اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 27 July 2017

دیوگاؤں کے بسہی اقبال پور رہائشی غلام کبریا کو پوچھ تاچھ کیلئے ATS نے کیا گرفتار!



رپورٹ: عبدالرحیم صدیقی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیوگاؤں/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 27/جولائی 2017) دیوگاؤں کوتوالی کے تحت بسہی اقبال پور رہائشی غلام کبریا بیٹے مولانا محمد زکریا مرحوم کو کل شام تقریباً 07:00 بجے یوپی اے ٹی ایس نے پوچھ تاچھ کیلئے لکھنؤ لے گئی.
خبروں کے مطابق گذشتہ دنوں سلیم نامی شخص کو سعودی عرب سے ممبئی آتے وقت ایئرپورٹ پر اے ٹی ایس نے کسی جرم میں گرفتار کیا تھا، پوچھ تاچھ کے بعد اس نے غلام کبریا کو سعودی عرب میں اپنا پڑوسی بتایا تھا، اس نے کہا میں انہین جانتا ہوں، جس کے تحت کل شام میں اے ٹی ایس غلام کبریا کے گھر پہنچی اور اسے لیکر لکھنؤ روانہ ہوگئی پوچھے جانے پر کہا گیا کہ پوچھ تاچھ کے بعد واپس چھوڑ دیں گے.
واضح ہو کہ غلام کبریا گزشتہ دس سال سے سعودی عرب چوڑ چکے ہیں، اب گھر پر ہی رہ کر گاڑی چلا کر اہل خانہ کی ضروریات پوری کرتے ہیں.
اس موقع پر گاؤں لوگوں کی غلام کبریا کے گھر بھیڑ لگ گئے، اطلاع پا کر راشٹریہ علماء کونسل کے کارکن مولانا شہاب اختر قاسمی نے اعلیٰ افسران سے بات چیت کے بعد یقین دہانی کے ساتھ لکھنؤ جائیں گے جہاں راشٹریہ علماء کونسل کے دفتر پہنچ کر اے ٹی ایس آفس جائیں گے.

Wednesday, 26 July 2017

بسہی اقبال پور میں چوروں نے کیا ہاتھ صاف، زیورات سمیت کپڑے بھی لے گئے!


رپورٹ: عبدالرحیــم صدیقی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیوگاؤں/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 26/جولائی 2017) دیوگاؤں تھانہ علاقہ کے بسہی اقبال پور رہائشی سلام الدین ولد محمد نعیم مرحوم کے گھر رات تقریباً 03:00 چوروں نے زبردست چوری کی، رات میں سلام الدین اپنے گھر سورہے تھے اسی دوران انہیں گھر میں کسی کے ہونے کی آہٹ محسوس کی جس کیوجہ سے وہ بیدار ہوئے، تو شور مچاتے ہوئے چوروں کو گھر کے پیچھے سے بھاگتے ہوئے دوڑایا، لیکن تنہا شخص کیا کر سکتا ہے تھا، چور بھاگنے میں کامیاب ہوئے.
سلام الدین نے بتایا کہ چوروں نے گھر میں رکھے دو لڑکیوں کی شادی کیلئے زیورات سمیت کپڑے تک اٹھا لے گئے، چوروں نے اپنے ساتھ گھر میں رکھی 5 پیٹیاں بھی اٹھا لے گئے، اور بڑا باکس توڑ کر ضروری سامان بھی لے گئے، جس میں سلا ہوا کپڑا بھی شامل ہے.
انہوں نے بتایا کہ میری بھابھی جو چھت پر رہتی ہیں ان کا بھی سامان اٹھا لے گئے.
واضح ہو کہ چوروں میں سے ایک کو سلام الدین نے پہچان لیا جو گاؤں کا ہی ہے، 100 نمبر ڈائل کیا تو موقع پر فوراً پولیس پہنچی، ضروری کارروائی کر کے واپس چلی گئی، سلام الدین نے ایک نامزد سمیت کچھ نامعلوم کے خلاف دیوگاؤں کوتوالی میں تحریر دی ہے، پاس پڑوس کی مانیں تو اب تک گاؤں میں اس طرح کی چوری پہلی بار ہوئی کہ بدن پر پہننے والے کپڑے بھی اٹھا لے گئے.

