اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 28 August 2017

دو سادھیوں کے ساتھ ریپ کے ملزم بابا گرمیت رام رہیم کو کورٹ نے سنایا دس سال کی جیل!



رپورٹ: ثاقب اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
نئی دہلی(آئی این اے نیوز 28/اگست 2017) ریپ کے مجرم ڈیرہ سچا سودا کے سربرہ بابا گرمیت رام رہیم کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے دس سالوں کے جیل کی سزا سنادی ہے، سزا سنانے کیلئے روہتک کی جیل میں خصوصی عدالت قائم کی گئی تھی جہاں جج جگدیپ سنگھ ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پہونچے، سزا سنانے سے قبل رام رہیم نے ججوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور اپنے اچھے کاموں کا حوالہ دیکر نرمی کی مانگ کی، لیکن جج نے کسی طرح کا دباﺅ قبول کیئے بغیر فیصلہ سنا دیا.
اس سے قبل جس دن بابا کو قصور ٹھہرایا گیا تھا اس دن ان کے حامیوں نے دہشت گردی کی تمام حدیں پار کردی تھیں ،کروڑوں کی املاک تباہ ہوگئی تھیں، پچاس لوگوں کی موت ہوئی تھی جس کے پیش نظر آج سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، فوج کی کئی کمپنیوں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔

بیدولی روناپار کے کرشنا پٹیل کالج میں منعقد پروگرام میں مولانا طاہر مدنی کی شرکت!



رپورٹ: مرزا اثمر بلریاگنج
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
روناپار/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 28/اگست 2017) اعظم گڑھ ضلع کے روناپار تھانے کے علاقے میں لاٹ گھاٹ کے قریب مقام بیدولی کے کرشنا پٹیل ڈگری کالج میں ایک سمپوزیم منعقد کیا گیا، جس کا اہتمام 83 برس کے رام شکل سنگھ پٹیل نے کیا تھا جو ایک سماجی خدمت گذار ہیں، وہ بغیر جہیز کی شادیوں کا اجتماعی نظم کرتے ہیں، پچھلے 17 برسوں میں 4611 شادیاں کرا چکے ھیں، 4 مارچ 2018 کو پھر اجتماعی شادیوں کی ایک بڑی تقریب منعقد کرنے والے ہیں، جس میں 501 جوڑوں کی شادی کا ٹارگٹ ہے. اسی تقریب کے لئے بیداری پیدا کرنے کی غرض سے کل ایک پروگرام کیا گیا، جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مولانا طاہر مدنی کی شریک ہوئے.
مولانا طاہر مدنی نے کہا کہ آج جہیز کی لعنت ایک ناسور بن کر پورے سماج کو تباہ کر رہی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ وہاں ایک چارٹ لگا تھا جس میں 23 گاؤں کی سروے رپورٹ تھی کہ سال بھر سے ان میں کوئی بچی پیدا نہیں ہوئی ہے، جھیز کے ڈر سے رحم مادر ہی میں بچیوں کا قتل ہورہا ہے.
مقررین کرام نے جھیز کی لعنت اور اس کے نقصانات پر روشنی ڈالی اور اس کو ختم کرنے کیلئے اجتماعی کوشش پر بل دیا، پٹیل جی کی کوششوں کو لوگوں نے سراہا اور تعاون کا یقین دلایا.
مولانا مدنی نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ علامات سے ہٹ کر اصل مرض کی تشخیص کی ضرورت ہے، آج انسانیت کا خاتمہ ہوگیا ہے، مادہ پرستی نے انسان کو حیوان بنا دیا ہے، اعلی اخلاقی قدریں ختم ہوگئی ہیں، محبت، مرحمت، مواسات اور ہمدردی کے جذبات ناپید ہیں، جس کے برے اثرات ہمارے سماج میں چاروں طرف نظر آ رہے ہیں، آج انسانیت کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے، اس تناظر میں مولانا نے خدمت خلق کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا تذکرہ کیا اور واقعات کی روشنی میں ان تعلیمات کے اثرات کو اجاگر کیا، سامعین نے بہت توجہ اور دلچسپی سے سنا، اس تعلق سے حکومت کی جو اہم ذمہ داری ہے اس پر بھی مولانا نے توجہ دلائی، کیونکہ تعلیمی ادارے، ذرائع ابلاغ اور دیگر غیر معمولی وسائل حکومت کے ہاتھ میں ہیں، نئی نسل کی اخلاقی تربیت انہیں ذرائع سے ہوتی ہے، لیکن افسوس حکومت کے پاس اخلاقی تربیت اور اعلی اقدار کے فروغ کیلئے کوئی پروگرام ہی نہیں ہے، ایسے حالات میں ذمہ دار شہریوں کو آگے بڑھکر اپنا رول ادا کرنا ہوگا اور نئی نسل کو بیدار کرنے کیلئے قربانی دینی یوگی.
اندازہ ہوا کہ اس طرح کے مواقع اسلامی تعلیمات کا تعارف کرانے کیلئے بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں، اگر حکمت و فراست کے ساتھ ان کا استعمال کیا جائے.

بدمعاشوں نے چرواہوں سے مویشی چھینا اور مالکوں کو کیا مقید!


