اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 8 January 2020

دہلی میں بی جے پی کی نہیں مودی کی شکست ہوگی عآپ جن ارکان اسمبلی کو ٹکٹ نہیں دے گی وہ بغاوت کریں گے اور یہ بغاوت یقیناً کانگریس کو فائدہ پہنچائے گی۔ اگر دہلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست جاری رہی تو یہ شکست بی جے پی کی نہیں بلکہ مودی کی ہوگی

دہلی میں بی جے پی کی نہیں مودی کی شکست ہوگی

عآپ جن ارکان اسمبلی کو ٹکٹ نہیں دے گی وہ بغاوت کریں گے اور یہ بغاوت یقیناً کانگریس کو فائدہ پہنچائے گی۔ اگر دہلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست جاری رہی تو یہ شکست بی جے پی کی نہیں بلکہ مودی کی ہوگی

سابق وزیر اعلی مرحومہ شیلا دکشت کی قیادت میں کانگریس نے تین چناؤ جیتے اور ایک ہارا۔ جس چناؤ میں ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا وہ سال 2013 کا تھا۔ وہ سال 2013 کا چناؤ جیت سکتی تھیں اور چوتھی مرتبہ وزیر اعلی بن سکتی تھیں لیکن انہوں نے ان اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا جو ریاست دہلی کی ترقی کو روکتے تھے۔ ان کے لئے بھی بجلی میں سبسڈی دینا اور پانی کو مفت کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا کیونکہ پندرہ سال کے اقتدار میں ان کو اتنا تو اندازہ تھا کہ کس ہیڈ کا فنڈ کس ہیڈ میں کیسے کیا جا سکتا ہے اور پرائیویٹ بجلی کمپنیوں کو کیسے خوش کیا جا سکتا ہے، لیکن انہوں نے ایسا اس لئے نہیں کیا کیونکہ دہلی کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی۔ ان کو معلوم تھا کہ یہ دو دھاری تلوار ہے ایک جانب ریاست کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے درکار فنڈ میں کمی آجاتی ہے جس کی وجہ سے ریاست میں ترقی ممکن نہیں ہوتی اور دوسری جانب اگر عوام کو مفت خوری کی عادت پڑ جائے تو وہ عوام ترقی نہیں کر پاتی۔
بحرحال دہلی اسمبلی کے انتخابات میں اب ایک ماہ بھی نہیں رہا ہے اور آج کی صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ برسر اقتدار جماعت جس کو ہم صرف کیجریوال حکومت کہیں تو زیادہ بہتر ہو گا اس کی واپسی یقینی ہے، لیکن صورتحال بدل بھی سکتی ہے اور ایسا دہلی میں ہوا بھی ہے۔ سال2013 میں ہر آدمی یہی کہہ رہا تھا کہ دہلی میں شیلا دکشت کے لئے کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن نتائج میں ان کی پارٹی تیسرے نمبر پر آئی اور صرف وہ آٹھ سیٹیں ہی جیت پائیں، جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن تھے کیونکہ مسلمانوں نے کانگریس کے خلاف اس لہر میں بھی شیلا دکشت کا دامن تھامے رکھا تھا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شیلا دکشت کے زمانہ کی ترقی آج بھی نظر آتی ہے۔ آج دہلی میں مفت پانی اور بجلی میں زیرو بل کی ضرور بات ہو رہی ہے اور دہلی کے 28 لاکھ صارفین کے بجلی کے بل زیرو آئے ہیں لیکن ترقی کے نام پر کچھ نہیں ہوا ہے۔ دہلی کے تعلیمی نظام کو دیکھا جائے، جس کی سب سے زیادہ تشہیر ہوتی ہے اس میں گزشتہ پانچ سالوں میں ایک بھی نیا اسکول نہیں جڑا ہے جبکہ پانچ سو نئے اسکول کھولنے کا وعدہ کیا تھا عام آدمی پارٹی نے۔ اسکولوں میں نیا پلاسٹر اور سفیدی ضرور زیادہ نظر آتی ہے لیکن دسویں اور بارہویں کے نتائج پہلے سے کافی گر گئے ہیں جو ایک تشویش کا پہلو ہے، کیونکہ اسکول کی پہچان اس کے نتائج سے ہوتی ہے۔ ایک بھی نیا کالج یا نئی یونیورسٹی نہیں کھولی گئی۔
صحت کے نظام کو دیکھا جائے تو جن محلہ کلینک کی بات ہوتی ہے ان کی جو حالت ہے اور اس میں جو کرپشن ہے وہ جگ ظاہر ہے، ان کی وجہ سے دہلی میں پہلے سے موجود ڈسپنسری نظام ختم ہو گیا ہے کیونکہ محلہ کلینک صرف پارٹی کے لوگوں کی مالی مدد اور خوش کرنے کے لئے شروع کیے گئے تھے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں نہ تو کوئی نیا اسپتال کھولا گیا اور نہ ہی نئے بیڈ کا اضافہ کیا گیا۔ ٹرانسپورٹ کا حال یہ ہے کہ ڈی ٹی سی میں پچھلے پانچ سالوں میں ایک بھی نئی بس نہیں خریدی گئی ہے۔ میٹرو کے فیز چار میں کتنے مسائل کھڑے ہوئے اور کتنی تاخیر سے شروع ہوئی۔ انفراسٹرکچر کے نام پر دہلی میں کچھ نہیں ہوا، گزشتہ پانچ سالوں میں صرف تین کلومیٹر کی سڑک بنی ہے، نہ ہی کوئی نیا فلائی اوور بنا، بس باراپولا فلائی اوور پر ہی پہلے کے منصوبوں پر عمل ہوا ہے۔ ظاہر ہے اس کی وجہ پیسے کی کمی ہے۔