اعظم گڑھ: زخمی پردھان دھرمیندر یادو کی موت، گاؤں میں غم کا ماحول، 12 دن پہلے حملہ آوروں نے ماری تھی گولی!


رپورٹ: ســلــمان اعظــمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 26/جولائی 2017) 12 جولائی کو قاتلانہ حملے میں زخمی پلھنی کے جين پور كوٹھرا گاؤں کے پردھان دھرمیندر یادو گڈو کی موت ہو گئی، گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئے پردھان کا وارانسی میں علاج چل رہا تھا.
پردھان کی موت کی خبر ملتے ہی پورے گاؤں میں سوگ کا ماحول ہے، لاش پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں حامیوں کی بھیڑ جٹ گئی، اس کو دکھتے ہوئے پولیس انتظامیہ نے کئی تھانوں کی فورس لگائی تھی.
 غور طلب ہے کہ شہر کوتوالی علاقے کے بنشی بازار کے قریب واقع جين پور كوٹھرا گاؤں کے پردھان دھرمیندر پر تب حملہ ہوا تھا جب رات میں موٹر سائیکل سے گھر واپس لوٹ رہے تھے، اہل خانہ کی تحریر پر مقدمہ درج کر لیا گیا تھا، ایک ملزم کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، پردھان کے بھائی وریندر یادو نے کہا کہ حملہ آوروں نے جان مارنے کی نیت سے ہی حملہ کیا تھا، ہم چاہتے ہیں کہ اس کے تمام ملزم گرفتار ہوں.

Tuesday, 25 July 2017

بینـک سے موبائل غائـب ہونے پر مچا ہڑکمپ، سی ٹی وی کیمـرے سے ہوا پردہ فاش!


رپورٹ: عبدالرحیـــم صـدیـقی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیوگاؤں/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 25/جولائی 2017) دیوگاؤں بھارتی اسٹیٹ بینک کے ایک ملازم کی موبائل آج صبح کو غائب ہوگئی، کافی پیمانے پر تفتیش کرنے پر بھی نہ ملی، بینک ملازمین نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ کر علاقے کے ایک مانند شخص کو موبائل لے جاتے دیکھنے پر اس شخص کو بینک بلایا، اور اس نے آتے ہی انکار کر دیا کہ اس نے موبائل نہیں لی ہے.
جبکہ فون لگانے پر موبائل بند بتا رہا ہے، مانند شخص کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج دکھانے پر اس نے سوچا کہ اب راز کھل جائے گا اس نے بلا تاخیر موبائل بینک ملازمین کو واپس کر دی اور معذرت طلب کرتے ہوئے بھاگ نکلا.

جاری منافرت انگیز مہم کا موثر جواب دینے کے لیے جمعیۃ علماء ہند ملک بھر میں ایک ساتھ امن مارچ کرے گی، جشن ازادی تقریب میں برادران وطن کے ذمہ دار افراد اور سرکاری افسران کو مدعو کرنے کی اپیل!


