ دار شخص کو چا ہئے کہ ہر ماہ میں ایک یا دو دن ان علا قوں کادورہ کر کے وہاں کے حالات کا جائزہ لیں۔اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ حسب سابق ہر سال کی طرح امسال بھی ریا ستی اور ضلعی سطح پر جمعیۃ علماء کے زیر اہتمام جلسہ اصلاح معاشرہ اور جلسہ سیرت النبی ﷺ دو نوں ریاستوں کے اضلاع، تعلقہ جات ، منڈلوں میں منعقد کئے جا ئینگے ،جس میں مقامی علماء کرام کے علا وہ ملک کے ممتاز علماء کرام کو بحیثیت مہمانِ خصوصی مدعو کیا جائے گا ، جمعیۃ علماء کی جا نب سے گزشتہ 20 سالوں  سے یہ مہم جا ری ہے ۔
ہر سال کی طرح امسال بھی دونوں ریاستوں میں یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے مواقع پر اجلاس منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ واضح رہے جمعیۃعلماء کی آواز پر گزشتہ 15؍سالوں سے ہر سال یوم آزدای اوریوم جمہوریہ کے موقع پر بڑے پیمانہ پر اجلاس منعقد کیے جارہے ہیں جس میں برادران وطن کو بھی بطورِ خاص مدعو کیا جارہا ہے ۔

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تها!


