اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 4 June 2020

مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں اورلیڈران کی معنی خیز خاموشی! سرفراز احمدقاسمی (حیدرآباد ) برائے رابطہ:8099695186

مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں اورلیڈران کی معنی خیز خاموشی!


سرفراز احمدقاسمی (حیدرآباد )
برائے رابطہ:8099695186

              پوراملک لاک ڈاؤن  اور کرونا وائرس کی وجہ سے ان دنوں  پریشان ہے،اور  اس حکومت  کی کارکرگی  کا اگرجائزہ لیا جائےتو یہ حکومت  ہرسطح پر  بالکل ناکام  ثابت ہوئی ہے،ہوناتو یہ چاہئے تھاکہ  یہ حکومت  لوگوں   کے مسائل ومشکلات کو حل کرتی اور اس پر توجہ لیکن  افسوسناک  بات یہ  ہےکہ اس نے انتہائی  ناکامی اور بےحسی کامظاہرہ  کیاہے،اور اپنے عمل سے اس نے یہ ثابت کیاہے کہ ملک کے لاکھوں  غریب ،مزدور  اورپرشان حال   لوگوں  کی پریشانیوں  سےانھیں کوئی  دلچسپی اور  سروکار نہیں ہے، انھیں لوگوں  سے کوئی ہمدردی نہیں ہے،اپنی سیٹ بچانا اور عیش وعشرت  کرنا،مزے لینا اور موج مستی  کرناہی حکومت  پربیٹھے ہوئےلوگوں کامقصد ہے،لوگوں  کی فلاح وبہبود   کاکام انکے بس کی بات نہیں ہے،انھیں  صرف تخریبی  سرگرمیوں  میں دلچسپی ہے،فرقہ پرستی ہی انکااہم اور خاص ایجنڈہ ہے،اور 6سال کے عرصے میں  اس حکومت  نے یہی سب کیاہےملک کی  تعمیر وترقی  میں   اب تک کوئی  ادنی  ر ول  نہیں نبھایا ،جسکی وجہ  سے بھارت روز بروز انتہائی  تنزلی اور تخریب  کی جانب بڑھ رہاہے، اگر ملک کی یہی حالت رہی تو پھر آنے والے دنوں    میں ملک کی حالت مزید بدتر ہوجائےگی اور ملک ایسے دوراہے پرکھڑا ہوجائے گا جہاں  سے واپسی انتہائی  مشکل   بلکہ ناممکن ہوگی،اورپھر ملک  کو برباد ہونے سےکوئی نہیں روک سکتا،آزادی کے بعد سے ملک کی ہرحکومت   نے مسلمانوں  کےساتھ سوتیلا سلوک  کیا ہےاور ایک منظم منصوبہ  کے تحت   مسلم نوجوانوں  کو  تعلیم اور سرکاری   مراعات  سے دور رکھا گیااور کبھی پوٹا کےنام پر توکبھی ٹاڈا کےنام مسلمانوں  کو گرفتار کرکےانکی زندگیاں  تباہ  وبرباد کی گئی ،آج بھی لاکھوں   ،معصوم  مسلمان  سلاخوں  کےپیچھے ہیں اور انکاکوئی پرسان حال نہیں ،گذشتہ 6 کے عرصہ میں  اس حکومت  نے ملک میں برسوں  سےہورہےظلم وستم اور ناانصافی  میں مزید  اضافہ  کردیاہے،اور یہ سلسلہ  پوری شدت کے ساتھ جاری ہے،دسمبر 2019 میں  موجودہ  حکومت  نے سی اے اے کےنام سے ایک کالاقانون پاس کیاتھا جسکے نتیجے میں   آسام ،بنگال ،تری پورہ ،کیرلہ  سمیت ملک بھر کی مختلف ریاستوں  میں احتجاج  شروع ہوگیاتھا،دہلی کی جامعہ ملیہ،علی ج گڑھ مسلم یونیورسٹی ،جےاین    یو،شاہین باغ  کے علاوہ   حیدرآباد ،بنارس  اور ملک کی دیگر بڑی یونیورسٹیوں  میں  احتجاج  چل رہاتھا،اور اس سیاہ  قانون  کو واپس لینے کی مانگ  کی جارہی تھی،اسی کے نتیجے میں   جنوری  میں پور ی  دہلی کو آگ کی نظرکردیاگیا ،اور جی بھرکر فسادیوں  کو حیوانیت  کاننگا ناچ ناچنے کاموقع دیاگیا،کئی دنوں  تک    پوری دہلی فساد میں جھلستی  رہی،آگ  وخون  کاکھیل کھیلا جاتارہالیکن اسکوروکنے کےلئے پوراسسٹم خاموش تماشائی  بنارہا،دنیانے اس حیوانیت  اور حکومت  کی بےشرمی وبےغیرتی کاتماشہ بھی دیکھا،لاک ڈاؤن  اور کورونا وائرس کی آڑ میں  اب پورے ملک  میں uapa کے سیاہ قانون  کے تحت ،پورے ملک میں مسلم نوجوانوں  کی گرفتاریاں جاری ہیں،اور چن  چن کر ان  نوجوانوں  کو سلاخوں  کے پیچھے  ڈالاجارہاہے  ،ایک خفیہ رپورٹ  کے مطابق  صرف دہلی میں  ڈھائی  ہزار سےزائد لوگوں  کو اب  تک گرفتار  کیاجاچکاہے،اسکے علاوہ   ملک بھر کے ان شہروں  میں   جہاں   جہاں  کامیاب  اورمسلسل احتجاج چل رہاتھا اور وہاں  مسلمانوں  نے اس احتجاج  میں اہم کرداراداکیاتھا ایسے تمام لوگوں  کی  نشاندہی  کرکے گرفتار کیا جارہاہے جسکی تعداد  ہزاروں  میں ہے،افسوسناک بات یہ  ہے کہ  ایک  طرف لاک ڈاؤن   اورکروناکی مہاماری ہےافراتفری  کاعالم ہے،لوگ بےروزگار  وپریشان ہیں ایسے میں بڑی تیزی کے ساتھ   یہ حکومت  مسلمانوں  سے انتقام لےرہی ہے،اسی انتقام کانتیجہ ہےکہ قوم کے ان معصوم  نوجوان  بچوں  اوربچیوں  کی زندگی اجیرن بنانے کی  پوری تیاری کرلی گئی ہے،حیرت ناک بات یہ ہےکہ   اتنے بڑے پیمانے پرمسلمانوں کے خلاف  کارروائی  ہونے کے باوجود  ہرطرف سناٹاہے ،کہیں سےکوئی   مظبوط  آواز نہیں اٹھائی  جارہی ہے،جمعیة علماء (محمود مدنی) نےاس سلسلے میں عدالت میں اپلیکیشن   دائر کی ہے، جسکی سراہنا کی جانی چاہئے،لیکن اسکے علاوہ دیگر مسلم تنظیمیں ،این جی اوز اور سیاسی پارٹیوں  کے وہ لیڈران  جو مسلمانوں  کے ووٹ پرپلتے ہیں  ایسے تمام لوگ  مجرمانہ اورمعنی خیز خاموشی  کیوں  اختیار کئے ہوئےہیں؟کیا ایسے لوگ  اب مسلمانوں   اور مظلوموں  کی حمایت میں آواز اٹھانے سےڈرنےلگےہیں؟آخر کس مصلحت کی بنیاد  پر انکی زبانیں گنگ ہیں؟جب یہ لوگ  مسلمانوں  کےساتھ ہورہی ناانصافی اور ظلم وبربریت  کےخلاف آواز بلند نہیں کرسکتے توپھرمسلمان ایسےلوگوں کو ووٹ کیونکر دیں؟کیایہ لوگ مسلم ووٹ کے مستحق ہیں؟ہمیں اس پر سنجیدگی  سےغورکرناہوگا،اگرہم نے اسےسنجیدگی سے نہ لیاتو پھرہماری تباہی وبربادی مقدرہے ،نفرت کازہر صرف حکومت  کے ہی دلوں  میں  نہیں ہےبلکہ  عدالت اور پولس بھی اب  اس رنگ میں رنگی جاچکی ہے،ہرطرف مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضاء  پیدا کردی گئی ہےپولس کی مسلم دشمنی اور نفرت انگیز مہم کااندازہ اس  واقعےسے لگایاجاسکتاہےکہ  گذشتہ مارچ میں  ایک غیرمسلم وکیل  کو ہاسپٹل جاتےہوئے راستے میں پولس نے شدید زدوکوب کیا،بعدمیں جب پولس کومعلوم  کومعلوم  ہواکہ  جسکی بینڈبجائی گئی ہےوہ مسلم نہیں ہےگرچہ اسکو داڑھی ہےاوراسکی شکل وصورت  مسلم جیسی ہی ہے تو اس وکیل  سے پولس نے ان الفاظ میں معذرت کی کہ"بھئی ہم تو دنگوں میں بھی  ہندوؤں  کےساتھ رہتےہیں پھر عام حالات  میں کیسے کسی ہندو کو مارسکتے ہیں؟جس بندے نےآپکو پیٹاہے وہ پکا ہندو ہے،اسے آپ کی داڑھی سے دھوکہ  ہواہے"آپ کو یاد ہوگاکہ  ٹھیک اسی طرح کاواقعہ فروری میں  دہلی فساد کے دوران  بھی پیش آیاتھا،جسکو انگریزی  اخبار"انڈین ایکسپریس " نےشائع بھی کیاتھا،واقعہ یہ تھاکہ ایک ہندو کو فسادیوں  کی بھیڑنے گھیرلیاتھااوربڑی مشکل سے وہ وہاں  سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے،اسکےلئےانھیں  ہندو ثابت کرناپڑا،غالبااسی شخص کو پینٹ کھول کر اپنی مذہبی پہچان بتانےکےلئےکہاگیاتھا،ان واقعات سے اندازہ لگایاجاسکتاہےکہ حالات کتنے سنگین  اوربھیانک ہوچکےہیں ،ماحول  میں کس قدر نفرت گھول دیاگیاہے،ان  واقعات  سے کیا آپ کو نہیں لگتاکہ شدت پسند ہندو اور  ملک کی فرقہ پرست پولس  دونوں  شانہ بشانہ  چل رہےہیں ،اور یہ سب ایک منصوبے کےتحت ہورہاہے،پھرایسے حالات میں  کیا ہمیں اب بھی  خاموشی  اختیار  کرنی چاہئے؟کیا ہم  اب بھی بیدار  ہونےکےلئے تیار نہیں ہیں؟کیا ہم ہوش کے ناخن نہیں لیں گے؟
کیاہم اسی طرح خواب غفلت کامظاہرہ  کرتےرہیں گے؟یہ وقت ہمیں سنجیدگی ،متانت  اوربردباری کےساتھ  منظم لائحہ عمل طے کرنےاور غوروفکرکرنےکی دعوت دےرہاہے،کیاہم اسکےلئےتیارہیں؟جامعہ ملیہ  اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی  جنھوں  نے مایوسی  اور ناامیدی کے ماحول  میں   امیدکی کرن فراہم کی ،اپنےحقوق کی جدوجہد کےلئے لڑائی لڑنےکاحوصلہ عطاکیا،"تحریک  شاہین باغ" جو 100دن سےزائد چلنےوالی  دنیاکی سب سے بڑی ،مثالی اورمنظم تحریک ثابت ہوئی،ان سب  جگہوں  میں  سرگرم اورفعال رہنےوالے ہزاروں  نوجوانوں  کوصرف اسلئے " پس دیوارزنداں "کیاجارہاہے تاکہ پھرکبھی یہ  لوگ  اپنے حقوق  ،ناانصافی  اورظلم وستم کےخلاف آواز بلند نہ کرسکیں،کیاایسے  موقع پرقوم  کےان انمول  ہیرے  اور قیمتی  سرمایے کی حمایت میں ہماری مسلم تنظمیں اورہمارے قائدین ولیڈران آواز بلںد نہیں کرسکتے؟،انکی زندگیوں  کواجیرن بنانےسےنہیں روکاجاسکتا؟اگرہم یہ نہیں کرسکتے  تو پھر ہمیں سمجھناہوگاکہ ہم ایک مردہ قوم ہیں، اور ایک  میت سے زیادہ ہماری  کوئی  حیثیت  اوراقات نہیں ہے،اگرآج ہم نے ان نونہالوں  کی حفاظت نہ کی  اور انکی حمایت میں کھڑے نہ ہوئے،انکے خلاف ہورہےپولس کی بربريت  ،مصائب وآلام کےخلاف آواز نہ اٹھاسکے توکل ہمارے حقوق  کی بازیابی  کےلئے  کوئی آگے نہ آسکےگا،یھراس وقت ہماری ہرآواز صدابصحراثابت ہوگی ،جسکی  ایک پیسے کی کوئی حیثیت  نہیں ہوتی،کچھ دنوں قبل عالمی سطح پر مذہبی آزادی پرنظر رکھنےوالی  امریکی  ایجنسی  یوایس  کمیشن  آن انٹرنیشنل  ریلیجیس  فریڈم (یوایس سی آئی آرایف)نے بھارت سے کورونا وائرس  کی اس مہاماری کےدرمیان   متنازعہ  شہریت  ترمیمی قانون   کی مخالفت کرنےوالے گرفتار  مسلم نوجوانوں کورہاکرنےکی اپیل کی ہے،اپنے ٹویٹ پیغام میں اس کمیشن نے کہاہےکہ کووڈ19 کےاس دورمیں ایسی رپورٹ  آئی ہےکہ بھارتی حکومت   سی اےاے کی مخالفت کرنےوالے مسلم مظاہرین   کوبڑی تعداد میں گرفتار کررہی ہے،جس میں صفورا زگربربھی ہیں جو حاملہ ہیں ایسے وقت میں بھارت کو چاہئےکہ  وہ انھیں رہاکرے،اوران لوگوں کو نشانہ نہ بنائے جو احتجاجی  مظاہروں کےذریعے  اپنےجمہوری حقوق   کااستعمال کررہےہیں ،یادرہے  27سالہ صفورا  جامعہ ملیہ کی طالبہ ہیں  دہلی پولس نے شہریت ترممیمی قانون کےخلاف  ہونےوالےمظاہروں میں  شامل ہونےکی وجہ سے  10اپریل کوانھیں گرفتارکرلیاتھاجسکی  وجہ ابھی تک وہ جیل میں ہیں،اسکےعلاوہ اس کمیشن نے گرفتار کئےگئے تمام لوگوں  پرافسوس  کااظہاربھی کیاتھا،یہ ایک خوش آئند خبرہے لیکن یہ  ہرگز کافی نہیں ہے،ہمیں اپنے حقوق  کی لڑائی خودسے لڑنی ہوگی اور اسکےلئےمنظم ومتحدہوکرآوازبلند کرناہوگا،مسئلہ اسی  وقت حل ہوگاجب ہم خود اسکےلئےآگےبڑھیں گےورنہ تو کوئی  قابل قبول حل نکلنا مشکل ہے،شاید ایسےہی موقع کےلئےکسی شاعر نےکہاہےکہ
زمانہ جب کبھی  بارود کی بوچھار بنتاہے
ہمارا حوصلہ فولاد کی دیوار بنتاہے
تمہارا ظلم کافی ہےہمیں بیدارکرنےکو
جولوہا ضرب سہتاہے وہی تلواربنتاہے


(مضمون نگار کل ہندمعاشرہ بچاؤ تحریک کےجنرل سکریٹری ہیں)

sarfarazahmedqasmi@gmail.com

بنکروں کو محکمہ بجلی کے ذریعے ہراساں کرنے کے خلاف ہوگا آندولن: حاجی افتخار ٹانڈه/امبيڈکرنگر:4/جون 2020 آئی این اے نیوز رپورٹ! معراج احمد انصاری

بنکروں کو محکمہ بجلی کے ذریعے ہراساں کرنے کے خلاف ہوگا آندولن: حاجی افتخار 

ٹانڈه/امبيڈکرنگر:4/جون 2020 آئی این اے نیوز
رپورٹ! معراج احمد انصاری
لاک ڈاؤن نے پورے ریاست کے بنکروں کی حالت کو مزید خراب کردیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار آج اترپردیش بنکرسبھا کے صدر حاجی افتخار احمد انصاری نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے ریاست میں لاکھوں پاورلوم خاموش ہیں اور اس کے ذریعہ تیار کپڑے بھی فروخت نہ ہونے سے ڈمپ پڑے ہیں۔ جس سے بنکر فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات حکومت کو چاہئے کہ بنکروں کے لئے کچھ راحت دینے کی بات کرے، بلکہ اس کے برخلاف محکمہ بجلی کے ذریعے سے ہراساں کرنا ہی شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے محکمہ بجلی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بجلی ریگولیٹری کمیشن کے ذریعہ منظور شدہ ٹیرف کے مطابق محکمہ بجلی کی جانب سے فلیٹ ریٹ بجلی کے بل کو نہ جمع کرنے کے بجائے محکمہ من مانے ڈھنگ سے اور بوگس بلوں کو بنا کر پاورلوم بنکروں کو قرضدار بنا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے اب بنکروں کے پاس آندولن کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کے سبب ریاست بھر کے پاورلوم پہلے سے ہی بند ہے، اگر محکمہ بجلی نے بنکروں کو ہراساں کرنے سے باز نہ آیا اور جبراً پاورلوم بنکروں کے پاس بک کو ختم کردیا۔ تو مجبوراً بنکر اپنے پاورلوم کو غیر معینہ مدت کے لئے لاک ڈاؤن کرنے پر مجبور ہو جائنگے۔ انہوں نے ریاست کے تمام بنکر نمائندوں کو اس کی اطلاع کرتے ہوئے کہا ہےکہ کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے کوئی ملاقات ممکن نہیں ہے اس لئے حاجی افتخار نےسبھی سے گزارش کی ہے کہ اس معاملے کو ایک میٹنگ کے طور پر لیں اورغورکرنے کے بعد آئندہ کی تحریک کا فیصلہ کرنے کے لئے اپنے قیمتی مشورے سے نوازیں۔

ملک میں ٹڈی دل کا حملہ لوگوں کے لئے عبرت مولانا شمس الدین اسلامی

ملک میں ٹڈی دل کا حملہ لوگوں کے لئے عبرت مولانا شمس الدین اسلامی

آج کل ہم، آپ اور تقریبا پوری دنیا کورونا وائرس سے پریشان ہیں۔  ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ لوگ اس دنیا کو چھوڑ چکے ہیں یعنی مر چکے ہیں ان خیالات کا اظہار مولانا محمد شمس الدین اسلامی  نےکہا کہ
    بھارت کے اندر بھی لوگ کورونا سے پریشان حال ہیں ساتھ ہی  مئی کے مہینے میں کچھ اسٹیٹ کے اندر ٹڈی دل کا حملہ ہوگیا ہے جیسے کہ راجستھان ،مدھیہ پردیش، یوپی، ان جگہوں پر ٹڈیوں نے حملہ کیا  کہا جاتا ہے کہ 27 سال کے بعد اتنا بڑا حملہ ہوا ہے۔
آئیےغور کرتے ہوئے چلیں ! اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی نشانیاں مختلف طریقے سے لوگوں کو  دکھاتا ہے تاکہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع ہوں جیساکہ  اللہ تعالیٰ نے نشانیوں کے طور پر ٹڈیوں کو فرعون کے پاس بھیجا تھا لیکن فرعون نے تکبر کرتے ہوئے اللہ کی نشانیوں کاانکار کیا ۔
 قرآن کریم کے اندر اللہ نے  بیان کیا ہے کہ ہم نے اس کے اوپر طوفان بھیجے،ٹڈیاں بھیجی، جوں بھیجی ،مینڈک بھیجے، خون بھیجے، واضح نشانیاں، لیکن ان لوگوں نے تکبر کیا
  لیکن آج جو ٹڈیاں کھیتوں کو بربادکرتے نظر آ رہی ہیں  گھروں میں گھس رہی ہیں اور لوگوں کی زندگی دوبھر کر دی ہیں ۔غور کریں کہ اللہ تعالیٰ کے اس چھوٹے سے لشکر کے سامنے انسان کس قدر  بےبس و بدحال نظرآتا ہےتو پھر بڑے بڑےعذاب سے انسان کیوں غافل ہو چکا ہے !! ڈریے اللہ کے قہر سے ، توبہ کیجئے اپنے گناہوں سے اور لوٹ جائیے اپنے رب کی طرف ۔
 قرآن کریم کے اندر یہ کہا گیا ہے کہ لوگ ٹڈیوں کی طرح قبروں سے نکلیں گے ۔
   آخر کیوں تسبیح دی گئی! آپ ٹڈی دٙل کو دیکھ لیجئے اور قیامت کے منظر کو یاد کیجئے    لوگ اسی طرح سے اپنی قبروں سے نکل کر بھاگ رہے  ہونگےاور حشر کی میدان میں جمع کیے جائیں گے۔اسلئے ٹڈیوں سے مثال دی گئی ہیں ۔
تو میرے بھائیوں یہ جو ٹڈیاں ہیں قیامت بھی یاد دلا رہی ہیں ہم اور آپ قیامت کی ہولناکی کو بھی یاد کرلیں ۔

گھر اور گھرانہ تحریر ۔۔۔۔۔ امانت اللہ سہیل تیمی مترجم: دعوت و ارشاد سینٹر المطعن سعودی عرب


گھر اور گھرانہ

تحریر ۔۔۔۔۔
امانت اللہ سہیل تیمی
مترجم: دعوت و ارشاد سینٹر المطعن سعودی عرب

یہ امر مسلم ہے کہ انسانی ضرروتوں میں ایک اہم آدمی کے پاس اپنا گھر ہونا ہے اگر آدمی کے پاس گھر نہ تو وہ بہت پریشان ،متفکر اور آسمان تلے سونے پر لاچار و بےبس در در مارا بھٹکنا پھرتا رہتا ہے کیونکہ زندگی کا لازمی حصہ گھر کا ہونا ہے جس کے بغیر جیون ادھورا ہے
یہ حقیقت ہے کہ وہ آدمی خوش نصیب تصور کیا جاتا ہے جس کے پاس سر کے اوپر چھت ،دو وقت کی روٹی اور تن چھپانے کو کپڑے میسر ہوں یہی وجہ ہیکہ آدمی جیون بھر تد ودو بھاگ دوڑ اور مصائب ومشکلات کو برداشت کر اک گھر بناتا ہے تاکہ وہ ماں باپ ،بیوی اور بچوں کے ساتھ  سکون و آرام سے زندگی بسر کرسکے
اپنی انتھک محنتوں کے سبب جب اپنے جھونپری نشیمن اور آشیانہ کی طرف دیکھتا ہے تو اسے معمولی سا گھر بھی سپنوں کا  سیش محل معلوم پڑتا ہے
ہمیں سوچنا چاہیئے ایسے لوگوں کے بارے میں جو فٹ پاتھ ،سڑکوں، شاہراہوں، پارکوں اور آسمانوں تلے سونے آرام کرنے اور سہارا لینے پر مجبور ہوتے ہیں بسا اوقات ہم کسی کی زبان  سے یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ میرے پاس گھر نہیں ہے اسی لئے کبھی فلاں کے گھر تو کبھی ہوٹل ،شاہراہ ،پارک اور فٹ پاتھ  پر سوکر رات گزار لیا کرتا ہوں
بڑا ہو یا چھوٹا اچھا ہو یا برا خوبصورت ہو کہ نہیں محل نما ہو کہ جھونپڑی نما اپنی بساط بھر آشیانہ نشیمن اور گھر تو ہر مخلوق کے پاس ہوتا ہے اسی آشیانہ کو اپنا مقدر جان زندگی کے شب و روز گزارتے ہیں گھر جیسا بھی ہو اپنا ہو تو زندگی بڑے لطف اور آرام سے گذرتی ہے
 کھانے پینے سونے اور آرام کرنے کے واسطے گھر ایک بیش بہا نعمت ہے  جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا [واللہ جعل لكم من بيوتكم سكنا] اور اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو سکون کی جگہ بنایا ہے (النحل٨٠)
گھر سر چھپانے ستر عورت مال و اولاد اور عزت نفس کی ضامن شئ ہے
محترم قائین
گھر خوبصورت اور محل نما ہو  در و دیوار ہیرے جواہرات اور زمرد ویاقوت سے مزین ہو یہی کافی نہیں بلکہ اصلی خوشی اس میں مضمر ہیکہ گھر کو شاد و آباد  پر رونق اور مبارک جبکہ نحوست سے پاک بنایا جائے کیونکہ مومن کا گھر یاقوت وزمرد ہیرے جواہرات اور شیش ولعل سے بنایا نہیں ہوتا بلکہ وہ گھاس پہوس اور لکڑیوں کا معمولی سا گھر ہوتا ہے جس میں اللہ تعالی کی پاکی، بڑائ اور کبریائ بیان کرتے کرتے زندگی  کے لمحات یاد الہ میں بسر کرتے ہیں
تو آئیے چند زریں اصولوں پر نظر ڈالتے ہیں جس پر عمل پیرا ہونے کی قدرے اشد ضرورت ہے
١: - تحقیق عبودیت رب اور تقوی
گھر کو خوبصورت اور گھرانے کی صلاح و فلاح کے لئے اللہ سبحانہ وتعالی کی  وحدانیت ، عبودیت ، تقوی ،اور خشیت و للہیت کو محقق کیا جائے کیونکہ للہیت اور عبودیت رب کی تحقیق سے ہی اولاد ،اھل اور نسل کی حفاظت مقدر ہے اور یہی وہ پودا ہے جس بناپر اخلاق و آداب، کردار و عادات اور صفات حمیدہ سے متصف بنایا جاسکتا ہے اور صفات رزائل اور منکرات اعمال سے دوری اختیار کیا جا سکتا ہے ۔
٢: گھر میں نماز قائم کرنا
گھر اور گھرانے کی  کامیابی اور حصول سعادت  کے لئے گھر میں نماز قائم کرنا انبیاء وصالحین کا طریقہ رہا ہے  جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے گھروں میں نماز قائم کرنے کے سلسلے میں فرمایا[وامر أهلك بالصلاة واصطبر عليها] اپنے گھر والے کو نماز کا حکم دو اور اس پر صبر کرو جمے رہو (طه ١٣٢)
اسی طرح موسی علیہ السلام کا قصہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا [واوحينا الي موسي وأخيه أن تبوءا لقومكما بمصر بيوتا  واجعلوا بيوتكم قبلة وأقيموا الصلاة وبشرالمومنين ]
اور ہم نے موسی اور اسکے بھائ کے پاس وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنے ان لوگوں کے لئے مصر میں گھر برقرار رکھو اور تم سب اپنے انہی گھروں کو نماز پڑھنے کی جگہ قرار دے لو اور نماز کے پابند رہو اور آپ مومنوں کو خوشخبری دے دیں( یونس ٨٧)
صحیحین میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ "افضل صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة"
"افضل نماز فرض کے علاوہ آدمی کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا ہے"
 اور اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " إذا قضي أحدكم الصلاة في مسجده فليجعل نصيبا من صلاته فان الله جاعل في بيته من صلاته خيرا " جب آدمی مسجد میں اپنی  نماز پوری کرلے تو اپنی نماز کا کچھ حصہ گھر میں پڑھے اس لئے کہ اللہ اس کی نماز کو بہتر بنائے گا جو اس نے گھر میں ادا کیا ہے
ابن ابی شیبہ سے مروی حدیث بھی اسکی دلیل ہے جسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے "تطوع الرجل في بيته يزيد علي تطوعه عند الناس" آدمی کا اپنے گھر میں نفل کی ادائیگی کرنا لوگوں کے مابین اسکے مرتبہ کو بڑھاتا ہے
اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ
 " کان رسول الله صلي الله عليه وسلم يصلي من الليل فإذا أوتر قال قومي فأوتري يا عائشة  "
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے پہر جب وتر پڑھتے تو کہتے اے عائشہ کھڑی ہوجا اور وتر ادا کرو (رواه مسلم )
اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  "رحم الله رجلا قام من الليل فصلي فأيقظ امرأته فصلت فإن أبت إلا نضح في وجهها من الماء "اللہ رحم کرے اس آدمی پر جو رات میں کھڑا ہوا پہر نماز پڑھی چنانچہ اس نے اپنی بیوی کو جگایا تو وہ بھی نماز پڑھی لیکن جب وہ جاگنے سے انکار کی تو وہ اس کے منہ پر پانی بہا دیا ( رواہ ابوداود صححه البانی)
محترم قارئین : آج ہمارے گھروں کی حالت نہایت دیگر گوں ہے نوافل تو دور فرائض کی ادئیگی میں لوگ کوتاہ اور کاہل ہیں ۔
کورونا وائرس عالمی وبا کی وجہ سے بیشتر ملکوں  میں نافذ لاک ڈاون نے مسلم دنیا کو گھر میں نماز کی اہمیت کا احساس دلایا ساتھ ہی دینی تعلیم و تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت کو محسوس کرادیا ۔
٣: گھروں میں اللہ کا ذکر
گھر کی صلاح وفلاح کے لئے اللہ کا ذکر ضروری امر ہے گھر میں قران کی تلاوت، ذکر و اذکار اور تعلیم وتربیت کا اہتمام نہ ہو تو گھر بے رونق قبرستان نما بن جاتا ہےاسی لئے مسلمان اپنے گھر یا منزل میں داخل ہونے پہلے "بسم اللہ " پڑھے اور سلام کرے گرچہ کوئ ہو یا نہ ہو حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہےاور داخل ہوتے وقت اللہ کو یاد کرتا ہے اور کھانا کھاتے وقت بھی" بسم اللہ " کہتا ہے تو شیطان آپس میں کہتا ہے کہ آج تمہارے لئے نہ یہاں رہنے کی جگہ ہے اور نہ کھانا اور جب وہ داخل ہوتے وقت اللہ کو یاد نہیں کرتا تو شیطان  اپنے دوسرے شیطان کو کہتا ہے کہ آج تمہیں یہاں رہنے کی جگہ اور کھانا بھی مل گیا صحیح مسلم( ٢٠١٨)
آدمی کا اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کو یاد کرنا شیطان سے بچاؤ اور حفاظت کا سبب ہے جب وہ اللہ کو یاد نہیں کرتا ذکر الہی سے غفلت برتتا ہے تو شیطان ہی اس کا قرین اور دوست ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اس کے کھانے پینے سونے جاگنے اٹھنے اور بیٹھنے میں بھی شریک ہوجاتا ہے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے [ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض له شيطانا فهو له قرين وانهم ليصدونهم عن السبيل ويحسبون أنهم مهتدون]
اور جو کوئ رحمان کی یاد سے غفلت کرے ہم اس پر شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہو جاتا ہے  اور یہ انکو سیدھے راستے سے روکتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سیدھے راستے پر ہیں (الزخرف ٣٦ ۔٣٧)
یہی وجہ مسلمانوں کو گھر میں داخل ہوتے ہی سلام کرنے کی تعلیم دی گئ ہے جیساکہ فرمان باری تعالی ہے [فإذا دخلتم بيوتا فسلموا علي أنفسكم تحية من عند الله مبركة طيبة ]اور جب اپنے گھروں داخل ہونے لگو تو اپنے گھر والوں کو سلام کر لیا کرو دعائے خیر ہے جو بابرکت اور پاکیزہ ہے (النور ٦١)
معاملہ حیرت انگیز ہے کہ لوگ ناداں سب کو سلام کریں گے لیکن جب گھر آئیں گے تو  منہ لٹکائے ترش روئ اختیار کئے ہوے آخر لوگ اپنے ہی اہل خانہ بیوی اور بچوں کو  سلامتی کی دعا سے محروم کیوں کردیتے ہیں جب کہ سلام تو محبت رحم دلی اور رفق ونرمی کو جلا بخشتا ہے
حضرت ابو امامہ باھلی رضی اللہ عنہ بیاں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے ہی سلام کرتا ہے تو اس کو اللہ کی ضمانت حاصل ہے( صحیح الترغیب٣٢١) (الإحسان بترتيب صحيح ابن حبان ٤٩٩)
اللہ کی حفاظت، نگہبانی ، توفیق اور شیطان کو بھگانے کے لئے سورہ بقرہ کی آخری دوآیتوں کی تلاوت کرنی چاہیئے کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " لاتجعلوا بيوتكم مقابر إن الشيطان ينفر من البيت الذي تقرأ فيه سورة البقرة "اپنے گھروں کو قبرستان مت بناو بیشک شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے(مسلم) 
تین دن تک جس گھر میں سورہ بقرہ پڑھ لیا جائے شیطان قریب نہیں ہوتا ہے حديث کے الفاظ ہیں" وأنه انزل منه آيتين ختم بهما سورة البقرة ولا يقرآن في دار ثلاث ليال فيقربها الشيطان "
آسمان و زمین کے تخلیق سے قبل ہی سورہ بقرہ کے آخری دو آیتوں کو شیطان بھگانے کا ذریعہ بنادیا
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ  ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ" مثل البيت الذي يذكر الله فيه والبيت الذي لا يذكر الله فيه مثل الحي والميت "
جس گھر میں اللہ کا ذکر  ہوتا ہے اور جس میں نہیں ہوتا اس کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے
تلاوت کلام اللہ اور ذکر واذکار کے بغیر مردوں کا بسیرا گھر  قبرستان ہے
٤:احساس رعایت اور تعليم وتربيت
گھر کی اصلاح کے لئے گھرانے کی اصلاح پر توجہ دینا از حد ضروری ہے گارجین حضرات کو چاھئے کہ اپنے بیوی بچوں کو  اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرے اچھی بری چیزوں پر نظر رکھے خیر وفلاح اور امر بالمعروف کرے اور شر منکرات سے خود بھی دور رہے اور سب کو دور رکھے کیونکہ   انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " إن الله سائل كل راع عما استرعاه احفظ ذلك أم ضيعه حتي يسأل الرجل عن اهل بيته" اللہ تعالی ہر راعی سے رعیت اپنے ماتحت  کے  بارے میں سوال کریگا چاہے تو اسے یاد رکھے یا اسے ضائع کردے یہاں تک کہ آدمی سے اپنے گھر کے بارے میں بھی سوال کریگا (رواہ النسائ ابن حبان و صححه الباني)
اسی قبیل سے قران کی یہ آیت بہت اہم ہے [يايها الذين قوا أنفسكم و أهليكم نارا]  اے مومنو خود کو اور اپنے اھل کو جہنم کی آگ سے بچاؤ (التحریم ٦)
گھر کو بربادی اور تباہی سے بچانے کے لئے اھل اور نسل کو صحیح اسلامی تعلیم و تربیت دیں لیکن مغربی تہذیب کے دام فریب میں نہ پہنسیں وہ کہتے کہ 'بچوں کو آزاد چھوڑدو  وہ غلطی کرے منحرف ہوجائے حتی کہ ملحد بھی ہوجائے مگر جب اس پر حقیقت واشگاف ہوگی تو وہ خود غلطی پر پچھتاکر تائب ہوجائے گا'
 اللہ ہمارے گھر بار کی حفاظت فرمائے اور گھرانے کی اصلاح فرمائے آمین

جین پور: سڑک حادثے میں بائک سوار کے پاس سے ملی بند پرانی نوٹ، پولیس نے لیا حراست میں!

 جین پور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 4/جون 2020) جین پور کوتوالی کے علاقہ میں اعظم گڑھ گورکھپور مین روڈ پر رسول پور نرائی پور گاؤں کے قریب بدھ کی دوپہر دو بائک آپس میں ٹکرا گئیں،
حادثہ کی آواز دور تک پہنچی تو لوگ بچانے کیلیے موقع پر پہنچ گئے، وہاں پر سڑک پر پڑے پرانے کرنسی کے گڈّی دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں پھٹ گئیں۔
  موقع پر جین پور پولیس نے سات لاکھ بند ہوئی پرانی نوٹ اور بائیک بھی اپنے قبضہ میں کرلیا۔  موٹرسائیکل سوار نوجوانوں اور شہر کے ایک تاجر سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
 انکور یادو (21) ولد رام آشرے یادو اور ڈبو کمار (19) ولد چھیدی رام ، جو شہر کے ایلول محلہ کے رہائشی ہیں، بدھ کی سہ پہر گورکھپور سے اعظم گڑھ جارہے تھے، رسول پور پٹرول پمپ کے قریب پہنچا تھا، کہ بائک ایک دوسرے بائک سے ٹکرا گئی، موٹرسائیکل سوار دونوں زخمی ہوگئے۔  اس کی موٹرسائیکل میں رکھی پرانی نوٹ کی گڈّی سڑک پر بکھر گئی۔  گاؤں والے بھی نوٹوں کے بنڈل دیکھنے آئے، لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔  جین پور کوتوال گجانند چوبے موقع پر پہنچ گئے، سڑک پر بکھرے ہوئے پرانی کرنسی اپنے قبضے میں لے لیے،  یہاں سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے دو زخمی نوجوانوں کو پولیس نے پکڑ لیا.
کوتوال نے بتایا کہ مذکورہ دونوں نوجوانوں سے جو پرانی کرنسی موصول ہوئی ہے اس میں سے پانچ پانچ سو کے پاس 1004 کے نوٹ اور ایک ایک ہزار کے 198 نوٹ ہیں۔

ندوةالعلماء کے امتحانات سے لیکر لوکڈاؤن کے سفر تک!

تحریر: محمد سرتاج
 میری ڈائری.
قسط اول.
2019 اور 2020 کے سال جہاں دیگر شعبہاۓ حیات میں ناکامی کا شکوے کررہے تھے,وہیں دوسری طرف تعلیمی اعتبارسے ناقص وناتمام نظر آرہے تھے,کہ اسی دوران جب ندوةالعلماء کےامتحانات کی صداہمارے ساتھیوں کے کانوں سے ٹکڑائ تو انکے سروں پر پریشانی وسراسیمگی کے بادل منڈلانے لگے کہ آنے والا وقت کونسی قیامت کی گھڑی لائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
 ابھی اسی  عالم اضطراب کے نشیب وفراز وادیوں کو عبور کرہی رہےتھے کہ ندوۃ العلماء نے لاکڈاؤن اور موجودہ مہاماری کے مد نظر اپنی شاخوں تک دیرینہ روایت کے مطابق مقرر کردہ  امتحانات ہال میں امتحان کے نا ہونے کی خبر موصول کردیا،اور اسی کے ساتھ اس بات کا بھی اعلان کیا کہ اپنے اپنے اداروں ہی میں آخری درجے کے امتحان کا انتظام کیا جاۓ،اوروہیں دوسری طرف حکومت نے بھی تمام تر کالجز، مدرسے، یونیورسٹیز اور سرکاری اداروں کو فوری طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا،

 جس کے پیش نظر ہمارے ادارے کی انتظامیہ فوری اقدام کرتے ہوۓ ادرارے کے تمام طلبہ سواۓ عالیہ ثانیہ کے،کو اپنے اپنےگھر جانے کا حکم صادر کیا ۔

   اسو قت کی کیفیت ایک عجیب سی کیفیت تھی ۔۔۔۔کچھ وطن مالوف پہونچنے کی خوشی میں مست ومگن  تھے تو کچھ کواپنے دوستوں سے جدا ہونے نے  رنج و غم کا مجسمہ بنا دیا تھا۔
 جہاں تک ہمارے  ساتھیوں کی چھٹی کا تعلق تھا توبعدازباھمی مشورہ یہ طے پایا کہ قبل از روانگی وطن مراحل امتحان کو عبور کرلیا جاۓ۔
 کسی کو کیا معلوم تھا کہ تقدیر ان سے روٹھ چکی ہے، کرونا کی حکومت پورے ملک پر راج کررہی ہے، اس کا ظلم لوگوں پر حد سے تجاوز کر چکا ہے ،اور قفل بندی نے پورے عالمی سطح پر اپنا قبضہ جما لیا ہے۔



ہاں جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی ظالم وائرس جس نے نوع انسانی کے وجود کو مٹانے کا تہیہ کر لیا تھا،وہ چہرے جو خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے ان پر یاس وقنوت کے اثرات نمودار تھے، وہ آرزوئیں جو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنا چاہتی تھی قفل بندی نے ان کا گلا گھونٹ دیا تھا، وہ امنگیں  جو والدین کی شوق زیارت میں مچل رہی تھیں ان کو روند دیا گیا تھا۔

جا ری۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, 3 June 2020

72گھنٹہ بعد بھی ندی میں زندہ پھینکی گئی معصوموں کی لاشوں کو نہیں برآمد کر سکی یس ڈی آر یف کی ٹیم گاؤں، ورشتہ داررں کی آنکھوں میں آنسو، زباں خاموش، معصوم بچیوں کی ماں کی حالت نازک!

رپورٹ عقیل احمد خان
_____________
دھن گھٹا/سنت کبیر نگر(آئی این اے نیوز 3/جون 2020) تھانہ دھن گھٹا واقع موضع ڈیہواں ( سنچرا بازار)  گزشتہ دنوں ایک حیوان باپ نے اپنی تین معصوم بچیوں کو گھاگھرا ندی بیڑ ہر گھاٹ پل سے زندہ پھینکنے کی بات روشنی میں آتے ہی ایک طرف جہاں زندہ دل انسان سمیت ساری انسانیت کو جھنجوڑ کر رکھ دینے والا واقعہ رونما ہوا  وہی پھینکی گئی ندی میں معصوموں کی لاش
72گھنٹہ بعد بھی  نہیں مل سکی ہے جبکہ واردات کے کچھ ہی گھنٹے بعد سے پولیس کپتان برجیس سنگھ کے حکم پر علاقائی غوطہ خوروں سمیت یس ڈی آر یف کے جوان تین تین ٹیموں کو تشکیل دے کر لگاتار ندی میں لاشوں کی تلاش کرنے میں پوری طاقت جھونک رہے ہیں
  خبروں کے مطابق مقامی تھانہ حلقہ واقع موضع ڈیہواں سرفراز احمد ولد سہراب اپنے ساتھی نیرج ولد مہیندر موریہ کی مدد سے اپنی تین معصوم بچیاں صبا8 ثنا،5 شمع2 کو دوا لانے کےبہانے موٹرسائیکل پربٹھا کر گھاگھرا ندی بیڑ گھاٹ پل سے گزشتہ  31مئی کی دیر شام زندہ پھینک دیا ہے
ندی میں معصوم بچیوں کو زندہ پھینکے کی بات جب پولیس انتظامیہ اور علاقائی لوگوں کو ہوئی تو حیوان باپ کے کالی کرتوت پر لوگوں کے پاؤں کے نیچے زمین کھسک گئی موقع واردات پر پہنچے پولیس کپتان سنت کبیر نگر برجیس سنگھ نے فوری طور پر یس ڈی آر یف ٹیم طلب کر گھاگھرا ندی میں زندہ پھینکے گئے معصوموں کی لاشوں کو تلاش کرنے میں لگا دیا
 یس ڈی آر یف کی تین ٹیمیں حادثے کے 12گھنٹے بعد سے ہی لگاتار گھاگھرا ندی میں تقریبا 30کلو میٹر کے رینج کمہر یا گھاٹ سے مشرق 20کلو میٹر دور تک یس ڈی آر یف کے جوان لگاتار لاشوں کے تلاشی کا کا م جاری رکھےہوئے ہیں لیکن 72گھنٹہ بعد بھی معصوموں کی لاش نہیں برآمد ہوسکی ہے جبکہ یس ڈی آریف ٹیم کے ساتھ معصوم بچیوں کے ماموں سمیع اللہ و نیماوا پوسٹ میر گنج تھانی کوتالی خلیل آباد گاؤں کے قاضی استخار احمد، مقبول احمد، سراج احمد، اعجاز احمد، عمید اللہ، محمد زماں سمیت گاؤں کے درجنوں سے زائد افراد آنکھوں میں آنسو زباں پر خاموشی لئے ہوئے یس ڈی آر یف ٹیموں کو خالی ہاتھ آتے ہوئے ٹکٹکی لگائے دیکھنے کے بعد مایوس ہوجاتے ہیں اور خدا کانام لیتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو ایک بار پھر روانہ ہوجاتے ہیں
گاؤں ورشتہ داروں کا کہنا یے کہ حیوان معصوموں کاباپ پولیس کو ابھی بھی گمراہ کر رہا ہے حالات کے پیش نظر حیوان باپ نے معصوم بچیوں کو یا تو کہیں فروخت کردیا ہے یاپھر کہیں دوسری جگہ پر مار کر پھینک دیا ہے اس سلسے میں پولیس کپتان برجیس سنگھ سے بات کرنے پر بتایا کہ معصوموں کی لاشوں کو تلاش کرنے کے لئے یس ڈی آر یف کے جوانوں کو لگا دیا گیا ہے
پولیس ہر پہلو پر نظر بنائے ہوئے ہے انھوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ندی میں پھینکنے گئے معصوموں کی لاشوں کو بر آمد کرنے کی پولیس کی جانب سے بھر پور  کوشش کی جارہی ہے اور حیوان باپ سمیت مدد گار نیرج موریہ پولیس حراست میں ہے برابر پولیس پوچھ تاچھ کررہی ہے.

*مایوسی کے حصار سے باہر نکلیے* *✍کامران غنی صبا*

*مایوسی کے حصار سے باہر نکلیے*
*✍کامران غنی صبا*
اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں ان کی محنت کا حق نہیں مل سکا. کسی کو گلہ ہے کہ اسے اس کی لیاقت کے مطابق ملازمت نہیں ملی، کسی کو شکایت ہے کہ اس کے کسی اپنے نے اس سے جفاشعاری کی. کوئی اپنی قسمت پر آنسو بہاتا ہے تو کچھ لوگ اپنے ماضی میں گم ہو کر اپنے مستقبل کو داؤ پر لگائے بیٹھے ہیں. میری یہ پوسٹ ان نوجوانوں کے لئے بطور خاص ہے جو مایوسی کے حصار سے باہر آنے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن باہر نہیں آ پاتے.
اگر آپ کے پاس "دولتِ ایمان" ہے تو یاد رکھیے کہ دنیا کی کوئی طاقت آپ کو مایوس نہیں کر سکتی. یہ ایمان روحانی بھی ہو سکتا ہے اور مادی بھی. مادی ایمان کو آپ High Level of Confidence کہہ سکتے ہیں. ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جیسا وہ مجھ سے گمان رکھے (ویسا ہی اس کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے). اس حدیث کی روشنی میں اگر آپ جائزہ لیجیے تو واقعی ایسا محسوس ہوگا کہ ہم جیسا سوچتے ہیں، جس طرف ہمارا جھکاؤ ہوتا ہے، جیسی ہماری سوچ ہوتی ہے... ہمیں ماحول بھی ویسا ہی ملنے لگتا ہے. آپ نے غور کیا ہوگا کہ جو لوگ خوش مزاج ہوتے ہیں انہیں ہنسنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ مل ہی جاتا ہے اس کے برخلاف ضرورت سے زیادہ سنجیدہ رہنے والے اور غم و مایوسی کی کیفیت کو اپنے اوپر مسلط رکھنے والے لوگ ہنسی مذاق کی باتوں کو بھی سنجیدگی میں لے کر ہنسنے مسکرانے کا موقع بھی ضائع کردیتے ہیں. جھگڑالو مزاج کے لوگوں کو لڑنے جگھڑنے کے ہزاروں بہانے مل جاتے ہیں وہیں محبت بانٹنے والے لوگ ہزاروں گلے شکوے کو ایک مسکراہٹ سے زائل کر دینے کا ہنر جانتے ہیں.
اسی طرح جو لوگ جادو ٹونا وغیرہ پر یقین رکھتے ہیں وہ چھوٹی موٹی بیماریوں کو بھی جادو سحر کا اثر سمجھ کر اسی میں گھرے رہتے ہیں اور بسا اوقات بدگمانی کا شکار ہو کر اچھے خاصے تعلقات تک بگاڑ لیتے ہیں. حالانکہ قرآن کا بہت واضح فرمان ہےکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں.
کچھ لوگ اس بات کے غم سے نڈھال رہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے کسی شناسا کے ساتھ احسان کیا اور اس کے شناسا نے جفاشعاری کی..اکثر اوقات وہ اپنی نجی گفتگو میں اس کا ذکر کر کے مخاطب کی ہمدردی حاصل کرنے کی شعوری کوشش بھی کرتے ہیں. ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ احسان جتا کر وہ اپنے سارے کیے کرائے پر خود ہی پانی پھیر رہے ہیں. اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے. اگر ہمارا ایمان ہے اور یقیناً ہے کہ اللہ کا وعدہ نعوذ باللہ غلط ہو ہی نہیں سکتا تو ہمیں احسان جتانے کی بجائے اپنے اندرون میں مطمئن ہونا چاہیے کہ ہمیں ہمارے احسان کا بدلہ مل کر رہے گا.
ہم اکثر اوقات چھوٹی چھوٹی مایوسیوں کو جمع کر کے مایوسیوں کا ایک عظیم الشان محل تعمیر کر چکے ہوتے ہیں اور پھر اس محل سے باہر نکلنے کی کوشش بھی نہیں کرتے. اگر آپ مایوسی کے حصار سے باہر آنا چاہتے ہیں تو اپنے ایمان کو پختہ تر کر لیجیے. اللہ اپنے محبوب بندوں کو کبھی مایوس کر ہی نہیں سکتا.
..................

دارالعلوم وقف دیوبند میں امسال نہیں ہوں گے جدید داخلے ! نئے تعلیمی سال کے متعلق مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے جاری کی ضروری ہدایات

دارالعلوم وقف دیوبند میں امسال نہیں ہوں گے جدید داخلے !
نئے تعلیمی سال کے متعلق مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے جاری کی ضروری ہدایات
دیوبند ۔ 03؍ جون 2020 (سمیر چودھری)
عظیم دینی دانش گاہ دارالعلوم وقف دیوبند کی جانب سے نئے تعلیمی سال کے لئے اعلان جاری کرکے طلبہ کے لئے ہدایات جاری کی ہیں ۔ ادارہ کے مہتمم حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی کی جانب سے جاری اعلان میں انہوں نے کہا کہ عالمی وباء کوروناوائرس کے تناظر میں ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں ہوئی تخفیف اور رعایت کے بعد تعلیمی سرگرمیوں کے آثار بھی بہ ظاہر مفتوح ہوتے نظر آرہے ہیں ، جس کی بناء پر امید کی جارہی ہیکہ جلد ہی مدارس میں بھی تعلیمی سلسلہ کا آغاز ہوجائے گا ، انشاء اللہ ۔ چنانچہ اسی پس منظر میں دارالعلوم وقف دیوبند نے تعلیمی سال نو کیلئے اپنی سرگرمیوں کے تعلق سے سردست یہ لائحہ عمل طے کیا ہیکہ حسب فیصلہء سابق کسی بھی جماعت میں جدید داخلے نہیں ہوں گے ، قدیم طلبہ کیلئے یہ طے پایا ہیکہ تمام جماعتوں بشمول تکمیلات وتخصصات میں امتحان ششماہی کے نمبرات ہی امتحان سالانہ میں محسوب ہوں گے ، البتہ از اعدادیہ تا دورۂ حدیث شریف بشمول شعبہ تجوید جن کتابوں کا ششماہی امتحان ہوچکاہے ان کتب کے علاوہ مابقیہ کتب کا امتحان مؤرخہ 8 ؍ اگست 2020 بمطابق 17؍ ذی الحجہ 1441ھ بروز ہفتہ سے ہوگا ، جسکی تفصیلات عنقریب ہی نشر کردی جائیں گی نیز بعد امتحان متصلا تعلیم کا آغاز کردیا جائے گا ۔ انشاء اللہ ۔ واضح رہے کہ تکمیلات وتخصصات کے کسی بھی شعبہ کا امتحان نہیں ہوگا بلکہ امتحان ششماہی کے نمبرات ہی امتحان سالانہ میں محسوب ہوں گے ، اسلئے تکمیلات وتخصصات کے طلبہ امتحان کیلئے سفر نہ کریں ، البتہ اگر کسی ایک شعبہ سے دوسرے شعبہ میں یا دورۂ حدیث سے تکمیل وتخصص کے کسی شعبہ میں داخلہ کے متمنی ہوں تو وہ حسب ضابطہ داخلہ کے مجاز ہوں گے ، جن کی تفصیلات بھی جلد ہی نشر کردی جائے گی ۔ مولانا محمد سفیان قاسمی نے کہا کہ متغیر وغیریقینی احوال کی صورت میں اگر مذکورہ بالا نظام میں کسی طرح کی تبدیلی واقع ہوتی ہے تو بذریعہ اعلان اس کی اطلاع کردی جائے گی ، اسلئے طلبہ ادارہ کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات اور اعلانات کی جانب متوجہ رہیں ۔

3/جون 1857 اعظم گڑھ کی تاریخ کا ایک اہم دن!

تحریر: عبدالعلیم بن عبدالعظیم الاعظمی پرانہ تھانہ سرائے میر اعظم گڑھ
_____________
       1857 میں جب انگریزوں کے خلاف بغاوت کی راہ ہموار ہوی اور پورے ہندوستان میں عوامی سطح پر بغاوتوں سلسلہ شروع ہوا-
 میرٹھ، مرادآباد، شاملی اور دھلی وغیرہ سے اٹھنے والی بغاوت کی آواز چند ہی ایام میں ہندوستان کے چپے چپے تک پہنچ گی، اس عوامی تحریک سے تقریبا ہر ضلع متاثر ہوا، جگہ جگہ جنگیں ہوئیں، چپہ چپہ آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا، خطہ خطہ شمع آزادی کے پروانوں کے خون سے سیراب ہوگیا -اس تحریک کا اچھا خاصا اثر ضلع اعظم گڑھ میں بھی دکھا اعظم گڑھ کی متعدد فوجیں انگریزوں کے خلاف بر سر پیکار ہوئیں،

کچھ فوجیں ذمینداران کے ماتحت تھیں، کچھ بادشاہوں اور کچھ اودھ حکومت کے زیر اثر تھیں- 1857 میں اعظم گڑھ میں کئی جنگیں ہوئیں جگہ جگہ آزادی کے متوالوں نے انگریزوں سے جھڑپیں کئیں ،اسی دوران باشندگان اعظم گڑھ  نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے خطہ اعظم گڑھ کو آزادی کی نعمت سے سرفراز کیا-
 جی ہاں آج سے 163 سال قبل آج ہی کے دن اعظم گڑھ  انگریزوں کے تسلط سے آزاد ہوا تھا اور اسی دن علامہ شبلی نعمانی علیہ الرحمہ کی ولادت ہوی تھی علامہ سید سلیمان ندوی علیہ الرحمہ حیات شبلی میں رقمطراز ہیں کہ:
*مولانا شبلی مرحوم کی ولادت 3جون1857 میں عین اسی ہنگامہ خیز زمانے میں ہوی جو کہ عام طور پر غدر کے نام سے مشہور ہے اور یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ عین اسی ولادت ہوی جس دن ضلع اعظم گڑھ  کے باغیوں کی ایک جماعت نے ڈسٹرکٹ جیل کے پھاٹک کو توڑا ڈالا اور بہت سے قیدیوں کو نکال لے گئے*
 [ *حیات شبلی ص86 مع حاشیہ* ] 
ضلع اعظم گڑھ میں مئی کے اواخر میں  مجاھدین کی متعدد جماعتیں خفیہ طور پر بغاوت کی تیاری کررہی تھی جن میں سے رجمنٹ 17 جو کہ اودھ حکومت کے زیر اثر تھی سب سے زیادہ متحرک تھی اس سے  قبل انگریزوں سے چھڑپوں کے دوران کئ جنگجووں کو اعظم گڑھ جیل میں قید کردیا گیا تھا 3جون 1857 کو اعظم گڑھ کے اندر باغیوں کی متعدد جماعتوں نے بغاوت کی -
پرگنہ  ماھل پر مظفر جہاں کا قبضہ تھا اس نے وہاں جنگی مورچہ بندی کررکھی تھی، پرگن سنگھ نے مہاراج گنج کے تھانے پر حملہ کیا ،شیخ رجب علی نے اعظم گڑھ کوتوالی پر حملہ کیا-
[ *تاریخ جنگ آزادی 1857ص507* ] 
ان متحدہ حملوں کے نتیجے میں بڑے بڑے انگریز افسران غازی پور فرار ہوگئے اور اسی دن کوندا گاوں کے عوام نے پھول سنگھ کی رہنمای میں انگریزوں کی نیل فیکٹریوں کو برباد کردیا تھا-[ ایضا ص 507  ]
اسی دوران رجمنٹ 17 جو پہلے ہی سے بغاوت کی خفیہ پلانگ کررہی تھی انگریزوں کی ایک فوج پر حملہ کردیا جو اعظم گڑھ سے گزر رہی تھی جس کا ذکر مورخ ساورکر نے اس کا ذکر کچھ یوں کیا ہے :
*انقلابیوں نے 31مئی  سے  ہی پلان بناکر متحرک  تھے 3 جون کو انگریزوں کی ایک فوج جوکہ 7 لاکھ خزانہ کے ساتھ بنارس جارہی تھی اسی دوران رات میں رجمنٹ 17 نے ان پر حملہ کردیا اور وہاں پر انگریزوں کی ایک کثیر تعداد کو بلاک کردیا اور خزانہ لوٹ لیا*[1857 کا سوتنت  ]
مشہور مورخ پنڈت کنہیا لال نے لکھا ہے کہ:
*3 جون کو ہندوستانی رجمنٹ 17 نے اعظم گڑھ میں فساد بپا کیا انہوں نے لیفٹینٹ ہیچیسن کو تو جان سے مار ڈالا جبکہ سارجنٹ میجروں کو شدید زخمی کرکے سات آٹھ لاکھ روپئےاور توپیں لیکر اگلے روز اودھ روانہ ہوگئے*
 [1857 کی بغاوت]   
اسی دوران دیسی سپاہیوں نے بھوندو سنگھ کو لیڈر بناکر بغاوت شروع کردی اعظم گڑھ میں بغاوت شروع ہوتے ہی راجپوت،پٹھان اور  نہرن قبیلے شامل ہوگئے ان علاقوں کے راجکماروں کے  علاوہ پلوار قبیلے کا سردار پرتھوی پال سنگھ اپنے سپاہیوں کو لیکر چلا ایا-
نظام آباد،سگڑی، مبارک پور ،دیوگاوں، چریا کوٹ ،بھگت پور اور ماھل وغیرہ بغاوت سے متاثر ہوئے -
ان متحدہ حملوں کے بعد 3 جون ہی کو شام 7 بجے شیخ رجب علی  نے اعظم گڑھ  ڈسٹرکٹ جیل کے پھاٹک کو توڑ کر اعظم گڑھ کو آزاد گھوست کردیا [ *اعظم گڑھ بھگول ص7*   ]   
قاضی اطہر مبارک پوری علیہ الرحمہ نے اس آزادی کا ذکر کچھ یوں کیا ہے کہ :
*شیخ رجب علی اور ان کے اصحاب یہاں کے مشہور بہادر تھے جنہوں نے 1857 کی جنگ آزادی میں انگریزی حکومت کا ضلع(اعظم گڑھ )سے خاتمہ کردیا تھا*
[ *تذکرہ علماء مبارک پور ص 67* ] 
مولانا عمیر الصدیق  ندوی صاحب فیوص بمہور میں رقمطراز ہیں کہ :
*رجب علی اور ان کے جیالوں نے اعظم گڑھ کو آزاد کرایا آزادی کی یہ تھوڑی سی راحت بھی بہت تھی*
 [ *فیوض بمہور ص 107* ] 
ضلع اعظم گڑھ سے جب انگریزی فوج کا مکمل خاتمہ ہوگیا تو ماھل کے راجہ ارادت جہاں نے جونپور شاھی قلعہ  سے خود مختار حکومت کا اعلان کردیا اور خود نائب ناظم کا دعوی کردیا 
[ *دیار پورب میں علم اور علماء* ]
بعد میں اودھ حکومت نے راجہ بینی مادھو سنگھ کو ناظم اعلی اور راجہ ارادت جہاں کو نائب ناظم مقرر کیا-
آزادی کے بعد چند مہینوں تک اعظم گڑھ  آزاد رہا اس دوران اعظم گڑھ  میں کئ جنگیں ہوئیں صرف اترولیا ہی میں دو تین جنگ ہوی  ۔
مبارک پور میں چار روز تک جنگ ہوی
انگریزوں نے چند ہی ایام کے بعد ایک بڑی فوج کے ساتھ اعظم گڑھ پر حملہ کردیا اترولیا میں راجہ بینی مادھو سنگھ سے زبردست جنگ ہوی آخر میں انگریزوں کو شکشت کھاکر پیچھے ہٹنا پڑا -
  وہیں دوسری  طرف   انگریزوں کی ایک فوج نے بمہور پر چڑھائ کردی شیخ رجب علی کو شہید کردیا گیا بمہور کو آگ لگا دی گئ آس پاس کے گاوں کو لوٹ لیا گیا -
  اعظم گڑھ میں برابر جنگیں ہوتی رہیں 1857 کے اوخر میں ایک بار پھر انگریزی فوج اور راجہ بینی مادھو سنگھ کے فوج کے درمیان اترولیا میں جنگ ہوی  اگر چہ اس جنگ میں انقلابیوں کو شکست کھانی پڑی اور اس طرح انگریز ایک بار پھر اعظم گڑھ میں داخل ہوئے لیکن مورخین نے لکھا ہے کہ :
*اس جنگ میں انقلابیوں کی قلعہ میں چار چار  فٹ اونچی لاشیں تھیں* -
دوسری طرف راجہ سید اردات جہاں کی فوج  سے مبارک پور میں چار روز تک انگریزوں سے جنگ ہوتی رہی اسی دوران اپنوں کی غداری کی وجہ سے صلح کے بہانہ راجہ سید ارادت جہاں کو پھانسی دے دی گئ اور فوج کو تہس نہس کردیا گیا اس کے باوجود بھی انگریز اعظم گڑھ  پر مکمل قبضہ نہیں کرپائے-
راجہ ارادت جہاں کے بیٹے مظفر جہاں نے 16 ہزار جنگجووں کو ماھل میں ٹرینگ دیکر انگریزوں سے جنگ کی مورخین نے لکھا ہے کہ:
*پرگنہ ماھل پر راجہ مظفر جہاں  کا 1860 تک قبضہ رہا*
 دوسری طرف راجہ بینی مادھو سنگھ بھی وقتا فوقتا ٹکراتے رہتے تھیں.

Tuesday, 2 June 2020

جمعیة علماء ضلع باغپت کی عظیم جدوجہد!

محمد اشرف قاسمی ہرسولوی
___________
 باغپت(آئی این اے نیوز 2/جون 2020)جانشین شیخ الاسلام قائد ملت حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم العالیہ صدر جمعیتہ علماء ہند اور حضرت مولانا سید اشہد رشہدی صاحب صدر جمعیتہ علماء (یوپی) کے ایماء پر "جمعیتہ علماء ضلع باغپت" کے اعلی ذمہ داران کی زیر نگرانی نیپال کی جماعت کے ان ساتھیوں کےلئے جن کو تقریبا ایک مہینہ سے ضلع باغپت واطراف میں قرنطینیہ میں رکھا گیا تھا، اور اس کے بعد ان حضرات کو جیل کی قید کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا.
ان تمام غیر ملکی جماعت   کی رہائ کے لئے عرضی داخل کردی گئ ہے.
جمعیة علماء ضلع باغپت کی اس محنت اور عدالتی کارروئ مکمل ہونے کے بعد یہ تمام حضرات جلد اب اپنے گھروں کو بآسانی روانہ ہوجائیں گے ان شاء اللہ تعالی.
الحمدللہ اس سے قبل بھی "جمعیتہ علماء ضلع باغپت" کی انتھک جدو جہد اورکاوش سے ضلع باغپت واطراف میں پھنسے مختلف علاقہ کے تبلیغی جماعت کے ساتھی اپنے گھروں کو بآسانی روانہ ہوچکے ہیں.
یقینا اس حسین اقدام اور عظیم کاوش پر "جمعیتہ علماء ضلع باغپت" کے تمام اعلی ذمہ داران خصوصا مولانا دلشاد صاحب قاسمی، قاری ریاض الدین مفتی احسان قاسمی قاری جان محمد ایڈووکیٹ نفیس احمد
قابل مبارکباد ہیں.!

اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ

آج جبکہ پوری دنیا میں تعلیم نے صنعت و تجارت کی حیثیت حاصل کرلی ہے، مدارس اسلامیہ متوسط اور غریب خاندانوں کی تعلیم کا واحد ذریعہ ہیں ،یہاں لیا نہیں ؛بلکہ سب کچھ دیا جاتا ہے ، تعلیم بھی ، تربیت بھی ، کتابیں بھی ، خوراک بھی ، رہائش بھی ، کپڑے بھی ، سب کچھ مفت۔ مدرسوں کی کوئی مستقل ذریعئہ آمدنی نہیں ہوتی ، یہاں کا بجٹ آمدنی کے بعد نہیں بنتا؛ بلکہ اللہ کے فضل اور اہل خیر کے ذریعہ دی جانے والی رقم کی موہوم امید اور توقعات پر بنا کرتا ہے ، یہاں کے اساتذہ معمولی تنخواہوں پر کام کرتے ہیں اور صرف یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی
صلاحیتیں فروخت نہیں کرتے ،دنیاوی اجرت کا تصور نہیں رکھتے  ؛ بلکہ اجر خداوندی کی امید پر کام کرتے ہیں ،ان کی امیدیں اللہ سے لگی ہوتی ہیں ، ان کے مقاصد جلیل اور آرزوئیں قلیل ہوتی ہیں ، رمضان المبارک اور دوسرے موقع سے یہ اہل خیر سے رابطہ کرتے ہیں ، چھوٹی بڑی رقمیں وصول کرلاتے ہیں ،جس سے مدارس اسلامیہ کا یہ سارا نظام چلا کرتا ہے ، امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب ؒ فرمایاکرتے تھے کہ اپنے تعلیمی نظام کو خیرات زکوٰۃ پر منحصر نہیں کرنا چاہئیے ، اپنی اصل آمدنی میں سے بھی اس کام کے لئے نکالنا چاہیے ؛لیکن واقعہ یہی ہے کہ عطیات کی مختصر رقم کو چھوڑ کر اب تک مدارس اسلامیہ کا ساراتعلیمی نظام مسلمانوں کے خیرات زکوٰۃ پر ہی منحصر ہے ۔
امسال کورونا وائرس کی دہشت ،لاک ڈاؤن کی وحشت ، آمدورفت کے وسائل کے مسدوداور گھر وں سے نکلنے پر پابندی کی وجہ سے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داروں اور محصلین کا رابطہ اہل خیر حضرات سے نہیں ہوسکا ،مدارس اسلامیہ اور ذمہ داران نے آن لائن رقومات بھیجنے کی اپیل کی، اخبارات میں اشتہارات دئیے ؛ لیکن کم لوگوں نے اسے در خور اعتنا سمجھا ،جو لوگ اپنے سارے کام’’ کیش لیس سسٹم‘‘ سے کیا کرتے تھے ،ان کے لئے یہ چنداں دشوار نہیں تھا ،پے ٹی ام ، اور کریڈٹ کارڈ سے لاک ڈاؤن میں بجلی بل اور دوسرے سرکاری ٹیکس ادا کئے جاتے رہے ؛لیکن اللہ کی مقرر کردہ زکوٰۃ کے بارے میں لوگوں کی حساسیت کم رہی ،بڑے اداروں کی طرف کچھ توجہ ہوئی ؛لیکن گاؤں اوردیہات میں واقع چھوٹے چھوٹے مدارس کی طرف توجہ اس قدر کم ہوئی کہ اب ان کا جاری رکھنا دشوار معلوم ہوتا ہے ، اساتذہ کی کئی کئی ماہ کی تنخواہیں باقی ہیں اور وصولی صفر ہے،ایسے میں یہ ادارے انتہائی پریشان کن دور سے گذر رہے ہیں ،چھوٹے مدارس کی اہمیت کم نہیں ہے ، یہ مسلم سماج میں اسلامی تعلیم و تربیت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے فروغ کے لئے’’ لائف لائن‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں ، مسلم سماج کے جسم و جان میں اسلامی حمیت و غیرت اور دینی تعلیم و تربیت کا جو خون گردش کرتا ہے ،وہ سب انہیں مدارس اسلامیہ کی دین ہیں ، بنیادی دینی تعلیم جس کا حصول ہر مسلمان پر فرض ہے ، اس کی تکمیل ان اداروں کے ذریعہ ہی ہوتی ہے ۔
  یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اکابر علماء نے اس کی ضرورت  و اہمیت بیان کرکے لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کر ائی ہے۔ حکیم الامت حضرت موالانااشرف علی تھانوی ؒ فرماتے ہیں :اس میں ذرا شبہ نہیں کہ اس وقت مدارس علوم دینیہ کا وجود مسلمانوں کے لئے ایسی بڑی نعمت ہے کہ اس سے فوق(بڑھ کر )متصور نہیں دنیا میں اگر اسلام کے بقاء کی کویٔ صورت ہے تو یہ مدارس ہیں ‘‘ (حقوق العلم: ۵۱) حضرت مولانا مناظر حسن گیلانیؒ کی رائے ہے کہ ’’ یہی کہفی مدارس تھے ،جنہوں نے مسلمانوں کے ایک طبقہ کو خواہ ان کی تعداد جتنی بھی کم ہے، اعتقادی اور اخلاقی گندگیوں سے پاک رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے ،  ‘‘ (الفرقان ،افادات گیلانی )
علامہ سید سلیمان ندویؒ فرماتے ہیں : ’’ یہ مدارس جہاں بھی ہوں جیسے بھی ہوں ،ان کا سنبھالنا اور چلانا مسلمانوں کا سب سے بڑا فریضہ ہے اگر ان عربی مدرسوں کا کوئی فائدہ نہیں تو یہی کیا کم ہے کہ یہ غریب طبقوں میں مفت تعلیم کا ذریعہ ہیں اور ان سے فایٔدہ اٹھا کر ہمارا غریب طبقہ کچھ اور اونچا ہوتا اور اس کی اگلی نسل کچھ اور اونچی ہوتی ہے اور یہی سلسلہ جاری رہتا ہے ، غور کی نظر اس نکتہ کو پوری طرح کھول دے گی‘‘
حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ نے فرمایا :
’’ مدرسہ سب سے بڑی کار گاہ ہے ، جہاں آدم گری اور مردم سازی کا کام ہوتا ہے ، جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتے ہیں ،مدرسہ عالم اسلام کا وہ بجلی گھر(پاورہاؤس )ہے جہاں سے اسلامی آبادی ؛بلکہ انسانی آبادی میں بجلی تقسیم ہوتی ہے ، مدرسہ وہ کارخانہ ہے ، جہاں قلب و نگاہ اور ذہن و دماغ ڈھلتے ہیں ،مدرسہ وہ مقام ہے جہاں سے پوری کایٔنات کا احتساب ہوتا ہے اور پوری انسانی زندگی کی نگرانی کی جاتی ہے  ‘‘ (پاجا سراغ زندگی: ۹۰)
حضرت امیر شریعت مولانا محمدد ولی رحمانی دامت برکاتہم کا ارشاد ہے:
’’ مدرسہ آپ کے دین و ایمان کی جگہ ہے ،یہ آپ کی دنیا و آخرت ہے ، مدارس اسلامیہ کو تقویت پہونچائی جائے ،دین اسلام کی بقاء انہیں مدارس اسلامیہ کے استحکام سے ہے ، علماء اور مدرسوں پر غلط تبصرہ کرنے سے گریز کریں ،(مدرسہ رحمانیہ سپول کے اجلاس سے خطاب )آپ نے مدارس اسلامیہ کے سلسلے میں اکابر کے ارشادات و افادات کا مطالعہ کرلیا ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ان اداروں کی فکر کریں اور موجودہ پریشان کن حالات سے نکالنے میں ان کی مدد کریں ۔
لاک ڈاؤن چار کے اختتام کے بعد آمدو رفت کی سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں؛ گو مدارس اسلامیہ شاید اب بقرعید بعد ہی کھل سکیں گے ، داخلہ بھی ابھی ممکن نہیں ہیں ؛لیکن اساتذہ کو ہٹایا تو نہیں جاسکتا ، ان کی تنخوہیں تو ملنی چاہیے، ان کے بچوں کی فکر بھی ضروری ہے، لاک ڈاؤن میں وہ بھی پریشان کن دور سے گذر رہے ہیں ،امارت شرعیہ نے حضرت امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم کے حکم پر ایٔمہ مساجد اور علماء کے درمیان بھی راحت رسانی کا کام کیا اوراس حیثیت سے بھی اس کی خدمات قابل قدرر ہی ہیں ؛لیکن ایک ادارہ تمام  علماء ،ائمہ مساجد اور اساتذہ کی ضرورتوں کو پوری نہیں کرسکتا ہے ، اس لئے اہل خیر حضرات کو عطیات کی رقم سے اپنے اپنے علاقوں میں علماء ، ائمہ مساجد،مؤذنین اور مدارس کے اساتذہ کے لئے دست تعاون دراز کرنا چاہیے، ان کی عزت نفس کو ٹھیس نہ پہونچے ، اس کے لئے یہ بھی کرسکتے ہیں کہ یہ رقومات مدارس اورمساجد کے ذمہ داروں کو بمد تنخواہ دے دی جائیں،اور ذمہ داران، اساتذہ ، ائمہ اور مؤذنین کی تنخواہیں ادا کریں ، اس طرح ان کا بھی کام چل جائے گا اور ادارے اساتذہ کے مقروض نہیں رہیں گے ،اس موقع سے یہ بدگمانی بالکل نہ پھیلائی جائے کہ مہتمم صاحبان رکھ لیں گے ،سوشل میڈیا پر اس قسم کے بیانات لوگ دیتے رہتے ہیں ،اس سے بدگمانی کا دروازہ کھلا ہے ، یقینا کچھ مہتمم اور متولی صاحبان ایسا کرتے ہوں گے ؛لیکن عمومی احوال ایسے نہیں ہیں ، ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم اکادکا واقعات کو کلیہ بنا کر پیش کرتے ہیں ،علمی اصطلاح میں کہیں تو کہا جاسکتا ہے کہ قیاس استثنایٔ کو قیاس استقرائی کا درجہ دینا ہماری فطرت بن گئی ہے، یہ ٹھیک ہے کہ پوری دیگ کے چاول کے پکنے کا اندازہ دوچار دانوں کو مسل کر لگایا جاسکتا ہے  ؛لیکن روٹی میں یہ فارمولہ نہیں چلے گا،تمام روٹی کے کچی اور پکی ہونے کی بات ایک روٹی کو دیکھ کر نہیں کہی جاسکتی ۔
دوسرا بڑا مسئلہ دارالاقامہ میں مقیم طلبہ کے نان و نفقہ اور کھانے پینے کا ہے، امراء اور صاحب استطاعت لوگوں کی خیرات زکوٰ ۃ کی رقم سے یہ اخراجات پورے کئے جاتے رہے ہیں ؛لیکن اس بار لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ کام ہو ہی نہیں سکا ،اس کا حل یہ ہے کہ اب جب کہ’’ لاک ڈاؤن‘‘ کو’’ ان لاک‘‘ کرنے کا آغاز ہوچکا ہے ،حسب سہولت اہل خیر حضرات سے رابطہ کا کام شروع کیا جائے،یقنیا لاک ڈاؤن نے معاشی طور پر ان کی کمر توڑ دی ہے ؛لیکن زکوٰۃ تو ان پر اس مال میں فرض ہے ؛جو پہلے سے ان کے پاس جمع ہے ،اہل خیر حضرات مدارس کی ضرورتوں کو سمجھتے ہیں اور ہمارا احساس ہے کہ یہ امت ابھی بانجھ نہیں ہوئی ہے ،اس لئے بدگمانی چھوڑیئے ،مدارس کو ان پریشان کن حالات؛ بلکہ’’ عالم نزع‘‘ سے نکالنے کے لئے آگے آیئے ، اس لئے کہ اگر یہ مدارس نہیں رہے تو کیا ہوگا ،وہ علامہ اقبال سے سنئے فرماتے ہیں ـ!ــــ
’’اگر ہندوستان کے مسلمان ان مکتبوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح جس طرح ہسپانیہ میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء اور باب الاخوتین کے سوا  اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش ہی نہیں ملتا ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعہ کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت اور ان کی تہذیب
کا کوئی نشان نہیں ملے گا ‘‘ (اوراق گم گشتہ از رحیم بخش شاہین)

تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے!

 ( بیاد مفتی سعید احمد پالنپوری)
تحریر: مولانامحمد آصف صاحب قاسمی اعظمی
______________
 19 مئی 2020 25 رمضان المبارک 1441بروز منگل* صبح آٹھ بجے بیدار ہوا اور موبائل جیسے ہی کھول کر دیکھا تو واٹشاپ پر کلمہ ترجیع ( *انا للہ وانا الیہ را جعون* ) کی کثرت نظر آئی  دھڑکتے دل کے ساتھ جب تفصیل پڑھا تو قلب پارہ پارہ آنکھیں اشک بار ہوگئیں کچھ دیر سکتے کا عالم طاری رہا پھر حب طبیعت کو کچھ سنبھالا ملا تو ماضی کے دریچے کھلتے گئے جبکہ تعلیمی سلسلہ مکمل کرکے دارالعلوم سے آئے
تقریباً دو دہائیاں گزرچکی ہیں لیکن جب ماضی کا دفتر کھلا تو ایسا محسوس ہوا جیسے کل کی بات ہے کہ ہم لوگ بعد نماز مغرب نودرے میں کھڑے صدر دروازے کی طرف ٹکٹکی لگائے اپنے محبوب ترین استاذ محدث عصر فقیہ نبیل علوم عقلیہ و نقلیہ کے جامع علوم ولی الہی اور علوم قاسمی کے شارح و ترجمان استاذی الجلیل حضرت مفتی *سعید احمد صاحب پالنپوری* کی آمد کے سراپا مشتاق انتظار کی گھڑیاں شمار کر رہے ہیں اور وقت مقررہ پر حضرت تشریف لاتے اور دارالحدیث میں قدم رنجہ فرماتے اورزبان ذکرالہی سےمعمورہوتی اور حدیث کا درس شروع ہوجاتا 

 *حضرت کا انداز درس اور تفہیم کا ملکہ*

علم حدیث کی انتہائی اہم ترین کتاب ترمذی شریف کا درس تقریباً تین دہائیوں تک آپ سے متعلق رہا غبی سے غبی طالب علم بھی اسکا اقرار کرنے پرمجبور ہے کہ ہم نے ترمذی شریف مکمل سمجھ کر پڑھا ہے حضرت شیخ الحدیث مفتی نصیر احمد خاں صاحب کے شدید ضعف کے بعد مسلسل بخاری شریف آپ سے متعلق ہوئی تو آپ نے  بدرجہ اتم اسکا بھی حق  ادا کیا حضرت جیسے ہی دارالحدیث کے قریب ہوتے پورے دارالحدیث میں سناٹے کا سماں چھا جاتا اور کسی کی آواز سنائی نہیں دیتی حضرت درسگاہ میں موجود طلبہ پر ایک نگاہ ڈال کر مسند پر جلوہ افروز ہوجاتے اور زبان پر کلمہ *لا الہ الا اللہ* کا ورد ہوتا عبارت خوانی پر مامور طالب علم عبارت پڑھتا اور سبق شروع ہوجاتا اسکے بعد حضرت اتنی انہماک سے کلام فرماتے اور ایسا دلنشیں انداز اختیار کرتے اور گفتگو اتنی مرتب اور حشو وزوائد سے ایسی پاک ہوتی جیسے دل گواہی دیتا کہ اتنے معانی کے لئے اتنے ہی الفاظ کی وضع ہویئ
 ہے اس میں ایک نقطہ کی کمی زیادتی محال ہے مسالک اربعہ بڑی تفصیل سے سمجھاتے اور ائمہ کے دلائل پوری قوت سے بیان فرماتے سند ومتن پر محدثانہ رنگ میں ڈوب کر کلام فرماتے اپنے مسلک کے ترجیحی پہلوؤں کو ایسا مدلل و مبرہن فرماتے کہ بسا اوقات طلبہ آپسی گفتگو میں بطور مزاح کہنے لگتے کہ اگر اس مسلک کی مرکزی شخصیت بھی ہوتی تو اسے بھی اپنے دلائل پر نظر ثانی کرنا پڑتا لیکن بحمد اللہ حضرت کی زبان و دل پر ادنی تخفیف کا بھی شائبہ نہ ہوتا بلکہ بسا اوقات احناف کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے جس مسلک کے رد میں گفتگو فرماتے انکے کچھ خصائص کا ذکر کردیتے تاکہ کوئی کج فہم کسی غلط بات پر اپنی عقل نہ دوڑانے لگے ( *بحمد اللہ یہی صورتحال تمام مسالک حقہ میں پائی جاتی ہے)*
مسائل فقہیہ کے بیان کے لئے اتنا سہل انداز اختیار فرماتے جیسے ترمذی شریف پڑھنے والے طالب علم کے سامنے تعلیم الاسلام کے مسائل بیان کئے جارہے ہوں بسا اوقات طلبہ کے گھروں سے آئے ہوئے انکے رشتہ دار جو غیر عالم ہوتے اور معمولی پرائمری کی تعلیم حاصل کئے ہوتے حضرت کے سبق میں برائے برکت بیٹھ جاتے وہ بھی اکثرمضامین سمجھ کر نصیبہ وروں میں اپنے کو شمار کرنے لگتے حضرت سبق کے بعد جب کتاب بند کرتے تو ایسا لگتا کہ ہر طالب علم بزبان حال کہ رہا ہو
 *مجھے پینے دے پینے دے کہ تیرے جام لعلیں میں*
 *ابھی کچھ اور ہے کچھ اور ہے کچھ اور ہے ساقی*
الحاصل جو کتاب بھی اپکے زیر درس رہتی ایسالگتاجیسےاپ اسے مشکل تر کتاب کا لذیذ مشروب بناکر طلبہ کے قلب و جگر میں بآسانی اتار دیتے ہیں بلکہ اگر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ آپ افہام و تفہیم کے بادشاہ وقت تھے حقیقت یہ ہے کہ حضرت کی جدائی سے علم وتحقیق کا ایک باب مغلق ہوگیا اور آج کی کیفیت کچھ اس طرح ہے
  *اٹھا شور محفل ناز سے ہوئیں آب دیدہ مسرتیں*
   *لیا نام کس نے سعید کہ چراغ اشک کے جل گئے*

 *حضرت کے بعض خصائص*
( 1)حضرت مفتی صاحب اپنے اوقات کی اس قدر حفاظت فرماتے کہ ایک لمحہ کا ضیاع ناممکن تھا بلکہ ہر آن کا کام مقرر تھا
(2)مطالعہ میں انہماک اس قدر ہوتا کہ اس دوران کسی بھی طرف التفات برداشت نہ فرماتے
(3) صحت کے زمانے میں ایک بجے سے قبل بستر استراحت پر نہ جاتے اس معمول میں کوئی بڑے سے بڑا طوفان تخلف نہ پیدا کرسکتا تھا
(4)کوئی بھی کلام تکلم سے پہلے انتہائی درجہ مرتب فرمالیتے کہ اگر انکی تقریر منضبط کردی جائے تو بغیر حذف و اضافہ کے کتابی شکل اختیار کر جاتی
(5)دنیا سے بے رغبتی حد درجہ تھی اسی کا نتیجہ تھا کہ ایام تدریس میں لی ہوئی تنخواہوں کے ایک ایک پیسے کو واپس کردیا
 *حضرت کا تصنیفی ذوق*
مبداء فیاض سے تصنیف کا بہت عمدہ ذوق دیا گیاتھا زبان انتہائی شستہ ترتیب کی حد درجہ رعایت حشووزوائد سے ایسا اجتناب جیسے الفاظ و معانی کو وزن کرکے ایک دوسرے کے بالمقابل رکھا گیا ہو جس میں ادنی کمی زیادتی کی مجال نہ تھی اعلی درجہ کی علمی تصانیف کی وجہ سے *سابق صدر جمہوریہ* کی طرف سے ایوارڈ سے نوازے گئے لیکن شہرت سے تنفر کی  وجہ سے کم ہی لوگوں کو اسکا سراغ لگ سکا آپ کی تصانیف مختلف موضوعات پر ہیں درسی کتب کی شروحات ہیں بعض درسی مباحث کی مبادیات ہیں تصانیف میں *رحمۃ اللہ الواسعۃ* جو ہزاروں صفحات پر مشتمل ولی اللہی علوم کے معانی کا بحرذخارہے جس پر تبصرہ *مولانا اعجاز احمد صاحب اعظمی*علیہ الرحمہ نے کچھ اس انداز سے کیا تھا کہ حضرت شاہ صاحب کے علوم پر لوگوں کا درک اسلیےآسان  نہیں تھا کہ شاہ صاحب نے علم کے عرش پر بیٹھ کر کلام کیا تھا اس لئے فرش پر بیٹھے لوگوں کی رسائی وہاں ناممکن تھی اور حضرت مفتی سعید صاحب  کا کمال یہ ہے کہ انھوں نےعرش کئ باتوں کو فرش پر لاکر سمجھادیا ہےاس لئے میری ناقص معلومات میں موجودہ دور میں ان علوم پر ایسی دست رس دنیاکے کسی بھی فرد کو حاصل نہیں ہے
اسی طرح *حجۃ الاسلام حضرت نانوتوی* کے علوم سےپرکتابیں جواردو زبان میں لکھی گئی ہیں  بہت سی کتابیں ایسی ہیں کہ جو ایک بحر ذخار کی حیثیت رکھتی ہیں  جنکے تعلق تک پہنچنا ہمارے دور کے متبحر کہے جانے والے لوگوں کے لئے ناممکن نہ ہو تو مشکل ترین ضرور ہے لیکن استاد محترم حضرت مفتی سعید صاحب نے ایسی تسہیل کردی کہ ہم جیسے ظلوم و جہول سےمرکب بھی بآسانی استفادہ کرسکتے ہیں مثلا*مسئلہ قرأت خلف الامام* پر رقم کی ہوئی حضرت نانوتوی کی کتاب *توثیق الکلام فی مسئلہ قرأت خلف الامام* کئ تسہیل *کیا مقتدی پر فاتحہ واجب ہے؟* کے نام سے کی جو قابل دید ہے
فن حدیث کے علاوہ مختلف فنون میں بطور خاص فن تفسیر میں *ہدایت القرآن* نامی تفسیر کی تکمیل آپ کا اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ صدیوں یاد کیا جاتا رہیگا باری تعالٰی انکے منافع کو عام وتام فرمائے
 *تدریسی پابندی کا سبق آموز واقعہ*
دیوبند کی طالب علمی کے زمانے میں کبھی کبھی حضرت کی خدمت میں حاضری کی سعادت ہوجاتی تھی ایسے ہی ایک بار چند احباب کی معیت میں عصر کے بعد حاضری ہوئی کچھ دیر کے بعد دارالعلوم کے ایک استاذ  ایک مہمان کو لے کر حاضر ہوئے مہان مکرم شہر بنگلور سے آئے تھے اور سفر کا مقصد اپنے شہر کے ایک بڑے پروگرام میں لے جانے کے لئے حضرت کو آمادہ کرنا تھا دونوں حضرات کی خواہشات کو قبول کرت ہوئے اور بطور خاص دارالعلوم کے استاد کی رعایت میں تاریخ مقرر کی گئی کچھ دیر بعد آپ کے گھر سے ایک بچہ نحو میر کا سبق سنانے آیا تو اسکو سبق اچھا یاد نہیں تھا جس کی وجہ سے آپ سخت ناراض ہوگئے اور بچہ کو زجر و توبیخ کرکے واپس کردیا اور مہمان مکرم اور دارالعلوم کے موقر استاذ سے کھلے لفظوں معذرت کر لیےاورفرمانےلگےکہ جب اتنی محنت پر گھر کے بچوں کی تعلیم کا یہ حال ہے اگر میں جلسہ بازی کرنے لگا تو ناس پٹ جائیگا
 *حرف آخر*
احقر نے اپنے قلبی تاثرات کا اظہار ان بکھرے ہوئے حروف میں کردیا ہے باقی حضرت کے کمالات اتنے ہیں کہ اگر تفصیلی کلام کیا جائے تو ضخیم جلد تیار ہوجائے اور مجھے امید ہےکہ باتوفیق حضرات حضرت کی مکمل سوانح ضرور تیار کرینگے باری تعالٰی توفیق عطا فرمائے اور اس راہ کی مشکلات دور فرمائے   *آمین*
بس اتنا یاد رہے کہ ایک باصلاحیت کام کا فرد بننے کے لئے حضرت کی زندگی ہم سب کےلیےنمونہ ہے باری
تعالٰی نقش قدم کا راہی بنائے

 *کیا لوگ تھے جو راہ وفا سے گزرگئے*
 *جی چاہتا ہے نقش قدم چومتے چلیں*