رپورٹ: محمد سلــمان دھـلوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نئی دہلی(آئی این اے نیوز 25/جولائی 2017) جمعیۃ علما ء ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس ،اس کے مرکزی دفتر مفتی کفایت اللہ ہال، ۱۔بہادر شاہ ظفر مارگ نئی دہلی میں مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند کے ز یر صدارت منعقد ہوا جس میں ملک کی موجودہ فرقہ وارانہ صورت حال ، آسامی مسلمانوں کے حق شہریت کے مقدمات کی پیروی ، سپریم کورٹ میں طلاق ثلثہ سے متعلق جاری مقدمات اور عالم اسلام کی صورت حال سمیت متعدد ایجنڈوں پر غورو خوض ہوا اور اہم فیصلے کیے گئے۔
ملک کی مو جود ہ فرقہ وارانہ صورت حال پر تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے مجلس عاملہ نے اعلان کیا کہ آئندہ ۱۳؍اگست کو جمعیۃ علماء کی یونٹیں اپنے شہروں اور علاقوں میں’’ امن مارچ ‘‘منعقد کریں گی ۔مجلس عاملہ کا یہ فیصلہ ملک میں جاری منافرت انگیز مہم کے تناظر میں کافی اہمیت کا حامل ہے ۔جمعیۃ علماء ہندکی یونٹیں بیشتر ریاستو ں میں بلاک سطح تک قائم ہیں ،ایسی صورت میں یہ ’’امن مارچ‘‘ ایک ساتھ وسیع پیمانے پر ملک کے مختلف علاقوں میں منعقدہوگا۔اس مارچ کو موثر بنانے کے لیے جمعیۃ علماء ہند ،چند رہنما ہدایات بھی جاری کرے گی ۔ ایک دوسرے فیصلے میں مجلس عاملہ نے جمعیۃ علماء کی شاخیں اور مدارس اسلامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ حسب معمول’’ جشن یوم آزادی‘‘ منائیں اور اس تقریب میں سرکاری افسران اور برادران وطن کے ذمہ دار افراد کو بھی مدعو کیا جائے۔
سوشل میڈیا پر اسلام اور مسلمانوں پر بڑھ رہے اعتراضات کا جواب دینے اور جمعیۃ علماء کی سرگرمیوں سے نوجوانوں کو واقف کرانے کے لیے مجلس عاملہ نے مولانا محمودمدنی ، مولانا مفتی سلمان منصور پوری، مولانا متین الحق اسامہ کانپور، مولا نا معزالدین احمد اور مولانا نیاز احمد فاروقی پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو تمام پہلووں کا جائزہ لے گی ۔
مجلس عاملہ نے کئی ہفتوں سے قبلہ اول مسجد اقصی اور اس کے اطراف میں جاری تشدد او ربدامنی کی سخت مذمت کرتے ہوئے ایک تجویز منظور کی ہے جس میں عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اسرائیل کو جبر و تشدد سے روکیں اور مسجد اقصی میں نمازیوں پر لگائی گئی پابندیاں ہٹوائیں تاکہ زائرین بلا روک ٹوک مسجد اقصی میں عبادات انجام دے سکیں۔
ملک بھر میں جماعتی نظم و نسق کے لیے مجلس عاملہ نے طے کیا کہ جماعتی کارکنان کے لیے ملک کے پانچ زون بنا کر چھ ماہ کے اندر تربیتی اجتماع اور اجلاس منعقد کیے جائیں ۔ یہ بھی طے پایا کہ موسم حج کے بعد لکھنؤ یا کان پور میں مجلس منتظمہ کا اجلاس منعقد کیا جائے ۔ طلاق ثلثہ کی کارروائی پر شکیل احمد سید ایڈوکیٹ سپریم کورٹ نے مجلس عاملہ کے سامنے ایک تحریری رپورٹ پیش کی ۔آسام کے حق شہریت کے مقدمے سے متعلق مولانا بدرالدین اجمل نے تفصیلات پیش کیں۔
مجلس عاملہ نے حال میں چند اہم شخصیات خصوصا حضرت مولانا ریاست علی بجنوری ، حضرت مولانا ازہر ( نائبین صدرجمعیۃ ۃ علماء ہند )حضرت مولانا محمد یونس جونپوری، مولانا نسیم ا حمد غازی شیخ الحدیث جامعۃ الہدی مرادآباد، حضرت مولانا فخرالدین ناظم تنظیم وترقی دارالعلوم دیوبند، حاجی سکندرنائب صدر جمعیۃ علماء تامل ناڈو ، حاجی بشیر سادات  وغیرہ کے انتقال پر رنج و غم کا ا ظہار کیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی ۔
اجلاس میں صدر کے علاوہ درج ذیل اراکین شریک ہوئے مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند ، مولانا حسیب صدیقی خازن جمعیۃ علماء ہند ،شکیل احمدسید ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ، مولانا صدیق اللہ چودھری صدر جمعیۃ علماء بنگال ، مو لانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ علماء آندھرا پردیش و تلنگانہ، مولانا مفتی محمد سلمان منصور پو ری استاذ حدیث جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد ،مولانا متین الحق اسامہ صدر جمعیۃ علماء یوپی، مولانا مفتی احمد دیولہ ،مولانا مفتی محمد افتخار صدر جمعیۃ علماء کرناٹک ، مولانا بدرالدین اجمل صدر جمعیۃ علماء آسام، مولانا قاری شوکت علی ویٹ،مولانا محمد رفیق مظاہری صدر جمعیۃ علما ء گجرات،مولانا محمد سلمان بجنوری دارالعلوم دیوبند ، مولانا محمد قاسم صدر جمعیۃ علماء بہار، مولانا مفتی جاوید اقبال نائب صدر جمعیۃ علماء بہار، قاری محمد ایوب نائب صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹرا، قاری محمد امین صدرجمعیۃ علماء راجستھان ، ڈاکٹر مسعود احمد مئو ناتھ بھنجن ، مولانا محمداسلام قاسمی صدر جمعیۃ اتراکھنڈ ،مولانا مفتی محمدراشد اعظمی استاذ دارالعلوم دیوبند ، مولانا سید سراج الدین معینی ندوی اجمیر، مولانا الیاس مفتاحی پپلی مزرعہ، مولانا محمد عاقل گڑھی دولت، مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری ،مولانا علی حسن مظاہر ی ناظم اعلی جمعےۃ علماء پنجاب، ہریانہ وہماچل ، حاجی محمد ہارون بھوپال، مولانا مفتی حبیب الرحمن الہ آباد ،مولانا معزالدین احمد ناظم امارت شرعیہ ہند، مولانا نیاز احمد فاروقی ایڈوکیٹ ، مفتی عبدالرحمن نوگاواں سادات صدر جمعیۃ علماء امروہہ، ڈاکٹر سعید الدین قاسمی ، مولانا محبوب حسن آسام، مولانا عبدالقادر آسام ، مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند.

سرکاری ہسپتال میں زیور محل کے انصاری برادران نے درخت لگاؤ مہم کے تحت 100 درخت لگایا، 1000 ہزار درخت لگانے کا ہے ارادہ!


رپورٹ: جاوید حسن انصاری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 25/جولائی 2017) ریشم نگری مبارکپور میں منگل صبح 9 بجے مبارکپور زیور محل کے انصاری برادران حاجی ظفر احمد انصاری صاحب اور حاجی سلیمان اختر انصاری شمشی صاحب کی قیادت میں درخت لگاؤ ​​مہم 1000 کے تحت سرکاری اسپتال میں شجر کاری پروگرام ختم ہوا، جس میں 100 درخت لگایا گیا پروگرام میں سرکاری ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر سی یادو، ذیلی انچارج ڈاکٹر نفیس انصاری نے زیور محل کے حوصلے کو مبارکباد دے کر بہت خوش ہوئے اور خوب تعریف کی.
معلوم ہو کہ دو ماہ پہلے ہسپتال میں مریضوں کے لئے ٹھنڈا پانی فریزر لگوائے تھے حاجی سلیمان اختر انصاری کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر سی یادو اور ڈاکٹر نفیس انصاری نے کہاکہ سماجی خدمت کا کام بہت ہی ثواب کا کام ہے اور زیور محل پورا کر رہا ہے، جو مبارکباد کے مستحق ہے.
اس موقع پر ڈاکٹر نوین ورما، ڈاکٹر سی یادو، ڈاکٹر نفیس انصاری نے درخت ہینڈلنگ کے لئے تین گاڑی اینٹ منگانے کی بات کہی جس سے درخت محفوظ رہیں گے.
 اس موقع پر مینیجر ضمیر احمد انصاری، حاجی مختار احمد علی گڑھ، صرافہ وزیر خزانہ سبھاش ورما، نوجوان لیڈر ورون کمار مشرا ببلو، سبھاسد سہیل احمد انصاری، ڈبلو مشرا، احمد ضیاء انصاری، ڈاکٹر تنویر احمد، قمر الہدی انصاری، امیر حمزہ انصاری ، فضل حق انصاری، حاجی اسرار حسن انصاری سماجی کارکن لال کواں، سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود رہے.
صرافہ زیور سلطنت کے مالک اور معروف سماجی کارکن  حاجی سلیمان اختر انصاری شمشی نے بتایا کہ درخت لگاؤ مہم جاری رہی گی، ابھی  اور درخت لگایا جائے گا.

