اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 2 January 2020

حیدرآباد میں اسد الدین اویسی کی قیادت میں سی اے اے کے خلاف4 یا 5 جنوری کو ملین مارچ

حیدرآباد میں اسد الدین اویسی کی قیادت میں سی اے اے کے خلاف4 یا 5 جنوری کو ملین مارچ

حیدرآباد: اسدالدین اویسی کی سربراہی میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) 4 یا 5 جنوری کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف حیدرآباد میں مارچ کرنے کے بارے میں منصوبہ بنا رہی ہے۔
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے تین ممکنہ راستوں کی تجویز پیش کرتے ہوئے ، مارچ کے لئے پولیس سے اجازت طلب کی ہے۔
اویسی نے بدھ کے روز ٹویٹ کیا کہ انہوں نے مارچ کی اجازت کے لئے حیدرآباد پولیس کمشنر کو درخواست دی۔ انہوں نے تین ممکنہ راستوں کی تجویز پیش کی جن میں ایک دارالسلام عیدگاہ بلالی اور دوسرا تاریخی چارمینار سے دھرنا چوک تک ہے۔
اگر پولیس چار جنوری کے لئے مجلس کو اجازت دے دیتی ہے تو ، اس کا مقابلہ مختلف مسلم تنظیموں کے ذریعہ پلان کردہ ” ملین مارچ ” سے ہوگا۔منگل کو متعدد مسلم گروہوں پر مشتمل مشترکہ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) نے پولیس کمشنر سے 4 جنوری کو نیکلس روڈ پر ‘ملین مارچ’ کی اجازت دینے کی اپیل کی۔
جے اے سی نے اصل میں 28 دسمبر کو مارچ کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن پولیس نے اس کی اجازت سے انکار کردیا۔ اس کے بعد اس نے پولیس کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
جے اے سی کنوینر مشتاق ملک نے کہا کہ ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ مارچ کے لئے اجازت کے لئے تازہ درخواست پر غور کریں۔
بدھ کے روز اویسی کے ٹویٹ کے بعد کچھ لوگوں نے اس سے اپیل کی کہ وہ ملین مارچ کی منصوبہ بندی کے مطابق اجازت دیں اور 5 جنوری کو اپنی پارٹی کے جلسے کو موخر کریں۔ اے ایم آئی ایم نے ابھی تک اس کے ذریعے ایک احتجاجی مارچ کا اہتمام نہیں کیاہے، کئی دیگر مسلم گروپوں کے ساتھ سی اے اے اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کی مخالفت کے لئے 22 دسمبر کو دارلسلام میں ایک بڑے پیمانے پر عوامی جلسہ کیا تھا۔
رکن پارلیمنٹ نے 25 دسمبر کو تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندرشیکھر راؤ سے ملاقات کے لئے مسلم رہنماؤں کے وفد کی قیادت بھی کی تھی ، اور ریاست میں قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) عمل نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
دریں اثنا اویسی نے کانگریس کے ریاستی چیف اتم کمار ریڈی کو حیدرآباد پولیس کمشنر انجنی کمار کے خلاف زبان استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
اختلاف کی پارٹی نے منگل کے روز گورنر تاملیسائی سوناراراجن سے ملاقات کی تھی ، جس نے پولیس کمشنر کے ہاتھوں برتاؤ اور سی اے اے ، این آر سی ، اور این پی آر کے خلاف احتجاج میں ” ہندوستان کو بچانے کے آئین ” کی ریلی کی اجازت سے انکار پر پولیس کمشنر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اتم کمار ریڈی کی سربراہی میں کانگریس کے وفد نے گورنر سے شکایت کی کہ پولیس اے ای آئی ایم کو اجازت دے رہی ہے ، جو حکمران تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) کی حلیف ہے۔
انہوں نے کہا یہاں تک کہ آر ایس ایس کو بھی اجازت دی گئی کہ وہ لاتعلق کارکنوں کے ساتھ شہر میں مارچ کریں

شہریت قانون کے خلاف جامعہ ملیہ میں کا انوکھا احتجاج ۲۱؍ویں دن کیمپس مولانا محمدعلی جوہرمارگ پرآرٹسٹوں نے پینٹنگ بنائی ، روڈ سائیڈ اسکول فار روولیوشن مہم کا آغاز، طلبہ کا ستیہ گرہ جاری ، ہندو مذہب میں برابری ہونی چاہئے اگر ایسا نہیں ہے تو یہ ہندوواد بیکار ہے: اندوپرکاش

شہریت قانون کے خلاف جامعہ ملیہ میں کا انوکھا احتجاج
۲۱؍ویں دن کیمپس مولانا محمدعلی جوہرمارگ پرآرٹسٹوں نے پینٹنگ بنائی ، روڈ سائیڈ اسکول فار روولیوشن مہم کا آغاز، طلبہ کا ستیہ گرہ جاری ، ہندو مذہب میں برابری ہونی چاہئے اگر ایسا نہیں ہے تو یہ ہندوواد بیکار ہے: اندوپرکاش
نئی دہلی۔ ۲؍جنوری: (جامعہ کیمپس سے محمد علم اللہ کی رپورٹ) شہریت ترمیمی ایکٹ، سی اے اے اور این پی آر کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کے احتجاج کا آج ۲۱؍واں دن تھا، طلبہ نت نئے طریقوں سے اپنا احتجاج درج کرا رہے ہیں۔ کل جہاں پورا ملک نئے سال کی آمد پر جشن منارہا تھا وہیں جامعہ کے شاہین انقلاب زندہ باد کے نعرے لگا کر ملک کے سیکولر تانے بانے کی برقراری کا عہد کررہے تھے ۔ آج جامعہ کے طلبہ نے فاشسٹ حکومت کی مخالفت میں سڑکوں پر تصویریں بناکر اپنا احتجاج درج کرایا۔جامعہ کیمپس میں آرٹسٹ وفنکاراپنے فن اورہنرکے ذریعہ شہریت قانون کے خلاف آواز بلند کررہے ہیںآرٹسٹوںنے اپنے فن کا نمونہ پیش کرتے ہوئے انوکھا احتجاج درج کرایا۔کئی فنکاروں نے شیطان کی تصویر بنائی ہے جس میں وہ دستور کودانتوں  سےکتررہا ہے،توکچھ فنکاروں نے پتھرکی لکیرکو دکھانے کے لئے ایک پتھربنایاہے ، جبکہ ساتھ ہی معماردستور بھیم راؤامبیڈکرکے ہاتھ میں ایک ہتھوڑہ بنایا گیاہے جس کے ذریعےوہ اس پتھر کی لکیر یعنی پتھرکوتوڑ رہے ہیں۔اسی طرح سے لوگوں کے احتجاج کو دکھانے کے لئے یہ پینٹنگز بنائی گئی ہیں ساتھ ہی  این آر سی کولے کر چل رہے تنازعے میں کچھ اس طرح کی پینٹنگز بھی بنائی گئی ہیں جن میں وقت دستاویزات اور کاغذات کو کھارہا ہے۔پینٹنگ بنانے والے آرٹسٹوں کا کہنا ہے کہ وہ شہریت قانون کے خلاف اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ادھر  طلبہ جامعہ نے اپنے احتجاج انوکھا بناتے ہوئے روڈ سائیڈ اسکول فار روولیوشن کے نام سے مہم شروع کی ہے یہ مہم اسکول نہ جانے والے بچوں کےلیے شروع کی گئی ہے خاص بات یہ ہے کہ یہ اسکول جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر موقع احتجاج پر چلایا جارہا ہے، جس میں بچوں کو پڑھنا سکھایاجارہا ہے، یہ اپنے آپ میں ایک نیا تجربہ ہے اور آنے جانے والے زائرین کے لیے یہ موضوع بحث اور توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وہیں دہلی پولس کی لائبریری میں کارروائی اور توڑ پھوڑ کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری کے باہر طلبہ کی جانب سے مخالفت درج کرانے کےلیے ایک لائبریری چلائی جارہی ہے جسے روڈ فار روولیوشن کا نام دیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ۱۵؍دسمبر کو جامعہ کیمپس میں پولس کے ذریعے کی گئی کارروائی میں جامعہ کی لائبریری بھی زد میں آگئی تھی ، کھڑکیاں، شیشے، بیٹھ کر پڑھنے والی میزیں اور دیگرچیزیں توڑ پھوڑ کا نشانہ بنی تھیں۔آج کے اس احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے فورم اگینسٹ کرپشن اینڈ ٹارچر کے صدر اندو پرکاش نے کہا کہ یہ وہی جامعہ ملیہ اسلامیہ ہے جہاں سے میں نے ۳۶ سال قبل سوشیالوجی میں پوسٹ گریجویٹ کیا تھا، مجھے خوشی ہے کہ میرے گھر کے بچے باہر نکل کر اس ناانصافی کے خلاف لڑرہے ہیں، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی اپنے عہدے کے وقار کا خیال رکھے بغیر آر ایس ایس کے کارکنان کی طرح برتائو کررہے ہیں، یہ افسوس کی بات ہے کہ انہوں نے پولس کے ذریعے کی گئی تشدد کی حمایت کی، انہوں نے کہاکہ یہ گاندھی فکر وخیالات کی صریح خلاف ورزی ہے، ہماری تنظیم نے کوشش کی ہے کہ جو لوگ تشدد کے شکار ہوئے ہیں یا جن کی جائیدادیں ضبط کیے جانے کا خطرہ ہے انہیں قانونی تعاون کریں گے۔ انہوں نے حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہاکہ ای وی ایم مشین گھوٹالے سے یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے جو ہمیں این آر سی، اور سی اے اے سے ڈرا رہی ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ آئین کے مخالف ہے، ہم اس کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ ملک کے ڈٹینشن سینٹر پر بولتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بائیں بازو اور انسانی حقوق کارکنان کا ہم سے کاغذ مانگے جائیں گے کے نعرے والی  مخالفت درست ہے آگے انہوں نے کہاکہ یہ حکومت ہندو وادی نہ ہوکر پونجی وادی ہے۔ نوجوان لیڈروں کی اس تحریک میں کردار پر انہوں نے کہاکہ اس مخالفت کی جان وہ نوجوان ہیں ، ہمارا ملک جن نوجوانوں کے ہاتھوں  میں محفوظ ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ہندو واد کی بات کرتی ہے، ہمارے مطابق ہندو مذہب میں برابری ہونی چاہئے اگر ایسا نہیں ہے تو یہ ہندوواد بیکار ہے، انہوں نے کہاکہ آئین کو مذہب کے مطابق نہیں چلایاجاسکتا ، حکومت کو ذہنی بیمار بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو آئین کی طاقت کا اندازہ جلد ہی ہوجائے گا۔ اس سے قبل بدھ کو جامعہ کے طلبہ گاندھی گیری پر اتر آئے اور اپنے مطالبات کو لے کر بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔ ان کا مطالبہ سی اے اے اور این آر سی، این پی آر کو واپس لیاجا ئے، پورے ملک میںجہاں جہاں بھی لوگوں کی شہادتیں ہوئی ہیں اس کی تحقیقات کی جائے، سبھی گرفتار مظاہرین کو رہا کیاجائے جو تشدد میں شامل نہیں تھے، تمام ایف آئی آر کو واپس لیاجائے جو پرامن مظاہرین کے خلاف ہوئی ہیں، ان سبھی لوگوں کو فوری طور پر معاوضہ دیاجائے جو تشدد کے شکار ہوئے ہیں وغیرہ شامل ہیں۔ قبل ازیں گزشتہ روز مشہور فلمی اداکارہ سورا بھاسکر اور دیگر معزز شخصیات نے مظاہرین کو خطاب کیا تھا او ر ملک وآئین بچانے کی لڑائی میں ہرممکن مدد کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس موقع پر سورا بھاسکر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کورآڈی نیٹر کمیٹی کی جانب سے کتاب پیش کی گئی تھی۔

کاغذنہیں دکھائیں گے،این آرسی غریبوں کے خلاف سی اے اے احتجاج:ـ محاذپرشاہین باغ کی تین دادیاں بھی ڈٹ گئیں

کاغذنہیں دکھائیں گے،این آرسی غریبوں کے خلاف
سی اے اے احتجاج:ـ محاذپرشاہین باغ کی تین دادیاں بھی ڈٹ گئیں
نئی دہلی۔۲؍جنوری:  شہریت ترمیمی ایکٹ کے حوالے سے ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ لیکن دہلی کے شاہین باغ علاقے میں اس قانون کے خلاف جاری احتجاج انوکھا ہے۔جب عزم مستحکم اورجواں ہوتونہ سردی کی پرواہ ہوتی ہے اورنہ عمرکی،متنازعہ ایکٹ کے خلاف ایساہی معاملہ دیکھنے کوآرہاہے جہاں عزم وہمت کے پہاڑنوجوان ڈٹے ہوئے ہیں وہیں سردراتوں میں بزرگ خواتین جمی ہوئی ہیں جواس عزم کااظہارنہایت دلیری سے کررہی ہیں کہ ہم کاغذنہیں دکھائیں گے،این آرسی ملک کے غریبوں کے خلاف ہے،سی اے سے دستورکے خلاف اورملک کوتقسیم کرنے والاہے۔سترسال سے زائدکی عمرکی خواتین کاکہناہے کہ ایکٹ کی واپسی تک عزم سفرجاری رہے گا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جہاں طلبہ،اساتذہ اورسول سوسائیٹی کے افرادپرزوراحتجاج کررہے ہیں وہیں شاہین باغ کے مظاہروں کی قیادت شاہین باغ اور جامعہ نگر میں رہنے والی خواتین کر رہی ہیں اور سخت سردی کے باوجود پچھلے 15 دنوں میں کھڑی ہیں۔ اس احتجاج کی ایک اور انوکھی بات یہ ہے کہ اس میں تین بزرگ خواتین بھی شامل ہیں، جو سب کی توجہ مبذول کر رہی ہیں۔اسماء خاتون 90 سال کی ہیں۔ اسی وقت، بلقیس کی عمر 82 سال ہے اور سروری کی عمر 75 سال ہے۔ جب تین بزرگ خواتین سے ان کے مکمل نام پوچھے گئے تو انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہاہے کہ ہم نہیں بتائیں گے کیونکہ ہمارے پاس دستاویزات موجودنہیں ہیں۔ یہ ہمارے خلاف ہوسکتا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ احتجاج میں حصہ لینے والی یہ تینوں بزرگ خواتین ا ب شاہین باغ کی دادی کے نام سے مشہور ہیں۔ این ڈی ٹی وی کے ساتھ خصوصی گفتگو میں،تینوں دادیوں نے بتایا کہ وہ احتجاج میں کیوں حصہ لے رہی ہیں۔تین بزرگوں میں سب سے بڑی اسماء خاتون کاکہناہے کہ مودی سے پوچھیں کہ ہم کیوں احتجاج کر رہے ہیں۔ ہمیں ایسا دن کیوں دیکھنا پڑا۔مجھے مظاہرہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ہوں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں یہ قانون واپس کراناچاہتی ہیں تو اسماء خاتون کا کہنا ہے کہ وہ ہم سے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے دستاویزات دکھانے کوکہتے ہیں۔اس ملک میں بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس کوئی کاغذ نہیں ہے۔ سیلاب اور بارش سے بہت سارے لوگوں کی دستاویزات بہہ گئیں۔ وہ کاغذ کہاں لائیں گے؟ میں مودی کو چیلنج کرتی ہوں کہ وہ اپنی 7 پشتوں کا نام لیں۔ میں آپ کو نوپشتیں بتاؤں گی۔تاہم، سی اے اے کی حمایت میں مظاہروں کے سوال پر، انہوں نے کہاہے کہ جولوگ اس قانون کو بخوبی نہیں جانتے، وہ اس کی حمایت میں کھڑے ہیں۔صرف مسلمان ہی مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔ آکر دیکھیں کہ مظاہرے میں شامل لوگوں کو کتنے لوگ کھانا دے رہے ہیں۔ وہ تمام مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ کوئی ہمیں کیلے دے رہا ہے، پھر کوئی پھل اورکچھ بسکٹ۔اسی وقت، 75 سالہ سرووری کا کہنا ہے کہ ہم یہاں پیدا ہوئے اور یہاں مرنا چاہتے ہیں۔ یہ قانون تقسیم کرنے ہی والا ہے۔ میں کوئی کاغذ نہیں دکھاؤں گی۔ یہ قانون ان لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو دستاویزات ظاہر نہیں کرسکتے ہیں۔میں اس کے ساتھ کھڑی ہوں۔جب ان تینوں دادیوں سے پوچھا گیا کہ وہ کب تک یہ کام انجام دیتے رہیں گی تو وہ کہتی ہیں ہے کہ ہمیں سردی محسوس نہیں ہوتی ہے۔ ہمیں سب کا تعاون حاصل ہو رہا ہے اور کم سے کم میں میں اپنی آنے والی نسلوں کو بتا سکتی ہوں کہ ہم نے ان کے حقوق کے لیے لڑائی لڑی ہے۔

سدھارتھ نگر: جامعہ ملیہ حادثہ میں زخمی ہونے والے عبیدالرحمان کا انتقال!

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
جسے جینا ہے مرنے کے لئے تیار ہوجائے

ڈومریا گنج/ضلع سدھارتھ نگر(آئی این اے نیوز 2/جنوری 2019) یوپی کے رہنے والے 22سالہ نوجوان عبید الرحمن ابن کلیم اللہ مرحوم  نے آج یکم جنوری رات ایک بجے کے قریب زندگی اور شہادت کے بیچ چل رہی جنگ میں زندگی کو ہار گیا اور شہادت پاکر ہمیشہ ہمیش کیلئے کامیاب و کامران ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور والدین نیز بہنوں بھائیوں کو صبر کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین یا رب العالمین
والد محترم عبدالقیوم سے گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ مرحوم عالم کا کورس مکمل کرکے ابھی دو سال ہوا تھا دلی گئے ہوئے اور وہا ں کون سا کورس کر رہے تھے مضمون لکھے جانے تک   معلوم نہیں ہوسکا
لیکن حادثہ والے دن حالانکہ احتجاج میں وہ بچہ شامل بھی نہیں تھا پھر بھی اس مظلوم کو پولیس والوں نے نشانہ بنایا اور پہلے اسکے چہرے پر آنسو گیس کا گولہ داغا
بعد میں اتنی بری طرح پٹائی کی گئی کہ بچہ آخرکارہاسپٹل میں زندگی کی جنگ ہار گیا اور اپنے پیچھے صف ماتم بچھا گیا
ابھی اس بچے کا جسد خاکی وطن پہونچا نہیں ہے لیکن پہونچنے سے پہلے متحدہ بستی کی عوام کو اپنے سارے کار وبار چھوڑ کر بلا تفریق مذہب وملت اتحادواتفاق کاثبوت دیتے ہوئے ڈومریا گنج اس بچے کے گھر اور گاووںپہونچ کر ایک زبردست مظاہرہ اور دھرنا پردرشن کرنا چاہئیے  تاکہ دہلی پولیس کی بربریت دنیا کے سامنے اجاگر ہوسکے
سارے احباب سے اس بچے کے لئے ایصال ثواب کا اہتمام کرنے کی درخواست ہے 

شہریت قانون: یو پی پولس نے 6 سال قبل انتقال کر چکے بنّے خان کے خلاف بھیجا نوٹس! یو پی پولس کے ذریعہ دو ایسے اشخاص کے خلاف بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے جن کی عمر 90 سال سے زائد ہے اور وہ ایک پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ مقامی افراد ریاستی پولس کے اس قدم سے حیران و ششدر ہیں۔


شہریت قانون: یو پی پولس نے 6 سال قبل انتقال کر چکے بنّے خان کے خلاف بھیجا نوٹس!

یو پی پولس کے ذریعہ دو ایسے اشخاص کے خلاف بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے جن کی عمر 90 سال سے زائد ہے اور وہ ایک پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ مقامی افراد ریاستی پولس کے اس قدم سے حیران و ششدر ہیں۔

فیروزآباد:02 /جنوری 2020 
اتر پردیش میں شہریت قانون کے خلاف ہوئے پرتشدد مظاہروں پر پولس کی کارروائی لگاتار جاری ہے اور اب تک کئی لوگوں کے گھروں پر نوٹس بھیجی جا چکی ہے۔ اس درمیان کئی معاملوں میں یو پی پولس کی لاپروائی تو سامنے آ ہی رہی ہے، ان کی بربریت کی خبریں بھی خوب سرخیاں بن رہی ہیں۔ ایک ایسا ہی تازہ معاملہ اتر پردیش کے فیروز آباد پولس کا سامنے آیا ہے جس نے پولس محکمہ کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ دراصل فیروز آباد پولس نے شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ سے ماحول خراب ہونے کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے 200 لوگوں کی شناخت کر انھیں نوٹس جاری کیا ہے۔ حیرت میں ڈالنے والی بات یہ ہے کہ پولس نے فیروز آباد کے ایک مہلوک شخص کے خلاف بھی نوٹس جاری کر دیا ہے۔
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق بنّے خان کا انتقال 6 سال قبل ہو چکا ہے اور فیروز آباد پولس نے ان کے نام سے نوٹس جاری کیا ہے جس کے بعد لوگ پولس محکمہ کا مذاق بنا رہے ہیں۔ پولس کی جانب سے بنّے خان کے نام جاری نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ انھیں سٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ اس نوٹس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ بنّے خان کو 10 لاکھ روپے کا مچلکہ دے کر ضمانت لینی ہے۔ اس نوٹس کو دیکھ کر بنّے خان کے اہل خانہ میں ہنگامہ کی صورت پیدا ہو گئی اور وہ حیران و پریشان ہو گئے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 20 دسمبر کو شہریت قانون کے خلاف اتر پردیش میں ہو رہے مظاہروں کے دوران تشدد برپا ہو گیا تھا جس کے بعد ایسے 200 لوگوں کی شناخت کی گئی تھی جن سے فیروز آباد کے امن کو خطرہ محسوس کیا گیا۔ انہی 200 لوگوں میں بنّے خان کا نام بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ایسے نام اس فہرست میں شامل ہیں جس نے لوگوں کو حیرانی میں ڈال رکھا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ فہرست میں شامل دو ایسے اشخاص کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن کی عمر 90 سال سے زائد ہے۔ ایک شخص کا نام صوفی انصار حسین ہے اور ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ گزشتہ تقریباً 58 سال سے جامع مسجد میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس عمر میں ان کے ذریعہ کسی تشدد کی امید نہیں کی جا سکتی اور پولس کے ذریعہ ان کے نام نوٹس جاری کیے جانے پر لوگ سوال اٹھا رہے ہیں۔ اسی طرح 93 سالہ فصاحت میر خان کا نام بھی اس فہرست میں دیکھ کر سبھی ششدر ہیں۔ فصاحت خان کے بارے میں تو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ سماجی کارکن ہیں اور سابق صدر جمہوریہ ہند اے پی جے عبدالکلام سے بھی ان کی ملاقات ہو چکی ہے۔
فصاحت خان کے بیٹے نے اپنے والد کے خلاف نوٹس جاری کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’سماجی کارکن کی حیثیت سے فصاحت میر خان کا نام پورے شہر میں مشہور ہے۔ میرے والد کو صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام سے راشٹرپتی بھون میں ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہے اور انھیں پولس نے جس طرح پابند کیا ہے وہ سمجھ سے پرے ہے۔‘

سی اے اے-این آر سی-این پی آر: مسلم علماء نے دستاویزات پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا

حیدرآباد:2/جنوری 2020 
شاہین نگر معھد اسلامیہ میں ایک بند دروازہ اجلاس ہوا جس میں ہندوستان کے مختلف حصوں سے آنے والے علماء نے ہی شرکت کی۔ اس کا اہتمام مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کیا تھا۔ اس اجلاس میں مولانا ارشد مدنی (جمعیت العلماء) مولانا ابوالقاسم نعمانی (ڈائریکٹر ، دارالعلوم دیوبند) مولانا سید محمود مدنی (سکریٹری جمعیت العلماء)مولانا صدیق اللہ چوہدری (وزیر مغربی بنگال) نے شرکت کی۔ ) ، مولانا اشرفی میاں کچوچوی ، مولانا تنویر ہاشمی اور دیگر علماء موجود تھے۔
طبیعت کی ناسازگی کی بناء پر مولانا سجاد نعمانی اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے جبکہ مولانا بدرالدین اجمل نے اپنا نمائندہ بھیجا۔
مستند ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں این آر سی ، این پی آر کے لئے کوئی دستاویزات داخل نہ کرنے کے فیصلے پر غور کیا گیا۔
مولانا ارشد مدنی نے مشورہ دیا کہ قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس اجلاس کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ مقامی مسلمان علما کو اجلاس سے دور رکھا گیا تھا۔ اس کی وجہ انہیں احتجاج سے دور رکھنا اور آئندہ کےلیے لائحہ عمل طئ کرنا ہے۔
بتایا گیا کہ این آر سی اور این پی آر کے عمل سے مسلمانوں کو دور رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نئی دہلی میں ایک اور اجلاس منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جس میں تمام مسلم گروہوں کے رہنماؤں کو مدعو کیا جائے گا۔
یہ مشق آئین کے تحفظ اور عام لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کی جارہی ہے۔

خدمت خلق ٹرسٹ کی جانب سے غرباء کے درمیان کمبل بانٹے گئے غرباء اورضرورت مندوں تک کمبل پہنچانا ہم سب کا فریضہ:مرزا تابش

خدمت خلق ٹرسٹ کی جانب سے غرباء کے درمیان کمبل بانٹے گئے

 غرباء اورضرورت مندوں تک کمبل پہنچانا ہم سب کا فریضہ:مرزا تابش

اعظم گڑھ,2 /جنوری 2020 آئی این اے نیوز
خدمت خلق  اعظم گڑھ*سرسال*کی جانب سے غرباء اور ضرورت مندوں کے درمیان کمبل تقسیم کیا گیا۔۔اس موقع پر خدمت خلق کے رکن مرزا تابش  نے عوام بالخصوص سماج کے خوشحالل طبقہ سے غرباء اور ضرورت مندوں تک کمبل پہنچانے کی اپیل کی ۔اس موقع پر مرزا تابش نے اپنے بیان میں کہا کہ اس شدید سردی میں سماج کے خوشحال طبقے کی ذمہ داری بنتی ہیکہ وہ اپنے آس پاس کے ضرورت مند لوگوں تک کمبل,لحاف اور گرم کپڑے بغیر پرچار کے پہنچا دیں۔انہوں نےکہا کہ شادی بیاہ,مشاعرہ اور ٹورنامنٹ میں فضول خرچی کرنے کے بجائے ہمیں پیسے کا صحیح استعمال کرتے ہوئے  غرباء اور ضرورت مندوں کی مدد میں پیسہ خرچ کرنا چاہئے۔مرزاتابش نے مزید کہا کہ خدمت خلق کے اس نیک کام میں عوام کو تعان دینے کی ضرورت ہےتاکہ خدمت خلق کے  ذمہ داران مزید لوگوں تک کمبل پہنچا سکیں۔خدمت خلق کے ذریعہ اس نیک کام کو انجام دینے پر الفلاح فرنٹ نے خدمت خلق کے ذمہ داران کو مبارکباد پیش کی ہے۔فرنٹ کے صدر ذاکر حسین نے کہا کہ خدمت خلق کی سماج کے دبے کچلے لوگوں کیلئے انجام دی گئ خدمات ناقابل فراموش ہے۔ہم خدمت خلق کے تمام ذمہ داران کو سماج میں بلا تفریق خدمت خلق کا کام کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ذاکر حسین نے مزید کہا کہ آج کے اس نفرت کے ماحول میں اس طرح کے نیک کاموں کو انجام دینے کی سخت ضرورت ہے۔واضح رہے کہ ضلع اعظم گڑھ کے موضع سرسال کے نوجوانوں نے مل کر خدمت خلق نام کی تنظیم بنائ ہے جو بلاتفریق سب کی مدد کرتی ہے۔نوجوانوں کے ذریعہ اس طرح کے کام کرنے پر اہل علاقہ میں چرچا ہو رہی ہے اور ہر کوئ ان نوجوانوں کے جذبے کی ستائش کر رہاہے۔اس موقع پر الفلاح فرنٹ کے صدر ذاکر حسین نے خدمت خلق ٹرسٹ کی ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائ ہے۔

الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے دیا استعفی

الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے دیا استعفی


الہ آباد:2/جنوری 2020 
کئی طرح کی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کر رہے الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر رتن لال ینگلو نے اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان پر لگے الزامات کی وجہ سے وہ 2016 سے نگرانی میں تھے۔ علاوہ ازیں ابھی بہت زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں جب قومی خواتین کمیشن نے انھیں کچھ شکایتوں کی وجہ سے طلب کیا تھا۔ خبروں کے مطابق یونیورسٹی میں ہونے والے جنسی استحصال کی شکایتوں کو وہ اچھی طرح نہیں نمٹانے تھے اور طالبات کی شکایتوں کے ازالہ کی طرف بھی توجہ نہیں دیتے تھے۔

Wednesday, 1 January 2020

صحافیوں کو در پیش چیلینجیز کو لیکراسمعیل باٹلی والا کی رہنمائ میں میٹنگ کا انعقاد منعقدہ میٹنگ میں سماجی کارکن جنت نبی کی شرکت

صحافیوں کو در پیش چیلینجیز کو لیکراسمعیل باٹلی والا کی رہنمائ میں  میٹنگ کا انعقاد

منعقدہ میٹنگ میں سماجی کارکن جنت نبی کی شرکت

ممبئ,یکم جنوری(نامہ نگار)معروف  سماجی کارکن اسمعیل باٹلی والا کی رہائش گاہ پر گزشتہ دنوں صحافیوں کے مسائل اور ان کے حل کو لیکر ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔منعقدہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے اسمعیل باٹلی والا نے کہا کہ صحافیوں کے درمیان آپس میں ایک دوسرے کے تعاون کیلئے تیار کرنا اور آپس میں متحد کام کرنے کیلئے ذہن ساذی کرنا ہمارامقصد ہے۔اس موقع پر جنت نبی ,اقبال لوکھنڈوالا,فاروق شاہ,مزمل خان ,عبد الغفار شاہ,فاروق شاہ سلیم شیخ,نعیم صدیقی کے علاوہ دیگر معزز افراد موجود تھے۔صحافیوں کے تعلق سے میٹنگ بلانے پر صحافی اور الفلاح فرنٹ صدر ذاکر حسین نے اسمعیل باٹلی والا,اقبال لوکھنڈوالا اورجنت نبی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ذاکر حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ اسمعیل باٹلی والا کی یہ کوشش صحافیوں کیلئے ایک بہتر مسقبل کا تحفہ پیش کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ اسمعیل باٹلی والا ,اقبال لوکھنڈوالا اور جنت نبی کا خاکسار بطور صحافی مشکور ہے۔واضح رہے کہ اسمعیل باٹلی والا ایک طویل مدت سے مسلم سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اسمعیل باٹلی کی اس مہم سے ڈاکٹر اسفر اور اقبال لوکھنڈوالا ,گل شیر احمد اور محمد واحدایک مدت سے جڑے ہیں جبکہ جنت نبی حال ہی میں مذکورہ مہم سے وابستہ ہوئیں ہیں۔

الفلاح فرنٹ کی کمبل تقسیم مہم کے تحت کمبل بانٹنے کا سلسلہ جاری غرباء اورضرورت مندوں تک کمبل پہنچانے کیلئے سماج کا خوشحال طبقہ آگے آئے:ذاکر حسین

الفلاح  فرنٹ کی کمبل تقسیم مہم کے تحت کمبل بانٹنے کا سلسلہ جاری

 غرباء اورضرورت مندوں تک کمبل پہنچانے کیلئے سماج کا خوشحال طبقہ آگے آئے:ذاکر حسین

اعظم گڑھ,01 جنوری 2020
الفلاح فرنٹ کی جانب سے کمبل تقسیم مہم کے تحت اعظم گڑھ کے مختلف گائوں میں کمبل تقسیم کئے گئے۔اس موقع پر الفلاح فرنٹ صدر ذاکر حسین نے عوام بالخصوص سماج کے خوشحالل طبقہ سے غرباء اور ضرورت مندوں تک کمبل پہنچانے کی اپیل کی ۔اس موقع پر ذاکر حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ اس شدید سردی میں سماج کے خوشحال طبقے کی ذمہ داری بنتی ہیکہ وہ اپنے آس پاس کے ضرورت مند لوگوں تک کمبل,لحاف اور گرم کپڑے بغیر پرچار کے پہنچا دیں۔انہوں نےکہا کہ شادی بیاہ,مشاعرہ اور ٹورنامنٹ میں فضول خرچی کرنے کے بجائے ہمیں پیسے کا صحیح استعمال کرتے ہوئے  غرباء اور ضرورت مندوں کی مدد میں پیسہ خرچ کرنا چاہئے۔ذاکر حسین نے مزید کہا کہ کبمل تقسیم مہم کا مقصد ہر ضرورت مند لوگوں تک سردی سے بچنے کیلئے سامان مہیا کیاجائے۔واضح رہے کہ الفلاح فرنٹ گزشتہ کئ برس سے سردی میں غرباء اور ضرورت مند لوگوں میں کمبل تقسیم کرتی رہی ہے۔ذاکر حسین نے کمبل مہم میں حکومت اور عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔انہوں نے اعظم گڑھ ڈی ایم,رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو ,شاہ عالم عرف گڈو جمالی ,نفیس احمد,عالم بدیع,فرینک اسلام ,سکھ دیو راج بھر ,سنگیتا آزاد,نیلم سونکر ,عادل شیخ,توقیر عرف اچھو ,ابوالقیس,آفتاب احمد عرف افتو,طاہر عرف منواور شاہد سنجری وغیرہ سے کمبل مہم سے تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔

ورق ورق ہے لہو لہو 🖊 ظفر امام


-----------------------------------------------------------
    سال ۲۰١۹ء کا آفتاب ٹھٹھرتی دسمبر کی اختتام پذیری کے ساتھ کہر آلود فضا میں روپوش ہوچکا ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ ۲۰۲۰ء کا سورج افقِ مشرق سے پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی روپہلی اور سنہری کرنوں کے جال بچھاتا ہوا باغِ ہستی پر نمودار ہو چکا ہے ، ہم اس نئے سال کی آمد کا نئے ولولے ، نئے جوش ، نئے جنون اور نئی امنگوں کے ساتھ پرتپاک استقبال کرتے ہیں ، اور اسے ایک کرب بھری طویل رات کے بعد صبحِ امید کے طلوع ہونے کا پیغامبرخیال کرتے ہیں ، خدا کرے کہ ہماری یہ توقعات درست ثابت ہوں؛
         یوں تو میرے کاروانِ حیات نے اب تک ۲٥/ منزلوں کو طے کرڈالا ہے ، لیکن! ان منازل میں سب سے کٹھن ، طویل ، جاں گسل ، کربناک ، اور صبر آزما منزل یہی ۲۰١۹ء ثابت ہوئی ، جس کا ایک ایک دن جہاں کتابِ زندگی پر درد کے نئے نئے عنوان درج کیا ہے تو وہیں اس کی ایک ایک طویل رات حیاتِ مستعار کے ایک ایک ورق کو کرب و محن سے لہو لہو کردیا ہے ، جہاں اگر ایک طرف غیروں کی دشمنیوں نے لوحِ دل پر سنگ باری کرکے اس کو چھلنی چھلنی کیا ہے تو وہیں دوسری طرف اپنوں کی ہرجائیوں نے مایوسیوں کی ردا اوڑھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے؛
      سال ۲۰١۹ء کے پورے سال دشمنانِ اسلام نے اسلامیانِ ہند کے مذہبی تقدس کو پامال کرنے اور ان کی ملی و دینی شناخت کو خاکستر کرڈالنے کے لئے پوری ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیا ، اور ہندوستان میں مذہبِ اسلام اور اس کے پیروکاروں کو نابود کرنے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے ، پہلے مذہبِ اسلام کے مذہبی دستور ‘‘ طلاقِ ثلاثہ ‘‘ پر بےجا دخل اندازی کرکے اس کو دفتیوں اور اوراق کی حد تک محدود کرنے کی ناپاک سازش رچی گئی ، اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے ، یہ سانحہ ایک ایسا روح فرسا اور درد انگیز سانحہ تھا کہ جس سے پوری ملتِ اسلامیہ لرز اٹھی تھی ، ابھی اس کا غم ہلکا بھی نہ ہوا تھا ، اور دل کی بےقراریوں کو قرار بھی نہ ملا تھا کہ برسوں کی یادگار اور مسلمانوں کے پرشکوہ عہدِ رفتہ کی آئینہ دار ‘‘ بابری مسجد ‘‘ کو ان ظالموں نے مسلمانوں سے چھین کر ظلم و ستم کی انتہا کردی ، بابری مسجد کا مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل جانا کہ جس کی ایک ایک اینٹ مسلمانوں کی جلالتِ شان کی داستان سناتی ہے ، اور جس کے منبر و محراب سے مسلمانوں کے استحقاق کی ندائیں سنائی دیتی ہیں ، کوئی معمولی بات نہ تھی ، ایک ادنی درجہ کا مومن بھی اس کو سہار نہ سکا تھا ، پرسکون دل کے نہا خانوں میں غم و غصہ کی ملی جلی کیفیت نے طوفان بپا کردیا تھا اور بےساختہ ہرایک کی آنکھیں نم ہوگئیں تھیں، پھر ابھی اشکوں کی دھاریاں مسلمانوں کے چہرے کی سلوٹوں پر محوِ رقصاں ہی تھیں کہ اس بیچ ملک و قوم کے یہ نمک حرام اسلام دشمن عفریت ایک ایسے ناپاک منصوبے کو لیکر اٹھ کھڑا ہوا جس نے مسلمانوں کے ساتھ انصاف پسند باعزت شہری کے دلوں میں بھی کہرام مچادیا ، مرد تو مرد ہماری پردہ نشیں ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو حجاب کی چلمن کو توڑ کر روڈوں اور سڑکوں پر اترنے کو مجبور کردیا اور یہ وہ ناپاک منصوبہ ہے جس کے تحت مسلمانوں کا عرصۂ حیات ہندوستان میں اپنی کشادگی کے باوجود تنگ ہوکر رہ جائےگا ، جسے ہم سی ، اے ، اے اور این ، آر ، سی کے نام سے جانتے ہیں ؛
          آج این ، آر ، سی اور سی ، اے ، اے کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے ، ملک و قوم کے بہادر شاہین بزدل کُرگس کے آشیانوں کو نوچنے کے لئے صف بستہ تیار کھڑے ہیں ، ہر جگہ سے بس ایک ہی نعرہ گونجتا سنائی دیتا ہے ‘‘ انقلاب ، انقلاب صرف انقلاب ‘‘ ہر ایک کی زبان " ہے جان سے پیاری آزادی ، ہم لیکے رہینگے آزادی " جیسے ولولہ انگیز زموموں اور مدھر و دلنواز ترانوں سے لبریز ہیں ،  ہماری وہ مائیں جن کی عمروں کا تقاضہ یہ ہیکہ وہ اپنے گھروں میں بیٹھی رہیں ، آج اپنے دلوں میں انقلاب کی امید افزا شمع جلائے سردی کی یخ بستہ راتوں میں سڑکوں اور روڈوں کے کناروں پر اپنی نیندیں قربان کرنے میں لگی ہیں ، ہماری وہ دوشیزہ بہنیں جن کے نرم و نازک ہاتھ پھولوں کی سیج سے کھیلنے لئے بنے ہیں آج وہ پوری دیدہ دلیری اور جرأت و بہادری کے ساتھ پرچمِ ہند کو اپنے ہاتھوں سے تھامے انقلاب کے محاذ سنبھالی ہوئی ہیں، ہمارے وہ نوجوان بھائی جن کی زندگیاں عمر کے اس پڑاؤ پر کھڑی ہیں جہاں سے ان کے مستقبل کی کامیابی و کامرانی کی راہیں وا ہوئیں ان کے انتظار میں کھڑی ہیں ، آج وہ سب کچھ تیاگ کر آزادی کی کمان کو پوری قوت و طاقت کے ساتھ تھامے ہوئے ہیں ، اور ہمارے وہ نونہال جن کی عمریں گڑیوں سے بازی لڑانے کی ہیں ، آزادی کے پرچم کو جبینوں سے لگائے بڑوں کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں ، اور ان سب کا واحد مقصد فقط یہ ہیکہ ملک سے ناانصافی اور ظلم و ستم کا خاتمہ ہو ، وحشت و بربریت کا یکسر قلع قمع ہو ، بددیانتی اور خیانت کی تاریک گھٹاؤں کی جگہ امانت و دیانت کے مینارۂ نور نصب ہوں ، عدل و انصاف کے چشمے وطنِ عزیز کے ہر گوشے میں پھوٹ نکلیں ،  مساوات و رواداری کی میزان قائم ہو اور اخوت و بھائی چارگی کی ایک ایسی عظیم اور نمونۂ عمل مثال قائم ہو جو سرزمینِ ہند سے اٹھ کر اطرافِ عالم میں پھیل جائے!
              لیکن! افسوس صد افسوس کہ عدل و انصاف کی آواز اٹھانے والوں اور وحشت و بربریت کی دیواروں کو مسمار کرکے مساوات و برابری کی بنیاد ڈالنے والے شاہین صفت عازموں  پر نام نہاد گدی نشینوں ، اقتدار کی کرسی پر براجمان فرماں رواؤں سنگین برداروں اور وردی پوشوں نے ظلم و بربریت اور قہر و غضب کی انتہا کردی ، ان پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے ، لاٹھیوں اور ڈنڈوں کے ذریعے انہیں اپنے خون آشام ہاتھوں کا تختۂ مشق بنایا ، حتی کہ مجبور و مقہور اور نہتھے لوگوں کے خون کے دھاروں سے سزمینِ ہند لالہ زار ہوگئی ، ان درندہ صفت انسانوں نے معصوم اور بےگناہ لوگوں پر اپنی بندوق کے دہانوں کو بےپروائی کے ساتھ کھول دیا ، جس سے نہ جانے کتنے معصوموں کی جانیں چلی گئی؛
      آہ! کتنی درد بھری لمبی تھی وہ رات جب جامعہ ملیہ اور علیگڈھ کے کیمپس میں گھس کر بھگوا دھاری پولیس والوں نے مستقبل کے نونہالوں اور قوم و ملک کے جیالوں پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی ، ان کے خون کشید کر اپنی ہولی منائی تھی ، پردہ نشیں بہنوں کی کلائیاں مروڑی گئیں تھیں ، ان کو ڈرایا اور دھمکایا گیا تھا اور ان کے تنِ نازک کے ساتھ زد و کوب کی گئی تھی ، اور آہ! کتنے طویل اور خوفناک ہیں وہ ایام جن میں یوپی پولیس والوں نے یوپی کے باشندوں کے گھروں میں گھس کر ظلم و بربریت کی انتہا کردی ہے ، وہ پولیس والے جو ملک و قوم کی حفاظت اور پاسبانی کے لئے حلف برداری کرتے ہیں آج ان کا حال یہ ہیکہ وہ ان کی حفاظت تو کجا کرتے ان کی جانوں کے درپے پڑے ہوئے ہیں اور اب تک نہ جانے کتنی ماؤں کی آغوش کو ویران کردیا ، کتنے باپوں کے ارمانوں کو خاک میں ملادیا اور کتنی بہنوں کے خوابوں کو تشنۂ تعبیر کا عنوان دے دیا ، اور بڑی سرعت کے ساتھ تاہنوز یہ کام جاری ہے؛
        لیکن! یہ ظلم اب زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے ، مظلوموں کی آہ برق رفتاری کے ساتھ عرشِ الہی کے پایوں کو جھنجھوڑ ڈالتی ہے ، تاریخ گواہ ہے کہ ظلم جب حد سے تجاوز کرتا ہے تو پھر قدرت اپنے ہاتھوں سے ظالموں کو قصۂ عبرت بنا ڈالتی ہے ، ظالموں کے دن گنے جاچکے ہیں ، اب پورا ملک بیدار ہوچکا ہے ، آزادی کے متوالے و ملنگ پروانہ وار شمعِ آزادی پر جست لگا کر دادِ شجاعت پیش کر رہے ہیں ، ان کے دماغ میں بس آزادی کے ترانے اور لبوں پر انقلاب کے نغمے مچل رہے ہیں ، اب نہ ان کو دار و رسن کا خوف ہے اور نہ ہی زنداں کی دیوار کا ڈر ، وہ تاریکیوں کی گھٹاؤں میں یقین و اذعان کی قندیلیں روشن کر کے اس امید کے ساتھ قدم بڑھاتے چلے جاتے ہیں کہ غم کی رات خواہ کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو ، وہ فقط رات ہی ہوتی ہے ، کبھی نہ کبھی ظلمتِ شب چھٹےگی اور پھر نور کا تڑکا ہوگا ، جہاں دور دور تک چمن میں ایسے اجالے اور روشنی کا دور دورہ ہوگا ، جن کی تابناکی میں اپنی منازل و اہداف کے متلاشی کو بآسانی منزلِ مقصود تک رسائی حاصل ہوگی ، اور پھر ان تھکے ہارے مسافرین کے کاروان کو زاغ و زغن کی دخل اندازی سے بے پروا ہو کر سکون و اطمینان کے ساتھ روز و شب کی جھلملاتی چھاؤں میں آزادی کی سانسیں لینا نصیب ہوگا ان شاء اللہ

                              ظفر امام ، کھجورباڑی
                             ٹیڑھاگاچھ ، کشن گنج


     

شہید حنظلہ کے قاتلوں کو سخت سزا دی جائے، گھر کے کسی ایک فرد کو سرکاری ملازمت کا مطالبہ نوجوانوں کے وفد کی شہید امیر حنظلہ کے والد سہیل احمد سے ملاقات

شہید حنظلہ کے قاتلوں کو سخت سزا دی جائے، گھر کے کسی ایک فرد کو سرکاری ملازمت کا مطالبہ
نوجوانوں کے وفد کی شہید امیر حنظلہ کے والد سہیل احمد سے ملاقات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پٹنہ (شیث احمد)01 جنوری 2020
شہید امیر حنظلہ معصوم اور بے قصور تھا۔ اس کی شرافت کی گواہی محلے کے سبھی ہندو مسلمان دے سکتے ہیں۔ وہ ہر وقت دوسری کی خدمت کے لیے پیش پیش رہتا تھا۔ اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ 21 دسمبر کے بہار بند کو وہ گھر سے باہر نکل گیا اور پھر واپس نہیں آ سکا۔ حنظلہ کے انتظار میں ہم نے نو روز جس بے قراری سے گزارے ہیں اسے آپ کے سامنے بیان نہیں کر سکتا۔ 30 دسمبر کی رات کو پولیس نے ہمیں تھانے بلایا اور جب حنظلہ کی لاش ہمارے حوالے کی تو کلیجہ منھ کو آگیا۔ اللہ ایسی آزمائش سے کسی کو نہ گزارے۔ حنظلہ کی لاش کا پتہ چلنے کے بعد لوگوں میں زبردست اشتعال اور غم و غصہ تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ اس عالم میں بھی میرا ہوش و حواس کام کررہا تھا۔ میں نے خود ہی لوگوں سے صبر و ضبط سے کام لینے کی اپیل کی اور کسی بھی قسم کی انتقامی کاروائی سے بچتے رہنے کی گزارش کرتا رہا۔ یہ باتیں پھلواری شریف میں شرپسندوں کے ظلم کا شکار ہوئے شہید حنظلہ کے والد سہیل احمد نے نوجوانوں کے ایک وفد سے کہیں۔ وفد میں ماڈرن ویلفیئر اکیڈمی کے ڈائرکٹر محمد مکرم حسین ندوی، کامران غنی صبا، آصف حیات، سلمان غنی، خرم ملک، تابش نقی،سیماب اختر، صفوان غنی، انصار بلخی، مبشر حیات خان، شہریار یحییٰ ، رمان غنی اور پٹنہ یونیوسٹی کے کچھ طلبہ شامل تھے۔ سہیل احمد ،امیر حنظلہ کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کئی بار آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا ہے لیکن ایسے دردناک حادثات دوبارا نہ ہوں اس کے لیے ضروری ہے کہ قاتلوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ سہیل احمد نے بتایا کہ وہ بے روز گار ہیں۔ حنظلہ نے میٹرک کے امتحان کے بعد معاشی مسئلے کی وجہ سے پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ دی تھی اور وہ بیگ کا کام کرنے لگا تھا۔ گھر کے اخراجات کسی طرح چل رہے تھے۔ حنظلہ کی شہادت کے بعد امید کا ایک ٹمٹماتا ہوا دیا بھی بجھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ حنظلہ کے حادثے نے انہیں توڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ خود کو اس قابل نہیں پا رہے ہیں کہ گھر سے باہر نکل کر کچھ کر سکیں۔ سہیل احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے گھر کے کسی فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے اور انہیں مکمل انصاف بھی ملے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے پولیس انتظامیہ کے کردار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان کے ساتھ بھرپور ہمدردی کا مظاہرہ کیا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ اب تک آپ کے پاس سیاسی اور ملی تنظیموں کے کتنے نمائندگان تعزیت کے لیے آئے سہیل اختر نے بتایا کہ سیاسی رہنمائوں میں صرف ادئے نارائن چودھری اور ملی رہنمائوں میں امارت شرعیہ سے چند افراد اور جماعت اسلامی سے کچھ لوگ تعزیت کے لیے آئے تھے۔ حکمراں پارٹی یا حزب مخالف کا کوئی سیاسی رہنما حتی کہ کوئی مسلم سیاسی رہنما بھی اب تک ان کو دلاسہ دینے نہیں آیا ہے۔ سہیل احمد نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کی شہادت سے غم زدہ ضرور ہوں لیکن مجھے اس بات کا یقین ہے کہ میرے بیٹے کی شہادت رائگاں نہیں جائے گی۔ بہار اور ہندوستان کا ہر امن پسند شہری بلا تفریق مذہب و ملت میرے ساتھ کھڑا ہے۔ غم و اندوہ کی اس گھڑی میں جو لوگ بھی ہمارے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کر رہے ہیں ہم ان کے شکرگزار اور ان کے لیے دعا گو ہیں۔

بابری مسجد کا ملبہ کس کا ہے اور کسے مل سکتا ہے؟

بابری مسجد کا ملبہ کس کا ہے اور کسے مل سکتا ہے؟

ستائیس برس قبل چھ دسبمر سن 1992ء کو ہندو شدت پسندوں نے مغل بادشاہ بابر کے ایک جنرل میر باقی کی تعمیر کردہ تقریبا ساڑھے چار سو برس قدیم تاریخی بابری مسجد کو دن دہاڑے منہدم کر دیا تھا۔ مسلمانوں نے اس مسجد کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایک طویل عدالتی جد و جہد کی تاہم گزشتہ ماہ نو تاریخ کو سپریم کورٹ نے اس پر اپنا فیصلہ سنایا اور بابری مسجد کے انہدام کو پوری طرح غیر قانونی بتا کر بھی اراضی کی ملکیت اُسی ہندو فریق کو سونپ دی، جو مسجد کی مسماری کی ذمہ دار تھا۔
مسلم فریق نے اس فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جسے سماعت کے بغیر ہی عدالت نے مسترد کر دیا۔ اب رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہونے والا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس کا ملبہ یا مسجد کی باقیات پر کس کا حق ہے اور اسے کس کے حوالے کیا جائے؟
بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے اس معاملے پر 25 دسمبر کو ایک اجلاس طلب کیا تھا، جس میں فیصلہ کیا گيا کہ اس پر مسلمانوں کو اپنا دعوی پیش کرنا چاہیے۔ کمیٹی کے رکن اور مسجد کے وکیل ظفر یاب جیلانی کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کے ملبے کو ادھر ادھر نہیں پھینکا جا سکتا۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس سلسلے میں ہماری ایک میٹنگ ہوئی تھی اور علماء سے مشورہ کیا گيا۔ مسجد کی باقیات کو ادھر ادھر نہیں رکھا جا سکتا۔ اس سے مسلمانوں کو ٹھیس پہنچےگی۔ چونکہ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں کوئی ہدایت نہیں کی، اس لیے ہم اس کے لیے ایک عرضی داخل کریں گے۔ بابری مسجد کا ملبہ عزت و احترام کے ساتھ حاصل کیا جائےگا۔‘‘
مسلم پرسنل بورڈ کے سرکردہ رکن اور ترجمان قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ مسجد کے ملبے پر مسلمانوں کا حق ہے اور یہ طے کرنے کے بعد کہ مناسب جگہ ہائی کورٹ میں یا پھر سپریم کورٹ، درخواست دائر کی جائے گی۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں انہوں نےکہا، ’’چونکہ عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ بابری مسجد کا انہدام قابل سزا جرم تھا لہذا زمین نہیں ملی تو ملبہ تو ہم کو ملنا چاہیے۔ ملبہ ہمارا ہے اور ہم اسے حاصل کریں گے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں قاسم رسول الیاس نے کہا کہ ابھی یہ طے نہیں کیا گیا ہے کہ اس ملبے کا کیا کیا جائے گا تاہم اس سے بہت سے کام لیے جا سکتے ہیں، ’’ملبے سے بابری مسجد کی یاد میں ایک اور مسجد تعمیر کی جا سکتی ہے۔ اس کو بطور یادگار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہماری نسلوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری مسجد جبراﹰ ہم سے چھین لی گئی تھی۔‘‘
ہندو فریق کی جانب سے مسجد کے ملبے کے تعلق سے اب تک کوئی مخالف بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم مسجد کی جگہ سے متصل ہی ایک اکھاڑے کے مہنت ترلوکی ناتھ پانڈے نے اس معاملے میں مسلمانوں کی حمایت کی ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ میں ان سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ ملبہ مسلمانوں کا ہے، اس لیے وہ اس کے حق دار ہیں اور اسے انہیں دینے سے بھائی چارے میں اضافہ ہو گا۔آل انڈيا ملی کونسل کے جنرل سیکریٹری، جو اس مقدمے کے ایک اہم فریق تھے، کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بابری مسجد کی عمارت مسلمانوں کی تھی، اس حیثیت سے اس کے ملبے پر انہی کا حق ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اسے ملبہ نہیں بلکہ مسجد کی باقیات کہنا بہتر ہو گا۔ اس پر مسلمانوں کا حق ہے اور ہم اسے حاصل کریں گے۔ اس کا کیا کریں گے یہ تو بعد کی بات ہے۔‘‘