اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Friday, 1 September 2017

شہر دربھنگہ میں فرقہ وارانہ فساد کی کوشش ہوئی ناکام!


رپورٹ: محمد ابوذر صدیقی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دربھنگہ/بہار(آئی این اے نیوز 1/ستمبر 2017) دربھنگہ شہری حلقہ اس وقت جلتے جلتے بچ گیا جب کچھ شرپسند عناصر ایک بولیرو میں بیٹھ کر خاموشی سے شہر کے قلعہ گھاٹ چوک پر سے سڑک کے کنارے کھڑے قربانی کے جانوروں کی ویڈیو کرتے ہوئے لہریا سرائے کی طرف جارہے تھے، اردو میں کچھ لوگوں نے اس فتنہ انگیزی کو محسوس کرلیا اور بولیرو کا تعاقب کرتے ہوئے کرم گنج یوسف بنج بریکر کے پاس گاڑی کو روک دیا، گاڑی روکنے پر اختلاف ہوا اور معاملہ مار پیٹ پر جا پہنچا۔ اسی بیچ پولیس کو اطلاع مل گئی اور ایس ڈی او گجندر پرساد سنگھ، اے ایس پی دلنواز احمد اور لہریا سرائے تھانہ کی پولیس موقع پر فورا پہنچ گئی، وہیں قلعہ گھاٹ سے امن کمیٹی کے اراکین اور کئی وارڈ کونسلر بھی آپہنچے اور مار پیٹ کے درمیان سے بولیرو سوار کو باہر نکال کر پولیس کے حوالہ کردیا، مار پیٹ کے دوران نفیس الحق رنکو، نوین سہنا اور پولیس انسپکٹر سمیت کئی لوگوں کو چوٹ بھی آئیں۔ حالات کو قابو میں لانے کے لیے پولیس کو لاٹھی چار بھی کرنا پڑا، اس درمیان ڈی ایم ڈاکٹر چندر شیکھر سنگھ نے بھی موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا اور لہریا سرائے تھانہ سمیت دیگر تھانوں کی پولیس کے ساتھ کرم گنج سے قلعہ گھاٹ تک فلیگ مارچ کیا، حالات اور قابو میں ہیں، ڈی ایم، سینئر ایس پی اور پولیس افسران مذکورہ شرپسندوں سے تفیتش کر رہے ہیں، بتایا جاتا ہے کہ پولیس اگر فوراً کارروائی نہیں کرتی تو کوئی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا تھا، یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے طور پر دیکھا جارہا ہے، ڈی ایم ڈاکٹر چندر شیکھر سنگھ اور سینئر ایس پی ستیہ ویر سنگھ نے عوام سے امن وامان بحال رکھنے کی اپیل کی.

Thursday, 31 August 2017

دارالعلوم دیوبند میں معین مدرس منتخب ہونے کے بعد مولانا توفیق صاحب کی گاؤں ترواڑہ پہلی مرتبہ آمد پر شاندار استقبال!


رپورٹ: محمد ساجد کریمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میوات (آئی این اے نیوز 31/اگست 2017) دارالعلوم دیوبند میں معین مدرس منتخب ہونے کے بعد مولانا توفیق کی پہلی مرتبہ اپنے گاؤں ترواڑہ آمد پر  مدرسہ زینت الاسلام فیض کریمی کے  قدیم و جدید طلبہ کے ساتھ ساتھ اہل قریہ نے پرتپاک استقبال کیا اور استقبالیہ پیش کرنے کے لئے ایک اہم مجلس بھی منعقد کی گئی، جس کا آغاز قاری محمد عارف صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا.
 مولانا محمد یحییٰ کریمی صاحب نے مولانا محمد توفیق ابن حافظ اسحاق کے  دارالعلوم دیوبند میں معین مدرس کے طور پر تقرری کے بعد پہلی مرتبہ آمد پر ان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکبادی پیش کی اور گہری  خوشی کا اظہار بھی کیا اور اسے اہل میوات کے ساتھ ساتھ گاؤں ترواڑہ کے طلبہ اور باشندوں کے لئے خصوصی مسرت و شادمانی کا موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ میوات کے گاؤں ترواڑہ کے ایک ذہین اور لائق و فائق طالب علم محمد توفیق ابن حافظ اسحاق کو دارالعلوم دیوبند کے ارباب حل و عقد نے معین مدرس کے طور پر منتخب فرماکر میواتیوں کے سر کو ایک بار پھر سے فخر سے بلند کردیا۔
مولانا کریمی صاحب نے کہا ہم دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داران کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور ہم اہل میوات محمد توفیق سلمہ کو ان کی معین مدرس کے عہدے کے لئے انتخاب پر تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان کی مزید علمی وعملی ترقی اور خوشحالی کے لئے بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہیں۔
 اور مولانا یحییٰ کریمی صاحب نے یہ بھی کہا ہمیں مسرت ہے  کہ مولانا توفیق ابن حافظ اسحاق گاؤں کے  اس چھوٹے سے مدرسے میں ابتدائ تعلیم  حاصل کرکے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
 اور مولانا کریمی نے  طلباء کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مولانا توفیق جیسے ہونہار طلبہ کو اپنے لئے آئیڈیل بنا کر محنت کریں اور ہمیشہ بلند پرواز بھرنے کا عزم رکھیں۔
مولانا کریمی کے علاوہ مولانا محمد توفیق صاحب معین مدرس دارالعلوم دیوبند٬ قاری محمد موسیٰ صاحب ترواڑہ ٬قاری ناظر الحق کریمی مولانا مفتی محمد عاشق الٰہی اور مولانا محمد جاوید صاحب ترواڑہ نے بھی خطاب کیا، اخیر میں مولانا محمد توفیق صاحب کی دعا پر یہ اہم مجلس  اپنے اختتام کو پہنچی۔

مسلمان پردے کے اہتمام کے ساتھ کریں قربانی: مولاناعارف الحق


رپورٹ: محمد دلشاد قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بڑوت/باغپت(آئی این اے نیوز 31/اگست 2017) شہر امام حضرت مولانا عارف الحق نے کہا ہے کہ قربانی ہمیشہ پردے کے پیچھے ہی کی جائے، مولانا عارف الحق بدھ کے روز قصبہ کی مرکزی مسجد پہونس والی میں جمیعتہ العلماء ھند کی میٹنگ میں شریک ہوئے، تو اس میں انہوں نے کہا کہ جب قربانی کریں تو اس کا خیال رکھا جائے کہ جو تمہارا پڑوسی ہے اس کو کسی بھی طرح کی تکلیف نہ پہونچے، پردے کے ساتھ قربانی کریں اور گوشت تقسیم کرنے میں بھی پردے کا اہتمام کریں، صاف صفائی کا دھیان رکھیں، افواہوں پر بالکل بھی دھیان نہ دیں، قربانی کھلی جگہ میں بالکل نہ کریں اور ساتھ ساتھ صاف صفائی کا بے حد خیال رکھیں.
میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ قربانی جیسے مقدس تیوہار کے مدنظر سرکاری افسران سے بھی ملاقات کیا جائے تاکہ 24گھنٹے بجلی پانی صفائی کے انتظام کرایا جا سکے، گاؤں میں شرارتیوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے، تاکہ یہ مقدس تیوہار امن و سکون کے ساتھ سب منا سکیں.
اس موقع پر محمد اکرم، محمد عارف ملک، قاری محمد عمران، قاری ساجد، قاری طارق،  ڈاکٹر عبدالغیور، ڈاکٹر عبدالمؤمن موجود رہے.

عید الاضحی اور اس کا عالم گیر پیغام!


 از: محمد سالم قاسمی سریانوی، استاذ جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور اعظم گڑھ
salimmubarakpuri@gmail.com
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس وقت ’’اشہر حرم‘‘ میں سے ذی الحجہ کے مبارک ایام چل رہے ہیں، ان ایام کو اللہ رب العزت کی طرف سے خصوصی شرف وفضیلت حاصل ہے، چناں چہ انھیں ایام میں سب سے اہم عبادت ۔جو کہ ارکان اسلام میں پانچواں رکن ہے۔’’حج‘‘ کی ادائیگی ہوتی ہے، جس میں بندوں کی طرف سے اللہ کے حضور بے پناہ والہانہ وعاشقانہ جذبات کا اظہار ہوتا ہے، اسی اعمال حج میں ایک نہایت ہی عظیم الشان اور مبارک عمل ’’قربانی‘‘ ہے، جو کہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ہم اللہ کے حضور سرنگوں ہیں اور ہمارا اپنا کچھ نہیں ہے؛ بل کہ ہماری ساری کامیابی وکامرانی کا راز اللہ کی اطاعت میں ہے۔
 اسلام میں اللہ کی طرف سے سال میں دو تہوار متعین ہیں، ان کے علاوہ کوئی اور تہوار نہیں ہے، جیسا کہ ہجرت رسولْ ﷺ کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ ﷺمدینہ پہنچے تو وہاں کے لوگ سال میں دو مرتبہ خوشیاں مناتے تھے، آپ ﷺ نے ان سے اس بابت پوچھا اور ان کے جواب کے بعد ان سے ارشاد فرمایا: ’’إن اﷲ قد أبدلکم بہما خیرا منہمایوم الأضحی ویوم الفطر‘‘ کہ اللہ نے تمہارے لیے ان دو دنوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن ’’عید الاضحی اور عید الفطر ‘‘کی صورت میں عنایت فرما دیے ہیں۔(ابو داؤد شریف، حدیث نمبر: ۹۵۹، کتاب الصلاۃ، صلاۃ العیدین)
لیکن یہ دونوں اسلامی تہوار اُن عام تہواروں کی طرح نہیں ہیں جن کو غیر مسلم مناتے ہیں؛ بل کہ یہ دونوں تہوار عبادت کی تکمیل کی خوشی کے موقعے پر ہیں، جن میں ہر ایک کے اندر اللہ کے حضور راز ونیاز کیا جاتا ہے اور دو رکعت نما زادا کرکے اس کی بارگاہ میں اپنی جبینوں کو خم کیا جاتا ہے، جب کہ اس کے برخلاف دوسری قوموں کے تہواروں میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی ہے؛ بل کہ ان کے یہاں خود ساختہ تہوار ہوتے ہیں جن میں کسی بڑے کی یادگار یا اور کوئی خاص مقصد پنہاں ہوتا ہے اور ان میں عموما عبادت کا کوئی پہلو نہیں ہوتا ہے۔
 عید الاضحی میں سب سے اہم اور خاص عمل ’’قربانی‘‘ ہے؛ اسی لیے روایات حدیث میں اس عمل کو ان ’’ایام عشرہ‘‘ میں سب سے اہم اور افضل عمل قرار دیا گیا ہے، حتی کہ جہاد سے بھی افضل قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ روایت میں ذکر کیا گیا ہے۔(ملاحظہ ہو: ابو داؤد شریف، حدیث نمبر:۲۰۸۲، کتاب الصوم، باب في صوم العشر)
یہ قربانی کا فلسفہ جو پوری دنیا کے مسلمان برتتے ہیں در حقیقت جد امجد حضرت ابراہیم اور ان کے صاحب زادے حضرت اسماعیل علیہما السلام کی یادگار ہے، اس قربانی کے ذریعہ اللہ رب العزت نے اپنے خلیل کو آزمایا تھااوروہ اس میں مکمل طور سے کامیاب ہوئے تھے، چناں چہ اس کو امت محمدیہ کے لیے قابل عمل بنا دیا گیا،صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے جب آپ ﷺ سے قربانی کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہي سنۃ أبیکم إبراہیم‘‘ کہ یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر:۳۱۱۸، ابواب الاضاحی)
یہ قربانی کا فلسفہ صرف رسمی نہیں ہے؛ بل کہ اس کی ایک حقیقت ہے، جو اللہ رب العزت کو مطلوب ومقصود ہے، اس قربانی کا سب سے اہم اور بڑا پیغام ومقصد اپنی ذات اور تمام چیزوں کومحض اللہ کے لیے قربان کرنے کا جذبہ پیدا کرنا اور اس کی آبیاری کرنا ہے،( ظاہری طور پر جانوروں کو قربان کرنا یہ مقصد نہیں ہے، اس لیے کہ اگر دیکھا جائے تو اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے، بل کہ ایک درجہ میں نقصان ہی ہے) یہ قربانی تو صرف اس بنیاد پر ہے کہ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو اسے کرنے کا حکم دیا ہے، اور اللہ کے حکم کے آگے عقلی گھوڑا دوڑانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ بل کہ ایسے مواقع پر عقل کو استعمال کرنے والے لوگ بے وقوف اور دین بیزار ہیں، اللہ رب العزت نے یہ قربانی اسی لیے دی ہے کہ ہمارے اندر اس کا جذبہ پیدا ہوجائے کہ ہم ہر موڑ اور موقع پر اللہ کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھنے لگیں۔
 اس قربانی کا دوسرا اہم پہلو غرباء پروری اور ایثار وہمدردی کا جذبہ پیدا کرنا اور اسے پروان چڑھانا ہے، اللہ نے قربانی کے بعد ہمیں اس کا گوشت وغیرہ استعمال کرنے کی مکمل اجازت دی ہے، لیکن اس موقع پر اعزہ واقرباء اور دوسرے غرباء وفقراء اور مساکین کو بھی یاد رکھا گیا ہے؛ تاکہ پورا مسلم معاشرہ عید الاضحی اور قربانی کی خوشی میں برابر کاشریک ہو، ایسا نہ کہ محض ایک طبقہ خوشی منائے اور باقی دوسرے طبقہ والے اس میں حصہ داری نہ رکھ سکیں؛چناں چہ اس موقع پر عام قربانی کرنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کریں ا ور اس کا ایک حصہ خود رکھیں، جب کہ دوسرا حصہ اعزہ واقرباء میں تقسیم کریں اور تیسرا حصہ معاشرے میں موجود غرباء اور مساکین میں تقسیم کریں۔
 یہ دو پہلو عید الاضحی وقربانی کے موقع پر نہایت ہی اہم ہیں؛ بل کہ ان کو قربانی کی مصلحت وحکمت میں شمار کیا گیا ہے، اور یہ اسلام کی ان خصوصیات میں سے ہے جس سے دنیا کے دوسرے تمام مذاہب یکسر خالی ہیں، ان دونوں پہلوؤں میں حقوق کی دونوں قسموں یعنی ’’حقوق اللہ‘‘ اور’’ حقوق العباد‘‘ کو مکمل طور سے سمیٹ دیا گیا ہے؛ لہذا اگر ان دونوں پہلوؤں سے قربانی کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ پوارا دین اسلام اس اعظیم الشان عبادت میں سمٹ کر آگیا ہے۔
 اس لیے ہمیں قربانی جیسی عظیم عبادت انجام دیتے وقت ان دونوں پہلوؤں پر نظر ڈالنی چاہیے ؛ تاکہ کما حقہ اس عبادت کو انجام دے سکیں اور اللہ کی رضا وخوش نودی اور مخلوق خدا کی دل جوئی وہمدردی کرسکیں۔ واللہ الموفق

جامعہ منبع العلوم پوجاکالونی میں سہ ماہی امتحان اختتام پزیر طلبہ کی کارکردگی سے انتظامیہ خوش!