اعظم گڑھ: ایک ہی گاؤں کے 17 افراد حج کیلئے ہو رہے ہیں روانہ، گاؤں میں خوشی کا ماحول!



رپورٹ: ثاقب اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
سرائے میر/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 25/جولائی 2017) یوں تو زندگی میں ہر عاقل و بالغ پر فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی میں حج جیسا اہم فریضہ ادا کرے جس کے چلتے لوگ حج کیلئے ہر سال جایا کرتے ہیں.
اسی کی تحت اعظم گڑھ ضلع کے سرائے میر تھانہ علاقہ کے موضع کرولی خورد جو کہ لکھنؤ اعظم گڑھ میں روڈ سے دکھن جانب واقع ہے، اس گاؤں کے اس بار 17 افراد حج بیت اللہ کیلئے روانہ ہو رہے ہیں جس کو لیکر گاؤں میں خوشی کا ماحول بنا ہوا ہے.
واضح ہو کہ ان 17 افراد میں سے حاجی طیب جن کی عمر 95 سال ہے وہ بھی حج کیلئے جا رہے ہیں، جو قصبہ سرائے میر کی جدید جامع مسجد کے مؤذن ہیں.

مسلمان ان حالات میں مایوس اور خوفزدہ نہ ہوں : مولانا غفران قاسمی


رپورٹ: سلمان کبیرنگری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بستی(آئی این اے نیوز 25/جولائی 2017) ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کو مایوس اور خوفزدہ ہونے کے بجائے ہمت اور حوصلہ سے رہنے کی ضرورت ہے، نبی اکرم صلعم کے مبارک دور میں کفار مکہ نے صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی مگر وہ اپنے ایمان اور عقائد پر ڈٹے رہے اور ہمت نہیں ہاری، ہم بھی اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے حوصلہ بلند رکھیں، اور برادران وطن کے ساتھ حسن سلوک اور محبت کے ساتھ پیش آئیں اور ان کے قریب ہوں تاکہ نفرت مٹے اور محبت ایک دوسرے کے تئیں ہمدردی پیدا ہو اور ایک صالح  معاشرے کی تشکیل عمل میں آئے.
ان خیالات کا اظہار جامعۃ الطیب دیوبند کے مہتمم مولانا محمد غفران قاسمی بستوی نے اپنے وطن دودھارا میں ایک شادی کی تقریب میں میڈیا سے کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں انسانیت کے تحت ہر کسی کے کام آنا چاہئے دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ اور دوسرے کے درد کو اپنا درد سمجھنا چاہیے.
 مولانا غفران نے کہا کہ ہماری تنظیم دیوبند ایجوکیشنل ویلفئر سوسائٹی دیوبند  بغیر کسی بھید بھاؤ کے سماج میں ہر ضرورت مند طبقہ کے لئے کام کرتی ہے، مولانا نے اپنی خدمت کو بارگاہ خدا وندی میں قبولیت کے لئے امت مسلمہ سے دعاء کی درخواست کی.
 اس موقع پر سلمان عارف ندوی، صابر علی، منور حسین، عدنان احمد، زاہد قاسمی وغیرہ موجود تھے.

جہیز شریعت اسلامیہ کی نظر میں!


تحریر: قاری محمد مامون الرشید صاحب استاد شعبہ تحفیظ القرآن مدرسہ طیب المدارس پریہار ضلع سیتامڑھی بہار
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ بات چڑھتے ہوئے سورج کی طرح عیاں ہے، کہ اسلامی معاشرے میں چندایسے رسومات بدرائج ہیں جو دل سوز ہی نہیں بلکہ انسانیت سوز ہے، ان میں سے ایک "جہیز "بھی ہے، جہیز لغت میں اسباب زندگی کو کہا جاتا ہے اور عرف عام میں اس سامان کو کہتے ہیں جو لڑکی کو میکہ سے ملتا ہے خواہ لڑکا یا اسکے گھر والوں کی فرمائش کی وجہ سے یا از خود لڑکی والے دیتے ہیں.
یہی وجہ ہے کہ اسکے بغیر موجودہ زمانے میں شادی کا تصور ناممکن ہوتا جارہا ہے اور ان تمام اشیاء کے دینےکا مقصد صرف نام و نمود ہے اسی وجہ سے جہیز کے سارےسامان مجمع عام پیش کئے جاتے ہیں، اور ایک ایک سامان کھول کھول کر دیکھا جاتا ہے اور فہرست پڑھ کر سنائی جاتی ہے جو محض ریاکاری اور حصول شہرت پر مبنی ہے، جبکہ اسلام میں دکھلاوا اور ریاکاری بالکل حرام اور دوزخ رساں ہے،لیکن اس رسم جاں تلف نے ہمارے معاشرے کو بالکل کھوکھلا کردیا ہے کہ جہیز نہ دینے پر دلہن کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے،بلکہ بعض دفعہ خواہشات کے مطابق جہیز نہ ملنے پر سسرال والے بہو کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں جو آئے دن اخبار و جرائد کی سرخیوں کی زینت بن رہی ہیں، لیکن ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے ان ناعاقبت اندیش مسلمانوں پر جو جہیز کو جائز قرار دینے کے لئے کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز دیا تھا، ان کے اس باطل استدلال کا سردست  دو جواب دیتے ہیں.
 اول: ہم آپکی بات کوتسلیم نہیں کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز دیا تھا
دوم: جو کچھ آپ صلعم نے دیا تھا وہ سب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیسے سے خریدے ہوئے تھے.
لہذا اس کو جہیز کا نام دیکر اپنے آپ کو ضلالت و گمراہی میں نہ ڈالیئے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو ھدیہ لیتے دیتے ہیں تو یہ درست ہے لیکن اس وقت جب کہ نیت میں خلوص ہو اور کم ملنے پر کوئی شکوہ شکایت نہ ہو، مگر آج کس کی نیت درست ہوتی ہے.
دوسری بات یہ کہ اگر ہدیہ ہی دینا ہے تو پوری زندگی دینے کے لیے ہوتی ہے، اکثر دیکھا گیا ہے کہ شادی کے بعد یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم دے لیکر فارغ ہوگئے ہیں، اور شادی کے بعد ضرورت کے پیش آنے کے باوجو ہدیہ نہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ نکاح میں دی جانے والی چیز کا نام ہدیہ رکھنا محض ایک حیلہ ہے، اور اس طرح کا حیلہ شرعا ناجائز ہے، البتہ بقدر ضرورت لڑکی والے اپنی وسعت کے مطابق دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں.
حاصل یہ کہ شادی بیاہ کے موقع سے مروج طریقہ کی شریعت اسلامیہ میں کوئی حقیقت نہیں ہے، اسلئے ایسے نازک وقت میں ضروری ہے کہ دانشوران قوم و ملت اس رسم بد سے پہلے خود کو محفوظ رکھیں اور پھر دوسروں کو بھی بچائیں.

گمشــــدہ کی تــــلاش!


