اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 6 February 2019

راشٹریہ علماء کونسل ضلع اعظم گڑھ یونٹ کی ایک اہم میٹنگ منعقد!

اشرف اصلاحی
ـــــــــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 6/فروری 2019) راشٹریہ علماء کونسل ضلع اعظم گڑھ یونٹ کی ایک اہم میٹنگ ضلع صدر شکیل احمد کی صدارت میں مدرسہ جامعة الرشاد میں منعقد ہوئی، جس میں پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری مولانا طاہر مدنی صاحب مہمان خصوصی کے طور پر موجود رہے۔
17 فروری 2019 کو سرائے میر میں منعقد ہونے والی عظیم الشان ریلی کی تیاری کو لیکر غوروخوض کے ساتھ ہی تمام لیڈران کو ریلی کو کامیاب بنانے کے لئے الگ الگ ذمہ داری دے کر گاؤں گاؤں جاکر لوگوں سے رابطہ کر ریلی میں بلانے کے لئے کہا گیا۔
     مہمان خصوصی مولانا طاہر مدنی نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرائے میر کی ریلی 2019 کے لوک سبھا انتخاب کے مدنظر بہت ہی اہم ریلی ہوگی اور اسے کامیاب بنانے کے لئے کونسل کے سبھی لیڈران و کارکنان و محبت رکھنے والے پوری محنت سے کمر کس لیں اور عوام کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس ریلی میں مدعو کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں سیکولرزم کے نام پر ایک دفعہ پھر مسلم قیادت کو کنارے لگانے کی سازش رچی جا رہی ہے اور مسلمانوں کا ووٹ خوف و دہشت دکھا کر ایک مشت لینے کی کوشش کی جارہی ہے ایسے میں اپنے حقوق کے لئے مسلموں و دوسرے پسماندہ سماج کے لوگوں کو متحد ہوکر آواز اٹھانا ہوگا یہ ریلی اس پیغام کو بھی عام کرے گی۔
آخر میں میٹنگ میں موجود سبھی لوگوں نے ریلی کو کامیاب بنانے کے لئے پوری کوشش کرنے و محنت کرنے کا عہد لیا اور ریلی کو ایک تاریخی ریلی بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

موجودہ حکومت میں مسلم خوفزدہ!

مولانا مزمل الحق راشد ندوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہندوستان کے اندر نفرت و فرقہ واریت کی جو فضا پیدا کی جارہی ہے اور مسلمانوں کے خلاف جو آوازیں اٹھ رہی ہیں سیاست میں مجرموں کے اثرورسوخ کی وجہ سے ہندوستان میں انتظامیہ اور سماجی زندگی کے تمام شعبہ جات میں بد عنوانی کا بول بالا ہے تشویشناک صورتحال یہ ہےکہ پولس اور عدلیہ بھی بد عنوانی جیسے لعنت سے آزاد نہیں ہے عوام میں عدم تحفظ کا احساس کافی گہرا ہے اور انکی عام زندگی خوفناک ماحول میں گزر رہی ہے بی جے پی کے
لیڈران نے جو فرقہ پرستی کا رخ اپنایا ہوا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ان لیڈروں کے بیانات اور ان کا اس طرح کا عمل جس سے مسلمانوں کی مذمت کی جاتی ہے اسی سے فرقہ وارانہ کشیدگی کو فروغ مل رہا ہے یہ پالیسی ایک سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ہر طرح سے ہر میدان میں پسماندہ رکھا جائے ان کی تہذیب و ثقافت اور تمدن کو ختم کیا جائے اور تعلیمی لحاظ سے بھی پیچھے رکھا جائے تاکہ وہ ہندوستان میں منظر عام پر نہ آسکیں اس پالیسی کو اختیار کیا جاتا ہے اس پر عمل کیا جاتا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو دوسرے درجے کا شہری سمجھیں ہندو راشٹر بنانے کے منصوبے پر عمل کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں اور رام مندر کو خاص اشو بنا کر مذہبی منافرت پھیلانا ان کا پرانا طریقہ کار ہے لیکن حکومت کبھی بھی ان حالات و معاملات پر غور نہیں کرتی کہ ملک میں فرقہ پرستی پھیلانے والے ملک میں خونریزی پھیلانے کی کوشش میں ہیں ان کو کسی بھی طرح سے روکنے کی کوشش نہیں کی جاتی ایسی صورت میں انکا ہر عمل ان خدشات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ نہ معلوم کس وقت کس شہر میں فساد پھیل جائے اور قتل عام شروع ہوجائے اس طرح کے خدشات کے باعث ہندوستان میں مسلمان خوفزدہ رہتے ہیں پہلی بات تو یہ ہے کہ حکومت مسلمانوں کیلئے کچھ کرنا نہیں چاہتی اور کسی وجہ سے یعنی جس میں حکومت کا اپنا مفاد ہو مسلمانوں کیلئے کچھ کرتی ہے اس حکمراں جماعت کے لیڈران پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف مذمتی شور شرابہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہ مراعات کیوں دی گئیں اور جب تک حکومت مسلمانوں کی جانب سے ہاتھ نہیں کھینچ لیتی اس وقت تک مسلمانوں کے خلاف مذمتی صورت میں اپنا اظہار کرتے رہیں گے جبکہ ملک کے پوری آبادی حکومت کیلئے ایک قوم ہوتی ہے حکومت کو بلا امتیاز سب کے ساتھ برابر کا عمل کرنا چاہیے لیکن بی جے پی حکمران جماعت ایسا نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ اس کے دور حکومت میں فرقہ وارانہ فسادات قتل عام لوٹ مار اور غارت گری ہمیشہ ہوتی رہتی ہے لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ موجودہ حکومت سے خوفزدہ نہ ہوں بلکہ اس کا حل تلاش کریں ۔

دارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس اختتام پذیر!

سعید معین قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــ
دیوبند(آئی این اے نیوز 6/فروری 2019) رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند ایک ملک گیر تنظیم ہے، جس کا بنیادی مقصد مدارس اسلامیہ کے داخلی نظام کو بہتر بنانا، تعلیم و تربیت کو مستحکم کرنا باہمی رابطہ و اتحاد کو فروغ دینا اور مدارس اسلامیہ کو در پیش داخلی و خارجی مسائل و مشکلات کا باہمی مشورے سے حل تلاش کرنا ہے، ان خیالات کا اظہار حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند
و صدر رابطہ مدارس اسلامیہ رابطے کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب میں ارکان عاملہ کا خیر مقدم کیا اور فرمایا کہ رابطہ کی صوبائی شاخوں کو صوبوں میں رابطہ بورڈ کے تحت اجتماعی امتحان کا نظم مستحکم کرنا چاہیے اور دارالعلوم دیوبند کے نہج پر تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ مبذول رکھنی چاہیے -
جناب مولانا شوکت علی بستوی ناظم عمومی رابطہ و استاذ دارالعلوم دیوبند نے سالانہ رپورٹ پیش کی جس میں صوبائی شاخوں کی کارکردگی کی تفصیل تھی انہوں نے کہا کہ رابطہ کی بیشتر شاخیں فعال اور منظم ہیں انہوں نے مزید کہا کہ مدارس اسلامیہ ملک و ملت کی تعمیر و ترقی اور ہمہ جہت خدمت کے جذبے سے سر شار فضلاء اور پر امن شہری تیار کر تے ہیں جو دینی تعلیمی ملی اور ملکی خدمات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں.
اجلاس کا آغاز حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی کی زیر صدارت مہمان خانہ دارالعلوم دیوبند میں بعد نماز مغرب قاری آفتاب صاحب کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا، اجلاس میں حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری صدر المدرسين دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا قمر الدين صاحب استاذ حدیث دارالعلوم، حضرت مولانا قاری سید عثمان صاحب منصورپوری، حضرت مولانا عبد الخالق صاحب مدراسی نائب مہتمم دارالعلوم، حضرت مولانا شاہد صاحب مظاہر علوم سہارنپور، حضرت مولانا رحمت اللہ کشمیری صاحب رکن شوری دارالعلوم، حضرت مولانا نظام الدین صاحب، حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب استاذ دارالعلوم، حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی، حضرت مولانا عبد الخالق صاحب سنبھلی، حضرت مولانا شوکت صاحب بستوی وغیرہ شریک رہے.

ہرسول اسکول اورنگ آباد میں مانو کالج کے بی ایڈ طلبہ کی تدریسی مشق 7 فروری کو ہوگی ختم!

ذیشان الہی منیر تیمی اورنگ آباد
ـــــــــــــــــــــــــ
اورنگ آباد(آئی این اے نیوز 6/فروری 2019) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسیٹی ٹیچر ٹریننگ آف اورنگ آباد ایک نہایت ہی حساس اور اہم یونیورسیٹی ہے یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں پر بچوں کو آنے والی نسل کو سینچنے اور سنوارنے کے قابل بنایا جاتا ہے، چنانچہ ہر سال کی طرح امسال بھی بچوں کو تدریسی مشق کے لئے مختلف اسکولوں میں بھیجا گیا تھا، ہرسول اسکول جو پروفیسر قیصر جہاں چودھری کی زیر نگرانی میں طلبہ اپنی تدریس کی مشق کررہے تھے جو 7 فروری کو ختم ہوجائیں گی اور اس موقع سے ہر طالب علم کو پروفیسر قیصر جہاں کی مفید نصیحتیں اور ہدایتیں بھی ہوں گی جو یقینا ان تمام طلبہ کے لئے مفید ہونگی جو ان کی نگرانی میں کام کررہے ہیں ۔

Tuesday, 5 February 2019

مولانا سید اشہد رشیدی کو جمعیۃ علماء مئو کی جانب سے مبارکباد!

مئوناتھ بھنجن(آئی این اے نیوز 5/فروری 2019) جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد کے مہتمم واستاذ حدیث مولانا سید اشہد رشیدی کو جمعیۃ علماء اترپردیش کو پابچویں مرتبہ صوبائی صدر منتخب کئےجانے پر جمعیۃ علماء ضلع مئو کے عہدیداران واراکین نے مبارکبادپیش کی۔
 واضح رہےکہ گزشتہ دنوں لکھنؤ میں ہونے والے صوبائی انتخابی اجلاس میں ریاست بھر کے اراکین منتظمہ نے بالاتفاق مولانا سید اشہدرشیدی کو ریاستی صدر منتخب کر لیا تھا، جس میں جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی، مرکزی جنرل سکریٹری مولانا عبدالعلیم فاروقی، ریاستی جنرل سکریٹری مولانا عبدالہادی پرتاب گڑھی، مولانا نزر محمد قاسمی، مولانا عبداللہ ناصر، مولانا اظہرمدنی، مولانا حبیب اللہ مدنی، حافظ عبدالقدوس ہادی، مولانا خورشیداحمد مفتاحی، مولانا سراج احمد نعمانی، مولانا محمد فاروق مظہری، مولانا وصی احمد نعمانی، مولانا محفوظ الرحمٰن قاسمی، ماسٹر صفی الرحمٰن، مولانا شمشاداحمد قاسمی، حافظ جاوید احمد، مولانا نعیم الرحمٰن قاسمی، قاری مختار احمد، ڈاکٹرالطاف پردھان، مولانا ضیاءالرحمٰن قاسمی، مولانا انصارالحق قاسمی، مولانا بدرالدین قاسمی، حافظ محمد نعمان، مولانا سیف اللہ عباسی، حافظ عبدالغنی مفتاحی، مولانا ضیاءالاسلام قاسمی اور مفتی عبداللہ نعمانی کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے، اسکے بعد سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے، مئو کے افراد نے مولانا کو مبارکباد پیش کرتے ہوۓ نیک خواہشات کا اظہار کیاہے اور امید ظاہر کی ہے کہ مولانا کی صدارت میں جمعیۃ علماء ہند مزید ترقیات کے منازل طے کرے گی۔

امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی خطبات کے آئینے میں!

