اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 3 February 2020

جمعیت یوتھ کلب کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا کھیل مقابلہ پروگرام شرکاء کو انعامات سے نوازا گیا رپورٹ:- محمد دلشاد قاسمی پلڑہ/باغپت(٣/فروری٢٠٢٠ آئی این اے نیوز)

جمعیت یوتھ کلب کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا کھیل مقابلہ پروگرام
شرکاء کو انعامات سے نوازا گیا
رپورٹ:- محمد دلشاد قاسمی
پلڑہ/باغپت(٣/فروری٢٠٢٠ آئی این اے نیوز)
تحصیل بڑوت کے موضع پلڑہ کے اندر جمعیت یوتھ کلب کے زیر اہتمام اسکاوٹ اور روورس کے درمیان کھیل مقابلہ منعقد کیا گیا جس میں دوڑ مقابلہ،کبڑی مقابلہ ،اور کشتی مقابلہ ،کا انعقاد کیا گیا ،اچھی کارکردگی پیش کرنے والے اسکاوٹ اور روورس کو گراں قدر انعامات سے بھی نوازا،
اس موقع پر تشریف لائے جمعیت علماء تحصیل بڑوت کے صدر قاری محمد صابر صاحب نے کہا کہ اس طرح کے مقابلوں سے نوجوان نسل کو کچھ کر گزرنے کا حوصلہ ملتا ہے،اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب انسان اپنے اٰپ کو ورزش کا عادی بنالیتا ہے تو وہ مضبوط اور قوی باہمت انسان بنتا ہے ،جس کی بدولت وہ خود کی بھی خدا کی بھی اور قوم و ملت بھی خدمت کرسکتا ہے ،ورنہ تو وہ خود ہی دوسروں کا محتاج رہتا ہے، اس پروگرام کی صدارت فرمارہے جمعیت یوتھ کلب ضلع باغپت کے کنوینر جناب حضرت مولانا محمد خالد صاحب نے کہا کہ جمعیت یوتھ کلب کو قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نوجوان نسل جو اٰج نشہ جوا اور طرح طرح کی معاشرتی خرابیوں کا شکار ہورہے ہیں اس سے وہ کیسے باز اٰجائیں،اور اپنے دل میں قوم و ملت کی مدد و خدمت انسانیت کے ناطے کس طرح انجام دے سکیں، رنگ و نسل ذات برادری کنبہ و قبیلہ ومذہب کی بنیاد پر نہیں صرف انسانیت کے ناطے انسانوں کی خدمت کرنے والا کیسے بن جائے،ورنہ اٰج غیر قومی ہمارے نوجوان نسل کو بہکانے کے لیے ہر ممکن کوشش میں لگی ہوئی ہے اور جو کرسکتی ہے وہ کرنے میں کوئی بھی شمہ نہیں چھوڑ رہی ہے اس لیے ہم سب اپنی نوجوان نسل کو اسکاوٹ اور جمعیت یوتھ کلب سے جوڑ کر چلیں،
اس موقع پر مولانا محمد عابد،ماسٹر محمد دانش،اور گاوں کے بڑی تعداد میں معزز افراد موجود رہے

راجیہ سبھا میں ’سی اے اے-این آر سی‘ پر ہنگامہ، کارروائی منگل تک کے لیے ملتوی غلام نبی آزاد،آنند شرما،ستیش چندر مشرا،ڈیرک اوبرائن اور کے راگیش وغیرہ رہنماؤں نے راجیہ سبھا میں سی اے اے-این آر سی پر بحث کرانے کا نوٹس دیا تھا جسے چیئرمین ونکیا نائیڈو نے نامنظور کر دیا۔

راجیہ سبھا میں ’سی اے اے-این آر سی‘ پر ہنگامہ، کارروائی منگل تک کے لیے ملتوی

غلام نبی آزاد،آنند شرما،ستیش چندر مشرا،ڈیرک اوبرائن اور کے راگیش وغیرہ رہنماؤں نے راجیہ سبھا میں سی اے اے-این آر سی پر بحث کرانے کا نوٹس دیا تھا جسے چیئرمین ونکیا نائیڈو نے نامنظور کر دیا۔


نئی دہلی:راجیہ سبھا میں چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)اور قومی شہریت رجسٹر(این آئی سی )کے مسئلے پر آج راجیہ سبھا میں اصول نمبر 267کے تحت بحث کرانے کے اپوزیشن کے مطالبے کو ٹھکرا دیا اور ایوان کی کارروائی 12بجے تک کےلئے ملتوی کردی۔ 12 بجے جب دوبارہ کارروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن پارٹی اراکین نے ایک بار پھر ہنگامہ شروع کر دیا۔ بعد ازاں راجیہ سبھا کی کارروائی 3 بجے تک کے لئے پھرمنگل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
آج صبح جب راجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہوئی تو قانونی دستاویز ایوان کے میز پر رکھے جانے کے بعد ونکیا نائیڈو نے کہا کہ انہیں قانونی کام کاج روک کر سی اے اے اور این آر سی کے مسئلوں پر اصول نمبر 267کےتحت بحث کرانے کے نوٹس ملے ہیں۔یہ نوٹس غلام نبی آزاد،آنند شرما،ستیش چندر مشرا،ڈیرک اوبرائن اور کےکے راگیش وغیرہ رہنماؤں نے دیئےہیں۔اس کے علاوہ سبرمنیم سوامی اور آر کے سنہا نے بھی انہی مسئلوں پر توجہ مرکوز کرنے کی تجویز کا نوٹس دیا ہے۔
ونکیا نائیڈو نے کہاکہ انہوں نے سبھی نوٹس پر غور کرنے کے بعد انہیں نامنظور کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ان مسئلوں پر الگ سے بحث کرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اراکین صدرجمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تجویز میں بحث کے دوران اپنی پارٹی کا نظریہ اور اپنے ان مسئلوں کو رکھ سکتے ہیں۔خطاب میں ان مسئلوں کا ذکر ہے اور اراکین اس وقت اپنی تشویش بھی ظاہر کرسکتے ہیں۔
ستیش چندر مشرا نے راجیہ سبھا چیئرمین کے اس قدم پر اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے کچھ کہنا چاہا۔اسی دوران برائن اور کانگریس کے کچھ لیڈر بھی اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔یہ دیکھ کر ونکیا نائیڈو نے کہا کہ انہوں نے اس مسئلے پرسہولت دےدی ہے اور بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں بھی بات ہوئی تھی کہ شکریہ کی تجویز میں رکن اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔اپوزیشن اراکین کے اپنی جگہوں پر کھڑے ہوتے ہی چیئرمین نے ایوان کی کارروائی 12بجے تک کےلئے ملتوی کردی۔ اس سے قبل ونکیا نائیڈو نے کہا کہ شکریہ کی تجویز اور بجٹ پر بحث کےلئے 12-12گھنٹے کا وقت مقرر کیاگیاہے

ماؤں بہنوں کاصبرواستقامت ضرور رنگ لائے گا: مفتی محمد زکریا الہ آبادی، الہ آباد میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف منصور علی پارک میں خواتین کے مظاہرہ سے مفتی زکریا کاخطاب،

ماؤں بہنوں کاصبرواستقامت ضرور رنگ لائے گا: مفتی محمد زکریا الہ آبادی،


الہ آباد میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف منصور علی پارک میں  خواتین کے مظاہرہ سے مفتی زکریا کاخطاب،

فروری 2019 ،نعمان بن ثابت قاسمی، الہ آباد آئی این اے نیوز

شہریت ترمیمی بل کے خلاف پورے ملک میں احتجاج زوروشورسے جاری ہے، الہ آباد کے منصورعلی پارک میں بھی خواتین گذشتہ کئی روز سے شاہین باغ کے طرز احتجاج کراس قانون کے خلاف اپنے غم وغصہ کااظہار کررہی ہیں،کل منصور علی پارک میں علماءکرام کاایک وفد منصورعلی پارک پہنچا،اس موقع پر الہ آبادضلع کے معروف عالم دین مفتی محمد زکریا نے کہا کہ ہم ماؤں بہنوں کے جذبوں کوسلام کرتے ہیں، آپ کاصبرواستقامت ضروررنگ لائے گا،انہوں نے کہا، خواتین کاجذبہ یقینا قابل تعریف ہے،کنزالعلوم داراگنج کے صدر مفتی مفتی اسدمظاہری  نے کہا، وطن عزیز بڑی قربانیوں کے بعد غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوا، انہوں نے کہا، امام ربانی مولانارشیداحمد گنگوہی رحمہ اللہ جیسے صف اول کے کبار علماء کو ملک کی آزادی کے لئے چھ مہینہ جیل کی صعوبت برداشت کرنی پڑی، انہوں نے کہا، ہمارے ملک کادستورسیکولر ہے، تمام مذاہب کے لوگوں کو یکساں حقوق بلاتفریق مذہب فراہم کرتاہے،اس لئے کسی ایسے قانون کانفاذ جس میں کسی خاص مذہب کونظر انداز کیاگیاہوبھارت کے آئین کے روح کے مخالف ہے،آئین کی خلاف ورزی ہے، جمعیت علماء پرتاپگڑھ کے جنرل سکریٹری مولانا عبداللہ کل ایک وفد کے ساتھ منصور پارک پہنچے اور احتجاجی مظاہرین کو خطاب کیا، نوجوان لیڈر سیف انصاری نے کہا، بھارت کے آئین کی تحفظ ہندوستان کے شہری کی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا، قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں،

شاہین باغ کا احتجاج بغاوت نہیں بلکہ ملک سے وفاداری کا ثبوت ہے ! ******************* تحریر :جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین)

شاہین باغ کا احتجاج بغاوت نہیں بلکہ ملک سے وفاداری کا ثبوت ہے !
                              *******************
تحریر :جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین)
شاہین باغ میں ہونے والا احتجاج لاجواب اور لامثال ہوگیا پورے ملک کی توجہ کا مرکز بن گیا سیاسی، سماجی، دینی تقاریر کا ایک حصہ بن گیا ملک کی عوام کے دل و دماغ میں چھا گیا اور کیوں نہ ہو ایسا شاہین باغ میں احتجاج کر رہی خواتین نے اپنے آپ کو حب الوطنی کے سانچے میں ڈھال رکھا ہے ذات برادری اور مذاہب کے بھید بھاؤ کو بالائے طاق رکھا ہے یعنی کسی کو بھی اپنے مذہبی طور طریقوں اور رسم و رواج کے مطابق عبادت کرنے سے روکا نہیں گیا ہے دہلی کے شاہین باغ اور جامعہ کے احتجاج میں نمازیں بھی ادا کی جارہی ہیں، پوجا پاٹ بھی کیا جارہا ہے بائیبل اور قرآن، گیتا اور رامائن بھی پڑھا جاچکا ہے گرونانک کا تذکرہ بھی کیا جاچکا ہے کیونکہ اس احتجاج میں ہر مذہب، ہر ذات، ہر مسلک کے لوگ شامل ہیں اور دستور ہند نے ملک میں مذہبی بنیادوں پر کوئی تفریق نہیں برتی ہے بلکہ سبھی مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے مذہبی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیا ہے شاہین باغ کا احتجاج تاریخ ساز ہوگیا ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی کا جم غفیر ہوگیا اور یہ منظر پچاس دن سے بھی تجاوز کرگیا موجودہ حکومت کو یہ گمان بھی نہیں رہا ہوگا کہ اتنا مضبوط اور اتنا زبردست احتجاج ہوگا اس احتجاج میں مختلف مراحل پیش آئے ہیں سب سے خاص بات یہ ہے کہ جمہوریت اور آئین کو بچانے کیلئے یہ احتجاج کیا جارہا ہے اور احتجاج کے دوران وہ تاریخ بھی آئی کہ جس تاریخ میں ملک کا آئین نافذ کیا گیا ہے یعنی 26 جنوری یوم جمہوریہ بھی آیا اور اسی جامعہ اور شاہین باغ میں شاندار طریقے سے پورے جوش و خروش اور تزک و احتشام کے ساتھ پرچم کشائی بھی ہوئی ترنگا لہرایا گیا اور سلامی دی گئی مجاہدین جنگ آزادی کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا انکی قربانیوں کا ذکر بھی کیا گیا وہاں ملک کا نقشہ بھی لگایا گیا قومی ترانہ بھی پڑھا گیا ملک کو مضبوط کرنے اور دستور ہند کو بچانے اور ملک میں بھائی چارے کے فروغ کیلئے عہد کیا گیا ملک کے آئین کو باوقار و عظیم الشان قرار دیا گیا اب اس کے باوجود بھی کوئی شاہین باغ کے احتجاج کو بغاوت سے تعبیر کرے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اسے خود ملک کے آئین پر اعتماد نہیں ہے، اسے جمہوریت پر یقین نہیں ہے یاکہ اسے جمہوری نظام پسند نہیں ہے ہم تو مانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے مضبوط جمہوریت ہندوستان ہے، سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان ہے اور جو اسے نہ مانے وہ فرقہ پرست ہے وہ گاندھی جی کے نظریات کا دشمن ہے ورنہ شاہین باغ کے احتجاج میں جشن جمہوریہ بھی منایا گیا مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا آزاد، اشفاق اللہ خان، بھگت سنگھ، سردار پٹیل کا فوٹو بھی لگایا گیا اور ساتھ ہی ساتھ ملک کا دستور (سمویدھان) بھی پڑھا گیا پھر کوئی کہے کہ شاہین باغ کے احتجاج سے بغاوت کی بو ارہی ہے تو اس کا مطلب کہ احتجاج کر رہے لوگوں نے جو یہ سب کیا وہ سب اس تعصب پسند کی نظر میں غلط ہے اور اگر غلط ہے تو پھر وہ خود ملک کا باغی ہے اپنی کالی کرتوت پر پردہ ڈالنے کیلئے شاہین باغ میں احتجاج کرنے والوں پر الزام لگا کر سستی شہرت حاصل کرنا چاہ رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاہین باغ کا احتجاج ظلم و ناانصافی اور تاناشاہی کے خلاف حق کی آواز ہے آئین کی بالادستی قائم رکھنے کا پیغام ہے اور حکومت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کا عزم ہے ملک و ملت کی فلاح و بقا کی تحریک ہے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا منظر ہے قومی اتحاد اور قومی یکجہتی کا فروغ ہے، یہی اصل سماجواد ہے یہی ملک سے وفاداری ہے اور یہی حب الوطنی ہے کہ جب بھی کوئی ملک کو توڑنے کی کوشش کرے یا ملک کی شبیہ کو بگاڑنے کی کوشش کرے تو فولاد بن کر سامنے کھڑے ہوجاؤ اور آج وہی ہوا ہے ملک کے حکمران پی ایم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے تاناشاہی کا راستہ اختیار کرلیا ملک کی اصل تصویر کو مسخ کرنے کی کوشش کی اور ملک کے دستور کے خلاف قوانین بنائے اور نافذ کرنے لگے مذہب کی بنیاد پر ملک کی عوام کے درمیان نفرت کی دیوار تعمیر کرنے لگے یعنی مذہبی بنیادوں پر شہریت قانون بنانے لگے تو اس اس ملک کے باشعور اور انصاف پسند لوگوں نے عزم مصمم کے ساتھ شیشہ پلائی دیوار اور چٹان بن کر کھڑے ہوگئے کہ ہم اپنے ملک کی خوبصورتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور ساتھ ہی ملک کی خواتین نے بھی مورچہ تھام لیا اور ڈھال بن کر کھڑی ہوگئیں اور یہ اعلان کرنے لگیں کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں کل آزادی کی لڑائی میں حصہ لیا تھا اور آج آزادی کو بچانے کی لڑائی میں حصہ لیں گی اب کچھ ایسے لوگ جنہیں اپنے عہدے کے وقار کی بھی فکر نہیں ہے ایک طرف بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ بھی دیتے ہیں اور دوسری طرف آج انہیں بیٹیوں کے بارے میں نازیبا کلمات بھ ادا کررہے ہیں مگر شاہین باغ کے احتجاج میں اتنی سچائی ہے کہ اب دھیرے دھیرے پورا ملک شاہین باغ بنتا جا رہا ہے اب اس احتجاج کو توڑنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے، اس میں تفریق پیدا کرنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے ساتھ ہی ساتھ فرقہ پرست سماج دشمن عناصر اسلحوں کے ذریعے دہشت پھیلانے کی کوشش بھی کررہے ہیں لیکن احتجاج کر رہے لوگوں کی ہمت جرأت حوصلوں کو سلام اور حوا کی بیٹیوں کو ہزاروں سلام جو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اصل مقاصد کی راہ پر گامزن ہیں شرپسندوں کی یہ پوری کوشش ہے کہ احتجاجی کسی طرح مشتعل ہوجائیں اور احتجاج فسادات کی سازش کا شکار ہو جائے لیکن اب تک وہ ناکام ہیں جامعہ کے علاقے میں گولی چلائی گئی ایک طلبہ زخمی بھی ہوا لیکن صبر کا دامن تھامے رکھا، شاہین باغ میں فائرنگ ہوئی لیکن خواتین نے بھی صبر کا دامن تھامے رکھا اگر حکومت جھکنے کو تیار نہیں ہے تو مظاہرین و احتجاجی بھی ٹس سے مس ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں ایسی صورت میں حکمرانوں کو غور کرنا چاہیے کہ ہمارا ملک بادشاہت کے نظام کو غلط مانتا ہے ڈکٹیٹر شپ کی بھی مخالفت کرتا ہے، شخصی نظام کو بھی برا مانتا ہے ہمارا ملک اپنی عوام کو سپریم ہونے کا درجہ دے رکھا ہے یعنی حکومت کے فیصلوں کے خلاف اگر عوام احتجاج و مظاہرہ کرنے لگے تو اس کے لئے شامیانہ، اوڑھنے بچھونے کا انتظام کیا جائے مگر کتنے شرم کی بات ہے کہ آج مظاہرین کے کمبل بستر ضبط کرلئے جاتے ہیں اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ آج ہمارے ملک کے حکمراں مغرور ہوگئے ہیں حکومت و منصب کے نشے میں چور ہوگئے ہیں اسی لئے جمہوریت ہوتے ہوئے بھی احتجاج کر رہے لوگوں کی بات اور آواز سننے کے بجائے اسے دبانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن احتجاج کر رہے لوگوں کے اندر کوئی گھبراہٹ نہیں ہے کیونکہ ان کا صاف کہنا ہے کہ حکومت نے شہریت سے متعلق جو متنازعہ قانون بنایا ہے اس کے نفاذ کے بعد پریشانی ہی پریشانی ہوگی لوگوں کا جینا مشکل ہو جائے گا اس لئے ہم سارے مذہب کے ماننے والے سب مل کر احتجاج کر رہے ہیں اور ایک دن حکومت کو گھٹنا ٹیکنے پر مجبور کر دینگے اس دوران ایک ننھی کلی جو اپنی ماں کے ساتھ ملک کے آئین وجمہوریت بچانے کی تحریک میں شامل تھی وہ سردی کے موسم میں اللہ کو پیاری ہوگئی شاہین باغ کے احتجاج میں یہ ایک عظیم قربانی ہے اسی وجہ سے آج ہر انصاف پسند انسان شاہین باغ کی خواتین کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ شاہین باغ کا احتجاج بغاوت نہیں بلکہ ملک اور دستورِ ملک سے وفاداری کا ثبوت ہے -
            برائے رابطہ 8299579972
Javedbharti508@gmail.com
       - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -

Sunday, 2 February 2020

دربھنگہ میں فرقہ وارانہ فساد ، پتھرائو میں درجنوں زخمی حالات قابو میں جائے وقوع پر اعلیٰ افسران موجود ، مدھوبنی کے سرحدی بازار شکری میں سناٹا دربھنگہ۔ 3؍فروری: (رفیع ساگر)

دربھنگہ میں فرقہ وارانہ فساد ، پتھرائو میں درجنوں زخمی
حالات قابو میں جائے وقوع پر اعلیٰ افسران موجود ، مدھوبنی کے سرحدی بازار شکری میں سناٹا
دربھنگہ۔ 3؍فروری: (رفیع ساگر) دربھنگہ ضلع منی گاچھی تھانہ کے دہوڑا گاوں میں لین دین کے تنازع نے بھیانک مارپیٹ کی شکل اختیار کرلی۔بعد میں پورے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا گیا جس کے  بعد فرقہ وارانہ جھڑپ سے کشیدگی پھیل گئی۔دیکھتے ہی دیکھتے ایک دوسرے پر سنگ باری بھی شروع ہوگئی جس میں درجنوں افراد کو ہلکی چوٹیں آئیں۔شرپسندوں نے کئی دکانوں میں بھی لوٹ پاٹ مچائی۔دیکھتے ہی دیکھتے مدھوبنی ضلع کے سرحدی بازار شکری میں بھی حالات کی سنگینی کے سبب سناٹا پھیل گیا۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایم ڈاکٹر تیاگ راجن ایس ایم ، ایس ایس پی بابو رام ،بینی پور ڈی ایس پی اور ایس ڈی او کئی تھانوں کی اضافی پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کیا۔ڈی ایم نے کہا کہ وہاں حالات پرامن ہیں۔احتیاط کے طور پر مجسٹریٹ کی نگرانی میں پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا ہے۔لاء اینڈ بگاڑنے والے عناصر کی شناخت کروائی جا رہی ہے جس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ایسا بتایا گیا ہے کہ لین دین کا تنازع موٹرسائیکل درست کروانے سے جڑا ہوا ہے۔ہفتہ کو بھی اس معاملے میں دونوں کے بیچ تکرار ہوئی تھی لیکن اتوار کو مارپیٹ کے بعد شرپسندوں نے ذاتی معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا جس کے بعد دونوں فرقوں نے محاذ آرائی کے بعد ایک دوسرے پر سنگ باری شروع کردی جس میں کئی افراد کو چوٹیں آئیں جس سے نظم و نسق کی سنگین صورتحال پیدا ہوگئی۔موٹر سائیکل مستری کا تعلق اقلیتی طبقہ سے بتایا گیا ہے۔تاہم یہ ذاتی تنازع لین دین سے جڑا ہوا ہے یا پھر شرپسندوں نے منظم سازش کے تحت اس معاملہ کو طول دیا ہے اس پر تحقیقات جاری رہنے کی بات بتائی گئی ہے۔سینئر ایس پی نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے  بتایا کہ حالات معمول پر ہیں۔ سنگباری میں کچھ لوگوں کو معمولی چوٹیں آئی تھیں جن کو علاج اور میڈیکل جانچ کی ہدایت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گاوں میں امن کمیٹی کی میٹنگ بھی کے ذریعہ حالات سازگار بنائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالات کیوں بگرے اس پر تحقیقات کروائی جا رہی ہے جو بھی قصوروار ہیں انہیں سخت سزا دی جائے گی۔

سختی کے باوجود دیوبند کے شاہین باغ میں خواتین کا احتجاج جاری ! مظاہرین تحریک کے تئیں پرعزم، مقامی صحافیوں پر انتظامیہ کا دبائو،کانگریس اور بھیم آرمی کی جانب سے تحریک کو حمایت دیوبند۔3؍ فروری(ایس۔چودھری)

سختی کے باوجود دیوبند کے شاہین باغ میں خواتین کا احتجاج جاری !
مظاہرین تحریک کے تئیں پرعزم، مقامی صحافیوں پر انتظامیہ کا دبائو،کانگریس اور بھیم آرمی کی جانب سے تحریک کو حمایت
دیوبند۔3؍ فروری(ایس۔چودھری)شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے) کے خلاف دیوبندکے عیدگاہ میدان میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری خواتین کا احتجاج بدستور جاری ہے، لیکن انتظامیہ اس احتجاج کے لئے سخت ہوتی جارہی ،گزشتہ روز ایس ایس پی اور ایس پی دیہات نے یہاں لوگوں سے ملاقات کرکے اس ا حتجاجی تحریک کو بندکرانے کے سلسلہ میںگفتگو کی تو وہیں ایس ایس پی نے اعلیٰ افسران کی میٹنگ کرکے انہیں ذمہ داریاں دی، اتنا ہی نہیں انتظامیہ صحافیوں پر بھی اس مظاہرہ کی کوریج نہ کرنے کے لئے دباؤ بنارہی ہے۔ حالانکہ میدان میں ڈٹی خواتین پر عزم ہیں اور وہ کسی بھی طوفان سے ٹکرانے کے لئے تیار نظر آرہی ہے، خواتین کاکہناہے کہ جب تک سی اے اے واپس نہیں ہوگا اس وقت تک ہماری تحریک بدستور جاری رہے گی۔ وہیںخواتین کے احتجاج کو مسلسل تنظیموں اور لیڈروں کی حمایت ملی رہی ہے۔ متحدہ خواتین کمیٹی کے زیراہتمام گزشتہ ایک ہفتے سے شاہین باغ کے طرز پر دیوبند کے عیدگاہ میدان میں مسلسل خواتین کااحتجاجی مظاہرہ چل رہاہے ،جس میں خواتین پورے جو ش و خروش کے ساتھ حصہ لے رہی۔ عیدگاہ میدان میں تاریخ رقم کررہی دیوبند کی خواتین نے دو ٹوک کہاکہ جب تک سی اے اے واپس نہیں ہوگا اس وقت تک ان کاحتجاجی مظاہرہ بدستور جاری رہے گی۔اس احتجاج میں جہاں مردحضرات مکمل تعاون کررہے وہیں عمر داز خواتین،معذورین،طالبات اور دیہی مواضعات کی خواتین بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیکر حکومت وقت کے فیصلوں کے خلاف اپنے شدید غم وغصہ کا اظہار کررہی ہیں۔اتوار کے روز عیدگاہ میدان میں مردو خواتین کی بھاری بھیڑ تھی۔ انقلابی نعروں کے ساتھ قومی پرچم ہاتھوں میں لیکر خواتین عیدگاہ کے میدان میں پہنچتی نہیں وہیں سیکڑوں خواتین شدید سردی کے باوجود ٹینٹ میں راتیں گزاررہی ہے۔حالانکہ انتظامیہ مسلسل اس تحریک کو ختم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن باہمت خواتین اس تحریک کو طویل مدت تک چلانے کے لئے پر عزم ہیں۔ اس سلسلہ میں ہفتے کے روز دیوبند پہنچے ایس ایس پی سہارنپور دنیش کمار پی نے یہاں علماء اور سیاسی وسماجی رہنماؤں سے ملاقات، اتنا ہی نہیں ایس ایس پی نے انتظامیہ کے علیٰ افسران کی میٹنگ کرکے ان کی ذمہ داریاںطے کی،جس کے بعد انتظامیہ مقامی صحافیوں پر بھی اس احتجاج کی کوریج نہ کرنے کا دباؤ بنارہی ہے،پر امن طریقہ سے جاری دیوبند کا یہ تاریخی احتجاج انتظامیہ کو کھٹک رہاہے اور وہ مسلسل اس کو ختم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ خواتین مسلسل دوسری خواتین کو سی اے اے،این آرسی اور این پی آر جیسے قوانین کے سلسلہ میںبیدار کررہی ہیں۔حب الوطنی پر مبنی نغمے بھی یہاں پیش کئے جاتے ہیں ،عذراخاتون نے آج نہایت خوبصورت انداز میں نغمہ سنایا’ ہم رہے نہ رہے ،پیارا وطن آباد رہے، جس کی خوب ستائش ہوئی۔پروگرام منتظمین میں شامل ارم عثمانی اور فوزیہ سرور نے کہاکہ جب تک سی اے اے واپس نہیں ہوگا اس وقت تک ہمارا احتجاجی مظاہرہ بدستور جاری رہے گا۔متحدہ خواتین کمیٹی کی صدر آمنہ روشی ،عنبر ملک،نازیہ پروین، عذرا خان اور سلمہ احسن وغیرہ اس تحریک کو منظم طریقہ سے آگے بڑھارہی ہیں۔وہیں آج ضلع کانگریس،بھیم آرمی اور پچھم پردیش مکتی مورچہ کے عہدیدا ن نے عیدگاہ پہنچ کر خواتین کی اس تحریک کو اپنی حمایت دی۔ وہیں جاری احتجاج کو مسلسل متعدد تنظیموں اور سماجی و سیاسی لیڈران کی حمایت مل رہی ہے،روزانہ یہاں لوگ پہنچ کر خواتین کی ہمت افزائی کررہے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی سنجے گرگ اور سابق رکن اسمبلی ششی بالا پنڈیر کے بعد آج یہاںکانگریس کے ضلع صدر چودھری مظفرعلی پہنچے اور انہوں نے خواتین کی تحریک کوضلع کانگریس کی حمایت دینے کااعلان کرتے ہوئے مودی حکومت پرجم کر غصہ کا اظہار کیا۔ وہیں بھیم آرمی کے سکریٹری کمل والیہ کی والدہ کی قیادت میں بھیم آرمی کی درجنوں کارکنان بشمول سشیل جیسوال سمیت مردوخواتین نے پہنچ کر اپنی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ مودی حکومت نے پورے ملک کو تباہ کردیاہے، اس حکومت نے تمام طبقات کو نقصان پہنچایاہے، سی اے اے، این آرسی اور این پی آر جیسے قوانین سے صرف مسلمانوں کو نہیی بلکہ ہر طبقہ کو نقصان ہوگا۔ وہیں پچھم پردیش مکتی مورچہ کے قومی صدر بھگت سنگھ ورمانے اپنے ساتھیوںکے ساتھ عیدگاہ میدان پہنچ متحدہ خواتین کمیٹی کے زیر اہتمام گزشتہ ایک ہفتے سے احتجاج کررہی ہے خواتین کی ہمت افزائی کرتے ہوئے انہیں اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر بھگت سنگھ ورما نے کہاکہ مودی حکومت اکثریت کے زعم میں غلط فیصلے کررہی ہے،جن کو برداشت نہیں کیاجائیگا ۔ اس موقع پر کانگریس کے ضلع صدر چودھری مظفرعلی نے کہاکہ سی اے اے ہندوستان کے آئین کے خلاف ہے۔مودی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف کانگریس پہلے دن سے سڑک سے پارلیمنٹ تک لڑر ہی اور حکومت کی غلط پالیسیوںکی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑی ہے۔ اس دوران کانگریسی لیڈر سعد صدیقی، راحت خلیل صدیقی،سلیم عثمانی،وریام خان،مرتضیٰ تیاگی،نیتا مظاہر حسن،حیدر علی،احسان انصاری وغیرہ موجودرہے۔

سی اے اے کے خلاف عظیم ریلی:ناگپورہماری شہریت پرفیصلہ نہیں کرے گا: سورابھاسکر ملک گولوالکراورگوڈسے کے نظریات سے نہیں،گاندھی اورامیڈکر پرچلے گا:دگ وجے سنگھ اندور نئی دہلی۔3؍فروری

سی اے اے کے خلاف عظیم ریلی:ناگپورہماری شہریت پرفیصلہ نہیں کرے گا: سورابھاسکر
ملک گولوالکراورگوڈسے کے نظریات سے نہیں،گاندھی اورامیڈکر پرچلے گا:دگ وجے سنگھ
اندور نئی دہلی۔3؍فروری: شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی کی مخالفت کولے کراتوار کو اندور میں ایک جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ مہالکشمی میدان پرمنعقداس جلسہ عام میں موجودہ ہزاروں لوگوں کے سامنے اداکارہ سورا بھاسکر نے کہا کہ ناگپور میں بیٹھے چڈی والے ہماری شہریت طے نہیں کریں گے۔ مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ دگ وجے سنگھ نے کہاہے کہ اس ملک میں گاندھی اورامبیڈکرکے نظریات چلیں گے، گوڈسے اور گولوالکرکے نہیں۔وہیں نرمدا ئوتحریک کی کارکن میگھا پاٹکر نے کہا کہ ملک کے لوگوں کو آئین نے حق دیا ہے، اور جو آئین کو کچلنے کی کوشش کرے گا تو عوام اسے ہی کچل دے گی۔بھگت سنگھ دیوانے بریگیڈکی سے طرف سے ملک بچاؤریلی سے خطاب کرتے ہوئے سورابھاسکر نے کہا کہ میں یہاں بھارت کے ایک شہری کے طور پر آئی ہوں جو بھارت کے آئین کے تئیں وقف ہے۔آج ملک میں قوم پرستی کو لے کر اتنی باتیں ہو رہی ہیں کہ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ملک کے شہریوں کی ذمہ داری آئین کے تئیں ہیں ناکہ کسی حکومت کے تئیں۔مشہور شاعر راحت اندوری کا شعر تمام کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں ،کسی کے باپ کاہندوستان تھوڑی ہے ، پڑھتے ہوئے سورا نے کہاکہ ناگپور میں بیٹھا کوئی چڈی والااس ملک کی شہریت طے نہیں کرے گا۔اس ملک کی حکومت کچھ تو سستاکی نشہ کر رہی ہے اور وہ نشہ ہے نفرت کا نشہ۔ناگپور میں بیٹھ کر حکومت ملک کو برباد کرنے کانشہ کررہی ہے۔

شاہین باغ: ہندوتو وادیوں کی غنڈہ گردی اکھاڑہ سمیتی، بجرنگ دل، گئو رکشا سمیتی کے شرپسندوں نے شاہین باغ خالی کرو، گولی مارو ۔۔۔کو، وندے ماترم، اور جے شری رام کے نعرے لگائے، دھرنا ختم کرانے کی کوشش ناکام ، احتجاج کو ۵۰ دن مکمل، مظاہرہ بدستور جاری نئی دہلی۔ 3؍فروری: (محمد علم اللہ)

شاہین باغ: ہندوتو وادیوں کی غنڈہ گردی
اکھاڑہ سمیتی، بجرنگ دل، گئو رکشا سمیتی کے شرپسندوں نے شاہین باغ خالی کرو، گولی مارو ۔۔۔کو، وندے ماترم، اور جے شری رام کے نعرے لگائے، دھرنا ختم کرانے کی کوشش ناکام ، احتجاج کو ۵۰ دن مکمل، مظاہرہ بدستور جاری
نئی دہلی۔ 3؍فروری: (محمد علم اللہ) دہلی کے شاہین باغ علاقہ میں مسلح شخص کی فائرنگ کے ایک دن بعد اتوار کو حالات اس وقت کشیدہ ہوگئے جب کچھ ہندو تو تنظیموں جن میں بجرنگ اکھاڑا سمیتی، گئو رکشا ، بجرنگ دل وغیرہ سے وابستہ افراد شاہین باغ میں مظاہرہ کررہی خواتین کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ شرپسند افراد شاہین باغ سے ۳۰۰ میٹر کی دوری پر شور شرابہ اور سڑک کو کھلوانے کے نام پر ہنگامہ کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ  فسادیوں میں سے زیادہ تر افراد فرید آباد، باغپت، بلبھ گڑھ کے تھے جن کا کہنا تھا سڑک خالی ہونی چاہئے اگر مظاہرین چاہیں تو رام لیلا میدان، جنتر منتر یا کہیں اور احتجاج کریں۔ مظاہرین’ شاہین باغ خالی کرو ، جے شری رام ، گولی مارو ۔۔۔ کو، اور وندے ماترم ‘ کے نعرے لگا رہے تھے، پولس نے تقریباً ۵۲ افراد کو حراست میں لے لیا ہے ، دہلی پولس کے سائوتھ رینج کے جوائنٹ پولس کمشنر شری واستو اور ڈی سی پی چمنے بسوال جائے وقوعہ پر موجود تھے۔ افسروں نے مظاہرین سے بات کرکے انہیں امن وامان قائم رکھنے کی اپیل کی ۔ مظاہرہ میں شریک ریکھا دیوی نے کہاکہ ہم سڑک صاف چاہتے ہیں ، اس سے ہمیں پریشانی ہورہی ہے، ہمارے بچے اسکول نہیں جاپارہے ہیں، کیوں کہ دھرنے پر بیٹھے لوگوں نے سڑکوں کو جام کردیا ہے۔ شاہین باغ کے پاس جسولہ کے رہنے والے دیپک پٹیل نے کہا کہ پولس کڑی بریکیڈ کے درمیان ہمیں دھرنے والی جگہ سے نہیں گزرنے دیتی ہے کیوں کہ وہاں ایک ماہ سے خواتین احتجاج کررہی ہیں، میں کسی طرح اس علاقے کو پار کرتا ہوں لیکن سنیچر کی واردات کے بعد سے وہاں چیکنگ ہورہی ہے ہمیں اپنا آئی ڈی کارڈ دکھائے بنا وہاں سے جانے نہیں دیاجاتا ہے۔ بتا دیں کہ کئی روز سے شاہین باغ کے مظاہرین کو مسلسل دھمکی آمیز فون اور ہندو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے شاہین باغ خالی کرانے اور اس سے نمٹنے کی دھمکی دی جاری تھی ، شدت پسند ہندوئوں نے کہا تھا کہ ہم ۲؍فروری کو احتجاجیوں پر حملہ بولیں گے اور بزور طاقت انھیں وہاں سے ہٹا دیں گے  ہندو سینا نامی ایک تنظیم نے باضابطہ ایک ویڈیو کے ذریعے اتوار کے روز شاہین باغ سے تمام شہری مخالف ترمیمی قانون (سی اے اے) مظاہرین کو ہٹانے کی دھمکی دی تھی۔ ہندو سینا نےاپنے ایک پریس ریلیز میں بھی کہا تھا کہ وہ 2 فروری اتوار کی صبح 11 بجے تمام ’’شاہین باغ جہادیوں‘‘ کو ختم کردے گی۔ ان کی پریس ریلیز کے بعد آج ہندو تو شدت پسند تنظیموں سے منسلک افراد کے ہجوم نے اتوار کی صبح  مقامی لوگوں اور مظاہرین کا ایک بڑا گروہ شاہین باغ دھرنے کے احتجاج کے مقام پر آنے کی کوشش کی جنہیں سریتا وہار میں پولس نے روک دیا۔ شاہین باغ خالی کروانے آئے مظاہرین اشتعال انگیز اور فرقہ پرستی پر مبنی نعرے لگا رہے تھے۔ جامعہ سور شاہین باغ میں حملے کے بعد  دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انیل بیجل نے سنیچر کی رات ہی دہلی پولیس کو سیکیورٹی بڑھانے کا حکم دے دیا تھا ،جس کی وجہ سے کل رات سے ہی پولس کی نفری بڑھا دی گئی تھی اور بڑی تعداد میں سی آر پی ایف کے جوان تعینات تھے۔ دہلی پولیس نے صبح میں شاہین باغ احتجاج کے خلاف ماحول کشیدہ کرنے والے کچھ مظاہرین کو حراست میں لیا اور انہیں بسوں کے ذریعے دیگر جگہوں پرمنتقل کردیا، تاہم اس کے باوجود کچھ مظاہرین علاقے میں دیر گئے رات تک نعرے بازی کر تے دیکھے گئے ۔شاہین باغ کے مظاہرہ کو سبوتاز کرنے اور انہیں وہاں سے ہٹانے کی کوشش کے بعد بڑی تعداد میں علاقے کے عوام شاہین باغ پہنچنا شروع ہوگئے تھے اتوار کی وجہ سے لاکھوں کی بھیڑ وہاں جمع تھی جن میں آس پاس کی ریاستوں کے افراد اور تنظیموں کے ذمہ داران بھی بلاتفریق مذہب وملت شامل تھے۔ ہندو سینا کی اپیل کے بعد سیٹو اور کسان سبھا کے اراکین بڑی تعداد میں شاہین باغ پہنچے تھے۔ جن میں اکھل بھارتیہ کسان سبھا کے جنرل سکریٹری حنان ملا، سیٹو کے سندھو،وریندر گور، شکیل احمد، اور ماکپا کے ممبر پارلیمنٹ کے کے راگیش ، سوم پرساد وغیرہ شامل تھے۔ آج صبح سے ہی شاہین باغ کے مظاہرین کسی بھی ناگہانی حادثہ سے نمٹنے کے لئے ہیومن چین بنا کر گھیرا بندی کئے ہوئے تھے ۔ پولس کے ساتھ ساتھ شاہین باغ کے احتجاج میں شامل رضاکار ان بھی چوکنا تھے اور احتجاج میں شامل ہونے والے افراد پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے اور ہر آنے جانے والے افراد کی چیکنگ کررہے تھے کہ کہیں ان کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ تو نہیں ہے۔ ادھر اس احتجاج کے خلاف آواز اُٹھانے والے افراد پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج میں شامل مظاہرین نے کہا کہ ہم صرف ایک سڑک کو روکے ہوئے ہیں پھر بھی ہمارے خلاف شدت پسند سازشیں کررہے ہیں جبکہ ہماری جانب سے نہ تو اسکولی بسوں اور نہ ہی ایمبولینس کو روکا جارہا ہے بلکہ ہمارے رضاکاران کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں ۔ احتجاج میں شامل جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم اجیت کمار نے کہا کہ کچھ لوگ اسے بلا وجہ مذہبی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں جس میں وہ کامیاب نہیں ہوں گے یہ معاملہ ہندو مسلم ہے ہی نہیں اس میں تمام مذاہب کے افراد شریک ہیں اور اس سے تمام ہندوستانیوں کو نقصان پہنچنے والا ہے لیکن کچھ لوگ سیاسی روٹی سیکنے اور اپنا اقتدار دیر پا رکھنے کےلیے ہندو بنام مسلم بناکر آپسی خلیج کو گہرا کرناچاہتے ہیں۔ شاہین باغ میں احتجاج میں شامل ابھینو مشرا نے کہاکہ ہم پنجاب  سے یہاں آئے ہیں اور گزشتہ کئی روز سے مسلسل اپنے دوستوں کے ساتھ آرہے ہیں۔ یہ دیکھ کر افسوس ہورہا ہے کہ کچھ لوگ مظاہرہ میں شریک خواتین و بچوں کے تعلق سے بھونڈے الزامات عائد کررہے ہیں تاکہ ان کی ہمت ٹوٹ جائے اور وہ گھروں کو لوٹ جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ہم سب مل جل کر اس تحریک کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک حکومت اس قانون کو واپس نہیں لے لیتی ہے۔ ادھر آج کے واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا کہ مظاہرین کے پائے استقامت میں کمی نہیں آئی ہے اور پے درپے متعدد حادثوں نیز دہشت گردانہ حملوں کے باوجود بھی مظاہرین کے عزم وہمت میں کمی نہیں آئی ہے بلکہ وہ پہلے سے زیادہ تازہ دم ہوکر سی اے اے کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔آج دیگر ایام کے مقابلے شاہین باغ احتجاج اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں لاکھوں کی بھیڑ تھی جوآزادی کا نعرہ لگاتے ہوئے شہریت ترمیمی قانون کی واپسی کا مطالبہ کررہی تھی۔ آج مظاہرین کے ہر پانچ افراد میں سے چار کے ہاتھوں میں ترنگا تھا اور جو حب الوطنی کے جذبے سے سر شار نعرے لگا رہے تھے اور گیت گارہے تھے۔ خبر لکھے جانے تک شاہین باغ اور جامعہ علاقے میں حالات پرامن تھے جبکہ پولس کی بڑی تعداد چپے چپے پر تعینات تھی وہیں دونوں جگہ شاہین باغ سور جامعہ کے اسٹین سے افواہوں سے بچنے کی اپیل کی جارہی تھی۔  شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ احتجاج کا آج پچاسواں دن جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احتجاج کا ۵۲ دن تھا۔

اے خاک وطن قرض ادا کیوں نہیں ہوتا ذوالقرنین احمد

اے خاک وطن قرض ادا کیوں نہیں ہوتا


ذوالقرنین احمد

ابھی ایک خبر پڑھا ہو دہلی کے شاہین باغ میں ننھی بچی کی جو روزانہ ماں کے ساتھ شاہین باغ میں آتی تھی ایک سال کی بھی عمر نہیں ہے  ۳۰ جنوری کو سردی ہونے کی وجہ سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملی دل کو چیر کر رکھ دیا اس خبر نے، کیسے سفاک کلیجے ہوگئے ان درندہ صفت حکمرانوں کے، یہ ظالم حکومت اپنے وجود کو بچانے کیلے اپنی کرسی کو بچانے کیلے، اقتدار کی حوس کے نشے میں اس قدر چور ہوچکے ہے کہ انسانیت کے تمام حقوق کی پامالیوں کو پس پشت ڈال کر درندوں سے بھی زیادہ وحشی ہوچکے ہیں۔ یہ ظالم یہ سمجھتے ہے کہ مسلمان ان سے ڈر جائے گے۔ یا پھر یہ اپنے ناکام عزائم کو پورا کرنے میں کامیاب ہوجائے گے تو یہ صرف انکی دل کی تسلی ہے۔ اس ننھی بچی کی شہادت رنگ لائیں گی اس معصوم سی کلی کی شہادت رائیگاں نہیں جائیں گی، سلام ہے اس عفت مآب پاکدامن ماں کو جس نے بچی چھوٹی ہونے کے باوجود اور گھر کی ضروریات اور کام کاج کو پس پشت ڈال کر شاہین باغ کے میدان میں کڑاکے کی  سردی میں بچی کو لیکر مسلسل احتجاج میں اپنی  معصوم کلی کو لیکر پہنچتی رہی ہے۔ اور سردی کی وجہ سے معصوم کلی جس نے ابھی دنیا کے حالات زندگی کو نہیں دیکھا تھا نا اسے اپنے وجود کے بارے میں کوئی علم تھا لیکن اس ماں کی جرات کی بدولت کل قیامت میں وہ بچی گواہی دے گی کہ میری ماں نے انسانیت کی بقا کیلے جس احتجاج میں حصہ لیا تھا اس میں معصوم بھی شریک تھی۔ جس میں وہ شہادت کے درجے کو پہنچ گئیں۔  میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ اگر قیامت میں اس ملک کے‌ ملی رہنماؤں اور انسانیت کے علم بردار کہلوانے والے رہبر و قائدین سے اس بچی نے سوال کرلیا تو یہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کیا جواب دے گے۔ انسانیت کی فلاح و بہبود اور بقا کی بات کرنے والے بڑی بڑی مجالس کا اہتمام کرنے والے کروڑوں روپے امن کی اپیل کیلے پانی کی طرح بہانے والے کیا جواب دیں گے۔ آج اگر ان میں غیرت باقی ہو تو ملت کیلے مضبوط اور ذمہ دارانہ طریقے سے لائحہ عمل تیار کریں ورنہ مستقبل میں مورخ جب قلم اٹھائیں گا تو وہ لکھا گا ایک قوم ایسی بھی گزری جس کے قائدین و رہنما مصلحت کا لبادہ اوڑھ کر دین اسلام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر اس قدر جمہوریت میں غرق ہوچکی تھی جنہیں آسمانی خدائی قانون اور شریعت مطہرہ سے زیادہ انسانوں کے بنائے قانون کی فکر کی تھی اور عوام بے سر و سامانی کی حالت میں قائدین کو پکار رہی تھی۔ کے آؤ ہماری رہبری کروں ہم تمہارے پیچھے چلنے کیلے تیار ہیں۔ افسوس افسوس

کیرالہ میں کورونا وائرس کے دوسرے معاملہ کی تصدیق، جانیں اس مہلک بیماری کی علامات چین کے ووہان شہر سے 323 ہندوستانی مسافروں کو لے کر ایئرانڈیا کا دوسرا خصوصی طیارہ اتوار کی صبح نئی دہلی ہوائی اڈے پہنچ گیا، ادھر کیرالہ میں کورونا وائرس کے دوسرے معاملہ کی تصدیق کی گئی ہے


کیرالہ میں کورونا وائرس کے دوسرے معاملہ کی تصدیق، جانیں اس مہلک بیماری کی علامات

چین کے ووہان شہر سے 323 ہندوستانی مسافروں کو لے کر ایئرانڈیا کا دوسرا خصوصی طیارہ اتوار کی صبح نئی دہلی ہوائی اڈے پہنچ گیا، ادھر کیرالہ میں کورونا وائرس کے دوسرے معاملہ کی تصدیق کی گئی ہے


نئی دہلی: چین کے ووہان شہر سے 323 ہندوستانی مسافروں کو لے کر ایئرانڈیا کا دوسرا خصوصی طیارہ اتوار کی صبح نئی دہلی ہوائی اڈے پہنچ گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کی جانب سے مہلک کورونا وائرس کے حوالہ سے عالمی صحت ایمرجنسی نافذ کئے جانے کے بعد ووہان سے آج ہندوستانی شہریوں کو ایئر انڈیا کے دوسرے خصوصی طیارے سے دہلی لایا گیا۔ اس سے پہلے سنیچر کے روز وہان سے 324 ہندوتانیوں کو دہلی لایا گیا تھا۔
چین میں اس مہلک وائرس سے اب تک 300 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو گئی ہے جبکہ ہندوستان کے کیرالہ میں اس وائرس میں مبتلا دو مریضوں کا معائنہ کرنے پر ان میں نمونے پازیٹو پائے گئے۔ مرکزی وزارت صحت نے اتوار کو یہ معلومات دی۔ وزارت کے مطابق، مریض کو وارڈ میں تنہا رکھا گیا ہے۔ فی الحال مریض کی حالت مستحکم ہے اور اس کی صحت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ یہ مریض چین کے دورے سے وطن لوٹا تھا۔
ادھر، کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر چین میں مقیم ہندوستانیوں کو وطن واپس لانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کے روز 323 ہندوستانیوں کو لے کر ایئر انڈیا کا دوسرا طیارہ نئی دہلی ایئرپورٹ پر پہنچا۔ ایئر انڈیا کے خصوصی طیارے نے ووہان سے آج صبح تین بج کر 10 منٹ پر پرواز بھری اور صبح نو بج کر 45 منٹ پر نئی دہلی ہوائی اڈے پر اترا۔

کورونا وائرس کیا ہے اور اس کی علامات کیا ہیں؟

کورونا وائرس ایک وائرل بیماری ہے جو چین میں بڑے پیمانے پر پھیل رہی ہے۔ آہستہ آہستہ یہ وائرس دوسرے ممالک میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس بیماری کی علامات بخار، کھانسی، نزلہ اور گلے کی سوزش ہیں۔ جب حالت زیادہ سنگین ہوجاتی ہے تو مریض نمونیا میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اسے سانس لینے میں تکلیف ہونے لگتی ہے۔

کورونا وائرس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق احتیاط اور چوکسی کے ساتھ اس سے آسانی سے بچا سکتا ہے۔ فی الحال کورونا وائرس کی کوئی مخصوص دوا یا ویکسین موجود نہیں ہے۔ تاہم، اس کا علاج علامات کی بنیاد اور ڈاکٹروں کے مشورے سے ہوتا ہے

ہندو شدت پسندوں کی دھمکی کے باوجود شاہین باغ خاتون مظاہرین پر کوئی اثر نہیں جامعہ اور شاہین میں گولی چلنے کی وجہ سے شاہین باغ خاتون مظاہرین کافی محتاط ہیں، مظاہریے میں شامل خاتون کارکن اور مرد باہر سے آنے والوں کی تلاشی بھی لے رہے ہیں اور سارے احتیاطی اقدامات کیے جارہے ہیں


ہندو شدت پسندوں کی دھمکی کے باوجود شاہین باغ خاتون مظاہرین پر کوئی اثر نہیں

جامعہ اور شاہین میں گولی چلنے کی وجہ سے شاہین باغ خاتون مظاہرین کافی محتاط ہیں، مظاہریے میں شامل خاتون کارکن اور مرد باہر سے آنے والوں کی تلاشی بھی لے رہے ہیں اور سارے احتیاطی اقدامات کیے جارہے ہیں

نئی دہلی: قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین کے جوش و خروش، ہمت اورعزم میں ہندو شدت پسند تنظیموں کی دھمکی، گولی چلنے اور شاہین باغ سریتا وہار میں ان تنظیموں کی موجودگی کے باوجود کوئی کمی نہیں آئی ہے اور پوری شدت اور دم خم کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہیں۔
شاہین باغ میں اس وقت خواتین پرامن طریقے سے دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں لیکن سریت اوہار کی طرف سے پولیس کے ساتھ پچاس کے آس پاس ہندوشدت پسندوں کے رکن کھڑے ہیں۔ ابھی ان کی طرف سے کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ پولیس کے ساتھ وہ لوگ وہاں کیا کررہے ہیں۔ موقع پر موجودہ عینی شاہدین نے بتایا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندو شدت پسند تنظیموں کو پولیس کی حمایت حاصل ہے ورنہ وہ لوگ یہاں آنے کی ہمت نہیں کرتے۔
تصویر قومی آواز
عینی شاہدین اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ کئی روز سے مسلسل دھمکی دی جارہی تھی اور کل ہی ہندو شدت پسند تنظیموں سے منسلک ارکان نے شاہین باغ کو خالی کرانے اور اس سے نمٹنے کی دھمکی دی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وہ لوگ آج یہاں آبھی گئے ہیں۔ انہوں نے ایسے لوگوں کوانتظامیہ پر بڑھاوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزا، رکن پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کھلے عام گولی مارنے کی بات کر رہے ہیں لیکن پولیس، انتظامیہ، عدلیہ اور قومی انسانی حقوق کمیشن یہاں تک کے اقلیتی کمیشن بھی اس پر کوئی نوٹس نہیں لے رہا ہے جس کی وجہ سے ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔
مظاہرین نے انتظامیہ پر امتیاز برتنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مسلمان گولی مارنے کی بات کرتا تو ان پر درجن بھر دفعات لگانے کے ساتھ جیل میں بھیج دیا گیا ہوتا اور پورے ملک میں ان کے خلاف نفرت کا ماحول تیار کیا جارہا ہوتا لیکن اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فائرنگ کرنے والے کے لئے ایک ہندو تنظیم نے انعام کا اعلان کیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ پولیس اور عدلیہ کیا کارروائی کرتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شاہین باغ میں کپل گوجر نے فائرنگ کرکے دہشت پیدا کرنے کی کوشش کی تھی یہ اسی ذہنیت کی پیداوار ہے جو ذہن کچھ مرکزی وزراء اور کچھ کارکان پارلیمنٹ تیار کر رہے ہیں۔
خاتون مظاہرین نے ہندوشدت پسند تنظیموں کے ارکان کی موجودگی کے بارے میں کہا کہ ہمارے عزم کو وہ لوگ متزلزل نہیں کرسکتے۔ ہم کسی کے کارندے یا کسی کے اشارے پر چلنے والے نہیں ہیں کہ کسی سے ڈرجائیں۔ ہم ملک کے آئین اور دستور کو بچانے کے لئے نکلے ہیں۔ ہم کسی ذات مفادات کی تکمیل کے لئے نہیں بیٹھی ہیں اس لئے ہمیں کوئی فائرنگ، کوئی گیدڑ بھبکی، کوئی دھمکی ہمیں اپنے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک ہی نہیں پوری دنیا میں شاہین باغ مظاہرین کی علامت بن چکا ہے اس لئے یہ لوگ اسے ہٹانے کے لئے اور آپس میں خلل ڈالنے کے لئے ہر طرح کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین میں گولی چلنے کی وجہ سے شاہین باغ خاتون مظاہرین کافی محتاط ہیں، مظاہرے میں شامل خاتون کارکن اور مرد باہر سے آنے والوں کی تلاشی بھی لے رہے ہیں اور سارے احتیاطی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
جامعہ کے طلبا 15دسمبر کو ہوئی پولیس کی ظالمانہ کارروائی اور شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف پچھلے ڈیڑھ ماہ سے زائد جاری مظاہرہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس کی موجودگی میں گولی چلنے سے بھی کوئی کمی نہیں آرہی ہے۔ پوری رات مظاہرین ڈتے رہتے ہیں اور سخت سردی کے باوجود ان کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔
واضح رہے کہ جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا نے جمعرات کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کی سمادھی راج گھاٹ جانے کے لئے جیسے ہی مارچ نکالا، کیمپس سے چند قدم کے فاصلہ پر پولیس کے سامنے اچانک ایک شخص پستول لہراتے ہوئے آیا اور بھیڑ پر گولی چلادی جس سے ایک طالب علم زخمی ہو گیا تھا۔
جامعہ کو آڑڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے راج گھاٹ تک مارچ نکالنے کا نعرہ دیا گیا تھا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس بربریت کے بعد سے 15دسمبر سے احتجاج جاری ہے اور یہاں بھی 24 گھنٹے کا دھرنا جاری ہے۔۔ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جاری مظاہرہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اب یہ مظاہرہ دہلی کے بیشتر علاقوں میں پھیل چکا ہے اور یوپی کے سنبھل سے خواتین کے بڑے مظاہرے کی خبر آرہی ہے جہاں ہزاروں خواتین رات دن مظاہرہ کررہی ہیں۔
(عابد انور۔ یو این آئی)

مودی حکومت کا بجٹ کھوکھلی باتوں کا ذخیرہ: راہل گاندھی کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بجٹ 2020-21 کو حکومت کی کھوکھلی باتوں کا ذخیرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے بجٹ پر جو لمبی تقریر پیش کی وہ الجھن پیدا کرتی ہے


مودی حکومت کا بجٹ کھوکھلی باتوں کا ذخیرہ: راہل گاندھی

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بجٹ 2020-21 کو حکومت کی کھوکھلی باتوں کا ذخیرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے بجٹ پر جو لمبی تقریر پیش کی وہ الجھن پیدا کرتی ہے

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بجٹ 2020-21 کو حکومت کی کھوکھلی باتوں کا ذخیرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے بجٹ پر جو لمبی تقریر پیش کی وہ الجھن پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں اور معیشت کی مضبوطی کے لئے اس بجٹ میں کوئی ٹھوس انتظام نہیں کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے پارلیمنٹ میں 2020-21 کا بجٹ پیش کرنے کے بعد بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے گاندھی نے سنیچر کو پارلیمنٹ کے احاطہ میں صحافیوں سے کہا کہ بجٹ تقریر ڈھائی گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلی۔ اتنی لمبی تقریر ہونے کے باوجود بجٹ میں معیشت کی بہتری کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھائے گئے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بجٹ میں صرف لمبی بیان بازی ہوئی ہے اور یہ حکومت کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں آج سب سے بڑا بحران بے روزگاری کا ہے لیکن اس سے نمٹنے کے لئے بجٹ میں کوئی بھی انتظام نہیں ہے۔ معیشت کی ابتر صورت حال بھی سب کے سامنے ہے اور سے نکلنے کا کوئی انتظام یا حکمت عملی اس بجٹ میں نظر نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس بجٹ سے الجھن پیدا کر دی ہے اور کچھ بھی واضح نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا، ’’ کہا جا رہا تھا کہ ٹیکس نظام میں بہتری لائی جائے گی اور انکم ٹیکس کو آسان بنایا جائے گا لیکن اس میں ایک اور متبادل دیا گیا ہے۔ اس سے غفلت کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔‘‘
قبل ازیں، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری نے بھی عام بجٹ 2020 کے حوالہ سے حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں صرف بڑی بڑی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کو لمبا بنا کر صرف غفلت پیدا کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’کسی بھی اسکیم کے لئے کو ئی ہدف مقرر نہیں کرنا حکومت کی ناکامی کا مظہر ہے۔ بجٹ میں لوگوں کی جیب بھرنے اور تھالیوں میں کھانا دینے کا انتظام ہونا چاہئے تھا لیکن لوگوں کو مایوسی ہاتھ لگی ہے۔‘‘
راجیہ سبھا رکن اور کانگریس کے سینئر رہنما آنند شرما نے کہا کہ وزیر خزانہ بجٹ کا حساب کتاب سمجھانے میں ناکام رہی ہیں۔ حکومت خود کہتی ہے کہ گزشتہ برس نومبر تک بجٹ تخمینہ کے مقابلہ حاصل ہونے والا ریونیو 45 فیصد رہا ہے۔ یہ بہت بڑا فرق ہے اور حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ صرف زور سے بولنے اور لفاظی کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
کانگریس رہنما اور لوک سبھا کے رکن گورو گگو ئی نے کہا کہ حکومت کو 2019 میں لوگوں نے بھاری اکثریت دی لیکن مایوس کن بجٹ نے لوگوں کی حمایت کی توہین کی ہے۔ بڑھتی مہنگائی کو قابو کرنے اور معیشت کی خستہ حالت کو ٹھیک کرنے کا کوئی منصوبہ عمل پیش نہیں کیا گیا ہے۔

شاہین باغ کا ہٹنا بے بسوں کی طاقتور علامت کا ڈھہ جانا ہوگا! اتواریہ: شکیل رشید

شاہین باغ کا ہٹنا بے بسوں کی طاقتور علامت کا ڈھہ جانا ہوگا!
اتواریہ: شکیل رشید
خبر افسوسناک ہے!
شاہین باغ تحریک دو حصوں میں بٹتی نظر آرہی ہے۔
ایک گروپ چاہتا ہے کہ شاہین باغ کی تحریک جاری رہے اور دوسرا گروپ اس تحریک کو ختم کرنے پر زور دے رہا ہے۔ یہ خبر افسوسناک اس لیے ہے کہ دہلی کے شاہین باغ سے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جو تحریک شروع ہوئی ہے وہ آج اس ملک کے مسلمانوں، دلتوں ، پچھڑوں اور بے بسوں کی جدوجہد کی علامت بن گئی ہے۔ اور علامت بھی ایسی کہ ملک بھر میں جگہ جگہ شاہین باغ بن گئے ہیں جہاں خواتین کی بہت بڑی تعداد وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی اقلیت مخالف یا اقلیت دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔ ان احتجاجات کی اہمیت سمجھ لیں، ایک ایسے وقت میں جب یوپی میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی پولس، لاٹھیوں او ربندوق کی گولیوں کے زور پر سی اے اے مخالف تحریک کو پنکچر کرنے کی کوشش کی تھی اور بڑے بڑے مسلمان قائدین تک دم دبا کر بیٹھ گئے تھے تب خواتین سامنے آئیں او رہر طرح کی دھمکیوں اور شرارتوں کے درمیان احتجاج کی لو تیز کی۔ یہ سمجھ لیں کہ اگر اس ملک میں دہلی کا شاہین باغ نہ بنتا اور اس کی دیکھا دیکھی ملک بھر میں دوسرے شاہین باغ وجود میں نہ آتے تو نہ ہی راجستھان، کیرالہ اور مغربی بنگال کی اسمبلیوں میں شہریت مخالف ترمیمی قانون کے خلاف قراردادیں منظور ہوتیں او رنہ ہی ملک کی غیر بھاجپائی ریاستیں اپنی اپنی ریاستوں  میں این آر سی اور این پی آر نہ نافذ کرنے کا اعلان کرتیں۔ یہ شاہین باغ کا احتجاج ہی ہے کہ آج عدالت یوگی سرکار سے یہ دریافت کررہی ہے کہ بھلا اس نے احتجاجی مظاہرین کی املاک اور جائیدادیں کیوں قرق کی ہیں۔ اور یہ شاہین باغ ہی کی وجہ سے ممکن ہوسکا ہے کہ ملک کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوئوں، دلتوں اور دیگر اقوام کی بہت بڑی اکثریت آکر کھڑی ہوگئی ہے اور سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت میں وہاں بیٹھی خواتین کی آواز میں اپنی آواز ملا رہی ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ شاہین باغ آج مودی اور شاہ کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ ساری دنیا میں سی اے اے کی غیر آئینی حیثیت اگر اجاگر ہوئی ہے تو اس لیے کہ ملک بھر کے شاہین باغوں نے غیر ممالک کی توجہ اپنی جانب کھینچی ہے۔ بیرونی ممالک اتنی بڑی تعداد میں احتجاج کرنے والی خواتین کو دیکھ کر سی اے اے کے نقصانات پر سوچنے کےلیے آمادہ ہوئے ہیں اور اقوام متحدہ سے لے کر یوروپی یونین تک میں سی اے اے کی مخالفت ممکن ہوسکی ہے۔ اور یہ شاہین باغ ہی ہے جس نے امیت شاہ کی زبان سے یہ جملے ادا کروائے ہیں کہ دہلی الیکشن میں بی جے پی کو ووٹ شاہین باغ ہٹوانے کےلیے دیاجائے۔ یعنی امیت شاہ شاہین باغ کی طاقت کا احساس کرنے پر لاچار ہوئے ہیں۔ شاہین باغ چونکہ اس ملک کے بے بسوں کی جدوجہد کی طاقتور علامت بن گیا ہے اس لیے اس کا ہٹنا اس علامت کا ڈھہ جانا ہوگا۔ پر کیا کیاجائے کہ مسلمان قوم ہمیشہ دوسروں کے اشارے پر چلنے کو تیار رہتی ہے ، وہ یہ سوچتی تک نہیں کہ اس میں نقصان ہی نقصان ہے۔ اللہ کےلیے اب مسلمان ہوش میں آئیں او راپنے اچھے برے کو سمجھیں۔ شاہین باغ ہمیشہ نہیں رہے گا ایک دن ہٹے گا لیکن ابھی وہ موقعہ نہیں آیا ہے۔