  ازقلم: محمد عظیم فیض آبادی دارالعلوم النصرہ دیوبند 9358163428
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 گزشتہ 26/جولائی 2017 بروز بدھ بہار کی سیاست میں زبردست زلزلہ آیا اور انتہائی ڈرامائی انداز میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے استعفیٰ دے کر بہار کے اس مہاگٹھ بندهن کو توڑ ڈالا جس نے بہار کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کے سیاسی سفر کو روکا تها  اور خود بی جے پہ کی اسی بیل گاڑی میں سوار ہوگئے جس پر سوار ہو کر انہوں نے پچهلے تقریباً 17سال تک اپنے سیاسی سفر کو جاری رکھا تھا.
  مزید یہ کہ مودی جی نے ان کے اس استعفیٰ کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں خوب خوب  مبارک باد پیش کی.
   نتیش کمار نے لالو پرساد کے بیٹے تیجسوی کے اوپر بدعنوانی کا الزام لگا کر ٹھیکرا ان کے سر پھوڑنے کی کوشش کی حالانکہ سیاسی پنڈٹوں کو تقریباً 6 ماہ پہلے ہی معلوم ہو چکا تھا کہ نتیش کمار کو  بی جے پی کے بغیر کھانا ہضم ہونے میں کافی پریشانی ہے.
   اگر نتیش کمار کو بدعنوانی سے اتنا ہی بیر ہے تو 2014 میں جب بی جے پی سے  بدعنوانی کے نام پر اپنا ناتہ توڑ لیا تھا تو اس خاندان سے کیوں رشتہ جوڑا تها جس کو وہ کرپشن میں ڈوبہ ہوا خاندان تصور کرتے ہیں ؟
   اور پھر اب بی جے پی سے ہاتھ ملایا کیا اسی 20 ماہ میں بی جے پی پھر سے پاک ہو چکی ہے اور کرپشن و بدعنوانی کے سارے پاپ دھل چکے ہیں ؟
   یہ سب محض سیاسی کهیل ہے جو انگریزوں سے زیاده ہندوستان کے لیے نقصان دہ ہے.
 بہار ہی کے بی جے پی کے قد آور لیڈر سوشیل کمار مودی نے 2015 میں اسی نتیش کمار کو دهوکہ باز کہا تها مگر آج 2017 میں جب نتیش کمار مہاگٹھ بندهن کو توڑ کر گورنر کو استعفیٰ دے رہے ہیں تو وہی سوشیل کمار مودی استعفیٰ کے تهوڑی ہی دیر بعد نتیش کمار کو اپنا لیڈر منتخب کر لیتے ہیں اور انهیں مبارک بعد پیش کرتے ہیں.
   کون اتنا بڑا اناڑی ہوگا جواس ڈرامے کو بدعنوانی کے خلاف جنگ تصور کرے گا ؟
   بی،جے ،پی کو اپنے علاوہ اگرچہ سب بدعنوانی میں سرابور کرپشن میں ڈوبے  نظر آتے ہیں لیکن جانچ ایجنسیوں سی ،بی ،آئی وغیرہ کو اگر آزادی کے ساتھ جانچ کا موقع دیا جائے تو حقیقت سے پرده اٹھ سکتا ہے کہ کون کتنا پاک ہے  ؟
     خیر نتیش کمار کے تقریباً 2 سال بی،جے ،پی سے دور رہ کر بڑے ہی بے اطمینانی اور بے چینی کے ساتھ گذرے ہوں گے اس لئے کہ آدمی کو صحیح طور پر سکون تو اپنے گهر ہی آتا ہے، اب وہ واپس اپنے لوگوں میں آگئے ہیں اور بقول شخصے یہی در اصل ان کا ڈی این اے ہے.
 اس کے وہ فراق میں تهے اور مناسب موقع کی تلاش میں تهے اسی لئے سرجیکل اسٹرائک پر جب دیگر پارٹیاں حکمراں جماعت سے اس کے ثبوت مانگ رہی تهیں تو نتیش کمار حکمراں جماعت سے اپنی وفاداری کے ثبوت کے طور پر خاموش رہے.
  پهر نومبر 2016 میں نوٹ بندی اورجی ،ایس ،ٹی کی حمایت، بی،جے،پی کی طرف نتیش کی انابت اور مودی کی ڈنر میں شرکت اور ہر وقت مودی سے مواقع کی تلاش اور اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کرنے کی فکر سے سیاست کے گرگے سمجھ گئے تهے کہ اب نتیش کمار کسی بهی وقت مہاگٹھ بندهن سے اپنا ناتہ توڑ کر این،ڈی،اے سے اپنارشتہ جوڑ کر بی،جے،پی کے خیمے میں جشن کا ماحول پیدا کر کے اس مایوسی کی تلافی کرسکتے ہیں جو 2 سال پہلے نتیش کے بی ،جے پی سے رشتہ ٹوڑنے سے اس کے خیمے میں پیدا ہوئی تهی.
   بہر حال فسطائی طاقتوں کے بهگوا رته کو روکنے کے لئے جس گٹھ بندھن کی تشکیل ہوئی تهی اور 2019 کے لوک سبها الیکشن میں جس اتحاد کو مزید مضبوط ہونا تها اب وہ نتیش کمار کے پهر سے این،ڈی ،اے میں چلے جانے سے چرمرا گیا ہے کسی نے کیا ہی خوب کہاہے کہ " نتیش کمار اب حلالہ کے بعد زوج اول کے پاس دوبارہ واپس ہوگئے ہیں "
 گورنر نے اب پهر نتیش کمار کو اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا ہے اب دیکهنا یہ ہے کہ ان کی پارٹی کے تمام ممبران ان کا ساتھ دے کر بی ،جے،پی کو مضبوط کرتے ہیں یا پهر ان کی پارٹی کے مسلم ممبران اور نتیش کمار کے سیکولرزم کا دم بهرنے والے ان سے کنارہ کشی اختیار کرکے اپنے اعتدال پسندی کا ثبوت پیش کرکے نتیش اور ان جیسے دیگر لیڈران کو ہمیشہ کے لئے سبق سیکھاتے ہیں یہ ان کے لئے بهی ایک اچها موقع ہے.

Thursday, 27 July 2017

الجامعۃ الا شرفیہ مبارکپور کے سب سے سینئر استاد مولانا اعجاز احمد کا انتقال، علاقہ میں رنج والم!