رپورٹ: محمد دلشاد قاسمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بالینی/باغپت(آئی این اے نیوز 28/اگست2017)تھانہ بالینی کے پورہ مہادیو گاؤں کے جنگل میں نصف درجن ہتھیاروں سے لیس بدمعاشوں نے دن دھاڑے نصف درجن چرواہوں کو گھیر لیا اور ان کے مویشی کو لوٹنے کی کوشش کی گئی، اطلاع ملنے پر سیکڑوں لوگ لاٹھی ڈنڈے لیکر کھیتوں میں پہونچے، بدمعاشوں نے فائرنگ شروع کردی تو لوگوں نے بھاگ کر جان بچائی.
موقع واردات پر پہونچی بالینی پولس تماشائی بنی کھڑی رہی، لوگوں نے بدمعاشوں سے ان کی موٹر سائکل اور پیک اپ گاڑی کو چھین لیا اور مویشیون کو بھی آزاد کرایا، بعد میں تھانہ پہونچ کر لوگوں نے خوب ہنگامہ کیا.
واضح ہو کہ باغپت ضلع میں پولس کی لاپرواہی کی وجہ سے آئے دن بدمعاشوں کے حوصلے بلند ہوتے جارہے ہیں، حال ہی میں چار روز قبل امین نگر سرائے  میں صراف کی دوکان میں ڈاکہ زنی کی گئی تھی، جس کی وجہ سے پورے ضلع میں خوف کا ماحول ہے اور لوگ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ ہے ہیں، ور اب اتوار کی شام کو تقریباً پانچ بجے بدمعاشوں نے پورا مہادیو گاؤں کے جنگل میں ہنڈن ندی کے کنارے اپنے مویشیوں کو چرارہے رمضان، سلمو، سبھاش، گڈو اور منوج کو ہتھیار دکھا کر ان کے مویشیوں کو چھین لیا اور ان کو ہاتھ پاؤں باندھ کر جنگل میں پہینک کر فرار ہورہے تھے کہ لوگوں نے اطلاع ملنے پر لاٹھی ڈنڈے لیکر بدمعاشوں کا پیچھا کیا اور ان پر حملہ کرکے ان سے مویشیوں کو آزاد کرایا اور ان کی موٹر سائیکل اور گاڑی کو بھی چھین لیا، مگر پولس اطلاع کرنے کے بعد بھی بہت دیر میں موقع واردات پر پہونچی اور پھر تماشائی بنی کھڑی دیکھتی رہی.

کشن گنج کے ایم پی مولانا اسرارالحق قاسمی کا جذبہ قابل تائید، سیمانچل میں سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھ کر معروف شاعر عمران پرتاپگڑھی کا درد چھلک پڑا!


رپورٹ: محمد یاسین صدیقی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کشن گنج(آئی این اے نیوز 28/اگست 2017) مقبول و معروف شاعر اور سماجی کارکن عمران پرتاپگڑھی نے سیمانچل کے بدترین سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور علاقے کے ممبر پارلیمنٹ و معروف عالم دین مولانا اسرارالحق قاسمی کی نگرانی میں متاثرین کے بیچ ریلیف و امداد تقسیم کی، انھوں نے ملک کے تمام لوگوں سے اپیل بھی کی کہ وہ متاثرین کی امداد کے لئے آگے آئیں، انھوں نے مولانا قاسمی کے جذبے کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ ایسے وقت میں جبکہ مرکز و بہار کی حکومتیں بھی سیمانچل کے سیلاب زدگان پر خاطر خواہ دھیان نہیں دے رہی ہیں، مولانا قاسمی خود تمام علاقوں میں جاکر لوگوں تک راحت اشیاء پہنچا رہے ہیں اور ان کی امداد کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ سیمانچل کے قیامت خیز سیلاب کے نتیجے میں مواصلاتی ذرائع ناکارہ ہو گئے ہیں، سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا دشوار ہوچکا ہے، حتی کہ موبائل فون کے ذریعہ بھی رابطہ ممکن نہیں ہے، ایسے سنگین حالات میں مولانا قاسمی جس طرح رات دن ایک کرکے اپنی عمر اور صحت کی پرواہ کیے بغیر کہیں موٹر سائیکل سے، کہیں آٹو رکشہ سے اور بہت سے مقامات پرپانی اور کیچڑ میں پیدل چل کر متاثرین کے پاس پہنچ کر نہ صرف ان کی دادرسی کر رہے ہیں بلکہ ان کی مشکلات دور کرنیکی بھی کوشش کر رہے ہیں، اس سے ہم جیسے نوجوانوں کو حوصلہ ملتا ہے اور کام کرنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے، انھوں نے مولانا کے جذبۂ خدمت کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ میں یہ دیکھ کر بیحد متاثر ہوا کہ مولانا محترم رات کے ڈھائی تین بجے تک عوام کے درمیان رہ کر ان کی پریشانیوں اور مشکلات کو دورکرنے کی تدبیر کر رہے ہیں، بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر نے کہا کہ آج کے وقت میں ہندوستان کو ایسے ہی قائد اور رہنما کی ضرورت ہے جو عوام کے دکھ درد کے وقت ان کے غم میں شریک ہو اور ان کی پریشانیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن تدبیر کرے، انہوں نے مولانا قاسمی اور آل انڈیاتعلیمی و ملی فاؤنڈیشن کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سیلاب زدہ علاقوں تک پہنچنے میں میری مدد کی جسکے بغیر وہاں میرا پہنچنا ممکن نہیں تھا۔
واضح رہے کہ عمران پرتاپگڑھی نے اپنے احباب کے ساتھ مل کر سیمانچل کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور مولانا اسرارالحق قاسمی کی نگرانی میں متاثرین کے بیچ اشیاء خورد و نوش تقسیم کیں۔اس موقع پر مولانا قاسمی نے مصیبت زدگان کے ایک مجمع کے سامنے عمران پرتاپگڑھی کو دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے شاعر ہیں جنہیں سننے کے لئے ملک و بیرون میں لاکھوں لوگ اکٹھا ہوتے ہیں اور یہ نوجوانوں کے درمیان نہایت مقبول و معروف ہیں، مگر اس سے بھی بڑھ کر ان کا دینی و ملی جذبہ قابل قدر ہے۔جہاں عمران پرتاپگڑھی اپنی بیباک شاعری کے ذریعہ حکمرانوں کو جھنجھوڑتے اور مظلوم و اقلیتی طبقات کے مسائل پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں، وہیں وہ عملی طور پر بھی تمام تر خوف اور اندیشے سے بے پرواہ ہوکر مسلمانوں کو انصاف دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مولانا قاسمی نے سیمانچل کے تمام سیلاب متاثرین کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان لوگوں کی مصیبت کو اپنا دکھ درد سمجھا اور سیلاب زدہ علاقوں میں خود پہنچ کر ان کی امداد کی، مولانا قاسمی نے امید ظاہر کی کہ درد مند دل رکھنے والے دیگر حضرات بھی خواہ کسی بھی مذہب و مسلک اور شعبہ حیات سے تعلق رکھتے ہوں، عمران پرتاپ گڑھی کی طرح سیمانچل کے سیلاب زدہ علاقوں میں خود پہنچ کر حالات کا جائزہ لیں گے اور انکی امداد کے لئے آگے آئیں گے۔ 

جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام 21؍ستمبر کو نئی دہلی میں امن و اتحاد کانفرنس کا اعلان!

