اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 2 January 2020

سی اے اے-این آر سی-این پی آر: مسلم علماء نے دستاویزات پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا

حیدرآباد:2/جنوری 2020 
شاہین نگر معھد اسلامیہ میں ایک بند دروازہ اجلاس ہوا جس میں ہندوستان کے مختلف حصوں سے آنے والے علماء نے ہی شرکت کی۔ اس کا اہتمام مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کیا تھا۔ اس اجلاس میں مولانا ارشد مدنی (جمعیت العلماء) مولانا ابوالقاسم نعمانی (ڈائریکٹر ، دارالعلوم دیوبند) مولانا سید محمود مدنی (سکریٹری جمعیت العلماء)مولانا صدیق اللہ چوہدری (وزیر مغربی بنگال) نے شرکت کی۔ ) ، مولانا اشرفی میاں کچوچوی ، مولانا تنویر ہاشمی اور دیگر علماء موجود تھے۔
طبیعت کی ناسازگی کی بناء پر مولانا سجاد نعمانی اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے جبکہ مولانا بدرالدین اجمل نے اپنا نمائندہ بھیجا۔
مستند ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں این آر سی ، این پی آر کے لئے کوئی دستاویزات داخل نہ کرنے کے فیصلے پر غور کیا گیا۔
مولانا ارشد مدنی نے مشورہ دیا کہ قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس اجلاس کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ مقامی مسلمان علما کو اجلاس سے دور رکھا گیا تھا۔ اس کی وجہ انہیں احتجاج سے دور رکھنا اور آئندہ کےلیے لائحہ عمل طئ کرنا ہے۔
بتایا گیا کہ این آر سی اور این پی آر کے عمل سے مسلمانوں کو دور رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نئی دہلی میں ایک اور اجلاس منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جس میں تمام مسلم گروہوں کے رہنماؤں کو مدعو کیا جائے گا۔
یہ مشق آئین کے تحفظ اور عام لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کی جارہی ہے۔

خدمت خلق ٹرسٹ کی جانب سے غرباء کے درمیان کمبل بانٹے گئے غرباء اورضرورت مندوں تک کمبل پہنچانا ہم سب کا فریضہ:مرزا تابش

خدمت خلق ٹرسٹ کی جانب سے غرباء کے درمیان کمبل بانٹے گئے

 غرباء اورضرورت مندوں تک کمبل پہنچانا ہم سب کا فریضہ:مرزا تابش

اعظم گڑھ,2 /جنوری 2020 آئی این اے نیوز
خدمت خلق  اعظم گڑھ*سرسال*کی جانب سے غرباء اور ضرورت مندوں کے درمیان کمبل تقسیم کیا گیا۔۔اس موقع پر خدمت خلق کے رکن مرزا تابش  نے عوام بالخصوص سماج کے خوشحالل طبقہ سے غرباء اور ضرورت مندوں تک کمبل پہنچانے کی اپیل کی ۔اس موقع پر مرزا تابش نے اپنے بیان میں کہا کہ اس شدید سردی میں سماج کے خوشحال طبقے کی ذمہ داری بنتی ہیکہ وہ اپنے آس پاس کے ضرورت مند لوگوں تک کمبل,لحاف اور گرم کپڑے بغیر پرچار کے پہنچا دیں۔انہوں نےکہا کہ شادی بیاہ,مشاعرہ اور ٹورنامنٹ میں فضول خرچی کرنے کے بجائے ہمیں پیسے کا صحیح استعمال کرتے ہوئے  غرباء اور ضرورت مندوں کی مدد میں پیسہ خرچ کرنا چاہئے۔مرزاتابش نے مزید کہا کہ خدمت خلق کے اس نیک کام میں عوام کو تعان دینے کی ضرورت ہےتاکہ خدمت خلق کے  ذمہ داران مزید لوگوں تک کمبل پہنچا سکیں۔خدمت خلق کے ذریعہ اس نیک کام کو انجام دینے پر الفلاح فرنٹ نے خدمت خلق کے ذمہ داران کو مبارکباد پیش کی ہے۔فرنٹ کے صدر ذاکر حسین نے کہا کہ خدمت خلق کی سماج کے دبے کچلے لوگوں کیلئے انجام دی گئ خدمات ناقابل فراموش ہے۔ہم خدمت خلق کے تمام ذمہ داران کو سماج میں بلا تفریق خدمت خلق کا کام کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ذاکر حسین نے مزید کہا کہ آج کے اس نفرت کے ماحول میں اس طرح کے نیک کاموں کو انجام دینے کی سخت ضرورت ہے۔واضح رہے کہ ضلع اعظم گڑھ کے موضع سرسال کے نوجوانوں نے مل کر خدمت خلق نام کی تنظیم بنائ ہے جو بلاتفریق سب کی مدد کرتی ہے۔نوجوانوں کے ذریعہ اس طرح کے کام کرنے پر اہل علاقہ میں چرچا ہو رہی ہے اور ہر کوئ ان نوجوانوں کے جذبے کی ستائش کر رہاہے۔اس موقع پر الفلاح فرنٹ کے صدر ذاکر حسین نے خدمت خلق ٹرسٹ کی ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائ ہے۔

الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے دیا استعفی

الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے دیا استعفی


الہ آباد:2/جنوری 2020 
کئی طرح کی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کر رہے الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر رتن لال ینگلو نے اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان پر لگے الزامات کی وجہ سے وہ 2016 سے نگرانی میں تھے۔ علاوہ ازیں ابھی بہت زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں جب قومی خواتین کمیشن نے انھیں کچھ شکایتوں کی وجہ سے طلب کیا تھا۔ خبروں کے مطابق یونیورسٹی میں ہونے والے جنسی استحصال کی شکایتوں کو وہ اچھی طرح نہیں نمٹانے تھے اور طالبات کی شکایتوں کے ازالہ کی طرف بھی توجہ نہیں دیتے تھے۔

Wednesday, 1 January 2020

صحافیوں کو در پیش چیلینجیز کو لیکراسمعیل باٹلی والا کی رہنمائ میں میٹنگ کا انعقاد منعقدہ میٹنگ میں سماجی کارکن جنت نبی کی شرکت

صحافیوں کو در پیش چیلینجیز کو لیکراسمعیل باٹلی والا کی رہنمائ میں  میٹنگ کا انعقاد

منعقدہ میٹنگ میں سماجی کارکن جنت نبی کی شرکت

ممبئ,یکم جنوری(نامہ نگار)معروف  سماجی کارکن اسمعیل باٹلی والا کی رہائش گاہ پر گزشتہ دنوں صحافیوں کے مسائل اور ان کے حل کو لیکر ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔منعقدہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے اسمعیل باٹلی والا نے کہا کہ صحافیوں کے درمیان آپس میں ایک دوسرے کے تعاون کیلئے تیار کرنا اور آپس میں متحد کام کرنے کیلئے ذہن ساذی کرنا ہمارامقصد ہے۔اس موقع پر جنت نبی ,اقبال لوکھنڈوالا,فاروق شاہ,مزمل خان ,عبد الغفار شاہ,فاروق شاہ سلیم شیخ,نعیم صدیقی کے علاوہ دیگر معزز افراد موجود تھے۔صحافیوں کے تعلق سے میٹنگ بلانے پر صحافی اور الفلاح فرنٹ صدر ذاکر حسین نے اسمعیل باٹلی والا,اقبال لوکھنڈوالا اورجنت نبی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ذاکر حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ اسمعیل باٹلی والا کی یہ کوشش صحافیوں کیلئے ایک بہتر مسقبل کا تحفہ پیش کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ اسمعیل باٹلی والا ,اقبال لوکھنڈوالا اور جنت نبی کا خاکسار بطور صحافی مشکور ہے۔واضح رہے کہ اسمعیل باٹلی والا ایک طویل مدت سے مسلم سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اسمعیل باٹلی کی اس مہم سے ڈاکٹر اسفر اور اقبال لوکھنڈوالا ,گل شیر احمد اور محمد واحدایک مدت سے جڑے ہیں جبکہ جنت نبی حال ہی میں مذکورہ مہم سے وابستہ ہوئیں ہیں۔

الفلاح فرنٹ کی کمبل تقسیم مہم کے تحت کمبل بانٹنے کا سلسلہ جاری غرباء اورضرورت مندوں تک کمبل پہنچانے کیلئے سماج کا خوشحال طبقہ آگے آئے:ذاکر حسین

الفلاح  فرنٹ کی کمبل تقسیم مہم کے تحت کمبل بانٹنے کا سلسلہ جاری

 غرباء اورضرورت مندوں تک کمبل پہنچانے کیلئے سماج کا خوشحال طبقہ آگے آئے:ذاکر حسین

اعظم گڑھ,01 جنوری 2020
الفلاح فرنٹ کی جانب سے کمبل تقسیم مہم کے تحت اعظم گڑھ کے مختلف گائوں میں کمبل تقسیم کئے گئے۔اس موقع پر الفلاح فرنٹ صدر ذاکر حسین نے عوام بالخصوص سماج کے خوشحالل طبقہ سے غرباء اور ضرورت مندوں تک کمبل پہنچانے کی اپیل کی ۔اس موقع پر ذاکر حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ اس شدید سردی میں سماج کے خوشحال طبقے کی ذمہ داری بنتی ہیکہ وہ اپنے آس پاس کے ضرورت مند لوگوں تک کمبل,لحاف اور گرم کپڑے بغیر پرچار کے پہنچا دیں۔انہوں نےکہا کہ شادی بیاہ,مشاعرہ اور ٹورنامنٹ میں فضول خرچی کرنے کے بجائے ہمیں پیسے کا صحیح استعمال کرتے ہوئے  غرباء اور ضرورت مندوں کی مدد میں پیسہ خرچ کرنا چاہئے۔ذاکر حسین نے مزید کہا کہ کبمل تقسیم مہم کا مقصد ہر ضرورت مند لوگوں تک سردی سے بچنے کیلئے سامان مہیا کیاجائے۔واضح رہے کہ الفلاح فرنٹ گزشتہ کئ برس سے سردی میں غرباء اور ضرورت مند لوگوں میں کمبل تقسیم کرتی رہی ہے۔ذاکر حسین نے کمبل مہم میں حکومت اور عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔انہوں نے اعظم گڑھ ڈی ایم,رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو ,شاہ عالم عرف گڈو جمالی ,نفیس احمد,عالم بدیع,فرینک اسلام ,سکھ دیو راج بھر ,سنگیتا آزاد,نیلم سونکر ,عادل شیخ,توقیر عرف اچھو ,ابوالقیس,آفتاب احمد عرف افتو,طاہر عرف منواور شاہد سنجری وغیرہ سے کمبل مہم سے تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔

ورق ورق ہے لہو لہو 🖊 ظفر امام


-----------------------------------------------------------
    سال ۲۰١۹ء کا آفتاب ٹھٹھرتی دسمبر کی اختتام پذیری کے ساتھ کہر آلود فضا میں روپوش ہوچکا ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ ۲۰۲۰ء کا سورج افقِ مشرق سے پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی روپہلی اور سنہری کرنوں کے جال بچھاتا ہوا باغِ ہستی پر نمودار ہو چکا ہے ، ہم اس نئے سال کی آمد کا نئے ولولے ، نئے جوش ، نئے جنون اور نئی امنگوں کے ساتھ پرتپاک استقبال کرتے ہیں ، اور اسے ایک کرب بھری طویل رات کے بعد صبحِ امید کے طلوع ہونے کا پیغامبرخیال کرتے ہیں ، خدا کرے کہ ہماری یہ توقعات درست ثابت ہوں؛
         یوں تو میرے کاروانِ حیات نے اب تک ۲٥/ منزلوں کو طے کرڈالا ہے ، لیکن! ان منازل میں سب سے کٹھن ، طویل ، جاں گسل ، کربناک ، اور صبر آزما منزل یہی ۲۰١۹ء ثابت ہوئی ، جس کا ایک ایک دن جہاں کتابِ زندگی پر درد کے نئے نئے عنوان درج کیا ہے تو وہیں اس کی ایک ایک طویل رات حیاتِ مستعار کے ایک ایک ورق کو کرب و محن سے لہو لہو کردیا ہے ، جہاں اگر ایک طرف غیروں کی دشمنیوں نے لوحِ دل پر سنگ باری کرکے اس کو چھلنی چھلنی کیا ہے تو وہیں دوسری طرف اپنوں کی ہرجائیوں نے مایوسیوں کی ردا اوڑھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے؛
      سال ۲۰١۹ء کے پورے سال دشمنانِ اسلام نے اسلامیانِ ہند کے مذہبی تقدس کو پامال کرنے اور ان کی ملی و دینی شناخت کو خاکستر کرڈالنے کے لئے پوری ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیا ، اور ہندوستان میں مذہبِ اسلام اور اس کے پیروکاروں کو نابود کرنے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے ، پہلے مذہبِ اسلام کے مذہبی دستور ‘‘ طلاقِ ثلاثہ ‘‘ پر بےجا دخل اندازی کرکے اس کو دفتیوں اور اوراق کی حد تک محدود کرنے کی ناپاک سازش رچی گئی ، اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے ، یہ سانحہ ایک ایسا روح فرسا اور درد انگیز سانحہ تھا کہ جس سے پوری ملتِ اسلامیہ لرز اٹھی تھی ، ابھی اس کا غم ہلکا بھی نہ ہوا تھا ، اور دل کی بےقراریوں کو قرار بھی نہ ملا تھا کہ برسوں کی یادگار اور مسلمانوں کے پرشکوہ عہدِ رفتہ کی آئینہ دار ‘‘ بابری مسجد ‘‘ کو ان ظالموں نے مسلمانوں سے چھین کر ظلم و ستم کی انتہا کردی ، بابری مسجد کا مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل جانا کہ جس کی ایک ایک اینٹ مسلمانوں کی جلالتِ شان کی داستان سناتی ہے ، اور جس کے منبر و محراب سے مسلمانوں کے استحقاق کی ندائیں سنائی دیتی ہیں ، کوئی معمولی بات نہ تھی ، ایک ادنی درجہ کا مومن بھی اس کو سہار نہ سکا تھا ، پرسکون دل کے نہا خانوں میں غم و غصہ کی ملی جلی کیفیت نے طوفان بپا کردیا تھا اور بےساختہ ہرایک کی آنکھیں نم ہوگئیں تھیں، پھر ابھی اشکوں کی دھاریاں مسلمانوں کے چہرے کی سلوٹوں پر محوِ رقصاں ہی تھیں کہ اس بیچ ملک و قوم کے یہ نمک حرام اسلام دشمن عفریت ایک ایسے ناپاک منصوبے کو لیکر اٹھ کھڑا ہوا جس نے مسلمانوں کے ساتھ انصاف پسند باعزت شہری کے دلوں میں بھی کہرام مچادیا ، مرد تو مرد ہماری پردہ نشیں ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو حجاب کی چلمن کو توڑ کر روڈوں اور سڑکوں پر اترنے کو مجبور کردیا اور یہ وہ ناپاک منصوبہ ہے جس کے تحت مسلمانوں کا عرصۂ حیات ہندوستان میں اپنی کشادگی کے باوجود تنگ ہوکر رہ جائےگا ، جسے ہم سی ، اے ، اے اور این ، آر ، سی کے نام سے جانتے ہیں ؛
          آج این ، آر ، سی اور سی ، اے ، اے کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے ، ملک و قوم کے بہادر شاہین بزدل کُرگس کے آشیانوں کو نوچنے کے لئے صف بستہ تیار کھڑے ہیں ، ہر جگہ سے بس ایک ہی نعرہ گونجتا سنائی دیتا ہے ‘‘ انقلاب ، انقلاب صرف انقلاب ‘‘ ہر ایک کی زبان " ہے جان سے پیاری آزادی ، ہم لیکے رہینگے آزادی " جیسے ولولہ انگیز زموموں اور مدھر و دلنواز ترانوں سے لبریز ہیں ،  ہماری وہ مائیں جن کی عمروں کا تقاضہ یہ ہیکہ وہ اپنے گھروں میں بیٹھی رہیں ، آج اپنے دلوں میں انقلاب کی امید افزا شمع جلائے سردی کی یخ بستہ راتوں میں سڑکوں اور روڈوں کے کناروں پر اپنی نیندیں قربان کرنے میں لگی ہیں ، ہماری وہ دوشیزہ بہنیں جن کے نرم و نازک ہاتھ پھولوں کی سیج سے کھیلنے لئے بنے ہیں آج وہ پوری دیدہ دلیری اور جرأت و بہادری کے ساتھ پرچمِ ہند کو اپنے ہاتھوں سے تھامے انقلاب کے محاذ سنبھالی ہوئی ہیں، ہمارے وہ نوجوان بھائی جن کی زندگیاں عمر کے اس پڑاؤ پر کھڑی ہیں جہاں سے ان کے مستقبل کی کامیابی و کامرانی کی راہیں وا ہوئیں ان کے انتظار میں کھڑی ہیں ، آج وہ سب کچھ تیاگ کر آزادی کی کمان کو پوری قوت و طاقت کے ساتھ تھامے ہوئے ہیں ، اور ہمارے وہ نونہال جن کی عمریں گڑیوں سے بازی لڑانے کی ہیں ، آزادی کے پرچم کو جبینوں سے لگائے بڑوں کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں ، اور ان سب کا واحد مقصد فقط یہ ہیکہ ملک سے ناانصافی اور ظلم و ستم کا خاتمہ ہو ، وحشت و بربریت کا یکسر قلع قمع ہو ، بددیانتی اور خیانت کی تاریک گھٹاؤں کی جگہ امانت و دیانت کے مینارۂ نور نصب ہوں ، عدل و انصاف کے چشمے وطنِ عزیز کے ہر گوشے میں پھوٹ نکلیں ،  مساوات و رواداری کی میزان قائم ہو اور اخوت و بھائی چارگی کی ایک ایسی عظیم اور نمونۂ عمل مثال قائم ہو جو سرزمینِ ہند سے اٹھ کر اطرافِ عالم میں پھیل جائے!
              لیکن! افسوس صد افسوس کہ عدل و انصاف کی آواز اٹھانے والوں اور وحشت و بربریت کی دیواروں کو مسمار کرکے مساوات و برابری کی بنیاد ڈالنے والے شاہین صفت عازموں  پر نام نہاد گدی نشینوں ، اقتدار کی کرسی پر براجمان فرماں رواؤں سنگین برداروں اور وردی پوشوں نے ظلم و بربریت اور قہر و غضب کی انتہا کردی ، ان پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے ، لاٹھیوں اور ڈنڈوں کے ذریعے انہیں اپنے خون آشام ہاتھوں کا تختۂ مشق بنایا ، حتی کہ مجبور و مقہور اور نہتھے لوگوں کے خون کے دھاروں سے سزمینِ ہند لالہ زار ہوگئی ، ان درندہ صفت انسانوں نے معصوم اور بےگناہ لوگوں پر اپنی بندوق کے دہانوں کو بےپروائی کے ساتھ کھول دیا ، جس سے نہ جانے کتنے معصوموں کی جانیں چلی گئی؛
      آہ! کتنی درد بھری لمبی تھی وہ رات جب جامعہ ملیہ اور علیگڈھ کے کیمپس میں گھس کر بھگوا دھاری پولیس والوں نے مستقبل کے نونہالوں اور قوم و ملک کے جیالوں پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی ، ان کے خون کشید کر اپنی ہولی منائی تھی ، پردہ نشیں بہنوں کی کلائیاں مروڑی گئیں تھیں ، ان کو ڈرایا اور دھمکایا گیا تھا اور ان کے تنِ نازک کے ساتھ زد و کوب کی گئی تھی ، اور آہ! کتنے طویل اور خوفناک ہیں وہ ایام جن میں یوپی پولیس والوں نے یوپی کے باشندوں کے گھروں میں گھس کر ظلم و بربریت کی انتہا کردی ہے ، وہ پولیس والے جو ملک و قوم کی حفاظت اور پاسبانی کے لئے حلف برداری کرتے ہیں آج ان کا حال یہ ہیکہ وہ ان کی حفاظت تو کجا کرتے ان کی جانوں کے درپے پڑے ہوئے ہیں اور اب تک نہ جانے کتنی ماؤں کی آغوش کو ویران کردیا ، کتنے باپوں کے ارمانوں کو خاک میں ملادیا اور کتنی بہنوں کے خوابوں کو تشنۂ تعبیر کا عنوان دے دیا ، اور بڑی سرعت کے ساتھ تاہنوز یہ کام جاری ہے؛
        لیکن! یہ ظلم اب زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے ، مظلوموں کی آہ برق رفتاری کے ساتھ عرشِ الہی کے پایوں کو جھنجھوڑ ڈالتی ہے ، تاریخ گواہ ہے کہ ظلم جب حد سے تجاوز کرتا ہے تو پھر قدرت اپنے ہاتھوں سے ظالموں کو قصۂ عبرت بنا ڈالتی ہے ، ظالموں کے دن گنے جاچکے ہیں ، اب پورا ملک بیدار ہوچکا ہے ، آزادی کے متوالے و ملنگ پروانہ وار شمعِ آزادی پر جست لگا کر دادِ شجاعت پیش کر رہے ہیں ، ان کے دماغ میں بس آزادی کے ترانے اور لبوں پر انقلاب کے نغمے مچل رہے ہیں ، اب نہ ان کو دار و رسن کا خوف ہے اور نہ ہی زنداں کی دیوار کا ڈر ، وہ تاریکیوں کی گھٹاؤں میں یقین و اذعان کی قندیلیں روشن کر کے اس امید کے ساتھ قدم بڑھاتے چلے جاتے ہیں کہ غم کی رات خواہ کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو ، وہ فقط رات ہی ہوتی ہے ، کبھی نہ کبھی ظلمتِ شب چھٹےگی اور پھر نور کا تڑکا ہوگا ، جہاں دور دور تک چمن میں ایسے اجالے اور روشنی کا دور دورہ ہوگا ، جن کی تابناکی میں اپنی منازل و اہداف کے متلاشی کو بآسانی منزلِ مقصود تک رسائی حاصل ہوگی ، اور پھر ان تھکے ہارے مسافرین کے کاروان کو زاغ و زغن کی دخل اندازی سے بے پروا ہو کر سکون و اطمینان کے ساتھ روز و شب کی جھلملاتی چھاؤں میں آزادی کی سانسیں لینا نصیب ہوگا ان شاء اللہ

                              ظفر امام ، کھجورباڑی
                             ٹیڑھاگاچھ ، کشن گنج


     

شہید حنظلہ کے قاتلوں کو سخت سزا دی جائے، گھر کے کسی ایک فرد کو سرکاری ملازمت کا مطالبہ نوجوانوں کے وفد کی شہید امیر حنظلہ کے والد سہیل احمد سے ملاقات

شہید حنظلہ کے قاتلوں کو سخت سزا دی جائے، گھر کے کسی ایک فرد کو سرکاری ملازمت کا مطالبہ
نوجوانوں کے وفد کی شہید امیر حنظلہ کے والد سہیل احمد سے ملاقات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پٹنہ (شیث احمد)01 جنوری 2020
شہید امیر حنظلہ معصوم اور بے قصور تھا۔ اس کی شرافت کی گواہی محلے کے سبھی ہندو مسلمان دے سکتے ہیں۔ وہ ہر وقت دوسری کی خدمت کے لیے پیش پیش رہتا تھا۔ اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ 21 دسمبر کے بہار بند کو وہ گھر سے باہر نکل گیا اور پھر واپس نہیں آ سکا۔ حنظلہ کے انتظار میں ہم نے نو روز جس بے قراری سے گزارے ہیں اسے آپ کے سامنے بیان نہیں کر سکتا۔ 30 دسمبر کی رات کو پولیس نے ہمیں تھانے بلایا اور جب حنظلہ کی لاش ہمارے حوالے کی تو کلیجہ منھ کو آگیا۔ اللہ ایسی آزمائش سے کسی کو نہ گزارے۔ حنظلہ کی لاش کا پتہ چلنے کے بعد لوگوں میں زبردست اشتعال اور غم و غصہ تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ اس عالم میں بھی میرا ہوش و حواس کام کررہا تھا۔ میں نے خود ہی لوگوں سے صبر و ضبط سے کام لینے کی اپیل کی اور کسی بھی قسم کی انتقامی کاروائی سے بچتے رہنے کی گزارش کرتا رہا۔ یہ باتیں پھلواری شریف میں شرپسندوں کے ظلم کا شکار ہوئے شہید حنظلہ کے والد سہیل احمد نے نوجوانوں کے ایک وفد سے کہیں۔ وفد میں ماڈرن ویلفیئر اکیڈمی کے ڈائرکٹر محمد مکرم حسین ندوی، کامران غنی صبا، آصف حیات، سلمان غنی، خرم ملک، تابش نقی،سیماب اختر، صفوان غنی، انصار بلخی، مبشر حیات خان، شہریار یحییٰ ، رمان غنی اور پٹنہ یونیوسٹی کے کچھ طلبہ شامل تھے۔ سہیل احمد ،امیر حنظلہ کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کئی بار آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا ہے لیکن ایسے دردناک حادثات دوبارا نہ ہوں اس کے لیے ضروری ہے کہ قاتلوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ سہیل احمد نے بتایا کہ وہ بے روز گار ہیں۔ حنظلہ نے میٹرک کے امتحان کے بعد معاشی مسئلے کی وجہ سے پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ دی تھی اور وہ بیگ کا کام کرنے لگا تھا۔ گھر کے اخراجات کسی طرح چل رہے تھے۔ حنظلہ کی شہادت کے بعد امید کا ایک ٹمٹماتا ہوا دیا بھی بجھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ حنظلہ کے حادثے نے انہیں توڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ خود کو اس قابل نہیں پا رہے ہیں کہ گھر سے باہر نکل کر کچھ کر سکیں۔ سہیل احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے گھر کے کسی فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے اور انہیں مکمل انصاف بھی ملے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے پولیس انتظامیہ کے کردار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان کے ساتھ بھرپور ہمدردی کا مظاہرہ کیا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ اب تک آپ کے پاس سیاسی اور ملی تنظیموں کے کتنے نمائندگان تعزیت کے لیے آئے سہیل اختر نے بتایا کہ سیاسی رہنمائوں میں صرف ادئے نارائن چودھری اور ملی رہنمائوں میں امارت شرعیہ سے چند افراد اور جماعت اسلامی سے کچھ لوگ تعزیت کے لیے آئے تھے۔ حکمراں پارٹی یا حزب مخالف کا کوئی سیاسی رہنما حتی کہ کوئی مسلم سیاسی رہنما بھی اب تک ان کو دلاسہ دینے نہیں آیا ہے۔ سہیل احمد نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کی شہادت سے غم زدہ ضرور ہوں لیکن مجھے اس بات کا یقین ہے کہ میرے بیٹے کی شہادت رائگاں نہیں جائے گی۔ بہار اور ہندوستان کا ہر امن پسند شہری بلا تفریق مذہب و ملت میرے ساتھ کھڑا ہے۔ غم و اندوہ کی اس گھڑی میں جو لوگ بھی ہمارے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کر رہے ہیں ہم ان کے شکرگزار اور ان کے لیے دعا گو ہیں۔

بابری مسجد کا ملبہ کس کا ہے اور کسے مل سکتا ہے؟

بابری مسجد کا ملبہ کس کا ہے اور کسے مل سکتا ہے؟

ستائیس برس قبل چھ دسبمر سن 1992ء کو ہندو شدت پسندوں نے مغل بادشاہ بابر کے ایک جنرل میر باقی کی تعمیر کردہ تقریبا ساڑھے چار سو برس قدیم تاریخی بابری مسجد کو دن دہاڑے منہدم کر دیا تھا۔ مسلمانوں نے اس مسجد کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایک طویل عدالتی جد و جہد کی تاہم گزشتہ ماہ نو تاریخ کو سپریم کورٹ نے اس پر اپنا فیصلہ سنایا اور بابری مسجد کے انہدام کو پوری طرح غیر قانونی بتا کر بھی اراضی کی ملکیت اُسی ہندو فریق کو سونپ دی، جو مسجد کی مسماری کی ذمہ دار تھا۔
مسلم فریق نے اس فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جسے سماعت کے بغیر ہی عدالت نے مسترد کر دیا۔ اب رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہونے والا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس کا ملبہ یا مسجد کی باقیات پر کس کا حق ہے اور اسے کس کے حوالے کیا جائے؟
بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے اس معاملے پر 25 دسمبر کو ایک اجلاس طلب کیا تھا، جس میں فیصلہ کیا گيا کہ اس پر مسلمانوں کو اپنا دعوی پیش کرنا چاہیے۔ کمیٹی کے رکن اور مسجد کے وکیل ظفر یاب جیلانی کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کے ملبے کو ادھر ادھر نہیں پھینکا جا سکتا۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس سلسلے میں ہماری ایک میٹنگ ہوئی تھی اور علماء سے مشورہ کیا گيا۔ مسجد کی باقیات کو ادھر ادھر نہیں رکھا جا سکتا۔ اس سے مسلمانوں کو ٹھیس پہنچےگی۔ چونکہ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں کوئی ہدایت نہیں کی، اس لیے ہم اس کے لیے ایک عرضی داخل کریں گے۔ بابری مسجد کا ملبہ عزت و احترام کے ساتھ حاصل کیا جائےگا۔‘‘
مسلم پرسنل بورڈ کے سرکردہ رکن اور ترجمان قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ مسجد کے ملبے پر مسلمانوں کا حق ہے اور یہ طے کرنے کے بعد کہ مناسب جگہ ہائی کورٹ میں یا پھر سپریم کورٹ، درخواست دائر کی جائے گی۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں انہوں نےکہا، ’’چونکہ عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ بابری مسجد کا انہدام قابل سزا جرم تھا لہذا زمین نہیں ملی تو ملبہ تو ہم کو ملنا چاہیے۔ ملبہ ہمارا ہے اور ہم اسے حاصل کریں گے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں قاسم رسول الیاس نے کہا کہ ابھی یہ طے نہیں کیا گیا ہے کہ اس ملبے کا کیا کیا جائے گا تاہم اس سے بہت سے کام لیے جا سکتے ہیں، ’’ملبے سے بابری مسجد کی یاد میں ایک اور مسجد تعمیر کی جا سکتی ہے۔ اس کو بطور یادگار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہماری نسلوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری مسجد جبراﹰ ہم سے چھین لی گئی تھی۔‘‘
ہندو فریق کی جانب سے مسجد کے ملبے کے تعلق سے اب تک کوئی مخالف بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم مسجد کی جگہ سے متصل ہی ایک اکھاڑے کے مہنت ترلوکی ناتھ پانڈے نے اس معاملے میں مسلمانوں کی حمایت کی ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ میں ان سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ ملبہ مسلمانوں کا ہے، اس لیے وہ اس کے حق دار ہیں اور اسے انہیں دینے سے بھائی چارے میں اضافہ ہو گا۔آل انڈيا ملی کونسل کے جنرل سیکریٹری، جو اس مقدمے کے ایک اہم فریق تھے، کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بابری مسجد کی عمارت مسلمانوں کی تھی، اس حیثیت سے اس کے ملبے پر انہی کا حق ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اسے ملبہ نہیں بلکہ مسجد کی باقیات کہنا بہتر ہو گا۔ اس پر مسلمانوں کا حق ہے اور ہم اسے حاصل کریں گے۔ اس کا کیا کریں گے یہ تو بعد کی بات ہے۔‘‘

Tuesday, 31 December 2019

اسلامی و انگریزی نیا سال اور ہم مسلمان ذیشان الہی منیر تیمی چکنگری، ڈھاکہ مشرقی چمپارن بہار

اسلامی و انگریزی نیا سال اور ہم مسلمان



            ذیشان الہی منیر تیمی         
                       چکنگری، ڈھاکہ مشرقی چمپارن  بہار

       جب بھی اسلامی سال کا نیا سال شروع ہوتا ہے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم مسلمانوں کو اس وقت یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ شروع ہوچکا ہے جب ہمارے فیس بک، واٹ سپ اور ٹوئیٹر پر اسلامی نئے سال کی مبارکبادی کے پوسٹ آنے شروع ہوگئے ہونگے اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی پہچان کو قائم رکھنے اسے  دنیا میں متعارف کرانے میں ذرہ برابر دلچسپی نہیں ۔جب کہ وہی دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہی مسلمان انگریزی نئے سال کو صرف یاد ہی نہیں کرتے بلکہ اس کا رشتہ مسلمانوں سے ایسا جڑ چکا ہے کیسا کہ جسم کا رشتہ سانس سے ہوتا ہے اور اس بات کو ثابت کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب انگریزی سال کی آمد ہونے کو ہوتی ہے اس سے بہت پہلے ہی یہ لوگ اس کی ایسے ہی تیاری کرتے ہیں جیسے کہ عید اور بقرعید کے موقع سے کی جاتی ہے ۔بہت سارے  لوگ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو دو تین مہینہ پہلے سے ہی بڑی بے چینی سے انگریزی نئے سال کی آمد کا منتظر ہوتے ہیں اور اس کے پرجوش استقبال کے لئے نئے لباس اور دیہاتی مرغیں، بینڈبازہ اور شراب و شباب کا بھی مکمل انتظام کئے ہوئے ہوتے ہیں ۔گرچہ یہ افکار و نظریات غلط ہے لیکن اس کی وجہ سے اس شخص کی دلچسپی انگریزی سال سے جو ہوتی ہے اس کو بخوبی واضح کیا جاسکتا ہے یہاں ایک طرف وہ انگریزی سال سے متاثر ہوکر اس کا انتظار ایسے کرتے ہیں جیساکہ ایک عاشق اپنی معشوقہ کا شدت سے انتظار کرتا ہے وہی دوسری طرف اسلامی سال کب آتا ہے اور کب چلا جاتا ہے کسی کو معلوم ہی نہیں پڑتا اس سے مسلمانوں کی بے توجہی اپنی تہذیب و ثقافت سے جو ہے اس کا اندازہ ہوتا ہے
          اس دنیا کے اندر مختلف قسم کے سن رائج ہے  مثلا بکرمی سال، عیسوی سال اور نیپالی سال وغیرہ لیکن ہم پوری دنیا میں جو سالوں کی پروعات ہوئی اس کو اور اسلامی سال کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام سالوں پر   ہجری سال کو ٹھیک ایسے ہی اہمیت و فضیلت حاصل ہے جیساکہ گلاب کو تمام پھولوں میں ۔ کیونکہ اس دنیا کے اندر جتنے سارے سالوں کی شروعات ہوئی اس کے پیچھے کسی بڑی شخصیت یا راجا کی پیدائش، وفات یا تخت نشینی کے دن کار فرما ہوتے ہیں جس سے اس شخص کی شخصیت تو متعارف ہوتی ہے لیکن اس سے عام لوگوں کو فائدہ نہیں ہوتا لیکن جب ہم اسلامی سال کی ابتداء کو دیکھتے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر اس کے پچھے کیا اسباب کارفرما ہے جس کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلامی سال کی شروعات ہجری سے کی اور کیوں کی ؟چنانچہ جب ہم اس تعلق سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں دو شخص میں اختلاف کچھ لین دین کو لے کر ہوگیا اب یہ معاملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پہنچا تو مدعی نے کہاں کہ ہم نے اس کو کچھ پیسے دیئے تھے لیکن اس نے نہیں لوٹا یا لیکن مدعی الیہ کا یہ کہنا تھا کہ ہم نے اس کا پیسہ واپس کردیا ہے چنانچہ ان دونوں کے درمیان عقد و بیع کے جو رقعہ تھے اس کو لایا گیا لیکن اس میں تاریخ وغیرہ درج نہ تھا کہ کب پیسہ لیا اور کب دیا چنانچہ اس واقعہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دماغ میں یہ بات ڈالا کہ کیوں نہ اسلامی سال کی شروعات کی جائے جس سے لین دین کی تاریخ بھی متعین ہوگی اور اسلامی سال کی بھی شروعات ہوجائے گی اسی وجہ سے آپ نے صحابہ کرام کی ایک ٹیم بلائی اور ان تمام سے اس متعلق مشورہ کئے سب نے مختلف قسم کی رائے دی جیسے نبوت ملنے ،پہلی وحی، غار حرا اور غار ثور کی تاریخ سے اسلامی سال کی ابتداء کی جائے لیکن صحابہ کرام ا کی اکثریت اس  بات پر  متفق ہوئی کہ ہجرت مدینہ سے اسلامی سال کی ابتداء کی جائے اور حضرت عمرؓ کی بھی یہی رائے تھی کیونکہ اس کے پیچھے ایسے اسباب کارفرما  ہیں جو مسلمانوں کے لئے راہ ہدایت ہے اور جب جب یہ مہینہ آئے گا اس سے مسلمان نصیحت حاصل کرینگے ذیل میں ہم کچھ نکات کو ذکرکر رہے ہیں جس کو جان کر ہمیں ہجرت مدینہ کو اسلامی سال کی ابتداء قرار دینے کی وجوہات معلوم ہونگے
(1)اس سال کی ابتداء سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی ہجرت کی یاد تازہ ہوتی ہے جو انہوں نے اسلام کی خاطر کی تھی
(2)اس ساک کا پہلا مہینہ یہ پیغام لے کر آتا ہے کہ اگر کسی جگہ اسلام اور مسلمانوں کو خطرہ ہو تو وہ دوسری جگہ ہجرت کر سکتے ہیں
(3)یہ سال پیغام دیتا ہے کہ ایمان اور اسلام کو بچانا بہت ضروری ہے چاہے وہ ہجرت کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو
(4)یہ سال کا ابتدائی مہینہ یہ پہغام لے کر آتا ہے کہ اس زمانے میں بھی
 مسلم ہجرت کر سکتے ہیں
(5)اس سال کا ابتدائی مہینہ یہ پیغام لے کر آتا ہے کہ مسلمانوں تمہارے زندگی کے ایک سال اور کم ہوگئے اب بھی سنور جاؤ اور اپنی آخرت کی تیاری کر لو
(6)اس سال کا ابتدائی مہینہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ حق و باطل، عدل و انصاف اور صحیح و غلط میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا
(7)اس سال کا ابتدائی مہینہ ہمیں یہ  پاٹھ پڑھاتا ہے کہ اپنی زندگی کو کتاب و سنت اور وحدت الہی کی خوشبوں سے معطر کر لو کیونکہ اسی میں تمہاری بھلائی کا راز مضمر ہے
(8)اس سال کا ابتدائی مہینہ ہمیں نبی اور صحابہ کرام کے جیسے اسلام و ایمان کی خاطر اپنی تن، من اور دھن کی بازی لگانے کا بھی علم سکھاتا ہے
(9)اس سے پتہ چلتا ہے کہ اپنے بیوی، بچے کی محبت اور اپنی مال و دولت کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا بہت بڑا ثواب ہے
(10)اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے جس طرح یہ سال ختم ہوگیا اسی طرح تمہاری ز ندگی بھی ایک دن ختم ہوجائے گی اس لئے ہوشیار رہنا
      مذکورہ بالا نکات کے علاوہ بہت ساری  نکات ہیں جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلامی سال کی شروعات ایک  ہدایت بھری نام سے کی گئی ہے جس کو سمجھ کر اور جان کر ہم اپنی زندگی کو سنوار سکتے ہیں اس  نئے اسلامی سال کی مناسبت سے ہم تمام مسلمانوں کو اس کی پرخلوص مبارکبادی پیش کرتے ہیں اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی اس  نئے سال میں مسلمانوں کی عزت و آبرو، جان و مال اور ایمان و اسلام کو سلامت رکھنا۔آمین یا رب العالمین

            ذیشان الہی منیر تیمی                                 چکنگری، ڈھاکہ مشرقی چمپارن
                       بہار

سیکولر عوام، فرقہ پرست عناصر سے آزادی کیلے تیار رہے ذوالقرنین احمد

سیکولر عوام، فرقہ پرست عناصر سے آزادی کیلے تیار رہے

ذوالقرنین احمد

ہندوستان اس وقت احتجاجی مظاہرے کے دور سے گزر رہا ہے۔ جو بیج آزادی کے قبل فرقہ پرست عناصر نے بویا تھا۔ آج وہ کھار دار درخت بن کر کھڑا ہوچکا ہے۔ جسکی فصلیں ملک کے کونے میں بوئی گئی تھی۔ اور اس زہریلے بیج سے پیدا ہونے والے درخت اب پھل دار ہوچکے ہیں اور ان پھلوں سے دوبارہ بیج تیار ہوکر مزید زہریلے کھاردار درختوں کے پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ جو شدت پسندی مسلمانوں کے خلاف سنگھی حکمران اقتدار جماعت اور انکے گنڈوں میں دیکھنے مل رہی ہے۔ یہ کوئی یکدم سے پیدا نہیں ہوئی ہے۔ بلکہ ایک منظم لائحہ عمل کے زریعے فرقہ پرست عناصر نے اپنے طبقے کے افراد کے ہر شخص کے ذہن میں بھر دی ہے۔ یہ سنگھی اصل‌ امن و انصاف کے دشمن ہے۔ یہ ملک کے دستور کے بھی دشمن ہے۔ جمہوریت کے خلاف ہے۔ یہ سنگھی فرقہ پرست اپنی آئیڈیالوجی کو جبراً ملک میں نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مشین ہندو راشٹر کا قیام عمل میں لانا ہے۔ جس میں برہمن واد کو بڑھاوا دینا اور ملک کے الگ الگ طبقات میں اونچ نیچ اور ذات پات برادری کے نام پر برہمن اور انکے حواریوں کے علاوہ تمام کو دوسرے درجے کا شہری بنانا اور انہیں اپنے مطابق غلامی میں رکھنا چاہتے ہیں۔
پہلے ہندوستان انگریزوں کی غلامی میں تھا ہمارے آبا و اجداد نے اپنی جان مال عزت و آبرو کی قربانیوں سے اس‌ دیش کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کروایا۔ لیکن آج ہندوستان میں فرقہ پرست حکومت اپنے اقتدار کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی ہٹ دھرمی دیکھاتے ہوئے آزاد ہندوستان میں پھر سے ذات پات کے نام پر ملک کی عوام کو آپس میں لڑانے کا اور حکومت کرنے کا کام کر رہی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی جیسے غیر انسانی ، غیر جمہوری، کالے قانون کو نافذ کر کے اقلیتی برادری کو حراساں کرنے کا اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانے کیلے ناپاک عزائم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ جبکہ یہ ملک کثرت میں وحدت کی مثال رہا ہے۔ آج بھی ہندوستان میں ایک بڑا طبقہ جو سیکولر ہے وہ اقلیتی برادری کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوا ہے۔ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ اب برہمنوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کو روکنے اور کمزور کرنے کیلے اسے ہندو، مسلمانوں کی جنگ میں تبدیل کر‌نے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن اس ہندوستان میں ابھی گنگا جمنی تہذیب اور‌ انصاف پسند عوام زندہ ہے۔
ملک بھر میں جہاں جہاں پرامن احتجاج شہریت ترمیمی قانون کے خلاف کیے گئے یا کیے جارہے ہیں۔ صرف انہیں علاقوں میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کیا گیا اور مظلوم بے قصور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا وہ بی جے پی حکومت والی ریاستیں ہے۔ ورنہ جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہیں۔ وہاں پر کوئی ماحول کشیدہ نہیں ہوا۔ نا کسی پر لاٹھی چارج کی گئی نا کسی کی جان لی گئی نا آنسوں گیس کے گولے داغے گئے۔ نا فائرنگ کی گئی۔ سب سے زیادہ تشدد جہاں دیکھنے ملا‌ہے وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور یوگی کے گنڈہ راج میں دیکھنے مل رہا ہے۔ خاموش احتجاج کر رہی عوام کو جان بوجھ کر اکسایا جاتا ہے۔ پولس کی بھینس میں آر ایس ایس کے گنڈے صنف نازک پر لاٹھیاں برساتے ہیں انہیں گندی گالیا بکتے ہیں۔ معزور افراد کو بھی نہیں بخشتے ہیں۔ میرٹھ و بجنور میں ہوئے فساد کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور پولیس اسکے بعد عوام میں خوف پیدا کرتی ہیں حکومت کے اشارے پر بے قصور نوجوانوں کو ہراست میں لیا جاتا ہے۔ انہیں پاکستان جانے کیلئے بولا جاتا ہے۔ گھروں میں گھس کر درازوے توڑے جاتے ہیں یہ کیسی سیاست کیسی جمہوریت ہے۔ جمہوریت کے نام پر گنڈا راج چلایا جارہا ہے۔
یوگی حکومت یو پی کو گجرات بنانا کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ جس طرح بے قصوروں پر ظلم و تشدد کیا جارہا ہے یہ بلکل غیر انسانی فعل ہے۔ معصوم بچوں کو ماؤں سے جدا کیا جارہا ہے۔ ددوھ لانے کیلے گئے باپ کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کئی گھروں کے سہاگ اجاڑ دیے جاتے ہیں کئی بچوں کو یتیم بنایا جاتا ہے۔ اور حکومت عوام کو ہی غلط ثابت کرتی ہے۔ بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی کرتی ہے۔ عام خواتین کا حال تو دور کانگریس کی لیڈر پریانکا گاندھی کے گریبان پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے۔

اگر یہی حال ملک میں چلتا رہا تو ایک بڑی تباہی سے ملک دوچار ہوگا عوام میں ڈر و خوف پیدا کرکے حکومتیں نہیں چلائیں جاسکتی ہیں۔ حکومت عدل و انصاف مساوت کے ساتھ چلا کرتی ہے۔ جب ظلم حد سے تجاوز کرتا ہے ظالم عوام کو اپنے جبر و تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔ تو ایسے حکمرانوں کا خاتمہ بھی دنیا کیلے عبرت کا نشان بن جاتا ہے‌۔ عوام کوئی تمہارے اقتدار سے نہیں ڈرتی ہے بلکہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے انسانیت اور جمہوریت کا کا ثبوت پیش کرتی ہے۔ موجودہ حکومت اگر سمجھتی ہے کہ اپنا ڈر و خوف عوام پر مسلط کرکے حکومت کریں گے اور من چاہے قانون کو نافذ کریں گی۔ تو یہ بات سمجھ لے کہ عوام قانون کا پاس رکھتی ہے ورنہ جس دن آئین اور قانون کے دائرے کے باہر جائے گی تب‌ تمہیں سر چھپانے کیلے جگہ نہیں ملیں گی تم سمجھتے ہوگے مذہب کے نام پر عوام کو لڑاؤ گے لیکن اب ملک کی عوام جاگ چکی ہیں وہ تمہاری مکاری سے اچھی طرح واقف ہوچکی ہیں۔ اب 80 فیصد طبقہ جمہوریت اور آئین کی حفاظت کیلے سڑکوں پر متحد ہوکر کھڑا ہے۔ تمہاری گندی سیاست کا خاتمہ ہوکر رہ گا اور اگر تم اقتدار پر رہے تو ملک کو نقصان ہوگا کیونکہ ملک کو تم خانہ جنگی کی طرف لے جارہے ہو۔ اور جب حالت خراب ہوگے تو اس میں سبھی کے گھر جلے گے کسی ایک خاص مذہب کے لوگ متاثر نہیں ہوگے۔ اس لے اگر ملک میں امن و امان قائم رکھنا ہے تو یہ کالے قانون کو واپس لینا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ ورنہ پھر عوام کو ایک اور جنگ آزادی کیلے تیار رہنا چاہیے جو فرقہ پرستوں سے آزادی کیلے لڑی جائے گی امن کے دشمنوں سے ملک کو محفوظ رکھنے کیلے لڑی جائے گی۔ جس میں تمام سیکولر طبقات کو ساتھ کھڑا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ورنہ جو سمجھ رہے ہیں کہ بی جے پی میں شامل ہوجائے گے تو محفوظ ہوجائے گے یہ انکی خام خیالی ہے۔

خاندانی اختلافات کے اسباب اور ان کا حل۔۔۔۔ از قلم - توفیق الرحمن چمپارنی متعلم عربی ھفتم دارالعلوم وقف دیوبند

خاندانی اختلافات کے اسباب اور ان کا حل۔۔۔۔


از قلم - توفیق الرحمن چمپارنی متعلم عربی ھفتم دارالعلوم وقف دیوبند
ابتداۓ افرینش ہی سے خاندانوں میں اختلاف، انتشار، لڑاںٔیاں ، جھگڑے، نااتفاقی اور ناچاقی رہی ہیں۔ اور عاںٔلی اختلافات کے
 من جملہ اسباب  میں سے ایک یہ ہے کہ خالق کائنات نے جب سے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا،  اس وقت سے لے کر آج تک اربوں، کھربوں انسانوں کو پیدا فرمایا، اور آگے قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے ، اور ہر انسان ایک دوسرے سے مختلف ہے چہرے ، انگلی کی لکیریں، انگلی کے پورے، رنگ، اور زبانوں میں۔ لہذا جب دو انسانوں کے چہرے ایک جیسے نہیں ہوسکتے،  تو پھر دو انسانوں کی طبیعتیں کیسے ایک جیسی ہوسکتی ہیں، جب ظاہر ایک جیسا نہیں، تو پھر ان کی طبیعتوں میں بھی فرق ہوگا، کسی کی طبیعت کیسی ہے، کسی کی طبیعت کچھ اور ہے، کسی کا مزاج کیسا ہے، کسی کا مزاج کچھ اور ہے، لہذا طبیعتوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے کبھی یہ نہیں ہوسکتا کہ دو آدمی ایک ساتھ زندگی گزار رہے ہوں،  اور ایک کو دوسرے سے تکلیف نہ پہونچے۔  جس سے ان کے درمیان نااتفاقی پیدا ہوتی ہے۔
اور خاندان میں پیدا ہونے والے اختلاف کی بہت بڑی وجہ شریعت کے ایک حکم کا لحاظ نہ رکھنا ہے وہ حکم یہ ہے کہ ،، تعاشرروا کلاخوان۔ تعاملوا کلاجانب،، تم آپس میں تو بھائیوں کی طرح رہو، اور ایک دوسرے کے ساتھ  بھائیوں جیسا برتاؤ کرو، اخوت و محبت کا برتاؤ کرو۔ لیکن جب لین دین کا معاملات پیش آئیں تو اس وقت اجنبیوں کی ترح معاملہ کرو، اور معاملہ بالکل صاف ہونا چاہئے، اس میں کوئی پوشیدگی نہ ہو جو ہو صاف ہو ۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے۔ لیکن آج اس کے برخلاف ہو رہا ہے۔ جس سے خاندانوں میں اختلاف پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
یہ ایک جگ آشکارا حقیقت ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے بعد اگر کوئی جماعت مقدس اور مبارک ہے، تو وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا گروہ ہے، لیکن ان کے درمیان میں بھی اختلاف رہا ہے، اسی طرح ازواج مطہرات، امہات المؤمنین جو کہ عورتوں میں سب سے پاکیزہ اور مقدس ہیں، تمام عورتوں کی سردار ہیں، ان کے لئے آئیڈیل اور نمونہ ہیں۔ اس کے باوجود ان میں بھی نا اتفاقی رہتی تھی۔ اور اختلاف ہونا بھی چاہیے کیونکہ ان کے درمیان اختلاف کا ہونا باعثِ رحمت تھا۔ کسی نے سچ کہا ہے۔ع
چمن میں اختلاف رنگ وبو سے بات بنتی ہے۔
ہمیں ہم ہیں تو کیا ہے تمہیں تم ہو تو کیا ہے۔
اب سوال یہ ہوتا ہے کہ آپس میں پیدا ہونے والے اختلافات کا حل کیا ہے، تو اس کا حل یہ ہے کہ جو اسباب بیان کیۓ گئے ہیں جن سے نااتفاقی اور ناچاقی پیدا ہوتی ہے، اگر آج سےان اسباب سے پرہیز کرنے کا ارادہ کرلیں اور محنت کرکے اس کا پابند بنالیں، تو انشاءاللہ آیندہ کی زندگی درست ہوجائے گی، اور ہمارے درمیان کا اختلاف بھی باعثِ رحمت ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

حکومت چاہے تو میرا عہدہ چھین سکتی ہے: عرفان حبیب

حکومت چاہے تو میرا عہدہ چھین سکتی ہے: عرفان حبیب

کانپور۔۳۱؍دسمبر:  فی الحال کیرل کے گورنر عارف محمد خان کے ساتھ ہوئے تنازعہ کو لے کر گھرے ہوئے مؤرخ عرفان حبیب نے کہا کہ اگر حکومت چاہے تو ان کا عہدہ چھین سکتی ہے۔حبیب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ وہ چاہے تو اے ایم یو کی تاریخ کے محکمہ کے پروفیسر کے عہدے سے مجھے ہٹا سکتے ہیں،ساتھ ہی نوکری سے علیحدہ کرنے کے علاوہ بھی دوسرے عہدوں سے چاہے تو ہٹا دیں۔گزشتہ ہفتے کانپور یونیورسٹی میں 80 ویں ہندوستانی تاریخ کانگریس کی افتتاحی تقریب میں گورنر عارف محمد خان نے الزام لگایا کہ حبیب نے پروٹوکول توڑتے ہوئے ان کی تقریر کے دوران ان کے سیکورٹی ساتھیوں کو ایک طرف دھکیلا اور ان کی طرف آنے کی کوشش کی۔مؤرخ نے کہاکہ میں 88 سال کا ہوں اور ان کا اے ڈی سی 35 سال کے قریب رہا ہوگا، میں ایسا کس طرح کر سکتا ہوں،سب دیکھ سکتے ہیں کہ وہاں کیا ہوا اور یہ سب نے دیکھا بھی ہے۔اس پورے واقعہ کے حکم کے بعد کیرالہ کے گورنر کے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے تقریب کے دوران کی ایک تصویر پوسٹ کی گئی۔اس کے ساتھ لکھا گیاکہ جناب عرفان حبیب نے معزز گورنر کی افتتاحی تقریر میں خلل ڈالنے کے ساتھ ساتھ مولانا عبدالکلام آزاد کے حوالے سے کہنے کے ان کے حقوق کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں گوڈسے کی مثال دینے کو کہا۔اس غیر مناسب حالات میں معزز گورنر کو بچانے والے ان کے اے ڈی سی اور سیکورٹی افسر کو انہوں نے دھکا دیا۔گورنر نے پروٹوکول توڑے جانے کے اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیا اور کیرالہ کے چیف سکریٹری ٹام جوس کو بلا کر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔خبروں کے مطابق، وہ مرکزی حکومت کے سامنے اس مسئلے کو اٹھانے پر غور کر رہے ہیں۔

ایک ہندو دوست کا اپنی قوم سے خطاب تحریر: شیام میرا سنگھ ہندی سے ترجمہ: اشعرنجمی

ایک ہندو دوست کا اپنی قوم سے خطاب
تحریر: شیام میرا سنگھ
ہندی سے ترجمہ: اشعرنجمی
.............................

این آر سی کی حمایت میں بولنے سے پہلے ایک بار اپنا مطالعہ درست کر لیجیے۔ خود مرکزی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس ملک میں:

(1) 30 کروڑ لوگ بے زمین ہیں یعنی ان کے پاس کوئی زمین نہیں ہے ۔(یہ اعداد و شمار ارون جیٹلی نے پارلیامنٹ میں بتایا تھا جب وہ 'PMMY ،پردھان منتری مُدرا یوجنا' لاگو کررہے تھے) سوال اٹھتا ہے کہ جب 30 کروڑ لوگوں کے پاس زمین نہیں ہے تو وہ کس زمین کے کاغذات NRC میں پیش کریں گے؟

(2) 170 لاکھ لوگ بے گھر ہیں، یعنی ان کے پاس رہنے کے لیے گھر ہی نہیں ہے؛ کوئی فٹ پاتھ پر سوتا ہے، کوئی جھگی جھونپڑی بنا کر، کوئی فلائی اوور کے نیچے اور کوئی 'رین بسیرا' میں۔ ایسا میں نہیں کہہ رہا ، مرکزی سرکار کی جانب سے سروے کرنے والا ادارہ NSSO  کہہ رہا ہے۔ اب اگر ان لوگوں کے پاس مکان ہی نہیں ہے تو کیا وہ  ان فٹ پاتھ یا فلائی اوور کے کاغذات NRCمیں دکھائیں گے کہ وہ کون سے فٹ پاتھ پر یا کس فلائی اوور کے نیچے سوتے ہیں؟

(3) اس دیش میں 15 کروڑ خانہ بدوشوں کی آبادی ہے۔آپ نے شاید بنجارے، گاڑیا لوہار، باوریا، نٹ، کال بیلیا، بھوپا، قلندر، بھوٹیال وغیرہ کے نام سنے ہی ہوں گے۔ ان کے رہنے ٹھہرنے کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا؛ آج اِس شہر میں تو کل اُس شہر میں۔ جب ٹھکانہ ہی نہیں تو کون سے کاغذات؟ ایک دو بکریاں اور اوڑھنے بچھانے کے کپڑوں کے سوائے ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ تو  کیا امیت شاہ ان کی بکریوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرکے بتائیں گے کہ ہارمونیم کی طرح ان کے باپ ،بکری بھی وراثت میں چھوڑ کر مرے تھے؟

(4) اس دیش میں 8 کروڑ 43 لوگ آدیباسی ہیں جن کے بارے میں خود سرکار کے پاس ناکافی اعداد و شمار ہوتے ہیں (مردم شماری :2011)۔

(5) آخر میں سب سے اہم بات یہ کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1970 میں ملک کی شرح خواندگی  34 فیصد تھی یعنی 66 فیصد لوگ ان پڑھ تھے، بالفاظ دیگر اس ملک کے 66 فیصد اجداد اور بزرگوں کے پاس لکھائی پڑھائی کا کوئی دستاویز ہی نہیں ہے۔ آج بھی تقریباً 26 فیصد یعنی 31 کروڑ لوگ ان پڑھ ہیں، جب اسکول ہی نہیں گئے تو انھوں نے مارک شیٹ کس بات کی رکھی ہوگی؟

تو بات یہ ہے میرے دوستو! اپنے اندر کے کٹرپن کو تھوڑا ڈھیلا کیجیے اور اپنے گاؤں، شہر کے سب سے کمزور پچھڑے لوگوں کے گھر وں پر نظر دوڑائیے اور سوچیے کہ ان کے پاس ان کے دادا ، پردادا کے کون کون سے کاغذات رکھے ہوں گے؟ کیا شہریت ثابت نہ کرپانے کی صورت میں ان کے پاس اتنی دولت ہوگی کہ یہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپنا مقدمہ لڑسکیں؟

چنانچہ این آر سی جیسا غیر ضروری، فضول اور توہین آمیز قانون صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہے، اس بات کو آپ جتنی جلدی سمجھ پائیں،اچھا ہوگا۔ آسام میں بھی جو ہندو شروعات میں بہت پھدک رہے تھے، وہی این آر سی لاگو ہونے کے بعد اپنے ہی دیش میں 'گھس پیٹھیے' ہوگئے ہیں۔ وہ بھی شروعات میں کہہ رہے تھے کہ آسام میں ایک کروڑ گھس پیٹھیے ہیں، جب کہ 19 لاکھ لوگ ایسے نکلے جو دستاویز کی بنیاد پر اپنی شہریت ثابت نہ کر پائے، اس میں بھی 15 لاکھ تو ہندو ہی ہیں، اب وہی ہندو این آر سی کے نام سے بھی کانپتے ہیں اور اسے رد کرنے کی آواز اٹھا رہے ہیں۔

ہمارے ٹیکس کے پیسے جو غارت ہوئے سو ہوئے لیکن ہاتھ کیا آیا؟ غریب سے غریب آدمی کو اپنا سارا کام دھندا چھوڑ کر وکیلوں کے چکر لگانے پڑے، سر درد جھیلا، بے عزتی برداشت کی اور آخر میں ایک بھی آدمی آسام سے باہر نہیں گیا۔

آپ کے دماغ میں یہ چھوٹی سی بات آخر کیوں نہیں گھستی کہ سرکار آپ ہی کے ٹیکس کے پیسوں سے ملک میں سرکس کرانے جا رہی ہے جہاں جانوروں کی طرح آپ کو بھی لائن میں لگ کر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ ہندوستانی ہیں۔ لائن میں لگنے کے سوا کیا آپ کے پاس کوئی دوسرا کام باقی نہیں بچا؟ کبھی آدھار کارڈ کے لیے لائن، کبھی نوٹ بدلنے کے لیے لائن، کبھی جی ایس ٹی نمبر کے لیے لائن اور اب خود کو اس ملک کا شہری ثابت کرنے کے لیے لائن۔سرکار کس کے لیے بنائی تھی؟ لائن میں لگنے کے لیے ؟ کیا کالا دھن، اسکول، یونیورسٹی، روزگار، اسپتال ؛ سب کام نمٹ گئے؟