رپورٹ: ابوالفیض خلیلی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 27/جولائی 2017) الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور کے سب سے سینئر استاد مولانا اعجاز احمد کا آج شام 06:30 بجے انتقال ہو گیا ہے "انا للہ وانا الیہ راجعون"  جس سے مبارکپور و مضافات میں رنج و الم پھیل گیا.
مولانا گزشہ کچھ دنوں سے علیل تھے ان کا علاج اشرفیہ ہاسپیٹل میں چل رہا تھا، لیکن گزشتہ منگل کو ان کی تین پوتیوں کی شادی کے موقع پر وہ اپنے گھر محلہ پورہ دیوان آگئے تھے، اور تبھی سے گھر ہی پر ان کا علاج رہا تھا، ان کی نماز جنازہ 28 جولائی بعد نماز جمعہ جامع مسجد راجہ مبارک شاہ کے صحن میں ادا کی جائے گی ، اور تدفین اونچی تکیہ قبرستان کی جائے گی ۔
قصبہ مبارک پور ضلع اعظم گڑھ کے ایک خوشحال گھرانے میں15 جون 1940عیسوی کو پیدا ہوئے ناظرہ قرآن کریم والد ماجد مولانا عنایت االلہ مرحوم کی زیر نگرانی میں مکمل کی پرائمری درجات یکم تا پنجم اور درس نظامیہ مکمل تعلیم جامعہ اشرفیہ میں حاصل کی 1960 عیسوی میں دستار فضیلت سے سرفراز کیے گئے آپ کے اساتذہ میں حضور حافظ ملت علیہ الرحمۃ مولانا حافظ عبد الرؤف صاحب بلیاوی حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالمنان حضرت علامہ مولانا عبد المصطفیٰ اعظمی علامہ غلام جیلانی گھوسوی قاضی محمد شفیع اعظمی قاری یحییٰ اعظمی اور علامہ سید حامد اشرف جیسے علماء شامل ہیں. فراغت کے بعد 20  اپریل 1960عسوی تا 30نومبر 1973عسوی مدرسہ فیض العلوم محمد آباد گوہنہ ضلع مئو میں صدر المدرسین کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں یکم دسمبر1973الجامعة الاشرفیہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ۔

مبارکپور میں بلرياگنج اور جين پور چئرمین حاجی محمد عارف خان اور كھرملی گپتا کا دورہ!


رپورٹ: جاوید حسن انصاری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 27/جولائی 2017) مبارکپور میں رات 9 بجے بلرياگنج کے نگر پنچایت چیئرمین نوجوان لیڈر حاجی محمد عارف خاں صاحب اور جين پور نگر پنچایت کے چیئرمین كھرملی گپتا جی پرانی بستی نوجوان لیڈر جمشید عالم انصاری گڈو ٹھیکیدار کے رہائش گاہ پر پہنچے.
آئی این اے نیوز نمائندہ جاوید حسن انصاری سے خصوصی ملاقات میں دونوں چیئرمین صاحبان نے کہا کہ یوگی حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے سے ڈر رہی ہے جب کہ وقت پورا ہو چکا ہے ان کو فوری طور پر انتخابات کرانا چاہئے.
بلرياگنج کے نگر پنچایت کے چیئرمین محمد عارف خان اور جين پور نگر پنچایت کے چیئرمین كھرملی گپتا نے کہا کہ یوگی حکومت ناکام ہے اس لئے گھبرا رہی ہے، دونوں چئرمین گھنٹوں مبارکپور شہر میں موجود رہے اور ان کے چاہنے والے ملتے رہے.
واضح ہو کہ پوروانچل کے سبھی چیئرمین کی بیٹھک مئو سے چئرمین ارشد جمال انصاری کی رہائش گاہ پر تھی واپسی کے وقت دونوں موجودہ چئرمین مبارکپور پہنچے تھے.

مبارکپور و آس پاس کے علاقوں سے حج بیت اللہ کے لئے دیار حرم جانے کاسلسلہ جاری!