دہلی میں تجارت اور نوکری کے علاوہ کوئی اور ذریعہ معاش نہیں ہے، دونوں ہی محاذ پر ریاستی اور مرکزی حکومت ناکام ہیں، انہیں کوئی فکر بھی نہیں ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے کاروبار بری طرح متاثر ہیں اور عالمی مندی کی وجہ سے لوگوں کی نوکریاں جا رہی ہیں۔ اس کے اوپر سے شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کو لے کر سماج منقسم نظر آرہا ہے۔ اس لئے تجارت، بے روزگاری، سی اے اے اور طلباء کے خلاف تشدد، دہلی کے انتخابات میں بڑے مدے رہیں گے۔ بی جے پی جہاں غیر منظورشدہ کالونیوں کو منظوری دینے اور شہریت ترمیمی قانون اور قوم پرستی پر انتخابات لڑے گی وہیں عام آدمی پارٹی مفت پانی، بجلی، تعلیم اور صحت میں اپنی کارکردگی پر خوب بڑھ چڑھ کر بیان بازی اور اشتہار بازی کرے گی، تیسری جانب کانگریس اپنے دور کے کام اور سماج میں موجود بے چینی کو لے کر عوام کے پاس جائے گی۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے ٹی وی پر صرف کیجریوال کے اشتہار دیکھے جا سکتے ہیں اور یہ پیسہ دہلی کے عوام کا ہے۔
بی جے پی کا اپنا 33 فیصد کا ایک کیڈر ووٹ مانا جاتا ہے جو اس کو خراب سے خراب حالت میں بھی مل جاتا ہے۔ سال 2013 میں بی جے پی کو 33 فیصد ووٹ ملے تھے اور اسے 32 سیٹیں ملی تھیں، لیکن سال 2015 میں اس کو 32.3 فیصد ووٹ ملے تھے، لیکن صرف تین سیٹیں ہی ملی تھیں۔ بی جے پی کو اتنی کم سیٹیں ملنے کی وجہ کانگریس کو ملا ووٹ تھا۔ کانگریس کو سال 2013 میں 24 فیصد ووٹ ملا تھا جبکہ سال2015 میں اس کو محض 9.7 فی صد ووٹ ملا تھا اور عام آدمی پارٹی کا ووٹ سال 2013 کے 29 فیصد سے بڑھ کر 54.3 فیصد ووٹ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے کانگریس آٹھ سیٹوں سے صفر پر آ گئی تھی اور عام آدمی پاری 28 سے 67 سیٹوں پر پہنچ گئی تھی۔ اس لئے ان انتخابات کی کنجی کانگریس کے پاس ہے۔ عام آدمی پارٹی کی یہ کوشش ہے کہ کانگریس کو انتخابی تصویر سے دور رکھا جائے تاکہ اس کو کامیاب ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو، کیونکہ عام آدمی پارٹی کی کارکردگی لوک سبھا، کارپوریشن اور دہلی یونیورسٹی طلباء یونین کے انتخابات میں بہت خراب رہی ہے۔
ان انتخابات میں کانگریس کے لئے یہ اچھا ہے کہ اس کی جھارکنڈ سمیت کئی ریاستوں میں انتخابی کارکردگی اچھی رہی ہے اور شہریت ترمیمی قانون اور طلباء کے احتجاج میں وہ مرکز میں دکھائی دی ہے۔ اگر ان وجوہات کی بنیاد پر عوام نے کانگریس پر اعتماد کا اظہار کیا تو عام آدمی پارٹی کے لئے پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے۔ ایک بات صاف ہے دہلی میں بی جے پی کو جو بھی ووٹ مل سکتے ہیں وہ نریندر مودی کے نام پر ہی مل سکتے ہیں کیونکہ پارٹی سے بی جے پی کے اپنے ووٹر بھی بہت ناراض ہیں اور شائد وہ ووٹ ڈالنے کے لئے بھی نہ نکلیں۔ دہلی بی جے پی کے لئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔
عام آدمی پارٹی کی کارکردگی دہلی کے علاوہ کسی بھی ریاست میں اچھی نہیں رہی ہے اور دہلی میں جس طرح غیر مسلم ووٹر کو ناراض نہ کرنے کی غرض سے کیجریوال نے شہریت ترمیمی قانون کے احتجاجوں سے خود کو دور رکھا ہے وہ ان کے لئے مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔ اس کے لئے ٹینا فیکٹر (TINA-There is no alternativeکوئی متبادل نہ ہونا) اگر کام کر گیا تو وہ کچھ بہتر کر سکتی ہے نہیں تو اس کے لئے بھی راہ اتنی آسان نہیں ہے کیونکہ ٹکٹ تقسیم کے وقت جن ارکان اسمبلی کو پارٹی ٹکٹ نہیں دے گی وہ بغاوت کرے گا اور یہ بغاوت یقیناً کانگریس کو فائدہ پہنچائے گی۔ دہلی کے انتخابات بہت دلچسپ رہیں گے اور اگر یہاں بھی بی جے پی کی شکست جاری رہی تو یہ سیدھا نریندر مودی کی قیادت پر سوال کھڑے ہوں گے یعنی دہلی کی شکست بی جے پی کی نہیں مودی کی شکست ہوگی