رپورٹ: یاسین صدیقی قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لونی/غازی آباد(آئی این اے نیوز 31/اگست 2017) جامعہ منبع العلوم میں سہ ماہی امتحان کا انعقاد ہوا جو دو نششتوں پر مشتمل تھا الحمدللہ  بطور ممتحن مولانا عباس مدرس مدرسہ زینت الاسلام راشد علی گیٹ لونی مولانا نزاکت قاسمی جنرل سیکریٹری جمعیت علماء شہر لونی مولانا یاسین قاسمی ناظم تعلیمات جامعہ ہذا شریک ہوئے.
الحمد للہ جامعہ کے طلبہ نے بڑی حوصلہ اورسنجیدگی سے تسلی بخش جواب دے اول پوزیشن عائشہ بنت عزت علی دوم پوزیشن ناظمین خاتون سوم پوزیشن نساء پروین نے حاصل کئے جبکہ درجہ حفظ میں اول پوزیشن محمد مرسلین غازی آبادی دوم پوزیشن محمد یاسین گڈاوی سوم پوزیشن محمد نسیم الدین گڈاوی نے حاصل کئے
جامعہ کےمہتمم مولانا نظام الدین قاسمی نے  تمام طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مستقبل میں اور محنت کرنے کی تلقین کی ۔

ماہِ ذی الحجہ اور مسلمانان ہند!


از: محمد شہباز خان قاسمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ہم سب کو یہ بخوبی معلوم ہے کہ ماہ ذی الحجہ اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ جلوہ افروز ہے، اس مہینہ کے انوار و برکات اور فضائل کے تذکرے بارہا ہماری آنکھیں مشاہدہ اور ہمارے کان سماعت کرتے رہتے ہیں اور ہمارے ایمانی جزبہ کو مزید تقویت بخشتے ہیں،
ماہ ذی الحجہ بھی ایثار، اخوت، محبت، مودت اور بھائی چارگی کا پیغام دینے والا مہینہ ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ اسلام میں کوئی ایسامہینہ یا تہوار نہیں ہے جو امن و سکون کا پیغام نہ دیتا ہو، اور کسی بھی عبادت میں کوئی جہالت وبے ہودگی کی آمیزش نہیں، مزید اس ماہ کو عید الاضحیٰ، حج اور عشرہ ذی الحجہ کے نو روزے جیسی خاص عبادتیں اس مہینہ کو مزید رونق بخشتی ہیں، جن کا ذکر قرآن و حدیث میں متعدد جگہ ملتا ہے،
    اللہ تعالی نے اس ماہ میں "عید الاضحیٰ" کا دن بھی مقرر فرمایا، جس میں مسلمان پورے جوش و جزبہ کے ساتھ اپنے معبود برحق (اللہ) کے لئے پورے خلوص و للٰہیت کے ساتھ حلال جانوروں کی قربانی کرتے ہیں اور اجتماعیت کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں میں مخصوص طریقہ سے نماز بھی ادا کرتے ہیں، اس قربانی کی خاص بات یہ ہے کہ ذرہ برابر بھی اس میں ریاکاری کی گنجائش نہیں ہے، بلکہ فقہاء نے یہاں تک لکھا ہے "کہ اگر کسی بڑے جانور میں سات آدمی شریک ہوں اور ان میں سے کسی ایک کی بھی نیت گوشت حاصل کرنے کی ہو تو بقیہ شرکاء کی بھی قربانی نہیں ہوگی" اسی لئے قرآن کریم کے *سورة حج* "لن ينال الله لحومها ولا دماءها ولكن يناله التقوي منكم"میں خالص تقویٰ کی تلقین کی گئی ہے، جس کا مطلب نام و نمود بالکل نہیں ہےـ
    حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت ابراہیم علیہ السلام تک قربانی تسلسل سے کی جاتی رہی ہے لیکن سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیات طیبہ میں یہ عمل تاریخ کا ایک اہم باب بن گیا، جس میں ایک صابر باپ اور ایک حلیم وبردبار بیٹے کی داستاں مضمر ہے، جس کو ہم "سنت ابراہیمی"سے یاد کرتے ہیں.
   ان سب کے باوجود یہاں ایک نقطہ کی وضاحت کرنا بے حد ضروری ہے کہ قربانی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کسی مذہب کے ماننے والوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچایا جائے بلکہ اس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ مسلمان جس طریقہ سے اپنے اللہ کے لئے جانور کی قربانی کرتا ہے اسی طرح اپنے ملک، اس کی بقاء، اس کے تحفظ اور اس کی سسکتی ہوئی جمہوریت کے لئے اپنی جان کو بھی قربان کر سکتا ہے، اور اس سے پہلے بھی مسلمان اس ملک کے لئے قربانیاں دے چکے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ہمارے بعض برادران وطن نے ہماری تاریخ کو فراموش ہی نہیں بلکہ تبدیل کر دیا ہے اور مزید یہ کوشش جاری و ساری ہے، بلکہ اب تو ہم سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ آپ ملک کی  قربانی کے لئے بھی آگے آئیں اور ملک سے وفاداری کا بھی ثبوت پیش کریں ـ الامان والحفیظ
    بہر حال مخالف کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ وہ ہماری ہر سال کی جانے  والی ان قربانیوں کو دیکھ کر ہی عبرت حاصل کرے اور کچھ سبق حاصل کرلے، باقی تمام مسلمانان ہند سے گزارش ہے کہ عید الاضحیٰ کو پیار و محبت کے ساتھ، انسانیت کا درس دیتے ہوئے منایا جائے، ہو سکے تو حالات کے پیش نظر متاثرین علاقوں کے لئے بھی قربانی کریں اور کسی بھی معتبر ادارہ کے ذریعہ قربانی کی رقومات پہنچانے  کی کوشش کریں تاکہ وہاں بھی قربانی کی جا سکے اور سسکتے لہو کو خوشی میں تبدیل کیا جا سکے جو کہ قربانی کا عین مقصد بھی ہے.

سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کی بی جے پی کو نصیحت، نہیں سدھرے تو 2019 میں اکھاڑ پھینکے گی ملک کی عوام!


رپورٹ: ایڈیٹر انچیف
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سگڑی/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 31/اگست 2017)سگڑی تحصیل علاقہ کے نتھوپور میں منعقد شہید میلہ میں اکھیلیش یادو کی آمد ہوئی جس میں سب سے پہلے اکھلیش یادو نے رام سموجھ کے خاندان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان کے مجمسہ کی نقاب کشائی کرنے کا موقع دیا، اگر فوج سرحد کی حفاظت کررہا ہے تو ہمیں ملک کے اندر سلامتی کی حفاظت کرنا ہے، ہمیں فخر ہے کہ فوج مسلسل سرحد کی حفاظت کر رہی ہے، ملک کے چاروں طرف بارڈر پر کون جاتا ہے وہ ہے ہماری فوج، ہمیں ان پر فخر ہے.
اکھلیش یادو نے کہا کہ جس ملک کے پاس اچھی سڑکیں ہیں، اچھی تعلیم کی سہولیات، انہیں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا، ہم نے 23 مہینوں میں لکھنؤ آگرہ ایکسپریس وے بنا دیا، یہ وقت نہیں مل سکا، ورنہ ہم اسے مزید بنا دیں گے.
اکھلیش نے پوچھا کہ اچھے دنوں اور نیو انڈیا کے درمیان کیا فرق ہے، جب نئی کسان آگے بڑھ جائیں گے تو نیو انڈیا کا قیام ہوگا، سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے جے جوان، جے کسان کو نعرہ نہیں دیا تھا.
انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک کے اندر امن اور اتحاد پیدا کر رہے ہیں، لیکن کچھ لوگ اس طرح کی چیزوں کو پھیلا نہیں رہے ہیں، ہندی میں کہاوت ہے کہ یہ پوت کے پاؤں پالنے میں ہی دکھ جاتے ہیں، ان کی پالیسی معلوم ہوگئی ہے، کسانوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں، کسان کا بیٹا اسی سرحد پر ملک کی حفاظت کر رہا ہے.
ہم نے سنا ہے کہ حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ ہم نے یش بھاری ایوارڈ کو اپنے ہی لوگوں کو دیا ہے، ہم کہہ رہے ہے کہ مرکز میں بھی آپ کی حکومت ہے اور پردیش میں بھی، ہم نے انہیں جتنی پنشن دی آپ بھی دے کے دکھا دو، یش بھاری ایوارڈ امیتابھ بچن کو دیکر نیتا جی نے یہ شروع کیا، ہم ہر فنکار کو دیکھتے ہیں جس نے کام کیا اسے یش بھارتی ایوارڈ دیا، فہرست نکال کر دیکھ لیں، ہم نے یش بھارتی ایوارڈ اس آدمی کو بھی دیا جس سے وزیر اعظم نے نوٹ بندی کے وقت مدد لی تھی.
اکھلیش یادو نے کہا کہ ماؤں اور بہنیں جن کی پنشن بند ہو چکی ہے وہ آج حکومت کے بارے میں پوچھتے ہیں، ہماری حکومت میں پولیس ٹھیک  تھی اب گڑبڑ ہو گئی ہے، بولا جا رہا ہے کہ اگر پولیس نہیں بدلی تو ڈائل  100 نمبر کی سہولت بند کر دیں گے، ہم کہتے ہیں آپ نہیں سدھاریں نہیں تو 2019 میں یہ عوام آپ کو ہٹا دے گی.
انہوں نے کہا کہ کون نہیں چاہتا کہ ہمارا ملک کو صاف ستھرا رہے، لیکن ان سے کہو کہ ایک دن جھاڑو لگا دینے صاف نہیں ہوتا. ہماری حکومت بنائیں، دیکھیں کہ اہلکار بھی کس طرح جھاڑو لگاتے ہیں، انہوں نے پوچھا کہ اگر بدعنوانی (بھرشٹاچار) ختم ہوگیا ہوتا تو اوریا میں جو ہوا وہ نہیں ہوتا.
اکھلیش نے کہا کہ ریاست کے بہت سے حصوں سیلاب آیا ہوا ہے، حکومت نے ابھی تک بڑے پیمانے پر ان کی مدد نہیں کی، کیا گائے کے لئے ووٹ مانگا گیا تھا، لیکن وہ گائے کے لئے کیا کریں؟ گائے ان کی ماتا ہے تو دھرتی ماں بھی ہماری ہے.

Wednesday, 30 August 2017

ﺣﺠﺎﺝِ ﮐﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﻣﺨﻠﺼﺎﻧﮧ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ، ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﺸﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﺯ ﺭﮨﯿﮟ!


از: فضیل احمد ناصری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ﻣﮑﺮمین ﻭ ﻣﺤﺘﺮﻣﯿﻦ ﺣﺠﺎﺝِ ﮐﺮﺍﻡ !

ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﯿﮑﻢ ﻭﺭﺣمةﺍﻟﻠﮧ ﻭ ﺑﺮﮐﺎﺗﮧ
ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮨﻤﺎ ﻧﺼﯿﺒﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻖ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﯿﺎ ،ﯾﮧ ﻭﮦ ﻋﻈﯿﻢ ﺳﻌﺎﺩﺕ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ، ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﮨﯽ ﻋﺎﻟﻢِ ﺑﺎﻻ ﮐﻮ ﺳﺪﮬﺎﺭ ﮔﺌﮯ :

ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺧﻮﺍﮨﺸﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﮧ ﺩﻡ ﻧﮑﻠﮯ
ﺑﮩﺖ ﻧﮑﻠﮯ ﻣﺮﮮ ﺍﺭﻣﺎﻥ، ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﻧﮑﻠﮯ

ﺟﺴﮯ ﺯﯾﺎﺭﺕِ ﺣﺮﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻧﮧ ﻣﻞ ﺳﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﻣﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺣﺮﻣﺎﮞ ﻧﺼﯿﺐ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﮯ ! ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺧﺼﻮﺻﯽ ﮐﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮐﺮﺍﮞ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺗﺮﯾﻦ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺪﻋﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﻣﺤﺒﻮﺏِ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﮐﮯ ﺩﺭِ ﺍﻗﺪﺱ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭼﻦ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ، ﻓﺎﻃﺮِ ﮨﺴﺘﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﮮ آمیـــــن.
ﺁﭖ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﭘﺮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺷﮏ ﺁﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﭼﺎﮦ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕِ ﺣﺮﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﻧﺎﯾﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﻣﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻞ ﺳﮑﺎ، ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﻨﺖِ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻤﯽ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺑﮭﯽ ﻣﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻓﺪﺍﮦ ﺍﺑﯽ ﻭﺍﻣﯽ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﯾﻮﺍﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺯﺍﻧﮕﯽ ﺑﺮﺗﻨﮯ ﮐﯽ ﻧﺎﺩﺭ ﺳﻌﺎﺩﺕ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﮨﮯ، ﻗﯿﺎﻡِ ﻣﻨﯽٰ، ﻭﻗﻮﻑِ ﻋﺮﻓﮧ، ﻭﻗﻮﻑِ ﻣﺰﺩﻟﻔﮧ، ﻃﻮﺍﻑ، ﺻﻔﺎ ﻣﺮﻭﮦ ﮐﯽ ﺩﻭﮌ، ﺁﺏ ﺯﻣﺰﻡ، ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﻣﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﻤﺸﮑﻞ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ، ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﻋﺎﻟﻢِ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻋﺎﻟﻢِ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﻣﯿﮟ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﻔﺮ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎئے.
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﺼﺪ ﺍﺩﺏ ﯾﮧ ﻣﺨﻠﺼﺎﻧﮧ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺮﺍﮦِ ﮐﺮﻡ ﺍﺱ ﻣﻘﺪﺱ ﺗﺮﯾﻦ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺪﺱ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﻔﺮ ﮐﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﻣﻠﺤﻮﻅ ﺭﮐﮭﯿﮟ، ﺍﻥ ﺯﺭﯾﮟ ﻣﻮﺍﻗﻊ ﺳﮯ ﺧﺎﻃﺮ ﺧﻮﺍﮦ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ، ﺑﺎﻟﺨﺼﻮﺹ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﺸﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮟ، ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﺸﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺣﺞ ﺟﯿﺴﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﻣﺤﻨﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﮭﯿﺮ ﺩﮮ ﮔﯽ، ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﺩﮐﮭﺎﻭﺍ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﺳﻮﺍ ﺍﻥ ﺗﺼﻮﯾﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻻﯾﻌﻨﯿﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻮﻟﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺣﺞ ﺟﯿﺴﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ۔
ﺧﺪﺍﺭﺍ !
ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﺸﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﯿﮯ ! ﺑﻘﯿﮧ ﻋﺒﺎﺩﺗﯿﮟ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﺣﺞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ، ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﺳﻨﺠﯿﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔

مفتی عبد اللہ پھولپوری نے روانہ کیا بہار سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے غلوں سے بھرا ٹرک!



رپورٹ: محمد عاصم اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سرائے میر/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 30/اگست 2017) مدرسہ اسلامیہ بیت العلوم سرائے میر کے ناظم اعلی و سرپرست مفتی محمد عبد اللہ پھولپوری کی زیر نگرانی بہار سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے منگل کی رات تقریباً 3 بجے بہار کے لئے کپڑا، پیسہ اور غلہ سے بھرا ایک ٹرک روانہ کیا گیا ۔
مدرسہ کے اساتذہ اور طلبہ کے علاوہ قرب جوار کے لوگوں نے بھی پورے حوصلہ اور جذبہ کے ساتھ کپڑا، غلہ اور نقد روپئے لا کر جمع کئے۔
اطلاع کے مطابق منگل کی صبح تقریبا 3 بجے کپڑا، پیسہ، چنا، دال، چاول، آٹا اور شکر کے علاوہ دوسری وہ چیزیں بھی روانہ کیں جس کی پریشان حال لوگوں کے لئے فوری ضرورت تھی۔

سنگھاؤلی اھیر انسپکٹر سمیت چار ہوئے معطل!


رپورٹ:محمد دلشاد قاسمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بالینی/باغپت(آئی این اے نیوز 30/اگست 2017) امین نگر سرائےکے صراف کے یہاں ہوئی ڈکیتی معاملہ میں لاپرواہی برتنے پر سنگھاؤلی اھیر انسپکٹر کو دیر رات معطل کردیا گیا، اس کے علاوہ ضلع جیل جاتے وقت قیدی کے فرار ہونے کے معاملہ میں لاپرواہی کرنے پر 3 قیدی محافظین کو معطل کردیا گیا ہے.
کارگزار پولس صدر سنجیو کمار سُمن نے بتایا کہ سنگھاؤلی اھیر انسپکٹر تیجیندر پال سنگھ صراف کے یہاں ہوئی ڈکیتی کا خلاصہ کرنے میں ناکام ثابت ہوئے، اور آئی جی نے بھی انسپکٹر کو خلاصہ کی ذمہ داری سونپی تھی، دیر رات ایس پی نے انسپکٹر کو برخاست کردیا ہے، ابھی تھانے کا چارج کسی کو نہیں دیا گیا ہے.
ضلع جیل سے فرار رضوان کے معاملہ بھی لاپرواہی کرنے والے تین پولس والوں کو برخاست کردیا گیا ہے جیل افسر ایم ایل یادو کا کہنا ہے کہ لاپرواہی معاملہ میں قیدی محافظ برخاست تو ہوئے ہے مگر ابھی تحریر نہیں ملی ہے.

حلال جانور کے سات حرام اعضاء!


از: مفتی محمد ثاقب قاسمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کل کے ہمارے معاشرہ میں کچھ علاقے کے لوگ جب قربانی کرتے ہیں تو اصول کے تحت قربانی کے گوشت کے تین حصے کرتے ہیں، ایک حصہ غرباء اور مساکین کو تقسیم کرتے ہیں، دوسرا حصہ اعزاء واقارب کو بانٹتے ہیں، اور تیسرا حصہ اپنے کھانے کیلئے رکھتے ہیں، بسا اوقات کچھ لوگ جانے انجانے میں جانور کی وہ تمام چیزیں کھالیتے ہیں یا تقسیم کردیتے ہیں، جس کا کھانا حرام ہے حلال جانور کے سات اعضاء ایسے ہیں جس کے کھانے کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا ہے اور اس کا کھانا حرام ہے.
(1) بہنے والا خون
(2) ذکر (نر جانور کی شرمگاہ)
(3) خصیے (کپورے)
(4) فرج (مادہ جانور کی شرمگاہ)
(5) غدود
(6) مثانہ (پیشاب کی تھیلی)
(7) پتّہ
(بدائع الصنائع: 5/61، فتاوی رحیمیہ: 9/322، امداد الفتاوی: 4/118)
کچھ لوگ جانور کی ان ساتوں چیزوں میں سے کچھ چیزوں کو بڑے ذوق وشوق کے ساتھ کھاتے ہیں، ذکر اور کپورے کو پکا کر بھون کر اس میں مسالہ لگا کر چٹ پٹا بنا کر کھاتے ہیں حالانکہ ان اعضاء کا کھانا حرام ہے، تھوڑی سی لذت کی بنیاد پر یہ حرام اعضاء کچھ لوگ نگل لیتے ہیں ہم سب اپنے آپ کو ان حرام اعضاء کے کھانے سے مکمل طور پر بچائیں.

ممبئی کے ذمہ داران مساجد سے انتہائی اہم گزارش!


از: عبدالرّحمٰن الخبیر(بستوی) اے پی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
السلام علیکم
ممبئی اور مضافات میں بارش نے جو قیامت ڈھائی ہے۔یہ عام انسانوں کے لیے بظاہر تو انتہائی تکلیف دہ علامت ہے مگر مومن ہر تکلیف میں راحت اور ہر مشکل میں موقع تلاش کرلیتا ہے۔ اگر ہم صبر و ضبط، تحمل و بردباری کا مظاہرہ کرکے انتہائی منصوبہ بند انداز میں اس موقع کا استعمال کرے تو ہم برادران وطن کے دل میں اپنا بہترین مقام بنا سکتے ہیں.
ریلوے اسٹیشن،بس اسٹیند، ہائی وے یا وہ تمام جگہ جہاں مسافر اور دیگر افراد بارش سے پریشان کسی چھت کے انتظار میں ہیں ،وہاں کے قریب کی مسجد ہمیں ان کے لیے کھول دینی چاہیے، اور باقاعدہ لاؤڈ اسپیکر سے اردو( اور ممکن ہو تو مراٹھی میں) اعلان کرایا جائے کہ یہ مسجد عام انسانوں کی راحت کے لیے کھلی ہوئی ہے، ہماری تنظیمیں اور جماعتیں بلا اختلاف مسلک و مذہب ان کے لیے کھانے پینے اور راحت کا انتظام کریں، بہت سے مسافروں کی موبائل کی بیٹری ڈاؤن ہو چکی ہیں، ہم ان کے لیے چارجر کا انتظام کرے، ان کے گھر والوں سے رابطہ میں ان کی مد د کریں۔، ان کے لیے مساجد میں ٹھہرنے کا انتظام کرے ، برسات میں بھیگ کر کسی کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی تو ڈاکٹر کا انتظام کیا جائے، سوکھے کپڑے، چھتری یا اس قسم کا انتظام کرکے ہم ہمارے دین کے عالمگیر امن کا پیغام ان کے دل و دماغ میں پیوست کر سکتے ہیں،
میری مساجد کے ذمہ داران سے گزارش ہییکہ مساجد میں غیر مسلموں کو ٹھہرانے کے جواز کے لیے فتوی کا انتظار نہ کریں اور نہ ہی تمام ممبران کے موجودگی میں میٹنگ کرکے اس ایجنڈے کو پاس کرنے کا انتظار کریں، محکمۂ موسمیات کے مطابق آئندہ ۴ گھنٹے بارش ہونے کی امید ہے،آئیے ہم اس موقع کو اپنے دین کی دعوت ،اخلاق حمیدہ کی مثال پیش کرنے اور برادران وطن کے کام آنے میں استعمال کریں۔

جامعہ ربانی منوروا شریف کے بانی و مہتمم حضرت فقیہ العصر جناب مفتی اختر امام عادل قاسمی نے سیلاب زدہ علاقوں میں اشیائے خورد و نوش تقسیم کروائی!


رپورٹ: محمد ابوذر صدیقی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سمستی پور(آئی این اے نیوز 30/اگست 2017) جامعہ ربانی کے مہتمم نے سیلاب زدہ علاقوں کے باشندوں کی پریشانی کو بھانپتے ہوئے ان کے درمیان اشیائے خورد و نوش
تقسیم کروائی
غریب طبقہ کی وہ بستی جو سیلاب کی چپیٹ میں آگئی اور ان تک کھانے پینے کی چیزیں بھی سہولت سے دستیاب نہیں ہورہی تھی تو ایسی حالت میں جناب فقیہ العصر حضرت مفتی اختر امام عادل قاسمی صاحب نے ان کی پریشانی کو بھانپ لیا اور انکی ہر ممکن خدمت کی جو بھی ہوا انہوں نے اپنی ذمہ داری نبھائی مفتی صاحب کی طرف سے ریلیف تقسیم کی گئی  حضرت نے ان تمام سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف تقسیم کروائی ریلیف تقسیم کی جانے والی گاؤں کے نام درج ذیل جس میں سیلاب سے بہت زیادہ متاثر ہونے والا گاؤں لادھ کپسیا اسی طرح سگرائن اور نرپا پھہیا وغیرہ ہے اور مفتی صاحب نے یہ بھی کہا ہیکہ ابھی اور باقی گاؤں جو سیلاب سے بری طرح متاثر ہے ہم اسکی بھی امداد کرینگے.
ایک بات واضح کردیا جائے کہ یہ تمام تر خدمات حضرت مفتی صاحب ذاتی رقم سے کررہے ہیں.
اللہ حضرت مفتی صاحب کو اس کا نعم البدل عطا کرے.آمیـــن
ایسے وقت میں عوام کی امداد کو پہونچنا یقینا ایک غمگسار ملت و قوم ہی ہو سکتا جبکہ حکومت و سلطنت بھی اسکی مدد سے صرف نظر کررہی ہے ایسے حضرت فقیہ العصر بہت سارے رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اب جب کہ سیلاب نے لوگوں کی حالت ابتر کردی تو حضرت والا کمر کس کر آگے آگئے اور عوام الناس کی خدمت کررہے ہیں.