رپورٹ: ابوالفیض خلیلی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 27/جولائی 2017) مبارکپور و آس پاس کے علاقوں سے حج بیت اللہ کے لئے دیار حرم جا نے کاسلسلہ لگاتار جاری ہے، یہا ں سے روزآنہ قریب ایک درجن عازمین حج روانہ ہو رہے ہیں، عام طور سے عازمین حج اپنے گھر سے جلوس کی شکل میں نکلتے ہیں جو نعت نبی اور نعرہ تکبیر کے سائے میں الجا معۃ الاشرفیہ واقع حافظ ملت کے مزار پر فاتحہ خوانی کے بعد بابت پور وارانسی کے لئے روانہ ہو جاتے ہیں.
گذشتہ دس برس کے مقابلے میں اس سال یہاں سے حج کیلئے جانے والوں کی تعداد کچھ زیادہ ہی نظر آرہی ہے.
مبارکپور و مضافات سے اب تک جو لوگ حج بیت اللہ کے روانہ ہو چکے ہیں اس میں خا ص طور سے معروف خطیب مولانا جاوید چشتی شہیدنگر، الجامعۃ الاشرفیہ کے استاد مولانا رفیع القدر، عبد الخالق انصاری، شمشاد احمد انصاری ملت نگر، محمد صدیق انصاری علی نگر مہدی، حسن پردھان نوادہ، سہیل احمد انصاری، حافظ اخلاق لوہیا، سکینہ بانو زوجہ شاکر علی مرحوم پرانی بستی، نہال احمد انصاری، محمد اعظم انصا ری پورہ خضر اور ظفر احمد انصاری پورہ رانی وغیرہ خاص طور سے شامل ہیں.
روانگی سے قبل عازمین حج کے ذریعہ جہاں لوگو ں سے ملاقات کر کے کہا سنی کی معافی تلافی اور لین دین کاحساب کتاب چلتا رہتا ہے تو دوسری طرف عوامی نمائندگان اور سیاسی و سماجی لیڈران کے ذریعہ حاجیوں سے گلے مل کر اپنی کامیابی، ملک کی وحدت و سالمیت اور امن و امان کے لئے خانہ خدا کے سامنے خصوصی دعا کرنے کی گذارش بھی جاتی ہے، دربار رسالت میں سلام پیش کرنے کی درخواست خاص طور سے کی جاتی ہے جیسے کہ گذشتہ شب جب مولانا محمد جاوید چشتی حج کے لئے گھر سے نکلے تو آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ کے قومی نائب صدر حاجی نثار احمد انصاری ان سے ملا قات کے لئے الجامعۃ الاشرفیہ
کے گیٹ پر پہنچ گئے، وہیں سماجوادی پا رٹی کے سا بق ضلع صدر اکھلیش یادو نے اپنے پورے گروپ کے ساتھ آج ابراہیم پور پہنچ کر سابق پردھان جمال احمد  سے ملاقات کرنے کے ساتھ ہی ان سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ دیار حرم میں ملک اور خاص طور سے اتر پردیش میں پنپ رہی فرقہ فرستی اور باہمی نفرت و عداوت کے جراثیم کے خاتمے کے لئے خاص طور سے دعا کریں۔
اس کے علاوہ گذشتہ جمعرات کی شب میں الجامعۃ الا شرفیہ واقع عزیز المساجد اور شہید نگر واقع ماسٹر حاجی مظہر چشتی کی رہائش گاہ پر الوداعی تقاریب کا انعقاد کر کے حاجیوں کی بخیر و عافیت روانگی اور واپسی کی دعا کی گئی ۔
عازمین حج کی روانگی کا سلسلہ شروع ہونے سے پہلے مختلف اسکول و مدارس میں حج تربیتی اور ٹیکہ کاری کیمپ کا انعقاد کر کے عازمین حج کو علماء دین کے ذریعہ ضروری ہدایات دینے کے سا تھ ہی محکمہ صحت کے ذریعہ ٹیکے بھی لگا ئے گئے ۔

اعظم گڑھ ضلع پر پھر بدنما داغ لگانے کی گئی کوشش، راشٹریہ علماء کونسل نے کیا ناکام!


رپورٹ: عبدالرحیم صدیقی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیوگاؤں/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 27/جولائی2017) لکھنؤ سے آئی ATS کے تین رکنی ٹیم بدھ کی شام مقامی پولیس کے ساتھ علاقے کے بسہی اقبال پور گاؤں میں پہنچی، کافی جدوجہد کے بعد پولیس نے گاؤں کے ایک نوجوان کو پکڑا اور اے ٹی ایس ٹیم اسے اپنے ساتھ لے کر لکھنؤ پہنچ گئی.
اس واقعہ کی اطلاع راشٹریہ علماء کونسل کے ذمہ داران کو دی گئی، جس پر علماء کونسل نے رات بھر پولس کے اعلی افسران سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر غلام کبریا کو نہیں چھوڑا گیا تو صبح اعظم گڑھ میں ہر تھانے کا گھیراؤ کیا جائے گا، اسکے بعد پولس محکمے میں کھلبلی مچ گئی، پولس نے راشٹریہ علماء کونسل کے ذمہ داران کو کہا کہ صبح تک چھوڑ دیا جائے گا، اور بالآخر آج صبح تک غلام کبریا کو چھوڑ دیا گیا۔
خبروں کے مطابق گذشتہ دنوں سلیم نامی شخص کو سعودی عرب سے ممبئی آتے وقت ایئرپورٹ پر اے ٹی ایس نے کسی جرم میں گرفتار کیا تھا، پوچھ تاچھ کے بعد اس نے غلام کبریا کو سعودی عرب میں اپنا پڑوسی بتایا تھا، اس نے کہا میں انہیں جانتا ہوں، جس کے تحت کل شام میں اے ٹی ایس غلام کبریا کے گھر پہنچی اور اسے لیکر لکھنؤ روانہ ہوگئی پوچھے جانے پر کہا گیا کہ پوچھ تاچھ کے بعد واپس چھوڑ دیں گے.
واضح ہو کہ غلام کبریا گزشتہ دس سال سے سعودی عرب چوڑ چکے ہیں، اب گھر پر ہی رہ کر گاڑی چلا کر اہل خانہ کی ضروریات پوری کرتے ہیں، اس موقع پر  راشٹریہ علماء کونسل کےصوبائی صدرانل سنگھ، طلحہ رشادی، نسیم احمد، بسہی اقبالپور گاؤں کے پردھان نمائندہ محمد صالح،  محمد خالق، محمد طارق، محمد سلمان سمیت کافی تعداد میں لوگ ATS  آفس لکھنؤ میں موجود رہے.

مدارس پر ایک آنکھیں کھول دینے والی تحریر!


