اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 4 September 2019

شادی سے قبل نوجوانوں کی کونسلنگ ضروری

شادی سے قبل نوجوانوں کی کونسلنگ ضروری!

تحریر: محمد رضی الاسلام ندوی

          موجودہ دور میں ہندستان میں امتٍ مسلمہ جن مسائل کا شکار ہے ان میں سے ایک اہم مسئلہ نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت کا ہے۔ یہاں اسکولی مرحلہ سے ہی مخلوط تعلیم کا رواج ہے۔ بعض اسکولوں میں ثانوی تعلیم کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ سیکشن بنائے جاتے ہیں، لیکن کالج کی سطح پر ہر حال میں مخلوط تعلیم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب ان میں جسمانی اور نفسیاتی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ وہ صنف مخالف کی طرف کھنچاؤ محسوس کرتے ہیں۔ اس عمر میں والدین اپنے بچوں کے نکاح کے لیے فکر مند ہوتے ہیں۔ وہ رشتوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ یہ موضوعات گھر میں بچوں کے سامنے بھی آتے ہیں۔ نوجوانوں کی زندگی میں یہ مرحلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگر اس میں ان کی مناسب رہ نمائی نہ کی جائے تو ان کے بھٹکنے اور غلط راہ پر پڑ جانے کے امکانات رہتے ہیں۔

         اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو وطن سے دور جانا پڑتا ہے۔ کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں وافر مقدار میں ہاسٹل کی سہولت میسر نہ ہونے کی بنا پر وہ پرائیویٹ ہاسٹلس کا رخ کرتے ہیں، یا کرائے کے مکانات حاصل کرتے ہیں۔ اس دوران آزادنہ اختلاط کے نتیجے میں جنس (Sex) کا جذبہ جوش مارتا ہے تو وہ نکاح کے بغیر جنسی تعلق (Live in relationship) کی جانب مائل ہوجاتے ہیں۔ کچھ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان رشتے کی بات چلتی ہے تو پھر وہ نکاح سے قبل جنسی تعلق (Pre-marital sex) میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ۔ اباحیت پسندی نے مرد کے مرد سے جنسی تعلق (Homosexuality) اور عورت کے عورت سے جنسی تعلق (Lasbianism) کی راہیں سجھا دی ہیں، لہٰذا اب اس کی بھی قباحت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس صورتِ حال میں مسلم نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اسلام نے جنس کی تسکین کے لیے صرف نکاح کا راستہ بتایا ہے۔ اس کے علاوہ تمام طریقے حرام اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے والے ہیں۔

          کالج کی زندگی میں لڑکوں اور لڑکیوں کا باہم میل جول ہوتا ہے اور وہ ایک دوسرے کو شریک ِ حیات (Life partner)کی حیثیت سے پسند کرنے لگتے ہیں تو بعض مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً لڑکا مسلم ہے اور لڑکی غیر مسلم، یا اس کے برعکس،لیکن وہ وقتی جوش میں آکر نکاح پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ پہلے بین مذہبی شادیوں (Inter Religions Marriages) کے اِکّادُکّا واقعات سننے کو ملتے تھے۔ اب خاصا اضافہ ہوگیا ہے، جو باعثِ تشویش ہے۔اسلام میں نکاح درست ہونے کے لیے زوجین کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ کسی غیر مسلم سے نکاح جائز نہیں۔ ایسے موقع پر ضروری ہے کہ مسلم نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر دینی اعتبار سے غیر مسلموں سے نکاح کی قباحتیں واضح کی جائیں۔

          نکاح کے معاملے میں ذات برادری کا بھی معاملہ اٹھتا ہے۔ لڑکی کسی برادری ہے، لڑکا دوسری برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ عموماً والدین ایسی شادیوں کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان میں مسئلہ کفاء ت کو ذات برادری سے جوڑ دیا گیا ہے، جب کہ اسلام کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ نکاح کے معاملے میں ہم آہنگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے دین داری کو ترجیح دی جائے۔

          آزادانہ ماحول نے پسند کی شادی (Love marriage) کو رواج دیا ہے۔ اس معاملے میں بھی اعتدال کی ضرورت ہے۔ لڑکا یا لڑکی اپنی پسند کے کسی رشتے کی نشان دہی کرے تو والدین کو چاہیے کہ اسے آوارگی پر محمول نہ کریں، بلکہ اس پر غور اور اس کی تحقیق کریں۔ اگر وہ رشتہ مناسب لگے تو اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ اسی طرح اگر وہ خود کوئی رشتہ تلاش کرلیں تو اسے فائنل کرنے سے پہلے لازماً لڑکے یا لڑکی کی رضا مندی لیں۔ عموماً لڑکیوں کی مرضی معلوم کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی، جب کہ دینی اعتبار سے یہ درست رویّہ نہیں ہے۔ عہدِ نبویؐ میں ایسے متعدد واقعات پیش آئے جن سے پتہ چلتا ہے کہ شادی میں لڑکی کی رضامندی بھی ضروری ہے۔ ایک مرتبہ ایک لڑکی نے حضور ﷺ کی خدمت میں آکر شکایت کی کہ میرے باپ نے میرا رشتہ ایسی جگہ طے کر دیا جو مجھے پسند نہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ایسے رشتے کو کینسل کروا دیا۔ (بخاری)

        نکاح کے نتیجے میں ایک خاندان وجود میں آتا ہے ۔ اسلام نے شوہر اور بیوی دونوں کے حقوق متعین کیے ہیں ۔ جو بیوی کے حقو ق ہیں وہ شوہر کے فرائض ہیں اور جو شوہر کے حقوق ہیں وہ بیوی کے فرائض ہیں۔ نکاح کے بندھن میں بندھنے سے قبل لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے حقوق کا بھی علم ہونا چاہیے اور فرائض کا بھی۔ اسلام نے خاندان کا نظم چلانے کے لیے اس کی سربراہی مرد کو سونپی ہے۔ یہ ایک انتظامی ذمہ داری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مردکو حاکمانہ اور جابرانہ اختیارات دیے گئے ہیں اور عورت کو گھر کی لونڈی بنایاگیا ہے جو شوہر کے ہر طرح کے حکم کو ماننے کی پابند ہے۔ اسلام نے عورت کے حق ملکیت کوتسلیم کیا ہے اور وقت ضرورت اس کی معاشی جدو جہد کی اجازت دی ہے، لیکن اس کے لیے بہ ہر حال شوہر کی اجازت ضروری ہے۔

          نکاح کے بعد لڑکی جب شوہر کے گھر پہنچتی ہے تو اسے نئے افرادِ خاندان سے سابقہ پیش آتا ہے۔ سا س، سسر، نند، بھاوج، دیور، جیٹھ وغیرہ۔ ان کے ساتھ اس کا تعلق کیسا ہو؟اور وہ لوگ اس کے ساتھ کس طرح پیش آئیں؟ اس پر خاندان کی خوش گواری موقوف ہوتی ہے۔ اسلام مشترکہ خاندان کا بالکلیہ مخالف ہے نہ بالکلیہ حامی۔ وہ بس یہ چاہتا ہے کہ نئے جوڑے کو خلوت (Privacy)کا حق حاصل رہے اور مکان کا ایک حصہ عورت کے آزادانہ تصرف میں رہے، جس میں خاندان کے کسی اور فرد کی دخل اندازی نہ ہو۔ لڑکی کا تعلق اصلاً اس کے شوہر سے ہوتا ہے،خاندان کے دوسرے افراد کی خدمت اس کے ذمہ نہیں ہے، لیکن اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ اب اس کے رشتے دار ہوگئے ہیں اور رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا اسلام نے حکم دیا ہے۔اسے یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ خدمت کرکے دوسروں کا دل جیتا جا سکتا ہے۔

           بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ خاندان جن کے تمام افراد ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور ان کے درمیان پیار و محبت اور الفت و مودّت آخر تک قائم رہتا ہے۔ ورنہ ہوتا یہ ہے کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد شکایات پیدا ہونے لگتی ہیں اور تنازعات سر ابھارنے لگتے ہیں۔ اگر یہ صورتِ حال پیدا ہونے لگے تو اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں زوجین خود انھیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ حل نہ کر سکیں تو خاندان کے بڑے بوڑھوں کو شریک کریں اور اگر وہ بھی ان تنازعات پر قابو نہ پا سکیں تو زوجین باقی زندگی گھٹ گھٹ کر جییں، اس سے بہتر ہے کہ علیٰحدگی حاصل کریں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق طلاق غصہ میں آکر یا جذبات کی رَو میں بہہ کر اچانک اختیار کیا جانے والا قدم نہیں، بلکہ سوچ سمجھ کر اپنایا جانے والا فیصلہ ہے۔

          موجودہ حالات میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مسلم نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کو نکاح کے بندھن میں بندھنے سے قبل اس سلسلے کی ضروری معلومات بہم پہنچائی جائیں۔ انھیں نکاح کے مقصد، حکمت، حدود و شرائط، زوجین کے حقوق و فرائض اور ان کے اختیارات، نکاح کے بعد پیش آنے والے مسائل کو حل کرنے کے طریقے اور تنازعات کو سلجھانے کی تدابیر بتائی جائیں، تاکہ وہ پہلے سے ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہوجائیں۔ اس کے لیے مناسب ہے کہ مسلم جماعتیں اور تنظیمیں سرگرم ہوں، اہلِ علم ایک مختصر مدتی کورس تیار کریں، ہر شہر میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے پروگرام منعقد کریں اور اس کو رس کے مطابق ان کے سامنے لیکچرس دیے جائیں۔ مطالعہ کے لیے بھی انھیں کچھ کتابیں فراہم کی جائیں۔ مساجد کی کمیٹیاں اس معاملے میں سرگرم رول ادا کر سکتی ہیں۔ امید ہے کہ اس طرح نوجوانوں کی بے راہ روی پر قابو پایا جا سکتا ہے اور انھیں اسلامی تعلیمات کے مطابق ازدواجی زندگی گزارنے کی تلقین کی جا سکتی ہے۔

داستان کربلا !