حیدر آباد: جمعیۃ علماء نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا کیا فیصلہ جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش نے ایک اجلاس کے دوران فیصلہ کیا کہ وہ شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنا احتجاجی مظاہرہ جاری رکھیں گے۔


حیدر آباد: جمعیۃ علماء نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا کیا فیصلہ

جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش نے ایک اجلاس کے دوران فیصلہ کیا کہ وہ شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنا احتجاجی مظاہرہ جاری رکھیں گے۔

حیدرآباد: جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پر دیش کے ارکین عا ملہ و مدعوئین خصو صی کا اجلاس آج صبح دفتر ریا ستی جمعیۃ علماء مسجد ز م ز م باغ عنبر پیٹ حیدرآباد میں بصدا رت مو لانا حا فظ پیر شبیر احمد صد ر جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پر دیش منعقد ہوا۔ قر آن کریم کی تلا وت سے اجلاس کا آغاز ہو ا۔ حا فظ پیر شبیر احمد نے کہاکہ 2 جنوری کو دہلی میں منعقدہ جمعیۃ علماء ہند کی قومی ورکنگ کمیٹی میں ملک میں قوم و ملت کو درپیش اہم مسائل بشمول سی اے اے این آر سی اور این پی آر پر غور و خوص کیا گیا۔
ورکنگ کمیٹی کااجلاس مولانا قاری عثمان منصور پوری صدر جمعیۃ علماء ہند کی صدارت میں ہوا۔ مولانا سید محمود اسعد مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ ہند نگران اجلاس تھے۔ اس اجلاس میں اہم امور پر کئی فیصلے لئے گئے۔ حا فظ پیر شبیر احمد نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک کے بڑے شہروں میں احتجاجی اجلاس منعقد کیے جائیں۔ انہوں بتایا کہ اجلاس میں طے کیا گیا کہ آئندہ ماہ فروری کے پہلے ہفتہ میں حیدرآباد میں ریاستی سطح کا احتجاجی اجلاس منعقد کیا جائے گا-
اسی سلسلے میں ریاستی جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھراپردیش کے زیر اہتمام 31/جنوری کو تلنگانہ کے ضلع نرمل میں اور 8/ فروری کو شہر حیدرآباد میں شہریت ترمیمی قانون،این آر سی اور این پی آر کے خلاف جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی رہنما خصوصا مولانا سیدمحمود اسعد مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند اور مختلف مسالک کے علماء اور تمام مذاہب کے رہنماؤں کے علاوہ سماجی اور ہم خیال سیاسی لیڈران شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ ایک عشرہ تلنگانہ میں اور آندھرا پردیش میں ملک بچاؤ، دستور بچاؤ کے عنوان سے منعقد کیاجائے گا۔
عوام میں شعور بیدارکیا جائے گا۔این پی آر،شہریت ترمیمی قانون اور این سی آر کی تفصیلات کو پروجیکٹر کے ذریعہ بتایا جائے گا۔ 9 جنوری سے 22 جنوری تک تلنگانہ کے اضلاع،محبوب نگر،نلگنڈہ،سوریا پیٹھ،کھمم،ورنگل،کریم نگر،جگتیال،نظام آباد،عادل آباد،میدک،رنگاریڈی،،وقار آباد،حیدرآباد، میں جلسے ہوں گے جس میں مہمان خصوصی کے طور پر مولانا محمد عرفان قاسمی مبلغ دارالعوام دیوبند اور ریاست کے ممتاز علماء کرام کے علاوہ مقامی علماء کرام کے خطابات ہوں گے۔اسی طرح 20 جنوری سے 29جنوری تک آندھرا اور رائلسیماء کے اضلاع کتہ گوڈم،وجئے واڑہ،گنٹور،اونگول،نیلور،چتور،کڑپہ،انت پور،کرنول،ناگر کرنول میں ملک بچاؤ،اور دستور بچاؤ کے عنوان سے جلسے منعقدہو نگے،جس میں مہمان خصوصی کے طور پر مولانا محمد یامین صاحب قاسمی مبلغ دارالعوام دیوبند کے علاوہ ریاست کے ممتاز علماء کرام اور مقامی علماء کرام کے خطابات ہوں گے۔
واضح ہو کہ تلنگانہ کے اضلاع کی طرح آندھرا اور رائلسیماء کے اضلاع میں بھی عوام میں شعور بیدار کیاجائے گا۔اس کے علاوہ پروجیکٹر کے ذریعہ عوام الناس کی تفصیلات سے واقف کروایا جائے گا۔ اس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 26/جنوری کو تلنگانہ وآندھراپردیش کے اضلاع میں این سی آر،این پی آر اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف خاموشی کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ کیا جائے۔آج اجلاس میں تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شہریت ترمیمی قانون، این پی آر، این سی آر کے خلاف اپنا موقف واضح کریں ور نہ ر یاستی جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھراپردیش بلدیات اور میونسپل کار پوریشنوں کے انتخابات میں حکومت کے خلاف مہم چلائے گی۔
اسی طرح مرکزی حکومت سے بھی مطالبہ کیاگیا ہے کہ وہ (1990)اور(2010) میں جس طرح کی مردم شماری ہوئی تھی اب بھی اسی نہج پر مردم شماری کرائیں اس میں جو ترمیم کی گئی ہے ہم اس لئے تیار نہیں ہے اس لئے ہم اس کی مخالفت کررہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جمعیۃ علماء کی آواز پر ملک گیر سطح پر 2500 مقامات بشمول تلنگانہ و آندھرا کے13 دسمبر کو ا اس سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف زبردست تاریخی احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔
علاوہ ازیں جمعیۃ علماء کے زیرِ اہتمام تلنگانہ، آندھرا اور رائلسیماء کے تمام اضلاع میں مسلسل احتجاجی زنجیری ہڑ تال، دھرنے اور ریلیاں منعقد کی جارہی ہیں۔ واضح ہو کہ حا فظ پیر شبیر احمد نے تلنگانہ کے اضلاع سوریا پیٹ، نلگنڈہ اور کھمم کا دورہ کرتے ہوئے احتجاجی دھرنا کیمپ پہنچ کر اظہارِ یگانگت اور حوصلہ افزائی کی۔
انہوں نے جمعیۃ کے رہنماوں و کارکنان کو ہدایت دی کہ عوام میں اس سیاہ قانون کے خلاف شعور بیدار کریں اور احتجاج کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھیں جب تک یہ کالاقانون ختم نہیں ہوجاتااسی طرح ا س اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون، این سی آر اور این پی آر کے خلاف جوجماعتیں اور تنظیمں احتجاج کر رہی ہیں ان میں شریک ہوکر ان کا ساتھ دیں۔
آج اس اجلاس میں مولانا قا ضی سمیع الدین قا سمی،صدر جمعیۃ علماء میدک،،مولانا، مولانا عبدالمغنی مظا ہری صدرجمعیۃ علماء گریٹر حیدرآباد،مولانا مصدق قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء گر یٹر حیدرآباد،مولانا الیاس جامعی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع نیلور، مولانا حبیب اللہ قا سمی، صدر جمعیۃ علماء ضلع گنٹور،، مولانا قطب الدین قا سمی سکندر آباد، مولانا مقصود احمد طاہر صاحب،حا فظ پیر خلیق احمد صا بر جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پر دیش،۔ کے علا وہ دیگر احباب نے شر کت کی۔

دل سے جیل جانے کا خوف جاتا رہا: صدف جعفر سی اے اے کے خلاف احتجاج میں شمولیت کے پاداش میں جیل جانے کے بعد رہا ہونے والی صدف جعفر نے اپنی گرفتاری اور ریاستی پولیس کی جانب سے انکے خلاف کی گئی بربریت کے لئے یوگی آدتیہ ناتھ پر تنقید کی


دل سے جیل جانے کا خوف جاتا رہا: صدف جعفر

سی اے اے کے خلاف احتجاج میں شمولیت کے پاداش میں جیل جانے کے بعد رہا ہونے والی صدف جعفر نے اپنی گرفتاری اور ریاستی پولیس کی جانب سے انکے خلاف کی گئی بربریت کے لئے یوگی آدتیہ ناتھ پر تنقید کی

لکھنؤ: شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف احتجاج میں شمولیت کے پاداش میں جیل جانے کے بعد منگل کے روز رہا ہونے والی کانگریس لیڈر صدف جعفر نے اپنی گرفتاری اور ریاستی پولیس کی جانب سے انکے خلاف کی گئی بربریت کے لئے اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی تنقید کی۔
لکھنؤ کی ضلع جیل سے باہر نکلنے کے بعد صدف نے میڈیا نمائندوں سے کہا ’’جیل جا کر میرے دل سے خوف ختم ہوگیا ہے۔ اب اس متنازع قانون کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے میرے اندر مزید ہمت پیدا ہوگئی ہے۔‘‘
انہوں نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر طنز کستے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی کا شکریہ کہ انہوں نے میرے اندر سے جیل جانے اور پیٹے جانے کا خوف ختم کر دیا۔
صدف جعفر اور سماجی کارکن و سابق آئی پی ایس افسر ای آر دارا پوری سمیت متعدد افراد کو گذشتہ 19 دسمبر کو ریاستی راجدھانی لکھنؤ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونےوالے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کے پاداش میں جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ گذشتہ سنیچر کو ایک مقامی کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔
صدف جعفر کو جب پولیس نے گرفتار کیا تھا اس وقت وہ فیس بک لائیو ویڈیو بنارہی تھیں جس میں وہ تشدد پر آماد افراد کے خلاف کچھ کاروائی نہ کرنے پر پولیس کی تنقید کرتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں کہ اسی وقت ایک پولیس آکر انہیں بھی گرفتار کرلیا تھا۔
صدف جعفر کی رہائی کے لئے معروف شخصیات بشمول سوارا بھاسکر، میرا نائر اور مہیش بھٹ نے شوسل میڈیا پر ان کی گرفتار کے خلا ف اپنی آواز بلند کی تھی۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی صدف کی حمایت میں ٹوئٹ کرتے ہوئے یوپی حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

شاکر حسین کو مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا خزانچی بنایا گیا سید شاہد راحت نے دی مبارکباد ذاکر حسین

شاکر حسین کو مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا خزانچی بنایا گیا

سید شاہد راحت نے دی مبارکباد

ذاکر حسین

نئ دہلی,8جنوری(نامہ نگار) شاکر حسین کو ایک بار پھر مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن (منسٹری آف مائنارٹی افیئرس,گورنمنٹ آف انڈیا)کا خزانچی بنایا گیا ہے۔اس موقع پر دہلی کے معروف سماجی کارکن سید شاہد راحت نے شاکر حسین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کیلئے دعائوں اور اپنی نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔سید شاہد نے صحافی ذاکر حسین سے گفگتو کرتے ہوئے کہا کہ شاکر حسین کی قابل ذکر خدمات کو فراموش کرنا ممکن نہیں۔آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔سید شاہد راحت نے مزید کہا کہ شاکر حسین کو مولانا آزاد ایجوکیشن فائونڈیشن کا دوبارہ خزانچی بنائے جانے پر ہم بے پناہ مسرتوں کا اظہار کرتے ہیں۔

Tuesday, 7 January 2020

’جو ہم پارلیمنٹ میں نہیں کرسکتے تھے وہ آپ نے روڈ پر کر دکھایا‘ جامعہ میں احتجاج کے ۲۶؍ویں دن ممبر پارلیمنٹ ایس ٹی حسن سمیت دیگرلیڈران کا خطاب، بھارت بند کی حمایت

’جو ہم پارلیمنٹ میں نہیں کرسکتے تھے وہ آپ نے روڈ پر کر دکھایا‘
جامعہ میں احتجاج کے ۲۶؍ویں دن ممبر پارلیمنٹ ایس ٹی حسن سمیت دیگرلیڈران کا خطاب، بھارت بند کی حمایت
نئی دہلی۔ ۷؍جنوری: (جامعہ کیمپس سے محمد علم اللہ کی رپورٹ) جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سی اے اے ، این آر سی اور این  پی آرکے خلاف جاری آج تحریک کا ۲۶؍واں دن اور بھوک ہڑتال کا ۷؍واں دن تھا۔جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی نے کل ٨  جنوری کو ہونے والے بھارت بند کی حمایت کی اورجامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباو اساتذہ ودیگر عملہ سمیت ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ اس وہ بھارت بند کو کامیاب بنائیں۔ آج بھی بڑی تعداد میں عوام اور جامعہ کے طلبہ نے احتجاج  میں شرکت کی اورحکومت مخالف نعرے لگائے وہیں جے این یو پر نقاب پوش غنڈوں کے حملوں کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ سی اے اے قانون واپس لینے کے مطالبے پر اڑے رہے۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے اور پولس تشدد میں زخمی جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کے ایک ممبر نے بتایا کہ ہم اپنے حقوق کے لیے ، آئین اور ملک کو بچانے کےلیے لڑرہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولس نے ہمارے ہاتھ پاؤں ضرور توڑ دیے ہیں لیکن ہمارے حوصلے اب بھی مضبوط ہیں ہم کسی بھی حال میں اب خاموش نہیں بیٹھنے والے ہیں، سیاہ قانون کی واپسی تک ہم اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔ آج مظاہرین کو خطاب کرنے والوں میں عادل حسن آزاد، ایڈوکیٹ عبیداللہ علیم، ڈاکٹر کفیل احمد، مشہور ناول نگار مشرف عالم ذوقی، ممبر آف پارلیمنٹ ایس ٹی حسن ، غفران خان (جنرل سکریٹری ایس وائی ایس)، یوگیش بھاردواج (پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ)، سماجی کارکن شہریار اور محمد شعیب گڈا شامل ہیں۔ ایڈوکیٹ عبید اللہ علیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں بحران کی اس گھڑی میں آپ کے جذبوں کو سلام کرتا ہوں، جہاں پولس رکشک کا کردار نبھانے کے بجائے بھکشک بنی ہوئی ہے، میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے ساتھ ساتھ ہر اس شخص کی مذمت کرتا ہوں جو ہمیں تقسیم کرناچاہتا ہے۔ انہوں نے جامعہ کے بچوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہاکہ آپ کی آواز ملک کے کونے کونے میں پہنچ گئی ہے۔ ممبر آف پارلیمنٹ ایس ٹی حسن نے کہا کہ میں جامعہ کے طلبہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ جو ہم پارلیمنٹ میں نہیں کرسکتے تھے وہ آپ نے سڑکوں پر کرکے دکھادیا، آپ نے ان سڑکوں سے آواز اُٹھا کر بتا دیا کہ ہم ملک کو فاشزم کے جبڑوں میں نہیں جانے دیں گے۔ ڈاکٹر کفیل نے کہا کہ ہم جے این یو طلبہ یونین صدر ایشی گھوش کے خلاف کی گئی ایف آئی آر کی مذمت کرتے ہیں انہیں مارا گیا ہے، اور ان کے سر پر ٹانکے بھی لگے ہیں لیکن ان سب کے باوجود سرور روم میں توڑ پھوڑ معاملے میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ این آر سی معاملے پر انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف اقلیتوں کے خلاف ہے بلکہ غریبوں کے خلاف بھی ہے۔  حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت  اقلیتوں اور غریبوں سے ووٹ ڈالنے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے۔

مشہور فلمی اداکارہ دیپکا پڈکون جے این یو پہنچی، ایشی گھوش سے ملاقات

مشہور فلمی اداکارہ دیپکا پڈکون جے این یو پہنچی، ایشی گھوش سے ملاقات
نئی دہلی۔ ۷؍جنوری: جواہرلعل نہرویونیورسٹی (جے این یو ) میں نقاب پوش دہشت گردوں کے تشدد کے خلاف احتجاج میں مشہور فلمی اداکارہ دیپکا پڈکون بھی شامل ہوئیں۔ انہوں نے اس موقع پر جے این یو طلبہ یونین صدر ایشی گھوش سے ملاقات بھی کی لیکن مظاہرین کو خطاب نہیں کیا۔ انہوں نے وہاں تقریباً طلبہ کے درمیان دس منٹ گزارا ، انہوں نے میڈیا سے بھی کوئی گفتگو نہیں کی اس موقع پر ان کے ساتھ جے این یو کے سابق طلبہ یونین صدر کنہیا کمار بھی موجود تھے۔ اس سے قبل دیپکا نے ایک نیوز چینل کو دئیے انٹرویو میںکہا تھا کہ یہ دیکھ کر مجھے فخر ہوتا ہے کہ ہم اپنی بات کہنے سے نہیں ڈرتے ہیں، خواہ ہماری سوچ کچھ بھی ہو، لیکن میرے خیال سے ہم  ملک اور اس کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہیں یہ اچھی بات ہے‘‘۔ انہوں نے کہاکہ میں امید کرتی ہوں کہ امن کا  ماحول بنایاجائے‘‘۔

جمعیت یوتھ کلب ضلع باغپت کی میٹنگ منعقد ،لیے گئے کئی اہم فیصلے

جمعیت یوتھ کلب ضلع باغپت کی میٹنگ منعقد ،لیے گئے کئی اہم فیصلے
رپورٹ محمد دلشاد قاسمی
باغپت (7 جنوری 2020 آئی این اے نیوز)
آج شہر باغپت کے مدرسہ انوار القرآن میں جمعیت یوتھ کلب ضلع باغپت کی اہم میٹنگ منعقد کی گئی، جس کی صدارت حضرت مولانا مفتی محمد عباس صاحب صدر جمعیت علماء ضلع باغپت نے فرمائی،جب کہ سرپرستی شہر قاضی حضرت مولانا قاضی حبیب الرحمٰن صاحب نے فرمائی،جب کہ نظامت کے فرائض حضرت حافظ محمد قاسم صاحب جنرل سیکرٹری جمعیت علماء ضلع باغپت نے انجام دیئے،
میٹنگ کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا، اس کے بعد جمعیت یوتھ کلب کے حوالے سے حضرت مولانا محمد خالد سیف اللہ صاحب کنوینر جمعیت یوتھ کلب ضلع باغپت نے قیمتی معروضات پیش کی، انہوں نے کہا کہ اس شعبے کو قائم کرنے کا اصل مقصد وہ دراصل امت مسلمہ کے نوجوانوں میں خدمت خلق کے جذبے کو پروان چڑھانا مقصد ہے،اور ملت اسلامیہ کے نونہالوں کو غلط جگہوں سے بچا کر ایک اچھے راستہ پر ڈالنے کا ایک بہترین لائحہ عمل ہے،اس لیے اس سے اپنے نوجوانوں کو اس سے منسلک کرائیں،اس موقع پر حاضرین اپنے اپنے یہاں پر اٰنے والے ماہ کے اندر جلد سے جلد پرویش اور پرتھم کے کیمپ کرانے کے عزائم کیئے،
حضرت حافظ محمد قاسم صاحب نے جمعیت یوتھ کلب کے 2020 کے ایکشن پلان کو پڑھ کر سنایا اور اس میں کیے گئے عزائم پر تفصیلی روشنی ڈالی،جس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر ہر جگہ ترنگا لہرایا جائے،اور اسی طرح اپنے نزدیکی سرکاری و نیم سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی عیادت و خدمت کے لیے جمعیت یوتھ کلب کے ٹریننگ یافتہ بچوں کو لیکر انکی خدمت کی جائے
اس موقع پر قاری محمد صابر،حضرت مولانا محمد عاقل سراج نعمانی،حافظ محمد لیاقت،مولانا محمد عمران،مولانا محمد اقبال، حافظ محمد مظفر، مفتی محمد ندیم ندوی، قاری افتخار الحسن،قاری محمد ساجد،قاری محمد کامل،مولانا محمد ابصار و شہر و اٰس پاس سے تشریف لائے ائمہ و علماء کرام موجود رہے،مجلس کا اختتام حضرت مولانا مفتی محمد عباس صاحب کی دعا پر ہوا

نربھیا معاملہ: مجرموں کی ’موت کا پروانہ‘ جاری، 22 جنوری کو صبح سات بجے پھانسی



نربھیا معاملہ: مجرموں کی ’موت کا پروانہ‘ جاری، 22 جنوری کو صبح سات بجے پھانسی


پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے نربھیا عصمت دری اور قتل معاملے میں سبھی چار قصورواروں کے خلاف پھانسی کی سزا کے تحت تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔ چاروں مجرموں کو پھانسی ایک ساتھ 22 جنوری کو دیا جائے گا۔ عدالت نے ڈیتھ وارنٹ (موت کا پروانہ) جاری کرتے ہوئے ہوئے کہا چاروں کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے لہذا سبھی کو ایک ساتھ 22 جنوری کو صبح سویرے 7 بجے پھانسی دی جائے گی۔

پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے جج نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے چاروں مجرموں سے بات کی۔ گفتگو کے دوران عدالت نے میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی اور میڈیا کو اندر جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔

اس فیصلہ کے بعد نربھیا کی ماں نے انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج کا دن ہمارے لیے بہت بڑا دن ہے۔ آج کی تاریخ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور لوگوں کا بھروسہ عدالتی نظام میں بڑھے گا۔‘‘ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نربھیا کی ماں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک بہت بڑا فیصلہ ہے اور آج کے دن کے لیے وہ بہت زمانے سے انتظار کر رہے تھے۔ نربھیا معاملہ میں انصاف حاصل کرنے کے بعد انھوں نے سبھی لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
نربھیا کے مجرموں کے نام سے جو ڈیتھ وارنٹ جاری کیا گیا ہے اس سے مراد ’موت کی سزا پر عمل درآمد‘ سے ہے۔ اسے بلیک وارنٹ بھی کہا جاتا ہے۔ بلیک وارنٹ پر جج کے دستخط ہوتے ہیں اور اس کے بعد یہ جیل انتظامیہ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ پھانسی کی سزا کے وقت کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس کے بعد طے شدہ اصولوں کے مطابق مجرم کو پھانسی دی جاتی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی نہیں کی ہے. – Sourceبشکریہ قومی آواز 

*سنویدھان بچاؤ سنگھرش مورچہ کے بینرتلے* *دربھنگہ ٹاور پر سی اے اے اور این آر سی کے خلاف زبردست احتجاجی اجلاس*

*سنویدھان بچاؤ سنگھرش مورچہ کے بینرتلے*

*دربھنگہ ٹاور پر سی اے اے اور این آر سی کے خلاف زبردست احتجاجی اجلاس*

*ملک میں مذہب کی بنیاد پر بنایا گیا کسی بھی قانون کو ہم نہیں مانتے: نظرعالم*

*’حکومت ہم سے ہم حکومت سے نہیں‘،’حکومت کو قانون واپس لیناہوگا‘ کے نعروں سے گونجا شہر*

دربھنگہ: مدھوبنی 7/جنوری 2020 آئی این اے نیوز
 رپورٹ! محمد سالم آزاد
 سی اے اے، این آرسی، این پی آر کے خلاف دربھنگہ ٹاور پر سنویدھان بچاؤ سنگھرش مورچہ کے ذریعہ احتجاجی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔جلسہ سے قبل مہاتماگاندھی کے مجسمہ پر آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم، آئیسا کے ضلع صدر پرنس راج سمیت درجنوں لوگوں نے گلپوشی کی۔ گلپوشی کے بعد جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے نظرعالم نے کہا کہ ملک اب عوام کے حوالے نہیں بلکہ مودی۔امیت شاہ کے حوالے ہوچکا ہے۔ ملک مودی۔امیت شاہ کے قانون سے چل رہا ہے۔ملک کے طلبہ، نوجوان اور انصاف پسند لوگوں نے مودی حکومت کے اس کالے قانون کو خارج کردیا ہے اور لڑائی اب آرپار کی ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی عوام اب تڑی پار امیت شاہ۔مودی کی جوڑی کو برداشت نہیں کرنے والی ہے اور اب تو یہ لڑائی آرپار بن چکی ہے۔ نظرعالم نے مزید کہا کہ ملک سے بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ ملک کی عوام نے ٹھان لیا ہے کہ جب کالے انگریزوں سے لڑے ہیں تو اب مودی شاہ سے لڑکر بھی ملک کو آزاد کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مودی شاہ کی جگل بندی ملک کو ایک مرتبہ پھر سے تحریک کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کررہی ہے جسے عوام کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی اور عوام کھل کر اس کا جواب دے رہی ہے آگے بھی دے گی۔ وہیں مسٹرعالم نے نتیش کمار پر بھی نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار بہار کے اقلیت طبقہ کو فریب دے رہے ہیں۔ بہار کی عوام این آرسی کے مسئلہ پر نتیش حکومت کو بھی سبق سکھائے گی۔ جب کہ بھاکپا مالے کے لیڈر بھوشن منڈل نے کہا کہ ملک کے اندر ہمارا اتحاد ہے۔ اس کو توڑنے والوں کو ہم سب مل ایسی حکومت کو توڑ دیں لیکن کسی بھی حالت میں ملک کے اتحاد کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ ہم مشترکہ تہذیب کی وراثت کے لوگ ہیں اور مشترکہ تہذیب کی وراثت کو نہیں ٹوٹنے دیں گے۔ وہیں آئیسا ضلع صدر پرنس راج نے کہا کہ مودی جی آپ جان لیجئے عوام نے آپ کو اقتدار میں بٹھایا ہے، تو عوام آپ کو اقتدار سے اکھاڑ پھینکنے کا بھی کام کرے گی اور اس کا اب وقت آگیا ہے۔ یہ لڑائی اب دہلی سے شروع ہوئی ہے اور یہ نیپال کے بارڈر تک پھیل گئی ہے اور اب یہ دب نہیں سکتی۔ جب کہ شکیل احمدسلفی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی اور شاہ کی جوڑی جو ملک کو توڑنے کی سازش رچ رہی ہے اس کو ہم انصاف پسند لوگ ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چنا ہے ہمیں حکومت نے نہیں۔ اس لئے قانون ملک کی عام رائے سے بنے گا۔ مودی اور شاہ سے نہیں۔ اکرم صدیقی نے کہا کہ ہم حکومت کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ قانون ملک کے اندر نہیں چلے گا، عوام نے اس قانون کو خارج کردیا ہے۔ آئیساکے سندیپ چودھری نے کہا کہ 1974ء میں بھی تاناشاہ کے خلاف طلبہ نے سڑک پر تحریک کی قیادت کی تھی اور اس بار بھی اس لڑائی کی قیادت ٹھان لی ہے اور این آر سی، سی اے اے اور این پی آر کا جانا طے ہے۔ وہیں پروفیسرشاکرخلیق نے کہا کہ آج ملک مودی اور شاہ کے دیوالیہ پن کو برداشت نہیں کرے گا اور ملک کی عوام اب ایسے ملک مخالف قانون کو اکھاڑ پھینکنے کا کام کرے گی۔ وہیں سیدتنویرانور نے کہا کہ این آرسی، سی اے اے اور این پی آر اقلیت نہیں بلکہ ملک کے دلت، غریب مخالف ہے۔ پورے ملک میں اب یہ تحریک زور پکڑ چکی ہے کسی بھی قیمت میں یہ تحریک اب دبنے والی نہیں ہے۔ احتجاجی جلسہ کو مطیع الرحمن موتی، بدرالہدیٰ خان، ہیرا نظامی، اشرف سبحانی، اعجازانور، محمدطالب، ایڈوکیٹ صفی الرحمن راعین، انجینئرفخرالدین قمر، شاہد اطہر، ڈاکٹراظہرسلیمان، ڈاکٹربدرالدین انصاری، سعید خان، صباپروین، محمدراشد، علی خان، ڈبلو خان، فیض عالم، شرف عالم، شرد کمار سنگھ، لئیق منظرواجدی، احمدرشید صبا،راہہل راج، مینک کمار یادو،محمدسیف،قاری سعید ظفر، راجا خان، خلیق الزماں، سونو خان وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ لوگوں نے کہا کہ این آر سی، سی اے اے، این پی آر  ملک کے آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، نیز یہ قوانین ملک کے تمام رہنے والوں کے مفاد کے خلاف ہے، اس قانون کی بنیاد مذہبی منافرت پھیلانا ہے، یہ قوانین خاص طور پر مسلم، دلت، پسماندہ، غریب اور مزدور خواہ ہندو ہو یا مسلمان سبھوں کے خلاف ہیں، اس کے پیچھے ووٹ کی سیاست ہے، مرکزی حکومت کا منشا یہ ہے کہ جو بھی اس کو ووٹ کی سیاست میں آڑے آتے ہیں ان کو ان قوانین کے ذریعہ چھانٹ دیا جائے اور ان کو ووٹ کے حق سے محروم کردیا جائے۔اس ملک میں صرف بی جے پی کے ماننے والوں کو ووٹ دینے کا حق رہے۔ اس طرح مرکزی حکومت اس ملک کو ہندوتوا کی طرف لے جارہی ہے، حالاں کہ ملک کے آئین نے ہربالغ شہری کو ووٹ کا حق دیا ہے، مساوات کا حق دیا ہے، مذہبی آزادی کا حق دیا ہے، ثقافتی آزادی دی ہے، مرکزی حکومت اس سے محروم کردینا چاہتی ہے اس لئے ان قوانین کو واپس لینے کے لئے تحریک چل رہی ہے، اس میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سبھی شامل ہیں، مرکزی حکومت اس کو طرح طرح سے کمزور کرنا چاہتی ہے اور اس کے لئے مرکزی حکومت مہم چلارہی ہے، ان قوانین کو صحیح بتانے کے لئے اس کی حمایت میں دستخطی مہم شروع کی گئی ہے، عوام کو سمجھانے کے لئے لوگوں کو تیار کیا گیا ہے، اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، کسی بھی طرح کو کوئی فارم بھرنے کی ضرورت نہیں ہے، نہ کسی کو کوئی کاغذ دکھانے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی کے گھر کوئی بھی آدمی جاتا ہے اور کسی طرح کا فارم بھرواتا ہے تو اسے فوراً منع کردیں کوئی فارم نہیں بھرنا ہے اور نہ ہی کوئی کاغذ دکھائیں۔ نیز سیکولر طاقتوں کو مضبوط کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے۔ اپنی تحریک میں زیادہ سے زیادہ سیکولر تنظیموں، سیکولر پارٹیوں اور سیکولر لوگوں کو شامل کیا جائے، سیکولر برادران وطن کی تحریکوں کو بھی مضبوط کیا جائے تاکہ تحریک کو کامیابی حاصل ہو۔ اللہ اس تحریک کو کامیاب بنائے اور ملک کو شر اور فتنہ سے محفوظ رکھے۔

ساغر ساغر زہر گھلا ہے قطرہ قطرہ قاتل ہے شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی


ساغر ساغر زہر گھلا ہے قطرہ قطرہ قاتل ہے

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

       ملک کے محافظ جب قاتلوں کا شیوہ اختیار کر لیں،حکمران وقت جب شرپسندوں کی رہبری کا شرمناک کردار اپنا لے، رہنمائےکارواں جب رہزنوں کے ہمراہ ہوجائے تو لوٹ مار اور قتل وغارت گری، انارکی وبدامنی، فساد اور خوں ریزی،ملک وقوم کا مقدر بن جایا کرتی ہیں،اس کی زندہ مثال آج کا وہ سانحہ ہے جو ملک کی باوقار دانشگاہ جواہر لال یونیورسٹی دہلی میں پیش آیا ہے'، یہ یونیورسٹی سیکولر تعلیم گاہ ہے مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اس کا نصب العین تعلیم ہے اور اس حوالے سے یہ ایک ممتاز مقام رکھتی ہے' باوجود اس کے فرقہ پرستوں کا نشانہ محض اس وجہ سے بنی کہ یہاں کے طلباء نے کمیونل اور نازی ازم کے خلاف آواز بلند کی اور نسلی تعصب اور فرقہ پرستی پر مبنی سیاہ قانون کو احتجاجی مظاہرے کی صورت میں مسترد کیا ہے'، انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے اٹھنے والی اس آواز کو ملک کی دیگر نیشنل یونیورسٹیاں خصوصاً جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں بھی طاقت کے زور پر دبا نے کی اور خاموش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور علی الاعلان فورس کے ذریعے بدترین قسم کے حملے کئے گئے آگ اور خون کا کھیل کھیلا گیا، گولیاں برسائی گئیں، جسمانی تشدد کیا گیا،
 جس کی تفصیلی رپورٹیں اور ظلم وجبر کی تصویریں پوری دنیا میں ملک کے مقتدر اعلیٰ کی رسوائی کا سبب بنیں، آج وہی خونیں کھیل ملک کے قلب دہلی میں 
 کرائے کے قاتلوں اور شرپسندوں کے ذریعے پولیس کی نگرانی میں کھیلا گیا ہے'، بی جے پی کی ذیلی تنظیم اکھل بھارتیہ ودیار تھی اے بی وی پی اسٹوڈنٹس تنظیم نے لوہے کے راڈ سریا لاٹھی اور دیگر ہتھیاروں سے لیس ہوکر یونیورسٹی کے کیمپس میں گھس گئی اور اہلکاروں کی رہنمائی میں پندرہ بیس بیس کی ٹولیوں میں ہاسٹلوں میں اچانک داخل ہوکر حملہ کرنا شروع کردیا، ان درندوں نے نہتے طلبہ کو مارا اساتذہ پر حملے کئے عمر دراز عورتوں کو نشانہ بنایا اور معصوم بچیوں پر بھی وار کئے ان حملوں میں بیسیوں افراد زخم زخم ہوئے کسی کا سر پھٹا کسی کا جسم لہو لہو ہوگیا کسی کا ہاتھ ٹوٹا کسی کے پاؤں خون آلود ہوئے ،انسانیت کے ساتھ یہ درندگی اور وحشیانہ بربریت پولیس کی نگاہوں کے سامنے ہوتی رہی،اندر ہاسٹل سے امداد کے لیے ہیڈ کوارٹر پر مسلسل فریاد ہوتی رہی مگر دارالحکومت میں جہاں ایک پرندہ بھی پر مارتا ہے تو انہیں خبر ہوجاتی ہے اسی مقام پر اتنے بڑے اجتماعی حملے کے باوجود بھی پولیس دوگھنٹے بعد آئی، 
 ذہن کس طرح باور کرے کہ اس شرپسندی کے لئے،حیوانیت کے اس کھیل کے لئے پہلے سے سیٹنگ نہیں تھی ،کیونکر تسلیم کیا جائے کہ اس غنڈہ گردی میں پولیس کے عملے کی حمایت حاصل نہیں تھی،
   اور درست بات یہ ہے کہ قوم وملک کے نام نہاد محافظوں کی یہ جماعت مکمل طور سے اس سازش میں شریک تھی جامعہ ملیہ اور علی گڑھ میں یہ علی الاعلان تھے یہاں پشت پر یہ تھے فرنٹ پر دوسرے چہرے تھے، 
سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اور ملک میں امن وامان کے فرائض پر مامور اور اسی کے نام پر اپنی  معاشی حالت کو مضبوط کرنے والے وردی پوش جب تعصب میں اندھے ہو کر انتہا پسند ہوجائیں، فرقہ وارانہ کرداروں کی صورت میں امن وسلامتی کے دشمن ہوجائیں تو ایسی صورت میں آئین وقانون محض کاغذی اوراق میں سمٹ کر رہ جاتے ہیں زمینی اعتبار سے ان کی کوئی وقعت نہیں رہ جاتی ہے۔
ملک انارکی کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے، خونریزی اور بربریت عام ہوجاتی ہے، نسل پرستی کے شعلوں میں وطن جل اٹھتا ہے ،انسانیت اخوت،جمہوریت ،اور  رواداری ۔نفرت وتعصب کے مقتلوں پر قربان ہوجاتی ہیں، 

ملک اس وقت  تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے'، اس کی سالمیت پوری طرح سے مجروح ہو چکی ہے'، معیشت مسلسل رو بہ زوال ہے، انسانیت شرمسار ہے'، فضائیں لہو رنگ اور ماحول اضطراب کا شکار ہے
ہر طرف بے یقینی اور بے چینی کی کیفیت ہے'،مگر حکومت ہے'کہ اسے ذرہ برابر اس کی پروا نہیں ہے،کہ اس کے ایک فرقہ وارانہ اور متعصبانہ قانون کی وجہ سے ملک کن حالات سے دوچار ہے ،عوام کس قدر پریشان حال ہے، عوام کے مسائل سے اسے قطعا کوئی سروکار نہیں ہے،اسے اپنی انا کا پاس ہے'،اپنی طاقت کا زعم ہے' اقتدار کا نشہ ہے،

حقیقت یہ ہے کہ جس حکومت میں اس کے ذیلی حکمراں کے اخلاقی اقدار کی پستی کا یہ عالم ہو،  اس کی ذہنی پسماندگی کی یہ کیفیت ہو اور اس کے تعصب و نسل پرستی کا یہ حال ہوکہ وہ اقلیتوں سے انتقام لے کر دل کی پیاس بجھارہی ہو، جس کی نگرانی اور جس کے حکم پر پولیس اہلکاروں کی درندہ صفت جماعت مسلمانوں کے گھروں میں داخل ہوکر بے رحمی سے حملے کررہی ہو، عورتوں پر تشدد کررہی ہو، جس کے حکم پر مدسوں کے ذمہ داروں کو صرف اس لیے زندانوں میں دھکیل دیا گیا ہو کہ انھوں نے انسانیت کے تحفظ میں ہونے والے مظاہروں کی صرف حمایت کی تھی شرکت کا جرم نہیں کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ان کے اداروں کے معصوم نابالغ اور یتیم بچوں کو یتیم خانوں سے اٹھا کر نذر زنداں کردیا گیا ہو اور ان سے ہوس مٹاکر انگریزی سفاکیت اور حیوانیت کی انتہائی گھناؤنی مثال قائم کردی گئی ہو،اس حکومت میں انصاف کی،عدالت کی، انسانیت کی اور جمہوریت کی کیا امید کی جاسکتی ہے

ورنہ ایک نیشنل یونیورسٹی میں انتہاپسند شرپسندوں کی یہ جرات نہ ہوتی کہ کیمپس میں گھس کر
وحشت وبربریت کا رقص کرتے،اور ظلم وسفاکیت کا ننگا ناچ قائم کرتے، یہ ملک کے غدار ہیں امن کے دشمن ہیں، حقیقت میں یہی آتنگ واد اور دہشت گرد ہیں جنھوں نے جمہوریت اور سیکولرازم کی حفاظت کرنے والوں پر ظلم وجبر اور درندگی کا مظاہرہ کرکے خود کو شیطان اور سیکولرازم اور انسانیت کا دشمن ثابت کیا ہے
روزنامہ لازوال جموں 
 تاہم جارحیت وسفاکیت کے اس  ظالمانہ عہد میں بھی اس حقیقت کو بھولنا نہیں چاہئے کہ حق اور باطل اور روشنی وتاریکی کی کشمکش سے کوئی دور خالی نہیں رہا ہے، ظلم جب حد سے بڑھتا ہے'تو ایک موسی بھی پیدا ہوتا ہے'، جبر جب اتنہا کو پہنچتا ہے تو جبر کی اسی تاریکیوں سے سحر کی روشنی پھوٹتی ہے'، کارواں کے راستے میں سنگلاخ وادیاں بھی آتی ہیں' ہموار اور مسطح سبزہ زاروں کے علاقے بھی استقبال کرتے ہیں'مگر منزلوں کی رسائی کا راز یہ ہے کہ وہ سبزہ زاروں میں غافل نہیں ہوتا اور سنگلاخ راستے اس کے پاؤں کو آبلہ پا کرتے ضرور ہیں' مگر اس کی ہمت وحوصلوں اور اس کی استقامت پر اثر انداز نہیں ہوپاتے ہیں، انقلاب کا راستہ عزم واستقلال کا راستہ ہے آبلہ پائی کی شاہراہ ہے'، اس میں اجسام لہو رنگ ہوتے ہیں'، احساسات زخمی ہوتے ہیں'، ارمانوں کی کائنات لٹتی ہے'،آرزؤں کی دنیا اجڑتی ہے'، خواب ہائے رنگین زیر وزبر ہوتے ہیں'،  فلک رساشعلوں، اجتماعی حملوں،قصر اقتدار کی سیڑھیوں، جبین حکومت کی جنبشوں اور دار ورسن کی صورت میں موت ساتھ ساتھ چلتی ہے'، ان خونچکاں مراحل کے بعد پھر انقلاب کا سورج طلوع ہوتا ہے ،
یہاں بھی دہشت گردی عروج پر ہے'، انسانیت ہراساں ہے' جمہوریت بے روح ہے'،تانا شاہی  اور آمریت بے لگام اور نسل پرستی کا جنونی کردار انتہا پر ہے' ،اور یہ مسلم ہے' ہر انتہا عبرت خیز گمنامی کا مقدمہ اور ہر عروج ،زوال کی علامت ہے'،شرط یہ ہے کہ ملت اس ظلم کے خلاف متحد ہو ،اور اس راہ میں اٹھنے والی آوازوں کو اپنی حمایتوں سے مضبوط کرے، مصلحت کی چادروں کو اتار کر سرفروشانہ کردار ادا کرے، حکومتی پروپیگنڈوں کے دام میں آکر بے شمار پروانہ آزادی کے کاز کو متاثر نہ کرے، منصوبہ بند لائحہ عمل مرتب کرے، مسلک ومشرب سے اوپر اٹھ کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو، اس کی آواز ایک ہو،اس کا قدم ایک ہو،اوراس کا نعرہ ایک ہو، آزادی وانقلاب۔جمہوریت ومساوات۔۔۔

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی