اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Tuesday, 7 January 2020

جمہوری ملک میں بی جے پی کا گنڈا راج ذوالقرنین احمد

جمہوری ملک میں بی جے پی کا گنڈا راج 


ذوالقرنین احمد


ہندوستان کو آزاد کروانے کیلے جب آزادی کیلے تحریکیں شروع ہوئیں تب انگریزوں کے خلاف صف اول میں ہمارے آبا و اجداد تھے، یہ انہیں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے انصاف پسند عوام کو اپنے تحریروں اور ولولہ انگیز تقریروں کے زریعے اتحاد و اتفاق کا پیغام دیا اور انگریزوں کے خلاف ایک جھنڈے کے نیچے سبھی نے مل کر آزدی کیلے جد و جہد کی۔ جانوں کے نذرانے پیش کیے اس ملک کی دھرتی کو اپنے خون سے سر سبز و شاداب کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں علماء اکرام نے پھانسی کے پھندوں کو قبول کیا نا کہ انگریزوں کی غلامی کو تسلیم کیا۔ انگریزوں سے جہاد کا فتویٰ جاری کیا جس کے بعد انہیں پابند سلاسل کیا گیا اور انہیں اس بات پر اکسایا گیا کہ وہ اپنا فتویٰ واپس لے ہم آزاد کردے گے لیکن انہوں نے جیل کی سلاخوں میں رہنا پسند کیا اور حق و صداقت پر قائم رہے۔ اس وقت ایک فرقہ پرست ٹولہ ایسا بھی تھا جو انگریزوں کے تلوے چاٹنے کا کام کرتے تھے۔ اور آپس میں پھوٹ ڈالنے کا کام کرتے تھے۔ 

آج اسی ٹولے نے اپنے وجود کے ۱۰۰ سال مکمل کرلیے ہیں۔ جو اپنی تنظیم کے زریعے ملک میں ہندو راشٹر کے قیام کیلے کام کرتے آرہے ہیں۔ اور انکی یہ تنظیم منظم طریقے سے اپنے ناجائز عزائم کو لیکر آگے بھی بڑھ رہی ہے۔ جو آج ہمارے سامنے ہیں دھیرے دھیرے ملک میں غیر انسانی قانون سازی کی جارہی ہے۔ انصاف کا سرے عام قتل کیا جارہا ہے۔ عدلیہ کو اپنی لونڈی بنا دیا گیا ہے۔ جمہوریت کو گنڈا راج میں تبدیل کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے ایسے فضول اور غیر منصفانہ ظالمانہ قانون کو جبراً عوام پر مسلط کیا جارہا ہے، جس میں دودھ پیتے بچوں سے لے کر ۱۰۰ سالہ بوڑھی خواتین بھی محفوظ نہیں ہے۔ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیا گیا۔ عوام کو ایمرجنسی کی صورت میں رکھا گیا، اور اب شہریت ترمیمی قانون کو نافذ کیا گیا ہے۔ اسی طرح این پی آر کے زریعے این آر سی کو پورے ملک میں نافذ کرنے کے عزائم اس فرقہ پرست حکومت کے ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں تقریباً 25 روز قبل جمہوری انداز میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کر رہے طلباء و طالبات پر پولس اور دیگر سنگھی فرقہ پرست عناصر کے زریعے بدترین ظلم و تشدد کیا گیا۔ جس میں کئی افراد زخمی ہوئے کئی گھائل ہوئے۔ ایک طرح ملک کے پردھان منتری نریندر مودی بیٹی پڑھاؤ اور بیٹی بچاؤ کا نعرہ بھی دیتے ہیں اور پھر انہیں بیٹوں پر لاٹھی چارج کی جاتی ہے۔ انہیں بدترین ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فائرنگ اور آنسوں گیس کے گولے داغے جاتے ہیں۔ لائبریری اور مسجد میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے۔یہ کونسی جمہوریت ہیں۔ 
گزشتہ روز جے این یو میں اگزام فیس میں بڑھوتری کے خلاف احتجاج کر رہے طلباء و طالبات پر اے بی وی پی سنگھ کی فرقہ پرست ذیلی  تنظیم کے گنڈوں نے لوہے کے راڈ اور لاٹھیوں سے حملہ کیا۔ جو کہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا۔ اس بات کا علم کیا پولس کو نہیں تھا۔ اور اگر نا بھی ہوتا تو پولس کو کال کرنے کے بعد پولس نے فوراً پہنچ کر فوراً ان گنڈوں پر کاروائی کیوں نہیں کی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس میں حکومت کا ہاتھ ہے۔ جو اپنے اقتدار کو بچانے کیلے اب گنڈا گردی پر اتر چکی ہے۔عوام پر اپنی دہشت قائم رکھنے کیلے اور انہیں ڈرانے کیلے ایسے اقدامات کر رہی ہے۔ جسکے بعد اس کا الٹا ہی رد عمل دیکھنے مل رہا ہے۔ انصاف پسند عوام متحد ہو چکی ہے اور تمام مل کر ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔جے این یو میں ہوئے حملے کے خلاف پورے ملک میں مختلف یونیورسٹیوں میں مظلوم طلبہ کے حق میں احتجاج شروع ہو چکے ہیں۔ حکومت اپنے ہی جال میں پھنستی جارہی ہے۔ سارے وار الٹے ان ہی پر اثر انداز ہورہے ہیں۔

ہندوستان کا وقار اس نا ہنجار فرقہ پرست حکومت کے وجہ سے پوری دنیا میں داغدار ہورہا ہے۔ لیکن پھر بھی ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ ملک کے وزیر داخلہ یہ کہ رہے ہیں کہ حکومت ایک قدم شہریت ترمیمی قانون کے معاملے میں پیچھے نہیں ہٹے گی تو عوام نے بھی اور مہاراشٹر کی حکومت نے بھی ان سے کہا کہ تم پیچھے نا بھی ہٹے تو عوام اب آگے بڑھتی رہی گی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے مسلمان انصاف پسند سیکولر عوام کو ساتھ لے کر اپنے حق کیلے آواز اٹھائے کسی بھی قیمت پر ظالموں کے سامنے نا جھکے اور ناہی ڈرے۔ بلکہ ان فرقہ پرستوں کا جمہوری انداز میں مقابلہ کریں۔ اور جیسے حالات ہوگے اسکے مطابق اپنے آپ کو مقابلے کیلے تیار رکھے۔  حالات کی تبدیلی سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی تھامے رکھیں اور زمینی سطح پر ہر شخص اپنی ذمے داری کو اور وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے اپنے طور جو بھی سپورٹ ہم اپنے حق کیلے اور آئین کی حفاظت کیلے  کرسکتے ہیں یا جو لوگ میدان میں اتر چکے ہیں انکی ہرممکن مدد کیلے تیار رہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ ہم پر حالت آئے ہیں مسلمانوں نے اس سے بھی برے حالات کا مقابلہ کیا ہے۔ آزادی کی جنگ یونہی نہیں لڑی گئی تھی۔
آج مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے چند باتوں کو ذہن نشین کرلیں۔ ایک تو یہ کہ فضول خرچی سے بچے، کفایت شعاری سے کام لے۔ جو افراد مالدار ہے اور اللہ تعالی نے انہیں نوازا ہے تو وہ اپنے سے نیچے کے افراد کی ہر ممکن مدد کریں انہیں قدموں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ جب حالت خراب ہوتے ہیں تو آپ کا پیسہ کسی کام نہیں ہوگا۔ بلکہ اسے اللہ کی رضا کیلے آج ہی صرف کریں۔ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لے فرقہ بندی کو بلکل بھی جگہ نہ دے۔ مسلکی اختلافات کو دفن کردیں۔ آپسی تعلقات کو مضبوط کریں۔ تیسری بات یہ کو آپسی مسائل کو اپنے علاقے کے بڑے اور ذمہ دار افراد کے سامنے رکھ کر حل کریں۔ عدالتوں کے چکر لگانے اور فضول پیسہ برباد کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا سوائے بدنامی اور انتشار کے۔ چوتھی بات یہ کہ صحت مند رہنے کی کوشش کریں گھر کے ہر فرد کو اس قابل بنائیں کہ وہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کا تحفظ و دفاع کر سکے اور حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھے۔ ڈر و خوف کو اپنے قریب نا آنے دے۔ ملک و آئین قوم و ملت کے حفاظت کیلے نڈر ہوکر حالت کا مقالہ کریں۔ یہی حالات کا تقاضا ہے۔ ورنہ یہ فرقہ پرست عناصر غریب عوام کو غلامی میں دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپنے نسلوں کے تحفظ کیلے آج سڑکوں پر اتر کر ان نوجوانوں کے قدم سے قدم ملانے کی اشد ضرورت ہے۔ ۷۰ سالوں سے مصلحت کا لبادہ اوڑھ کر ہم نے صرف کاندھوں پر جنازے اٹھانے کے سوا کچھ نہیں کیا اور اسکا نتیجہ ہمارے سامنے ہیں‌۔ اس لے متحد ہوکر متحرک ہوجائے۔ اب قیادت کا انتظار نا کریں یہ نوجوان نسل خود اپنے اندر ایک نئی قیادت کو جنم دینے کے لائق ہوچکی ہے۔

فرحان میموریل والی بال ٹورنامنٹ مندی ظفر پور میں ماہ فروری میں انعقاد!

حافظ ثاقب اعظمی
__________________
مندے/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 7/جنوری 2019)اعظم گڑھ ضلع کے موضع مندے ظفر پور پور ماہ فروری میں والی بال ٹورنامنٹ کا انعقاد ہونے والا ہے جس میں صوبے کی مشہور ٹیمیں حصہ لیں گی جس کی اطلاع حافظ ارشد صاحب نے بذریعہ فون دیا، انہوں نے بتایا کی ان شاء اللہ آئندہ مہینہ یعنی فروری میں اس ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جائے گا جس کی تاریخ کا اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس ٹورنامنٹ کے صدر فرحان شیخ ہوں گے۔

Monday, 6 January 2020

شہریت ترمیمی قانون کے بعد پیداشدہ حالات پر دہلی میں جمعیۃ کی میٹنگ پروگرام میں شرکت مہتمم دارالعلوم دیوبند سے شرکت کی درخواست،اسلامی حلقوں میں بحث و مباحثہ کادور جاری

شہریت ترمیمی قانون کے بعد پیداشدہ حالات پر دہلی میں جمعیۃ کی میٹنگ
پروگرام میں شرکت مہتمم دارالعلوم دیوبند سے شرکت کی درخواست،اسلامی حلقوں میں بحث و مباحثہ کادور جاری
دیوبند۔6جنوری (ایس۔چودھری) مرکزی حکومت کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر شہریت قانون میں ترمیم کرنے اور این پی آرکے اعلان کے بعد پیدا حالات پر غور وخوض کرتے ہوئے ان حالاتوں سے کیسے نمٹا جائے اور آگے کا کیا لائحہ عمل ہو ، جمعیۃ علماء ہند (الف) کی جانب سے 9جنوری کو دہلی میں ایک میٹنگ طلب کی گئی ہے ، اس میٹنگ میں شرکت کے لئے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی کو بھی دعوت نامہ بھیجا گیا ہے ۔ میٹنگ میں لئے جانے والے فیصلے کو لے کر اسلامی حلقوں میں بحث ومباحثے کا دور شروع ہوگیا ہے۔ تفصیل کے مطابق ملک میں مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا ارشد مدنی نے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسمی نعمانی کو دعوت نامہ ارسال کرکے 9جنوری کو دہلی میں ہونے والی میٹنگ میں شرکت کرنے کی درخواست کی ہے ۔ دعوت نامہ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ وقت میں ملک کے جو حالات ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے شہریت قانون میں ترمیم کردی گئی ہے ۔ آسام کے لوگوں کو این آرسی سے راحت دینے کے بجائے پورے ملک کو مصیبت میں دھکیلنے کا راستہ بنایاجارہاہے ، ملک بھر میں سی اے اے اور این آرسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں اس سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے این پی آر کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ این پی آر میں بھی حکومت نے کچھ ایسے پوائنٹ میں شامل کئے ہیں جن کے لئے کاغذوں کا ملنا ناممکن ہے، حالانکہ مردم شماری کوئی نیا کام نہیں ہے ، آزادی کے بعد 1949میں مردم شماری ایکٹ بنا اور 1951سے ہر دس سال کے بعد مردم شماری کا عمل جاری ہے۔ این پی آر 1949کے ایکٹ کے تحت نہیں آتا اس کے لئے دوسرا ایکٹ ہے ۔ وزارت داخلہ کے ویب سائٹ پر این پی آر کی جو تفصیل آئی ہے اس میں کئی ایسی چیزیں حکومت ہند نے بڑھائی ہیں جو غلط ہیں۔ 2020میں ہونے والی این پی آر کو حکومت سمجھانا چاہ رہی ہے کہ یہ مردم شماری ہے کچھ اور نہیں ہے لیکن موجودہ این پی آر میں کچھ ایسے ایشوز لائے گئے ہیں جن کے کاغذات کا حصول ناممکن ہے۔ دعوت نامے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ وقت میں پورے ملک میں فرقہ واریت کا ننگا ناچ ہورہا ہے اس کے باوجود ملک کی ایکتا اور قومی یک جہتی کو بچانے کے لئے وطن کے سنجیدہ ، دانشور اور نوجوان طبقے کی ایک بڑی تعداد کی توجہ اس کی طرف مبذول کرارہی ہے اور آپسی میل ملاپ ، صلح وآشتی ، اتحاد ویکجہتی ، امن وامان اور ملک وقوم کی سالمیت کی شمع روشن کردی ہے ۔ ایسے میں ملک کے سیکولر ستون کے استحکام اور اس کی پائیداری اور ہندو مسلم سکھ ، عیسائی کی رسی کو مضبوط کرنے پر پوری طاقت جھونک دینی چاہئے ۔ اس دعوت نامے کے سلسلے میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضرور اس میٹنگ میں شرکت کریں گے ، حالانکہ میٹنگ میں ملک کے موجودہ حالات اور مختلف مسائل پر وہ کیا رائے رکھیں گے، اس سلسلے میں مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کچھ بھی بتانے سے انکار کردیا۔

پولس نے کہا پہلے مار کھائو پھر ہم آئیں گے جے این یو میں اے بی وی پی غنڈوں کے شکار نابینا طالب علم سوریہ سمیت دیگرطلباء سے بات چیت، ایک خاص کمیونٹی کے طالب علموں کو نشانہ بنائے جانے کا الزام

پولس نے کہا پہلے مار کھائو پھر ہم آئیں گے
جے این یو میں اے بی وی پی غنڈوں کے شکار نابینا طالب علم سوریہ سمیت دیگرطلباء سے بات چیت، ایک خاص کمیونٹی کے طالب علموں کو نشانہ بنائے جانے کا الزام
نئی دہلی۔ ۶؍جنوری: (جے این یو سے محمد علم اللہ کی گرائونڈ رپورٹ) ملک کی مرکزی دانش گاہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں ۵؍ جنوری کی رات  پیش آئے حادثہ کے بعد جہاں فیسوں میں اضافے کے خلاف طلباء احتجاج کر رہے تھے شر پسند عناصر نے حملہ کر دیا ،حالانکہ یہ ابھی تحقیق کا موضوع ہے کہ طلباء پر کس نے حملہ کیا اور اس کے پیچھے کی کہانی کیا تھی ، لیکن عینی شاہدین اور زخمی طلباء کا کہنا تھا یہ حملہ اکھل بھارتیہ ودارتھی پریشد ( اے بی وی پی ) کے غنڈوں نے کیا تھا ، جو اپنی شناخت ظاہر نہ ہو اس کے لئے اپنے چہروں کو چھپائے ہوئے تھے۔طلباء کا کہنا تھا کہ سورج کے غروب ہوتے ہی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر انھوں نے اپنے اپنے کمروں میں موجود طلباء پر لاٹھیوں ، ڈنڈوں ، پتھروں اور اینٹوں سے حملہ بول دیا جس سے بڑی تعداد میں طلباء زخمی ہو گئے ۔ جائے وقوع پر کھڑکی اور شیشوں کے دروازے ٹوٹے پڑے تھے ، ان کی کرچیاں بکھری ہوئی تھیں اور کمروں کا منظر انتہائی بھیانک تھا، ان میں فائر ایکسٹنگیوشر سے حملہ کیا گیا تھا اور اس کے ذرات پورے کمرے میں بکھرے پڑے تھے۔ طلباء میں ایک عجیب قسم کا خوف تھا اور ہر طالب علم اپنی کہانی سنانے کے لئے بے تاب تھا ۔ کسی کا پاوں ٹوٹا تھا تو کسی کا سر ، کسی کا ہاتھ تو کسی کی انگلیاں زخمی تھیں۔ ایک نابینے طالب علم جس نے اپنا نام سوریہ بتایا ان کا کہنا تھا کہ رات کو ہم پڑھائی کر رہے تھے تبھی ان لوگوں نے ہم پر حملہ کر دیا ، میں ان سے کہتا رہا میں اندھا ہوں لیکن اس کے باوجود وہ نہیں مانے اور فحش گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ان سالوں کو سبق سکھاو ۔ انہوں نے کہاکہ میں نے پولس کو فون کیا لیکن پولس کا کہنا تھا کہ پہلے مار کھاو پھر ہم آئیں گے ۔ ان لوگوں نے دروازہ توڑ کر میرے روم میں حملہ بولا ، مجھے مارا پیٹا اور لہولہان کر دیا ۔ نابینے طالب علم نے اپنی پیٹھ دکھاتے ہوئے بتایا کہ دیکھیں کس طرح مجھ پر ظلم کیاگیا ہے ، لاٹھی ڈنڈوں سے لیس دہشت گرد اتنے پرجوش تھے کہ میرے چیخنے چلانے کے باوجود مجھے مارتے پیٹتے رہے ۔ ایک اور طالب علم احمد رضا نے بتایا کہ پولس تو صبح سے ہی تھی لیکن اس کے باوجود وہ اندر آگئے ۔ ہم اس وقت ہاسٹل میں ہی تھے اور ہمیں معلوم ہوا کہ وہ بڑی تعداد میں ہیں تو ہم نے گیٹ بند کرنے کی کوشش کی تاکہ مزید لوگ اندر نہ آنے پائیں اسی درمیان پولس آ گئی ، پولس نے ہم سے پوچھا کہ تم کون ہو ، ہم نے بتایا کہ ہم اسٹوڈنٹ ہیں تو پولس نے ہم پر لاٹھی برسانا شروع کردیا ، ہمیں غنڈوں سے چوٹ نہیں آئی بلکہ ہمیں پولس نے مارا ۔ پولس کا رویہ انتہائی ظالمانہ تھا جس نے ایمبولنس کو بھی وقت پر نہیں آنے دیا ۔ پولس ایک بجے سے کیمپس میں تھی اور کئی دنوں سے چھاونی بنا کر پولس بیٹھی ہوئی تھی اس کے باوجود وہ عناصر کیسے کیمپس میں داخل ہو گئے یہ اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے ۔ ایک طالب علم گوتم سابرمتی ہاسٹل کے قریب موجود تھے انہوں نے بتایاکہ شام سات بجے کے لگ بھگ ، ہم سابرمتی ہاسٹل کے قریب ڈھابے میں چائے پی رہے تھے۔ پھر اچانک وہاں ماسک پہنے لوگوں کا ہجوم آیا۔ ان کے ہاتھوں میں لوہے کی سلاخیں اور دیگر ہتھیار تھے۔ قریب 100 افراد کے ہجوم نے اچانک  پتھر بازی شروع کردی اور لوہے کے راڈ اور سلاخوں سے حملہ کردیا یہ بھیڑ طلبہ وطالبات کو بلا وجہ پیٹ رہی تھی ۔ایک اور طالب علم راحت زبیں نے بتایا کہ اے بی وی پی کے غنڈے دوپہر سے ہی وویکا نند کے مجسمے کے پاس اکٹھا ہونا شروع ہوگئے تھے ، وہ اشتعال انگیز نعرے لگا رہے تھے، سائڈ میں کچھ دیگر لڑکے تھے جنکے پاس موٹے موٹے ڈنڈے تھے، ان میں سے کئی کے پاس پولس والا ڈنڈا بھی تھا، وہ چیخ رہے تھے گولی مارو سالوں کو،دیش کے غداروں کو، میں وہیں پر تھا یہ سب دیکھ کر سمجھ گیا کہ آج یہ جامعہ کی ہی طرح جے این یو پر کریک ڈاون کرنے والے ہیں اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا، اس حادثے میں میرے کئی ساتھی زخمی ہوئے جو زیر علاج ہیں۔ بعض طلباء نے بتایا کہ وہ ایک خاص کمیونٹی کے افراد کو ٹارگیٹ کر کے نشانہ بنا رہے تھے۔ وہ نام پوچھ پوچھ کر حملہ کر رہے تھے اور گالیاں دے رہے تھے، وہیں دیکھنے میں یہ بھی آیا کہ اے بی وی پی اور اس طرح کے دوسرے شدت پسند ہندو تنظیموں سے تعلق رکھنے والے طلباء کے کمروں کو بالکل بھی نہیں چھیڑا گیا تھا، ان میں تالا لگا تھا اور ان کے مکین غائب تھے ، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہ پورا گیم پری پلان تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز جے این یو کیمپس میں پولس کی موجودگی کے باوجود کچھ لوگوں نے لاٹھی ڈنڈوں، لوہے کی سلاخوں اور اینٹ سے کیمپس میں دھاوا بول دیا تھا جس میں بڑی تعداد میں طلبہ وطالبات اور اساتذہ زخمی ہوگئے تھے۔ اس غنڈہ گردی میں جے این یو طلبہ یونین کی لیڈر ایشی گھوش کو بھی لہولہان کردیاگیا تھا۔ تادم تحریر کیمپس میں خوف وہراس کا ماحول ہے ، پورا علاقہ چھائونی میں تبدیل ہے، طلبہ میں دہلی پولس اور مرکزی حکومت کے تئیں غم وغصہ بھی ہے۔

جامعہ میں احتجاج کا ۲۵؍ واں دن یشونت سنہا سمیت دیگرسیاسی وسماجی لیڈران کی شرکت، جے این یو حملے کی مذمت، تعطیل ختم ہونے کے بعد طلبہ کی آمد سے کیمپس میں رونق

جامعہ میں احتجاج کا ۲۵؍ واں دن
یشونت سنہا سمیت دیگرسیاسی وسماجی لیڈران کی شرکت، جے این یو حملے کی مذمت، تعطیل ختم ہونے کے بعد طلبہ کی آمد سے کیمپس میں رونق 
نئی دہلی۔ ۶؍دسمبر: (جامعہ کیمپس سے محمد علم اللہ کی ر پورٹ) شہریت ترمیمی قانون، این آر سی، سی اے اے کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ میں احتجاج کا آج ۲۵؍واں دن تھا اور بھوک ہڑتال کا چھٹا دن تھا۔ آج کے احتجاج میں سابق  مرکزی وزیر یشونت سنہا ، وریندا کرات(سی پی آئی) ، سیدہ حمید(سابق وومین کمیشن چیئرمین) ، صاحبہ فاروقی (آل انڈیا ڈیموکریٹک وومین ایسوسی ایشن چیئرمین) ، شفاء الرحمان خان (جامعہ المومنائی ایسوسی ایشن صدر)  وغیرہ نے شرکت کی او رطلبہ سے خطاب کیا۔ویرندا کرات نے کہاکہ بغیر حکومت کی سازش کے کوئی بھی یونیورسٹی کے کیمپس میں نہیں گھس سکتا تھا۔ جامعہ اور جے این یو میں بربریت میں حکومت برابر کی شریک ہے۔ مقررین نے مجموعی طو رپر اپنے خطاب میں سی اے اے قانون کے خلاف جامعہ کی تحریک کو سراہا اور ملک گیر پیمانے پر ہورہے احتجاج کی ستائش کی اور اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی انہو ںنے اپنے خطاب میں جے این یو میں ہوئے حملے کی شدید مذمت کی او رمرکزی حکومت اور وائس چانسلر جے این یو کو نشانہ بنایا۔ ادھر شاہین باغ میں بھی احتجاج جاری رہا، پولس نے احتجاج کو ہٹانے کی ہرممکن کوشش کی، بینر جھنڈے اتار لیے تھے اور بریکیڈ کو بھی ہٹادیا گیا تھا لیکن خواتین ڈٹی رہی اور کہا کہ جب تک یہ قانون واپس نہیں ہوتا کوئی طاقت ہمیں یہاں سے نہیں ہٹا سکتی۔ گزشتہ رات یہ افواہ اڑائی گئی تھی کہ پولس اور شرپسند عناصر احتجاج کررہی خواتین پر حملہ کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے اوکھلا، جامعہ، بٹلہ ہائوس کے عوام بڑی تعداد میں جامعہ اور شاہین باغ کی طرف کوچ کرگئے اور انہیں شرپسندوں سے حملوں سے بچانے کی فکر میں لگ گئے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ دیر رات گئے تک بڑی تعداد میں انسانی چین بناکر گھیرے رہے۔ آج بھی بڑی تعداد میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے لے کر شاہین باغ تک کینڈل مارچ نکالا اور جے این یو کے طلبہ کی حمایت میں نعرے بازی کی اور دہلی پولس مردہ باد ، مرکزی حکومت مردہ باد کے نعرے لگائے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ آج 21 دسمبر 2019 سے 5 جنوری 2020 تک شروع ہونے والی موسم سرما کی چھٹیوں کے بعد ایک مرتبہ پھر کھل گئی۔ یونیورسٹی نے موسم سرما کی تعطیلات کو مد نظر رکھتے ہوئے نیز 14 دسمبر 2019 کو سمسٹر کے باقی امتحانات ملتوی کر کے چھٹیوں کا اعلان کیا تھا۔یونیورسٹی سمسٹر کے بقیہ امتحانات شروع کرنے کے لئے تیاری کر رہی ہے اور سمسٹر کے تمام اساتذہ اور مراکز کے تدریسی شیڈول کو جلد ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ویب سائٹ پر آویزاں کر دیا جائے گا۔ جامعہ نے پہلے ہی اعلان کیا ہے کہ بقیہ سمسٹر امتحانات 9 جنوری2020 (زیادہ تر پی جی کورسز) سے شروع ہونگے۔ یوجی کورسز کے بیشتر امتحانات 16 جنوری 2020 سے شروع ہونگے۔  سمسٹر امتحانات دینے والے طلباء کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ www.jmi.ac.inاور www.jmicoe.inپر آویزاں ہونے والے امتحانات کی مقررہ تاریخ کے مطابق یونیورسٹی آجائیں۔والدین سے گزارش ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ طلباء متعینہ تاریخوں میں حاضر ہوں گے۔طلباء کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر افواہوں اور غلط مواصلات کی وجہ سے پیدا ہونے والی کسی الجھن سے بچنے کے لئے اپ ڈیٹس کے لئے باقاعدگی سے سرکاری ویب سائٹ (www.jmi.ac.in & www.jmicoe.in) ملاحظہ کریں۔طلبا امتحان کے شیڈول سے متعلق کسی بھی سوال کے ل 0 011-26981717 ایکسٹن 1408/7647989611 صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک جا معہ ہیلپ ڈیسک نمبر پر کال کرسکتے ہیں۔۔انتہائی سنگین صورتحال اور کسی بھی قسم کی بیماری وغیرہ کے معاملات الگ سے دیکھے جائیں گے۔

دہلی: اسمبلی انتخاب 8 فروری کو، نتیجہ 11 فروری کو ہوگا برآمد

دہلی: اسمبلی انتخاب 8 فروری کو، نتیجہ 11 فروری کو ہوگا برآمد

نئی دہلی :6 جنوری 2020 آئی این اے نیوز


چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑا نے آج دہلی اسمبلی انتخاب کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔ پریس کانفرنس کے دوران سنیل اروڑا نے کہا کہ دہلی میں سبھی 70 سیٹوں کے لیے ایک ہی مرحلہ میں انتخاب ہوگا اور عوام اپنے حق رائے دہی کا استعمال 8 فروری کو کر سکین گے۔ ساتھ ہی چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑا نے یہ بھی اعلان کیا کہ ووٹوں کی گنتی 11 فروری کو ہوگی۔

آنند نگر سے دہلی، شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا، دہرادون کیلئے ٹرین چلائی جائیں حافظ شجاعت ٹرسٹ کے چیف شمس الضحی خان کی وزیر ریل سے اپیل

آنند نگر سے دہلی، شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا، دہرادون کیلئے ٹرین چلائی جائیں

حافظ شجاعت ٹرسٹ کے چیف شمس الضحی خان کی وزیر ریل سے اپیل

آنند نگر مہراج گنج: 6 جنوری 2020 آئی این اے نیوز
( عبید الرحمن الحسینی) مشرقی یوپی کے ضلع مہراج گنج میں واقع آنندنگر ریلوے اسٹیشن سے عوام کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے حافظ شجاعت فیض عام چیریٹیبل ٹرسٹ کے چیف شمس الضحی خان نے وزیر ریل سے اپیل کی ہے کہ آنند نگر سے دہلی (وایا لکھنو بریلی مراداباد) کیلئے ٹرینس چلائی جائیں تاکہ عام لوگوں کو سہولت مل سکے، آنند نگر سے دہلی کیلئے صرف ایک ٹرین ہمسفر ایکسپریس ہے، جو پوری اے سی ہے، عام لوگوں کی پریشانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسی ٹرین چلائی جانی چاہیئے جو عام لوگوں کیلئے ہو۔
آنند نگر سے شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا ( وایا گونڈہ، سیتاپور، بریلی، سہارنپور،  امبالہ) کیلئے چلائی جائے، تاکہ ویشنو دیوی جانے والوں کیلئے آسانی ہو۔
گورکھپور سے دہرادون( وایا آنند نگر، نوگڑھ، گونڈہ، لکھنو، شاہجہاں پور، مرادآباد، نجیب آباد، ہریدوار) کیلئے چلائی جائے تاکہ ہریدوار جانے والے لوگوں کیلئے آسانی ہو۔
واضح ہو کہ آنند نگر ریلوے اسٹیشن سے شمال ہند و نیپال کے لوگ بھی کافی تعداد میں سفر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع سدھارتھ نگر و بلرام کے لوگ بھی کافی تعداد میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اور اس روٹ پر ٹرین نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو گورکھپور یا گونڈہ جانا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے پیسنجرس کو خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آنند نگر سے ٹرین چلانے سے مسافروں کو کافی سہولت فراہم ہوگی۔
واضح رہے کہ چیف آف ٹرسٹی حافظ شجاعت فیض عام چیریٹیبل ٹرسٹ شمس الضحیٰ خان نے حکومت سے اس مسئلے پر خصوصی غور وخوض کرنے کی اپیل کی ہے۔

میڈیا سچائی کا دامن تھامے، اپنا کھویا وقار حاصل کرے! ********************************* تحریر :جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) رابطہ 8299579972

میڈیا سچائی کا دامن تھامے، اپنا کھویا وقار حاصل کرے!
         *********************************
تحریر :جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین)
رابطہ 8299579972
ملک میں احتجاج اور مظاہرے کا ماحول ہے ہر ایک کے چہروں پر این آر سی اور سی اے اے کی لکیریں نظر آرہی ہیں اکثر و بیشتر لوگ یہی کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کا دستور دنیا کے تمام ملکوں میں سب سے اونچا مقام رکھتا ہے جمہوریت ہی ہمارے وطن عزیز کی خوبصورتی ہے کیونکہ دستور ہند نے ہر مذاہب، ذات برادری کے لوگوں کا احترام کیا ہے برابری کا حق دیا ہے تو سوال یہ ہے کہ جب اتنا عظیم الشان دستور موجود ہے تو اس میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی کیا ضرورت ہے لیکن بی جے پی حکومت دستور ہند کی دھجیاں اڑا کر جمہوریت کا قتل کرنا چاہتی ہے ملک کے تانے بانے کو منتشر کرنا چاہتی ہے شہریت دینے کی مخالفت نہیں ہورہی ہے بلکہ مذہب کی بنیاد پر جو شہریت دینے کا انتظام کیا جارہا ہے اسکی مخالفت ہورہی ہے کیونکہ شہریت تر میمی قانون سے ملک میں نفرت بڑھے گی اور اس نفرت میں ملک کو جلنے کا خطرہ ہے.   وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو سوچنا چاہیے کہ ووٹ دینے کا حق کس کو حاصل ہوتا ہے دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ملیگا کہ جہاں کسی قوم کو شہریت حاصل نہ ہو اور ووٹ دینے کا حق حاصل ہو یعنی ووٹ دینے کا حق اسی کو حاصل رہتا ہے جو اس ملک کا شہری ہوتا ہے تو جب آزادی کے بعد سے اب تک ہندوستان کے لوگ ووٹ دیتے آئے ہیں تو ان پر این آر سی کیوں نافذ کیاجارہاہے  کیا ووٹ دینا شہریت کا ثبوت نہیں ہے اور بی جے پی حکومت ووٹ بھی مانگتی ہے اور شہریت کا ثبوت بھی مانگتی ہے تو یہ ہٹ دھرمی نہیں تو اور کیا ہے ملک کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے اور احتجاج و مظاہروں کو طاقت کے بل پر روکا جا رہا ہے  جامعہ کے طلباء آئین ہند کے وقار کو بچانے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں جمہوریت کی خوبصورتی کو سلامت رکھنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے احتجاج کی ہر ادارے ہر خانقاہ کے لوگ کھل کر حمایت کریں شہریت تر میمی ایکٹ کے خلاف احتجاج ومظاہرے کو کسی مذہب کی عینک لگا کر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے اس کی مخالفت میں ہر مذہب کے لوگ شامل ہیں غرضیکہ ہندوستان کا ہر انصاف پسند و سیکولر مزاج انسان شہریت تر میمی قانون کی مخالفت کر رہا ہے ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ ذرائع ابلاغ جسے ہم میڈیا کہتے ہیں تو میڈیا کو ملک میں ایک بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہے بلا شبہ میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا معاشرے کی رگ جاں ہے عوام تک ایمانداری، دیانتداری اور سچائی پر مبنی جانکاری فراہم کرنا اس کا اصل مقصد ہے اور عوامی مسائل سے حکومت کو آگاہ کرنا اور پوری طرح غیر جانبدار ہونا میڈیا کے لیے ضروری ہے یعنی عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنے اور عوامی مسائل کو ابھارنے کی ذمہ داری بھی میڈیا کے فرائض میں شامل ہے لیکن  آج میڈیا بھی اپنے وقار کو بچانے میں ناکام  ہے شہریت تر میمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کو لیکر جس طرح کا کردار میڈیا چینل ادا کرہاہے وہ بہت ہی افسوسناک ہے شہریت تر میمی قانون کے سلسلے میں ہونے والے احتجاج کو ایک رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے مظاہرین کو مجرم قرار دیا جارہا ہے، اور پولیس کی بربریت کو جائز قرار دیا جارہا ہے غرضیکہ آج میڈیا کا کردار ایسا ہے کہ ان کے اوپر عوام کا اعتماد نہیں رہا ان کے اوپر سوال اٹھنے لگے ہیں اس لئے کہ چاہے جیسا بھی وقت آیا ہو لیکن میڈیا نے کبھی اپنے منہج اور کردار سے سمجھوتہ نہیں کیا تھا اور اسی بنیاد پر میڈیا کو چوتھا ستون کہا گیا ہے اور مانا گیاہے لیکن آج کی میڈیا خود اپنے کردار کو مشکوک کرتی جا رہی ہے بڑے بڑے پونجی پتیوں اور حکومت کے ہاتھوں کھلونا بنتی جا رہی ہے جبکہ انہیں غور کرنا چاہیے کہ جمہوری نظام کی عمارت میں ذرائع ابلاغ یاصحافت کا بہت اونچا مقام ہوتا ہے جس کا کام حکومت وقت کو بہتر مشورہ دینا اور معروضی محاسبہ کرکے عوامی جذبات و عوامی مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے میڈیا کو ملک کا، معاشرے کا چوتھا ستون کہاجاتا ہے یہ اپنی اہمیت تب برقرار رکھ سکتا ہے جب یہ غیر جانبدارانہ راست اختیار کرے اور حقائق سے لبریز خبریں عوام تک پہنچا ئے تبھی یہ عوامی مقبولیت حاصل کرسکتے ہیں اور ان کے اوپر عوام کا اعتماد قائم ہوسکتا ہے لیکن یہاں تو بعض اینکرز اور میڈیا ذاتی اغراض و مقاصد کے حصول کیلئے اپنا کردار مجروح کرنے کے طریقے پر عمل پیرا ہیں جس کی وجہ سے سماج کے باشعور افراد میں بیچینی ہے اور بہت سے صحافی بھی ناخوش نظر آتے ہیں یہ موجودہ وقت کی میڈیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے اب میڈیا کو عوام کا اعتماد اسی حالت میں حاصل ہوگا جب میڈیا کے لوگ اپنے ماضی کے حالات پر غور کریں اور ماضی کے حالات و طور طریقے کو اپنائیں یعنی حقائق کو اجاگر کرنا، دبے کچلے لوگوں کی آواز میں آواز ملانا، عوام کے جائز مطالبات کو فروغ دینا، کسی کے ساتھ حق تلفی ہوتو اسے روکنا، کنکر کو کنکر اور پتھر کو پتھر  لکھنا، ہر طرح کے ظلم وجبر کی مخالفت کرنا، ہرطرح کی لالچ کو ٹھوکر مارنا، عوامی مفادات کو ترجیح دینا ان چیزوں کو شیوہ بنانا ہوگا اور یہ ساری چیزیں تبھی ممکن ہیں جب نیک نیتی ہوگی سینوں میں ملک و ملت کے تئیں ہمدردی و سچائی کا جذبہ ہوگا آج کے دور میں تو میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا سے عوام کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے -
javedbharti508@gmail.com
         - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -
                       

سب تاج اچھالے جائیں گے سب تخت گرائے جائیں گے ہاں! یقیناً فیض و جالب ابھی زندہ ہیں اور سیاہ قانون کے خلاف ہماری تحریک کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔ تحریر : وزیر احمد مصباحی پریہار ،دھوریہ (بانکا)

سب تاج اچھالے جائیں گے سب تخت گرائے جائیں گے

ہاں! یقیناً فیض و جالب ابھی زندہ ہیں اور سیاہ قانون کے خلاف ہماری تحریک کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔

تحریر : وزیر احمد مصباحی
       پریہار ،دھوریہ (بانکا)
رابطہ نمبر : 6394421415
Wazirmisbahi87@gmail.com

        جی ہاں! آپ سے یہ کس نے کہ دیا کہ شاعری انقلاب برپا نہیں کرتی، وہ اجڑے دیار میں بہار نہیں لا سکتی؟ اور __آپ تو یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ شعری خیالات محض محبوبہ و معشوقہ ہی کی سرو قد جسامت، ہرنیوں جیسی آنکھیں، کالی گھٹاؤں جیسی سیاہ زلفوں کے ارد گرد گھومتی اور انھیں سب فضولیات کے دامن میں بڑھتی و جوان ہوتی رہتی ہے. نہیں! ۔۔۔ہرگز نہیں ۔۔۔ایسا نہیں ہے میرے بھائیوں! یہ ساری باتیں صرف بناوٹی ہے، حقیقت سے اس کا دور دور تک کا بھی واسطہ نہیں ہے. بلکہ اعلی و ارفع شاعری تو بلند خیالی کی متقاضی ہوا کرتی ہے، ایک جہاں دیدہ نگاہ اور سنجیدہ مزاج طبیعت ہی کی دوش پر انقلاب جنم لیتا ہے. عقابی نگاہ جیسے خوبصورت وصف سے ایک انقلابی شاعری کو متصف ہونا بہت ضروری ہوتا ہے. جی ہاں! یہ کوئی ہوائی فائرنگ نہیں ہے، ورنہ تو آج ہر ایرے غیروں کے اشعار بھی انقلابی کہے جانے کی مستحق ہوتیں. بلند خیالی، زمانے کی ہم آہنگی، حالات کے نشیب و فراز میں بھی الفاظ کے زیر و بم میں غضب کی قوت و تاثیر، لفظوں کی درست نشست و برخاست اور ان سب چیزوں سے بڑھ کر اس میں حاکم وقت کو سامنے رکھ کر کہیں سے بھی خوف و ہراس و اختصاص و چاپلوسی کے عناصر داخل نہ ہونے دینے اور دیوار زنداں و ظلم و ستم کے کوہ گراں کی فکر و پرواہ کیے بغیر حالات کی خاطر خواہ عکاسی کرنا ہی انقلاب کی گہری علامت ہوا کرتی ہے. اور پھر وقت آنے پر اسی نوعیت کے نظم زبان زد خاص و عام ہو جایا کرتے ہیں. پڑھے لکھے لوگ اسے عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے اور شوق و ذوق سے پڑھتے ہیں. ساتھ ہی مظلوموں کی ہمت و حوصلہ بندھانے میں بھی اس طرح کی نظمیں اہم رول ادا کرتی ہیں۔
        کچھ اسی نوعیت کے ایک دو نظم فی الوقت حالیہ پاس شدہ سیاہ قانون : این آر سی، سی اے اے، سی اے بی اور این پی آر کے خلاف مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا بڑی شد و مد کے ساتھ خوبصورت لے میں بطورِ احتجاج  گنگنا رہے ہیں. اس میں مشہور انقلابی شاعر فیض احمد فیض (1911_1984)کی انتہائی مقبول ترین نظم "لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے" اور حبیب جالب( 1928_1993) کی نظم "ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا" بڑی زور و شور کے ساتھ زبان زد عام و خاص ہیں. بہترین سوز دل کے ساتھ لوگ اس جابرانہ حکومت کے برخلاف بڑھتے ظلم کے تحت گنگنا رہے ہیں. در اصل اگر آپ ان دونوں متذکرہ بالا نظموں کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کے وجود میں آنے کا پس منظر بھی معاشرتی انصافیوں کے سر اوپر بڑھتے ظلم و ستم کا طاغوتی پنجہ ہے. حبیب جالب نے اپنی نظم " ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا" اس وقت تحریر کیا تھا جب پاکستان میں ایوب خان نے اپنے دور حکومت میں ایک نیا آئین بنا کر پاکستان کو دو صوبوں (مغربی پاکستان و مشرقی پاکستان) تقسیم کر دیا تھا. جس مشاعرہ میں حبیب جالب نے یہ کلام پہلی مرتبہ پڑھا تھا، اس کی صدارت مغربی پاکستان اسمبلی کے سپیکر کر رہے تھے. سپیکر کی موجودگی میں جب یہ نظم پڑھی گئی تو وہ حکومت وقت کے خوف سے لرزہ براندام ہو گیے اور حبیب جالب کو یہ انقلابی نظم پڑھنے سے منع کر دیا۔ مگر حبیب جالب نے ایسے وقت میں بھی بغیر کسی خوف کے پوری نظم پڑھ کر سامعین کے دلوں کو جیت لیا. اب کیا تھا؛ اس کے بعد سے ہی اس نظم کو ظلم و ستم کے وقت گنگنائے جانے کے حوالے سے نشان امتیاز حاصل ہو گیا.
       اسی طرح فیض کی نظم "لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے" بھی فیض احمد فیض نے اس وقت لکھی جب 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو حکومت سے بے دخل کر کے مارشل لا نافذ کر دیا اور خود 1978 میں ملک کے صدر اعظم بن بیٹھے۔ مگر ۔۔۔ یہ حقیقت ہے کہ جب سماج و معاشرے میں ظلم و ستم سر چڑھ کر بولنے لگ جاتے ہیں، ملک، حکومت کی نااہلی کی بنیاد پر دیوالیہ پن کا شکار ہو جاتا ہے اور ہر طرف معاش و معیشت سست پڑ جانے لگتی ہے تو یہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسے نازک وقت میں سنجیدہ طبیعتیں اور انقلابی ہستیاں خاموش نہیں بیٹھتی ہیں، بلکہ وہ ایسی حکومتی منشور کے خلاف اس کی نااہلیوں کے سارے تانے بانے عوامی عدالت میں کھول دیتے ہیں تا کہ ساری حقیقتیں دو دو چار کی طرح واشگاف ہو جائیں. ہاں! اس جہت میں شاعرانہ طبیعتیں تو کمال کا انقلاب پیدا کرتی ہیں. آپ جنرل ضیاء الحق اور ایوب خان کے زمانے ہی کو دیکھ لیں کہ کیسے دو انقلابی ذات یعنی فیض احمد فیض اور حبیب جالب نے اپنے بلند پایہ بامعنی اشعار سے حکومتی کارندوں کے یہاں تخت و تاج چھن جانے کے حوالے سے دہشت پیدا کر دیا. کتابوں میں اس بات کا تذکرہ ملتا ہے کہ حبیب جالب کو کئی ایک دفع حکومت کے خلاف شاعری کرنے پر جیل خانے کی ہوا بھی کھانی پڑی، ۔۔۔مگر آپ تو وہ انقلابی دستور رکھتے تھے کہ جس نے کبھی بھی آپ کے پائے ثبات میں توقف کی کوئی بیڑیاں تک نہیں لگنے دی.
        آج جب کہ وطن عزیز میں حکومتی ایجنڈے ہر محاذ پر ناکام ہو چکے ہیں، بی جے پی حکومت اپنے وعدوں پہ وعدے کرنے کی بہترین چال کے سہارے تمام باشندوں کو تھپکیاں دینے کا کام کر رہی ہے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے و ایک سو تیس کروڑ باشندگان وطن کی توجہ مبذول کرانے کے لیے پے در پے سیاہ قانون لا رہے ہیں ۔۔۔ پڑھے لکھے افراد اگر آواز اٹھانے کے لیے فیض و جالب کی یہی انقلابی نظم گنگنا رہے ہیں تو ان سنگھیوں کو پیٹ میں بھیانک درد ہونا شروع ہو گیا ہے. اس وقت ملک کی عوام احتجاج کے ہر وہ طریقے اپنا رہے ہیں، جو حکومت کو بیدار کرنے میں کامیاب ہو جائے اور وہ مذہب و ذات پات کے نام پر باٹنے والا سیاہ قانون واپس لے لے. در اصل حقیقت یہ ہے کہ حکومت برابر نصف ماہ سے ان مظاہروں کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے تا کہ احتجاجات و مظاہرے ہندو بنام مسلم ہو جائے اور ہماری سیاسی روٹی تیار ہو جائے . آج فیض کی انقلابی نظم کے یہ چند اشعار " جب ارض خدا کے کعبے سے سب بت اٹھوائے جائیں گے، ہم اہل صفا مردود حرم مسند پہ بٹھائے جائیں گے، سب تاج اچھالے جائیں گے سب تخت گرائے جائیں گے" کو ہندو مخالف گردان رہے ہیں. ابھی کچھ دنوں قبل ہندوستان کا ایک باوقار تعلیمی ادارہ "آئی آئی ٹی _کانپور" کے چند طلبا نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف فیض کی یہی مذکورہ نظم پڑھی تھی ۔۔۔مگر اسے سن کر اسی ادارہ کے ایک پروفیسر نے یہ کہ کر ان پر شکایت درج کر دی کہ یہ ہندو مخالف نظم ہے. اور پھر دیکھتے ہی ذمہ داران ادارہ نے بھی اس کے پیمائش کے لیے ایک تفتیشی کمیٹی کی تشکیل کر ڈالی کہ آیا یہ نظم ہندو مخالف ہے یا نہیں؟ جب کہ یہ بات بخوبی روشن ہے کہ شاعرانہ تخیلات کے نشیب و فراز اور اس میں پنہاں حقیقی معانی و مطالب بہتر طور پر ایک وہی شخص بتا سکتا ہے جو اس فن میں تجربہ کار ہو. شاید یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز ہی کے ایک معروف شاعر منور رانا نے کہا کہ :" ہم آئی آئی ٹی کو شاعری کا فیصلہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے" ۔ اسی طرح شہرت یافتہ ہندوستانی تاریخ داں جناب عرفان حبیب نے بھی اس پورے معاملے کو مضحکہ خیز بتاتے ہوئے کہا کہ :" فیض کی نظم میں" انا الحق " مطلب تو" میں خدا ہوں " ہے تو اس سے تو پاکستان کے مسلمانوں کو اعتراض نہیں ہوا ۔لیکن آپ کو اعتراض اس بات پہ ہوا کہ کعبہ سے بت اٹھائے گیے، کیا کعبہ میں جو بت تھے وہ ہندو تھے؟ اس جملے سے ہندوازم کا کیا مطلب ہے؟ یہ سب بیکار کی باتیں ہیں،سیاست ہر چیز کو فرقہ وارانہ رنگ میں رنگ رہی ہے "۔
       میرے بھائیوں! اس پورے معاملات کے تناظر میں ایک درد ناک سوال یہ ابھرتا ہے کہ آخر ایک پروفیسر کی ڈگری رکھنے والا شخص اس طرح کی بےتکی باتیں کر کے خود اپنے اوپر دوسروں کو ہنسنے کا موقع کیوں کر فراہم کر سکتا ہے؟ اس ضمن میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معترضین محض شعر کی ظاہری شکل و صورت یعنی اس کی تشبیہات و استعارات اور اشارات و کنایات پر واقفیت حاصل کیے بغیر سوال قائم کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے اشعار پہ تو کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ خود الٹا اس شخص ہی کی اچھی خاصی کھینچائی ہو جاتی ہے... اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا یہی قوی وجہ یہاں بھی تو نہیں؟ اب جب کہ بی جے پی حکومت کو اپنے اوپر گرہن لگتا ہوا دکھ رہا ہے اور سروں پر بجلیوں کے کڑکنے کی آوازیں بھی سنائی دینے لگی ہے تو وہ اپنی جان کی امان پانے کے لیے اندھ بھکتوں کے سہارے فیض جیسی بلند ذات پر کیچڑ اچھلوا کر مذہبی منافرت کا گھناؤنا کھیل کھیلنا چاہتی ہے،حالانکہ فیض ایک سیکولر مزاج طبیعت کے مالک تھے اور انھوں نے جنرل ضیاء الحق کے مذہب کو سامنے رکھ کر اشعار قلمبند کیے تھے کہ تم اللہ کریم سے ڈر کھاؤ! آخر اس قدر ظلم و ستم خلق خدا پر کیوں ڈھا رہے ہو؟ سچ پوچھیں تو اس وقت فیض احمد فیض اور حبیب جالب کے گراں قدر اشعار نے اہل حکم کو جس جرأت و ہمت کے ساتھ للکارا ہے وہ اس بات کی روشن نشانی ہے کہ اگر خلوص دل کے ساتھ سماجی و معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف قلم کو حرکت دیا جائے تو اس سے نکلنے والی روشنائی اپنے اندر برسوں تک انقلاب لانے کی طاقت رکھتی ہے. کیا ایسا نہیں لگتا ہے کہ اس وقت فیض و جالب بھی اس سیاہ قانون کے خلاف ہمارے ساتھ ساتھ ہیں، اپنے اشعار کے ذریعے ہماری ہمت و حوصلہ بندھانے کا کام کر رہے ہیں، وہ بھی روحانی طور پر ہماری اس تحریک کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور بہت جلد ہی وہ ایک زبردست انقلاب لا کر حسین سحر سے ہماری ملاقات کروانے والے ہیں؟ ۔۔۔اگرچہ یہ اندھ بھکت آر ایس ایس کی چڈی پہن کر آسمان ہی سر پر کیوں نہ اٹھا لیں؟ میرا ایقان یہ کہتا ہے کہ ضرور فیض و جالب اپنے شعری تخیلات اور انقلابی نظم کے سانچے میں ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گے. بس ہمیں اور آپ کو سمجھنے اور انھیں پڑھنے کی ضرورت ہے. اگر ہم ان جیسی عظیم ہستیوں کو نہیں پڑھیں گے تو شاید نقصان ہمارا ہی ہوگا. اس موقع پر میں حیدر رضا مصباحی کا یہ پیراگراف ضرور ذکر کرنا چاہوں گا، جس میں انھوں نے آر ایس ایسی و اندھ بھکتی نظریات کے حوالے سے بڑی اچھی بات کہی اور زبردست بیانیہ پیش کیا ہے. آپ لکھتے ہیں :" بات یہ ہے کہ جو سماج" رنکیا کے پاپا " والے منوج تیواری اور" دلوں کے شوٹر ہے میرا سکوٹر " والی ڈھنچک پوجا جیسے لوگوں تک کو اسٹار (Star) بنا دیتا ہو، اس سے فیض و جالب جیسے عظیم شاعر کے کلام سمجھنے کی امید پالنا، اپنے آپ کو دھوکے میں رکھنے کے مترادف ہے" ۔

Sunday, 5 January 2020

احتجاج کر رہے طلباء کے قدم سے قدم ملائیے ذوالقرنین احمد

احتجاج کر رہے طلباء کے قدم سے قدم ملائیے

ذوالقرنین احمد

کچھ دیر پہلے خبر آئی کہ جے این یو میں اے بی وی پی کے گنڈوں نے گھس کر احتجاج کر رہے طلبہ پر حملہ کیا ہے۔ جس میں بھاری راڈ کا استعمال کیا گیا ہے۔ طلباء و طالبات شدید زخمی ہوئے ہیں۔ پر امن احتجاج بھی ان فرقہ پرستوں کو برداشت نہیں ہورہا ہے۔ جو طلباء ملک‌ کے دستور کی حفاظت کیلے ملک کی عوام کے حقوق کی حفاظت کیلے کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ جمہوری انداز میں اپنے حقوق کا دفاع کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی غلط قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ لیکن فرقہ پرست حکومت کے اشارے پر اب ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حکومت یہ برداشت نہیں ہورہا ہے کہ تمام انصاف پسند اور سیکولر عوام متحد ہوکر موجودہ حکومت کو ملک کا حالات کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔ اور ملک کے سسٹم کو کھوکھلا کرنے کیلئے بھی یہ فرقہ پرست عناصر ذمہ‌دار ہے۔ حکومت پچھلے ساڑھے پانچ سالوں کے دور اقتدار میں ہوئے خسارے کو چھپانے اور عوام کا دھیان منتشر کرنے کیلے عجیب و غریب قانون لے کر آرہی ہے۔ جس سے ملک کے ایک بڑے طبقے کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور‌ انہیں پھر سے طبقاتی نظام اور اونچ نیچ والے نظام کی طرف لے کر جارہی ہے ۔ جس میں ایک خاص طبقے کو ہی تمام حقوق حاصل ہوگے باقی عوام کو غلامی کے زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انگریزوں کی تکی طرح  ایک پھر غلامی میں دھکیلنے کی طرف لے جایا جارہا ہے۔ ضرورت ہے کہ عوام کھل کر دو ٹوک الفاظ میں حکومت کی نا انصافیوں اور ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔ اور اپنے حقوق کے تحفظ کیلے آج ہی اقدامات کریں جو لوگ کچھ کر رہے ہیں انکے قدم سے قدم ملائیے ، انکے ساتھ کھڑے ہوجایے، انکی ہر ممکن مدد کیجئے۔ اب یہ وقت پیچھے ہٹنے کا نہین ہے۔ ظلم و جبر حد سے تجاوز کر رہا ہے۔
ظالم بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلے گنڈوں کا استعمال کرکے انصاف پسند عوام کو منشر کر رہا ہے۔ تاکہ ان کے اقتدار پر کوئی آنچ نا آنے پائے۔ لیکن اب عوام جاگ چکی ہے۔ ملک کی معیشت کمزور ہوتی جارہی ہے۔ اور یہ حکومت الجھانے میں لگی ہوئی ہے۔ لیکن یہ زیادہ دیر تماشہ نہیں چلے گا  ظلم جب حد سے گزرتا ہے فنا‌ ہوتا ہے۔

جامعہ ملیہ میں چوبیسویں دن بھی احتجاج جاری ڈاکٹرمحمد جاوید،پروفیسر گورو ولبھ ، پروفیسر حامد علوی ، پروفیسر منندرا ٹھاکر،داکٹربصیر احمد خان،ایڈوکیٹ بھانو پرتاب سنگھ اور پروفیسر اخلاق آہن سمیت متعدد شخصیتوں کا خطاب،

جامعہ ملیہ میں چوبیسویں دن بھی احتجاج جاری
ڈاکٹرمحمد جاوید،پروفیسر گورو ولبھ ، پروفیسر حامد علوی ، پروفیسر منندرا ٹھاکر،داکٹربصیر احمد خان،ایڈوکیٹ بھانو پرتاب سنگھ اور پروفیسر اخلاق آہن سمیت متعدد شخصیتوں کا خطاب،
نئی دہلی-6/جنوری: (جامعہ کیمپس سے محمد علم اللہ کی رپورٹ ) این آر سی، سی اے اے اور این پی آر کے خلاف گذشتہ چوبیس دنوں سے جاری احتجاج آج بھی انتہائی جوش و خروش کے ساتھ جاری رہا۔ اتوار کی وجہ سے عام دنوں کے مقابلے آج لوگوں کا بڑا اژدہام دیکھا گیا ، جس میں مرد و خواتین کے ساتھ ساتھ نوجوان ، بچوں اور بچیوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ احتجاج کے دوران کسی بھی قسم کا نا خوشگوار واقعہ نہ ہو اس کے لئے جامعہ کے طلبا رضاکاروں کی شکل میں اپنی اپنی ذمہ داریوں میں مصروف نظر آئے جس کی وجہ سے ٹریفک اور دیگر آمد و رفت معمول کے مطابق رہی ۔اس موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 100 ویں سال میں داخل ہونے کی مناسبت سے جامعہ کے طلبانے انوکھے انداز میں جامعہ کی تاریخ سے لوگوں کو روشناس کرانے کے لیے جامعہ کے اکابرین اور مجاہدین آزادی کی تصاویر آویزاں کیں ، جن میں علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے لیکر جامعہ کے دہلی تک کے سفر کو درشانے کی کوشش کی گئی، اس کا اہتمام جامعہ کو آر ڈینیشن کمیٹی کے ممبران نے کیا تھا ۔ 15 دسمبر 2019 کو احتجاج کے دوران کیمپس میں دہلی پولس کے ذریعے غیر قانونی طور پر داخل ہو کر لائبریری اور مسجد میں توڑ پھوڑ اور جامعہ کے طلبا کو تشدد کا نشانہ بنانے نیز ان کے اوپر ظلم و بربریت کا جو رویہ اپنا گیا تھا اس کو بھی تصویری شکل میں دکھانے کی کوشش کی گئی۔ یہ تصاویر سیکڑوں کی تعداد میں گیٹ نمبر 7 سے ڈاکٹر ذاکر حسین کے مقبرے تک لگائی گئی تھیں۔
آج جامعہ اسکول سمیت آس پاس کے متعدد اسکولوں کے طلبا اور طالبات بھی اس احتجاج میں موجود تھے۔ یہ بچے اپنے چہرے اور پیشانی پر ترنگا کا نشان بنائے ہوئے تھے ۔ جامعہ کی دیواروں اور گیلریوں میں ترنگا لہرا دیا گیا تھا ، تقریبا ایک کیلو میٹرکے طویل علاقہ میں ترنگا کی یہ سیریز سبھی کو اپنی جانب راغب کررہی تھی، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے آزادی کے دیوانے کسی نئی صبح کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔ احتجاج میں مقامی لوگوں کی جانب سے چائے ناشتے کا بھرپور انتظام کیا گیا تھا ، آج کے اس احتجاج میں اسٹریٹ لائبریری کے ساتھ ساتھ بھوک ہڑتال بھی جا ری رہا جس میں پانچ طلبا تقریبا پانچ دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ فائن آرٹ کے طلباکی جانب سے آرٹ اور کرافٹ کے لئے جگہ مختص تھی جس میں اپنے اپنے انداز میں فن کار آرٹ بنا کر شہریتی ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کرتے اور پوسٹر بناتے نظر آئے ۔  آج کے اس احتجاج میں ایم پی کشن گنج ڈاکٹر محمد جاوید ، سبکدوش آئی اے ایس انیس انصاری ، پی ایچ ڈی اسکالر حیدر آفاق ، پروفیسر گورو ولبھ ، پروفیسر حامد علوی ، پروفیسر منندرا ٹھاکر ، سماجی کارکن اسد اشرف ،اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر بصیر احمد خان ، ایڈوکیٹ بھانو پرتاب سنگھ اور پروفیسر اخلاق آہن شامل تھے ۔ کانگریس کے  ترجمان ، اقتصادی تجزیہ کار گورو ولبھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ لوگ اپنا مارک شیٹ تو دکھا نہیں  پا رہے ہیں اور ہم سے امید ہے کہ ہم 1971 کے کاغذ دکھائیں، حکومت کے ذریعے  سی اے اے کی حمایت میں چلائی گئی مسڈ کال  مہم پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہے جب قانون بننے کے بعد کوئی سرکار اسکی حمایت میں ریلیاں کر رہی اورمسڈکال مہم چلارہی ہے۔پی ایچ ڈی اسکالر آفاق حیدر نے کہا کہ حکومت کے پاس ٹیلی ویژن ہے مگر ویژن نہیں اور اسی وجہ سے حکومت اپنے کالے کرتوتوں کو چھپانے کے لئے ٹیلی وژن کا استعمال کر رہی ہے۔ جامعہ کیمپس کے اندر‌ گھس کر دلی پولس  کے ذریعے  کئے گیے ظلم و تشدد پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری یونیورسٹی میں جو توڑ پھوڑ ہوئی ہے،اسکا ہرجانہ کون دیگا۔ کیا اسکی بھرپائی امت شاہ یا دلی پولس کمشنر کریں گے؟ کارواں کے بانی اسد اشرف نے کہا کہ  سیاسی پارٹیوں کے اوپر مت جائیے۔ یہ لڑائی ہمارے وجود کی لڑائی ہے کیونکہ سرکار ہمیں توڑنا چاہتی ہے۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ  ملک میں کوئی ڈٹینشن کیمپ نہیں ہے جبکہ پورے ملک میں ایک نہیں کئی ڈٹینشن سینٹر ہونے کے ثبوت موجود ہیں ۔ انہوں نے جامعہ کو آرڈنیشن کمیٹی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی تب تک چلنی چاہیے جب تک یہ قانون واپس نہیں لے لیا جاتا۔

اقتدار حکومت کا گنڈا راج ذوالقرنین احمد

اقتدار حکومت کا  گنڈا راج

ذوالقرنین احمد

جس طرح فلموں میں کسی شہر یا گاؤں میں گنڈوں کا راج دیکھایا جاتا ہے اور عوام کو اس غلامی کا احساس دلانے کیلے جو شخص آگے آتا ہے وہ ہیرو کہلاتا ہے۔ اور پھر تمام گنڈے اس کے دشمن بن جاتے ہیں کیونکہ وہ عوام کے شعور کو بیدار کرنے کا کام کرتا ہے۔ اور پھر ہیرو کی غیر موجودگی مین آکر یہ گنڈے اپنے دبدبہ کو قائم رکھنے کیلے تباہی مچاتے ہیں۔ کسی بے قصور کی جان لے لیتے ہیں۔ تاکہ انکا خوف عوام سے ختم نا ہوجائے۔ اسی طرح کی صورتحال آج ملک بھر میں خصوصا یوپی کا گنڈا راج نافذ ہوچکا ہے۔ جو حق بولنے والے ہیں اور جو عوام میں بلا مذہبی تفریق کے قومی اور ملکی مفاد کو دیکھتے ہوئے متحد ہوکر آئین ہند کی حفاظت کیلے سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔ انکے خلاف حکومت وقت ظلم و تشدد اور بدترین جبر کر رہی ہیں۔ انہیں پابند سلاسل کیا جارہا ہے۔ تاکہ جو معاشرے کے زندہ دل افراد ہیں کہی انکے زریعے عوام کے دلوں سے انکا خوف ختم نا ہوجائے۔ اور اب حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر اتر چکی ہے۔ جو اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ اور کالے قانون کیخلاف  احتجاج کر رہی عوام کیخلاف حکومت اتر چکی ہے۔ جو ایسی اسی پالیسی اختیار کر رہی ہے۔ جسے گنڈا راج ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس حکومت میں جمہوریت کو ہی کسی کونے میں اٹھا کر رکھ دیا ہے۔ صرف یوم جمہوریہ اور یوم آزادی پر ہی یاد کیا جاتا ہے۔

کل جماعتی تنظیم بلڈانہ کا NPR ,CAA, NRC کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان بلڈانہ ۵ جنوری ذوالقرنین احمد

کل جماعتی تنظیم بلڈانہ کا  NPR ,CAA, NRC کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان

بلڈانہ ۵ جنوری
ذوالقرنین احمد

موجودہ حکومت کے ظالمانہ و غیر انسانی قانون سازی  کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں شہریت ترمیمی قانون کو دونوں ایوانوں میں پاس کرنے کے بعد اور صدر جمہوریہ کی دستخط کے بعد قانونی شکل دے دی گئی۔ اسکے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء نے اپنی  ملی غیرت و حمیت اور ملک و آئین سے محبت کا ثبوت پیش کرتے ہوئے زبردست احتجاج درج کیا۔ اقتدار جماعت کی ہٹلر شاہی کے خلاف اب ہندوستان کی تمام انصاف پسند عوام متحد ہوچکی ہیں۔ اسی ضمن میں کالے قانون کے خلاف بلڈانہ ضلع میں گزشتہ مہینے کل جماعتی تنظیم کا‌ قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ آج بتاریخ ۵ جنوری  بروز اتوار بمقام‌ مرکز مسجد پارپیٹھ ملکاپور میں کل جماعتی تنظیم کے تحت محترم مولوی سلطان صاحب  کی صدارت میں  میٹنگ منعقد کی گئی میٹنگ کی ابتدا حافظ مجاہد قریشی صاحب کی تذکیر سے ہوئی۔ اس میٹنگ میں این پی آر اور این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف کیا کرنا چاہیے اس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اور سبھی کی رائے سے فیصلے کیے گئے۔   جس میں سپریم کورٹ میں 10 جنوری تک رٹ پٹیشن داخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔  اسی طرح NPR /NRC /CAA  کے تعلق سے اس بات پر اتفاق ظاہر کیا گیا کہ کوئی بھی مسلمان این پی آر میں نام درج نہیں کرائے گا اور کوئی کسی بھی قسم کا دستاویز جمع نہیں کرائیں گے باتفاق رائے یہ بھی طئے پایا کہ تمام اراکین کو اس بات کا پابند بنایا گیا کہ وہ این پی آر میں نام درج نہیں کرائیں گے اور نا ہی کسی قسم کے دستاویزات دیکھائے گے اور اپنی اپنی تحریک اور تنظیم کے صوبائی صدور کو اور قومی صدور کو اس متفقہ فیصلہ کے متعلق مکتوب روانہ کرنے  اور اپنے اس فیصلے سے آگاہ کرنے کیلے کہا گیا۔اسی طرح بلڈانہ ضلع کے تمام تعلقوں میں کل جماعتی تنظیم کا قیام عمل میں لانے کیلے مرکزی کمیٹی کے ذمہ دران کو ذمہ داری دی گئیں ہے کہ جلد سے جلد اپنے اپنے تعلقہ میں کمیٹی تشکیل دے۔ ملت میں جاری بے چینی کو دور کرنے اور غلط فہمیاں دور کرنے کیلے پامفلیٹ تقسیم کیے جائیں گے۔ اسی طرح احتجاج کو عالمی سطح پر پہچانے کیلے نوجوانوں کو ٹوئٹر کے استعمال سے متعارف کروانے کیلے مہم چلائی جائیں گی۔ تمام ائمہ اکرام سے قنوت نازلہ پڑھنے اور گھروں میں خواتین سے ذکر و اذکار کی تلقین کرنے کی اپیل کی گئیں۔ تمام اراکین کے متفقہ رائے سے ڈاکٹر یسین صاحب کو تنظیم کا کارگزار صدر منتخب کیا گیا۔  آئندہ کل جماعتی تنظیم بلڈانہ کی میٹنگ ناندورہ ضلع بلڈانہ میں 20 جنوری کو طئے کی گئ۔