’ نیا ہندستان ‘‘کی تعمیر امن و اتحاد کی بنیاد پر ہی ممکن: مولانا محمود مدنی

رپورٹ: محمد آصف
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
نئی دہلی(آئی این اے نیوز 28؍اگست 2017) جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر مسجد عبدالنبی نئی دہلی میں مغربی یوپی، ہریانہ، پنجاب، اتراکھنڈ اور دہلی کے ذمہ داروں کی ایک اہم مشاورتی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ملک کے موجودہ حالات میں امن و اتحاد کی ضرورتوں پر زور ڈالتے مختلف پہلووں کا جائزہ لیا گیا.
اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اعلان کیا کہ آئندہ ماہ ۲۱؍ستمبر کو دہلی کے اندرا گاندھی میں’’ امن و اتحاد کانفرنس‘‘ منعقد کی جائے گی جس میں مختلف عقائد سے وابستہ اہم شخصیات کو مدعو کیا جائے گا، مولانا مدنی نے موجودہ حالات میں امن کے قیام کی ضرورت پر زور ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک میں نفرت کی سیاست کرنے والی طاقتیں عروج پر ہیں جو مختلف مذاہب کے درمیان دوریاں پیدا کر کے اپنا سیاسی دائرہ اثر بڑھا رہی ہیں، مولانا مدنی نے واضح طور سے کہا کہ فرقہ وارانہ عداوت اور ایک مخصوص نظریے کے تحت نیا ہندستان کا تصور مشکل ہے، نئے ہندستان کی تشکیل کے لیے ملک کا اتحاد ناگزیر ہے، انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں تمام طبقات میں محبت قائم ہو، اس کے لیے جمعیۃ علماء ہند ہر طرح کی جدوجہد کرے گی ۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کی 80 فیصد آبادی ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو مسلمانوں سے بغض نہیں رکھتی، ہمیں ان تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے، انھوں نے کہا کہ نفرت کی دیوار کھڑی کرنے کے لیے ہر روز گاڑے اور چونے ڈالے جارہے ہیں، نیا نیا پینترا اپنا یا جارہا ہے، مگر ہم نے بھی ٹھانا ہے کہ ہم اتنی ہی قوت سے محبت پھیلائیں گے اور حتی الوسع نفرت کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کریں گے، انھوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام اور ان کے اصحاب کی زندگی ہمارے لیے نمونہ حیات ہے، ان کے طریقوں کو اپنا کر ہی ہم سرخرو ہو سکتے ہیں ۔ مولانا مدنی نے استدلال کیا کہ اسلام جنو ب کے ساحل ( مالابار ) سے داخل ہوا اور یہیں سے پھلا پھولا نہ کہ شمال کی جانب سے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہندستان کے مسلم حکمراں اسلام کے نمائندے نہیں تھے بلکہ بوریہ نشیں فقراء اور اولیاء اللہ نے اپنی محبت، دوستی اور اتحاد کے پیغام کے ذریعہ ملک کے گوشے گوشے میں ایمان کی روشنی پھیلائی ۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے اسلام کی بنیاد پر قائم پاکستان کے بجائے اس ملک میں رہنا اس لیے قبول نہیں کیا تھا کہ ایک دن ہم الگ تھلگ پڑ جائیں اور ہمیں عضو معطل تصور کیا جائے، اس لیے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ملک کی اکثریت تک امن کے پیغام کو پہنچائیں اور ان کو خود سے قریب کریں، انھوں نے صاف کیا کہ ہمیں کسی کے اقتدار سے کچھ لینا دینا نہیں ہے بلکہ ہماری نگاہ اپنے نصب العین پر ہو ۔مولانا مدنی نے بتایا کہ پچھلے دنوں ملک کے آٹھ سو سے زائد شہروں میں امن مارچ منعقد ہوا، مسلمانوں کے ساتھ برادران وطن کے ذمہ داران افراد بھی ہمارے ساتھ شریک ہوئے، مرادآباد، مظفر نگر، امروہہ، گجرات وغیرہ میں لوگوں نے اپنی دکانیں بند کرکے ہمارے ساتھ شرکت کی، ہم اسے خوش آیند سمجھتے ہیں اور ان شاء اللہ مستقبل میں اسے جاری رکھیں گے ۔
مولانا مدنی نے عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کے سلسلے میں پیدا شدہ خدشات کے تناظر میں کہا کہ ہمیں کسی طرح کا خوف نہیں پالنا چاہیے اور جہاں قربانی ہوتی تھی کہ وہاں ہر حال میں ہونی چاہیے، لیکن شریعت اسلامیہ نے جانوروں کے حقوق بھی رکھے ہیں، ایک گاڑی میں زیادہ جانوروں کو ٹھونس کر ٹرانسپورٹ نہ کریں، اسی طرح ایک جانور کی موجودگی میں دوسرے جانور کو ذبح نہیں کیا جائے، عام گزرگاہوں پر قربانی سے احتراز کیا جائے، جانور کے ذبح کے بعد آلائش وغیرہ کی صفائی کا پہلے سے ہی انتظام ہو، مولانا مدنی نے بہار سیلاب متاثرین کے تعاون کے لیے بھی لوگوں کو متوجہ کیا ۔
آخر میں مولانا مدنی نے ذمہ داروں سے کہا کہ وہ امن و اتحاد کانفرنس کی اہمیت کے پیش نظر پوری تیار ی کے ساتھ کام شروع کردیں اور گاؤں گاؤ ں جا کر لوگوں تک جمعےۃ علماء کا پیغام پہنچائیں ۔ تمام ذمہ داروں نے اپنی طرف سے یقین دہانی کرائی اور اجلاس کے لیے ہر طرح کا تعاون دینے کا وعدہ کیا ۔اس اجلاس میں مولانا مدنی کے علاوہ مولانا متین الحق اسامہ کانپوری صدر جمعیۃ علماء اترپردیش، مولانا قاری شوکت علی ویٹ ، مولانا مفتی عفان منصورپوری ، مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃعلما ہند ،مولانا یحی کریمی صدر جمعیۃ علما ء ہریانہ، پنجاب و ہماچل پردیش ،مولانا قاسالم قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء اترپردیش نے خطاب کیا ۔ دیگر اہم شرکاء میں درج ذیل حضرات کے نام خاص طور سے قابل ذکر ہیں : مولانا معزالدین احمد امارت شرعیہ ہند، مولانا سید محمد مدنی ناظم اعلی جمعیۃ علماء اترپردیش ، مولانا افتخار قاسمی ہاپوڑ، دہلی سے مولانا محمد عابد قاسمی ،مولانا جاوید صدیقی قاسمی مولانا محمد قاسم فیروزآباد،ڈاکٹر اسلام قاسمی صدر جمعےۃ علماء اتراکھنڈ ،مفتی اویس اکرم بجنور، ذہین احمد دیوبند، مولانا معصوم اتراکھنڈ، مولانا محمد عاقل شاملی، مظفر نگر سے مفتی بنیامین، حافظ فرقان اسعدی، ڈاکٹر جمال قاسمی، مولانا موسی قاسمی ، مولانا ذاکر قاسمی ، پانی پت سے حاجی اکرام اور صوفی محمد ا سلام، غازی آباد سے مولانا اسجد قاسمی ، مولانا شعبان ، میرٹھ سے حنیف قریشی ، مولانا امیر اعظم، مولانا سلمان ،قاری زین الراشدین،مرادآباد سے قاری نفیس، مولانا مزمل قاسمی ، قاری نجیب الرحمن ، امروہہ سے قاری یامین، حافظ فرمان ، ماسٹر ذاکر ، مولانا عبدالجبار ، رام پو رسے مولانا لیاقت ، مولانا عرفان ، بلند شہر سے مولانا عابد ، میوات سے مولانا شیر محمد امینی میوات ، مولانا فخرالدین ہاپوڑ، بہادرگڑھ ہریا نہ سے قارمحمد عابد وغیرہ شریک تھے ۔