مفتی فہیم الدین رحمانی قاسمی
___________________    
دنیا نے سیکڑوں دلدوز مناظر اور روح فرسا  واقعات دیکھے ہوں گے رنج و غم کی داستانیں سنیں ہوں گی غمگساروں کے حالات اور ماتم کرنے والوں کے آنسوؤں کے دریا بہتے دیکھے ہوں گے لیکن! تاریخ کے کسی دور میں دنیا کے کسی المناک حادثہ پر نسل انسانی نے اس قدر آنسو نہ بہائے ہوں گے جس قدر داستان کربلا میں شہادت حسین پر بہائے                    
حضرت امام حسین ٣/شعبان المعظم ٤ھ مطابق ٨/جنوری ٦٢٦ء پیر کے دن پیدا ہوئے آپ کی والدہ ماجدہ جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیاری اور چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تھیں اور آپ کے والد ماجد حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور آپ فخر رسول سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے لاڈلے نواسے تھے  حضرت سید الکونین کے قلب مبارک میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی خصوصی محبت ودیعت کی گئی تھی آپ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ادنیٰ سی تکلیف میں بےقرار ہوجاتے تھے ایک دن حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے مکان کے پاس سے آپ کا گزر ہوا تو امام حسین کے رونے کی آواز سنائی دی آپ فوراً حضرت فاطمہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا بیٹی!  تو اس بچہ کو رلا کر مجھے دکھ دیتی ہے حضرت حسین کی تربیت نانا جان کی آغوش میں ہوئی حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کی اعلیٰ سوسائٹی میں بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کی منزلیں طے کیں اس لئے آپ کی زندگی کا ہر گوشہ درخشندہ اور سنت نبوی علیہ السلام کے مطابق تھا  حق گوئی   بےباکی   انصاف پسندی   انسانیت نوازی   صبر و تحمل آپ کی طبیعت ثانیہ تھی یہی کربلا کی خونیں داستان اور دردناک حادثہ کا سبب اصلی ہے.
٦١ھ میں بد قسمتی سے دنیا جبر و ظلم کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گھر گئی تھی آزادی اور حریت کی جگہ شخصیت پرستی نے اور نظام شوروی کی جگہ ڈکٹیٹر شپ نے لے لی تھی جمہوریت کا جنازہ نکلنے لگا تھا      
وہ مسندِ خلافت جس پر حضرات صحابہ کرام میں سے حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق  حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضیٰ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے خلفاء متمکن تھے اس پر یزید جیسا ظالم و جابر بادشاہ بیٹھ گیا تھا جس نے دولت کے گہوارہ میں آنکھ کھولی تھی ناز و نعم میں پلا بڑھا تھا بیشتر اولاد امراء کی طرح یہ بھی علم سے بے بہرہ   تہذیب و تمدن سے نابلد اور عیش و عشرت کا متوالا تھا جو کتوں کی لڑائیوں میں  کبوتر بازیوں میں  گانے والی رنڈیوں اور بادہء خوش رنگ کے شغل اور رقص و سرور میں مدہوش رہتا عیاری اور نفاق کا پیکر تھا اس کے والد حضرت امیر معاویہ نے اس کی بے رہ روی کو اندیشہ کی نظر سے دیکھا اور راہ راست پر لانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر تربیت طبیعت پر غالب نہ آسکی.            
اس نے اسلام کے نورانی چہرے پر نفس پرستی اور خود غرضی کے جالے تان دیئے تھے صحابہ کرام کے طرز انتخاب جو ایک کمیٹی بحیثیت مجلس شوریٰ ہوا کرتی تھی اس کے بر خلاف اس نے جبری چناؤ  ملوکیت اور استبداد کی بنیاد ڈال دی تھی نیک لوگوں کو قتل کرا دیا بدطینتوں کو عہدے دیئے عوامی خزانے سے بے تحاشا مال لٹائے اس کے افسران سے بھلائی کے کام کم اور برائیاں زیادہ پھیلیں عدل و انصاف کی جگہ ظلم و جور کا غلبہ ہوتا چلا گیا فسق و فجور راگ رنگ کا دورہ شروع ہوگیا حلال و حرام کی یکسر تمیز اٹھتی چلی گئی                                  
یہ وہ حالات تھے جن کو دیکھ کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بے چین ہوگئے حمیت و غیرت نے گوارہ نہ کیا کہ ہمارے جیتے جی نانا جان کا دین مٹ جائے آپ کلمہ ء حق کا جھنڈا بلند کرنے اور انصاف و سچائی کا بول بالا کرنے جمہوریت اور آزادی رائے کا پرچم پھیلا نے کے لئے خاندان سمیت میدان میں کود پڑے یزید اور اس کی حرکات کا پیرو چاہتا تھا کہ اسلام کا شورائی نظام امام حسین کے نام پر اسلام سے خارج ہوجائے اس کے افسران نے دولت و حکومت کا لالچ دیا جان و مال کا خوف دلایا اور یزید کی بیعت کے لئے ولید بن عتبہ بن ابی سفیان گورنر مدینہ کے ذریعہ بھر پور کوشش کی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے شان متانت سے فرمایا میں نبی برحق کا نواسہ ہوں یہ کسی حال میں نہیں ہوسکتا کہ تیری شیطانی اور رومانی حکومت تسلیم کرکے نانا جان کی امت اور دنیا کے لئے غلامی اور محکومی کا سبق چھوڑ جاؤں            
اگر آپ چاہتے تو یزید کی اطاعت کا اعلان کر کے تمام مصیبت سے نجات پالیتے لیکن امام حسین رضی اللہ عنہ حق کی راہ سے نہ ہٹے اور خدا کی مرضی پر راضی برضا رہےاور اپنے مسلک پر چٹانوں کی طرح قائم رہے          
آپ نے جنگ و جدال سے بچنے کی ہر چند کوشش کی مگر یزیدی فوج نے یزید کی بیعت کے سوا اور کوئی شرط منظور نہ کی اور ١٠/ محرم الحرام ٦١ھ مطابق ١٠/ستمبر ٦٨١ء کو بالآخر حق و باطل کی وہ جنگ چھڑ گئی جس پر انسانیت رہتی دنیا تک حسرت و افسوس کے آنسو بہاتی رہے گی                          
جرمن مؤرخ ہر ماہرین نے ایک مقام پر لکھا ہے کہ،، امام حسین،،  نے یہ مصائب سلطنت اور حکومت کے لئے نہیں برداشت کئے اور نہ ہی بغیر سوچے سمجھے کربلا کی مہلک وادی میں قدم رکھا،، حسین،، کا حکیمانہ تخیل کس قدر بلند تھا اسے مادیت  کا پرستار سمجھ ہی نہیں سکتا ان کا واحد مقصد راہ حق میں عظیم قربانی تھی ورنہ بھلا کون اکیلاانسان پوری سلطنت سے ٹکراتا ہے انھیں  ساری دنیا کو سبق دینا تھا کہ حق کے راستے میں کثرت اور قلت کی پرواہ نہ کرو   بس حق کے لئے باطل سے ٹکرا جاؤ                              
یہ اہل بصیرت ہی حسین رضی اللہ عنہ کے فلسفہ کو سمجھ سکتے ہیں ۔

Tuesday, 3 September 2019

ذرا عمر کو آواز دینا!

  احتشام الحق مظاہری کبیر نگری
_____________________

1440 کا ہجری، سال ختم ھو کر نیا سال شروع ہوا چاہتا ھے ،ایک سال کے ختم ہونے اور نئے سال کے شروع ہونے کا یہ زندگی کے مسافر کی وہ منزل ھے جہاں کچھ دیر ٹھر کر پچھلے سفر کی حصول یابیوں اور نامرادیوں پر نظر ڈال کر اگلی منزل کے لئے عزم سفر کو سامانِ قوت فراہم کیا جاسکتا ھے اور گزری زندگی کی تلافیوں کاعزم اور سنبھل سنبھل کر بقیہ عمر گزارنے کا خوابیدہ احساس تازہ کیا جاسکتا ھے تو آئیے کچھ دیر خلوت نشیں ہو کر عمر رفتہ کو آواز دیں زندگی کے شب و روز اور نشیب و فراز کا جائزہ لیں اور تازہ جزبہ ، نئے احساس اور زندہ ولولہ کے ساتھ نئے سفر کا اغاز کریں۔
اس گزر گاہِ حیات میں قدم رکھنے والا ،راہ حیات کا ہر مسافر ،پیدائش اور موت کے درمیان کے معمولی ،غیر یقینی اور بے اندازہ وقفہ کا توشہ اپنے ساتھ لاتا ھے وہی اس کی عمر مستعار ھے اور اسی کا نام زندگی ھے یہ خدا وند قدوس کی بے بدل نعمت اور مہتم بالشان امانت ھے ہر دم فنا کی طرف رواں اس کی زندگی کا ہر ہر پل اتنا قیمتی ھے کہ گزر جانے کے بعد کسی بھی طرح واپس نھیں لایاجاسکتا دولت کے ہزارہا خزانے بھی اگر ضائع ھوجائیں تو جد و جہد اور کفایت شعاری کے ذریعہ پھر سے حاصل کئے جاسکتے ھیں لیکن زندگی کے لمحات وہ قیمتی سرمایہ حیات ھیں جو ایک مرتبہ ضائع ھوجانے کے بعد پھر کبھی واپس نھیں اتے زندگی کا یہ سفر بہت مختصر ھے سفینۂ حیات بہت جلد ساحل سے جا لگتا ھے لیکن جن افراد و اقوام نے متاعِ حیات کے ایک ایک لمحہ کی قدر کی اور انھیں کار آمد بنایا انھوں نے اس مختصر مدت میں دنیاں پر اپنی فتوحات کا پرچم لہرادیا بڑی بڑی انقلابی تحریکوں کو وجود بخشا حیرت انگیز ایجادات کا تحفہ دیا فضاؤں پر قبضہ کر لیا ستاروں پر کمندیں ڈالدیں عظیم و ضخیم تصینفات کی شکل میں علم واگہی کے وہ آبشار جاری کر گئے جن سے ہزارہا تشنہ لب صدیوں سے سیراب ہورھے ھیں ، اور ایسے ایسے محیر العقو کارنامے انجام دئے جنھیں دیکھ کر آج عقلیں حیران ھیں اور انسانیت انگشت بدنداں ھیں کہ یہ سب کچھ اس قلیل عرصۂ میں کیوں کر ممکن ہوسکا ،انھوں نے متاع وقت کی قدر کی ہر ہر سانس کو قیمتی بنایا تو انکی زندگی میں برکتیں ظاھر ہوئیں وقت انکا قدر داں ہوا ،اور زمانہ نے انکی قدم بوسی کو باعثِ شرف سمجھا ،انکے برخلاف جن اشخاص وملل نے وقت کو برباد کیا وقت نے بھی انھیں برباد کر دیا ،انھوں نے لمحات زندگی کی بیش بہا دولت کو اندھا دھند لٹا دیا تو وہ خود بھی لٹ گئے وقت کے ضیاء کے جرم میں انکی صلاحیتیں سلب کر لی گئیں ان کے ہاتھوں میں کشکولِ گدائی تھما دیا گیا پاؤں میں حسرت و افسوس اور محرومیوں کی بیڑیاں پہنادی گئی اور دنیاں کے نقشہ پر ان کا بوجھل اور ناروا وجود ھی باقی رہ گیا ،وہ عمر نوح پاکر بھی کچھ نہ کر سکے تہی دامن ائے تھے اور تہی دامنی کے ساتھ ہی لوٹ گئے زندگی کی گنج گراں مایہ سے نہ خود استفادہ کر سکے اور نہ ھی انسانیت کے استفادہ کے لئے کچھ چھوڑ گئے
  افسوس صدہا افسوس ایسی زندگی پر  (فاعتبرو یا ألی الباب )

غزل اسنے جھیڑی مجھے ساز دینا

زرا عمر رفتہ کو آواز دینا

قیامت کے دن والدین سے ان کے اولاد کے بارے میں باز پرس ہوگی!

 تحریر: احتشام الحق  مظاہری
_________________
آپ یہ بات  ضرور جانتے ھونگے کہ ان ممالک میں ماں باپ اور اولاد کے درمیان محبت، ہمدردی، خلوص ،ایثار و قربانی کا جزبہ اکثر مفقود ہوتا ھے  پندرہ سال کا بچہ آزاد ھوجاتا ھے جو جی میں آئے کرے نشہ کرنا ،عیش کرنا ،اور ماں باپ کو کچھ نہ سمجھنا ان کا طریقۂ زندگی بن جاتا ھے ،،، یہ والدین کو اپنے اولاد کی تربیت سے دوری کا نتیجہ ھے
قیامت کے دن والدین سے ان کے اولاد کے بارے میں باز پرس ہوگی ۔آیا انھوں نے اس ذمہ داری کو محسوس کرکے اس امانت کی حفاظت کی تھی یا اسے برباد کردیا تھا ۔یہی اولاد جو ہمارے لیے زینت ہیں اگر دین اسلام پر ان کی تعلیم و تربیت نہ کی جائے اور انھیں اچھے اخلاق نہ سکھائے جائیں تو یہ رونق وجمال بننے کے بجائے دنیا وآخرت میں وبال بن جاتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ نے فرمایا ہے :
حدیث - کلکم راع و کلکم مسؤل عن رعیتہ
 ”تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں بازپرس ہوگی ۔ حاکم ذمہ دار ہے اوراپنی رعایا کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے گھر کا ذمہ دار ہے ، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا”( متفق علیہ)

یہ امانت ایک عظیم ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی کرنے یا ضائع کرنے سے اللہ تعالی نے خبردار فرمایا ہے ۔ارشاد باری ہے:

التحریم آیت ۶)   یا ایھا الذین آمنوں قو انفسکم واھلیکم نارا وقودھاالناس والحجارۃُ علیھا
ملٰئکۃ غلاظ شداد لا یعصون اللہ ما امرھم و یفعلون ما یؤمررون

اے وہ لوگ جو ایمان لائے ، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے جس پر نہایت تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی نہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں

اپنے بچوں کی مفید دینی تعلیم وتربیت کے بارے میں غفلت ولاپرواہی برتنے والے اور انھیں بے مقصد چھوڑ دینے والے والدین انتہائی برے انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔کیونکہ اکثر اولاد اسی طرح خراب ہوتی اور بگڑتی ہے ۔ لوگ انھیں بچپن میں دین کے فرائض واحکام اور سنن وواجبات نہیں سکھاتے چنانچہ وہ بڑے ہوکر خود بھی کسی لائق نہیں رہتے اور اپنے والدین کو بھی کسی طرح کا فائدہ نہیں پہنچاسکتے بلکہ ان کے لیے الٹا دردِ سر بن جاتے ہیں ۔

قابل مبارکباد اور لائق ستائش ہیں وہ والدین جو اپنے قیمتی اوقات میں سے کچھ وقت اپنے بچوں کی اصلاح وتربیت پر صرف کرتے ہیں۔ اپنے بچوں کی اسلام سے بھرپور وابستگی کی خاطر اپنے گھروں میں قرآن و حدیث اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کے درمیان حفظ قرآن کے مقابلے نیز دیگر اسلامی ، ثقافتی اور تعلىمی مقابلے رکھتے اور عمدہ کارکردگی کی صورت میں ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور انھیں قیمتی انعامات سے نوازتے ہیں ۔

جو بدنصیب والدین اپنے بچوں کی تربیت میں کوتاہی کررہے ہیں بعد میں انھیں اپنی اس سنگین غلطی کا احساس ہوگا لیکن اس وقت ندامت اور پچھتاوے کا کوئی حاصل نہ ہوگا،لہٰذا ابھی سے انھیں ہوش کے ناخن لینا چاہئے اور اپنے بچوں کے روشن اورتابناک مستقبل کے لیے ہمہ تن لگ جانا چاہئے ۔اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو صالح اولاد عطا فرمائے اور انھیں اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔ آمین ،،،،

تربیت کا بہتر انداز یہ ہے کہ آدمی انعامات کا طریقہ اپنائے۔ بچہ کے کردار کے مطابق اسے یا تو انعام سے نوازے یا انعام سے محروم کردے ۔ بچہ کے اچھے عمل پر مناسب انداز میں اس کی تعریف ہونی چاہیے، نیکی پر قائم رہنے بلکہ آگے بڑھنے کے لیے عمدہ طریقہ پر حوصلہ افزائی کا بڑا اہم کردار ہے۔

 اپنے بچوں کو اچھے دوستوں کی رہنمائی کرنی چاہیے اور برے دوستوں سے بچانا چاہیے ۔ان کو وقت برباد کرنے والی جگہوں اور بری تفریح گاہوں میں نہیں لے جانا چاہیے۔ بچوں کے دلوں میں شجاعت و بہادری جیسے مردانہ اوصاف اور بچیوں کے دلوں میں عفت وحیاجیسی خوبیوں کا شعور پیدا کرنا چاہیے۔ اس حماقت میں مبتلا ہونے سے بچنا چاہیے کہ اسلامی تعلیمات سے دوری اور کنارہ کشی ہی تہذیب و تمدن ہے ۔ ہمیشہ اس بات کا خیال رہے کہ آدمی کی پشت سے پیدا ہونے والی اولاداور اس کی پیٹھ سے جنم لینے والا کوئی بچہ اپنے قول وکردار کے ذریعہ اللہ اور اس کے دین سے جنگ کرنے والاہرگز نہ ہونے پائے ۔

اولاد کی تربیت کے لیے والدین کو مل کر ایک متفقہ منصوبہ اور متحدہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ ان میں سے کسی ایک کو بچوں کے سامنے کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے جس سے بچہ کو یہ احساس ہو کہ ماں باپ میں اختلاف ہے۔ مثلاًجس وقت باپ بچوں کو سزا دے رہا ہو یا ان کی تنبیہ کررہا ہو اس وقت ماں بچوں کے سامنے اس پر اعتراض نہ کرے ۔ اگر باپ کی تنبیہ نامناسب ہو تو بچوں کی غیرموجودگی میں اس سے بات کرے

 ،،،،، اگر ہم چاہتے ھیں کہ ہماری خاندانی زندگی اس طرح نہ اجڑے اور ہمیں بڑھاپے میں خون کے آنسو نہ رونہ پڑے تو ہم پر لازم ھے کہ ہم سچے دل سے خالق کائنات کے احکام بجالائیں جس نے ہمیں اولاد جیسی قابل قدر نعمت دی ،،
اپنی اولاد کو ہم اسی خدائے واحد کے حکم کے۔مطابق پروان چڑھائیں ،،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ھے کہ کسی باپ نے اپنی اولاد کو حسنِ ادب اور اچھی سیرت سے بہتر کوئی تحفہ نھیں دیا ،،،، اس ارشاد مبارک کے مطابق ہمیں اپنی اولاد میں ادب شائستگی،تہذیب و سمجھداری ،مروت ، بلند اخلاقی ،تمیز و سلیقہ ، پیدا کرنا چاہئے

Monday, 2 September 2019

مولانا رشید احمد قاسمی کے انتقال پر ہر خاص و عام مغموم!

مہراج گنج(آئی این اے نیوز 2/ستمبر 2019)جمعیت علماء ہند کے سابق آرگنائزر اور معھد عثمان ابن عفان کے ناظم اعلی حضرت مولانا رشید احمد قاسمی کا کل گزشتہ ممبئی کے سائن اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ مولانا کافی دنوں سے علیل تھے قلب اور تنفس کی بیماری میں مبتلا رہے ڈاکٹروں کے مطابق بی، پی اور شوگر کنٹرول سے باہر تھا جس کی وجہ سے قلب کے آپریشن میں تاخیر ہوتی گئی اور مولانا داعئی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سن کر علاقے میں غم کا ماحول ہے خصوصا علماء کرام میں ایک غم لہر دوڑ گئی۔ مرکزی جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا عزیر احمد قاسمی نے اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا رشید احمد قاسمی کی وابستگی مرکزی جمعیت علماء ہند سے بنیادی طور پر رہی، اور مولانا کی زندگی کا اکثر وبیشتر حصہ دعوت وتبلیغ میں گزرا، مولانا گمنامی کا زندگی گراتے تھے، لیکن قوم ملت کے لئے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مرکزی جمعیت علماء ہند کے دفتر میں مرحوم کے لئے ایصال ثواب کا نظم کیا گیا۔
حافظ شجاعت فیض عام چیریٹیبل ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری حافظ شمس الہدی قاسمی نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا رشید احمد قاسمی ضلع مہراج گنج کے ایک موقر عالم دین تھے، مولانا کے انتقال پر مجھے بہت افسوس ہواہے، مولانا اسعد مدنی رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں جمعیت علماء میں نمایاں خدمات انجام دیں، ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
حافظ شجاعت فیض عام چیریٹیبل ٹرسٹ کے جنرل سپروائز حافظ عبید الرحمن الحسینی، دارالعلوم سعیدیہ کے مہتمم مولانا رشید احمد قاسمی، قاری ساجد حلیمی، مدرسہ سعد بن ابی وقاص کے ناظم مفتی سلمان قاسمی، وسکریٹری مولانا اخلد صاحب نے بھی غم کا اظہار کیا اور علاقے کے مدرسوں میں ایصال ثواب کا نظم کیا گیا۔

راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کے لاثانی کردار، محمد عباس دھالیوال مالیر کوٹلہ پنجاب


اردو کے معروف افسانہ نگار راجندر بیدی کی یومِ پیدائش یکم ستمبر کے ضمن میں ایک خصوصی پیشکش 

محمد عباس دھالیوال
مالیر کوٹلہ پنجاب. 
رابطہ 9855259650 
"راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کے لاثانی کردار "

افسانہ کے لغوی معنی داستان، طویل بات، قصہ یا کہانی کے ہیں . کہانی کہنا اور سننا فطرت انسانی میں داخل ہے، گویا انسانی وجود سے ہی کہانی کا آغاز ہوتا ہے. پھر جیسے جیسے وقت کروٹ بدلتا رہا، کہانی کہنے اور سننے کے انداز میں تبدیلیاں آتی گئیں، پہلے داستان پھر ناول اسکے بعد افسانے کی شکل اختیارکی.
اردو افسانے کا آغاز بیسویں صدی کے اوائل سے منشی پریم چند کے افسانوں سے ہوتا ہے. اس کے بعد ترقی پسند تحریک کے دوران جن افسانہ نگاروں نے افسانہ کو نئے موضوعات نئی جہتوں اور نئے پیمانوں سے آشنا کیا. ان میں کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی کے نام خاص اہمیت کے حامل ہیں اردو ادب کی تنقید میں یہ چاروں فنکار افسانہ کے ” عناصر اربعہ”کہلاتے ہیں.
زیر بحث افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی کا جنم یکم ستمبر 1915 کو لاہور میں ہوا.انکےوالد کا نام ہیرا سنگھ تھا ذات کے اعتبار سے کہشتریہ سکھ تھے، جبکہ والدہ سیوا دیوی ہندو برہمن تھیں.
بیدی کی حیات کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انکی پوری زندگی حصول روزگار فکر میں گزری. اس دوران انہوں نے پوسٹ آفس ریڈیو اسٹیشن، پرنٹنگ پریس، مہیشوری فلم کمپنی وغیرہ میں ملازمت کی. لیکن لگتا ہے ان کی فنکارانہ طبیعت نے انہیں کہیں بھی مستقل مزاجی سے کام نہیں کر نے دیا. بقول شاعر :-
جستجو نے کسی منزل پہ ٹھہرنے نہ دیا،
ہم بھٹکتے رہے آوارہ خیالوں کی طرح،
اسی بیچ ملک تقسیم ہوا. پنجاب کے فسادات کے لپیٹ میں آتے ہی بیدی سب کچھ چھوڑ چھاڑ شملہ آگئے.ایک سال تک بطور ڈائیرکٹر جموں ریڈیو اسٹیشن پر اپنی خدمات انجام دیں. یہاں سے مستعفی ہو کر ممبئی چلے آئے. لیکن گردش حالات نے یہاں بھی انکا پیچھا نہیں چھوڑا.بقول غالب :-
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں.
راجندر سنگھ بیدی نے ایک لمبی جدوجہد کے بعد دیوداس، بڑی بہن اور داغ جیسی دلیپ کمار کی اداکاری کی والی فلموں کے مکالمے لکھے اور "ایک چادر میلی سی”فلم بنا کر بولی وڈ میں اپنا ایک منفرد و خاص مقام بنایا. یہاں آپ نے عزت شہرت اور پیسہ وہ سب کمایا جسکے آپ متمنی ومستحق تھے. لیکن زندگی کے آخری چھ سال لقوہ کا شکار ہونے کے چلتے نہایت بے بسی قابل رحم حالت میں کاٹے.آخر کار گیارہ نومبر 1984کوافسانوی ادب کے افق پر چمکنے والا یہ ستارہ ہمیشہ ہمیش کے لیے غروب ہو گیا. بے شک راجندر سنگھ بیدی آج ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن انکی شاہکار تخلیقات ہمارے لیے آج بھی مشعل راہ ہیں. بقول پریم:-
دیتا رہوں گا روشنی بجھنے کے بعد بھی
میں بزمِ فکر و فن کا وہ تنہا چراغ ہوں.
بیدی نے اردو ادب کو اپنے چھ افسانوی مجمووں سے نوازہ ان میں دانہ و دام، گرہن ، کوکھ جلی، اپنے دکھ مجھے دے دو، ہاتھ ہمارے قلم ہوئے، مکتی بودھ ان کے علاوہ ایک درجن ایسے افسانے بھی ہیں جو کسی مجموعہ میں شامل نہیں، جیسےکہ مہارانی کا تحفہ، مثبت اور منفی، پہاڑی کوا ، خود غرض، شکار اور فرشتے وغیرہ قابل ذکر ہیں.
یوں تو بیدی نے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے افسانوں کے کرداروں و موضوعات میں سمویا و جگہ دی ہے. لیکن جس خوبصورتی ، لطافت و نزاکت کے ساتھ بیدی نے روزانہ زندگی میں گھریلو خواتین کو درپیش آ نیوالے مسائل اور مشکلات و پریشانیوں کو اپنے افسانوں میں خصوصی اہمیت کے ساتھ اجاگر کیا ہے ا سکی مثال ان کے ہم عصر افسانہ نگاروں کے یہاں بہت کم ملتی ہے.آیئے انکے کچھ ایسے ہی شاہکار افسانوں کا مختصراً جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں.
بیدی کا افسانہ”اپنے دکھ مجھے دے دو” جو ادبی دنیا میں آج بھی اسی ذوق و شوق سے پڑھا جا تا ہے. اس کی مرکزی کردار ‘اندوھ آج بھی اہل ادب کے دلوں پر راج کرتی ہے. اندو ایک سگھڑ اور سمجھ دار عورت ہے اسکے اخلاق کی بلندی کی نظیر بہت کم ملتی ہے. وہ پورے خاندان کے افراد کا خیال رکھتی ہے بچوں سے شفقت سے پیش آ تی ہے بوڑھے سسر کی خدمت کرتی ہے ، دیور کو پڑھاتی ہے اور نند کی شادی کرتی ہے آوارہ بنتے ہوئے اپنے پتی کو سیدھے راستے پر لاتی ہے. بظاہر اندو کا کردار آئیڈیل معلوم ہوتا ہے لیکن افسانہ کا ماحول اس قدر حقیقت پسندانہ وزمینی سطح سے جڑا ہے .
ویسے اگر دنیا کی سبھی عورتیں اندو جیسے اخلاق والی بن جائیں تو یہی دنیا جنت کا اعلیٰ نمونہ بن جائے.افسانہ میں اندو کے منہ سے بیدی نے ایک ایسی بات کہلائی ہے جو مدن جیسے لاکھوں مردوں کی سمجھ میں نہیں آتی. اقتباس”تم مرد لوگ کیا جانو؟جس سے پیار ہوتا ہے اس کے سبھی چھوٹے بڑے پیارے معلوم ہوتے ہیں، کیا باپ، کیا بھائی اور کیا بہن”اقتباس ختم.
مجموعے دانہ و دام کا افسانہ "بھولا” اب تک بچوں پر لکھے گئے افسانوی ادب کی نمائندگی کرتا ہے. بھولا جہاں معصوم بچوں کی نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے وہیں اس افسانہ کا دوسرا کردار دادا، ان بوڑھے بے بس ضعیف لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے،جو زندگی میں وقت کے بے وقت پڑے تھپیڑوں کے کھا نے کے باوجود صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بقیہ عمر اپنے معصوم پوتے اور بیوہ بہو کی آئندہ زندگی میں خوشیاں بھر نے کیلئے وقف کر دیتے ہیں. افسانہ سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں”اپنی بہو کے اس طرح کھل کر ہنسنے پر میں دل ہی دل میں بہت خوش ہوا، مایا بیوہ تھی اور سماج اسے اچھے کپڑے پہننے، ہنسنے اور خوشی کی بات میں حصہ لینے سے بھی روکتا تھا. میں نے بارہا مایا کو اچھے کپڑے پہننے، ہنسنے کھیلنے کی تلقین کرتے ہوئے سماج کی پرواہ نہ کرنے کیلئے کہا تھا، مگر مایا نے از خود اپنے آپ کو سماج کے روح فرسا احکام کے طابع کر لیا تھا. اس نے اپنے آپ تمام اچھے کپڑے اور زیورات کی پٹاری ایک صندوق میں مقفل کر کے چابی ایک جوہڑ میں پھینک دی تھی”اقتباس ختم.
اسی طرح افسانہ گرہن کا کردار” ہولی”پچھڑے سماج میں ان عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے جو سسرال میں جسمانی اور نفسیاتی استحصال کا شکار ہو تی ہیں اور ظلم کی انتہا کو برداشت نہ کرتے ہوئے آخر گھر سے جاتی ہیں، لیکن ستم ظریفی دیکھئے گھر سے بھاگ کر بھی ایسی عورتوں کا نصیب نہیں بدلتا، بلکہ ایسی خواتین باہر آدمیوں کے بھیس میں چھپے بھیڑیوں کی هوس کا شکار ہو جاتی ہیں. افسانہ کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں”رسیلے نے ایک پر ہوس نگاہ سے ہولی کی طرف دیکھا. اس وقت ہولی اکیلی تھی. رسیلے نے آہستہ سے آنچل کو چھوا .ہولی نے ڈرتے ڈرتے دامن جھٹک دیا اور اپنے دیور کو آواز دینے لگی. گویا دوسرے آدمی کی موجودگی چاہتی ہے، اس کیفیت میں مرد کو ٹھکرا دینا معمولی بات نہیں ہوتی، رسیلا آواز کو چباتے ہوئے بولا.
میں پوچھتا ہوں بھلا اتنی جلدی کاہے کی تھی.
جلدی کیسی؟ ”
رسیلا پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، "یہی تم بھی کتیاہو..کتیا”
ہولی سہم کر بولی”تو اس میں میرا کیا قصور ہے”
ہولی نے نادانستگی میں رسیلے کو وحشی، بد چلن، ہوس ران سبھی کچھ کہہ دیا. چوٹ سیدھی پڑی، رسیلا کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا. لاجواب آدمی کا جواب چپت ہوتی ہے اور دوسرے لمحے میں انگلیوں کے نشان ہولی کے گالوں پر دکھائی دینے لگے. ”
ازدواجی محبت پر مبنی افسانہ ” گرم کوٹ ” بھی ایک کلاسک درجہ کی شاہکار تخلیق ہے. اس افسانہ میں ایک غریب کلرک اس کی حسین بیوی اور بچوں کی کہانی ہے کہ کیسے ایک معمولی کلرک کے تنگ دستی والے حالات میں خوب سیرت بیوی اپنے ایثار و قربانی اور صدق دلی سے گھر کے ماحول کو خوشگوار بنائے رکھتی ہے اور معاشی تنگ دستی کو کبھی زندگی کی خوشیوں کے آڑے نہیں آنے دیتی.اسی طرح افسانہ”گھر میں بازار میں” ایک ایسے گھر کی کہانی ہے جس میں ایک نو بیاہتا آتی ہے اور اپنے ہاتھ خرچ کے لیے شوہر سے پیسے مانگتے ہوئے جھ جھ کتی ہے دراصل بیدی نے اس افسانہ میں بہت ہی نازک اور لطیف انداز میں معاشرے میں عورت کی معاشی آزادی کے مسلہ کو پیش کیا ہے. رنگوں کے فشار کا افسانہ ” جوگیا” نوجوان لڑکے اور لڑکی کی محبت کی کہانی ہے جو وصل کی بجائے جدائی پر ختم ہوتی ہے افسانہ میں جوگیا کی شکل کو بیدی نے ایک مصور کی طرح الفاظ کے مجسمے میں کیسے ڈھالا ہے اقتباس ملاحظہ فرمائیں، "جوگیا کا چہرہ سومنات کے مندر کے پیش رخ کی طرح چوڑا تھا. جس میں قندیل جیسی آنکھیں رات کے اندھیرے میں بھٹکے ہوئے مسافروں کو روشنی دکھاتی تھی. مورتی میں ناک اور ہونٹ زمرد اور یاقوت کی طرح ٹنکے ہوئے تھے. "اقتباس ختم. افسانہ ” چشم بدور” بیدی کی بے مثال تخلیق ہے طنز و ظرافت سے بھر پور اس افسانہ میں امریکہ و روس جیسی عالمی طاقتوں کی سیاست اور اس سیاست کے ہتھ کنڈھے چڑھنے والے ہمارے جیسے دیگر ممالک ضمیر فروش لوگوں کو بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش ہے. افسانہ ” رحمان کے جوتے” بیدی کے شاہکار افسانوں میں ایک ہے. جوتے پر جوتا چڑھنا سفر کی نشانی ہے اور یہی علامت رحمان کی زندگی کے آخری سفر کا المیہ بنتی ہے.کوکھ جلی بظاہر ایک سیدھا سادھا سا افسانہ ہے یہ افسانہ ایک ماں کی گہری معنویت اور اس کے بیٹے گھمنڈی کی زندگی تلخ حقیقت بیان کرتا ہے. اسی طرح” کلیانی ” واحد ایسا افسانہ ہے جو بیدی نے طوائف کی زندگی پرلکھاہے پورا افسانہ علامتی تصاویر سے سجایا ہوا محسوس ہوتا ہے. جبکہ "مکتی بودھ” کی ظرافت میں پوری فلمی دنیا کے پس منظر کو فلمانے کی بیدی نے کامیاب کو شش کی ہے. اسی طرح افسانہ” لمبی لڑکی” میں رقمن دادی کے موت کے منظر کو یاد گار ی بنا ہے. جب بڑھیا کی پوتی اپنے ننھے بچے کو گود میں اٹھائے آتی ہے. تو گویا دادی کی موت بھی ساتھ لاتی ہے. بالکل ہوا کے جھونکے کی مانند، اسی وقت تپائی پر پڑی ہوئی گیتا کے صفحات اڑنے لگتے ہیں، اور وہاں آ کر خود بخود تھم جا تے ہیں جہاں لفظ”سماپت”لکھا ہوتا 

ماہ محرم الحرام کی حیثیت و اہمیت! شرف الدین عظیم قاسمی اعظمی

ماہ محرم الحرام کی حیثیت و اہمیت ،،

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

اس وسیع عریض کائنات کے حسن کا راز یہ ہے کہ اس کی تمام اشیاء، رنگ وبو کے اعتبار سے،نفع ونقصان کے لحاظ سے اور صورت و شکل وطول وعرض کے حوالے سے ،ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جنس کے اتحاد کے باوجود اسی اختلاف میں ان کا جمال اور ان کی نافعیت اور جامعیت پنہاں ہے، آفتاب میں جو تیزی اور حدت ہے وہ ماہتاب میں نہیں پائی جاتی، ستاروں میں جو جمال نظر آتا ہے۔ دوسرے سیاروں میں وہ تابناکی مفقود ہے،زمین کے سینے پر جہاں شادابیاں،بہاروں کا سماں پیدا کرتی ہیں،اس کی زرخیزیاں پر کیف وروح پرور مناظر وجود میں لاتی ہیں'،وہیں اس سطح ارض کے بے شمار خطے اور علاقے شاداب زندگی سے محروم صحراؤں اور خیابانوں کی شکل میں موجود ہیں،وصف اور رتبےکے لحاظ سے بھی تمام خطوں میں یکسانیت نہیں ہے جو مقام مسجد کے حصے کو حاصل ہے' عام جگہیں اس سے۔محروم ہیں'، حرمین شریفین کو جو امتیازی حیثیت حاصل ہے وہ دوسرے علاقوں کا مقدر کہاں۔

ٹھیک اسی طرح قدرت نے زمانوں اور لمحات میں بھی انفرادیت کی شان رکھی ہے'،ایک کو  دوسرے پر فوقیت عطا کی ہے'،وصف رتبے اور برکتوں وسعادتوں کی دولت کے لحاظ سے کچھ ایام کو، مہینوں کو ،امتیازی مقام اور انفرادی شان سے سرفراز کیا ہے،

'چنانچہ سال کے بارہ مہینوں میں ذی قعدہ،ذی الحجہ، محرم الحرام،اور ،رجب ،  کے مہینے اپنی ذات کے اعتبار سے دوسرے ماہ پر بڑی فضیلت وحیثیت رکھتے ہیں'،اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا سمندر ان ایام میں جوش میں ہوتاہے،
اس کی برکتوں کی بارشیں ان لمحات میں موسلادھار ہوجاتی ہیں'، توبہ کے دروازے چوپٹ کھل جاتے،مغفرت کی گھٹائیں ہر سو چھا جاتی ہیں۔

اسلام سے پہلے بھی عرب کی ثقافت اور ان کے نظریات میں  یہ مہینے اعلیٰ خصوصیات کے حامل تھے،فتنہ وفساد کی کمی ہوجاتی تھی،ان کی نگاہوں میں بھی یہ ایام انتہائی مقدس اور محترم تھے،جنگیں اور عداوتوں کی گرم بازاری ایک حد تک سرد ہوجایا کرتی تھیں،چونکہ یہ فکر اور نظریہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی ملت و مذہب کا عکس اور مرور زمانہ کے باعث باقی رہنے والا ہلکا سا نمونہ تھا،اس لئے اسلام نے بھی اس کی حیثیت کو باقی رکھ کر اس کی اصل صورت و شکل کو اُجاگر کیا،

ان عدۃ الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا فی کتاب اللہ یوم خلق السمٰوات والارض منہا أربعۃ حرم،ذالک الدین القیم،فلا تظلموا فیھن انفسکم۔ (التوبہ)
اللہ تعالیٰ کے نزدیک جس دن سے آسمان وزمین کا وجود ہوا ہے' اسی وقت سے سال میں بارہ ہی مہینے ہیں جو اس کی خاص کتاب لوح محفوظ میں درج ہیں، اور انہیں میں چار مہینے محترم اؤر مقدس ہیں'،یہی سیدھی شاہراہ ہے لہٰذا تم ان ایام میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو،،
فخر دوعالم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد نے مذکورہ مہینوں کی ان لفظوں میں وضاحت کی ہے،،زمین وآسمان کی تخلیق کے دن سے زمانہ گردش میں ہے سال بارہ مہینوں کا ہے جن میں چار حرمت والے ہیں ذی قعدہ،ذی الحجہ،اور محرم الحرام اور ایک مہینہ رجب ہے'(بخاری رقم الحدیث 3197,مسلم 4383)۔

ماہ محرم کی حرمت وتقدیس کے تقاضے۔

محرم الحرام کے تقدس اور اس کی فضیلت کا تقاضا ہے کہ اس میں طاعتوں کا اہتمام کیا جائے،معصیتوں سے اجتناب کیا جائے،ایثار و ہمدردی اور اخوت ومحبت کا نمونہ پیش کیا جائے،عبادات میں خاص طور سے روزہ رکھنے میں سبقت کی جائے کہ اللہ تعالیٰ کی عنایات سے یہ لمحات لبریز اور معمور ہوتے ہیں، اجر وثواب کی مقدار بڑھ جاتی ہیں،اعمال کی قبولیت کے امکانات وسیع تر ہو جاتے ہیں، گناہوں اور جرائم نیز بدعات وخرافات سے قطعی طور پر دور رہنا چاہیے کہ ان کی وجہ سے ان ایام کا تقدس پامال ہوکر رہ جاتاہے،یہ امر مسلم ہے کہ نعمتوں کی ناقدری محرومیوں کا سبب ہوا کرتی ہے،

نبی کریم ﷺ کا معمول»

مشرکین مکہ سے معاشرے میں اس مہینے میں فضیلتوں کی وجہ سے روزہ رکھنے کا تصور پایا جاتا تھا،اورخصوصا عاشورہ کے دن سماج کے شرفا واہل دانش روزے کا اہتمام کرتے تھے۔اسی دن کعبہ اللہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا،
رسول اکرم ﷺ بھی اس مہینے میں مکی زندگی میں  ہی سے کثرت سے روزے رکھتے تھے جس میں عاشورہ کا روزہ بھی شامل تھا مگر کسی کو اس کا حکم نہیں دیتے تھے،ہاں اس کی ترغیب مدینہ منورہ آنے کے بعد صحابہ کرام کو دیا کرتے تھے، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ رمضان المبارک کے بعد کس مہینے میں روزہ رکھنا زیادہ ثواب کا باعث ہے تو انہوں نے کہا کہ یہی سوال ایک صاحب نے نبی کریم ﷺ سے کیا تھا اور میں اس مجلس میں موجود تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا،،ان کنت صائما بعد شھر رمضان فصم المحرم فانہ شھر اللہ فیہ یوم تاب اللہ فیہ علی قوم ویتوب فیہ علی قوم آخرین (ترمذی) رمضان کے مہینے کے بعد اگر تم کو روزہ رکھنا ہے تو محرم میں رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اس ایک دن ایسا ہے جس میں خدا وندعالم نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور آئندہ بھی ایک قوم کی توبہ قبول کرے گا،،

ایک دوسری روایت میں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ ﷺکا ارشاد ہے کہ افضل الصیام بعد صیام شھر رمضان شہر اللہ المحرم (ترمذی) رمضان المبارک کے روزوں کے روزوں کے بعد اگر کسی مہینے کے روزوں کو فضیلت حاصل ہے تو وہ ماہ محرم الحرام ہے،،
مذکورہ روایات یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ اس مہینے میں جہاں اعمال کے لحاظ سے نسبتاً روزے کو اہمیت حاصل ہے وہیں محرم کے ایام کی خصوصیات وافضلیت کسی خارجی عوامل کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذاتی اعتبار سے ہے'،

عاشورہ کی فضیلت واہمیت۔
عاشورہ سے مراد محرم الحرام کی دسویں تاریخ ہے کہ دس کے عدد کو عربی لغت میں عشرہ کہا جاتا ہے۔
کفار مکہ میں محرم کے تقدس کے پیشِ نظر عاشورہ کے روزے کا اہتمام موجود تھا سطور بالا میں ذکر کیا جاچکا ہے کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم بھی اس کا اہتمام کرتے تھے،پھر جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے یہاں قوم یہود کو دیکھا کہ وہ بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں آپ نے اس کی وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ اس تاریخ میں موسی علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل نے بحر قلزم کو عبور کرکے فرعون کے ظلم وستم سے نجات پائی تھی اور فرعون اپنے لشکر کے ساتھ اس میں غرق آب ہوا تھا اس لیے بطورِ شکرانہ اس دن میں یہود روزہ رکھتے ہیں اس اطلاع پر آپ ﷺنے ارشاد فرمایا ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ موسی علیہ السلام کی نجات پر شکرانے کے طور پر روزہ رکھیں،
پھر آپ نے وجوبی طور پر صحابہ کرام کو دسویں محرم کو روزہ رکھنے کا حکم دیا چنانچہ حضرت سلمہ بن اکوع اور ربیع بنت معوذ کی تصریحات کے مطابق رسول اکرم ﷺ نے یوم عاشورہ کی صبح مدینہ منورہ کے اطراف ومضافات میں منادی کروادی کہ جن لوگوں نے ابھی تک کچھ کھایا پیا نہیں ہے وہ آج کے دن روزہ رکھیں اور جن لوگوں نے کچھ کھا پی لیا ہے وہ بھی دن کے باقی حصوں سے کھانے پینے سے رک جائیں اور روزہ داروں کی طرح رہیں،اس حکم کے بعد فرض کی حیثیت سے اس پر عمل ہرسال ہوتا رہا مگر جب رمضان کا روزہ فرض ہوا تو عاشورہ کے روزے کی فرضیت منسوخ ہوگئی (متفق علیہ)

تاہم عاشورہ کے روزے بدستور آپ کے اور آپ اصحاب کرام کے معمولات میں شامل رہے،اس لئے کہ فرضیت اگرچہ منسوخ ہوگئی تھی مگر اس کی تقدیس اور فضیلت علی حالہ باقی تھی،چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو کسی فضیلت والے دن کے روزے کا اہتمام بہت زیادہ کرتے نہیں دیکھا سوائے اس دن یعنی یوم عاشورہ اور اس ماہ یعنی ماہ رمضان المبارک کے (متفق علیہ)

عبادات میں اشتباہ سے اجتناب»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق جب رسول اکرم ﷺ نے روزے کا حکم دیا تو کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس دن کو یہودی قوم بحیثیت عید شمار کرتی ہے اور روزہ بھی رکھتی ہے کیا کوئی ایسی صورت بھی ہے کہ ان کی عبادت سے اشتباہ ختم ہوجائے تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا اگلا سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کو شامل کرکے ایک روزے کا
 ا ضافہ کرلیں گے مگر اس سے قبل ہی آپ کا وصال ہوگیا (مسلم شریف)
 اس روایت کی روشنی میں اب حکم یہی ہے'کہ یہود کی مخالفت میں دو روزے رکھے جائیں یا دسویں کے ساتھ نو تاریخ کو ملائیں یا گیارہویں تاریخ کو شامل کریں،

عاشورہ سے وابستہ رسوم کی حقیقت»

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد زریں سے یوم عاشورہ میں سادگی اور غیر متعینہ عبادات کے علاوہ دو سو سال تک رسم رواج کا تصور نہیں تھا اور نہ ھی اسلام میں اور آپ کی تعلیمات واعمال میں اس کی گنجائش تھی کہ اسلام کی حقیقی تصویر انتہائی سادہ اور فطرت کے عین مطابق ہے ،لیکن ہجرت نبوی صلی االلہ علیہ وسلم کے ساٹھ سال بعد ملت اسلامیہ کے سروں سے کربلا کے میدان میں اہل بیت پر ظلم وجفا اور نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی صورت میں قیامت گذر گئی،

یقیناً یہ حادثہ تاریخ کا اندوہناک اور جانکاہ سانحہ تھا اس سے پہلے بھی فرزندان اسلام اور جاں نثاران رسالت پر قیامت آشنا لرزہ خیز اور جگر خراش طوفان آئے،ان کے لہو سے عرب وعجم کی سر زمینیں لالہ زار ہوئیں،خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کو اسی ماہ کی پہلی تاریخ میں ابو لولو فیروز مجوسی نے عین نماز کی حالت میں بے دردی سے شہید کیا،امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر میں قید کرکے عرصہ حیات تنگ کیا گیا بالآخر انہیں خون میں نہلا کر شہادت کی منزلوں پر پہونچا دیا گیا، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت تاریخ کا وہ المناک باب ہے'جس نے رسول اکرم کے رنج وغم اور اظہار درد کو جلی حرفوں میں محفوظ کیا ہے،حضرت علی کو خوارج نے ہمیشہ ستایا اور انہیں ظلما شہید کردیا گیا،
باوجود شہادت کی یہ داستان اس قدر مخفی اور پوشیدہ ہے کہ قوم کے خواص بھی اس سے ناآشنا ہیں،اس کے برعکس مخصوص نظریے کے حامل روافض کے مسلسل پروپیگنڈوں کے نتیجے میں دنیا نے صرف کربلا کی داستان کو یاد رکھا اور آج بھی وہ عاشورہ کی فضیلت شہادت حسین ہی کے کردار سے جانتی ہے کہ اور اس تصور پر یقین رکھتی ہے کہ عاشورہ کی تمام فضیلتیں اسی ایک واقعے سے وابستہ ہے'
یہی وجہ ہے کہ شیعی مذہب کے علاوہ خود ان لوگوں کے یہاں جو سنیت کے ٹھیکیدار اور عشق رسالت کے دعویدار ہیں ۔وہ تمام رسومات رائج ہیں جو شیعت کا شعار ہیں،ستم یہ ہے کہ اہل حق کی اچھی خاصی تعداد بھی ان خرافات میں مبتلا ہے'،جو سراسر اسلام اور اسلامی تعلیمات سے متصادم اور منحرف ہیں،یہ افعال و اعمال اس قدر اجنبی اور نامانوس اور شرکیہ اعمال سے ہم آہنگ ہیں کہ ان کی وجہ سے اسلام کا چہرہ بالکل مسخ ہوکر رہ گیا ہے'،اس کی اصل حقیقت ان پروپیگنڈوں میں،اشتعال انگیز نعروں اور تقریروں میں روپوش ہوکر رہ گئی ہے،

ان بدعات وخرافات میں مرکزی تصور اور عقیدہ یہ ہے کہ یہ مہینہ اور خصوصا عاشورہ کی تاریخ منحوس ہے،اس مہینے میں شادی بیاہ اور دیگر مسرتوں کی تقریبات یکلخت موقوف ہوجاتی ہیں،پورا مہینہ سوگ میں گذارا جاتاہے،نئے کپڑوں پر پابندی رہتی ہے،چولہے الٹ دئیے جاتے ہیں،چپل جوتے پہننا جرم قرار پاتا ہے،کاروبار یا دیگر سرگرمیاں روک دی جاتی ہیں،ملازمت ترک کرکے اچھی خاصی تعداد شہروں سے اپنے گھروں کو روانہ ہوجاتی ہے اس میں اس قدر اہتمام ہوتاہے کہ عیدین میں بھی نہیں ہوتاہے، حضرت حسین کے نام پر جگہ جگہ سبیلیں لگائی جاتی ہیں،روڈ پر کھچڑے کی بے شمار دیگیں چڑھ جاتی ہیں، مخصوص جلوس نکالا جاتا ہے جس میں یہ عقیدہ ہوتاہے کہ اس پر فرشتوں کی سواری حاضر ہوتی ہے،تعزیہ داری میں لاکھوں روپے برباد کئے جاتے ہیں،اس کی بلند تعمیرات میں مقابلہ آرائی ہوتی ہے،تعزیہ میں حضرت حسین اور ان کے رفقاء کے مجسمے تیار کئے جاتے ہیں،ان سے نذریں کی جاتی ہیں،فریادوں کا سلسلہ قائم ہوتاہے، مرادیں مانگی جاتی ہیں، نیاز کے پکوان چڑھا ئے جاتے ہیں،ان کا طواف کیا جاتا ہے،
غرض صرف تعزیہ کے نام پر جس قدر بدعات کا طوفان بپا ہوتاہے وہ ہندو مت کے مشرکانہ رسوم و رواج سے اگر زیادہ نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں ہے کہ نواسہ رسول کے سوگ کے نام ہر وہ عمل کیا جاتاہے جو توحید وسنت کے خلاف اور مشرکانہ مذاہب کے مماثل ہے، جب کہ اسلام میں کسی کی وفات پر تین دن سے زیادہ سوگ کا تصور نہیں ہے صرف خواتین کے چار مہینے دس دن تک شوہر کی وفات پر سوگ کا حکم ہے'،
دوسرے اسلام کا یہ انقلابی عقیدہ ہے کہ خدا کی راہوں میں جانوں کو نثار کرنے شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتے ہیں ان کے درجات اس قدر بلند اور فلک رسا ہوتے ہیں کہ موت ظاہرا تو ان پر واقع ہوتی ہے مگر حقیقت میں وہ ان کی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوپاتی ہے'،وہ جس طرح دنیا میں زندہ رہتے ہیں اسی طرح عالم برزخ میں بھی باحیات ہوتے ہیں،ایک روایت کے مطابق ان کی ارواح روشن قندیل کی صورت میں جنت الفردوس کے گلزاروں میں ادھر ادھر ٹہلتی رہتی ہیں،،
قران کریم نے بڑے واضح اسلوب میں شہیدوں کی موت کی تردید کی ہے اور ان کی زندگی کی گواہی دی ہے،،
لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء عند ربھم یرزقون،، اللہ کے راستے میں شہید ہونے والوں کو مردہ نہ کہو ان کا وجود تو زندگی کے سرمائے سے معمور ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے انہیں رزق دیا جاتا ہے،،
رب کریم کے اس اعلان کے بعد ایک دانشمند اور سلیم طبیعت کے حامل شخص کے نزدیک حضرت حسین اور ان کے رفقاء کی یاد میں رنج وغم کی محفلوں،ماتمی مجلسوں،مرثیہ خوانی اور سینہ کوبی کے جلوسوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے،اور تعزیہ داری اور اس کے جلوسوں کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے؟ جس میں دیوالی ،دسہرے اور گنپتی کی مورتیوں کی عبادتوں کی طرح شان سے  بت پرستی کا راستہ ہموار کیا جاتا ہے،برصغیر کاروان حدیث کے سالار اول حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ان شرکیہ اعمال پر درد کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے،،اے بنی آدم ۔تم نے اسلام کو بدل ڈالنے کی بہت سی رسمیں اپنا رکھی ہیں،
مثلاً تم دسویں محرم کو باطل قسم کے اجتماع کرتے ہو،
بہت سے لوگوں نے اس مقدس دن کو ماتم ونوحہ کے لئے مخصوص کرلیا ہے،حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت کے حادثے رونما ہوتے ہیں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اس دن بے شک قتل کئے گئے مگر وہ کون سا دن ہے جس میں کوئی نہ کوئی اللہ کا نیک بندہ فوت نہ ہوا ہو،تاہم باوجود اس کے انھوں نے مظلومانہ شہادت کے سانحہ کو کھیل کود کی چیز بنا لیا،ماتم کو عید کے تہوار کی طرح بنالیا،گویا اس دن زیادہ کھانا پینا فرض ہے،اور نمازوں کا تمہیں کوئی خیال نہیں جو فرض عین ہے ان کو تم نے ضائع کردیا،یہ لوگ انہیں من گھڑت کاموں میں مشغول رہتے ہیں نمازوں کی توفیق انہیں ملتی ہی نہیں،،(تفہیمات الٰہیہ برقی مضمون آصف عثمانی)
خود اسلام میں سختی سے ماتم ونوحہ،سوگواری کی مجلسوں اور ان کے مثل تمام کرداروں کی مذمت کی گئی ہے ،اور ان پر عمل پیرا لوگوں کو اسلام کی صف سے خارج شمار کیا گیا ہے ،رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے،،جوشخص رخساروں پر طمانچہ مارے،گریبانوں کو چاک کرکے چیخے چلائے،گریہ وزاری اور بے محابا واویلا کرے،مصیبت کے وقت ہلاکت اور موت کی تمنا کرے،وہ ہم سے نہیں ہے (بخاری1296)


خلاصہ یہ کہ یوم عاشورہ انتہائی فضیلت واہمیت کا حامل ہے اس لیے نہیں کہ اس تاریخ کو کربلا کا سانحہ پیش آیا ہے'بلکہ اس لیے کہ یہ خداوند عالم نے ابتدا ہی میں اسے اپنی رحمتوں اور برکتوں کا مورد بنایا ہے،امتیازی خصوصیات سے نوازا ہے،حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت اس تاریخ میں واقع ہونے کی وجہ سے مزید معزز اور معظم ہوگئی،ان تعلیمات کی روشنی میں اس لمحے کو منحوس سمجھنا اور مصائب وآلام کا دن تصور کرنا،دنیا کا اور کوئی مذہب ہو تو ہو،اسلام نہیں ہوسکتا جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے آیا ہے اس لیے کہ وقت اور زمانے،اللہ ہی کی مخلوق ہیں اور خیر وشر زمانے کے اچھے برے ہونے پر موقوف نہیں ہیں یہی وجہ ہے آپ نے نحوست کا الزام لگا کر زمانوں کو گالی دینے سے منع کیا ہے کہ برائی اور بھلائی تو خداوند عالم کے ہاتھ میں ہے (بخاری5827)
آخری بات یہ ہے کہ جس طرح مذکورہ شرکیہ اعمال وافعال خدا کے غضب کا سبب ہیں اسی طرح تماشائی کی حیثیت سے ان مجالس میں،پروگراموں میں،دعوتوں میں،اور دوسری ماتمی محفلوں میں شریک ہونا بھی جرم ہے کہ اس کے ذریعے جہاں بدعات وخرافات  کی تائید زبان حال سے ہوتی ہے،  وہیں ان کی رونقوں میں اضافہ بھی ہوتاہے،ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے،پس کلام الٰہی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان،،گناہ وبغاوت پر کسی طرح کی معاونت نہ کرو،، کی روشنی میں بلا تامل کہا جاسکتا ہے کہ ان غیر اسلامی کرداروں میں کسی طرح کی شرکت جائز اور درست نہیں بلکہ ناجائز اور حرام ہے۔۔

اثر خانہ۔۔۔۔شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
امام وخطیب مسجد انوار شواجی نگر گوونڈی ممبئی
رابطہ نمبر 8767438283

Sunday, 1 September 2019

حکمران ہو تو عمر جیسا!

تحریر : فیاض احمد صدیقی
_________________
حضرت  عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا۔۔۔ جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چکا تھا ساتھ میں حاملہ بیوی تھی تو اس نے مدینے کی حدود کے پاس ہی خیمہ لگا لیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔بیوی کا وقت قریب تھا تو وہ درد سے کراہنے لگی۔۔۔
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اپنے روز کے گشت پر تھے اور ساتھ میں ایک غلام تھا۔۔۔ جب آپ نے  دیکھا کے دور شہر کی حدود کے پاس آگ جل رہی ہے اور خیمہ لگا ہوا ہے تو آپ نے غلام کو بھیجا کہ پتہ کرو کون ہے۔۔۔؟۔
 جب پوچھا تو اس نے ڈانٹ دیا کہ تمہیں کیوں بتاؤں۔۔۔ آپؓ گئے اور پوچھا تو بھی نہیں بتایا۔۔۔
آپ نے کہا کہ! اندر سے کراہنے کی آواز آتی ہے کوئی درد سے چیخ رہا ہے بتاؤ بات کیا ہے۔۔۔؟؟
تو اس نے بتایا کہ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ سے ملنے مدینہ آیا ہوں میں غریب ہوں اور صبح مل کے چلا جاؤں گا۔۔۔ رات زیادہ ہے تو خیمہ لگایا ہے اور صبح ہونے کا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔ بیوی امید سے ہے اور وقت قریب آن پہنچا ہے۔۔۔
تو آپؓ جلدی سے پلٹ کر جانے لگے کہ ٹہھرو میں آتا ہوں،۔۔۔ آپؓ اپنے گھر گئے اور فوراً اپنی زوجہ سے مخاطب ہوئے کہا۔۔۔ اگر تمہیں بہت بڑا اجر مل رہا ہو تو لے لو گی۔۔۔

زوجہ نے کہا، کیوں نہیں۔۔۔

تو آپؓ نے کہا۔۔۔

" چلو میرے دوست کی بیوی حاملہ ہے، وقت قریب ہے۔۔۔ چلو اور جو سامان پکڑنا ہے ساتھ پکڑ لو۔۔۔

آپؓ کی بیوی نے گھی اور دانے پکڑ لئے اور آپؓ کو لکڑیاں پکڑنے کا کہا۔۔۔ آپؓ نے لکڑیاں اپنے اوپر لاد لیں۔۔۔
۔
سبحان اللہ۔۔۔
(یہ کوئی کونسلر، ناظم ، ایم پی اے یا ایم این اے نہیں یہ اس کا ذکر ہو رہا ہے دوستو جو کہ 22 لاکھ مربع میل کا حکمران ہے جس کے قوانین آج بھی چلتے ہیں جو عمر فاروقؓ ہے)۔۔۔
۔
جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو فوراً کام میں لگ گئے بدو ایسے حکم چلاتا جیسے آپؓ شہر کے کوئی چوکی دار یا غلام ہیں۔۔۔

کبھی پانی مانگتا تو آپؓ دوڑے دوڑے پانی دیتے۔۔۔

کبھی پریشانی میں پوچھتا کہ تیری بیوی کو یہ کام آتا بھی ہے تو آپؓ اُسے باقاعدہ جواب دیتے۔۔۔اُسے کیا پتہ کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ خود ہیں۔۔۔

 جب اندر بچے کی ولادت ہوئی تو آپ کی زوجہ نے آواز لگائی۔۔۔

" یا امیر المومنینؓ، بیٹا ہوا ہے۔۔۔

تو یا امیر المومنین کی سدا سن کر اس بدو کی تو جیسے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور بے اختیار پوچھنے لگا۔۔۔

" کیا آپ ہی عمر قاروق امیر المومنینؓ ہیں۔۔۔؟آپؓ عمر ہیں۔۔۔؟وہی عمر جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپے۔۔۔ آپؓ وہی والے عمر ہیں جس کے بارے میں حضرت علی نے کہا کہ۔۔۔
آپ کے لئے دعا کرتا ہوں۔۔۔

اور جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگ کر اسلام کے لئے مانگا وہی والے نا۔۔۔؟؟

آپؓ نے فرمایا۔۔۔ ہاں ہاں میں ہی ہوں۔۔۔
۔
اس نے کہا کہ ایک غریب کی بیوی کے کام کاج میں آپ کی بیوی۔۔۔ خاتون اول لگی ہوئی ہے۔۔۔
 اور دھوئیں کے پاس آپ نے اپنی داڑھی لپیٹ لی اور میری خدمت کرتے رہے؟

تو سیدنا عمرؓ رو پڑے۔۔۔ اس بدو کو گلے سے لگایا اور کہا۔۔۔

تجھے پتا نہیں توں کہا آیا ہے۔۔۔؟ یہ مدینہ ہے۔۔۔ میرے آقائے دوجہاں، اور رحمةًالِلعالمین کا مدینہ۔۔۔ یہاں غریبوں کے استقبال ہوتے ہیں۔۔۔ غریبوں کو عزتیں ملتی ہیں۔۔۔ مزدور اور یتیم بھی سر اٹھا کر چلتے ہیں۔۔۔!!

اتحاد و اتفاق یہاں کب ؟

تحریر: عزیز اعظمی اسرولی سرائمیر
 ______________
جہاں جنون ہوگا وہاں مسائل بے شمار ہونگے آج ملک  مسائل میں گھرا ہوا ہے این آر سی ، کشمیر ، لنچنگ ، مذہب، معیشت ، معاشرت ہر طرح کے مسائل ملک میں ایک ساتھ درپیش ہیں ، حکومت اپنے اختیارات سے نظم و نسق ، امن و آمان کو روند کر اپنے نظریات کو وہ مقام دینا چاہتی ہے جس کا وہ کھلی آنکھوں سے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ خواب کی تعبیر ، مقصد کی تکمیل ایماندارانہ جدو جہد سے تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن غاصبانہ طرز عمل سے نہیں ۔۔
 آسام سے کشمیر تک انسانیت کو رود کر ، ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائی کی اخوت کو توڑ کر ، تشدد و تعصب کو ہوا دیکر ، فرقہ واریت کو جنم دیکر ، معیشت و صنعت کو اکھاڑ کر اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ اس ملک کے بھاگیہ ودھاتا بن جائیں تو یہ ممکن نہیں ۔۔۔ اس غاصبانہ طرز عمل سے زمین جیتی جا سکتی ہے اعتماد و اعتبار نہیں -

زمین و آسمان ، چاند و سورج کی طرح مسلمان اس ملک اور اس دنیا کی ایک ایسی حقیقت ہے جسے کسی منصوبے سے ختم نہیں کیا جا سکتا دنیا اسی کے وجود سے شروع ہوئی ہے اور اسی پر ختم ہوگی  اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے حکومت و ریاست کو اقلیت و اکثریت کو آپسی اتحاد ، اخوت و محبت ، مفاہمت و مصالحت سے رہنا چاہیئے جس میں ملک کی ترقی ، خوشحالی اور بقاء ہے ، مسلمانوں کے خلاف اس ساری  ذہن سازی ، قانون سازی ، منصوبہ بندی میں آج ملک عالمی معیار و معیشت پرکہا کھڑا ہے ، صنعت و تجارت کا کیا حال ہے ، امن و آمان اس نہج پر ہے کہ ہندو مسلم علاقے میں مکان نہیں لیتا ، مسلم ہندو علاقے میں دوکان نہیں  لیتا جس  ملک کے شہریوں میں آپسی محبت کے بجائے عدم اعتمادی اور خوف کا یہ عالم ہو وہ ملک وشوا گرو کیسے بن سکتا ہے  بلاشبہ اس ملک میں وشوا گرو بننے کی ہر صلاحیت موجود ہے اگر آپ جملوں سے نہیں بلکہ دل سے اس ملک کو عالمی طاقت بنانا چاہتے ہیں  تو ملک کی صلاحیتوں کو بلا تفریق پروان چڑھانا ہوگا  ، امن و آمان کو بحال کرنا ہوگا ، مذہبی منافرت اور تفریق کے بجائے اتفاق و اتحاد کے راستے پر چلنا ہوگا  -

لیکن کیا ایسا کر پانا اس حکومت اور اس سنستھا کے لئے ممکن ہے جس کی بنیاد مسلم دشمنی اور مذہبی جنون پر قائم ہو ، جس کے ذہن و دماغ میں ہندتوا اس طرح سرایت کر چکا ہو کہ اس کے لئے سیکڑوں سینائیں بنا کر ملک کی اقلیت پر چھوڑ دیا گیا ہو ، جو اس احساس کمتری کا شکار ہو کہ دنیا میں درجنوں مسلم ممالک ہیں جہاں اسلامی نظام ہے لیکن ہندتوا کہیں نہیں ، مسلمانوں کے پاس سیکڑوں مسلم ممالک  ہیں اور ہندو راشٹر کہیں نہیں اور وہ اس راشٹر اور اس نظام کی خاطر انسانیت تو دور رنگ و بو کو بھی بانٹ دیا ہو ۔۔ ایسا جنونی ذہن اپنے ملے ہوئے موقع اور وقت کو چھوڑ کر اپنے منصوبے کو ترک کر کے عوام الناس کی بہتری کے لئے کوئی ایسا کام کرے جس سے اس کا مقصد پس پشت چلا جائے میرے خیال میں ممکن نہیں ملک کے حالات ، عالمی رجحانات ، معیشت کے دباؤ میں وہ اپنی جنونیت کی شدت میں کمی تو لا سکتے ہیں لیکن ترک نہیں کر سکتے ۔ ملکی حالات ، معیشت و تجارت کے مد نظر  مذاکرات سے حادثات و واقعات میں کمی تو آسکتی ہے لیکن مسلمانوں کے خلاف جعلسازی ، منصوبہ بندی میں کمی نہیں آسکتی اس سے بچنے کے لئے مسلمانوں کے پاس اپنی تعلیمی ، سیاسی اور متحدہ طاقت کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ۔  

لیکن پھر بھی بحیثیت ایک پر امن شہری کے  اس ساری حقیقت ، ساری منصوبہ بندی اور ساری ذہنیت جاننے کے باوجود بھی خیر کی امید باقی رکھنی چاہیئے ، امن و آمان ، اتحاد و اتفاق کی کی بحالی کی بات کرنی چاہئے ، مذاکرات ، گفت و شنید کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے کیونکہ ہرمسئلے کا حل بات چیت میں ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی طاقت و قوت پر دھیان دینا چاہیے ، اس دنیا میں کمزوروں کی کوئی حیثیت نہیں  دوسروں کے ساتھ مل بیٹھ کر اخوت و محبت ، اتحاد و اتفاق کا پیغام دینے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر بھی کھلی نگاہ سے دیکھنا چاہیئے کہ کہیں ہمارے حلقے بھی منتشر تو نہیں ، کہیں ہم بھی مسلکی و گروہی تصادم  کا شکار تو نہیں ، کہیں ہم بھی مدرسے اور مدرسیت کی بنیاد پر دست و گریبان تو نہیں اگر ہیں  تو یہاں بھی آپسی اتحاد ، مذاکرات ، گفت و شنید کی ضرورت ہے ۔

جمعیت یوتھ کلب سے جوڑ کر اپنے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچائیں! مولانا خالد سیف اللہ

جمعیت یوتھ کلب سے جوڑ کر اپنے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچائیں! مولانا خالد سیف اللہ
رپورٹ: محمد دلشاد قاسمی
پلڑہ/بڑوت/باغپت(١ ستمبر٢٠١٩ آئی این اے نیوز)
آج صبح نو بجے سے جمعیت یوتھ کلب بھارت اسکاوٹ اینڈ گائڈ کی ماہانہ میٹنگ موضع پلڑہ کے مدرسہ مدینہ العلوم میں منعقد کی گئی، جس موقع پر ایک اہم تشکیلی پروگرام بھی کیا گیا جس کی صدارت حضرت مولانا مفتی محمد عباس صاحب صدر جمعیت علماء ضلع باغپت نے فرمائی،جب کہ نظامت کے فرائض قاری محمد صابر صدر جمعیت علماء تحصیل بڑوت نے انجام دیئے،
مجلس کا اٰغاز تلاوت کلام اللہ اور نعت شریف سے ہوا،
اس کے بعد موجود علماء کرام کے خطاب ہوئے،حضرت مولانا محمد خالد سیف اللہ صاحب کنوینر جمعیت یوتھ کلب ضلع باغپت و مہتمم مدرسہ دارالعلوم اشرفیہ نے جمعیت یوتھ کلب کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی،انہوں نے کہا کہ نوجوان قوم کا مستقبل ہوتا ھے اگر یہ برباد ہوگیا تو قوم ختم ہوجائے گی اس لیے ہمیں اپنے نوجوانوں کو فحاشی عیاشی بے حیائی اور بری عادتوں سے بچانا ھے اور ان کے اندر انسانیت کی بنیاد پر انسانوں کی مدد کرنا سکھانا ھے،ورنہ اگر یہ بری عادتوں کے شکار ہوگئے تو تباہ بربادی ان کا مقدر بنےگی،
اسی طرح حافظ محمد لیاقت صدر جمعیت یوتھ کلب تحصیل بڑوت نے بھی کہا کہ جو شخص صحت مند اور تندرست ہوتا ھے وہ خدا کی عبادت بھی اچھی طرح کرسکتا ھے اور مخلوق خدا کی بھی مدد کرسکتا ھے،اس لیے جمعیت یوتھ کلب سے جڑ کر اپنے اٰپ کو تندرست و توانا بنائیں،
اسی طرح حافظ محمد قاسم صاحب جنرل سکریٹری جمعیت علماء ضلع باغپت نے نوجوانوں کو جمعیت یوتھ کلب کے لیے ابھارا جس پر وہاں موجود نوجوانوں نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنے نام پیش کیئے،جس میں تقریباً ٧٠ سے زیادہ نوجوانوں نے پختہ عزائم کے ساتھ کیمپ میں شرکت کے لیے نام لکھوائے،مجلس کا اختتام حضرت مفتی محمد عباس کی دعاء پر ہوا،اس موقع پر حافظ محمد سلیم مولانا قمر الدین ناظم مدرسہ ھذا،مفتی محمد سہیل صاحب مولانا محمد عابد،عبد القیوم مولانا محمد شاھد واہل بستی اور اٰس پاس کے ائمہ سیکنڑوں کی تعداد میں موجود رہے

قومیں آرزو اور تمناؤں سے ترقی کے منازل طے نہیں کرتی بلکہ عملی میدان میں جدوجہد کامیابی کے لئے لازم: مولانا ڈاکٹر اکرم ندوی

الہ آباد شہر میں "جمہوریت میں اقلیتوں کاکردار "کے عنوان سے لندن سے آئے مولانا ڈاکٹر اکرم ندوی کا پرمغز خطاب،

 فضل الرحمان قاسمی
_______________
الہ آباد(آئی این اے نیوز یکم ستمبر2019) کامیابی کے لئے قربانی شرط اولین ہے،صرف آرزو وتمناوں سے قومیں ترقی کے مراحل نہیں طے کرتیں، کامیابی کاراز مسلسل جدوجہد ومحنت پر مضمر ہے، ان خیالات کااظہار لندن سے تشریف لائے بین الاقوامی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر مولانا ڈاکٹر اکرم ندوی نے الہ آباد شہر کے کریلی واقع محبوبہ پیلیس میں "جمہوریت میں اقلیتوں کاکردار "کے عنوان سے منعقد پروگرام میں کہیں، انہوں نے قوم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا، آج ضرورت اس بات کی ہم تعلیم کے میدان میں ترقی کریں، اور تعلیم کے مختلف میدانوں میں صف اول میں ہماری قوم کانوجوان نظر آئے، انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ خدمت خلق پر زوردیا، انہوں نے کہا، مذہب سے اوپر اٹھ کر تمام مذاہب کے بیوہ عورتوں یتیم بچوں، کمزور اور بے سہارا لوگوں کی مدد کریں، مولانا ندوی نے کہا، خدمت خلق کے ذریعہ ہم اغیار کے دلوں میں جگہ بناسکتے ہیں،آپسی پیارومحبت ملک کی ترقی اور باشندگان کی خوشحالی کاباعث ہے، انہوں نے کہا، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانیت کوفروغ دیاجائے، عمدہ اخلاق کے ذریعہ ہی ہم اغیار کے قربت اختیار کرسکتے ہیں،مولانا ندوی نے فہم قرآنی پر زور دیا، انہوں نے کہا، قرآن مکمل دستور حیات ہے، زندگی سے لے کر موت تک کے مختلف گوشوں کی رہنمائی اللہ تبارک وتعالی نے قرآن میں کیاہے، ہمیں قرآن کواپنا رہبر مانتے ہوئے اس کے احکامات پر عمل پیراہونے کی اشد ضرورت ہے،انہوں نے کہا، ایک مسلمان کے پیش نظر اخروی زندگی ہی ہو، دنیاوی زندگی تو چندروزہ ہے، دنیاوی سازوسامان محض دھوکہ ہیں، انہوں نے اخروی زندگی کوسنوارنے کی تلقین کیا، انہوں نے اس بات پرافسوس کااظہار کیا کہ آج مسلمان قرآن سے دورہوگیا ہے،قرآن کے دامن کومضبوطی کے ساتھ تھامنے پر زور دیا، انہوں نے کہا، ائمہ مساجد کو چائیے کہ وہ اپنی مسجدوں میں درس قرآن کا حلقہ شروع کریں تاکہ عوام الناس قرآن کے سمجھنے کی طرف شوق بڑھے،پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا، مولانا محمود حسن غازی نے خطاب سے پہلےمولانا ڈاکٹر اکرم ندوی کامختصر تعارف کرایا، خطاب کے بعد سوال وجواب کا سلسلہ جاری رہا، عوام وخواص نے اپنے مختلف قسم کے سوال پوچھے جن کاجواب مولانا نے دیا، مولانا محبوب قمرالزمان الہ آبادی کی دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا، کنوینر مولانا محمود کریم نے تمام سامعین کاشکریہ اداکیا، کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کیا۔

مولانا ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات کے معنی!

مولانا ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات کے معنی
✍عاطف سہیل صدیقی

مولانا ارشد مدنی صدر جمیعت علماء ہند کی موہن بھاگوت سے ملاقات حکمت و سیاست و اسلامی تاریخ میں قائم شد روایات اور مثالوں کی بنیاد پر بلکل درست اور وقت کی ضرورت کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ بہت سے حضرات مولانا کی اس ملاقات کو ھدف تنقید بنا رہے ہیں، کچھ اسے بزدلی پر مبنی قدم بتا رہے ہیں تو کچھ یہ کہہ رہے ہیں کہ مولانا ہی کیوں اور دیگر قائدین کیوں نہیں؟

اس مدعے کو تمام تعصبات سے پاک ہو کر سمجھنے کے لیے تنقید برائے تنقیص نہیں بلکہ جائز ہونی چاہیے (برائے اصلاح اس لیے نہیں لکھا کہ ہماری اتنی اوقات نہیں کہ بڑوں کی اصلاح کر سکیں )۔ میں سمجھتا ہوں کہ جمیعت پر تنقید کرنے یا مولانا ارشد مدنی یا انکے خاندان پر سخت تنقید کرنے میں راقم کبھی پیچھے نہیں رہا، لومۃ لائم کی پروا کیے بغیر احقر نے مولانا کی تنظیم اور انکے خاندان پر ہمیشہ جائز تنقید کی جس کے سبب مولانا کے بہت سے معتقدین نے راقم کو متعصب، حاسد،  اور نہ جانے کن کن القاب سے نوازا۔ لیکن تعصب سے پاک سوچ اور فکر کے اظہار کے لیے حق کہنے کی استطاعت رکھنی چاہیے اور ہزارہا اختلاف کے باوجود جس سے آپ کو اختلاف ہے اس کے  صحیح موقف اور قدم کی صرف تائید ہی نہیں بلکہ پذیرائی کرنی چاہیے۔ مولانا یا انکے خاندان سے یا انکی تنظیم سے بہت سی جائز وجوہات کی بنا پر ہمیں لاکھ اختلاف سہی لیکن موہن بھاگوت سے انکی ملاقات کی تائید کیے بنا رہنا یقینا متعصب فکر کی غمازی ہے۔

جو لوگ مولانا کی بھاگوت سے ملاقات کی مذمت کر رہے ہیں ذرا وہ یہ بتائیں کہ اس ناگفتہ بہ حالات میں جبکہ حکومت میں بیٹھے لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف ہر سازش کو جائز قرار دے دیا ہو اور اس پر عمل کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہو تو اس صورت حال سے باہر نکلنے کے لیے مسلمانوں کے پاس کیا راستہ ہے؟ مسلمانوں کے پاس اسکے صرف دو راستے ہیں،  اولا جیسے کو تیسا، ثانیا انکی سب سے اعلی قیادت جس کے ہاتھ میں پالیسی میکنگ کی قوت ہے ان سے مذاکرات برابری کی سطح پر۔ تیسرا راستہ ہے ناگفتہ بہ حالات کو اور بد سے بدتر ہونے دینا اور ظلم میں اضافہ ہونے دینا۔ مسلمان پہلی صورت اختیار کرنے کی حالت میں بلکل نہیں ہیں، انکے پاس صرف دو صورتیں بچتی ہیں،  اعلی قیادت سے مذاکرات یا پھر صاحب اقتدار اور اپنے درمیان خلا رکھ کر ظلم کو بڑھنے دینا اور حالات کو اپنے لیے اور خراب ہونے دینا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت صرف دو طریقوں پر مبنی ہے۔ جیسے کو تیسے پر اور مذاکرات پر۔ ظلم کو سہنے اور برداشت کرنے اور مذاکرات نہ کرنے کی آپ کی سنت نہیں ہے۔ اور دیگر انبیاء کی سنت بھی کم سے مذاکرات تو ہے ہی۔ اب یہ دیکھنا چاہیے کہ مولانا نے جُھک کر ملاقات کی یا برابر کی کرسی پر بیٹھ کر ملاقات کی؟

رپورٹس کے مطابق پہلی بات تو یہ ہے کہ مذاکرات کی دعوت مولانا کی طرف سے نہیں بلکہ آر ایس ایس کے سپریمو کی طرف سے آئی ۔ جس کا انکار سیاسی نقطۂ نظر اور شرعی نقطۂ نظر دونوں سے صحیح نہیں تھا۔ لہذا مولانا کو سیاسی اور شرعی نقطۂ نظر سے یہ دعوت قبول کرنی ہی چاہیے تھی جو کہ انہوں نے کی۔ دوسری بات مولانا نے جس ایجینڈے پر بات کی ان میں سے ایک ایجنڈا یہ رہا کہ مولانا نے بھاگوت سے صاف صاف کہا کہ آر ایس ایس کے نظریے سے نہ ہم پہلے متفق تھے اور نہ آج ہیں اگر آر ایس ایس اپنے نظریے میں تبدیلی لاتا ہے تو ہمیں بھی اپنے قدم آگے بڑھانے میں کوئی تأمل نہیں ہوگا۔ اس طرح یہ گفتگو بلکل برابری کے خطوط پر منعقد ہوگئی۔ اب اس ملاقات پر تنقید کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔ یا اگر کسی کے پاس کوئی اور فارمولہ ہو کہ آر ایس ایس سے پوری دوری بنا کر بھی اپنے حقوق محفوظ کیے جاسکتے ہیں اور مسلمانوں کے لیے امن و امان کا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے تو وہ بیان کریں، ان شاء اللہ ہم انکی تائید میں بھی اپنی بات ضرور عرض کریں گے۔ لیکن فی الحال مسلمانوں کے پاس مذاکرات کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے اور اس موقع کو جو خود آر ایس ایس کی سب سے اعلی قیادت نے دیا ہے اسے ہرگز گنوانا نہیں چاہیے۔

کتابِ نور میں لکھے ہوئے ہیں مشورے اس کے (سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ)

کتابِ نور میں لکھے ہو ئے ہیں مشورے اس کے {سیدنا عمر فاروق ؓ}

شیخ محسن احسان رحمانی
خادم: جامعہ اسلامیہ دارالعلوم رحمانیہ حیدرآباد

انسانی تاریخ میں تین ایسی دعائیں ہیں جن کے اثرات و نتائج نے صفحہ ہستی پر انمٹ نقوش ثبت کیے ہیں۔
١۔ بیت اللہ میں تلاوت آیات، تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیہ نفوس کے لئے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت مانگی۔
۲۔ فرعونی استبداد سے ٹکرانے اور مظلوموں کے حقوق کی بحالی کے لیے حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ سے ہارون علیہ السلام کی خطابت مانگی ۔
٣۔ گلشنِ اسلام کی آبیاری کے لیے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کی شوکت و جلالت مانگی،
 ان کی آمد پر پہلی بار حلقۂ رسالت میں نعرہ تکبیر بلند ہوا،اور یہ واحد شخصیت ہے جومرادِرسولﷺ بن کر آئے۔
 اللهم اعز الاسلام بابي جهل بن هشام او بعمر بن الخطاب فاصبح عمر فغدا على النبي صلى الله عليه وسلم فاسلم ثم صلى في المسجد ظاهرا (رواه احمد والترمذي)
ذخیر احادیث میں کم از کم ١٥/ (اور سیرت وتاریخ میں٢٢/) ایسے واقعات کا ذکر ملتا ہے کہ کسی مسئلہ میں سیدنا عمر رضی اللہ تعالی کی ایک رائے ہوئی یا ان کے قلب میں داعیہ پیدا ہوا کہ کاش اللہ تعالی کی طرف سے یہ حکم آجاتا بس وہی حکم وحی کے ذریعے پروردگار عالم نے محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر آسمان سے نازل فرما دیا۔
 
معارف الحدیث ٢٠٥/٨

ذیل میں قرآن مقدس کی اُن آیات کوسپردِقرطاس کیا جا رہا ہے،جو متعدد مراحل پرسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے اور آپ کے مشورے پر  نازل ہوئیں۔

 مقام ابراہیم علیہ السلام پر دورکعت نفل:

سیدنا فاروق رضی اللہ تعالی  کی رائے تھی کہ مقام ابراہیمؑ پر نوافل ادا کرے تاکہ عبادت میں ذوقِ ابراہیمی کی تقلید ہو جائے یہ تجویز بارگاہ عالم میں مقبول ومنظور ہوئی اور عرش بریں سے قرآن بن کر نازل ہوئی، جب سے اب تک بلکہ تاحشر مقام ابراہیمؑ پر سجدے ہوتے رہیں گے اور فاروق اعظمؓ کی اصابتِ فکر کا اعتراف ہوتا رہے گا۔ واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى"اور مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لیا کرو"(البقرہ:١٢٥)
۔
 ازواجِؓ رسولِؐ مقبول کو پردہ کاحکم:

ابتدائے اسلام میں مستورات کے لئے حجاب یعنی پردے کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا،عام مسلمانوں کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی آمدورفت ہوتی تھی، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں اللہ تعالی نے داعیہ پیدا فرمایا کہ خاص کر ازواجِ مطہرات کے لیے حجاب کاخصوصی حکم آجائے، چنانچہ اس بارے میں آیت نازل ہوگئی۔ واذا سالتموھن متاعا فسئلوهن من وراءحجاب "اور جب مانگنے جاو بیویوں کے پاس کچھ چیز کام کی تو پردے کے باہر سے مانگ لو" (الاحزاب:٥٣)

اسیرانِ بدر کے قتل کا مشورہ اور آیت کا نزول:

سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے یہ تھی کہ اسیرانِ بدر اسلام، صاحب اسلام اور فدایانِ اسلام کے جانی دشمن اور اکابر مجرمین ہیں، ان سب کو قتل کردیا جائے، ان کو زندہ چھوڑ دینا ایسا ہی ہے جیسے زہریلے سانپوں کو زندہ چھوڑنا لیکن سیدنا صدیق اکبرؓ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم دلی کا غلبہ تھا، ان کی رائے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کی ہوئی اور اسی پر عمل کیا گیا،لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے کے مطابق اس آیت کا نزول ہوا۔لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما اخذتم عذاب عظيم
''اگر نہ ہوتی ایک بات جس کو لکھ چکا اللہ پہلے سے تو تم کو پہنچتا اس لینے میں بڑا عذاب''۔(الانفال:٦٨)

رئيس المنافقين کی نمازِ جنازہ اور فکرِ عمرؓ پر آیت کا نزول:

عبداللہ ابن ابی رئیس المنافقین نے وصیت کی تھی کہ میری نماز جنازہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھائے، نیز ان ہی کی قمیص سے میرا کفن تیار کیا جائے، اس کے بیٹے نے بعدازمرگِ پدر باپ کی آخری آرزو رحمتِ عالم کی خدمت میں عرض کی تو محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم آمادہ ہوگئے۔
 اور فرمایا: اگر میری نمازِ جنازہ پڑھانے سے تیرے باپ کو جہنم سے جنت مل سکتی ہے تو تم تیاری کرو، میں آ رہا ہوں، نماز جنازہ کی تیاری ہوگئی، رحمت عالم تشریف لے آئے، فاروق اعظمؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ آپ کس کا جنازہ پڑھانے لگے ہیں، آپ تو جانتے ہیں اسے یہ کون ہے ؟ رحمت عالم نے فرمایا: ہاں اچھی طرح جانتا ہوں یہ کون ہے فاروق اعظمؓ سمجھ گئے، کہ میرے آقا میرے دشمن کو معاف کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں، عرض کیا: اس کی تمام زیادتیاں معاف ہوجائیں مگر کیا اس سنگ دل کا وہ ظلم بھی قابلِ معافی ہے جو اس نے عفیفہ کائنات امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ پر الزام تراشی کرکے انہیں اشکبار و بےقرار کیا، اگر آپ اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں گے تو امی عائشہؓ کی غیرت پہ کیا گزرے گی۔
 فرمایا: عمر میری رحمت کا تقاضا ہے، میں نمازِ جنازہ پڑھاؤں گا نماز جنازہ ہوگئی، عمرؓ ہٹ گئے، مگر روح الامین پہنچ گئے، فاروق اعظمؓ کی غیرت عرش بریں سے قرآن بن کر اتری اور فکرِ عمر کو رب العزت کی طرف سے توثیق حاصل ہوگئ ۔ ولاتصل علی احدمنھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ ''اور جب ان (منافقوں) میں سے کوئی مَرے تو اس پر نماز نہ پڑھیے''۔

منافق کا سر قلم اور عرشِ بریں سے پذیرائی کا شرف:

ایک یہودی اور منافق کا کسی چیز کی ملکیت پر جھگڑا ہوا، یہودی نے تجویز پیش کی اور منافق سے کہا: محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو مجھے ان کا فیصلہ منظور ہے، منافق بڑا خوش ہوا کیونکہ وہ کلیمہ گو ہے، فیصلہ تو میرے حق میں ہی ہوگا، لیکن اللہ کے رسولﷺ نے شہادت کی بنیاد پر فیصلہ یہودی کے حق میں صادر کردیا، کیونکہ منافق اپنے موقف کے ثبوت میں کوئی شہادت پیش نہ کرسکا، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے رسول اکرمﷺ کے فیصلے سے اتفاق کیا۔
پھر منافق نے کہا: میں تمہارے کہنے پر محمدﷺ کے پاس چلا آیا، تو اب تم میرے کہنے پر عمر فاروقؓ کے پاس بھی چلو، فاروق اعظمؓ کے پاس دونوں آئے اوراپنا اپنا مؤقف بیان کیا، لیکن یہودی نے یہ بتا دیا کہ ہم قبل ازیں رسولِ اکرمﷺ کے پاس گئے تھے اور ان کا فیصلہ تو میرے حق میں تھا اور صدیقِ اکبرؓ نے بھی یہی فیصلہ بحال رکھا، لیکن یہ کلمہ گو مطمئن نہیں ہوا، فاروق اعظمؓ کے تیور جلالی ہوگئے، فرمایا: ٹھہرو ! ابھی فیصلہ کرتا ہوں، تلوار لائے اور منافق کا سر قلم کرتے ہوئے فرمایا: جسے رسول اکرمﷺ کے فیصلے پر اطمینان نہیں، اس کا فیصلہ میری تلوار نےکر دیا۔
اب شور مچ گیا٠ کہ عمر ابن خطابؓ نے ایک کلمہ گو کی گردن اڑا دی، اس کے ورثاء نے رسول اکرمﷺ کی خدمت میں فاروق اعظمؓ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا کہ ہمیں انصاف چاہیے چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی۔ کے ایسے بدبختوں کا یہی انجام ہونا چاہیے_  کہاں کا بدلہ اور کہاں کا خون بہا....
فَلاَ وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ الخ۔ ترجمہ: سو قسم ہے تیرے رب کی وہ مومن نہ ہوں گے یہاں تک کہ تجھ کو ہی منصف جانیں اس جھگڑے میں جو ان میں اٹھے پھر نہ پاویں اپنے جی میں تنگی تیرے فیصلہ سے اور قبول کریں خوشی سے۔ (النساء ٦٥)

صدیقہ کائناتؓ کی آہوں پر فاروق اعظمؓ کی صدائیں قرآن بنی:

غزوہ بنی المصطلق سے واپسی کے موقع پر منافقین نے ابن ابی کی قیادت میں طے شدہ منصوبے کے تحت حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے خلاف بدزبانی اور الزام تراشی کا طوفان اٹھایا، اللہ کے رسولﷺ نے اصحاب الرائے کا ہنگامی مشاورتی اجلاس بلاکر رائے لی، صحابہ کرام تو اس اندوہناک صدمہ میں گھائل تھے، ہر شخص اشکبار ودل فگار تھا،
ایک طرف سے آواز آئی، اللہ کے رسولﷺ ! پیغمبر کے لیے بیویوں کی کمی تو نہیں (یعنی عائشہؓ کو آزاد کیا جاسکتا ہے) اس پر فاروق اعظمؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ بتائیے کہ عائشہؓ کو آپ کی رفیقۂ حیات بنانے والا کون ہے ؟ رسول اکرمﷺ نے انگلی آسمان کی طرف اٹھا دی، فاروق اعظمؓ نے اس بلیغ کنایے سے بھرپور تاثر لیا اور عرض کیا یہ کیس اب اللہ کی عدالت میں ہے اور مزید فرمایا: "یہ امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پر بہتان عظیم ہے" جو الفاظ آپ نے کہے انہی الفاظ میں پروردگار عالم نے قرآن کی ایک آیت کو نازل فرمایا سُبْحٰنَکَ ھٰذَا بُہْتَان عَظِیْم'' ۔ اسی طرح آیت نازل ہوئی۔ (النور:١٦)

تاجدارِ شہادت سیدنا عمر فاروقؓ:

 اللہ نے اس مثالی انسان میں بیک وقت کئی خوبیاں پیدا کرکے انہیں عبقری بنادیاتھا،
وليس على الله بمستنكر أن يجمع العالم فى واحد
 "اور اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں کہ وہ کسی ایک انسان میں دنیا بھر کے محاسن جمع کردے"
 فاروق اعظم بیک وقت امیر بھی تھے، سراپا فقیر بھی، سراپا جلال بھی تھے، جمال بھی، عالم بی تھے، عابد بھی، شب زندہ دار بھی تھے، مجاہد برسرپیکار بھی،

  عمرؓ حدیث شجاعت حکایت شمشیر
  عمرؓ شکوہ قیادت ہیں،قصۂ توقیر
  عمرؓ کے نام سے طاغوت لرزہ براندام
 عمرؓکی سطوت وشوکت سے سرنگوں اصنام
 عمرؓ قبول عمرؓ قابل وعمرؓ مقبول
  عمرؓ دعاءِپیغمبرؐ عمرؐ مرادِرسولؐ

٢٧/ذوالحجہ کو صبح کی نماز  مسجد نبویؐ میں پڑھا رہے تھے کہ گھات میں بیٹھا ہوا ایران کا فیروز مجوسی حملہ آور ہوا اور امیر المومنین سیدنا فاروق اعظمؓ پر زہرآلود خنجر کے ٦ وار کیے، جس سے اسلام کا مایہ ناز فرزند گھائل ہوگیا اور ایک محرم الحرام کو شہر مدینہ مسجد نبوی مصلی رسول پر جام شہادت نوش کیا۔
 دو دعائیں مانگی تھی کہ مدینے میں موت آئے اور شہادت نصیب ہو، بحمداللہ آرزو کی تکمیل کا وقت آ پہنچا، سبز گنبد کے مکینوں میں تیسرا نمبر آپ کا ہوا، 22 لاکھ مربع میل کا فرمانروا، جس کا حکم ہواؤں، دریاؤں، جنگل کے درندوں اور دھرتی پر مانا جاتاتھا، وہ ١/محرم الحرام کو اس دارفانی سے رخصت ہو گیا۔ انا للہ واناالیہ راجعون
یہ دنیا ان سے اب تک اکتسابِ ِفیض کرتی ہے
کتابِ نورمیں لکھے ہوئے ہیں مشورے اس کے