نورالسلام ندوی
ـــــــــــــــــــــــــــ
بہار میں خانوادۂ رحمانی کا یہ امتیاز رہاہے کہ علم و معرفت ، تصوف و سلوک ، شریعت و طریقت ، تصنیف و تالیف ، تقریر و خطابت ، قیاد ت و رہبری کے وہ اوصاف جو دوسری جگہوں پر الگ الگ پائے جاتے ہیں اس خاندان میں ایک ساتھ جمع نظر آتے ہیں۔حضرت امیر شریعت مفکراسلام مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب مدظلہ العالی کے جد امجد عارف باللہ حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمتہ اللہ علیہ نے جہاں فتنہ ارتداد کے خلاف مؤثر تحریک چلائی وہیں تصنیف و تالیف کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیئے اور چھوٹی بڑی تین سو کتابیں علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں ۔
ایک طرف انہوں نے خانقاہ رحمانی قائم کیا اور رشد وہدایت کا چراغ روشن رکھا، تو دوسری طرف جامعہ رحمانی کی بنیاد رکھی اور تعلیم و تربیت کا چشمہ جاری کیا۔ آپ کے جانشیں امیر شریعت حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی نوراللہ مر قدۂ کی شخصیت بھی انہیں اوصاف و خصوصیات کا آئینہ دار تھی۔ تصوف و معرفت ، علم و عمل ، خطابت و تقریر ، تصنیف و تالیف جرأت وبے باکی اور رہبری وقیادت میں اپنی مثال آپ تھی ۔ اسی خانوادہ کے گل سر سبدمفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی امیر شریعت ، بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ ہیں۔ جو اپنے دادا اور والد کے فیض یافتہ اور خانقاہ کے سچے جانشیں ہیں۔ خدائے تعالیٰ نے انہیں علم و عمل ، زہدوتقویٰ، فہم و فراست ، احسان و سلوک، جرأت و حوصلہ مندی ، تصنیف و تالیف، تقریر و خطابت اور قائدانہ صلاحیت کا حسین امتزاج بنایا ہے ،بے شک مولانا ہشت پہلو شخصیت کے مالک ہیں ، انہوں نے اپنے اندر بہت ساری خصوصیات اور کمالات کو جمع کر لیاہے ،مگر اس وقت ہمارا موضوع مولانا کی خطابت و تقریر ہے۔
سماجی اور عوامی زندگی کے ہر شعبہ میں خطابت و تقریر کی اہمیت وضرورت تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ خواہ وہ شعبہ دعوت و تبلیغ کا ہو یا قیادت و رہبری کا ،معاشرہ کی اصلاح کا ہو یا ملک و ملت کی تعمیرو ترقی کا ۔ جس شخص کے اندر خطابت کی استعداد و صلاحیت زیادہ ہوگی وہ اسی قدر عوامی زندگی اور جمہور کی رہنمائی میں کامیاب و سرافراز ہوگا۔ حضرت مولانا جن متنوع اوصاف و خصوصیات کا مجموعہ ہیں ان میں ایک خاص صفت یہ ہے کہ ان کے اندر زورتحریر کے ساتھ قوت تقریر و خطابت کا خدا داد ملکہ پایا جاتا ہے ۔ خطابت کا یہ جو ہر مولانا کی طبیعت کا حصہ ہے، امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد منت اللہ رحمانی علیہ الرحمہ اپنے وقت کے باکمال عالم دین اور شیخ طریقت تھے، ان کے مریدین اور عقیدت مندوں کا حلقہ بہت وسیع تھا، اور حضرت امیر شریعت کا شمار ایک بہترین خطیب اور مقرر کی حیثیت سے بھی تھا، مریدین کو خطاب کرنا اور جلسہ میں تقریر کرنا عام بات تھی، خطابت کا یہ جوہر مولانا محمد ولی رحمانی کی شخصیت میں بھی رچ بس گیا ہے، اور کم عمری سے ہی جلسوں کو خطاب کرنا شروع کردیا تھا۔ اس پر مستزاد یہ ہے کہ تقریر و خطابت اور زور بیاں کے لیے جس قدر اوصاف و لوازم ضروری ہیں وہ سب ان میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔
حضرت امیر شریعت کو بارہا ہزاروں لاکھوں کے مجمع سے خطاب کرنا پڑتا ہے، اگر ان خطبات کو جو انہوں نے اب تک مختلف مواقع پر د یئے ہیں، جمع کیا جائے تو کئی ضخیم جلدیں تیار ہو سکتی ہیں۔ بحمد اللہ احقر نے اس پر کام شروع کر دیا ہے اور ’’ خطبات ولی ‘‘ کی پہل جلد دیدہ زیب اور عمدہ طباعت کے ساتھ چھپ کر منظر عام پر آچکی ہے۔ آپ اسی موضوع کا انتخاب کرتے ہیں جس کو خود محسوس کرتے ہیں اور ملک و ملت کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حضرت والا کی بیشتر تقریریں ان کے طبعی احساس اور ملک و قوم کی عام ضرورت اور حالات کے لحاظ سے مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔ کہیں پھول کے شبنم تو کہیں آگ کا شعلہ ، کہیں دریا کی روانی تو کہیں سمندر کی گہرائی، کہیں صورِ اسرافیل تو کہیں کلام نرم و نازک، جودلوں کو گرما تی ہیں، دماغوں کے دریچے کھولتی ہیں، فکر و عمل میں توانائی بخشتی ہیں ۔۔۔۔۔ اور ملک و ملت کے حالات و مسائل سے بروقت باخبر کرتی ہیں۔ آپ کی تقریر یں دشمن واغیار کے خرمن پر بجلی بن کر گرتی ہیں، تصوف و سلوک کا موضوع ہو یا علم و ادب کا ، سیاست و صحافت کا پہلو ہو یا تاریخی وقانونی نوعیت کا، معاشرتی و اصلاحی تقریر ہو یا فن حدیث و تفسیر کا ہر موضوع پر حضرت والاکی تقریر حسنِ بیان اور زورِ خطابت کا عمدہ نمونہ پیش کرتی ہے۔ حضرت مولانا محمد ولی رحمانی کے خطبات کے امتیازات و اوصاف کو ہم مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
معلومات:- خطاب خواہ کسی بھی موضوع پر ہو ،مواد اور علمیت سے بھرپور ہونی چاہئے ، اگر تقریر علم و حکمت سے خالی ہوگی تو بے اثر ہو جائے گی۔ حضرت مولانا کی تقریریں معلومات کا خزانہ ہے، بات معلومات اور دلائل کے ساتھ پیش کرتے ہیں، چونکہ علوم د ینیہ کے ساتھ ساتھ تاریخ اور سماجی علوم پر بھی ان کو دستگاہ حاصل ہے، اس لیے ان کی باتوں میں ثا بت قدمی اور اولعزمی کی کیفیت نمایاں رہتی ہے، بے یقینی کی کیفیت نہیں پائی جاتی ہے، وہ جس راہ کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں پورے یقین، عزم اور ٹھوس علمی و تجرباتی بنیاد پر ۔
’’یاد رکھئے ! اجتماع جیسا بھی ہو فرد کے حوصلے اور طاقت کو بڑھاتا ہے، دس ملتے ہیں تو ہر کوئی کچھ زیادہ ہی اپنے کو طاقتور پانے لگتا ہے،یہ عام مزاج ہے، اور یہی انسان کی نفسیات ہے، ایثار پسندوں کی جماعت، وفا شعاروں کا قافلہ، علم دین کے مسافر کا کارواں یہاں جمع ہے، یہ اجتماع ایثارو وفا اور دین کی راہ میں نئے نقوش ابھار سکتا ہے، پرانے کاموں کو عزم تازہ، اور پرانی قدروں کو نئی زندگی دے سکتا ہے، آپ کا یہ اجتماع منظم اور مربوط شکل لے سکے، تو یقین کیجئے ،صحیح سمت میں مضبوط اجتماعی طاقت تیار ہو سکتی ہے، اور بکھرے ہوئے موتی سے ایسی تسبیح تیار ہو سکتی ہے جو اپنی تاثیر اور فائدہ پہونچانے کے لحاظ سے ماضی کی روایتوں کی امین ہوگی، اور پرانی قدروں کو نئی تازگی دے سکے گی۔ ‘‘
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
(خطبات ولی،جلد اول:ص:106
حضرت مولانا کی نظر گہری اور فکر بلند ہے، عالمی منظر نامہ سے واقف ، ملکی وقومی سیاست کے نشیب و فراز سے باخبر اور دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور اغیار کی کارستانیوں سے ہوشیار، آپ ملت کی کشتی کو بھنور سے نکال کر ساحل مراد تک پہونچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں، ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں اور سوتیلا رویہ کے خلاف ہمیشہ سینہ سپر رہتے ہیں۔ ہندوستان کی مٹتی ہوئی گنگا جمنی تہذیب، دم توڑتی ہندو مسلم اتحاد ویگانگت ، جمہوری اقدار کی پامالی اور سیکولر روایت کی بے حرمتی سے آپ سخت نالاں ہیں، اس کی بقا و حفاظت کے لئے آپ نے ہمیشہ قوم کو جگایا، عوام الناس اور صاحب اختیار و اقتدار کو متنبہ کیا،کہ اس سے ہندوستان کی ساخت کمزور ہوگی ، ملک کی عظمت ملیا میٹ ہو جائے گی، ایسے مواقع پر خطاب کرتے ہوئے آپ ایک خطیب، ایک مصلح ، ایک قائد کی حیثیت سے بہت اونچے مقام پر فائز نظر آتے ہیں، جمہوریت آپ کی نظر میں خدا کی نعمت ہے ،اورجمہوری ملک میں حقوق کی بازیابی کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے اور جمہوری طرز پر احتجاج کے بھی آپ قائل ہیں۔ اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو سیاسی طور پر مضبوط و مستحکم ہونے کی دعوت دیتے ہیں اور سیاسی وزن وقار بڑھانے کے لیے اتحاد و یکجہتی پر زور دیتے ہیں۔ 2015 کے عام انتخاب میں بی جے پی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی، بی جے پی اپنی حکمت اور منظم پلاننگ کے تحت مسلمانوں کو منتشر کرکے ان کے ووٹ کی قیمت اور طاقت کو بے وزن کر دیا۔ انتخاب کے بعد ملک کا اقلیتی طبقے خاص طور پر مسلمانوں میں خوف و سراسیمگی کا ماحول تھا ، آپ نے ان حالات میں مسلمانوں کو خطاب کیا، اور ڈروخوف کی سیاست سے باہر نکلنے کا حوصلہ بخشا، ساتھ ہی مسلمانوں کو سیاسی وزن بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا۔
’’ جس ملک میں ہم اور آپ سانس لے رہے ہیں، وہاں سیاسی وزن کے بغیر ملت کی پر وقار زندگی اورمضبوط معاشرہ کا تصور نہیں کیا جا سکتا، ابھی جو سیاسی عمل جاری ہے، اور صوبوں اور مرکز کی حکومت کے بننے اور بگڑنے کا جو بھی سلسلہ ہے، اس میں مسلمان بحیثیتِ ملت اپنا وجود اور اپنا وزن محسوس نہیں کرا سکے، حکومت بن رہی ہے ، ٹوٹ رہی ہے ، مگر ہم آپ بحیثیتِ ملت کہیں نہیں ہیں۔ اگر ہم میں اقتدار کو متاثر کرنے کی صلاحیت نہیں ہوگی تو ہم اسلامی معاشرہ کی حفاظت نہیں کرسکتے، اور دینی اور اجتماعی تشخص بھی برقرار نہیں رکھ سکتے، عددی اکثریت کا کھیل اپنے اندر بڑی طاقت رکھتا ہے، ہمیں اسے سمجھنا ہوگا۔
دیکھ لیجئے ! آج اقلیتوں کے نام پر پورا ڈرامہ رچا جا رہا ہے، مگر انہیں کوئی پوچھ نہیں رہا ہے ، نہ وہ پوچھوانے کی صلاحیت پیدا کر رہے ہیں، اور جب وہ اس الٹ پھیر میں باوزن نہیں ہیں حکومت میں بھی با وزن نہیں ہو سکتے ، اور نہ اپنے حقوق کو اس الٹ پھیر کے بیچ سے حاصل کر سکتے ہیں، اس لئے اپنے وجود کے لئے آئینی سماجی ، دینی ، سیاسی اور اجتماعی حقوق کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی عمل کی طرف ملت کے قدم بڑھیں۔‘‘
(خطبات ولی، جلد اول۔ ص: 166 )
جرأت و حوصلہ مندی:- حضرت والا کے خطبات کاایک اہم و صف صاف گوئی اور بے باکی ہے، وہ با ت جو عام قائدین دبی زبان یا اشارے کنایے میں کرتے ہیں بلکہ بسااوقات بند کمروں میں بھی کرنا پسند نہیں کرتے وہی بات آپ بر سرعام کرتے ہیں، ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں ، کسی سے مرعوب ہونا آپ نہیں جانتے ، ڈر اور خوف آپ کو چھو کر بھی نہیں گزرتا، دل کی بات دل والوں کے سامنے بلا کسی خوف و تردید کے کہ دیتے ہیں ، معاملہ خواہ اہل اقتدار واختیار کا ہو یا اہل ثروت و قوت کا آپ کی زبان وہی بولتی ہے جسے آپ سچ جانتے ہیں۔ آپ کا طرز عمل یہ ہے :
ہزار خوف ہو لیکن زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندوں کا طریق
آزاد ہندوستان میں جب پہلی مرتبہ بی جے پی اقتدار میں آئی تھی اس وقت مرکزی وزاراتی گروپ کی ایک رپورٹ سامنے آئی۔ جس میں دہشت گردی کا تار مدارس اسلامیہ سے جوڑا گیا تھا اور مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ بتلا یا گیاتھا، آپ نے ان ماحول میں مدارس کے ناموس کی حفاظت کے لئے ۳ فروری ۲۰۰۲ کو شہر مونگیر میں ’’ ناموس مدارس اسلامیہ کنونشن ‘‘ منعقد کیا ،جس میں ملک بھر سے سیکڑوں علماء و ذمہ داران مدارس اور مندوبین نے شرکت کی۔ اس موقع پر آپ نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے وہ تاریخی جملہ کہا جس کے بعد مدارس کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کا لہجہ بدلا اور مدارس کے خلاف چلنے والی دھار کند ہوئی۔ ملاحظہ ہو آپ کے خطاب کا وہ اقتباس:
’’ وہ لوگ جو نفرت اور تشدد کی آبیاری کرتے رہے ہیں ، جنہوں نے فرقوں اور طبقوں کی خلیج کو گہراکرکے اقتدار کی سیڑھیوں پر چڑھنے کی مشق کی ہے ، وہ سیاسی مفاد کی خاطر مدرسوں پر الزامات کی بوچھار کر رہے ہیں۔ جب کہ ان کے پاس کوئی دلیل کوئی ثبوت نہیں ہے ، مگر کیا کہا جائے ، جنہوں نے ذاتی آرام کی خاطر آزادی وطن کے کارواں میں شریک ہونا گوارہ نہیں کیا ، اور معافی نامہ داخل کرکے برٹش حکومت کی گرفت سے دور رہے، جنہوں نے دہشت گردی تحریک کی آبیاری کی ، جو آزاد ہندوستان میں دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے کیس میں ماخوذ ہوئے اور جیل گئے، وہ افراد اور وہ ذہنیت ان مدرسوں اور ان کے علماء کو مجرم ثابت کرنا چاہتی ہے، جن مدرسوں اور علماء نے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں سرفروشانہ حصہ لیا اور جنہوں نے آزاد ہندوستان میں نئی نسل کی تعمیر ، تعلیم اور تہذیب کی بیش بہا خدمت انجام دی ہے۔‘‘ (خطبات ولی، جلد اول ص: ۳۹،۴۰)
۳ اپریل ۲۰۰۲ کو دارالعلوم دیوبند میں مدارس اسلامیہ کے نمائندوں کا کل ہند اجلاس ہوا، آپ نے اس اجلاس میں اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :
’’ جناب والا ، آپ کے ہاتھ پاؤں تو بڑے لانبے ہیں، ہندوستان میں ہزاروں مدارس قائم ہیں، آپ صرف ایک مثال دے دیجئے ،کسی مدرسے کے مدرس کی تو بڑی بات ہے ، کسی مدرسے کے طالب علم کی ، جس نے ملک کا کوئی راز اس پار سے اس پار پہونچایا ہو، اور آزادی کو نصف صدی سے زائد کا عرصہ گذرگیا، اگر مدرسے کا ماحول اور مزاج دہشت گردی کا ہوتا ، رائفل ، پستول اور بندوق والا ہوتا تو پچاس ساٹھ سال کے عرصہ میں کم از کم پچاس کیس بھی تو 307 اور 302 کے مدرسے والوں پر چلے ہوتے ، آپ مجھے پچاس سال کی پچاس نہیں پچیس ہی مثال دکھلا دیجئے، مدرسے میں بھی نوجوان رہتے ہیں ، ہمت والے رہتے ہیں، ان کے جسم میں بھی خون ہوتا ہے ، وہ بھی گرماتا ہے ، اس کے بر عکس کوئی یونیورسیٹی اس ملک میں ایسی نہیں ہے جہاں قتل نہ ہوتا ہو اور کوئی ایسی یونیورسٹی نہیں ہے جہاں 302 اور 307 کے کیسز نہ چلتے ہوں ۔‘‘ (ایضا،ص:29,30 )
دردمندی و فکر مندی:
خطابت خواہ کتنی ہی زوردار اور لچک دار کیوں نہ ہو،اگر دردمندی ، فکرمندی اور دل سوزی سے خالی اور عاری ہوگی تو سامعین کے دل پر گہرا نقش قائم نہیں کر سکتی اور نہ دلوں کو موم بنا سکتی ہے۔ حضرت والا کی تقریریں دل دردمنداور فکر ارجمند کی غماز ہوا کرتی ہیں، دل سوزی و جگر سوزی ان کی تقریروں میں اس قدر ہوتی ہے کہ وہ دل کے تاروں کو مر تعش کرتی ہیں، ملک و ملت کی فکرمندی ہمیشہ آپ کو دامن گیر رہی ہے اور اس کے لئے ہمیشہ بے چین و مضطرب رہتے ہیں۔ چنانچہ آپ کے اس درد دل کا اظہار آپ کی تقریروں کے ذریعہ ہوتا رہا ہے، معاملہ خواہ مدارس اسلامیہ کو دہشت گرد ی سے جوڑنے اور مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے نام پر ہراساں کرنے کا ہو، یا بنگلہ دیشی شہر یت کا ، یکساں سول کوڈ کی بات ہو یا مسلم پرسنل لا میں دخل اندازی کی ، تعلیم و تربیت کا مرحلہ ہو یا اصلاح معاشرہ کا ، سیاست کا ذکر ہو یا معیشت کا ، آپ کی زبان و قلم درد وسوز سے لبریز ہوتی ہے۔ میرے خیال میں آپ کی تقریر و خطابت میں جو دردو سوز اور حرارت و برودت پائی جاتی ہے وہ نالۂ نیم شبی ، آہِ سحرگاہی اور تصوف و معرفت کے راستہ سے آپ کی زندگی اور فکر وفن میں اثر انداز ہوئے ہیں ۔ بقول کلیم احمد عاجز :
اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں ہے
کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے
اصلاح معاشرہ آپ کی زندگی کا عنوان ہے، عملی زندگی کا ایک بڑا حصہ معاشرہ کی اصلاح اور ملک و ملت کی فلاح و بہبودی میں صرف ہوا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے آپ کی خدمات کو دیکھتے ہوئے اصلاح معاشرہ کا کل ہند کنوینر منتخب کیا،آپ نے اصلاح معاشرہ کی تحریک کو تیزسے تیز تر کیا، اسے مضبوط سمت دی، معاشرہ کی اصلاح کے لیے قصبات اور شہروں کا دورہ کیا اور اپنی خطابت و تقریر کے جوہر بکھیرے، جس کے بہتر نتائج سامنے آئے ۔ اصلاح معاشرہ کے موضوع پر آپ نے ہزاروں گاؤں اور شہروں کا دورہ کیا اور ہزاروں تقریریں کیں ، یے تقریریں موقع و محل اور حالات کے پیش نظر اور پس منظر کے لحاظ سے نہایت وقیع اور پُر اثر ہیں ۔ معجزہ خطابت کی سحر انگیزی کا اندازہ لگانے کے لیے یہ اقتباس دیکھئے :
’’ غلط روی، غلط روش ، حرام خوری ، بدکرداری نسلوں کو برباد کرتی ہے، تجربہ کی روشنی میں کہتا ہوں جن شادیوں میں لڑکی والوں کو پریشان کرکے روپیہ حاصل کیا جاتا ہے، ان گھروں میں عیب دار ، کمزور اخلاق اور کمزور کردار کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ہم نے چند سکوں کے عوض آنے والی نسلوں کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔‘‘
(خطبات ولی ، جلد اول: ص: ۱۱۴)
’’ نئی نسل آپ کے سامنے کھڑی ہے ، وہ آپ کے لئے قدرت کا بہترین تحفہ ہے ۔ اس تحفہ کی قیمت سمجھئے ۔ اس کے لئے بہتر تعلیم و تربیت کی فکر کیجئے، یہ نہ سمجھئے کہ یہ ہمارا بیٹا نہیں ہے ، پوتا نہیں ہے، دوسروں کی اولاد ہے۔ یاد رکھیئے بچوں کے سلسلے میں پورا سماج جواب دہ ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ۔کلکم راع و کلکم مسؤل عن رعیتہ تم میں سے ہر ایک نگراں ہے اور اپنی رعایا (ماتحت) کے بارے میں قیامت میں پوچھا جائے گا۔‘‘ (ایضاً ص: ۱۴۸)
ادبیت:
حضرت والا کی نشونما میں کلاسیکی ادب کا گہرا اثر اور رچاؤ پایا جاتا ہے، اردو فارسی اور عربی شعرو ادب کے گہرے مطالعہ نے تقریر و تحریر پر اس کا اچھا اثر ڈالا ہے ،حضرت کے جملے ادب کے شہہ پارے معلوم ہوتے ہیں، اتنا سلیس ، رواں، شستہ اور برجستہ جیسے معلوم پڑتا ہے کہ آبشار سے ڈھل رہے ہیں۔ دوران خطابت کبھی فارسی اور زیادہ تر اردو کے اشعار کا استعمال کرتے ہیں، جن سے تقریر کا زور بڑھ جاتا ہے اور حسن دوبالا ہوجاتا ہے، الفاظ کے دروبست پر زبردست قابو اور زبان پر گرفت ایسی کہ جو لفظ اور جملہ جہاں استعمال کر دیا وہیں موزوں ہوگیا۔
’’ حضرات محترم! ماضی کی روایتوں سے آباد شہر مونگیرمیں آپ کا استقبال میرے لیے پرمسرت فریضہ ہے، مونگیر کی اپنی قدیم اور عظیم تاریخ ہے،جس میں عظمت و تقدس، اخلاص و روحانیت ، شاہی اور فقیری، وطن سے محبت اور وطن کے لیے مر مٹنے کی طلب اور تڑپ شامل ہے،مونگیر میں اترا واہنی گنگا کا وجود، کشٹ ہرنی گھاٹ اور سیتا کنڈ کے ٹھنڈے اور گرم پانی کے چشمے ماضی کی روایات کی زندہ یادگاریں ہیں، راجہ کرن کے محلوں کے کھنڈر ایک دانی کے روپ میں مونگیر کی تاریخ کو پیش کرتے ہیں، اسی شہر میں میر قاسم کے قلعہ کی مضبوط فصیلیں پکار پکار کر کہ رہی ہیں کہ ہندوستان آزاد ہوا اس کی بنیاد یہاں ہے، ڈکر اپل کی ٹوٹی پھوٹی اینٹیں آج بھی گواہی دے رہی ہیں کہ میر قاسم کے نہ جانے کتنے جیالوں نے اپنے گرم گرم خون پر اطن کی آزادی کی بنیاد رکھی تھی، اور یہی شہر مونگیر سید شاہ زبیر، بابو شری کرشن سنکھ اور امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کا مسکن رہا ہے، ‘‘
(خطبات ولی،جلد اول:ص :38,39)
ایجاز و اختصار :
ایجاز و اختصاربھی آپ کی تقریر کا اہم وصف ہے، آپ کی تقریریں عموماً مختصر ہوتی ہیں، زیادہ طویل نہیں۔ کم الفاظ میں زیادہ بات کہنا آپ کی تقریر کا طرہ امتیاز ہے، جملے چھوٹے چھوٹے زبان سادہ اور عام فہم، مگر مختصر جملے اور سادہ زبان میں بڑی سی بڑی بات کہہ جانے کا ہنر آپ کی خطابت میں پایا جاتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سامعین لمبی تقریر سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں اور بہت سی ضروری باتیں بھی ذہن سے نکل جایا کرتی ہیں۔ حضرت والا کی تقریر اس عیب سے پاک ہوتی ہے، زبان وبیان اور اختصار و ایجاز کی خوبی کی وجہ کر سامعین کے لیے آپ کی تقریروں کا جملہ بھی یاد رکھنا آسان ہو جاتاہے۔ ایک نمونہ دیکھئے، کم جملوں اور سادہ زبان میں کتنی اہم بات کتنی خوش اسلوبی کے ساتھ کہی گئی ہے۔
’’ حکومتوں کا ایک خاص مزاج بن گیا ہے، وہ سلیقہ کی باتوں کو بد سلیقگی سے سننا پسند کرتی ہے، وہ جائز مطالبات کو بھی اس وقت تک قابل توجہ نہیں سمجھتی جب تک کہ توجہ مبذول کرانے کے لیے ناجائز حرکتیں نہ کی جائیں، اخلاق و شرافت کے لہجے انہیں متاثر نہیں کرتے، بد اخلاقی اور بد تمیزی کے مظاہرے ہی ان کی سمجھ میں آتے ہیں۔ میں یہ مشورہ نہیں دیتا کہ اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے کوئی خود سوزی کرے، کوئی آمرن ان شن کرے، کوئی توڑ پھوڑ کی جائے، یہ جان خدا کی دی ہوئی قیمتی نعمت ہے، اور توڑ پھوڑ میں نقصان ہونے والا سرمایہ وطن عزیز کا ہے، ہمیں جان اور سامان دونوں کا احترام کرنا ہے، مگر ایسی راہیں بہر حال تلاش کرنا ہوگی، جن کے ذریعہ فرش نشیں تخت نشینوں کو متوجہ کر سکے۔
اس مقصد کے لیے ضرورت ہے، مسائل و ضروریات کو سمجھنے کی، ان کے صحیح ادراک اور اہمیت کے احساس کی، سیاسی پارٹیوں سے اوپر اٹھ کر مشترکہ جدوجہد کی، ہم مختلف پارٹیوں میں رہتے ہوئے مختلف قسم کی وفاداریوں کو نبھاتے ہوئے بھی اقلیتوں کے وفاداری کے پرچم کے علمبردار ہوسکتے ہیں۔ ‘‘
(خطبات ولی، جلد اول: ص: 162 ،161)
انداز خطابت:
حضرت والا کے خطابت کا سب سے بڑا امتیاز اور وصف انداز خطابت اور اسلوب خطابت ہے۔ آپ کا انداز خطابت بڑا نرالا اور جداگانہ ہے، تقریر اول سے آخیر تک یکساں حالت پر قائم رہتی ہے، آواز گھن گرج سے پاک، معتدل مگر زوردار اور اثر دار۔ ضرورت کے تحت ہاتھ اور انگلیوں سے اشارہ کرتے ہیں، چہرہ کے نقوش اور اتار چڑھاؤ بہت کچھ بیاں کرتے ہیں، انداز بیاں بہت پر کشش اور زبان بہت آسان ہے، جب بولتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ موتی پرو رہے ہیں۔ ایک ایک جملہ بالکل صاف،شفاف اور واضح ۔۔۔۔ ثقیل ، پے چیدہ اور مبہم الفاظ سے مبرا اور بعید از فہم تعبیرات و استعارات سے اجتناب، چھوٹے اور خوبصورت جملے ، دماغوں کو اپیل کرنے والا اور دلوں کو گھر کر جانے والا، بقول کلیم عاجز:
یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا
جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا
حضرت کے خطابت کا اسلوب اتنا دلکش ہے کہ سامعین دم بخود ہو جائے، انگشت بدنداں ہوجائے، زبان کی شیرینی ، لطافت اور جمال و جلال تقریر کی معنویت اور اس کی اثر پذیری اور سحر انگیزی کو دو آتشہ بنا دیتی ہے، اسلوب میں رجائیت پائی جاتی ہے ، قنوطیت ،مایوسیت اور ناامیدیت کی چادر اوڑھانا آپ کا فن نہیں، یہ آپ کی طبیعت کی موزونیت ، ثابت قدمی اور مزاج کے استقلال کی دلیل ہے۔ البتہ اسلوب میں کہیں کہیں نخوت کا رنگ بھی جھلکتا ہے، مگر موقع و محل کے اعتبار سے یہ رنگ بھی آپ پر بڑا جچتا ہے اور یہ رنگ تقریر کے حسن کو کم کرنے کی بجائے اور بڑھا دیتا ہے۔ کسی بھی موضوع پر اظہارِ خیال کریں جا بجا انشا کے پھول کھلاتا ہے اور ادب کے موتی لٹاتا چلا جاتا ہے، انشاء کی گل کاریاں ہر جگہ نظر آتی ہیں۔ تصوف اور قانون جیسے سنجیدہ، پے چیدہ اور خشک موضوع پر بھی جب اظہار خیال کرتے ہیں تو زبان کی لطافت، الفاظ کی ترتیب، پیشکش کی سلیقہ مندی سے نئی جان اور روح ڈال دیتے ہیں اور سامعین دل گرفتہ ہو جاتا ہے ۔ خطیبانہ اسلوب کا ایسا بہترین نمونہ دوسری جگہ
مشکل سے نظر آئے گا۔ خطابت کا رنگ اور حسن ملاحظہ ہو:
’’ انسان کھوکر پاتا ہے، انسان جب اپنی یاد ، دنیا والوں کی یاد، نعمتوں کی یاد ، راحتوں اور کلفتوں کی یاد، ساری یادوں کو دل سے نکالتا ہے اور خدا کی یاد سے دل آباد کرتا ہے، تو یقین کیجئے دنیا اس کے قدموں میں ہوتی ہے اور وہ خدا کے در پر سجدہ ریز ہوتا ہے۔‘‘
(مجموعہ رسائل رحمانی ۔ص: 24 )
E:mail-nsnadvi@gmail.com 

امیر شریعت تامل ناڈو ورکن شوری دارالعلوم دیوبند کے انتقال پر اظہار تعزیت!

آنند نگر/مہراج گنج(آئی این اے نیوز 5/فروری 2019) امیر شریعت تامل ناڈو اور دارالعلوم دیوبند کے رکن شوری حضرت مولانا یعقوب قاسمی کے سانحہ ارتحال پر حافظ شجاعت فیض عام چیریٹیبل ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری حافظ شمس الہدی قاسمی نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا اب ہمارے درمیان نہیں رہے اور ان کی رحلت ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے جس کی بھرپائی مستقبل قریب میں نظر نہیں آتی۔ مولانا موصوف مدرسہ کاشف الہدی چنئ کے شیخ الحدیث وصدر المدرسین اور تامل ناڈو کے امیر شریعت بھی تھے، اور آپ کی پوری زندگی ملت اسلامیہ کی دینی، روحانی، سماجی و معاشرتی اور خدمت خلق سے عبارت تھی، اس کے علاوہ آپ جنوب ہند میں متعدد مدارس اسلامیہ کے سرپرست، محافظ اور فکر دیوبند کے ترجمان تھے۔
حافظ شجاعت فیض عام چیریٹیبل ٹرسٹ کے جنرل سپروائز حافظ عبیدالرحمن الحسینی نے بھی مولانا یعقوب کے انتقال کو علمی خسارہ  بتاتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، انھوں نے کہا کہ مولانا کے انتقال سے تامل ناڈو میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کو پر کرنا آسان نہیں ہے، اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور امت کو مرحوم کا نعم البدل عطاء فرمائے۔ آمیـن

تعلیم قوموں کی ترقی و زوال کی وجہ!

مولانا مزمل الحق راشد ندوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کے پرآشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم بہت اہمیت کی حامل ہے زمانہ کتنی ہی ترقی کرلے تعلیم کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہمارے معاشرے میں جس سرعت سے انسانی قدروں کا زوال عمل پزیر ہے اور لوگوں میں رواداری کا فقدان ہورہا ہے اس کے لئے طلباء کی بہترین تعلیمی رہنمائی کے ساتھ ان کی کردار سازی بھی اعلی تعلیم کے اہداف کا ماحصل ہونا چاہئے انسانی ذہن کو اگر بچپن ہی سے تعلیم و تہذیب کی اعلی روایات کی تشکیل کی جانب مائل کردیا جائے تو معاشرتی
و سماجی امن و استحکام کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی تعلیم کے بغیر کوئی بھی سماج خود اعتمادی کے ساتھ منزل کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتا اس لئے ہمیں ہر اس پیش رفت کی قدر کرنی چاہیے جس کا رشتہ تعلیم سے جڑا ہو تعلیم ہر انسان کی بنیادی ضرورت کا حصہ ہے تعلیم ایک ایسی قیمتی چیز ہے جسے نہ کوئی چھین سکتا ہے اور نہ ہی اسے کوئی تقسیم کر سکتا ہے سماج کے ہر شخص کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جہالت کے خاتمے کیلئے اجتماعی طور پر کوشش کرے اس کے لئے وہ طریق کار اپنائے جو نئی نسل کے شاندار مستقبل کو یقینی بنا سکے تعلیم قوموں کی ترقی و زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم صرف ڈگریاں یا سند حاصل کرنے کا مقصد نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آدمی خود کو تہذیب و شرافت کے سائے میں ڈھال کر معاشرتی روایات و اقدار کی پاسداری اور سماج کے بکھرتے تانے بانے کی اصلاح کیلئے عملی پیش رفت کرے تعلیم ہی سے انسان کی کردار سازی ممکن ہے تعلیم کی بہتری کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے اس کے ساتھ بالکل کوئی رعایت یا سیاسی سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے ہر اسکول پر نظر رکھنی چاہیے جو طلباء کے مستقبل سے کھیلنے کی کوشش کررہے ہوں یا جنکا مقصد صرف تجارت ہو اور تعلیم سے ان کا دور دور کا بھی رشتہ نہ ہو ایسے اداروں پر سخت کاروائی ہونی چاہیے بچے ہمارے ملک اور قوم کا مستقبل ہیں ہم سب کو اپنے مستقبل کی فکر کرنی چاہیے ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی.

آٹو رکشہ و موٹر سائیکل میں زبردست ٹکر، معصوم سمیت چار افراد کی موقع پر درد ناک موت، تین افراد شدید زخمی!

رپورٹ عقیل احمد خان
ـــــــــــــــــــــــــــــ
دھن گھٹا/سنت کبیر(آئی این اے نیوز 5/فروری 2019) تھانہ دھن گھٹا حلقہ کے واقع دھن گھٹا خلیل آباد  بھنڈا بازار شاہراہ پر دوپہر تقریباً ڈھائی بجے آٹو رکشہ اور موٹر سائیکل کی ہوئی زبردست ٹکر میں معصوم سمیت چار لوگوں کی موقع واردات پر ہی موت واقع ہوگئی، جبکہ تین لوگ شدید زخمی ہوگئے، دو کی حالت نازک ہونے کے سبب فوری طور پر ضلع ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے، مرنے والوں میں دو کی شناخت نہیں ہو پائی ہے.
خبروں کے مطابق مقامی تھانہ حلقہ کے مخلص پور سے دھن گھٹا کی طرف جا رہے آٹو رکشہ و دھن گھٹا  سے مخلص پور کی جانب جارہی موٹرسائیکل کی زبردست ٹکر ہوئی، آٹو رکشہ میں سوار سرییانس ولد سورج، مخلص پور تھانہ مہولی نے موقع پر ہی دم توڑ دیا، وہیں موٹر سائیکل سوارسیو پوجن موضع کوڑری تھانہ منڈیروا ضلع بستی سمیت ایک مرد اور خاتون کی بھی موت واقع ہو گئی، متوفیہ کی عمر تقریباً 22سال بتائی جاتی ہے.
 آٹو رکشہ پر سوار دوشیزہ عمر20سال ،ببیتا  زوجہ انل 35 موضع مخلص پور تھانہ مہولی، نیرج ولد بھگوان کجیا پور، مخلص پور تھانہ مہولی کو ابتدائی صحت مرکز ملولی لے جا یا گیا، جہاں سے ببیتا اور کشوری کی حالت نازک دیکھتے ہوۓ ضلع ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔ ہوئے اس سڑک حادثہ کی خبر ملتے ہی تھانہ انچارج دھن گھٹا منوج کمار ترپاٹھی پولیس فورس کے ساتھ موقع واردات پر ہہونچ کر زخمیوں کو علاج کے لئے اسپتال پہونچا یا تو وہیں دوسری جانب مرنے والے معصوم سمیت چار افراد کی لاش کو قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا ہے.

Monday, 4 February 2019

بسہی اقبال پور کے شان کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں گوسائی بازار کی ٹیم فاتح!

لال گنج/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 4/فروری 2019) شان کپ کرکٹ  میچ بسہی اقبال پور کا آج فائنل میچ کھیلا گیا، جس میں نیشنل ٹینٹ ہاؤس بسہی اور گوسائی کی بازار کے درمیان فائنل میچ ہوا، گوسائی کی بازار کی ٹیم پانچ اوور میں 65 رن بنائی، جبکہ بسہی اقبالپور کی ٹیم 43 رن پر آل آؤٹ ہوگئی، اس طرح شان کپ پر مہمان ٹیم گوسائی کی بازار کا قبضہ ہوا، فاتح ٹیم کے تیز طرار کھلاڑی آکاش کو مین اف میچ اورسونو کو مین آف دی سریج  سے نوازا  گیا.
فاتح ٹیم کو پوروانچل ٹینٹ ہاؤس کے مالک فعال سماجی کارکن بدر عالم نے اور رنر ٹیم نیشنل ٹینٹ ہاؤس بسہی کو ماسٹر فیض شان پرنٹس نے انعام تقسیم کئے.
اس موقع پر آفتاب عالم، ارشاد احمد، امتیاز عرف گدڈو بھائی، کامران احمد، سپا نیتا قیام الدین، رئیس احمد سمیت کافی تعداد میں لوگ موجود تھے.

موجودہ حالات میں معاشرے سے پہلے اپنی اصلاح کریں!

مولانا مزمل الحق راشد ندوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
حالات حاضرہ کے تناظر میں یہ بات صاف طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ہر فرد بشر معاشرتی نظام کی فکر کرتا ہے جبکہ آج ہر فرد مسائل کا شکار نظر آتا ہے معاشرہ مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے ان تمام مسائل و مشکلات کا آسان حل یہ ہے کہ ہر فرد بشر اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے بجائے اپنے اوپر عائد فرائض اور ذمہ داریوں کی فکر کرنا شروع کر دے معاشرہ کی تبدیلی فرد کی تبدیلی پر منحصر ہے اور فرد
کی تبدیلی کا انحصار خوف خدا اخلاقیات پر عمل اور ان اوصاف کے حامل لوگوں سے تعلق رکھنے پر ہے آج ہمارے معاشرے میں شدید اخلاقی انحطاط پایا جاتا ہے لوگ جوق در جوق بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں لوگوں نے نیکی و بدی اور حلال و حرام کی تمیز کو فراموش کردیا ہے اس معاشرتی بگاڑ کی وجہ پر ہمیں غور کرنا ہوگا کہ کیا ہم بحیثیت مسلمان اپنا فرض اچھے طریقے سے ادا کررہے ہیں آج جیسے جیسے وقت گزررہا ہے معاشرے میں بڑی سبک روی سے تبدیلی رونما ہوتی جارہی ہے ایک طرف جدید ٹکنالوجی کا دور دورہ ہے تو دوسری طرف نوجوان نسل بگڑتی جارہی ہے لیکن افسوس ہمارا پسندیدہ مشغلہ یہ بن گیا ہے کہ ہم دوسروں کو اس کا ذمہ دار بڑی تیزی سے ٹھہرا دیتے ہیں لیکن معاشرے کی اصلاح کیلئے ہم خود کوئی عملی اقدام نہیں کرتے دوسروں کے حق میں بہترین جج اور اپنی چھوٹی بڑی غلطی پر ہزاروں تاویلیں اور دلائل پیش کرکے اپنا دفاع کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں معاشرے کی اصلاح کا جو واحد کام ہم کرتے ہیں وہ دوسروں کو نصیحت ہے ہم ہر اچھے کام کی دوسروں کو نصیحت کرکے سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض پورا ہوگیا اسی نصیحت پر خود عمل پیرا ہونا بھول جاتے ہیں جب کہ سب سے پہلے ہمیں خود میں بہتری لانے کی کوشش کرنی چاہیے جب تک آپ خود بہتر نہیں ہوں گے آپ دوسروں کو بہتر نہیں بنا سکتے اگر ہم میں سے ہر شخص صرف اپنی ذات کو بہتر بنانے میں لگ جائے تو ہمارا پورا معاشرہ بہتر ہوجائے لیکن اس کے برعکس ہورہا ہے لوگ ایک انگلی دوسروں کی جانب اٹھانے سے پہلے اپنی باقی انگلیوں کی جانب غور نہیں کرتے جب تک معاشرے سے ایسی سوچوں کا قلع قمع نہیں ہوگا تب تک معاشرے میں اصلاح آنا ناممکن ہے اس کیلئے سماج کے ہر طبقے کو مشترکہ طور پر کوشش کرنی پڑے گی اور اس کیلئے پہلے خود کو تیار کرنا ہوگا اور اپنے اندر عملی اصلاح پیدا کرنی ہوگی اور سماج کے ہر شعبے میں کام کرنا ہوگا تعلیم و تربیت اخلاق شادی بیاہ اور آپسی اخوت اور رواداری، اگر ایسا ممکن ہوگیا تو سماج میں انقلابی تبدیلی خود بخود آجائے گی.

مشتبہ حالت میں پچیس سالہ شادی شدہ خاتون کی موت!

عقیل احمد خان
ـــــــــــــــــــــــ
دھن گھٹا/سنت کبیر نگر(آئی این نیوز 3/فروری2019) تھانہ دھن گھٹا حلقہ کے تحت موضع نرچھا گزشتہ شب ایک شادی شدہ 25سالہ خاتون کی مشتبہ حالت میں موت واقع ہوگئی وہیں اطلاع پر پہونچی مقامی پولیس نے لاش کو قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا ہے.
موصولہ خبروں کے مطابق بفات علی ولد علی رضا شاہ موضع گنگولیا بروسا، تھانہ موتی گر پور،(ضلع سلطان پور) نے اپنی 25سالہ بیٹی زرینہ بانو کی شادی مقامی تھانہ حلقہ کے موضع نرچھہا صلاح الدین کے ہمراہ 5سال قبل کی تھی اس کے دو بچے ناصمہ، راشیہ ہیں.
بتایاجاتا ہے کہ زرینہ کی ہوئی موت کو لیکر کنبہ، اور گاؤں والے بتانے سے کترا رہے ہیں، مقامی تھانہ میں ملاقات کے دوران متوفیہ زرینہ کی ماں صالحہ خاتون نے بتایا کہ میری بیٹی کی موت کیسے ہوئی یہ نہیں معلوم، البتہ لاش کو دیکھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کوئی زہریلی اشیاء کھالی ہوگی یا اس کو کھلایا گیا ہوگا، کیونکہ اس کا چہرہ ہونٹ اور پوری بدن کالی پڑگئی تھی، تھانہ پر موجود متوفیہ کا شوہر صلاح الدین سے بیوی کے مرنے کی وضاحت چاہی تو وہ بالکل اس معاملے پر کچھ بھی بولنے کو تیار نہیں تھا، اس سلسلہ میں جب تھانہ انچارج دھن گھٹا منوج کمار ترپاٹھی سے دریافت کیا تو انہوں نےکہا کہ لاش کو قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا ہے رپورٹ آنے کے بعد ہوئی موت کا خلاصہ کیا جائے گا.

مئو: مدرسہ تعلیم القرآن میں خسرہ روبیلا کی ٹیکہ کاری!

ولید پور/مئو(آئی این اے نیوز 4/فروری 2019) مدرسہ تعلیم القرآن  محلہ بھیرہ نگر پنچایت ولید پور ضلع مئو کے احاطے میں آشا، اینم اور سرکاری ڈاکٹرس کی نگرانی میں روبیلا اور خسرہ کے ٹیکہ کاری ہوئی، مدرسہ کے کل 125  بچوں نے ٹیکہ لگوایا اور ان شاءاللہ آج پھر ٹیکہ کاری کا پروگرام ہوگا، جس میں باقی بچوں کو ٹیکہ لگایا جائے گا.
اس موقع پر تمام مدرسین حافظ محمد سہیل، مولوی عبدالقدوس، مولوی محمد اسعد، ماسٹر محمد نعیم اعظمی، حافظ جاوید اختر، حافظ صدق الظفر، حافظ محمد طاہر، اور مولوی عبدالملک وغیرہ کے ساتھ ساتھ لال متی دیوی، سشما دیوی، پسپا دیوی اور رینو دیوی وغیرہ  موجود تھیں ۔