تحریر: مولانا زبیر احمد
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
علامہ اقبال نےکہا تھا ان مدارس کو اپنی حالت پر رہنے دو اگر یہ مدارس اور اس کی ٹوٹی ھوئی صفوں پر بیٹھ کر پڑھنے والے یہ درویش نہ رہےتو یاد رکھنا تمہارا وہی حال ہوگا جو میں اندلس اور غرناطہ میں مسلمانوں کا دیکھ کر آیا ہوں۔
چند دن پہلے عیدالفطر گزری ہے میں عید سے اگلے دن بائیک پر جارہا تھا کہ ایک مدرسہ کےسامنے سے میرا گزر ہوا میں نے دیکھا کہ اس کے گیٹ پر چند چھوٹے چھوٹے معصوم سے بچے کھڑے ہیں ان کے چہرے نورانیت سے بھرپور تھے میں ان کے پاس چلا گیا سلام کیا انہوں نے بہت احترام کےساتھ سلام کا جواب دیا، میں نے کہا "بیٹا آپ کیا کرتے ہو یہاں ؟" انہوں نے کہا بھائی ہم یہاں حفظ کرتے ہیں میں نے کہا عید پر آپ گھر نہیں گئے ان میں سے ایک دو تو آنکھوں میں آنسو بھر کر اندر چلے گئے اور باقیوں نے رندی ہوئی آواز میں کہا ہمیں کوئی لینے نہیں آیا ہم بہت دورچترال سے آئے ہیں بابا کہتے تھے کرایہ نہیں ہےتم وہیں رہو میرا دل بھی ایسے بوجھل سا ہو گیا میں کہا آپ کو آئے ہوئے یہاں کتنا عرصہ بیت گیا ہے انہوں نے کہا ہم پچھلی عید پر بھی یہیں تھے۔
میں نے اپنی پاکٹ سے پیسےنکالے ان کو ایک ایک سو روپیہ دینا چاہا پر آفرین ان کی تربیت پر کسی نے بھی ہاتھ بڑھا کرنہیں لیے بلکہ سب اندر چلے گئے میں بوجھل سی طبیعت کےساتھ آگے بڑھ گیا کہ یہ ہیں وہ مدارس کےطلباء جن کو لوگ حقارت کی نگاہ سےدیکھتےہیں۔
میں بھی انہیں مدارس سے ہوتا ہوا آیا ہوں اس جگہ پر میں نے ان مدارس کے اندر کے معاملات کو دیکھا ہے جب مدارس کے شیوخ مہینے کے آخری ایام میں بہت پریشان دکھتے تھے کہ اساتذہ کی تنخواہیں اور دیگر بل کیسے ادا کئے جائیں یار سوچو کون سا ایسا پرائیویٹ یا سرکاری ادارہ ہے جو اس قدر اسکالر شپ دیتا ہے ملک کے طول و عرض میں سینکڑوں ایسے مدارس ہیں جن میں رہائشی طلباء کی تعداد ہزاروں تک جاتی ہے لیکن ان کے کھانے، پینے، رہائشی، کتابیں، دوا اور مکمل اخراجات مدرسہ کے ذمہ ہوتے ہیں کیا ہے کوئی ایسی یونیورسٹی جس کا ہاسٹل اور میس فری ہو؟؟
یہ دین کےادارے دین کے قلعہ ہیں انہیں اداروں سے اسلام کے علماء اورسکالر پیدا ہوتے ہیں جو اسلام کےخلاف ھونے والے اعتراضات کا منہ توڑ جواب دیتےہیں
بات کہاں نکل گئی۔۔۔
بات میں ان مدارس کے اندر پڑھنے والے درویشوں کی کر رہا تھا، جو دور دراز کے علاقوں سے اپنے گھر، بار، ماں، باپ، بہن، بھائیوں کی محبت کو چھوڑ کر آتے ہیں صرف اس لیے ان کے ماں باپ کی ایک بہت معصوم سی خواہش ہوتی ہے کہ چلو کیا ہوا اگر گھر کی دیواروں پر بھی غربت اور افلاس ناچتا ہے ہمارے بچے حافظ قرآن بن جائیں، عالم دین بن جائیں، روز قیامت عزت والا تاج تو ہمیں نصیب تو ہو جائےگا.
مجھے یاد ہے جب کبھی کسی عید وغیرہ کے موقعہ پر چھٹیاں ہوتی تو سب اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے ان میں کچھ ایسے بھی ہوتے تھے جو خود جا نہیں سکتے تھے اور لینے والےاس لیے نہیں آ سکتے تھے کہ ان کے پاس آنے کے لیے کرایہ نہیں بن پاتا تھا۔
اور پھر وہ وہی مدرسہ کے اندر ہی اپنی خوشیوں کی قربانی اپنے ماں باپ کی معصوم خواہش پر قربان کیے اپنےساتھیوں ساتھ کھیل لیتے۔
ان مدارس کےطلباء کو کبھی حقیر نہ جانوں آپ نہیں جانتے ان کے مقام کو یہ جب چلتے ہیں ان کے قدموں کےنیچے اللہ کے فرشتے اپنے پروں کو بچھانا اپنے لیے باعث فخر محسوس کرتے ہیں.
سمندر کی مچھلیاں، فضاؤں میں پرندے، زمین کے اندر حشرات ان کی کامیابی کی دعا اللہ رب العزت سے مانگتے ہیں.
عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں مدرسوں میں داخل وہی ہوتے ہیں جو ہرطرف سے ریجیکٹ کر دیئے جائیں اگر ایسا بھی ہےتو بھی لوگوں کو ان مدارس کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ جنہوں نے ایسے بچوں کو گلیوں میں آوارہ نہیں ہونے دیا بلکہ ان کو داخلہ دے کر قرآن و حدیث کی تعلیم دی وہی بچے نمازی، صوم و صلوة کا پابند، ماں باپ کا فرمان بردار اور ایک عالم دین بن کر لوگوں کے ایمان کی فکر کرنے لگا.
ان مساجد و مدارس کے ساتھ محبت کریں دینی تعلیم کے لیے اپنے بچوں کا رخ ان کی طرف کریں اور ہر لحاظ سے ان مدارس کے معاون بن جائیں۔

سگڑی ممبر اسمبلی وندنا سنگھ کی پہل سے لوگوں نے لی نصیحت، اب خود ہٹا رہے اپنا تجاوز!



 رپورٹ: عبدالکافی چشتی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سگڑی/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 27/جولائی 2017) سگڑی تحصیل کے اعظم گڑھ گورکھپور ہائیوے پر جين پور مارکیٹ میں گزشتہ دنوں 150 لوگو کو PWD کی طرف سے تیار کردہ تجاوز ہٹانے کے لئے نوٹس دیا گیا تھا، جس لوگوں نے یہ الزام لگا کر مخالفت کی تھی کہ بڑے اور پہنچ والو کے ساتھ محکمہ رعایت کر رہا ہے، انتظامیہ کے نوٹس پر مارکیٹ میں موضوع بحث رہا، جس پر جين پور کے لوگوں نے ضلع افسر کے یہاں پہنچ اپنی باتوں کو رکھا اور پھر قبضہ ہٹانے کی تاریخ بڑھائی گئی، اس کے بعد بذات خود سگڑی بی ایس پی ممبر اسمبلی وندنا سنگھ نے پہل کر کے بدھ کو اپنے مکان کے کو نشاندہی کے تحت توڑوايا، جس سے لوگوں میں کافی بحث ہے.
ان کی اس پہل سے متاثر لوگ اب خود اپنا قبضہ ہٹانے کیلئے آگے آ رہے ہیں اور لوگوں نے اپنا تجاوز کا حصہ ہٹانا شروع کر دیا ہے، عام لوگوں کا کہنا ہے کہ ایم ایل اے کے پہل سے جين پور شہریوں کی طرف سے ایک خوبصورت پہل کی گئی ہے تا کہ جين پور سڑک چوڑہ ہونے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو، جين پور چیئرمین كھرمللی گپتا نے کہا کہ لوگوں کو آگے آکر اس کی پہل کرنا ہوگا جس کی جين پور سڑک جام کے مسئلے سے آزاد ہو اور سب کے ٹریفک میں بھی سہولت ہو.
وہیں بی ایس پی لیڈر اور ممبر اسمبلی نمائندے اسنتوش عرف ٹیپو سنگھ نے کہا کہ خود ہم نے اپنا مکان توڑ کر جين پور کی ترقی کے لئے ایک پہل کی ہے جس سے کہ انتظامیہ کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہ ہو.

دارالعلوم دیوبند میں طلباء کے لئے اینڈ رائیڈ فون پر مکمل پابندی کا حکم!


رپورٹ: سمیر چودھری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیوبند (آئی این اے نیوز 27/جولائی 2017) ازہر ہند دارالعلوم دیوبند میں تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے خاطر سخت قوانین کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے طلباء کے لئے اینڈرائیڈ فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے ، عدم تعمیل کی صورت میں سخت کارروائی کو یقینی بنانے کے لئے انتظامیہ بڑے اقدام کی تیاری میں ہے جس کے لئے طلباء کو پہلے ہی متنبہ کردیا گیاہے۔
عالم اسلام کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم کی جانب سے طلبہ کے لئے جاری ہدایت نامہ میں دوران تعلیم موبائل کے استعمال پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے ، تعلیمی وقت کے علاوہ طلبہ عزیز صرف بغیرکیمرہ والا فیچر فون ہی اپنے پاس رکھ سکیں گے ۔ دارالعلوم دیوبند کی جانب سے اینڈ رائیڈر فون پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، خلاف ورزی کرنے پر موبائل بذریعہ دارالاقامہ ضبط کرلیا جائے گا۔
نئے سال کے آغاز پر جاری ہوئے ہدایت نامہ میں طلبہ کے لئے مزید تاکیدات کے تحت کہا گیا ہے کہ دارالعلوم دیوبند ایک معیاری تعلیم گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ مثالی تربیت گاہ بھی ہے، یہاں طلبہ کی نگرانی اور اصلاح وتربیت کے لئے وسیع اور فعال نظام قائم ہے جس کے تحت تمام طلبہ کو ضابطہ اخلاق میں باندھا گیا ہے، ہدایت نامہ میں کہا گیا ہے کہ دارالعلوم دیوبند میں قیام کا مقصد حصول علم کے ساتھ اخلاقی وفکری تربیت بھی ہے اس لئے یہاں رہنے والے طلبہ کو اپنی وضع قطع اکابر علماء وصلحاء کے مماثل رکھنی ہوگی، دارالعلوم دیوبند کی جملہ املاک کی حفاظت ضروری ہے ان کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانا سخت جرم شمار ہوگا ، طلبہ کے لئے ذمہ داران واساتذہ کرام ، کارکنان مدرسہ اور علماء کا احترام ضروری ہوگا، ہر طالب علم کو نظام دارالعلوم کی پابندی کرنی ہوگی اور فتنہ وفساد سے اجتناب لازم ہوگا، فرائض و واجبات وسنن بالخصوص نماز باجماعت کا پورا اہتمام کرنا ہوگا، کوئی بھی طالب علم اجازت کے بغیر دارالعلوم سے باہر قیام سے نہیں کرے گا ۔ دیوبند سے باہر جانے والے طلبہ کو بھی متعلقہ ناظم حلقہ سے اجازت لینی ہوگی ، کسی بھی غیر داخل شخص کو اپنے پاس قیام وطعام کی سہولت فراہم کرانا قطعی ممنوع ہوگا ، اگر کسی طالب علم کا کوئی مہمان آتا ہے تو اس کی اطلاع بھی ناظم حلقہ کو دینی ہوگی، کسی بھی حال میں محرم یا غیر محرم عورت کو اپنے کمرے میں لانے کی اجازت نہیں ہے، طلبہ کے قیام کے لئے جو بھی جگہ متعلقہ شعبہ کی جانب سے متعین کی جائے گی اسی جگہ پر قیام لازم ہوگا، بلااجازت اپنے حجرے کے علاوہ کسی دوسری جگہ قیام وطعام قابل مواخذہ جرم ہوگا اسی طرح اپنے ہمراہ کمسن بچوں کا رکھنا بھی موجب اخراج جرم ہوگا، بغیر اجازت 15 دن یا اس سے زائد غیر حاضری کی صورت میں دارالاقامہ میں متعینہ سیٹ سوخت کردی جائے گی ۔ فلم، سنیما، ٹیلی ویژن، کرکٹ دیکھنا اور اسی طرح انٹرنیٹ پر اخلاق سوز سائٹ دیکھنا بھی لائق اخراج جرم مانا جائے گا ، کیمرے والا موبائل رکھنا جرم ہے، پکڑے جانے پر موبائل ضائع کردئیے جانے کے ساتھ امداد بھی بند کردی جائے گی ، ا خلاق سوز کوئی بھی پروگرام طلبہ کی جانب سے کیا جاتا ہے یا موبائل پر اس کا استعمال ہوتا ہے تو بھی اخراج کیا جاسکتا ہے البتہ ضروری بات چیت کے لئے سادہ فون رکھ سکتے ہیں تاہم تعلیمی اوقات میں اس کا استعمال بھی ممنوع ہے۔