اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 1 February 2020

گوڈسے سے گوپال تک نازش ہما قاسمی

گوڈسے سے گوپال تک
نازش ہما قاسمی
گوڈسے سے گوپال تک ۔۔۔دہشت گردوں کا ایک ہی ٹولہ۔۔۔ملک مخالف گروہ کا ایک ہی مقصد ۔۔۔امن کے پجاریوں کو مارنا ۔۔۔۳۰ جنوری ۱۹۴۸ کو گاندھی  جی کا قتل کیاگیا اور ۷۲ سال بعد ۳۰ جنوری ۲۰۲۰ کو گاندھی جی کے ماننے والوں کے قتل کی کوشش کی گئی۔ گوڈسے مرا نہیں وہ زندہ ہے ، اس کی فکر زندہ ہے اور جب تک اس فکر کو پھانسی نہیں دی جائے گی ، ملک میں گاندھی کا قتل ہوتا رہے گا؛ لیکن اس فکر کو پھانسی کون دے گا جو اقتدار میں ہیں وہ سر عام نعرہ لگا رہے ہیں "دیش کے غداروں کو، گولی مارو۔۔۔۔۔۔کو" پھر کیسے اس ذہنیت کا خاتمہ ہوگا، کیسے گوڈسے کی فکر کا قتل کیا جائے گا؟ جب اس طرح کے نعرے لگائے جائیں گے کھلے عام نفرت بانٹی جائے گی وہ جن کے آباء و اجداد نے خون جگر سے اس ملک کی آبیاری کی انکو غدار سمجھا جائے گا اور وہ جنہوں نے انگریزوں کی مخبری کی وہ محب وطن ٹھہریں گے تو پھر کیسے اس سوچ کا خاتمہ ہوگا کیسے ملک میں نفرت ختم ہوگی ؟ اب تو یہ مزید بڑھے گی اگر اسی دن جس دن گوڈسے نامی دہشت گرد نے باپو کا قتل کیا تھا اس کے حامیوں سمیت اس کو پھانسی دی گئی ہوتی، اس سوچ کا قتل کردیا گیا ہوتا، وہ پارٹی جو اسے سپورٹ کررہی تھی اس کا خاتمہ کردیا جاتا تو شاید آج کوئی یونیورسٹی کا طالب علم بندوق کے دہانے پر نہ کھڑا ہوتا، بندوق کا نشانہ نہ بنتا، زخمی نہ ہوتا؛ لیکن اس ملک میں یہ ناممکن ہے جہاں انصاف کے پیمانے دوہرے ہوں، جہاں نظریات و افکار شخصیات دیکھ کر ، مذہب دیکھ کر بدل دی جاتی ہوں وہاں یہ سب نہیں ہوسکتا۔ آپ نے گوپال نامی بجرنگ دل کے ہندو دہشت گرد کو گولی چلاتے ہوئے دیکھا تھا آپ نے اندازہ لگایا ہوگا کہ کس طرح پولس وہاں خاموش تماشائی کا کردار نبھا رہی ہے ہاتھ پر ہاتھ دھرے کھڑی ہے اور لاشوں کے گرنے کی منتظر ہے اگر اسی گوپال کی جگہ کوئی کمال ہوتا مظاہرین کی بھیڑ جامعہ کے طلبہ کے علاوہ خالص ہندو بھیڑ ہوتی تو آپ سوچ سکتے ہیں نظارہ کیا ہوتا ! کیا پولس اسی طرح کھڑی رہتی یا انکاونٹر کردیا جاتا۔
ملک کی تاریخ گواہ ہے دہشت گردوں کا ٹولہ یہی گوڈسے فکر کے حامل افراد رہے ہیں،  دہشت گردی کے الزام میں بے قصور اور معصوم مسلمانوں کو پھنسایا گیا، نفرت کی وہ بیج بوئی گئی کہ اگر قوم مسلم کے علاوہ کوئی اور قوم ہوتی تو وجود مٹ چکا ہوتا مسجد میں دھماکہ ہوا نمازی شہید ہوئے پھر بھی مجرم مسلمان بنائے گئے۔  درگاہ میں دھماکہ ہوا مسلمان جاں بحق ہوئے پھر بھی مجرم مسلمان بنائے گئے ، قبرستان میں دھماکہ ہوا قبروں کی بے حرمتی ہوئی مسلمان جان سے گئے پھر بھی الزام ان پر ہی ڈالا گیا۔  آنجہانی کرکرے نے سب سے پہلے ہندو دہشت گردی کو متعارف کرایا اور اس کے پیچھے چھپے چہروں کو بے نقاب کرنا شروع کیا ہی تھا کہ انہیں بھی شہادت کے رتبے پر پہنچا دیا گیا۔ لیکن دنیا کو معلوم ہوچکا تھا کہ دہشت گرد کون ہے؟  کون ملک میں فساد مچاتا ہے ، کون سرعام قبر سے لاش نکال کر عصمت دری کرنے کی دھمکی دیتا ہے ، گجرات میں مسلمانوں کا قاتل کون ہے ، جج لویا کو کس نے مروایا؟ نجیب کو کس نے غائب کیا، گوری لنکیش کیوں قتل ہوئی ، دابھولکر کیوں بھونے گئے ، پنسارے کو کس نے مارا۔۔۔۔سبھی کے پیچھے اسی شدت پسند دہشت گرد گروہ کا ہاتھ ہے جو گوڈسے حامی ہے۔  کل ہی گوڈسے کی ناجائز اولاد نے جامعہ کے طالب علم پر حملہ کیا اور آج ہی اسے اعزاواکرام سے نوازنے کا شدت پسندت تنظیم کی طرف سے اعلان کردیا گیا۔ مودی جی گوپال نامی دہشت گرد کو کپڑے سے نہیں پہچانیں گے؛ کیوں کہ وہ ان کی ہی فکر کا ماننے والا ہے ان کی فکر اس لیے کہا کہ ان ہی کی پارٹی میں گوڈسے کو محب وطن ٹھہرانے والی مالیگاوں بم بلاسٹ کی ملزمہ سادھوی پرگیہ ہے جس نے کہا تھا کہ میرے شراپ سے ’کرکرے ‘مر گیا جس نے ایک شہید کی توہین کی، جو سر عام گوڈسے کو محب وطن قرار دیتی ہے اسے رول ماڈل بناتی ہے وہ ممبر پارلیمنٹ ہے اس سے زیادہ بدقسمتی کی بات اور کیا ہوگی کہ ایک دہشت گردانہ دھماکے کی ملزمہ قانون ساز اسمبلی کی رکن ہو اس سے زیادہ بدقسمتی کی بات ملک کے لیے کیا ہوگی کہ ایک اہم عہدیدار سر عام گولی مارنے کا حکم دیتا ہو ،اب کیا خیر کی امید لگائی جاسکتی ہے اب کچھ نہیں بچا جہاں چھوٹے چھوٹے بچوں کے ذہن و دماغ میں مسلمانوں سے نفرت ، گاندھی جی کے افکاروخیالات سے نفرت اور گوڈسے ساورکر گوروگوالکر سے محبت بٹھائی جائے وہاں یہی سب ہونا ہے اب یہ سلسلہ رکنے والا نہیں دیش کے غداروں کو گولی مارو ۔۔۔۔کو کا سلسلہ اب گوڈسے وادی سرعام جسے چاہیں گے گولی ماریں گے جسے چاہیں گے موت کے گھاٹ اتاریں گے؛ کیونکہ انہیں حکومت اور گودی میڈیا کا مکمل تعاون حاصل ہے وہ مظاہرین سے نپٹنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں؛ اس لیے سیکولرازم پسند ملک کے عوام سے گزارش ہے کہ وہ چوکنا رہیں اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں، گاندھی جی کے افکارونظریات پر ملک کو لیجانے کی ہر ممکن کوشش کریں، نفرت کے پجاریوں کو قانون کے دائرے میں رہ کر انجام تک پہنچائیں، آپ کی کامیاب تحریک سے فرقہ پرست بوکھلاہٹ کے شکار ہیں آپ کے نعرہ آزادی سے ان کے خیموں میں ہلچل ہے اب آپ پوری شدت سے نعرہ لگائیں "دیش کے غداروں کو پھانسی دو گوڈسے والوں کو" اور ملک کے سیکولر کردار کی حفاظت کریں خاموش نہیں بیٹھیں پوری شدت سے اٹھیں اور ملک کو فرقہ پرستوں سے آزادی دلائیں۔

جامعہ ملیہ کے طلباء پر بزدلانہ حملہ حکومت اور پولس کی ملی بھگت کا نتیجہ : منصور خان

جامعہ ملیہ کے طلباء پر بزدلانہ حملہ حکومت اور پولس کی ملی بھگت کا نتیجہ  : منصور خان

پولس کی موجودگی میں جامعہ ملیہ  کے طلبہ پر  ہوئی فائرنگ کی شدید مذمت، حکومت اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے ہورہے ہیں ایسے واقعات

  بارہ بنکی، 02/فروری2020 آئی این اے نیوز
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مارچ کرنے والے طلباء پر ہندو تو حامی انتہا پسند کی فائرنگ ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے  جو حکومت اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے ہوا ہے ایسے بزدلانہ حملہ سے ہمارے حوصلے کم نہی کئے جاسکتے  اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے

مذکورہ خیالات کا اظہار سماجوادی اقلیتی سبھا کے ریاستی جنرل سکریٹری محمد منصور خان نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء پر پولس کو موجودگی میں  ہوئی فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کیا
انہوں نے کہا کہ  72/سال بعد گوڈسے کی اولاد نے طالب پر علم گولی چلائی یہ حملہ  انکے افکار و خیالات پر عمل کرنے والوں پر حملہ ہے جو  ملک کی جمہوریت کیلئے انتہائی خطرناک ہے
انھوں نے کہا کہ جامعہ میں گولی چلوانے کیلئے بی جے پی کے لیڈران زمہ دار ہیں اور انکے  اشتعال انگیز بیان کا نتیجہ ہے اور دہلی میں  ہونے انتخابات کے پیش نظر بھی یہ حرکت کروائی گئی ہے تاکہ لوگوں کی نظر وکاس سے ہٹ جائے  موجودہ حکومت میں غندہ راج اور فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہیں

اپنی اولاد کی فکر کیجئے مولانا شیخ ابرار احمد ندوی استاد تفسیر دار العلوم ندوہ العلماء لکھنؤ

اپنی اولاد کی فکر کیجئے


 مولانا شیخ ابرار احمد ندوی
استاد تفسیر دار العلوم ندوہ العلماء لکھنؤ

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو،اپنے آپکو اور اپنے اہل و عیال کو ایسی آگ سے بچاؤ جسکا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہی کرتے اور جسکا انکو حکم دیا جاتا ہے  وہ بجا لاتے ہیں (ترجمہ سورہ التحریم 600)

یہ آیت کریمہ ہر اس شخص کو جسمیں ایمان کی ادنی سی بھی رمق ہے اسکو بے چین و بے کل کردینے والی ہے اور اپنی ذات اور آل و اولاد کے سلسلے میں فکر مند کردینے والی ہے۔
سوچنے کی بات ہے کہ عام انسانوں کو نہی بلکہ خاص طور سے اہل ایمان کو متوجہ کیا جا رہا ہے کہ اپنی ذات کو اور اپنے اہل و عیال کو ایسی آگ سے بچاؤ جسکا ایندھن انسان اور پتھر ہیں
اب سوال یہ ہے کہ یہ آگ کونسی آگ ہے جسکا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، کیا دنیا میں کوئی آگ ہے جسمیں مسلمانوں کے بچے کودنا چاہتے ہوں اور اسمیں خودکشی کرنے کے درپے پہ ہوں اور یہ خطرناک عمل انکے معاشرے میں وبا  کی طرح عام ہو؟ اور مسلم ماں باپ تماشائی بن کے دیکھ رہے ہوں لہذا انکو غفلت سے بیدار کیا جا رہا ہے، اگر ایسا نہیں ہے تو اس آیت کا مطلب اسکے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ انکو ایسی چیزوں سے بچاؤ جو انکو دوزخ کی اس آگ تک لے جانے والی ہیں جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں
بلاشبہ اس وقت ایمان کے دعویداروں کے گھر گھر کی یہی حالت بنی ہوئی ہے کہ انکی نئی نسل دوزخ کی آگ میں جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں  کودنے  کو بلکہ اس میں چھلانگ لگانے کو تیار ہے اور ماں باپ تماشائی بن کر دیکھ رہے ہیں۔ بلکہ معاف کیا جائے، ماں باپ بذات خود اپنی اولاد کو اس آگ میں جھونک رہے ہیں اور خود دھکا دینے کو تیار ہیں،کیا بچوں کو ایسے اسکولوں کے سپرد کر دینا جس میں ان کے اسلامی اخلاق و کردار کا تحفظ نہ ہو، ان کی عزت وناموس محفوظ نہ ہو اور جن اسکولوں کا نظام تعلیم ان کے عقیدے کو مسخ کردیتا ہو، اس کے سیرت و کردار کو داغدار کر دیتا ہو، جو ملت اسلامیہ سے بیگانہ اور تاریخ اسلام سے بدظن بلکہ اسلام سے باغی بنا دیتا ہو، اور یہ بھی دنیا کی صرف چند حقیر سکوں کی خاطر تو کیا ہمارا یہ طرز عمل اپنے معصوم بچوں کو کو دوزخ کی آگ میں دھکا دینے کے مرادف نہیں ہے؟
اگر اس بات میں ذرا بھی سچائی ہے اور آپ کے دل میں اسلام کی محبت اور آخرت کا خوف ہے تو ذرا اپنی اولاد کی فکر  کیجئے اور ان معصوم بچوں پر رحم کھائیے، اور ان کو دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ کے شعلوں سے بچائیے۔
 انکے  عقیدے اور اخلاق و کردار کی حفاظت کیجئے اور انکو  ایسے اسکولوں اور نظام تعلیم سے بچائیے  جن میں (Hindu mythogy)
ہندو یا عیسائی نظریے کا نصاب تعلیم ہو۔
بلکہ سب سے پہلے آپ اپنے بچوں کو اسلامی مکاتب میں صحیح اسلامی عقیدہ اور اسلامی اخلاق و کردار کی تعلیم دلوائیے اور گاہے بگاہے ان کا جائزہ و محاسبہ بھی کرتے رہئیے ، ایسا نہ ہو کہ غیر اسلامی اسکولوں میں پڑھنے کی وجہ سے ان کے اندر ذہنی ارتداد پیدا ہوجائے، آپ انہیں مسلمان سمجھتے رہیں اور وہ کفر اختیار کر چکے  ہوں،  اگر آپ نے اس اہم تعلیمی و تربیتی پہلو سے بے فکری برتی تو یاد رکھئیے  آپ نے اپنی اولاد کو ایسی آگ میں جھونک دیا جس سے انہیں کبھی  نجات نہ ہوگی، وہ آگ جس پر ایسے تند خو اور سخت مزاج فرشتے مقرر ہیں جو اس سے کسی کو نکلنے نہیں دیں گے۔

بس ایک سچے مؤمن والدین کا اولین فریضہ اپنی اولاد کے تئیں یہی ہے کہ وہ ان کو دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ سے بچانے کی فکر کریں ۔
«اللھم قنا من عذاب النار »

جامعہ ملیہ کے بعد اب شاہین باغ میں ہوئی فائرنگ تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا ہندوستان میں صرف ہندؤوں کی چلے گی کہتا ہوا کپل گورجر نے چلائی گولی، پولیس نے کرلیا گرفتار


جامعہ ملیہ کے بعد اب شاہین باغ میں ہوئی فائرنگ تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا

ہندوستان میں صرف ہندؤوں کی چلے گی کہتا ہوا کپل گورجر نے چلائی گولی، پولیس نے کرلیا گرفتار


نئی دہلی: یکم/فروری (ذرائع) جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے بعد اب عالمی سطح پر مشہور ہوئے خواتین کے احتجاج شاہین باغ میں بھی آج ایک نوجوان نے گولی چلائی۔ گولی چلانے والے نوجوان کو دہلی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ حالانکہ گولی سےکسی کے زخمی ہونے کی خبرنہیں ہے کیونکہ اس نے ہوائی فائرنگ کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق گولی چلانے والے نوجوان نے اپنا نام کپل گورجر بتایا ہے اور دلو پورہ علاقے کا رہنے والا ہے۔ دہلی پولیس نے کہا ہے کہ ہوائی فائرنگ ہوئی ہے، اس لئے اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔ ملزم شخص کو سریتا وہار تھانے میں لے جایا گیا ہے اور وہاں اس سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
دہلی پولیس نے بھی گولی چلنےکی تصدیق کی ہے۔ گولی چلانے والے نوجوان نےکہا کہ ہندوستان میں صرف ہندوؤں کی چلےگی۔ اس صورتحال کے بعد شاہین باغ میں احتجاج میں شامل لوگوں میں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے۔ حالانکہ حالات ابھی یہاں پر معمول پرہیں اور اسٹیج سے لوگوں سے صبر وضبط سےکام لینےکی اپیل کی جا رہی ہے۔ اس سےقبل جمعرات کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی ایک نوجوان نے گولی چلائی تھی، جس سے ایک طالب علم زخمی ہوا تھا، جس سے طلباء اور مقامی لوگوں میں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے

کوروناوائرس سے بچنے کیلئے ڈی ایم اجول کمار نے دی لوگوں کو ہدایت حافظ شجاعت ٹرسٹ کی پوری ٹیم کوروناوائرس سے نمٹنے کیلئے مستعد: شمس الضحی خان

کوروناوائرس سے بچنے کیلئے ڈی ایم اجول کمار نے دی لوگوں کو ہدایت

حافظ شجاعت ٹرسٹ کی پوری ٹیم کوروناوائرس سے نمٹنے کیلئے مستعد: شمس الضحی خان


آنند نگر مہراج گنج: 01/فروری 2020 آئی این اے نیوز
چین سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل رہے کوروناوائرس سے بچنے کیلئے گزشتہ روز ڈی ایم اجول کمار نے ضلع مہراج گنج کے تمام سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں کی پوری ٹیم کو طلب کیا اور کہا کہ دنیا بھر میں پھیل رہے اس کوروناوائرس سے بچنے کیلئے پورے طور پر لوگ فکر مند ہیں، ڈی ایم نے کہا کہ اس وائرس سے ضلع کے ہر فرد کو بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس میٹنگ میں ضلع کے ہر سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کے ذمہ داروں نے شرکت کی اور پوری چستی کے ساتھ کام کرنے کا عزم کیا۔


اس موقع پر حافظ شجاعت فیض عام چیریٹیبل ٹرسٹ کے چیف آف ٹرسٹی شمس الضحی خان نے ڈی ایم اجول کمار سے کہا کہ ہمارے ٹرسٹ کی پوری ٹیم کوروناوائرس سے نمٹنے کیلئے مستعد ہے ضلع کے کسی بھی قصبہ یا گاوں میں کسی بھی وقت ہماری ضرورت پیش آتی ہے تو ہماری ٹیم پوری چستی کے ساتھ کام کرے گی۔ اس موقع پر چیف ٹرسٹی شمس الضحی خان، آفس سکریٹری قاری ساجد حلیمی، سپروائزرحافظ عبید الرحمن الحسینی، ڈاکٹر سراج احمد، شمشاد احمد کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ شریک رہے۔

جامعہ بدرالعلوم میں جاری بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائڈ جمعیۃ یوتھ کلب کا سہ روزہ کیمپ اختتام پزیر!

جامعہ بدرالعلوم میں جاری بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائڈ جمعیۃ یوتھ کلب کا سہ روزہ کیمپ اختتام پزیر!
رپورٹ :محمد دلشاد قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
گڑھی دولت/شاملی (آئی این اے نیوز ١/فروری2020) ضلع شاملی کے موضع گڑھی دولت کے جامعہ بدرالعلوم میں گزشتہ تین روز سے جاری بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائڈ جمعیۃ یوتھ کلب کا کیمپ آج اختتام کو پہونچا، جس کی صدارت حضرت مولانامحمد عاقل قاسمی صاحب صدر جمعیۃ علماء پچھم یوپی نے فرمائی، مہمان خصوصی کی حیثیت سے مولانا محمد تحسین  صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع شاملی نے شرکت فرمائی.

پروگرام کا آغاز تلاوت کلام اللہ اور نعت نبی سے ہوا ،کیمپ میں شریک "اسکاؤٹ" اور روورس نے طرح طرح کے پروگرام پیش کیے ،ٹریفک نیم ،اور ووٹنگ کی اہمیت ،اور ماں باپ کی فرماں برداری ،سے متعلق ڈرامائی شکل میں بڑے ہی خوبصورت انداز میں پروگرام پیش کیے ،
اس کے بعد مہمان خصوصی کی حیثیت سے تشریف لائےمولانا محمد تحسین صاحب نے اسکاؤٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل اخلاق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو عام کرنے کے لیے ،اور نوجوان جوکہ ہر قوم کی ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہوتے ہیں ان کو چاک چوبند رکھنے کے لیے اور ان کی تندرستی کو برقرار رکھتے ہوئے ،ملک و ملت کی خدمت کے جذبہ کو اجاگر کرنے کے لیے اہم کوشش ہے ،اس لیے ہم سب اپنے نوجوانوں کو اس منسلک کرائیں اور اپنی نوجوان نسل کو برباد ہونے سے بچالیں.
پروگرام کی صدارت فرمارہے حضرت مولانا محمد عاقل صاحب نے کہا کہ جمعیۃ علماء ھند ملک کی وہ واحد تنظیم ہے جو ملک کے لیے اور ملت اسلامیہ کے لیے ہر مشکل میں شانہ بہ شانہ کھڑی رہتی ہے، مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے لیے ہر میدان میں ہر ممکنہ راحت رسانی کی کوشش کرتی ھے اس لیے ہم جمعیۃ علماء ھند سے مل جل کر آگے بڑھے ،اور ملک میں بھائی چارگی کو رواج دیں اخلاق حسنہ کو اپنائے تاکہ اسلام کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے.
کیمپ حضرت مولانا محمد واصف صاحب ٹرینر اسکاؤٹ اینڈ گائڈ ،اور مولانا عرفان صاحب،ماسٹر شاہ عالم صاحب کی نگرانی میں جاری رہا ،نظامت کے فرائض مولانا محمد واصف صاحب نے انجام دیئے.
اس موقع پر قاری مسعود،قاری اسجد ،قاری عبدالرحمان،قاری شاھد، حافظ محمد دلشاد  ،اور گاؤں کے معزز افراد بڑی تعداد میں موجود ریے ،جنہوں نے بچوں کی خوب حوصلہ افزائی کی.
آخر میں صدر محترم کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا

مدرسہ شاہی ملت کا ادارہ , مخصوص خاندان کی جاگیر نہیں ہے: مولانا محمد علی نعیم رازی مہتمم جامعہ معافی مانگیں بصورت دیگر استعفی کے لئے تیار رہیں

مدرسہ شاہی ملت کا ادارہ , مخصوص خاندان کی جاگیر نہیں ہے: مولانا محمد علی نعیم رازی
مہتمم جامعہ معافی مانگیں بصورت دیگر استعفی کے لئے تیار رہیں
لکھنؤ : معروف عالم دین اور سماجی خدمتگار مولانا محمد علی نعیم رازی نجیب آبادی نے پریس کو جاری ایک بیان میں ملک کے معروف دینی ادارہ مدرسہ شاہی مرادآباد کے مہتمم مولانا اشہد رشیدی کے صاحبزادے سید کعب رشیدی کے ذریعے یوگا کو ادارے کے نصاب میں شامل کیے جانے کے اعلان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مدرسہ شاہی قوم اور ملت کی امانت ہے جس کو ایمان اور ضمیر فروشی کا مرکز کسی صورت میں نہیں بننے دیا جائے گا
مولانا محمد علی نعیم رازی نے کہا کہ مدرسہ شاہی مرادآباد اکابر علماء کی پرخلوص قربانیوں کا نتیجہ ہے جسکو ایک مخصوص خاندان کی سیاست اور ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ نہیں بننے دیا جا سکتا ہے
مولانا رازی نے سوال قائم کیا کہ آخر مہتمم جامعہ جو بذات خود ادارے کی مجلس شوریٰ کے ماتحت ہے اور ادارے کے اصول و قوانین کے مطابق وہ خود مختار نہیں ہے تو کیسے انکے صاحبزادے کعب رشیدی کے ذریعے یہ اعلان کیا گیا کہ یوگا جیسے غیر اسلامی فعل کو ادارے کے نصاب میں شامل کیا جائے گا  ؟
کعب رشیدی نے کس حیثیت سے اتنا بڑا فیصلہ ملت کو سنایا ؟
نیز یہ بات بھی وضاحت طلب ہے کہ حضرت مہتمم جامعہ کے صاحبزادہ سلمہ ادارے میں کس حیثیت اور کس مقام پر ہے ؟
مولانا محمد علی نعیم رازی نے ادارے کی مجلس شوریٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے اور اس اعلان کے بعد ملت میں جو ہیجانی کیفیت پیدا ہو گئی ہے اس کو دور کرے
مولانا محمد علی نعیم رازی نے مہتمم جامعہ سے مطالبہ کیا کہ وہ قوم سے اس سلسلے میں معافی مانگیں اور معاملہ کی وضاحت کریں اور اگر صاحبزادہ کے اعلان سے وہ اتفاق رکھتے ہیں اور اس قسم کا ارادہ رکھتے ہیں تو استعفی دینے کے لئے تیار رہیں اور اپنا ذاتی ادارہ قائم کرکے اسمیں یوگا کو داخل نصاب کریں
مولانا رازی نے ادارے کے مفتیان اور اساتذہ سے درخواست کی کہ وہ حضرات اس سلسلے میں اپنے موقف کی وضاحت فرمائیں تاکہ ملک و بیرون ملک میں موجود ہزاروں فضلاء شاہی کی بے چینیاں ختم ہو اور مادر علمی شرپسندی اور سازشوں سے محفوظ رہیں

کورونا وائرس کی دہشت کے درمیان چین کے ووہان سے 324 ہندوستانی دہلی پہنچے ووہان سے آئے مرد مسافروں کے لئے دہلی کے پاس مانیسر میں اور عورتوں کے لئے چھاؤلہ میں خصوصی کیمپ بنائے گئے ہیں جہاں ان کی ڈاکٹروں کی نگرانی میں جانچ ہوگی اور 14 دن بعد چھوڑا جائے گا۔


کورونا وائرس کی دہشت کے درمیان چین کے ووہان سے 324 ہندوستانی دہلی پہنچے

ووہان سے آئے مرد مسافروں کے لئے دہلی کے پاس مانیسر میں اور عورتوں کے لئے چھاؤلہ میں خصوصی کیمپ بنائے گئے ہیں جہاں ان کی ڈاکٹروں کی نگرانی میں جانچ ہوگی اور 14 دن بعد چھوڑا جائے گا۔


نئی دہلی: چین کے شہر ووہان سے 324 ہندوستانی شہریوں کو لے کر ایئر انڈیا کا خصوصی طیارہ آج صبح سات بج کر 24 منٹ پر دہلی پہنچا۔ چین میں نوول کورونا وائرس کے وبا ئی شکل اختیار کرنے کے پیش نظر حکومت نے اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چارٹرڈ پرواز سے لائے گئے تمام 324 مسافروں کو 14 دن تک مانیسر اور چھاؤلہ کیمپ میں خاص طور پر بنائے گئے کیمپوں میں رکھا جائے گا تاکہ وہ دوسرے لوگوں کے رابطے میں نہ آ سکیں۔ ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی صحت کی باقاعدہ جانچ کرے گی۔

ایک پیغام نوجوانوں کے نام (از قلم محمد اطھر الاعظمی)

ایک پیغام نوجوانوں کے نام 
       (از قلم محمد اطھر الاعظمی)

قارئین کرام اللہ تعالی کا یہ قانون اور قدرت کا یہ نظام ھے کہ جب تک انسان اپنے اندر محنت کرنے اور کسی چیز لئے اپنے آپ کو بالکل قربان کرنے کا جذبہ پیدا نھیں کرتا تب تک اللہ تعالی اسکو ترقی سر بلندی اور کامرانی سے ہمکنار نھی کرتے آج خاص طور سے بھارت کے مسلمانوں کو کامیابی حاصل کرنے کے لئے محنت کوشش اور جدو جھد کی سخت ضرورت ھے آج مسلمان ایک شکست خوردہ قوم کی طرح ایک شکستہ کشتی پر سوار ھیں جب تک ہم میں سے ھر ایک عالم اسلام کی اس کشتی کو ذلت اور رسوائی کے سمندر سے نکالنے کی کوشش نھیں کرے گا ہم اس وقت تک اس دنیا میں کامیابی سر بلندی اور خوشحالی کی زندگی نھیں گزار سکتے جب تک ہم مسلمان  اپنے اندر دینی اور سیاسی بیداری پیدا نھیں کریں گے اس وقت تک ہم اس دنیا میں اپنا رغب اور دبدبہ قائم نھیں کر سکتے قرآن کریم کا صاف اعلان ھے کہ اللہ تعالی نے آج تک اس قوم کی حالت نھیں بدلی جب تک اسکو خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ھو
آج پوری قوم مسلم کو ذلت اور رسوائی سے نکالنے کی سب سے بڑی ذمیداری ھے اور سب سے پھلے ذمیداری نوجوانوں کے کندھوں پر عائد ھوتی  ھے  اسلئے کہ نوجوان ھی قوم کی روح اور جان ھوا کرتے ھیں نوجوان ھی قوم کے دھڑکتے دل ھوا کرتے ھیں نوجوان ھی قوم کی ریڑھ کی حیثیت رکھتے ھیں جب تاریخ کا مطالعہ کرتے ھیں تو یہ بات سامنے آتی ھے کہ جب جب بھی ان نوجوانوں کے  خوابیدہ دل بیدار ھوئے جب جب بھی ان نوجوانوں نے اپنے اوپر سے غفلت اور سستی کے چادر کو اتار پھینکا تب ان نوجوانوں نے اپنی قوم کو ترقی اور سر بلندی کے اونچی چوٹیوں پر پھونچایا اور اپنی قوم کی شان و شوکت کو چار چاند لگا دیا یاد رکھئیے نوجوانوں کے بغیر کوئی قوم اور تحریک کامیان نہ ھو سکی  انھیں نوجوانوں سے قومیں بنتی بھی ھیں اور بگڑتی بھی ھے انھیں نوجوانوں سے قوم ترقی بھی کرتی ھے اور تنزلی کی گھری کھائی میں بھی گرتی ھے  تاریخ  کے اوراق گواہ ھیں کہ اسلام کے وہ شیر دل نوجوان ھی تھے جنھوں نے اسلام کا پرچم لھراتے ھوئے دنیا کی سپر طاقتیں قیصر و کسری کے محلوں اور قلعوں میں نعرہء تکبیر سے زلزلہ بر پا کر دیا اسلام کے وہ نوجوان مجاھد ھی تھے جنھوں نے اسلامی تعلیمات اسلامی حکومتوں کو اس قدر وسعت دی تھی کہ اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ھے اسلامی کمانڈر ایک نوجوان مجاھد عقبہ بن نافع رضہ اسلام کے پر چم لھراتے ھوئے دنیا کے اس کنارے پر پھونچ گئے جسکے بعد اب کوئی زمین نھی تھی
آخر وہ بھی نوجوان ھی تھے کہ اسلامی لشکر کے ایک کمانڈر سعد بن وقاص رضہ نے  گھوڑے کو سمندر میں دوڑا دیا
لھذا ہمارے لئے ضروری ھے کہ ملک کے حالات کو دیکھتے ھوئے ہماری بھی قیادت  کوئی نوجوان کرے اور ہماری بھی ذمیداری کہ ہم اسکا مکمل طور سے ساتھ دیں      آمین

*کعب اشہد رشیدی اور "یوگا"* *سید احمد اُنیس ندوی*

*کعب اشہد رشیدی اور "یوگا"*

*سید احمد اُنیس ندوی*

خانوادہ مدنی کے نوجوان فاضل مولوی سید کعب اشہد رشیدی (بن مولانا سید اشہد رشیدی صاحب) کا ایک ویڈیو نظر سے گزرا, جس میں وہ ایک "یوگا سینٹر" میں عمیر الیاسی اور دیگر کئ لوگوں کے ساتھ "یوگا" سیکھتے نظر آ رہے ہیں, بعد میں وہ "یوگا" کے فوائد بیان کرتے ہیں اور یہ راز فاش کرتے ہیں کہ "یوگا" تو ہندوستانی تہذیب کا حصہ ہے, اس کو کسی مذہب سے نہیں جوڑنا چاہئے۔ پھر وہ یہیں پر نہیں رُکے بلکہ عمیر الیاسی کے استفسار پر کعب اشہد رشیدی صاحب نے خود بھی "یوگا" کا اہتمام کرنے کا عہد کیا اور "مدرسہ شاہی مرادآباد" کے تین ہزار طلباء کو بھی "یوگا" کرانے کا وعدہ کر لیا۔ اطلاع کے مطابق یہ ویڈیو 29/ جنوری 2020 کا ہے۔

اُس ویڈیو کو دیکھ کر ہم حیرت و استعجاب میں ڈوب گئے۔ اتنی بڑی بڑی نسبتوں اور علمی گھرانوں کے افراد آخر کیسے اس درجے کم علمی کی بات کر سکتے ہیں ؟ اور وہ کس طرح "حمیت اسلامی" اور "غیرت دینی" کو نظر انداز کر سکتے ہیں ؟ ایک معمولی طالب علم بھی اس حقیقت سے واقف ہے کہ "یوگا" صرف ورزش نہیں بلکہ "برہمن واد" اور "مَنُو واد"  فکر پر مبنی نظام زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے, اور یہ ایک خالص مذہبی عمل ہے۔ اور پورے ملک میں "برہمنیت" اور "شرک" کو پھیلانے کے لئے ہی "یوگا" کا پچھلے پانچ چھ سالوں سے اتنے زور و شور سے پرچار کیا جا رہا ہے۔

 مسلمانان ہند اس وقت جن حالات  سے گزر رہے ہیں اُن حالات میں ایسے افراد کی طرف سے ہر دن سامنے آنے والی یہ سب باتیں دل و دماغ کو بالکل جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے ان حضرات کی جانب سے مسلسل ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں جس نے ملت کے باشعور افراد کو سخت ذہنی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے, اور ہر خاص و عام سوچنے پر مجبور ہو رہا ہے کہ آخر یہ سب کیوں ؟

ظالم طاقتوں سے مقابلے کے لئے عدم استطاعت کی صورت میں سکوت کی تو گنجائش ہو سکتی ہے لیکن اس طرح اپنی فکر کو گروی رکھنا اور ایسے حساس مسائل میں فکر اسلامی کی پرواہ نہ کرنا نہایت افسوسناک طرز عمل ہے۔ شرک اور توحید, کفر اور اسلام کے درمیان جو حدود ہیں اُن کا خیال رکھنا نہایت حساس مسئلہ ہے۔ اور اس معاملے میں کوتاہی وہ بھی ایسے حضرات کی جانب سے امت کے لئے نہایت تشویشناک ہے۔

 ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ عظیم خانوادہ جن کی نسبت شیخ الہند و شیخ الاسلام رحمھما اللہ سے ہے اُن کے دلوں میں اپنے بزرگوں والا وہی ولولہ و جذبہ دوبارہ پیدا ہو جائے جس سے پوری ملت کو ایک نیا حوصلہ ملے اور فکری انحراف کے جس بھیانک راستے کی آہٹ محسوس ہو رہی ہے وہ دور ہو اور ہمت و حکمت کے ساتھ فکر اسلامی پر تصلب کے ساتھ ہم سب کام کرتے چلے جائیں۔ یاد رکھیں ایک عرصے تک کانگریس کی وفاداری کا انجام بھی ہم کو سوائے دھوکے اور نقصان کے اور کچھ نہیں ملا ہے اور کوئ شک نہیں کہ یہ نئے لوگ باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر سے  بھی ہمارے دینی وجود کو کسی حال میں ہضم نہیں کر پا رہے ہیں۔ اس لئے ان کی خوشنودی یا رضامندی کی کوئ بھی کوشش صرف ہمارے لئے ذلت و رسوائ ہی مقدر کرے گی اور کچھ نہیں۔ اس لئے بہت زیادہ حساسیت اور بیدار مغزی کے ساتھ جینے کی ضرورت ہے۔

اطلاع کے مطابق جناب مولانا سید اشہد رشیدی صاحب نے واٹس اپ پر یہ وضاحت کی ہے کہ مدرسہ شاہی میں "یوگا" کا کوئ ارادہ نہیں ہے, لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ جتنا حساس ہے اُس کو دیکھتے ہوئے محض یہ بات کافی نہیں ہے, مولانا کو باقاعدہ تحریری وضاحت جاری کرنی چاہئے, اپنے فرزند کو تنبیہ کرنی چاہئے اور عوامی پلیٹ فارم پر یہ اعلان کرنا چاہئے کہ "یوگا" جیسے خالص شرکیہ عمل کو کسی حال میں نہ ہم قبول کریں گے نہ ہمارے ادارے ۔۔۔ اللہ کی توحید پر جئیں گے اور ان شاء اللہ اسی توحید پر مریں گے۔ وقت کے ظالموں کی خوشنودی کے لئے کسی حال میں اپنے دین, اپنے ایمان و عقائد کا سودا نہیں کریں گے۔

امید ہے کہ یہ حضرات اپنے ہر (عوامی اور عمومی) قول و عمل سے قبل اس پہلو پر بہت گہرائ سے غور کریں گے۔
و ما توفیقی الا باللہ۔ علیه توکلت و الیه اُنیب۔

یوگا اسلامی تناظر میں مولانا حبیب الرحمن اعظمی

یوگا اسلامی تناظر میں

مولانا حبیب الرحمن اعظمی

۱۸۵۷ہندوستانی جمہور کے مقررہ آئین ودستور کے مطابق ہمارا ملک ایک جمہوری ریاست اور سیکولر (لامذہب) اسٹیٹ ہے، لامذہب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ریاست اور ملک کسی ایک مذہب کا نہیں ہے؛ بلکہ ہر مذہب اور ہر مذہب کے ماننے والے اس ریاست اور اسٹیٹ کے مالک ہیں اور ملک میں موجود جملہ مذاہب، ان کی مذہبی روایات وتعلیمات اور حقوق بغیر کسی فرق وامتیاز کے یکساں طور پر نافذ العمل ہیں۔ آئین بھارت کا پیش لفظ و دیباچہ پکار کار کر کہہ رہا ہے کہ بہت سارے مذاہب جو اگرچہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اس سیکولر اسٹیٹ اورلامذہبی ریاست میں نہ صرف باقی رہ سکتے ہیں؛ بلکہ اپنے طور پر ترقی بھی کرسکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ صحیح طور پر سیکولرزم کا نفاذ ہو اور وہ اپنی حدوں سے تجاوز نہ کرے، اس ریاست کا نظام سیکولر بنیادوں پر اس لیے استوار کیاگیا ہے اور اسے سیکولر اور لامذہبی اس لیے کہا جاتاہے تاکہ کوئی مذہب اپنی عددی اکثریت اور غلبہ کی بناء پر راج گرو ہونے کے زعم میں نہ مبتلا ہوجائے۔

عالمی برادری میں ہمارا ملک اپنی اسی آئینی حیثیت سے جانا پہچانا جاتاہے؛ بلکہ پوری دنیا میں سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کے اعزاز سے معزز ومفتخر ہے۔

ایک ایسا ملک جہاں مختلف نسل اور ذات کے لوگ رہتے ہیں، جہاں بھانت بھانت کی زبانیں بولی جاتی ہیں، جہاں رنگ برنگ کے رسم ورواج ہیں، جہاں درجنوں سے زائد مذہب ودھرم پائے جاتے ہیں، ظاہر ہے ایسے ملک کی منتشر اور غیرمربوط اکائیوں کو باہم مربوط ومتحد رکھنے کے لیے سیکولرنظام اور مذہبی، لسانی، تہذیبی آزادی سے بہتر بظاہر کوئی اور صورت نہیں ہے، ہمارے پیش رو بزرگوں اور ملک کے معماروں نے جو سچے دل سے ملک وقوم کے بہی خواہ تھے بہت غور وفکر اور سوچ سمجھ کر ملک کے لیے یہ جمہوری وسیکولر ڈھانچہ مرتب کیا تھا۔

یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ ملک کے اقتدار پر قابض طبقہ ملک کے آئین وقانون سے بے نیاز ہوکر اپنے مذہب کو راج گرو کے طور پر پیش کرنے کی تگ ودو میں مصروف ہے، اس لیے ملک میں آباد مسلم، عیسائی، پارسی، سکھ، بدھسٹ، جین وغیرہ سب کو ہندو بتایا جارہا ہے، ہندوستان کی ایک سو پچیس کروڑ آبادی پر یوگا مسلط کیا جارہاہے اور زبردستی اسکول کے نصاب میں یوگا کو شامل کیاجارہا ہے، جبکہ یوگا ایک برہمنی عبادت وریاضت ہے، یہ ملک کا نہیں بلکہ ایک خاص طبقہ کا کلچر ہے، جسے ہندوؤں کے مذہبی پیشوا، رشی منی، سادھوسنت اپنے مٹھوں میں برہمنی مذہبی عقیدہ کے مطابق اپنے چیلوں کے ساتھ بطور فرض روزانہ انجام دیتے ہیں۔ یوگا جسے غلط طور پر ورزش کا نام دیا جارہا ہے خود ہندو مذہبی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پانچ امور پر مشتمل ہے:

(۱)          آسنا (جسم کو خاص ساخت میں ڈھالنا)

(۲)         دھرنا (کسی خاص چیز پر دھیان دینا)

(۳)         دھیانا (آنکھیں بند کرکے مراقبہ کرنا)

(۴)         پرانیا (روح پر گرفت حاصل کرنے کی سعی کرنا)

(۵)         سوریہ نمسکار (دونوں ہاتھ جوڑ کر سورج کو آداب بجالانا)

آخردنیا کی وہ کونسی ایسی ورزش ہے جس میں ان مذکورہ امور کا التزام ہے؟

یوگا کی یہ شناخت اورپہچان خود بتارہی ہے کہ یہ ایک مذہبی طریقہ عبادت ہے، بالفرض اگر اس سے ورزشی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے تو یہ اس کی ثانوی حیثیت ہے، اس کی اصل حقیقت تو عبادت وریاضت ہی کی ہے۔

اس لیے برہمنی مذہب کی اہم کتابوں مثلاً ویدوں اور بھگوت گیتا وغیرہ میں اس کا تفصیل سے تذکرہ کیاگیا ہے، بالخصوص بھگوت گیتا میں تو ایک مستقل باب یوگا کے بیان میں ہے۔ ابوریحان بیرونی جو قدیم برہمنی مذہب کا ایک مستند مسلم عالم ہے، اس نے بھی اس اپنی کتاب ”ما للہند“ عربی برہمنی مذہب کی کتابوں کے حوالے سے یوگا پر مفصل بحث کی ہے۔ ان سب حوالوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ”یوگا“ برہمنی رسومِ عبادت پر مبنی ایک عبادت ہے۔ اس لیے جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یوگا صرف ایک ورزش ہے عقیدہ، دھرم اور تہذیب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، یا تو یہ لوگ ”یوگا“ کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں، یا جان بوجھ کر جھوٹ بول رہے ہیں، اور اس جھوٹ کے ذریعہ وہ اپنے مذہب کو سب پر تھوپنا چاہتے ہیں۔

موجودہ حکومت کا یہ رویہ آئین وقانون کے خلاف ہے، ملک کے کسی شہری پر اس کی مرضی کے بغیر کوئی عقیدہ، دھرم اور مذہبی طریقہٴ عمل تھوپا نہیں جاسکتا ہے، یہ ناروا کوشش جب بھی اور جس سطح سے بھی کی گئی ہے اس سے ملک میں بے چینی اور انتشار ہی پیداہوا ہے۔

مودی حکومت،اس کے وزراء،ارکان پارلیمنٹ، اور پارٹی سربراہوں وغیرہ کے خلافِ آئین طریقہٴ کار اور رویہ کو دیکھ کر خود انھیں کے ایک انتہائی تجربہ کار، معتبر سینئر رہنما کو یہ اندیشہ لاحق ہوگیا ہے کہ ملک ایمرجنسی کی طرف جارہا ہے، اس لیے موجودہ برسراقتدار لوگوں کو آخر ملک وقوم سے ہمدردی ہے تو انھیں اپنے رویہ میں صالح تبدیلی لانی چاہیے اور اگر ان کے نزدیک ملک وقوم کے مقابلہ میں اپنی نیتی ہی عزیز ہے تو پھر وہ جو چاہے کریں اور اپنے کیے کے انجام کے بھی منتظر رہیں؛ کیونکہ دنیا عمل اور ردعمل کا مجموعہ ہے۔

*ریال و درہم* کمانے والوں کی قربانیاں ۔ تحریر : *عزیز اعظمی* اسرولی سرائمیر

*ریال و درہم* کمانے والوں کی قربانیاں ۔

تحریر : *عزیز اعظمی*
اسرولی سرائمیر

 تعلیم سے زیادہ پیسہ اور کتاب سے زیادہ پاسپورٹ کی اہمیت رکھنے والی ہماری سوچ اور روایت کے مطابق ابا نے بھی پڑھائی چھوڑ کر پاسپورٹ بنوایا اور ریال و درہم سے گھر کی تقدیر سنوارنے کا خواب سجائے سعودی عرب چلے گئے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ریال و درہم سے ہمارے معاشی حالات بدلے ہیں، طرز زندگی بدلی ہے، نمائش و زیبائش کا چلن بدلا ہے امیر و غریب کا معیار بدلا ہے اگر کچھ نہیں بدلا تو تعلیمی معیار اور سیاسی سوچ ، سالوں پہلے تعلیمی اور سیاسی طور پر ہم جہاں تھے آج بھی وہیں ہیں ، اعلیٰ تعلیم کے لئے آج بھی علاقے میں اگر کوئی ادارہ ڈھونڈا جائے تو نہ کوئی ٹیکنیکل کالج ہوگا ، نہ کوئی میڈیکل کالج ، نہ کوئی انجینیئرنگ کالج نہ کوئی پولیٹیکنک اور اسی پژمردگی و پسماندگی کا نتیجہ ہے کہ نہ ہم تعلیم میں ہیں نہ سیاست میں ، نہ حکومت میں ہیں نہ ریاست میں ، نہ صحافت میں ہیں نہ عدالت میں ، کسی بھی موڑ پرکسی بھی وقت کسی بھی دھرم سینا اور بھیڑ سینا کے ہاتھوں اگر ہم مار بھی دیئے جائیں تو نہ ہماری کوئی سیاسی آواز ہوگی اور نہ ہی کوئی تعلیمی و ریاستی اثر و رسوخ کہ ہماری جانوں کی قیمت نظر آئے ۔

عرب ممالک کے تپتے صحراؤں میں پسینہ نچوڑ کر وہاں سے کشید کئے گئے درہم و دینار کی بدولت گاڑی ، گھوڑے ، بنگلے ، محلات  تو بنے لیکن ڈاکٹر انجینیئر، ٹیچر آئی ایس ، پی سی ایس نہیں بنے ۔  عرب ممالک پر انحصاری ، تعلیمی پستی ، سیاست اور شریعت میں آپسی رساکشی کے باعث ملک میں ہم وہ مقام حاصل نہیں کر سکے جو مقام ملک میں رہ کر تعلیم و معاش حاصل کرنے والی دوسری قوموں نے کیا ۔ جو عہدہ رتبہ مرتبہ ہمیں ملنا چاہئے تھا وہ ہمارے مقدر کا حصہ نہ بن سکا اسے کسی اور نے حاصل کر لیا ۔

قسمت سنوارنے کی خاطر ابا نے ملک چھوڑ تو دیا لیکن آج کے اس ٹکنیکل دور میں اعلی تعلیم یافتہ ، پڑھے لکھے  لوگوں کے سامنے غیر تعلیم یافتہ ، غیر ہنر مند ، کم پڑھے لکھے لوگوں کی حیثیت کہاں ، سعودی عرب کے بدلتے  حالات ، بدلتے قانون اور انکے اپنے شہریوں کو ترجیحی بنیاد پر نوکری کی فراہمی کے سبب جب ابا کو کوئی کام نہیں ملا تو سعودی عرب میں با آسانی مل جانے والی واحد نوکری جسے سواق خاص کہا جاتا ہے اسے سیکھ لیا اور ایک سعودی کے گھر میں ڈرائیور بن گئے ، گھر خان صاحب کہے جانے والے ابا اب سعودی میں سواق " فیملی ڈرائیور"کہے جانے لگے ، معاشرے کے اس روئیے پر قربان جاؤں کہ گھر جس کام کو کرنے میں عار محسوس ہوتی ہے سماج حقارت کی ترچھی نگاہ سے دیکھتا ہے پردیس میں وہ سارے کام کرنے میں کوئی عار کوئی شرم محسوس  نہیں ہوتی اپنے ملک میں سبزی و پھل فروش کے گھر رشتہ نہ کرنے والا معاشرہ دبئی میں لانڈری چلانے والوں کے گھر فخریہ انداز میں بیٹا بیچ دیتا ہے  سبزی بیچ کر روپیہ کمانے والوں کی عزت تو نہیں لیکن کپڑے دھوکر ریال و درہم کمانے والوں کی عزت میں کوئی کمی نہیں-

خدا کی حکمت ، اپنی قسمت اور خلیجی حالات سے بےخبر سعودی رہنے والے غفور چاچا کے بیٹوں کے ٹھاٹ باٹ اور دنیا کی چمک و دمک دیکھ کر ابا سعودی عرب چلے تو گئے لیکن قسمت سے آگے نہیں جا سکے بڑی مشقت کے بعد کہیں کام ملتا تو تنخواہ نہیں کہیں تنخواہ ملتی تو کام نہیں مشکل سے ملنے والی ڈرائیور کی یہ نوکری بھی کچھ دنوں بعد چھوٹ گئی لیکن حسن اتفاق کہ ابا جس کفیل کے یہاں ڈرائیور تھے وہ ایک  ڈاکٹر تھا اسکو ہاسپیٹل چھوڑنا اور واپس لانا یہی انکی کل ڈیوٹی تھی ڈرائیور کی اس نوکری نے ابا کو بہت پیسہ تو نہیں دیا  لیکن ایک بہترین سوچ ضرور دیا ،  ڈاکٹر کی صحبت نے انکے اندر یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ کاش میں بھی پڑھا ہوتا اور یہی احساس سعوی عرب میں ابا کی کل کمائی تھی اور اسی احساس کے ساتھ انھوں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ گھر اس وقت تک نہیں جاونگا جب تک بچوں کو پڑھا نہ لوں -

 اللہ نے ابا کی قسمت میں رزق تنگ تو نہیں لیکن اس قدر مختصر لکھا تھا کہ سعودی عرب کی تپتی ریت  گرم ہواؤں میں دن بھر پسینہ نچوڑنے کے بعد بھی انکی آمدنی وہیں ختم ہو جاتی جہاں سے غربت شروع ہوتی لیکن دنیا کی نظر میں ابا سعودی رہتے تھے عرب ممالک ریال و درہم کمانے والوں کے گھر میں تنگی ہوگی گاؤں ، محلہ ، پڑوس معاشرہ نہ کبھی اس بات کو ماننے کو تیار ہوتا اور نہ سمجھنے کو اپنی ہانڈی پر نظر رکھنے کے بجائے دوسروں کی ہانڈی پر نظر رکھنے والے اس معزز معاشرے میں ، اپنی عزت اور خاندانی وقارکا بھرم رکھنے کے لئے اماں ہر روز جیتیں اور ہر روز مرتیں ابا کے بھیجے گئے ہر مینے پانچ سے سات ہزار میں گھر کی عزت کو سفید کپڑوں میں ملبوس رکھنا دو دو جوان بہنوں کی شادی کا جہیز بنانا ، ہمیں اسکول بھیجنا ، آرزوں اور خواہشوں کو مار کر پڑوسیوں کے سامنے خوشی کا اظہار کرنا اماں کے لئے کس قدر مشکل تھا رات کی تنہائی میں کبھی کبھی انکی آنکھوں سے بہنے والے آنسو سب ظاہر کر دیتے انکی آنکھوں سے ٹپکے ہوئے موتی اگر غلطی سے ہمیں بیدار کر دیتے تو یہی کہتی کہ ایک حسین خواب تھا جو آنکھوں کو نم کرگیا مجبوریوں اور پریشانیوں میں بھیگا ہوا اماں کا یہ لہجہ بتاتا کہ پرییشان آنکھوں میں حسین خواب کہا ہوتے ہیں-

لیکن ماں کی ممتا ہمیں خوش رکھنے کے لئے  آنسووں کے ساتھ اپنے غموں کو بھی پی جاتی لیکن کسی پریشانی کا اظہار نہ کرتی، ہم سفید پوش لوگوں کا المیہ ہے کہ بھوکے مر جائیں گے لیکن اپنی خوداری اپنی غیرت اپنے خاندانی وقار کا بھرم رکھنے کی خاطر نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کے سامنے اپنی حالت زار بیان کر سکتے ، اماں اسی سات ہزار میں اپنی ساری خواہشوں کا گلا گھونٹ کر جیسے تیسے ہماری  ضرورتوں کو پورا کر کے دنیا کے سامنے مسکراتی رہتیں ، ہمارے اچھے مستقبل کی خاطر ابا کا سالوں سال  سعودی عرب رہنا ہمیں دکھ تو دیتا ویڈو کال پر انکی محبت اور حسرت بھری نگاہیں دیکھ کر دل خون کے آنسو تو روتا اولاد کے لئے ماں باپ کی اس ایثار اور قربانی پر دکھ اور ملال تو تھا لیکن کلیجہ اس وقت پھٹ گیا جب اماں مجبور ہوکر میرے اسکول کی فیس کے لئے محض ایک ہزار ادھار مانگنے مجھے رحیم دادا کے گھر بھیج دیا ایک ہزار لینے کے لئے میں انکے گھر کے سنگ مر مر لگے منقش ستون کی آڑ میں شرمندگی چھپائے، نظریں جھکائے، مجبوری اٹھائے گھنٹوں کھڑا رہا  لیکن جیسے کسی نے سنا ہی نہیں گھنٹوں کھڑے رہنے کے بعد جب  مایوسی لئے واپس جانے لگا تو انکی بڑی بَہو نے کہہ دیا کہ جب دیکھو پیسے کے لئے منھ اٹھائے کھڑے رہتے ہیں جیسے یہاں پیسوں کے پیڑ لگے ہیں جب اوقات نہیں تو کیا ضرورت پڑھانے کی کھانے کو نہیں لیکن خواب نوابوں جیسے پتا نہیں کون سا تمغہ مل جائے گا پڑھا کے ۔

لفظوں کے دانت تو نہیں ہوتے لیکن جب وہ کاٹتے ہیں تو جسم کو نہیں روح کو زخمی کرجاتے ہیں اس دن ان کا طنزیہ جملہ مغروری لہجہ میرے سینے میں خنجر کی طرح اتر گیا  میری غربت اور ماں کی تربیت نے میرے اندر اتنی ہمت نہیں پیدا کی کہ میں انکا جواب دے پاتا،
پیسے کی جگہ انکا نشتری لہجہ دل میں چبھائے گھر واپس آیا اور ماں کے پہلو میں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا ،  سینے سے لگائے اپنے بوسیدہ آنچل سے میرے آنسوؤں کو پوچھتے ہوئے اماں نے کہا کوئی بات نہیں بیٹا دولت سمجھنے والے تعلیم نہیں سمجھتے وقت بہت بڑا مرہم ہے یہ زخم بھی بھر دیگا دوسرے دن ابا کا فون آیا ان سے کہ دیا کہ ابا مجھے پڑھانے کا خواب چھوڑ کر سعودی عرب بلا لیں بھوک تو برداشت ہوجاتی ہے لیکن لوگوں کی تلخ  باتیں اور لفظوں کی چوٹ برداشت نہیں ہوتی کسی بھی رنج و الم پر نہ پسیجنے والی ابا کی آنکھیں میری باتوں پر بے تہاشہ برس پڑیں خود کو سنبھالتے ہوئے کانپتے لہجے میں کہا بیٹا اگر تم چاہتے ہو کہ تماری اولاد اور آنے والی نسلوں کو لفظوں کے زخم  نہ سہنا پڑے تو میری طرح سعودی آنے کی ضد مت کرو اس وقت پریشانی ضرور ہے تنگی ضرور ہے اپنی قسمت اور خدا کی مشیئت سمجھ کر لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرکے آدھی روٹی اور پھٹے کپڑے پر گزارا کرلو لیکن پڑ ھنے سے انکار مت کرو بیٹا میں تمہیں پڑھانے کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ سعودی عرب کی اس تپتی ریت میں نچوڑ دونگا لیکن ہار نہیں مانونگا پھر تم کیوں ہار مانتے ہو انٹر میڈیٹ کے بعد تمہیں میڈیکل کی تیاری کرنی ہے ایم بی بی ایس کا ٹیسٹ دینا ہے  بیٹا میں اپنی قسمت ، اللہ کے فیصلےاور اسکے دئیے گئے رزق سے آگے تو نہیں جا سکتا لیکن تم سے وعدہ کرتا کہ اپنی آنے والی نسل کے مستقبل کی خاطر  اپنی جوانی کے قیمتی سال اس صحرا میں گزار دونگا لیکن میں گھر آکر پوری زندگی لوگوں کے سامنے اپنی اولادوں کو رسوا ہوتے نہیں دیھ سکتا بیٹا میری قربانی اور جذبات کی قدر کرنا تمہاری کامیابی میری آنکھوں میں روشنی بھر دے گی عرب کی تپتی ریت میں کام کرنے کا حوصلہ دے گی ، ایک ڈاکٹر کا باپ کہلائے جانے پر میرے یہ سارے زخم بھر جائیں گے -

 ابا کا مشفقانہ انداز، جذباتی لہجہ حوصلہ بن کر مرے دل و دماغ میں اتر گیا اور میں نے بھی اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ ، انکی اس قربانی کو رائیگا نہیں جانے دونگا انکے خوابوں کی تکمیل اپنا مقصد بنایا ، کتابوں سے پیار کیا ، نیندوں کو حرام کیا ، فیس بک واٹس کی لغویات سے اجتناب کیا اور پہلے ہی کوشش میں ایم بی بی ایس کا ٹیسٹ  نکال لیا لسٹ میں نام آیا تو اماں خوشی سے جھوم اٹھیں ، ابا بہار کے پھول کی طرح کھل اٹھے انکی سوکھی ر گوں جان آگئی ، دوست زندگی کے قیمتی تحفہ ہیں انکی مدد سے فوراً  پیسوں کا انتظام کیا اور ساری ضرورتوں کو روک کر میرا ایڈمیشن کرا دیا اور خود چھ سال تک جب تک میں پڑھتا رہا گھر نہیں آئے ، میرے ڈاکٹر بننے کے کچھ مہینوں بعد ابا گھر آئے میں اسوقت دلہی کے ایک ہاسپیٹل میں پریکٹس شروع کر چکا تھا اور ایم ڈی کی تیاری کر رہا تھا ابا گھر پہونچے دوسرے دن میں فلائٹ سے گھر پہونچا آٹھ سال بعد ابا کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ پاسکا انکی اس قربانی اور اماں کی جفاکشی کو سوچ کر آنکھیں بے تحاشہ چھلک پڑیں خدا کے علاوہ کسی اور کے سامنے اگر سجدے کی اجازت ہوتی تو آج اس عظیم ہستی کے پیروں پر گر جاتا  ، ابا کے خوابوں کی تکمیل میری زندگی کی مقصد تھا ابھی اور منزلیں طے کرنی باقی تھیں اس لئے کچھ دن ابا کے ساتھ گزارنے کے بعد دہلی واپس چلا گیا دو مہینے بعد ایم ایس کاٹیسٹ ہوا اور بھی نکال لیا اور نیرو سرجن بن گیا ۔

ابا کی کوشش ، انکے حوصلے ، انکی قربانی کی بدولت آج میں شہر کا ایک بڑا ڈاکٹر ہوں کچھ سالوں بعد ابا کے نام سے جب اپنا ہاسپیٹل بنوایا تو ابا کی خواہش کے مطابق گاؤں کے لوگوں کا علاج فری رکھا ، ایک دن رات کو جیسے گھر پہونچا ہاسپیٹل سے فون آیا کہ سر ایک ایمرجنسی کیس ہے وہ بھی آپکے گاؤں کا کھانا ٹیبل پر رکھا چھوڑ کر ہاسپیٹل پہونچا دیکھا تو رحیم دادا باہر کھڑے ہیں جلدی سے گاڑی سے باہر نکلا انکو سلام کیا حال دریافت کرتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ گیا دیکھا تو ایک عورت اسٹریچر پر زندگی اور موت کے بیچ  سخت تکلیف میں ہے  جلدی سے آئی سی یوICU میں داخل کیا علاج شروع کیا دوسرے دن ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے ساتھ آپیریشن کیا کئی ہاسپیٹل سے لاعلاج ہونے کے بعد بالآخر اللہ نے جب انھیں میرے ہاتھوں شفا دی تو ہوش میں آنے کے بعد مجھے دیکھ کر رو پڑیں شاید انکو وہ بات یاد آگئی جب میں انکے گھر اپنی اسی تعلیم کے لئے ایک ہزار ادھار مانگنے گیا تھا تو انھوں کہا تھا کہ جب اوقات نہیں تو کیا ضرورت ہے پڑھانے کی اور پڑھ کر کون سا تمغہ جیت لوگے  وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے معافی مانگنے لگیں میں انکو اچھی صحت کی دعاء دیتے ہوئے صرف اتنا کہہ سکا کہ بھابھی دولت خوشحالی دیتی ہے اور تعلیم زندگی امیری پیسہ دیتی ہے اور تعلیم سلیقہ غربت پر طنز کریئے لیکن تعلیم پر نہیں میرے علاج و سلوک نے انکی زنگی بھی بدل دی اور انکی دنیا بھی کچھ دن بعد انھوں نے میرے نام سے ایک اسکول بنوایا جس میں غریب بچوں کی تعلیم کو فری رکھا ۔

اللہ انکو جزائے خیر دے  اور ہمیں والدین کی عظمت اور انکے تقدس کے احترام کی توفیق دے ۔

الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا الیکشن کمیشن نے دہلی اسمبلی کا الیکشن آزادانہ اور منصفانہ طور پر کرانے کے پیش نظر دہلی الیکشن دفتر اور دہلی پولیس کے متعلقہ حکام کے ساتھ خصوصی میٹنگ کرتے ہوئے انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا


الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا

الیکشن کمیشن نے دہلی اسمبلی کا الیکشن آزادانہ اور منصفانہ طور پر کرانے کے پیش نظر دہلی الیکشن دفتر اور دہلی پولیس کے متعلقہ حکام کے ساتھ خصوصی میٹنگ کرتے ہوئے انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا

نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے دہلی اسمبلی کا الیکشن آزادانہ اور منصفانہ طور پر کرانے کے پیش نظر جمعہ کے روز دہلی الیکشن دفتر اور دہلی پولیس کے متعلقہ حکام کے ساتھ خصوصی میٹنگ کرتے ہوئے انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ کمیشن نے ایک بیان میں کہا، ’’کمیشن نے دہلی کے چیف الیکشن افسر، خصوصی پولیس کمشنر کے علاوہ ضلع الیکشن افسر، ضلع پولیس کمشنر، نوڈل افسر اور مقامی اداروں کے سی ای او کے ساتھ دہلی اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا مکمل جائزہ لیا۔‘‘
کمیشن نے دہلی کے چیف سکریٹری، پولیس کمشنر، داخلہ سکریٹری،خزانہ کے سیکرٹری، خصوصی پولیس کمشنر کے ساتھ بھی ملاقات کی جس میں مختلف اہم معاملات پر بات چیت کی گئی تاکہ آٹھ فروری کو دارالحکومت کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر پرامن طریقے سے ووٹنگ ہو سکے۔
چیف الیکشن کمشنر سنیل ارورہ نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے کہ انتخابات آزاد، منصفانہ اور پرامن طریقے سے ختم ہو۔اس سے پہلے، کمیشن کے حکام کی ایک ٹیم نے شاہین باغ کا دورہ کیا تھا تاکہ علاقے کی صورت حال کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے۔ شاہین باغ میں شہریت ترمیم قانون (سي ا ےاے) اور قومی شہری رجسٹر (این آرسي) کے خلاف سینکڑوں خواتین دھرنا اور مظاہرہ کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ 70 رکنی دہلی اسمبلی انتخابات کے لئے آٹھ فروری كو ووٹنگ ہونی ہے۔ نتائج کا اعلان 11 فروری کو کیا جائے گا۔

مرلی اخراجات، ایم کے داس پولیس کے خصوصی مشاہد مقرر

ای سی آئی نے دہلی کے سول اور پولیس عہدیداروں کے ساتھ جائزہ میٹنگ کے بعد قومی راجدھانی خطہ دہلی میں قانون ساز اسمبلی انتخابات 2020 کے لئے بی مرلی کمار (سابق آئی آر ایس افسر- 1983 بیچ) کو اخراجات کے خصوصی مشاہد جبکہ مرنال کانتی داس (آئی پی ایس – 1977 بیچ) کو خصوصی پولیس مشاہد مقرر کیا ہے۔
اخراجات کے خصوصی مشاہد کے طور پر مرلی کمار دہلی کے اعلیٰ انتخابی افسر کے صلاح ومشورے سے انتخابی مشینری کے ذریع کئے گئے کاموں کی نگرانی کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ خفیہ معلومات اور سی – ویجل ، ووٹر ہیلپ لائن : 1950 کے ذریعے ،ایسے تمام افراد ؍ اکائیوں کے خلاف موصولہ شکایات کی بنیاد پر کارروائی کریں گے، جو نقد رقم ، شراب اور مفت اشیاء تقسیم کرکے ووٹروں کو راغب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی طرح داس ایک خصوصی پولیس مشاہد کے طور پر پولیس کی تعیناتی اور سکیورٹی سے متعلق دیگر امور کی نگرا نی کریں گے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ ایم کے داس کو، جو منی پور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر ریٹائر ہوئے ہیں، 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران تریپورہ اور میزورم کے لئے اور حال ہی میں ہوئے جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات میں خصوصی پولیس مشاہد مقرر کیا گیا تھا۔ انکم ٹیکس محکمے میں تحقیقاتی شعبے میں ماضی کے تجربے کی بنیاد پر بی مرلی کمار کو حال ہی میں مہا راشٹر اور جھارکھنڈ میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران 8 پارلیمانی حلقوں کے لئے خصوصی اخراجات کا مشاہد مقرر کیا گیا تھا۔