اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 20 June 2018

اعظم گڑھ میں انکاؤنٹر، مارا گیا 50 ہزار انعامی بدمعاش راکیش پاسی!

اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 20/جون 2018) یوپی میں قانونی انتظام کیلئے خطرہ بن رہے ان بدمعاشوں کے خلاف یوپی پولیس کی سخت کارروائی جاری ہے،
جس کو لیکر گزشتہ دن اعظم گڑھ میں بدمعاشوں اور پولیس کے درمیان مڈبھیڑ ہوگئی، جس میں جہاناگنج تھانہ علاقے کے گوپال پور گاؤں کے پردھان کے نمائندہ گڈو یادو کا قتل کرنے جارہے 50 ہزار انعامی بدمعاش راکیش پاسی کو ڈھیر کر دیا، جبکہ اس کا ساتھی مئو ضلع کے چریاکوٹ رہائشی پپو پاسی (30) گولی لگنے سے زخمی ہوگیا، اس دوران سرولائنس کا ایک سپاہی بھی گولی لگنے سے زخمی ہوگیا، بدمعاشوں کے پاس سے دو پستول، ایک طمنچی، چھ کارتوس اور ایک چوری کی موٹر سائیکل برآمد کی گئی.
واضح ہو کہ راکیش پاسی کے خلاف آس پاس تھانوں میں دو درجن سے زائد لوٹ، چوری اور قتل کے مقدمے درج ہیں، پولیس کو اس کی تلاش کافی دنوں سے تھی، ایس پی روی شکر چھوی نے بتایا کہ امٹھا گوپالپور گاؤں رہائشی راکیش یادو عرف گڈو گاؤں کے پردھان کا نمائندہ ہے، جس کو قتل کرنے کی راکیش پاسی نے دھمکی دی تھی.
گڈو یادو کے اطلاع پر ایس کی نے پولیس ٹیم کی تشکیل دی تھی، اتوار کی رات سے ہی ایس او کندھراپور اروند یادو، اور ذیلی انچارج راجیش کیساتھ اس کا لوکیشن لینے لگے، سی او سٹی اور سی او لالگنج کی قیادت میں جگہ جگہ گاڑیوں کی تلاشی شروع کی گئی.

Tuesday, 19 June 2018

حصول علم دین کا قافلہ ہوا روانہ دیوبند!

فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی
ــــــــــــــــــــــــــــ
انسان کو کامیابی محنت ومشقت کے بعد حاصل ہوتی ہے، زندگی نام ہی ہے امتحان کا، انسان کی زندگی میں مختلف قسم کے امتحانات آتے ہیں، ان گھڑیوں میں پہلے سے خود کو سجانے اورسنوارنے والا، اور امتحانات کے لئے پہلے سے خود کو تیار رکھنے والا شخص خوشی ومسرت کی وادیوں میں غوطہ لگاتا ہے، امتحان کا مقصد پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور اہل اور نااہلوں کے درمیان امتیاز پیدا کرنا، شوال المکرم کا مہینہ گامزن ہے، مدارس اسلامیہ کی تعلیم کا آغاز اسی مہینہ سے ہوتا ہے، نئی تازگی کے ساتھ طالبان علوم نبوت حصول علم دین کی خاطر رخت سفر باندھنے کے لئے تیار رہتے ہیں،
سال کے اختتام پر ہر طالب علم کی دل کی یہی آرزو ہوتی ہے اور زبان پر یہ کلمات جاری وساری ہوتے ہیں، کہ اگلے سال ان شاءاللہ تعلیم میں محنت کرنا ہے، زبان سے توہرایک طالب علم یہ وعدہ کرتا ہے لیکن کہاگیا ہے جبل گردد جبلت نہ گردد، لیکن افسوس کم ہی طالب علم ہی اپنے اس ارادہ پر قائم دائم رہتے ہیں.
شوال المکرم میں نئے داخلوں کا آغاز ہوتا ہے، مدرسہ اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہر طالب علم کی دل کی یہ تمنا اور آرزو ہوتی ہے، اس کا داخلہ مادرعلمی دارالعلوم دیوبند میں ہوجائے، یوں برصغیر ہند وپاک میں بیشمار مدارس ہیں، ہندوستان ہی میں الحمدللہ بڑے بڑے مدارس ہیں، رقبہ کے اعتبار سے اور طلباء کی تعداد کے لحاظ سے دارالعلوم دیوبند سے بھی بڑے ہیں، لیکن اللہ نے برصغیر میں دارالعلوم دیوبند کو جو مقبولیت دی ہے، وہ ہندوستان کے دوسرے مدارس کو حاصل نہیں، یقینا وہ پاکیزہ نفوس اکابر دیوبند نے جس اخلاص کے ساتھ ایسے دور میں جب ہندوستان کفر والحاد کی فضاوں میں گھرا ہوا تھا، اسلامی شمع مدھم پڑگئی تھی، اللہ جزائے خیر دے حجہ الاسلام مولانا قاسم نانوتوی اور امام ربانی مولانا رشیداحمد گنگوہی رحمہمااللہ اور ان کے رفقاء پر کہ ہندوستان میں اخلاص کا ایساحسین تاج محل دارالعلوم دیوبند کی شکل میں قائم کیا، جو آج بھی پوری آب وتاب کے ساتھ دین صحیح کی تبلیغ واشاعت میں رواں دواں ہے، دارالعلوم دیوبند کے بانیین کا وہ اخلاص وللہیت ہی تھا جو آج بھی مرکز علم وفن اپنے سابقہ نہج پر قائم و دائم  ہے،اور دین اسلام کی شریعت محمدیہ کی روشنی میں خدمت کر رہا ہے.
دارالعلوم دیوبند وہ مرکز دین ہے جس سے ہندوستانی مسلمانوں کاتعلق قائم ہے، یہی وہ ادارہ ہے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ کوقطعا برداشت نہیں کرتا، غلطی اگر اپنی ہی جماعت کا کرے، ایسے وقت میں بھی عشق مصطفی سے منور قلوب والے اکابر علماء دیوبند خاموش نظر نہیں آتے، بلکہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے احکام کو اجاگر کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں.
دارالعلوم دیوبند جب ملت اسلامیہ کا دھڑکتا ہوا دل ہے، شریعت مطھرہ کے سلسلہ میں ہرآواز پر لبیک کو ہر مسلمان اپنی سعادت سمجھتا ہے، واللہ مقبولیت کایہ عالم ہے مخالف سے صرف یہ بتانا کافی ہے کہ دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہیں، یقینا اسی وقت مخالف کی آواز میں آہستگی آجاتی ہے، اور زبان میں کپکپی چھاجاتی ہے،  یہ اکابر علماء دیوبند کی علمی لیاقت کا ثمرہ ہے، ہند ہی نہیں  بیرون ہند کے لوگوں کو بھی اس مرکز علم وفن دارالعلوم دیوبند کی عظمتوں اور اکابر علماء دیوبند کی شریعت مطہرہ پر گہری نظر کوتسلیم کرنا پڑا، یہی مرکز علم وفن ہے جس کے سرپرست ثانی اور بانیین میں ایک امام ربانی فقیہ النفس مولانا رشیداحمد گنگوہی رحمہ اللہ کو علماء حرمین شریفین کو "العلامہ فی الزمان، الشیخ الاجل "کے لقب سے ملقب کرنا پڑا، الغرض علماء دیوبند وہ پاکیزہ نفوس لوگ ہیں جنکی شریعت پر مضبوط پکڑ ہے، ان کی زبان سے نکلی ہوئی بات کی جہاں عوام میں اہمیت ہے وہیں اہل علم بھی اسے قبول کرنا اسے اپنی سعادت سمجھتے ہیں، اور قبول بھی کیوں نہ کریں کیونکہ علماء دیوبند وہ پاک لوگ ہیں جن کاہرفیصلہ قرآن وحدیث پر مبنی ہوتا ہے، قرآن وحدیث پر غوروفکر کرنے کے بعد کوئی فیصلہ لیتے ہیں.
جب اللہ رب العزت نے دارالعلوم دیوبند کو ان امتیازات  سے نوازا ہے، جس کی بنیاد بھی آقائے مدنی سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ خواب میں بتلانے پر رکھی گئی، جس مرکز علم وفن کاپتہ سب کو مدینہ سے ملا، جن کا شجرہ ایسے پاکیزہ نفوس اکابرین سے ملتا ہے، جو ہر ایک تنہا ایک تحریک تھا، جو صحابہ تو نہیں، لیکن مثل صحابہ ضرور تھے، ہر طالبان علوم نبوت کی دل کی یہ آواز ہوتی ہے، اس کا علمی شجرہ نسبت قاسمیت سے مل جائے، پاکیزہ نفوس اکابرین کی لڑی میں اسے بھی پروہ دیاجائے، اللہ نے دارالعلوم دیوبند کویہ امتیاز دیا ہے، ہرسال نئے داخلہ کے لئے طالبان علوم نبوت اس طرح بڑی تعداد میں دوسرے مدارس میں نہیں جاتے.
شوال المکرم میں نئے داخلے دارالعلوم دیوبند میں کئے جاتے ہیں، ہندوستان کے مختلف صوبوں کے مدارس کے پڑھنے والے طلباء اپنی قسمت آزمانے دیوبند پہنچ چکے ہیں، کچھ طلباء تو شعبان کی چھٹیوں کے فورا بعد دیوبند پہنچ جاتے ہیں، اور دیوبند ہی میں تیاری کرتے ہیں،  جبکہ دوسرے گھروں پر یا مدرسوں کی طرف سے تیاریوں کا نظم رہتا ہے وہی تیاری کرتے ہیں، عیدالفطر کے بعد ایک بڑی تعداد دیوبند پہنچتی ہے، اس وقت عالم یہ ہے دیوبند میں ہرطرف طالبان علوم نبوت کا ہجوم ہے، ہر طرف طلباء کا قافلہ آتا نظر آرہا ہے، دارالعلوم دیوبند کے تمام کمرے پوری طرح سے بھرے ہوئے ہیں، تل رکھنے کی بھی جگہ نہیں، ہرشخص درسی کتابوں کے مطالعہ میں مصروف ہے، ہر طالب علم کی یہی تمنا ہے کہ دارالعلوم دیوبند میں میرا داخلہ ہوجائے، اور تمنا بھی کیوں نہ ہو، دارالعلوم دیوبند کی فضیلت کے بارے میں اساتذہ کرام سے سن رکھا ہے، کتابوں میں پڑھ رکھا ہے، دیوبند پہنچنے کے بعد جب نظر مسجد رشید پر پڑتی ہے تودل یہی کہتا ہے کہ یہ مسجد تو تاج محل سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے، بار بار اندر باہر آتےجاتے ہیں اور دل یہ صدا لگاتا ہے اگر دارالعلوم دیوبند میں داخلہ ہوگیا تو اسی مسجد میں نماز پڑھوں گا.
دوسری طرف ان طالبان علوم نبوت کے والدین بھی دعاوں میں مصروف ہیں، میرے لخت جگر کا دارالعلوم دیوبند میں داخلہ ہوجائے، کچھ نیک اور شریف مائیں اپنے بچوں کے داخلہ کے لئے روزہ سے بھی ہیں،
دارالعلوم دیوبند کی مسجد قدیم کامنظر اس وقت یہ ہے رات کابھی کوئی حصہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی طالب علم پڑھ نہ رہا ہو، ہر وقت رات میں رونے کی آوازیں آرہی ہیں، طلباء تہجد کے لئے اٹھ کر اللہ کی بارگاہ میں رو رہے ہیں، گڑگڑا رہے ہیں، فریاد لگارہے ہیں، اے اللہ مجھے بھی دارالعلوم کے لئے قبول کر، الغرض ہرطالب علم اس امید کے ساتھ دیوبند پہنچا ہے کہ اس کا دارالعلوم دیوبند میں داخلہ ہوگا.
۱۵ سے ۲۰ ہزار کے قریب طلباء داخلہ امتحان میں قسمت آزماتے ہیں، جس میں ۲ ہزار کے قریب طلباء کاداخلہ ہوتاہے، دارالعلوم دیوبند کی یہ مقبولیت اکابر علماء دیوبند کے اخلاص کا نتیجہ ہے، یقینا ہمارے اکابرین کس قدر مخلص تھے، اس کی مثال روشن سورج دارالعلوم دیوبند کو دیکھ کر لگایاجا سکتا ہے، اللہ تعالی اس مرکز علم وفن کی تمام شرور و فتن سے حفاظت فرمائے. آمین..

جین پور: لڑکیوں کو بیچنے کے الزام میں دو مشتبہ افراد گرفتار!

عبدالکافی چشتی
ـــــــــــــــــــــــــ
 جین پور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 19/جون 2018) جين پور کوتوالی پولیس نے علاقے کے چنگپار موڑ سے لڑکیوں کو فروخت کرنے والے گروہ کے ایک خاتون اور ایک مرد کو گرفتار کیا، جبکہ ان کے دو ساتھی اب بھی غائب ہیں، پولیس ان کی تلاش کر رہی ہے، ان دو ملزمان کی گرفتاری دو سال بعد برآمد ہوئی
ایک لڑکی کے بیان کے بعد کی گئی.
سی او سگڑی سدھاکر سنگھ کے مطابق گرفتار ملزمان میں آشا دیوی بیوی ويرپال مئو ضلع کے بھيٹھی گاؤں رہائشی اور گووند راج بھر بیٹے شیو شنکر مئو ضلع کے گھوسی تھانہ علاقہ کے بھیلؤر چگینری گاؤں کا رہائشی ہے، سی او سگڑی کے مطابق جين پور کوتوالی علاقے کی رہنے والی ایک لڑکی دو سال پہلے گھر سے غائب ہو گئی تھی، واقعہ کے سلسلے میں لڑکی کے والد نے پولیس تھانے میں ایک رپورٹ درج کی، اس وقت سے پولیس اس کی تلاش میں مصروف تھی، کافی چھان بین کے بعد پولیس پتہ لگائی اور اس بدایوں ضلع کے آجھان تھانے کے اللہ پور گاؤں رہائشی اومپال بیٹے پھكيرا پال کے گھر چھاپہ ماری کر برآمد کی، پوچھ گچھ کے دوران اومپال نے پولیس کو بتایا کہ وہ لڑکی کو خرید کر لایا ہے اور اس سے شادی کر لیا ہے، پولیس نے لڑکی کو اس کے خاندان کے حوالے کردیا، جبکہ اومپال کا چالان کر دیا گیا، لڑکی کی نشاندہی پر ہفتہ کو چنگپار موڑ سے آشا دیوی اور گووند کو گرفتار کیا گیا، دونوں فرار ہونے کے لئے فراق میں تھے.
 سی او سگڑی کے مطابق وہ دونوں لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر لے جاتے ہیں اور انہیں بیچتے ہیں، اب تک بہت سی لڑکیوں کو انہوں نے بیچا ہے،  پولیس نے دو کو گرفتار کیا ہے، جبکہ اس گروہ کے دو دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے.

پیر جی طلحہ صاحب کو پہنچا سخت صدمہ، اہلیہ محترمہ کا انتقال!

محمد دلشاد قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــ
کاندھلہ (آئی این اے نیوز 19/جون 2018) شیخ مولانا محمد زکریا صاحب نوراللہ مرقدہ کے صاحبزادے حضرت اقدس پیر جی طلحہ صاحب کی اہلیہ محترمہ کا کل دوپہر بارہ بجے طویل عرصے سے بستر پر رہنے کے بعد انتقال کا ہوگیا،انا للہ وانا الیہ راجعون. جس سے حضرت کے متعلقین و منتسبین کو گہرا صدمہ پہنچا، اس کی خبر ملتے ہی علمی کارواں میں مردنی چھا گئی.
واضح رہے کہ موصوفہ بڑی نیک سیرت خاتون تھی، جو ہمیشہ صوم و صلٰوۃ کی پابندی کرنے والی اور علمی انہماک کے ساتھ زندگی بسر کرنے والی تھی، اور کیوں نہ ہوتی یہ بات جب کہ وہ قطب الاولیاء حضرت جی مفتی محمد افتخار الحسن صاحب دامت برکاتہ کی صاحبزادی تھیں، ان کی نماز جنازہ انکے آبائی وطن قصبہ کاندھلہ کی عیدگاہ میں ہی ادا کی گئی، نماز جنازہ حضرت مولانا محمد سعد صاحب دامت برکاتہ نے پڑھائی، اور عیدگاہ میں واقع قبرستان میں تدفین عمل میں آئی.
اس موقع پر پیرجی طلحہ صاحب، حضرت مفتی محمد افتخار الحسن صاحب، نظام الدین سے تشریف لائے مولانا محمد سعد صاحب، مولانا محمد سلمان ناظم مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور، مفتی محمد محمود الحسن بلند شہری نائب صدر مفتی دارالعلوم دیوبند، اور بھی قرب و جوار اور دور دراز سے تشریف لائے علماء و مشائخ اور عوام نے شرکت فرمائی.

مبارکپور قصبہ میں لاش ملنے سے سنسنی، موقع پر پہنچا پولیس محکمہ!

جاوید حسن انصاری
ــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 19/جون 2018) مبارکپور تھانہ علاقہ کے بھٹّرا ہیرو موٹر سائیکل ایجنسی کے قریب لمبی سڑک کے پاس نالے کے قریب نامعلوم شخص کی لاش ملنے کے بعد لوگوں کے درمیان سنسنی پھیل گئی، موقع پر پہنچی سٹھیاؤں اور مبارک پور پولیس سمیت 100 نمبر بھی پہنچی، اور لاش کی شناخت کرنے میں جٹ گئے، مقتول کی عمر تقریبا 50 سال ہے.
لاش کی اطلاع ملتے ہی مبارکپور رہائشی اور سماج وادی پارٹی کے نوجوان صوبہ سکریٹری محمد دانش عرف ڈی کے اور صحافی جاوید حسن انصاری بھی موقع پر پہنچے، لاش کے پاس اردو میں کئی پرچہ ملا، جو پولیس پڑھنے سے قاصر ہی، صحافی جاوید حسن انصاری نے خود پڑھ کر پولیس کو مدد کی، اردو پرچہ کوپاگنج مئو کے کسی مجلس کا تھا، اور میت کے پاس سے آدھار کارڈ بھی ملا، جس میں بڑے گاؤں کوتوالی محمد آباد گوہنہ ضلع مئو کے طور پر شناخت کیا گیا.
خبر تک لکھی جانے تک لاش کی نشاندہی نہیں کی جاسکی، مقتول کے سر پر زخم کے نشان بھی نظر آئے ہیں، لاش کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ کئی دن کی ہے، پولیس نے لاش کو قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا، سڑک پر گلی میں سینکڑوں افراد جمع ہوئے تھے.
وہیں پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا گیا ہے جو بھی رپورٹ آئے گی اسی کی بنیاد پر آگے کی کارروائی کی جائے گی.

Monday, 18 June 2018

میرے والد، حفظِ قرآن اور تلاوتِ کلامِ پاک!

فیصل نذیر ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ، سینٹرل یونیورسٹی، نئی دہلی
ــــــــــــــــــــــــــ
بہار کے مشہور ادارے اشرف العلوم کنہواں، سیتامڑھی کے صد سالہ جلسے میں اپنے حفظ کی سند حاصل کرنے آئے حفاظ اور علماء کے جم غفیر کے درمیان اگر کوئی شخص مجھے ان اعزاز کا حقیقی حقدار نظر آیا تو وہ میرے والد ماجد تھے، اور یہ بات میں عقیدت میں ڈوب کر نہیں بلکہ حقیقت میں غوطہ لگانے کے بعد کہہ رہا ہوں.
یہ میرے والد صاحب کے حفظ قرآن اور حفاظت قرآن کی ایک عقیدت و مشقت بھری داستاں ہے، دادا مرحوم عام کسان تھے، مگر علم اور اہل علم کی قدر کرتے تھے، ابو کو جب مدرسہ میں داخل کرنے کا تہیہ کیا تو مدرسے کے مطابق کرتا پاجامہ تک میسر نہیں تھا، پڑوس کے ایک صاحب سے ایک جوڑا لیا گیا، ابو نے جب اس بڑے سائز اور بے ہنگم لباس کو زیب تن کیا تو وہ عجیب سی مضحکہ خیز ہیئت بن گئی۔
اس وقت غربت عام تھی، سبز انقلاب کے اثرات ابھی گا‎ؤں تک نہیں پہونچے تھے، والد صاحب اسی ایک جوڑے کو کئی دن پہنتے ،پھر رات کو شمع جلا کر دھوتے اور صبح آدھا گیلا آدھا سوکھا پہن لیتے، اس مدرسے میں کھانا شکم سیری کی حد تک نہیں ملتا تھا۔
 کچھ ناظرہ پڑھنے کے بعد جب حفظ قرآن کا وقت آیا تو قرآن حکیم خریدنے کی قیمت دستیاب نہیں تھی، تو گا‎‎‎‎ؤں کے ایک صاحب نے قرآن حکیم تحفے میں دیدی، اس وقت موجودہ دور کی طرح مساجد میں بے شمار قرآن کے نسخے موجود نہیں ہوتے تھے اور سعودی عرب کے چھپے مفت نسخے بھی دیہاتوں میں دستیاب نہیں ہوتے تھے، ابو کو جو قرآن میسر ہوا وہ حافظی و نظامی نہیں تھا، جس کی ترتیب حفظ قرآن میں معاون ثابت ہوتی ہے اور  پندرہ سطروں پر صفحہ ختم ہوجاتا ہے اور یہ قرآنی نسخہ ساری دنیا میں بآسانی مل جاتا ہے۔
 مشفق مگر مجبور استاد نے آخر میں یہی سبیل نکالی کہ اسی غیر حافظی اور غیر نظامی  قرآن میں ہی حفظ شروع کیا جائے۔
  ابو نے اسی میں حفظ مکمل کیا، اور اسی ایک نسخے سے تراویح کی تیاری کرتے رہے، آج مدتوں بعد وہ قرآن کریم  اتنا بوسیدہ ہوگیا ہے کہ شروع سے تقریبا دو پارے پھٹ چکے ہیں، ‏عمّ پارہ بھی مکمل غائب ہوچکا ہے، اور وہ نسخہ کہاں سے چھپا تھا اس کا کوئی سراغ نہیں لگ پایا، والد صاحب نے ممبئی کے تمام کتب خانوں میں پتہ لگانے کی کوشش کی، میں نے دہلی میں جامع مسجد  کے علاقے میں بھی وہی  قرآنی نسخہ تلاش کرنے کی تگ و دو کی مگر اسی طرح سطروں والا  اور بعینہ وہی نسخہ نہیں ملا، غرضیکہ والد  صاحب جہاں بھی تراویح پڑھاتے ہیں یہی نادر و نایاب نسخہ ان کے پاس ہونا ضروری ہے۔
تراويح پڑھانے ہی کی غرض سے ابو  1974 میں ممبئی  پہنچے، وہاں مسجد کے نیچے واقع درزی کی دکان پر وقت گزارتے ہوئے آپ نے وہی کام سیکھ لیا،  اور  پھر ممبئی میں ہی رہائش اختیار کر لی ۔ عموما رمضان کو ٹیلروں کا مہینہ کہا جاتا ہے، لیکن والد صاحب نے اپنے کام پر ہمیشہ تراویح سنانے کو ترجیح دی، والد صاحب کی یاد داشت کے گاؤں میں بہت قصے مشہور ہیں، وہ محض اس لئے کہ ان کے ہم عصروں اور ہم درسوں میں تراویح کو اب تک آپ ہی مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں، اور سارے حفاظ کو آپ  اسی کی تلقین بھی کرتے ہیں۔
2001 میں والد صاحب کو ذیابطیس کی تکلیف ہوگئی، سال بھر زیر علاج رہے ، فقط اس  سال والد صاحب نے تراویح میں قرآن کی صرف سماعت کی، مگر آئندہ سال سے ڈاکٹر کی ممانعت کے باوجود، بغیر قرآن و تراویح کے ماہی بے آب کی طرح پھر سے دریائے رحمت میں کود پڑے۔ ابو نے بارہ تیرہ سال کی عمر میں حفظ کرلیا تھا ، آج  وہ سینیر سیٹیزن کی عمر، ساٹھ سال کو پہنچ چکے ہیں، یعنی تقریبا آپ نے بلا ناغہ 47 ،48 سال تراویح سنائی۔
انہوں نے اپنی ہر کامیابی اور ہر خوشحالی کو قرآن کی برکت ہی بتائی،  اور آج اسی فیضِ قرآنی کے بدولت وہ ہر شعبۂ حیات میں ایک کامیاب انسان  ہیں. آج بھی وہ ضعف وعلالت کے باوجود دن بھر دکان پر کھڑے ہو کر کپڑا  کٹنگ کرتے ہیں اور رات میں کھڑے ہو کر قرآن  سناتے ہیں۔ میں ان کو تمام حفاظ کے لئے ایک آئیڈیل مانتا ہوں کہ چاہے جو پریشانی آئے مگر تراويح سنانے سے غفلت، قرآن کریم سے غفلت کے مترادف ہے، اس سال بھی رمضان میں الحمد للہ والد صاحب نے تراویح مکمل کی. اور وہ ہمیشہ یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ تاحیات یوں ہی قرآن مجید سنتے سناتے رہیں، اللہ ان کی قرآن سے اس لازوال محبت کے طفیل ہم سب کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔

عید اس کیلئے جس نے رمضان المبارک کی قدر کرتے ہوئے اللہ کو راضی کیا، عید الفطر کے موقع پر شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ کا ولولہ انگیز خطاب.

محمد فرقان
ــــــــــــــــــــ
بنگلور(آئی این اے نیوز 18/جون 2018) خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو رمضان المبارک جیسا مقدس مہینہ ملا اور اس کی قدر کی۔ دنیا داری کو چھوڑ کر، اپنے کاروبار کو چھوڑ کر، گناہوں کو چھوڑ کر پورا وقت اللہ کی عبادت میں روزہ، نماز، تراویح، تلاوت و ذکر اور اعتکاف میں بیٹھ کر اللہ کو راضی کرنے میں گزارا اور بد نصیب ہیں وہ لوگ جن کو رمضان المبارک جیسا مقدس مہینہ ملا لیکن اپنے آپ کو گناہوں سے دور نہیں کرپائے اور دنیاداری چھوڑ نہیں پائے. عید تو اس کیلئے ہے
جس نے اللہ کو راضی کرلیا، عید اس کیلئے نہیں جس نے رمضان کی ناقدری کی اور اللہ کو ناراض کیا۔ یہ دنیا ہے! اسلئے آج سب نیک اور گناہگار لوگ بھی عید منا رہے ہیں کل میدان محشر ہوگا تو نیک لوگوں کو الگ کردیا جائے گا اور گناہگار لوگوں کو الگ۔ ان خیالات کا اظہار گورنمنٹ اردو اسکول گراونڈ، ڈی جے ہلی ،بنگلور میں عید الفطر کے موقع پر سینکڑوں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔
شاہ ملت نے فرمایا کہ آج سب لوگ عید کی نماز ادا کررہے ہیں، عید کی خوشیاں منارہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ جو بخشے بخشائے تھے عید کے دن رویا کرتے تھے کہ ہماری نمازیں، روزے تراویح وغیرہ قبول ہوئی بھی یا نہیں اور اللہ ہم سے راضی ہوا بھی یا نہیں کیونکہ عید ان کیلئے ہوتی ہے جن کی عبادتیں قبول کرتے ہوئے اللہ ان سے راضی ہوجائے۔ لیکن آج کسی کو اس کی فکر نہیں ہے، سب عید کی خوشیاں منارہے ہیں۔ مولانا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مقدس مہمان رمضان المبارک اللہ کے دربار سے ہمارے دیار میں آیا تھا لیکن ہم نے اسکی قدر نہ کی، اسکا احترام نہیں کیا، اور اسکو ناراض کیا: نمازوں کو چھوڑ، روزوں کو چھوڑ کر، تراویح کو چھوڑ، گناہ کرکے، عبادتوں کو چھوڑ کر دنیاداری میں مصروف ہوکر۔ مولانا نے فرمایا کہ رمضان المبارک تو چلا گیا لیکن اپنے ساتھ ہماری شکایت لیکر گیا ہے۔ مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ آج ضرورت ہے کہ ہم اللہ سے معافی مانگیں اور توبہ کریں۔ نیز فرمایا کہ جن لوگوں نے پورا وقت عبادتوں میں گزار انکو بھی توبہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کسے پتہ کہ وہ عبادتیں اس لائق ہیں بھی یہ نہیں کہ وہ قبول ہوں۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے وہ چاہے تو ایک جانور کو پانی پلانے پر جنت دے دے اور اگر وہ چاہے تو ہزاروں سالوں کی عبادت کو قبول نہ کرے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہم کو چاہے کہ اللہ کے سامنے عاجزی سے اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے دعا مانگے۔ اللہ ضرور ہماری دعا قبول کرے گا۔ قابل ذکر ہیکہ سینکڑوں کی تعداد میں فرزندان توحید نے خطبہ عید الفطر سے استفادہ کیا اور شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی کی ہی اقتداء میں نماز عید الفطر ادا کی جس کے بعد شاہ ملت کی رقت آمیز دعا بھی ہوئی۔

Sunday, 17 June 2018

نوجوانوں ایمان پر ثابت قدم ہوجاؤ، کیونکہ کسی قوم کا سرمایہ اس کا نوجوان ہوتا ہے نتھوپور عیدگاہ میں مولانا فرقان بدر قاسمی کا خطاب.

سلمان اعظمی
ـــــــــــــــــــــ
نتھوپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 17/جون 2018) تحصیل سگڑی علاقہ کے نتھوپور میں عیدالفطر کی نماز امن و شانتی کے ساتھ ہزاروں فرزندان توحید نے ادا کی، آپ کو بتا دیں کہ عیدگاہ نتھوپور تحصیل سگڑی
جوکہ تقریبا 16گاؤں پر مشتمل عیدگاہ ہے اور فرزان توحید کی ایک بڑی جماعت دوگانہ کی ادائیگی کے لئے عیدین میں یہاں حاضر ہوتی ہے، نماز سے قبل حضرت مولانا فرقان بدر قاسمی ناظم اعلی جامعہ شیخ الہند انجانشہید کا خطاب ہوا، جس میں مولانا قاسمی نے سورہ کھف میں مذکور نوجوان اصحاب کھف کا ایمان پر اسقلال واستقامت کے حوالے سے نوجوانوں کو بڑے درد دل کے ساتھ یہ پیغام دیا کہ تم بھی ایمان پر ثابت قدم ہوجاؤ کیونکہ کسی قوم کا سرمایہ اس کا نوجوان ہی ہوتا ہے، اسی پس منظر میں بڑا زور دار اور پرتاثیر بیان ہوا.
 بعدہ نتھوپور عیدگاہ کے امام حضرت مولانا اسد ادریس صاحب کی اقتدا میں ہزاروں فرزندان توحید نے عید کی نماز ادا کی، نماز کے بعد بڑے الحاح وزاری کے ساتھ پوری امت کے حق میں دعا کی گئی، اس موقع پر لوگوں نے ایک دوسرے سے گلے مل کر عید کی مبارکباد پیش کی.

اعظم گڑھ: دھوم دھام منائی گئی عیدالفطر، ملک میں امن و شانتی کیلئے بھی مانگی گئی دعائیں!

حافظ ثاقب اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 17/جون 2018) عید الفطر اعظم گڑھ میں پورے دھوم دھام کیساتھ منائی گئی، اس دوران لوگوں میں آپسی بھائی چارہ،
اور پیار دیکھنے کو ملا، لوگوں نے اپنے اپنے عید گاہوں اور مساجد میں عید کی نماز ادا کر لوگوں سے گلے مل کر مبارکباد پیش کرتے رہے، اور محلوں میں گھوم کر مبارکباد دیتے ہوئی لذیذ پکوان کا بھی لطف اٹھایا، وہیں چھوٹے بچے میلوں میں اپنے پسند کی چیزیں خریدتے رہے، اور کچھ نئے انداز میں بچوں نے بھی عید کا لطف اٹھایا، اس دوران سبھی بھید بھاؤ چھوڑ کر غیر مسلموں اور نیتاؤں نے بھی گلے لگ کر سبھی کو عید مبارکباد دی، جو برسوں سے اعظم گڑھ میں ہوتا چلا آرہا ہے، یہ ہندو مسلم ایکتا کی مثال ہے، ایسے ہی سرائے میر، جہاناگنج، پھولپور، لال گنج، بندرابازار، سنجرپور، ماہل، بلریاگنج، جین پور، نتھوپور، مبارکپور، روناپار سمیت پورے ضلع میں عید الفطر منائی گئی.

Friday, 15 June 2018

اعظم گڑھ: بس اور ٹرک میں ٹکر، دو کی موت، چھ افراد زخمی!

اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 15/جون 2018) اعظم گڑھ ضلع میں بس اور ٹرک کی جمعہ کی صبح خطرناک ٹکر ہوگئی، حادثہ میں دو افراد ہلاک جبکہ 6 زخمی ہوگئے، روڈویز کی بس دوہری گھاٹ سے الہ آباد جارہی تھی.
حادثہ ضلع کے بردہ تھانہ علاقے راجا پور گاؤں کے قریب ہوا، حادثہ کے بعد شور کی آواز سنائی دی، گاؤں والے جگہ پر پہنچے، ان کی مدد سے زخمیوں کو ہسپتال بھیجا گیا.
بتایا جارہا ہے کہ بس میں 35 مسافر تھے، جس میں چھ زخمی ہوگئے اور انہیں ضلع ہسپتال بھیجا، جہاں ڈاکٹروں نے دو افراد کے موت کی تصدیق کی، دونوں کی ابھی تک نشاندہی نہیں کی گئی ہیں.
زخمیوں میں ڈرائیور انگد بیٹے شیو کمار (گورکھپور)، راجیش رہائشی بستی، امرجیت رہائشی جہاناگنج، وویک رہائشی عظمت گڑھ، نیرج رہائشی گوركھپور، وشال رہائشی مئو اور سریش چندر رہائشی کشی نگر کا علاج ضلع اسپتال میں چل رہا ہے.

Thursday, 14 June 2018

عید کی خوشیوں میں غریبوں کو بھی شامل کیجیے!

تحرير: عاصم طاہر اعظمی
786 060 1011
930 786 1011
ــــــــــــــــــــــ
ماہ رمضان کا اختتام عیدالفطر پر ہوتا ہے ایک مہینے کے روزوں نے اہل اسلام کو اپنے ایمان اور اعمال کا جائزہ لینے کا موقع دیا  جن خوش نصیبوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا انھوں نے اپنے دل کی کھیتی میں تقویٰ کی نعمت کی آبیاری کی انھیں موقع ملا تھا کہ وہ اپنی دین کے ساتھ وابستگی کو مزید گہرا کر لیں اور انھوں نے اسے ضائع نہیں کیا، یہ مہینہ خدا کی کتاب کا مہینہ ہے
انھوں نے اس مہینے میں اس کی تلاوت کی  اس سے یاد دہانی حاصل کی  اس کی تعلیمات کو اختیار کرنے کے عہد کی پھر سے تجدید کر لی ہے۔ لاریب، یہی لوگ اس کا استحقاق رکھتے ہیں کہ ان کی عید کو عید قرار دیا جائے،
تہوار ہر قوم کی سماجی زندگی کا ایک اہم عنصر ہوتے ہیں لیکن ان تہواروں کا پس منظر بالعموم اس دنیا سے وابستہ ہوتا ہے تہوار کے دن دنیوی کامیابیوں یانعمتوں کے حصول کے مواقع ہوتے ہیں لیکن اسلام کے دونوں تہوار خدا کے ساتھ بندے کے تعلق کی نسبت سے منائے جاتے ہیں۔ عیدالاضحی در حقیقت، خدا کی خاطر قربانی کے جذبے کا مظہر ہے اور عید الفطر رمضان یعنی اللہ کے لیے گزارے گئے مہینے کی عید ہے چنانچہ ضروری ہے کہ مسلمان اپنا یہ تہوار، اپنے اسلام اور ایمان کے شایان شان منائیں،
رسول اکرم صلی اللہ وسلم نے عید کے دن خاص طور سے غریبوں، مسکیوں اور ہمسایوں کا خیال رکھنے کی تاکید فرمائی، اور عید کی خوشی میں شریک کرنے کیلئے صدقہ فطر کا حکم دیا تاکہ وہ نادار جو اپنی ناداری کے باعث اس روز کی خوشی نہیں منا سکتے اب وہ بھی خوشی منا سکیں۔ ہمیں غریبوں ‘یتیموں ‘مسکینوں اور بیواؤں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کرنا چاہیے تاکہ رب کی رحمتیں ہمارا مقدر بنیں۔
اما م ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ’’عید ، اللہ کی جانب سے نازل کردہ عبادات میں سے ایک عبادت ہے رسول اکرم کا ارشاد ہے:’’ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے‘‘۔حضرت ابن عبا س سے روایت ہے کہ نبی محترم نے صدقہ فطر کو مساکین کے کھانے کے لئے مقرر کیا ہے جو شخص اس کو عید کی نماز سے پہلے ادا کرے تو وہ مقبول صد قہ ہے اور جو نماز کے بعد ادا کرے تو وہ عام صدقہ شمار ہوگا(سنن ابی داؤد)
لہٰذا گھر کے تما م زیر کفالت افراد ،ملازمین اور بچوں کی طرف سے عید الفطر کی صبح نماز عید سے قبل صدقہ فطر ادا کر دینا چاہیے جس کا بہترین مصرف آپ کے آس پاس وہ غریب و مسکین خاندان ہیں جن کو دو وقت کو روٹی بھی میسر نہیں جس کی وجہ سے وہ عیدکی لذتوں سے محروم رہ جاتے ہیں، نہ ان کے پاس کپڑے خریدنے کے لیے پیسے ہوتے ہیں اور نہ ہی مادی ذرائع جنہیں استعمال میں لاتے ہوئے یہ عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکتے،
اللہ عزوجل نے سال بھرمیں دو عیدیں عید الفطر اور عید الاضحی اس لیے رکھی ہیں کہ اگر مصیبت زدوں کوسال بھر کوئی نہیں پوچھتا تو کم از کم ان دنوں میں انہیں کوئی پوچھ ہی لے مگرافسوس یہاں بھی نتیجہ صفر ہی رہتا ہے الا ماشاء اللہ۔ بڑے خوش نصیب اور قابل رشک ہیں وہ لوگ جو عید کے پیغامات کوسمجھتے بھی ہیں اور حتی المقدوراسکے تقاضوں کو پورابھی کرتے ہیں ایسے ہی لوگوں کی عید ، عید ہوتی ہے۔ اورایسے ہی لوگوں کی خوشیاں، خوشیاں۔ ورنہ ایسی خوشی سے کیا فائدہ جسے دیکھ کر غریب کی آنکھیں نم ہوجائیں، اسے اس کا احساس محرومی تڑپا دے اور آپ کی واہ اسے آہ پر مجبور کر دے۔
مجھے شکوہ دنیا داروں سے نہیں ان دین داروں سے ہے جوہمیشہ دین دین کی رٹ لگاتے ہیں مگرایسے مواقع پران کی ’’دین داری‘‘ کہاں غائب ہو جاتی ہے؟یاد رکھیےحقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی بھی بڑی اہمیت ہے ۔ حقوق اللہ تو خداکے فضل سے معاف ہوسکتے ہیں مگر حقوق العباد صاحب معاملہ کے ذریعے ہی معاف ہوں گے،
عید الفطر بھی حقوق العباد ادا کرنے کا دن ہے اگراس دن بھی اس کی ادائیگی میں کوتاہی ہوئی  تو اس کا نتیجہ ہمیں دنیا میں بھی بھگتنا پڑےگا اور آخرت میں بھی، عید الفطر بے پناہ برکتیں، سعادتیں، رحمتیں اورمسرتیں لوٹنے کا دن ہے۔ اور یہ ساری برکتیں دونوں ہاتھو ں سے وہی لوٹتے ہیں جو صحیح معنوں میں عید ادا کرتے ہیں۔آئیے عہد کریں کہ عید کے دن کوئی بھوکا نہ رہے ، کوئی احساس محرومی کا شکار نہ ہو، کوئی تلخی اور کدورت کی نفسیات میں مبتلا نہ ہونے پائے ہر ایک کو مساویانہ درجہ دیں،
اللہ جل مجدہ ہر ایک کو ان باتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین

زکوٰۃ ایک اہم اسلامی رکن ہے!

محمد غالب فلاحی اعظم گڑھ یو پی
ــــــــــــــــــــــــــــــ
زکوٰۃ اسلامی ارکان میں سے ایک اہم رکن اور ایک اہم فریضہ ہے اسلام نے زکوۃ پر بہت زور دیا ہے زکوۃ بڑی فضیلت کا حامل ہے
 لفظ زکوٰۃ کے معنی پاکیزگی اور اضافہ کے ہیں جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ زکوٰۃ سے انسان کا مال پاک ہوتا ہے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے نہ صرف اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ مال میں بھی اضافہ ہوتا ہے قرآن و احادیث میں بے شمار جگہوں پر زکوٰۃ پر زور دیا گیا ہے
ان الذين آمنوا و عملوا الصالحات و أقاموا الصلاة و اتوا الزكاة لهم أجرهم عند ربهم. ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون (البقرة)
بے شک جو لوگ ایمان کے ساتھ نیک کام کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کوئی خوف ہے نہ اداسی اور غم
نبی کریم کا ارشاد ہے
بني الإسلام على خمس : شهادة أن لا إله إلا الله و أن محمداً رسول الله، و اقام الصلاة، و ايتاء الزكاة، والحج، و صوم رمضان (متفق عليه)
اسلام کی پانچ بنیادیں ہیں جس میں سے ایک زکوٰۃ ادا کرنا ہے
زکوٰۃ نہ ادا کرنے کا انجام بہت ہی برا ہے
والذين يكنزون الذهب و الفضة ولا ينفقونها في سبيل الله. فبشرهم بعذاب عليم. يوم يحمي عليها في نار جهنم فتكوي بها جباههم و جنوبهم و ظهورهم هذا ما كنزتم لأنفسكم فذوقوا ما كنتم تكنزون
اور جو لوگ سونے اور چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خبر پہونچا دیجئے جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی ان سے کہا جائے گا یہ ہے جسے تم نے اپنے لیے خزانہ بنا رکھا تھا پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو
زکوٰۃ کی فضیلت اور اس کو نہ ادا کرنے کے انجام سے واقف ہونے کے بعد بھی بہت سے لوگ زکوٰۃ کو ادا نہیں کرتے زکوٰۃ صحیح طریقے سے بہت کم ہی لوگ ادا کرتے ہیں اگر زکوٰۃ کو لوگ صحیح طریقے سے ادا کریں تو مسلمانوں کے مالی مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے میں تقریباً دو ہزار کی آبادی والے گاؤں میں رہتا ہوں اور اس گاؤں میں تقریباً دو سو عورتیں ایسی ہوں گی جن کے پاس دس تولے سے بھی زیادہ سونا ہو گا جس کی زکوۃ پندرہ لاکھ سے زائد ہوتی ہے چاندی، بینک بیلنس، اموال تجارت وغیرہ کی زکوٰۃ اگر جوڑی جائے تو اس کی مقدار اور زیادہ ہو گی یہ ایک چھوٹے سے گاؤں کا حساب ہے پورے ہندوستان میں نہ جانے کتنے مسلم گاؤں ہوں گے اور اس کی زکوۃ کتنی زیادہ ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے
مسلم معاشرے میں زکوۃ کو ادا کرنے والوں کا ایک بہت بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ وہ زکوٰۃ کو ان کے حقدار تک نہیں پہنچاتے زکوٰۃ نکالنے والوں کی اکثریت زکوٰۃ نکال کر گھر میں رکھ دیتے ہیں اور جو کوئی بھی ان کے دروازے پر جاتا ہے ان کو زکوۃ دے دی جاتی ہے جسکی وجہ سے بہت سے حقدار اس سے محروم رہ جاتے ہیں
زکوٰۃ کن لوگوں پر خرچ کی جائے زکوٰۃ کے اصل حقدار کون؟ اس کا جواب ہمیں سورہ توبہ کی ایک آیت میں ملتا ہے جس میں اللہ تعالٰی نے بتا دیا ہے کہ زکوٰۃ کے حقدار کون لوگ ہیں
انما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها و المؤلفة قلوبهم و في الرقاب والغارمين و في سبيل الله و ابن السبيل فريضة من الله والله عليم حكيم
زکوٰۃ کے آٹھ حقدار ہیں
ا - فقراء ٢- مساکین ٣- عاملين (زکوٰۃ جمع کرنے والے) ٤- جن کے دلوں میں الفت ڈالی گئی ہو ( اس سے وہ لوگ مراد ہیں جنہیں اسلام کے قریب لانے کے لیے کچھ دیا) ٥- گردنوں کو چھڑانا ( قیدی) اس وقت زکوٰۃ کے سب سے زیادہ حقدار یہی لوگ ہیں ٦- قرض دار ٧- اللہ کے راستے میں ٨- مسافر
لیکن ان میں سے صرف چند لوگوں تک زکوٰۃ سمٹ کر رہ جاتی ہے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ زکوٰۃ کو حقدار تک پہنچائے
ہندوستان میں جتنی بھی تنظیمیں کام کر رہی ہیں ان کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں بیت المال قائم کریں اور زکوٰۃ وصول کریں اور جو لوگ زکوٰۃ کے اصل حقدار ہیں ان تک زکوٰۃ کو پہنچائیں زکوٰۃ اجتماعی طور پر جب تک ادا نہ ہو گی تب تک اس کے اثرات ظاہر نہیں ہوں گے.

مبارکپور: سینٹرل پبلک اسکول میں افطار پارٹی، سیکڑوں روزہ داروں کی شرکت!

جاوید حسن انصاری
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 14/جون 2018) مبارکپور کے سینٹرل پبلک اسکول میں آج کی افطار پارٹی ہندو مسلم اتحاد کی مثال دیکھنے کو ملی، دونوں کمیونٹیوں میں سے سیکڑوں افراد نے شرکت کی،
جس میں سابق ایم پی سینیئر کانگریس لیڈر ڈاکٹر سنتوش کمار سنگھ، شہر کے نوجوان سماجی کارکن زیور محل کے حاجی سلیمان اختر انصاری، امتیاز انصاری پولیس محکمہ اردو بابو، سابق پردھان عبدالمنان، عبدالغنی سكٹھی، شمیم ​​احمد انصاری حاجی محمد رضا انصاری، ماسٹر احمد علی سمیت بڑی تعداد روزہ داروں کی شریک رہی.
اس موقع پر سینٹرل پبلک اسکول کے بانی اياز احمد خاں، ڈائریکٹر نواز احمد خاں، مینیجر آزاد احمد خاں، ذیلی مینیجر ترنم خانم، پرنسپل ریکھا سنگھ نے تمام لوگوں کا خیر مقدم کیا.
اياز احمد خاں نے کہا کہ روزہ افطار کرانے میں بڑا ثواب ہے، اس سے بھائی چارگی بھی بڑھتی ہے جس کو دیکھتے ہوئے ہرسال کی طرح امسال بھی سینٹرل پبلک اسکول کی جانب سے روزہ افطار کا اہتمام کرایا گیا.