چوری کے معاملے میں تین گرفتار، سونے چاندی کے زیورات برآمد!


رپورٹ: محمد عامر
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
مئو(آئی این اے نیوز 28/اگست 2017) مئو ضلع کے تھانہ کوتوالی علاقہ میں 19 اگست کو دیپک اپادھیائے بیٹے اماناتھ رہائشی بابا بہاری داس مندر کے پاس محلہ برہمن ٹولا کے گھر ہوئی چوری کے معاملے میں علاقائی افسر کی قیادت میں تھانہ کوتوالی سے ایک پولیس ٹیم تشکیل کر سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر پولیس ٹیم نے هنمان مندر ہرکیش پورا کے پاس سے مخبر کی اطلاع پر محمد راشد بیٹے خالد رہائشی اسلام پورہ، محمد عارف بیٹے اقبال رہائشی گھاسي پورہ اور حامد بیٹے انور رہائشی پہاڑپورہ کو گرفتار کر ان کے قبضے سے اور نشاندہی پر چوری ہوئے سونے چاندی کے زیورات (قیمت تقریبا 11 لاکھ 75 ہزار) برآمد کر لیا، اور مجرموں کو گرفتار کر جیل بھیجا.
پولیس سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے پولیس ٹیم کے حوصلہ افزائی کی غرض سے پانچ ہزار روپے کے نقد انعام سے نوازا گیا.

پریمی جوڑے کو پولیس نے کیا گرفتار!


رپورٹ: محمد یاسر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
سرائے میر/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 28/اگست 2017) سرائے میر مقامی تھانہ پولیس نے بھاگ رہے پریمی جوڑے کو گرفتار کر عاشق نوجوان کو جیل اور لڑکی کو ڈاکٹر معائنہ کے لئے بھیجا، پولیس سے ملی معلومات کے ستیش بیٹے هرشچندر بند گرام حسن پور تھانہ سرائے مير نے تحریر کیا کہ 24 اگست کو میری 16 سالہ بیٹی کو گاؤں کے روندر بیٹے لالسا کمار نے بہلا پھسلا بھگا لے گیا، اس پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے پریمی جوڑے کی تلاش میں لگی ہوئی تھی، مخبر کی طرف سے رپورٹ کیا گیا کہ حسن پور گاؤں سے بھاگنے پریمی جوڑے کہیں بھاگنے کے فراق میں كھریواں موڑ پر کھڑے ہیں، پولیس نے اطلاع پاتے ہی كھریواں موڑ پر پہنچ کر گھر سے بھاگے لڑکی اور نوجوان کو گرفتار کر تھانے پر لا کر متعلق دفعات میں مقدمہ رجسٹر کرکے اور طبی معائنہ کیلئے ضلع ہسپتال میں لڑکی کو بھیج دیا، اور لڑکے کو جیل بھیج دیا.

Sunday, 27 August 2017

محمد توفیق انجم نے دس سال کی عمر میں حفظ قرآن کیا مکمل، اہل خانہ میں خوشی!



رپورٹ: ابوذر صدیقی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دربھنگہ/بہار(آئی این اے نیوز 27/اگست  2017) دربھنگہ ضلع کے جالے گاﺅں سے تعلق رکھنے والے والے جناب محمد حسنین اختر کے بیٹے محمد توفیق انجم نے دس سال کی قلیل مدت میں حفظ قرآن مکمل کرلیاہے جس سے والدین اور اہل خانہ میں خوشی ومسرت کا ماحول ہے، محمد حسنین اختر نے بتایا کہ اسی مناسبت سے بعد نماز عصر جامع مسجد مہندی ٹولہ علی گنج لکھنو ملحق مدرسہ عربیہ انوارالقرآن علی گنج لکھنو یوپی میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں مولانا عبدالحق ندوی ناظم مدرسہ ہذا نے حفظ قرآن کریم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہم سب کیلئے بڑے شرف کی بات ہے کہ ہمارے یہاں دور دراز علاقوں سے طالب علم علم سیکھنے آتے ہیں، انکی حیثیت ہمارے نزدیک مہمانوں کی سی ہے لہذا جتنا ہو سکے ہمیں انکا اکرام کرنا چاہیے اور انہیں اپنے بچوں کیطرح سمجھنا چاہیے. اور مولانا جہانگیر عالم ناظم مدرسہ خادم العلوم اکبر نگر لکھنو نے حدیث “خیرکم من تعلم القرآن و علمہ” کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس سرزمین پر سب سے بہترین مخلوق وہ ہیں جو قرآن سیکھتے اور سکھاتے ہیں، اگر یہ قرآن پہاڑ پر نازل ہوتا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے لیکن اللہ نے اشرف المخلوقات انسان کے اوپر اس کو نازل کیا، قابلِ مبارک باد ہیں وہ لوگ جو قرآن کریم سے جڑے ہوئے ہیں خواہ کسی بھی اعتبار سے ہو.
 آخر میں طالب علم اور انکے والدین کو مبارک باد پیش کی اور دعاؤں کے ساتھ جلسہ کا اختتام ہوا. جلسہ میں طلباء اور سیکڑوں مصلیان کے علاوہ مولانا محمد خلیق انجم ندوی، مولانا حامد حسین ندوی و دیگر اساتذہ کرام موجود تھے۔

ﮨﻢ ﮐﺴﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐو ﻣﻠﮏ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ یہاں ﻣﺘﺤﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، بہار کے باشندے بی جے پی کے رتھ کو روک کر ملک کو بچانے کا کام کریں: اکھلیش یادو


رپورٹ: سعید احمد
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
پٹنہ(آئی این اے نیوز 27/اگست 2017) ﻻﻟﻮ ﭘﺮﺳﺎﺩ ﯾﺎﺩﻭ ﮐﯽ  "ملک ﺑﭽﺎؤ بی جے پی ﺑﮭﮕﺎؤ" ﺭﯾﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﭘﺮﺩﯾﺶ ﮐﮯ ﺳﺎﺑﻖ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻠﯽ ﺍﮐﮭﻠﯿﺶ ﯾﺎﺩﻭ ﻧﮯ ﺷﺮﮐﺖ کر ﮐﮯ بی جے پی ﭘﺮ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ، اﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺟﭙﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﯾﺠﭩﻞ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ بی جے پی ہماری اس ریلی میں انسانی سمندر کے ٹھاٹے مارتے ہوئے مجموعہ کو ﭨﯽ ﻭﯼ ﭘﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﭼﮭﭙﮑﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﺎﺟﭙﺎ ﺳﮯ ملک ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺑﭽﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﻧﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯿﺎﮞ ﺗﺒﺎﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﺟﺎﺭﮨﯽ ہیں، ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﭩﮏ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﭼﮭﮯ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺏ ﺍﭼﮭﮯ ﺩﻥ ﭼﮭﻮﮌ کر ﻧﯿﻮ ﺍﻧﮉﯾﺎ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﮐﮭﻠﯿﺶ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺟﭙﺎ ﮐﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﮨﻮﮔﺌﮯ، ﺑﺘﺎؤ ﺍﻥ ﻏﺮﯾﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ، ﮐﺴﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻓﺮﻕ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﺍﮐﮭﻠﯿﺶ ﻧﮯ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮧ ﮐﻢ ﺳﮯ کم ایک ﺭﺍﻡ ﺭﺣﯿﻢ ﮐﮯ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﭨﯽ ﻭﯼ والوں نے اپنا ﭼﮩﺮﮦ ﺩﮐﮭﺎ ﺩﯾﺎ۔ﺍﯾﮏ ﭨﯽ ﻭﯼ ﻭﺍﻟﮯ نے ﮨﺮﯾﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺸﺪﺩ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﺟﻼﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ، ﮐﺴﯽ ﭼﯿﻨﻞ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﭼﯿﻨﻞ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﮒ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﻣﺘﺤﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﮏ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮨﻮ ﺟﺎؤ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﮔﮯ ﺁؤ.
ﺍﮐﮭﻠﯿﺶ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺟﭙﺎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻧﻮﭦ ﺑﻨﺪﯼ ﺳﮯ ﺑﺪﻋﻨﻮﺍﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﮐﺎ ﺧﺎﺗﻤﮧ ﮨﻮﮔﺎ، لیکن ﻧﻮﭦ ﺑﻨﺪﯼ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﮍﮬﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﯽ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻧﻮﭦ ﺑﻨﺪﯼ ﺳﮯ ﮐﺲ ﮐﺎ ﮐﺘﻨﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﺘﻨﺎ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ کہ روپیہ ﮐﺎﻻ ﺳﻔﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ،ﻟﯿﻦ ﺩﯾﻦ ﮐﺎﻻ ﺳﻔﯿﺪ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻧﻮﭦ ﺑﻨﺪﯼ ﮐﮯ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﻨﮑﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﺎﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ﻧﺘﯿﺶ ﮐﻤﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﭩﮑﯽ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﮐﮭﻠﯿﺶ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﺠﺴﻮﯼ ﺟﯽ ﺁﭖ ﻧﺘﯿﺶ ﮐﻤﺎﺭ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﭼﺎﭼﺎ ﻧﮧ ﮐﮩﻮ، ﺍﻥ ﮐﻮ ﮈﯼ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﻭﺍﻻ ﭼﺎﭼﺎ ﮐﮩﻮ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﯿﻼﺏ ﻣﺘﺎﺛﺮﮦ ﺑﮩﺎﺭ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﭘﯿﮑﺞ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺻﺮﻑ ﭘﯿﮑﺞ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ، ﯾﮧ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺳﯿﻼﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﮩﮧ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﭘﯿﮑﺞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔ اﮐﮭﻠﯿﺶ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﯾﺶ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺘﺤﺪ ﮨﻮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﺁﭖ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﮟ۔ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮧ ﺑﮩﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺳﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﮨﮯ ﺟﺐ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﺭﺗﮫ ﮐﻮ ﺭﻭﮎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮭﺎﺟﭙﺎ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﯿﺜﯿﺖ ۔ﺁﭖ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺭﻭﮎ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺶ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔

مدرسہ عربیہ نوریہ بڑوت میں ماہانہ امتحان شروع!


رپورٹ: محمد دلشاد قاسمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بڑوت/باغپت(آئی این اے نیوز 27/اگست 2017) باغپت ضلع کے قصبہ بڑوت کے مشہور و معروف مدرسہ عربیہ نوریہ میں کل سے ماہانہ جائزہ کی کارروائی شروع ہوگئی ہے، مدرسہ ھذا کے ناظم تعلیمات مولانا عارف الحق بڑوتوی نے بتایا کہ مدرسہ میں ہفتہ سےدرجہ حفظ سے لیکر درجہ عربی پنجم تک کا جائزہ کی کارروائی شروع کردی گئی ہے، اور یہ بروز جمعرات تک جاری رہے گی، اور جائزہ میں  پوزیشن لانے والے طلبہ کو مدرسہ کی جانب سے گراں قدر انعامات سے نوازا جائیگا.
واضح ہو کہ جائزہ لینے والوں میں شامل مدرسہ ھذا کے مھتمم حضرت مولانا عبدالستار صاحب، مولانا عارف الحق صاحب، مفتی شاہ نواز صاحب،  مفتی وسیم صاحب، مولانا احمد صاحب، قاری ارشاد صاحب مدرسہ ھذا کے اساتذہ شامل ہیں.

قربانی کرنے کا صحیح وقت!


از قلم: محمد افضل غازی پوری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قربانی کا وقت نماز عید الاضحی سے شروع ہوتا ہے اور ۱۲ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک رہتا ہے۔ نماز عیدالاضحی سے قبل قربانی
 کی صورت میں رسول اللہ ﷺ نے دوسری قربانی کرنے کا حکم دیا ہے جیساکہ حدیث میں مذکور ہے ، اس سے قربانی کا ابتدا ئی وقت معلوم ہوتا ہے ۔قربانی کے آخری وقت کی تحدید میں فقہاء وعلماء کے درمیان زمانہٴ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل (ایک روایت) نے ۱۲ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک تحریر کیا ہے جبکہ بعض علماء نے ۱۳ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک وقت تحریر کیا ہے۔ پہلا قول احتیاط پر مبنی ہونے کے ساتھ دلائل کے اعتبار سے بھی قوی ہے کیونکہ کسی بھی حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ یا کسی صحابی نے ۱۳ ذی الحجہ کو قربانی کی ہو، البتہ بعض احادیث وآثار کے مفہوم سے دوسرے قول کی تایید ضروری ہوتی ہے مگر اُن احادیث وآثار کے دوسرے معنی بھی مراد لئے جاسکتے ہیں مثلاً رسول اللہ ﷺ نے حجة الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا : کل فجاج مکہ منحر وکل ایام التشریق ذبح (طبرانی وبیہقی)۔ اولاً اس حدیث کی سندمیں ضعف ہے،احادیث ضعیفہ فضائل کے حق میں تو معتبر ہیں، لیکن ان سے حکم ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ثانیاًبعض کتب حدیث میں یہ حدیث "وکل ایام التشریق ذبح" کے الفاظ کے بغیر مروی ہے۔
قربانی کا وقت ۱۲ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے، اس کے چند دلائل پیش ہیں۔
 نبی اکرم ﷺ نے ابتدائی سالوں میں صحابہٴ کرام کے اقتصادی حالات کے پیش نظر قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ ذخیرہ کرنے سے منع فرمادیا تھا، بعد میں اس کی اجازت دے دی گئی۔ اگر چوتھے دن قربانی کی جاسکتی ہے تو پھر تین دن سے زیادہ قربانی کا ذخیرہ کرنے سے منع کرنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ (کتب حدیث میں یہ حدیثیں موجود ہیں)
# حضرت عبداللہ بن عمر  فرماتے ہیں کہ ایام معلومات‘ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) اور اسکے بعد دو دن (۱۱ و ۱۲ ذی الحجہ) ہیں۔ (احکام القرآن للجصاص ۔ باب الایام المعلومات / تفسیر ابن ابی حاتم رازی ج ۶ ص ۲۶۱)
# مشہور ومعروف تابعی حضرت قتادہ  روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : الذِّبْحُ بَعْدَ النَّحرِ یَوْمَان۔ قربانی دسویں ذی الحجہ کے بعد صرف دو دن ہے۔ (سنن کبری للبیہقی ۔ باب من قال الاضحی یوم النحر) حضرت عبداللہ بن عمر  اور حضرت انس  کے علاوہ حضرت علی، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابوہریرہ، حضرت سعید بن الجبیر  اور سعید بن المسیب کے اقوال بھی کتب حدیث میں مذکور ہیں جسمیں وضاحت کے ساتھ تحریر ہے کہ قربانی صرف تین دن ہے۔
﴿وضاحت﴾: امت مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نماز عید الاضحی سے فراغت کے بعد فوری طور پر قربانی کرنا سب سے زیادہ بہتر ہے،بلکہ کچھ کھائے بغیر نماز عیدالاضحی کے لئے جانا اور سب سے پہلے قربانی کا گوشت کھانا عیدالاضحی کی سنن میں سے ہے۔ نبی اکرم ﷺ اور صحابہٴ کرام کا یہی معمول تھا۔ اس وجہ سے ہمیں پہلے ہی دن قربانی کرنی چاہئے، اگر کسی وجہ سے پہلے دن قربانی نہ کرسکتے یا چند قربانیاں کرنی ہیں تو ۱۲ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ضرور فارغ ہوجا نا چاہئے کیونکہ جن بعض علماء نے ۱۳ ذی الحجہ کو قربانی کی اجازت دی ہے انہوں نے بھی یہی تحریر کیا ہے کہ ۱۲ ذی الحجہ سے قبل ہی بلکہ ۱۰/ ذی الحجہ کو ہی قربانی کرلینی چاہئے
الله تعالٰی تمام امت مسلمہ کو صحیح وقت پر قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمیــــن

وہ خط جس نے گرمیت رام رھیم کی پول کھولی!



ہندی سے اردو ترجمانی: عبدالغفار سلفی بنارس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ خط اس ڈھونگی بابا کے چنگل میں پھنسی ایک لڑکی نے اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو لکھا تھا،  اسی خط کی بنیاد پر سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے رام رھیم کو زانی قرار دیا.
"بخدمت :
محترم وزیر اعظم جناب اٹل بہاری واجپئی، حکومت ہند
موضوع: ڈیرے کے مہاراج کے ذریعے سینکڑوں لڑکیوں کی عصمت دری کی جانچ پڑتال کریں.
جناب عالی!
عرض یہ ہے کہ میں پنجاب کی رہنے والی ہوں اور اب پانچ سال سے ڈیرہ سچا سودا سرسا، ہریانہ (دھن دھن ست گرو تیرا ہی آسرا) میں سادھو لڑکی کے طور پر خدمت کر رہی ہوں، میرے ساتھ یہاں سینکڑوں لڑکیاں ڈیرے میں 18، 18 گھنٹے خدمت کرتی ہیں، ہمارا یہاں جسمانی طور پر استحصال کیا جا رہا ہے، ساتھ میں ڈیرے کے مہاراج گرمیت سنگھ کے ذریعے جنسی استحصال (عصمت دری) کیا جا رہا ہے، میں بی اے پاس کی ہوئی لڑکی ہوں، میرے خاندان کے لوگ مہاراج کے اندھے عقیدت مند ہیں، جن کے ایما پر میں ڈیرے میں سادھو بنی تھی.
سادھو بننے کے دو سال بعد ایک دن مہاراج گرمیت کی شاگردہ سادھو گرجوت نے رات 10 بجے مجھے بتایا کہ آپ کو پتا جی نے غار (مہاراج کے رہنے کا مقام) میں بلایا ہے، کیونکہ میں پہلی بار وہاں جا رہی تھی، میں بہت خوش تھی، یہ سوچ کر کہ  آج خدا نے مجھے بلایا ہے، جب میں غار میں پہنچی تو دیکھا کہ مہاراج بستر پر بیٹھے ہیں، ہاتھ میں ایک ریموٹ ہے، سامنے بلو فلم ٹی وی پر چل رہی ہے، بستر کے سرہانے ایک ریوالور رکھا ہوا ہے، میں یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئی، مجھے چکر آنے لگے، میرے پیر کے نیچے کی زمین کھسک گئی، یہ کیا ہو رہا ہے؟ مہاراج ایسے ہوں گے میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا، مہاراج نے ٹی وی کو بند کیا اور مجھ ساتھ بٹھاکر پانی پلایا اور کہا کہ میں نے تمہیں اپنی خاص پیاری سمجھ کر بلایا ہے، یہ میرا پہلا دن تھا،
مہاراج نے مجھے باہوں میں لیتے ہوئے کہا ہم تجھے دل سے چاہتے ہیں، تمہارے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ تم نے ہمارے ساتھ سادھو بنتے وقت تن من دھن سب ست گرو کے لیے قربان کرنے کو کہا تھا، تو اب یہ تن من ہمارا ہے، میرے مخالفت کرنے پر انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ہی خدا ہیں، جب میں نے پوچھا کہ کیا یہ خدا کا کام ہے تو انہوں نے کہا شری کرشن بھگوان تھے، ان کے یہاں 360 گوپياں تھیں جن سے وہ ہر روز پیار محبت کرتے تھے، پھر بھی لوگ ان کو پرماتما مانتے ہیں، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، اگر ہم چاہیں تو تمہاری زندگی اس ریوالور سے ختم کر سکتے ہیں، تمہارے خاندان والے ہم  پر ایسا یقین رکھتے ہیں ہے کہ وہ ہمارے غلام ہیں، وہ ہمارے دائرے سے باہر نہیں جا سکتے یہ تم اچھی طرح جانتی ہو، حکومت میں ہماری بہت چلتی ہے، ہریانہ اور پنجاب کے وزیر اعلی، پنجاب کے مرکزی وزیر ہمارے پیر چھوتے ہیں، سیاستداں ہم سے اپنی تائید کرواتے ہیں، پیسہ کماتے ہیں اور ہمارے خلاف کبھی نہیں جائیں گے، ہم تمہارے خاندان کے نوکری یافتہ تمام افراد کو برخاست کروا دیں گے، سبھی افراد کو اپنے خدمت گاروں (غنڈوں)  سے مروا دیں گے، ثبوت بھی نہیں چھوڑیں گے، یہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم نے غنڈوں سے پہلے بھی ڈیرے کے انتظام کار فقیر چند کو ختم کروا دیا تھا جن کا اتہ پتہ تک نہیں ہے، اور کوئی ثبوت نہیں ہے، پیسے کی بدولت ہم سیاست دانوں، پولیس اور قانون کو خرید لیں گے، اس طرح میرا منہ کالا کیا اور گزشتہ تین ماہ میں 20-30 دن کے وقفے سے مسلسل کیا جا رہا ہے، آج مجھے پتہ چلا کہ مجھ سے پہلے جو لڑکیاں رہتی تھیں، ان سب کے ساتھ منہ کالا کیا گیا ہے، ڈیرے میں موجود 35-40 سادھو لڑکیاں 35-40 سال کی عمر سے زیادہ ہیں جو شادی کی عمر سے آگے نکل چکی ہیں، جنہوں نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے، ان میں زیادہ تر لڑکیاں بی اے، ایم اے، بی ایڈ، ایم. فل پاس ہیں، مگر گھر والوں کی اندھی عقیدت کی وجہ سے جہنم کی زندگی گزار رہی ہیں، ہمیں سفید لباس پہننے، سر پر چنّی رکھنے، کسی آدمی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنے، آدمی سے 5-10 فٹ دور رہنے کے مہاراج کی جانب سے احکامات ہیں، دکھاوے کے طور پر ہم دیوی ہیں، لیکن ہماری حالت طوائفوں کی طرح ہے، میں نے ایک دفعہ اپنے گھر والوں کو بتایا کہ ڈیرے میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، میرے گھر والے ناراض ہو گئے اور غصے میں کہنے لگے کہ اگر بھگوان کے ساتھ رہتے ہوئے ٹھیک نہیں ہے تو پھر ٹھیک کہاں ہے؟ تمہارے دماغ میں غلط خیالات آنے شروع ہو گئے ہیں، ست گورو کو  یاد کیا کر، میں مجبور ہوں، یہاں ست گرو کا حکم ماننا پڑتا ہے، یہاں دو لڑکیاں ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کرسکتی ہیں، گھر والوں کو ٹیلی فون ملا کر گفتگو نہیں کرسکتیں، گھر والوں کا ہمارے نام فون آئے تو مہاراج کے حکم کے مطابق ہمیں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، اگر لڑکی ڈیرے کی اس حقیقت کے بارے میں بات کرتی ہے تو پھر مہاراج کا حکم ہے کہ اس کا منہ بند کر دو، پچھلے دنوں جب بٹھنڈا  کی ایک سادھو لڑکی نے تمام لڑکیوں کے سامنے  مہاراج کی کالی کرتوتوں کو بے نقاب کیا تو کئی سادھو لڑکیوں نے اسے مل کر پیٹا، جو آج بھی اس پٹائی کے باعث بستر پر پڑی ہے، جس کے باپ نے رضاکاروں سے نام کٹوا کر چپ چاپ گھر بٹھا دیا ہے، جو چاہتے ہوئے بھی بدنامی اور مہاراج کے ڈر سے کسی کو کچھ نہیں بتا رہی ہے، کرکشیتر ضلع کی ایک سادھو لڑکی جو گھر آ گئی ہے، اُس نے اپنے گھر والوں کو سب کچھ سچ بتا دیا ہے، اسکا بھائی بڑا رضاکار تھا، جو کہ خدمت چھوڑ کر ڈیرے سے ناطا توڑ چکا ہے، سنگرور ضلع کی ایک لڑکی جس نے گھر آکر پڑوسیوں کو ڈیرے کی کالی کرتوتوں کے بارے میں بتایا تو ڈیرے کے رضاکار / غنڈے بندوقوں سے لیس لڑکی کے گھر آ گئے، گھر کےاندر سے کنڈی لگا کر جان سے مارنے کی دھمکی دی اور مستقبل میں کسی سے کچھ بھی نہیں بتانے کو کہ، اسی طرح کئی لڑکیاں جیسے کہ ضلع مانسا (پنجاب)، فیروز پور، پٹیالا، لدھیانہ کی ہیں، جو گھر جاکر بھی چپ ہیں کیونکہ اُنہیں جان کا خطرہ ہے، اسی طرح ضلع سرسا، حسار، فتح آباد، ھنمان گڑھ، میرٹھ کی کئی لڑکیاں جو کہ ڈیرے کی غنڈہ گردی کے آگے کچھ نہیں بول رہی ہیں.
 لہذا آپ سے گزارش ہے کہ ان سب لڑکیوں کے ساتھ ساتھ مجھے بھی میرے خاندان کے ساتھ جان سے مار دیا جائیگا اگر میں یہاں اپنا نام پتہ لکھوں گی، کیونکہ میں چپ نہیں رہ سکتی اور نا ہی مرنا چاہتی ھوں. عوام کے سامنے سچائی لانا چاہتی ھوں، اگر آپ پریس کے ذریعے کسی بھی ایجینسی سےجانچ کروائیں تو ڈیرے میں موجود 40 - 45 لڑکیاں جو کہ دہشت زدہ اور ڈری ہوئی ہیں پورا یقین دلانے کے بعد سچائی بتانے کو تیار ہیں، ھمارا ڈاکٹری معائنہ کیا جائے تاکہ ہمارے سرپرستوں کو اور آپکو پتہ چل جائیگا کہ ھم کنواری دیوی سادھو ہیں یا نہیں. اگر نہیں تو کسی کے ذریعے برباد ہوئی ہیں، یہ بتا دیں گے کہ مہاراج گرمیت رام رحیم سنگھ جی سنت ڈیرا سچا سودا کے ذریعے تباہ کی گئی ہیں.
 درخواست کنندہ : ایک بے قصور ذلت کی زندگی جینے کو مجبور
 (ڈیرا سچا سودا، سِرسا) .

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو!


ازقلم: آصف امام بھوارہ مدھوبنی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسان کا لفظ انس سے نکلا ہے اور ’’انس‘‘ محبت سے تعبیر ہے اور اگر ’’محبت کے خمیر‘‘ سے اٹھا یا گیا انسان ، دردِ دل کو چھوڑ دے تو انسانیت ناپید ہو جاتی ہے۔ پھر انسان ، انسان نہیں رہتا بلکہ حیوان ہو جاتا ہے۔
افسوس کہ انسانیت کا حقیقی تصور آج انسانی معاشرے سے بڑی تیزی سے ختم ہورہا ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ آج کا انسان دوسرے کے لئے درد محبت رکھنے کے بجائے'' ہمچو ما دیگرے نیست'' (میرے جیسا کوئی نہیں) کی ہلاکت آمیز غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
 جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے  کہ کسی گورے کوکسی کالےپر اورکسی کالے کو کسی گورے پر اور کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فوقیت نہیں ہے سوائے تقوی اور اللہ کے قرب کے؛ اس نبی کے ماننے والے بھی  دوسرے عام  انسان کے لئے تو درکنار اپنے مسلمان بھائی کے بلکہ اپنے خونی بھائی کے لئے بھی وہ درد محبت اور انسانیت نہیں پاتا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا تھا۔  اس زمانے میں انسان اپنےآپ کو دوسرے برادری والوں پر فوقیت والا گردانتاہے، دسرے کو اپنے سے کمتر جانتاہے،حالاںکہ ایک انسان دیگرانسان کے  یکساں ہے۔توبھلا ہم ایک دوسرے کو تنگ نگاہی سے کیوں دیکھیں۔
آج کےاس پرفتن  دور میں حد تو یہ ہوگئی ہے کہ اک انسان دوسرے کو انسان مانناہی چھوڑدیا اگر اس کے پاس روپےپیسے گاڑی بنگلہ نہ ہو تو وہ انسان ہی نہیں سمجھا جاتا، اگر انسان سمجھا جاتاتوہم اس سے بھی ویسے ہی سلام و کلام  کرتے جیسے ایک مالدار اور بزنس مین اور نوکری اورگاڑی بنگلہ والے سے سلام و کلام کرتےہیں،
 حدتویہ ہے ایک بندہ اگر کسی مجبوری میں ہوتاہے تودوسرا اس کی مددکرنےسے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ وہ مصیبت زدہ انسان آیااسکے پاس کچھ ہے بھی یانہیں؟
وہ بدلے میں مجھے کچھ دے سکتا ہے  یانہیں؟
جبکہ  ہوناتو یہ چاھئیےتھاکےانسانیت کے ناطے وہ اس کی مدد کےلئے فورًا بلاتردد کے دوڑپڑے لیکن ہمارے اندر یہ انسانیت ختم ہوچکی ہے۔
آج ضرورت ہے کہ ہم ایک مکمل انسان کا نمونہ بن کر دنیا کو پیش کریں،کیونکہ یہی ہمارا مقصد تخلیق ہے۔
تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ہمارے آ با ء نے درد دل کے اور انسانیت نوازی کے وہ دل آویز قصے چھوڑے ہیں جن پر آج بھی ہمارا سر فخر سے بلند ہے۔
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطا عت کیلئے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں