اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 25 March 2018

لال گنج: مدرسہ پیام حق دونہ کے نائب ناظم وسماجی کارکن حاجی ناصرالدین کا انتقال، آبائی گاؤں دونہ جہت مندپور میں تدفین عمل میں آئی!

محمد عاطف اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــ
لال گنج/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 25/مارچ 2018) مقامی ترقیاتی بلاک کے دونہ گاؤں کے مدرسہ پیام حق کمیٹی کے رکن و سماجی کارکن حاجی ناصرالدین کے انتقال کی خبر پر غم کی لہر دوڑ گئی، ان کی عمر 58برس تھی، وہ نورجہاں چلڈرن اسکول فاطمہ گرلس کالج کے منیجر حاجی اسرار احمد کے چچیرے بھائی تھے، جمعرات کو ان کی حالت تشویشناک ہونے پر انہیں بنارس سے دہلی لے جایا جارہا تھا کانپور میں ان کا انتقال ہوگیا "انا للہ وانا الیہ رجعون". جمعہ کی صبح جیسے ہی ان کے انتقال کی خبر لوگوں کو ملی لوگ تعزیت کیلئے ان کے گاؤں دونہ پہنچنے لگے، تقریباً 3 بجے ان کے آبائی گاؤں دونہ قبرستان میں تدفین عمل میں آئی.
اس موقع پر شہاب الدین عرف شبو، ضیاءالدین عرف چنو سابق پردھان جہت مند پور اور انکے چھوٹے بھائی شہاب الدین عرف پپو، ممبر اسمبلی بیچئی سروج،  سابق وزیر اترپردیش ہیرا لال گوتم، حامد علی ایڈوکیٹ سمیت سیکڑوں سماجی کارکنان شریک رہے.

Saturday, 24 March 2018

اکشر دھام مندر و جامع مسجد دہلی کا ایک سیاحتی سفر، ایک تجزیہ!

تحریر: عاصم طاہر اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
ابھی کل ہی کی بات ہے (23/3/18)کہ اپنے دو ساتھی (ایوب اعظمی) اور (عبدالحفيظ اعظمی) کے ساتھ دہلی کے سفر پر تھا، سفر کا آغاز بروز جمعرات دوپہر سے ہوا، انسٹی ٹیوٹ کے ذمہ داروں کی طرف ہم لوگوں کو مدرسہ بیت العلوم جعفرآباد،مدرسہ امینہ دہلی، اور دہلی جمعیت دفتر جانے کا حکم ملا، بہر حال ہم لوگوں نے یہ طے کیا کہ ان تمام جگہوں پر جا کر وہاں کے ذمہ داران سے مل کر آج ہی فرصت لے لینگے، الحمد للہ اسی دن ان حضرات سے مل کر اپنی ذمہ داری کو نبھایا اور دیر رات تک فارغ ہوگئے،
اب ہمارے پاس جمعہ کا دن پورا بچا اور چھٹی بھی تھی،
 یہی ہوا کہ انشاءاللہ دن بھر گھوم کر شام میں واپس انسٹی ٹیوٹ واپس ہوجائیں گے،

خیر امید سے زیادہ ویسا ہی ہوا

صبح دیر تک سونے کے بعد بیدار ہوئے ناشتے وغیرہ سے فراغت کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اب کون سی جگہ گھومنے چلیں گے دہلی کی مشہور جگہیں تو ہماری گھومی ہوئی ہیں
ایوب صاحب نے بہت دیر سے صرف اور صرف کوئی ایسی جگہ کی تلاشی میں مصروف تھے کہ جہاں ہم میں سے کوئی نہ گیا ہو،
تلاش ہی کے دوران انہیں اکشر دھام مندر کی عمارت دکھی، انہوں نے ہمیں بھی دکھایا اور یہی فیصلہ ہوا کہ یہیں پر چلتے ہیں ہاں لیکن جمعہ کی نماز جامع مسجد میں آکر پڑھنی ہے،
بہرحال ہم لوگوں نے اکشر دھام مندر کی طرف رخت سفر باندھا دل ہی دل میں یہی سوچ رہا تھا کہ اس مندر کے بارے بہت کچھ سن رکھا ہے پر ابھی تک دیکھا نہیں، یہ وہی مندر ہے جس کے مشابہ کے مندر کا بنیاد ابھی کچھ ہی دنوں پہلے اہم ترین اسلامی ملک متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں رکھا گیا ہے پتھروں کے تراش خراش کے ماہرین نے 2020 تک مکمل کرنے کا دعوٰی کیا ہے اور یہ اس ملک کا پہلا مندر ہوگاافسوس صد افسوس،
اگر جامع مسجد دہلی  تاریخی مسجد ہے تو وہیں پر اکشر دھام مندر دہلی بھی اپنے اندر بہت تاریخ رقم کیے ہوا ہے میں تاریخ میں نہ پڑ کر اصل موضوع پر آنا چاہتا ہوں،

کچھ ہی دیر میں ہم لوگ اکشر دھام مندر پہنچ گئے
جتنا سنا اور فوٹو دیکھا تھا امید سے کہیں زیادہ خوبصورت پایا، تین مرحلوں میں چیکنگ کے بعد اندر پہنچے،
یہ میرے گھومے ہوئے مقامات میں سے پہلی ایسی جگہ ہے جہاں پر ہر سامان کے علاوہ موبائل-فون بھی رکھوا لیا گیا تھا، تھوڑا سا ہمیں عجیب لگا کہ یہاں پر موبائل بھی جمع کروا لیتے ہیں لیکن ہمیں اندر جانا تھا اس کے لیے وہاں کے ہر قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اندر گئے،مسلم لوگ بہت کم دیکھنے کو ملے اکثر غیر مسلم ہی تھے اور رہیں گے ہی جب وہ مندر ہے،
وہاں کے لوگ ہم تینوں کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے کہ ایسے لوگ بھی مندر میں آیا کرتے ہیں،
بہرحال جوں جوں تھوڑا اور آگے بڑھے تو وہاں پر لوگ اپنے اپنے چپل جمع کروا رہے تھے ہم بھی جمع کروائے اور یہ وہاں کا ایک اہم اصول تھا،  ہم لوگ اندر گئے بہت دیر تک گھومے کافی وسیع ترین پیمانے پر بنی اس خوبصورت مندر کو دیکھتے رہے
 سب سے اہم چیز وہاں یہ دیکھنے کو ملی کہ وہاں پر صفائی انتہا سے زیادہ تھی کہیں پر کوئی گرد و غبار کا نشان تک نہیں تھا دیکھ کر رشک آنے لگا، اور من ہی من میں سوچنے لگا کہ واقعی صفائی جس کو کہتے ہیں آج یہاں دیکھنے کو ملی
پھر وہاں گھومنے کے بعد ہم لوگوں نے جامع مسجد کا رخ کیا ان دونوں کے درمیان کافی دوری ہونے کی وجہ سے وقت مقررہ (جمعہ کی نماز) تک نہ پہنچ سکے کافی وقت لگ گیا وہاں تک پہنچنے میں لیکن پھر بھی جامع مسجد گئے حالانکہ اس سے پہلے کئی مرتبہ وہاں جاچکے تھے،
دماغ کی رگوں میں وہی اکشر دھام مندر والی صفائی رقص کر رہی تھی پر افسوس کے یہاں پر اس کے بر عکس دیکھنے کو ملا  افسوس کی مسجد کے اندر بھی کوئی خاص صفائی نہیں تھی کچھ لوگ ایسے بھی دکھے جو حوض کے ارد گرد چپل جوتے وغیرہ پہن کر گھوم رہے تھے،
اس منظر کو دیکھ کر دل کافی رنجیدہ ہوا،
ایسے ہی ابھی ایک مہینے پہلے اپنے ہی انسٹی ٹیوٹ کے تمام ساتھیوں اور اساتذہ کے ساتھ ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور کا سفر ہوا تھا
وہاں پر بھی ایک تاریخی بڑلا مندر ہے
اس میں بھی جانا ہوا وہاں صفائی کا جو نظام دیکھا وہ بھی قابل فخر تھا پھر اتفاق وہاں سے اجمیر شریف درگاہ پر حاضری کا موقع ملا تو وہاں جو نظام اور لوگوں کے طور طریقوں کو دیکھا وہ بیان کرنے کے قابل نہیں،
ایسے ہی 2013 میں سرہند پنجاب کا سفر ہوا تھا وہاں صفائی تو کافی اچھی تھی لیکن وہیں قریب میں ایک گوردوارہ میں جانے کا موقع میسر آیا تو وہاں کی صفائی بھی اس سے کہیں زیادہ ہی تھی،
ان تمام جگہوں کو دیکھ کر دل یہ کہا کہ
        صفائی نصف ایمان ہے
 اور ایمان مسلمان کی شان ہے ہم سب خود کو بہت باعمل مسلمان بلکہ مومن گردانتے ہیں دوسرے کے مذاہب پر تنقید اور شک کرتے ہیں لیکن اپنے گریبان میں جھا نکنے کی غلطی بھی نہیں کرتے، بلاشبہ اسلام اپنے پانچ ستونوں پر کھڑا ہے لیکن نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کچھ دوسری چیزوں کو ایمان کا لازمی جز قرار دیا ہے جن میں سے صفائی ایک بہت بڑا جز ہے بلکہ اسے نصف ایمان قرار دیا، اب ذرا اسی تناظر میں ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم صفائی کا کتنا خیال رکھتے ہیں،  شہروں میں مسلم کالونی اور اسی طرح گاؤں میں مسلم علاقے کی پہچان ہی کوڑے کے انبار سے ہوتی ہے یہ ہمارے ایمان کے اس جز کی کمزوری کی بہت بڑی دلیل ہے
ہمارا حال کیا ہے اگر ہمیں صفائی کے عنوان پر کچھ بولنے کو کہا جائے تو کئی گھنٹے ناکافی پڑ جاتے ہیں اگر لکھنے کو کہا جائے تو مکمل ایک کتاب تیار کرسکتے ہیں لیکن میدان عمل میں دور دور تک نام نہیں،  افسوس کہ ہماری قوم اس میدان میں ذرا سا بھی دھیان نہیں دیتی اپنے ہی علاقے میں کوڑے کے انبار لگائے رہتے ہیں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہاں سے گزرنا بھی مشکل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے مسلم علاقے میں بیماری بھی زیادہ پھیلتی ہے،
ہمیں صفائی جیسے اہم امور پر بہت زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے،
خدائے عظیم ہمیں اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

نوٹ: یہ میرے اپنے نظریات ہیں جن کا میں نے اب تک مشاہدہ کیا نظریات سے اختلاف کا حق ہر کسی کو ہے.

میوات: ضلع پلول کی ایک مسجد میں مردہ خنزیر ڈالنے کے الزام میں تین شرپسند گرفتار اور چوتھے کی تلاش جاری!

محمد ساجد کریمی
ـــــــــــــــــــــ
پلول/میوات(آئی این اے نیوز 24/مارچ 2018) ہریانہ ضلع پلول میوات کے اندر کچھ فرقہ پرست اور شرپسند عناصر نے شہر میں آپسی اتحاد و اتفاق کو پارہ پارہ کر کے فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانے کے لئے انتہائی گھناؤنی اور بزدلانہ سازش رچی لیکن مسلم سماج کے ذمہ داران نے سمجھداری اور رواداری کا ثبوت دیتے ہوئے اس ناپاک سازش کو ناکام تو بنادیا ہے لیکن علاقہ میں بے چینی و اضطراب کی کیفیت چھائی ہوئی ہے۔
واقعہ آج 24 تاریخ کی صبح تقریباً 3 بجے کا ہے، جب کچھ شرپسند عناصر نے اقلیتی سماج کی عبادت گاہ مسجد میں ایک مردہ  خنزیر کو ڈال دیا، صبح ہوتے ہوتے یہ خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مولانا محمد یحییٰ کریمی صاحب- صدر جمعیتہ علماء ہریانہ پنجاب و ہماچل پردیش اور چندی گڈھ- واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اپنی ناساز طبیعت کے باوجود اپنے رفقاء کے ساتھ شہر پلول کے لئے روانہ ہوگئے اور وہاں پہنچ کر مسلمانوں سے امن و امان اور صبر کی درخواست کی۔
اور اس کے بعد اس گھناؤنی سازش کا نوٹس لیتے ہوئے اور معاملہ کی سنگینی اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے، جمعیتہ علماء کے ذمہ داران نے ڈپٹی کمشنر ہریانہ کی معرفت وزیر اعلیٰ ہریانہ کے نام ایک میمورنڈم سپرد کیاہے۔ اور ڈی سی کے  آج چھٹی پر ہونے کی وجہ سے فی الوقت ان کے اسسٹنٹ کو میمورنڈم سونپ دیا ہےاور بروز منگل ڈی سی سے یہ وفد ملاقات کرے گا-
ڈی سی کی معرفت  ہریانہ کے وزیر اعلیٰ جناب منوہر لال کھٹر کے نام سپرد کیے گئے میمورنڈم  میں واقعہ کی اطلاع کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اس ملک میں ہر شہری برابر کا حصہ دارہے کرایہ دار نہیں، اس لئے سماجی اور ملی یکتا کو توڑنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھڑکانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کڑی کارروائی کریں۔ اور جو لوگ آپسی اتحاد اور گنگا جمنا تہذیب کی زنجیر میں بندھے ہوئے لوگوں کو نکال کر مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں، آپ اپنی ذمہ داری اداکرتے ہوئے اور اپنی عوام کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے فوری طور پر ان کے خلاف سخت سے سخت  کارروائی کریں، تاکہ علاقہ میں آئندہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں اور فرقہ پرست لوگوں کی ہمت ٹوٹ جائے۔
اور جمعیتہ علماء شمالی ژون کے صدر مولانا یحییٰ کریمی صاحب نے اس میمورنڈم کی ایک کاپی ہریانہ پولیس ڈائریکٹر جنرل اور آئی جی پی ریواڑی رینج کو بھی سپرد کریں گے۔
اور مولانا کریمی صاحب نے امید جتائی ہے کہ پولیس جلد از جلد مقدمہ درج کر کے شرپسندوں کو قانونی کٹہرے میں لاکر سخت کارروائی کرے گی، اور پولیس نے مکمل تندہی اور چستی دکھاتے ہوئے، تین شرپسندوں کو گرفتار کر کر  اور عدالت میں پیش کردیا ہے  جنکے نام پنٹو ولد رام جیت، کلوا ولد سنت لال اور ادتیے ولد راجیش  ہیں اور پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد ہی چوتھے ملزم کو بھی گرفتار کرلیا جائے گا۔
اور مولانا کریمی نے مسلمانوں سے صبر اور رواداری کے ذریعے فرقہ پرستوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کی اپیل بھی کی ہے۔
حضرت صدر محترم کے علاوہ اس وفد میں شامل حضرات کے اسماء گرامی جناب حاجی یونس صاحب صدر جمعیتہ علماء شہر پلول مولانا محمد ساجد صاحب قاسمی، جنرل سکریٹری جمعیتہ علماء  ضلع پلول، جناب یوسف صاحب  ایڈوکیٹ،  مولانا محمد ارشاد صاحب امام عید گاہ والی مسجد، حافظ عبد الرحمن۔ حاجی جمیل احمد و محمد ساجد کریمی  وغیرہ شامل تھے.

راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی سیوا دل کی میٹنگ منعقد!

محمد ارشادالحق مفتاحی
ــــــــــــــــــــ
پانی پت/ھریانہ(آئی این اے نیوز 24/مارچ 2018) کل پانی پت شہر میں واقع راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی سیوا دل کے ہیڈ آفس کٹانی روڑ پر ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس کی صدارت راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی سیوا دل کے قومی جنرل سکریٹری جناب کوچ راجا انصاری نے کی، انہوں نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے ملک میں نفرت ہر چہار جانب پھیلی ہوئی ہے جس کی وجہ سے پورے ملک سے آپسی بھائی چارہ ختم ہوچکا ہے، اور ملک میں اتحاد خطرے میں ہے، اس لیے ہم سب کو مل جل کر نفرت کو ختم کرنا ہوگا اور امن آشتی کے پیغام کو فروغ دینا ہوگا، آج یہ طے کیا گیا کہ آنے والی 25 مارچ کو راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی سیوا دل کے نوجوان ارکان موٹر سائکل ریلی نکالیں گے، جس میں "امن کا پیغام اور دستور بچاؤ ملک بچاؤ" کا نعرہ ہوگا، یہ ریلی این سی پی کے ہیڈ اوفس کٹانی روڑ سے شروع ہو کر ببیل روڈ، پہلوان چوک، سنولی رو، سنجے چوک، دیوی مندر روڈ، وغیرہ سے ہوتے ہوئے راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی سیوا دل کے دفتر آکر ختم ہوگی.
اس موقع پر ستے پرکاش، روشن کمار سینی، ارشد، منیشک پوریہ، خواتین کی ضلع صدر تبسم انصاری، صاحبان احمد، این سی پی کے ضلع صدر حاجی رہیس انصاری اور بہت سے اراکین موجود رہے.

مدرسہ اسلامیہ انوارالاسلام کی انجمن تہذیب الاخلاق کا سالانہ امتحان منعقد!

محمد دلشاد قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــ
روشنگڑھ/باغپت(آئی این اے نیوز 24/مارچ 2018) ضلع باغپت کے موضع روشن گڑھ کے مدرسہ اسلامیہ انوارالاسلام کے زیر اہتمام چلنے والی انجمن تہذیب الاخلاق کا سالانہ مسابقہ منعقد کیا گیا جس میں حکم اول مولانا محمد حسین صاحب ناظم مدرسہ اشرف العلوم امین نگر سرائے، اور حکم ثانی حضرت مولانا مفتی محمد سرتاج عالم صاحب ڈولہ سے شریک ہوئے.
مدرسہ ھذا کے ناظم اعلی مفتی محمد دلشاد قاسمی نے بتایا کہ مدرسہ ھذا میں حضرت اقدس مرشد الامت مفتی مہربان علی شاہ قلندر بڑوتوی کی یادگار میں انجمن تہذیب الاخلاق کئی سالوں سے جاری ہے، جو طلبہ اور طالبات کے اندر حالات سے ہم آہنگ اور درپیش موضوع خطابت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر دم کوشاں ہے، جس کا گزشتہ روز سالانہ مسابقہ منعقد ہوا، جس میں طلبہ و طالبات نے اپنی اپنی تقاریر و نعت پیش کی، حکمین کے فیصلہ کے مطابق "زمرہ نعت" میں اول پوزیشن سبشتہ خاتون، ثمرین خاتون، مسکان خاتون دوم پوزیشن جبکہ سوم پوزیشن دانشہ خاتون نے حاصل کی،
اور "زمرہ تقریر" میں شمع رحمان، محمد سالم اول پوزیشن، محمد عاقل، ثناءزاھد نے دوم پوزیشن، جبکہ سوم پوزیشن شبنم سلیم، محمد ثمیر نے حاصل کی ہے، جن کو آئندہ ماہ شعبان المعظم میں ہونے والے انعامی اجلاس میں گراں قدر انعامات سے نوازا جائے گا.
حضرت اقدس مولانا مفتی محمد سرتاج عالم صاحب نے مسابقہ کے اختتام پر طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مزید محنت کریں اور باطل کی مکاری اور عیاری کو امت مسلمہ کے سامنے عیاں کریں، تاکہ باطل ناکام اور نامراد ہو سکے، فن خطابت اس کے لیے بہترین ہتھیار ہے اس لیے مزید اس کے اندر اسحتکام پیدا کریں.

بی جے پی کا سیاسی زوال!

مفتی محمد قاسم قاسمی اوجھاری
ـــــــــــــــ
دنیائے انسانیت نے بارہا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ایک شخص فتح کا جھنڈا لہراتا ہوا ایسا غالب آیا کہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اس کا سامنا نہ کرسکیں ، لیکن چند ہی ایام میں اس کا غرور خاک میں مل گیا اور روئے زمین سے اس کا نام و نشان بھی ختم ہوگیا، تاریخ میں یہ جملہ آج تک محفوظ ہے کہ ہر ایک عروج کو زوال ہے، چنانچہ ایک وقت وہ تھا کہ بھاجپا بڑی زبردست قوت کے ساتھ اقتدار میں آئی، اور اس کی فتح کی ایسی ہوا چلی کہ پورا ہندوستان اس کی رو میں بہتا چلا گیا، اور مرکز سے لے کر صوبائی سطحوں پر اس نے اپنی چھاپ جمائی، لیکن پھر حالات نے ثابت کردیا کہ یہ پارٹی ملک کی خیر خواہ نہیں ہے، یہ ملک سے غربت و افلاس اور جہالت کو دور کرنا نہیں چاہتی ہے، ملک کی تعمیر و ترقی اس کے پیشِ نظر نہیں ہے، یہ ایک مخصوص نظریے کی حامل جماعت ہے یہ ملک کو سیاسی استحکام نہیں بخشنا چاہتی ہے، چنانچہ پانچ سال مکمل ہونے جارہے ہیں ملک سے نہ غربت دور ہوئی نہ تعلیم کا مسئلہ حل ہوا نہ اقتصادی اور معاشی اعتبار سے ملک نے ترقی کی غرض یہ حکومت ہر فرنٹ پر ناکام ہوگئی، اور سیاسی، اقتصادی، معاشی ہر اعتبار سے ملک بہت پیچھے چلا گیا.
آج جبکہ پارلیمانی الیکشن کی تیاریاں زوروں پر ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ پارٹی اپنی موت خود مرنے والی ہے، کیوں کہ جس عوام نے اسے اقتدار کی کرسی تک پہنچایا تھا آج اس عوام کا دل چھلنی چھلنی ہے، اس عوام کا اس پارٹی نے بیوقوف بنایا، اور اپنا الو سیدھا کرکے ووٹ بٹور کر سیاسی روٹیاں سیکتی رہی، آج ہندوستان کی عوام اس پارٹی کی پالیسیوں کو سمجھ رہی ہے، اور حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج نے ثابت کردیا کہ اس جماعت کا سیاسی زوال اب شروع ہوگیا ہے، عوام اب مزید بیوقوف نہیں بننا چاہتی، نتائج اور حالات بتا رہے ہیں کہ یہ پارٹی اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے، اور بہت جلد ہی اقتدار کی کرسی چھوڑنے والی ہے، خدا کرے کہ ایسا ہی ہو.

بابری مسجد کو شرپسندوں نے نہیں بلکہ بی جے پی کے لوگوں نے منہدم کرایا ہے، مسجد دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کر دینی چاہیئے، جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیودھون کی عدالت میں دلیل!

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے مقدمہ میں پیش رفت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے وکلاء کی بحث سے مطمئن!

نئی دہلی(آئی این اے نیوز 24/مارچ 2018) بابری مسجد تنازعہ کی سماعت آج ایک بار پھر سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی بینچ کے سامنے عمل میں آئی جس کے دوران مسلم تنظیموں کی جانب سے سب سے پہلے جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹرراجیودھون نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کو شرپسندوں نے نہیں بلکہ بی ،جے،پی کے لوگوں نے منہدم کرایا ہے نیز اگرہمیں ہندوستانی سیکولر ازم پر ناز ہے تو مسجد اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کردینا چاہئے کیونکہ بابری مسجد کو6 دسمبر 1992ء کو ایک منظم سازش کے تحت منہدم کردیاگیا تھا۔
انہوں نے دوران بحث مزید کہا کہ مسجد منہدم کرنے سے قبل دو دورتھ یاترائیں بھی نکالی گئی تھیں اور مسجد مہندم کرنے کے بعد بی،جے،پی نے مندرتعمیر کرانے کے لئے وہائٹ پیپر بھی جاری کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 1949 اور 1992 کو دو ایسے واقعات رونما ہوئے جو سیکولر ہندوستان پر بدنما داغ ہے جب پہلے مسجد میں مورتی بیٹھا دی گئی اور بعد میں اسے مہندم کردیا گیا ۔
ڈاکٹر راجیو دھون کی دلیل مسجد دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کردینی چاہئے، پر بولے ارشد مدنی ہم اپنے وکلاء کی بحث سے مطمئن ہیں
ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کومزید بتایا کہ بابری مسجد احاطہ کے باہر ایک مقام ہے جسے رام کا جنم استھان کہاجاتا ہے لہذا بابری مسجدکی جگہ کو رام کاجنم استھان کہنا غلط ہے نیز بابری مسجدکو مغل دورمیں تعمیرکیا گیا اور اسے انگریزوں نے بھی قانونی حیثیت دی تھی۔
آج عدالت میں ڈاکٹر راجیودھون نے انکشاف کیاکہ انہیں باربارفون کالز آتی ہیں کہ وہ بابری مسجد کا تنازعہ مصالحت سے حل کریں لیکن میرا یہ مانناہے کہ بابری مسجد کو شہید کیا گیاہے لہذااسے دوبارہ اسی مقام پر بنایاجانا چاہئے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسجد ،مندر، گردوارہ ، جین مندر وغیرہ سب کی اپنی ایک حیثیت ہے کسی کو منہدم نہیں کیا جاسکتا ، ایک بار مسجد کی تعمیر ہونے کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہوجاتی ہے ، منہدم ہونے کے بعد بھی اس کی حیثیت ختم نہیں ہوتی نیز مسلمان کو مسجد میں نمازپڑھنے کا حکم دیا گیا ہے وہ کہیں بھی نماز ادانہیں کرسکتے سوائے شرعی مجبوری کے لہذا اسماعیل فاروقی کے فیصلہ میں غلط کہا گیا ہے جس پر فاضل عدالت کونظرثانی کرنی چاہئے اور اس معاملے کی سماعت کثیر رکنی بینچ میں کرانی چاہئے ۔
ڈاکٹر راجیو دھون نے حدیث کے حوالہ سے کہا کہ حضور محمد ﷺ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے تین میل دوراپنے ہاتھوں سے مسجد قبہ کی تعمیر کرائی تھی کیونکہ نماز مسجد میں اداکرنے کا حکم ہے لہذا اسماعیل فاروقی کا فیصلہ غلط ہے کہ نماز کہیں بھی اداکی جاسکتی ہے ، حضورﷺ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار اپنے گھروں میں نماز اداکرنے والوں کے گھرجلانے تک کا حکم دیا تھا، ہر ایک مسجد کی شرعی حیثیت ہے اور اسے اسلام میں ایک مقام حاصل ہے لہذا بابری مسجد کی بھی وہی حیثیت ہے ۔
جمعیۃ علماء ہندکے صدر مولانا سید ارشدمدنی نے مقدمہ میں آج کی پیش رفت پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے وکلاء کی بحث سے مطمئن ہے انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مقدمہ کو وسیع تر بینچ کے حوالہ کرنے کے جو دلائل جمعیۃعلماء ہند کے وکلاء نے پیش کئے ہیں عدالت اس پر سنجیدگی سے غورکرے گی اور مقدمہ کی اہمیت کے پیش نظر اسے ایک وسیع تر بینچ کے حوالہ کرنے کا حکم صادرکرے گی ، مولانا مدنی نے کہا کے بحث کے دوران وکلانے درست دلائل دیئے ہیں مسجد ایک بارجہاں بن جاتی ہے ہمیشہ کے لئے مسجد ہی رہتی ہے ، نہ تو اسے منتقل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس مقام پر کوئی دوسری تعمیر ہوسکتی ہے ،انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ہم محب وطن شہری ہیں اور عدلیہ کا بھرپوراحترام کرتے ہیں ، ہمیں یقین ہے کہ عدالت اس اہم معاملہ میں بھی انصاف کے تمام تر تقاضوں کو پوراکرنے والا فیصلہ دے گی ۔
واضح ہوکہ چیف جسٹس دیپک مشراء کی سربراہی والی تین رکنی بینچ میں جسٹس عبدالنظیر اور جسٹس بھوشن شامل ہیں آج دوپہر دو بجے بابری مسجد ہائی پروفائل مقدمہ کی سماعت شروع ہوتے ہی جمعیۃعلماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیود ھون نے اپنی نا مکمل بحث کا آغاز کیا اور کہا کہ جسٹس ورما کا یہ کہنا کہ نماز کہیں بھی ادا کی جاسکتی ہے یہ غلط ہے کیونکہ نماز ادا کرنے کی جگہ مسجد ہے اور اسلام میں اس کی شرعی حیثیت ہے جسے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ ڈاکٹر راجیو دھو ن نے عدالت کو بتایا کہ کسی جگہ پر ایک بار مسجد کی تعمیر ہوجانے کے بعد وہ ہمیشہ کے لیئے مسجد ہوجاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس شخص کو بھی واپس نہیں دی جاسکتی جس نے زمین کو وقف کیا ہے یاجس نے ذاتی خرچ سے مسجد کی تعمیر کی ہو۔
ڈاکٹر راجیودھون نے بابری مسجد مقدمہ کی سماعت کثیر رکنی بینچ کے سامنے کئے جانے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ایس یو خان اور جسٹس سدھیر اگروال نے اپنے فیصلہ میں اس بات کا خود اعتراف کیا ہے کہ یہ کوئی عام مقدمہ نہیں بلکہ اس مقدمہ کے ساتھ کروڑوں لوگوں کے جذبات جڑے ہوئے ہیں اور اس معاملے میںآزادی کے بعد سے ہی ہندوستان کی تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران بھی اپنے مفادات کی خاطر اس سے کسی نہ کسی طرح وابستہ رہے ہیں ۔لہذا عدالت کو اس معاملے کی سماعت پانچ یا سات رکنی بینچ کے سامنے کرنا چاہئے۔
جمعیۃ علماء کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون کی بحث آج نا مکمل رہی جس کے بعد عدالت نے مزید سماعت کے لیئے 6اپریل کا دن مقرر کرتے ہوئے اپنی سماعت مکمل کردی ۔

Friday, 23 March 2018

دارالعلوم وقف دیوبند کے موقر استاذ مولانا غلام نبی کشمیری مہلک بیماری کے شکار، ٹاٹا ھاسپٹل ممبئی میں زیر علاج، دعا کی درخواست!

دیوبند(آئی این اے نیوز 23/مارچ 2018) ایشیا کی عظیم اسلامی یونیورسٹی دارالعلوم وقف دیوبند سہارنپور کے ممتاز استاذ حدیث و ادب مولانا غلام نبی کشمیری ان دنوں سخت علیل ہیں جنہیں ممبئی کے مشہور ہاسپیٹل ٹاٹا میں اہل خانہ کے ذریعہ داخل کرایا گیا ہے، جہاں ماہرین ڈاکٹروں کے تحت علاج جاری ہے،
علاج کے دوران کی گئی جانچ میں کینسر جیسی مہلک بیماری سامنے آئی ہے جس سے اہل خانہ اور شاگردوں میں تشویش کی کیفیت پائی جارہی ہے، علاج کررہے ڈاکٹروں نے فوری طور پر آپریشن کا مشورہ دیا ہے، حالانکہ جمعہ کی شام تک  ابھی ایک  اور جانچ  ہونی ہے.
مولانا غلام نبی قاسمی کے بیٹے حسان ولی متعلم دارالعلوم وقف دیوبند نے سبھی لوگوں سے مولانا کی جلد شفاء کلی کیلئے خصوصی دعاء کی اپیل کی ہے.
واضح رہے مولانا غلام نبی کشمیری کو لیور میں شکایت تھی جسکا علاج مظفرنگر اور سہارنپور میں چل رہا تھا، ہاسپیٹل میں مولانا غلام کشمیری کے بڑے صاحب زادے سلمان ولی اور دارالعلوم وقف کے شعبہء نشر و اشاعت  کے ناظم مولانا عبداللہ ابن القمر الحسینی وغیر موجود ہیں.

الفیض سوسائٹی کے زیر انتظام مشاعرہ کا انعقاد!

سلمان کبیرنگری
ــــــــــــــــــــــ
بلواسینگر/سنت کبیرنگر (آئی این اے نیوز 23/مارچ 2018) الفیض سوسائٹی کے کے تحت مہواری میں ششم قسط منعقد ہوئی جس ڈاکٹر محمد شفیق کی سرپرستی اور وسیم خان وسیم کی قیادت میں ایک مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس کی عبدالہادی ہمدم نے کی اور نظامت کے فرائض غفران ندوی نے کیا، اس کے بعد سلمان کبیرنگری نے حمدباری تعالٰی سے مشاعرے کا آغاز کیا. کچھ پسندیدہ اشعار قارئین کے نظر ہے:
پھندے لگے ہوئے ہیں سیاست کے ہر طرف
بچتے پھریں گے حضرت جمن کہاں کہاں
وسیم خان وسیم
میرے رشک قمر جارہے ہو مگر
جان لیواہے منظر کہاں جاوگے
گہر بستوی
عاجز اسے حاصل ہے جمہوریت کا رتبہ
مسلک کے تنازعوں سے پاکیزہ رسالہ ہے
عاجز بستوی
اس کے علاوہ ضلع پنچایت رکن محمد احمد، ایم آئی ایم لیڈر سنیل یادو، اورنگزیب، گھائل بستوی، ریاض بھارتی، ارمان کبیرنگری، سلمان عارف، رضوان منیر، عبد العظیم، پرویز الٰہی وغیرہ موجود رہے.

سیتامڑھی کے محمد افروز کا ممبئی میں قتل، گاؤں میں ماتم!

محمد صدرعالم نعمانی
ــــــــــــــــــــــــــ
باجپٹی/سیتامڑھی(آئی این اے نیوز 23/مارچ 2018) سیتامڑھی ضلع کے باجپٹی تھانہ کے مدھوبن قصبہ باشندہ محمد فاروق سیٹھ  کے21سالہ لڑکا محمد افروز کا ممبئی کے دھڑاوی محلہ میں شب کے بارہ بجے محمد عامر شیخ باشندہ لوام ضلع دربھنگہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر بڑی بےرحمی کے ساتھ قتل کردیا.
موصولہ اطلاع کے مطابق مقتول محمد افروز اور محمد عامر شیخ کی آپس میں دوستی تھی شب کے بارہ بجے کے قریب محمد عامر نے محمد افروز کو فون کر کے بلایا اور ماہم ریلوے پھاٹک سے تھوری دوری پر جھاڑیوں کے قریب لے جا کر پہ درپہ محمد افروز کے جسم پر 52مرتبہ چاقؤں سے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا، اس کے بعد محمد عامر نے خود ہی کئی لوگوں کو فون کر کے بتایا کہ میں نے محمد افروز کا قتل کر دیا ہے اور اسکی لاش فلاں جگہ پر ہے، اور خود ہی پولیس اسٹیشن جاکر قتل کا اقرار کرتے ہوئے پولیس کے نزدیک خود کو سپردگی کردی، پولیس کو اس نے مقتول کی لاش دکھائی اور یہ بھی بتایاکہ مقتول کا بھائی محمد افروز فلاں اپارٹمنٹ میں رہتا ہے پولیس نے اسکی اطلاع مقتول کے بھائی محمد فیروز کو دی افروز کے قتل کی اطلاع ملتے ہی دھراوی میں کہرام مچ گیا، اس کی  اطلاع جیسے ہی مقتول کے آبائی قصبہ بہار کے سیتامڑھی ضلع کے باجپٹی تھانہ کے تحت مدھوبن میں ہوئی، پورے قصبہ میں صف ماتم بچھ گیا گھر کے افراد کا رو رو کر برا حال ہے کسی کو اب بھی یقین نہیں ہو رہا ہے کہ انتہائی ملنسار اور خوش مزاج محمد افروز کا قتل کوئی اس طرح بےرحمی سے کرسکتا ہے.
 واضع ہوکہ مقتول کے والد محمد فاروق سیتھ کے ممبئی میں کئی مکانات ہے اور بڑا کاروبار بھی اور قاتل اور مقتول دونوں کی دوستی بھی آپس میں خوب تھی قتل کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی ہے.
نمائندہ کو ممبئی دھراوی کے معروف سماجی کارکن محمد انظار نے بتایا کہ مقتول کے والد اپنے آبائی گاؤں سے ممبئی کیلئے بذریعہ طیارہ روانہ ہوچکے ہیں، انکے آنے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ انکی نمازہ جنازہ ممبئی میں ہوگی یا انکے آبائی قصبہ میں، پولیس قتل میں شامل بقیہ افراد اور قتل کی اصل وجہ کی تفتیش کر رہی ہے.

ہریانہ وقف بورڈ کے ایجوکیشن چیئرمین مبارک علی نے درگاہ بوعلی شاہ قلندر کا کیا معائنہ، ماتحتوں کو دی سخت ہدایات!

محمد ارشاد الحق مفتاحی
ـــــــــــــــــــــــــــ
پانی پت/ھریانہ(آئی این اے نیوز 23/مارچ 2018) پانی پت شہر کی مشہور درگاہ شاہ شرف الدین صاحب بوعلی شاہ قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر لگنے والے میلے کا کل دوپہر ہریانہ وقف بورڈ کے چیئرمین نے دورہ کیا اور نظم و نسق میں ملی خامیوں کو دور کرنے کو کہا.
نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے گدی نشیں محمد اعزاز صاحب نے کہا کہ درگاہ کے احاطہ میں منع کرنے کے باوجود دوکانیں لگادی گئی تھیں، جس سے آنے والے زائرین کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا تھا، پانی پت وقف بورڈ کی ڈی سی سمیدہ کٹاریہ سے کئی بار شکایت کی گئی مگر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا،تو پھر ہیڈ آفس انبالہ شکایت کی تو آج اچانک چیئرمین صاحب نے دورہ کیا اور ماتحتوں کو سخت ڈانٹ لگائی اور انتظام کے ساتھ میلے کو اختتام پہنچانے کی ہدایات دی.

سعودیہ عربیہ کی وزارت شؤون الاسلامیہ کے مشیر خاص ڈاکٹر عبدالعزیز عمار حفظہ اللہ کی تشریف آوری پر دارالعلوم وقف دیوبند میں استقبالیہ تقریب منعقد!

دیوبند(آئی این اے نیوز 23/مارچ 2018) ایشیاء کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم وقف دیوبند میں سعودیہ عربیہ کی وزارت شؤون الاسلامیہ کے مشیر خاص ڈاکٹر عبدالعزیز عمار حفظہ اللہ کی تشریف آوری پر استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، اس موقع پر انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیوبند کی اس مقدس سرزمین پر حاضری اور اکابر علماء سے ملاقات یقیناً میرے لئے باعث عز و شرف ہے، اس سرزمین نے علوم اسلامیہ کی جو عظیم خدمات انجام دی ہیں وہ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر علماء دیوبند کے علمی امتیازات و تفردات اور خصوصاً علم حدیث کے باب میں ان کی کاوشوں اور خدمات کا بہ غائر مطالعہ بھی کیا اور خوب سنا بھی ہے، میں نے پایا کہ علماء دیوبند کا وصف خصوصی وصف اعتدال ہے، علماء دیوبند اپنے اس وصف خصوصی کی بنیاد پر ممتاز نظر آتے ہیں، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ دیوبند کی ان عظیم خدمات کا سہرا خصوصاً خانوادۂ قاسمی اور حضرت نانوتویؒ کے سر جاتا ہے، آج دارالعلوم دیوبند کو جو آفاقیت اور امتیاز حاصل ہے اس میں خانوادۂ قاسمی کی بے مثال قربانیاں کارفرما ہیں، جنہوں نے اس عظیم ادارہ کی تأسیس فرمائی،
جو حق و باطل کے مابین مابہ الامتیاز ہے اس ادارہ نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا عالمی پیمانہ پر فریضہ انجام دیا، پورے عالم میں فضلائے دیوبند کی خدمت دین کے باب میں عظیم خدمات یقیناً اس ادارہ کی جد و جہد کا نتیجہ ہے، اس دوران انہوں نے دارالعلوم وقف دیوبند میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ شعبۂ بحث و تحقیق حجۃ الاسلام اکیڈمی سے جاری تحقیقی و تصنیفی سرگرمیوں کا معائنہ فرمایا اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مختلف زاویوں سے اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لئے سرگرمیوں کا یہ تسلسل یقیناً قابل مبارکباد ہے اور خصوصاً شعبۂ بحث و تحقیق سے جاری کاوشیں علماء دیوبند کی علمی خدمات سے عالم اسلام کو متعارف کرانے کا ذریعہ ہوگا، انہوں نے کہا اس مقدس علمی سرزمین پر میری حاضری یقیناً میرے لئے باعث سعادت ہے، آج میں اپنے آپ کو آپ حضرات کے درمیان پاکر فخر محسوس کررہا ہوں، انہوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ تقویٰ کو لازم پکڑیں اس لئے کہ آپ حصول علوم نبوی میں مصروف ہیں، یقیناًمن جانب اللہ آپ کا ایک مقام و امتیاز ہے.
پروگرام کا آغاز مولانا قاری محمد واصف عثمانی کی تلاوت سے ہوا، مولانا ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی نے نظامت کے فرائض انجام دئیے، جس میں انہوں نے مہمان مکرم کی خدمت میں ہدیۂ تشکر پیش کرتے ہوئے مہمان مکرم کا تعارف پیش کرایا، بعد ازاں مولانا نوشاد نوری نے دارالعلوم وقف دیوبند کا تعارف پیش کیا، مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی کے پہلے سے طے شدہ سفر میں ہونے کی وجہ سے مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی شیخ الحدیث دارالعلوم وقف دیوبند نے ان کی جانب سے ہدیۂ سپاس پیش کیا، بعد ازاں آستانہ قاسمی میں حاضر ہوکر خطیب الاسلام حضرت مولانا محمدسالم قاسمی صاحب مدظلہ سے ملاقات کی، اس موقع پر جملہ اساتذہ دارالعلوم وقف دیوبند موجود رہے۔

Thursday, 22 March 2018

سیتامڑھی: جامعہ عربیہ اشرف العلوم کنہواں میں تکمیل حفظ قرآن کی مجلس منعقد، 35طلباء کرام نے تکمیل حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی!

رپورٹ: محمد امین الرشید سیتامڑھی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سیتامڑھی(آئی این اے نیوز 22/مارچ 2018) آج یہاں جامعہ عربیی اشرف العلوم کنہواں تکمیل حفظ قرآن کی ایک مجلس زیر صدارت حضرت مولانا محمد اظہارالحق صاحب مظاھری نائب ناظم جامعہ ھذا، بمقام مسجد اشرف میں منعقد ہوئی، مجلس کا آغاز احمد علی سیوھاروی نے قرآن مجید پڑھکر کیا، بعدہ نعت پاک محب اللہ رشیا نے پڑھا، آغاز مجلس میں کل 35طلباء نےحفظ قرآن مجید کی تکمیل کی.
حضرت مولانا انوارللہ فلک قاسمی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ  نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مجلس میں چند ایسے بچے ہیں جنھوں نے ایک سال سے کم مدت میں حفظ کی سعادت حاصل کیا۔یہ سب خدائی کرشمہ ہے کہ اتنی کم عمر اورقلیل مدت میں بچہ حفظ مکمل کرلیتاہے، اللہ تعالیٰ نے بذات خود قرآن مجید کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے، بچوں کی یہ عمر تو کھیلنے کودنے کی تھی لیکن اسی کم عمری میں اللہ تعالیٰ نے اپنا پاک کلام بچوں کے سینے میں محفوظ کرکے دنیا کو اپنی قدرت کا کرشمہ دکھا دیا، نیز فرمایا کہ حفاظ کرام کی اب ذمہ داری بڑھ گئی ہے دین کی عزت و عظمت کا خیال رکھیں، نماز باجماعت کا اہتمام، اور غلط صحبت سے پرہیز کریں، الغرض غیر شرعی کاموں سے کلی اجتناب کریں، اس مدرسہ کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ یہاں کے طلبہ شریعت وسنت کی ہرممکن پاسداری کرتے ہیں، پھر سرپرست حضرات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ حفاظ کرام کو اچھے القاب سے پکارا جائے، اور ان کی قدر کی جائے، خود اپنے اندر بھی  دین داخل کریں، اور گھر کے ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں، اور پڑوسیوں کے حقوق کا بھی خیال رکھیں، آج ہم پر جو حالات آرہے ہیں یہ ہماری دین سے دوری کا نتیجہ ہے، دوران خطاب ملک کے امن وامان اور برادران اسلام کی حفاظت کےلئے دعا کی گئی، اور تمام ائمہ مساجد سے بھی عالم اسلام کی حفاظت اور امن وامان کے لئے دعاء کی درخواست کی۔
واضح ہو کہ کل 35طلباء میں سے بیشتر طلباء نے 3سال سے کم مدت میں حفظ مکمل کیا۔
اس موقع پر محمد سجاد خالد اجرا، محمد ثاقب غازی آباد، محمد عادل بیرگیا، محمد عرش عالم کسیہ پٹی، محمد ذیشان بدرپرسونی، محمد شہباز بلہامقصودن، محب اللہ طاہر سمستی پور، شمش الدین بہو رار، محمد افتخار بتہا، محمد عارف حسین دوگھرا، محمد عامر حسین کنہواں، عبیداللہ پرسا، ابرار عالم الپورہ، نصراللہ بندھی، حسیب الرحمن دھمورانیپال، ابوطالب رائے پور، محمد آفتاب عالم کنچن پور، محمد مکرم شمسی نیپال، محمد مزمل حسین اندولی، عبدالرحمن بلہامقصودن، محمد عمران عالم چکنی، محمد سجاد شمسی نیپال، محمد احسان اللہ گاڑھار، نسیم احمد مدھوبنی، محمد ثاقب دربھنگہ، عبدالمقیت بلواھا نیپال، غلام ربانی بھرت پور نیپال، محمد اظہار الحق اکھرڈیہہ، مشفق الرحمن پرسا نیپال،محمد امجد علی حسن پور مدھوبنی، حشمت علی بھیروکوٹھی، ابوسعد نغمی مہسول، سمیہ عائشہ مرلیاڈیہ، ھدایت اللہ چمپارن، اور ناظر حسین نیپال، جامعہ کے نائب ناظم مولانا اظہار الحق صاحب، مولانا عبداللہ قاسمی، مولانافہیم قاسمی، مولانا صدرعالم قاسمی،قاری نوشاد صدیقی، محمد امین الرشید سیتامڑھی، مولانا مظفر حسین مظاھری، قاری عبدالخالق صاحب مولانا انورالحق قاسمی، مولانا نسیم صاحب قاسمی کے علاوہ کثیرتعداد میں لوگ شریک مجلس رہے.
اخیر میں حضرت مولانا اظہار الحق صاحب مظاھری نائب ناظم  وصدر المدرسين جامعہ ھذا کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا، قاری عبدالخالق صاحب استاذجامعہ ھذانےآئے ہوئے مہمانوں کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا۔