رپورٹ: محمد سلمان دھلوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیوبند (ائی این اے نیوز 25/ جولائی2017) انتہائی افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جارہی ہے کہ مولوی مسعود پرتاب گڑھی کے چھوٹے بھائی محمد کعب گزشتہ کل دیوبند سے لاپتہ ہے، آپ تمام حضرات دعاء کریں اللہ اس بچہ کو اس پرفتن دور میں تمام مصائب وآفات سے بچا کر خیر و عافیت سے گھر یا اپنے بھائی مولوی مسعود کے پاس پہنچا دے اور فوٹو بھی دیکھ لیں اگر کہیں آپ کو ملے تو براہ کرم مندرجہ ذیل نمبرات پر رابطہ کریں، شیئر کر کے اس طالب علم کو ڈھنڈنے میں مدد کریں.
 رابطہ نمبر:
 محمد سلمان دھـــلوی       08171076948
  مســعود پرتاب گڑھی       08445815702
اللہ تعالی آپ کو اس کا بہترین بدلہ عطاء فرمائے گا.

آٹـو پلٹـنے سے قاری ناصـر محمـود صاحـب زخـمی، اسـپتال میں داخـل!


رپورٹ: محمــد سلمـان دھـلوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
غازی آباد (آئی این ایے نیوز 25/جولائی2017) عزیز ساتھیوں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دیجا رہی ہے کہ محترم حضرت اقدس قاری ناصر محمود صاحب(بانی و مہتمم جامعہ دارالقرآن قصبہ ڈاسنہ ضلع غازی آباد)  دوران سفر آٹو پلٹنے کی وجہ سے زخمی ہوگئے ہیں، قاری صاحب کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جہاں علاج چل رہا ہے.
آپ تمام حضرات سے پر خلوص دعاء کی درخواست ھیکہ کہ اللہ تعالی  قاری صاحب کو جلد سے جلد شفاء کلی عطاء فرمائے. آمیــــن

Monday, 24 July 2017

استاد الاساتذہ حافط محمد عرفان صاحب بمہوری نے 53 سالہ تدریسی خدمات کو کہا الوداع!




ازقلم: محمد طیب قاسمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بلاشبہ کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جنکی زندگیاں ملت کی بھی خواہی کیلئے وقف ہوتی ہیں انکا وجود قدرت کیطرف سےخاص فیضان ہوتا ہے جن کے احسانات اور خدمات کا اعتراف زمانہ کرتا ہے، انہیں میں سے ایک شخصیت استاذ الاساتذہ حافظ محمد عرفان صاحب دامت برکاتہم کی ہے، یقیناً فانی دنیا کی اس خود غرض زندگی میں حضرت کی ہستی ایک نادر الوجود ہستی ہے۔
سنہ١٩٦٦ء میں اپنے عم محترم مولانا محمد انیس صاحب کی سر پرستی میں مدرسۃ الاسلام بمہور میں ایک ستارہ طلوع ہوتا ہے اور زائد از نصف صدی بڑی شان سے وہ ستارہ قرآنی انوار کی ضیا پاشیاں کرتا رہا اور نسلاً بعد نسل لوگوں کے قلوب کو دولت قرآن سے مزین کرتا رہا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے "خيركم من تعلم القرأن وعلمه" ترجمہ: تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے.
 بلاشبہ حافظ صاحب اللہ تعالی کے نزدیک بہترین شخص ہیں جن کو اللہ تعالی نے قرآن کی دولت سکھانے کیلئے چنا تھا۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قرآن کے ایک حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں اور اس طرح تریپن ۵۳ سالوں تک (سنہ قمریہ)روزانہ سیکڑوں بچوں کو پڑھانے اور سننے کے نتیجے میں کتنی نیکیاں آپ کے نامہ اعمال درج ہوتی رہیں ہیں انسانی عقل اسکا ادراک نہیں کرسکتی مزید یہ کہ تقریباً ٤٢سال رمضان مبارک میں مسلسل تراویح پڑھاتے رہے۔
ہمیں فخر ہے کہ ہم نے اس نورانی پیکرسے اکتساب فیض کیا ہے اور آپ کے مربیانہ انداز تدریس سے بہرہ ور ہوئے ہیں۔
آپ نے اپنے درس و تدریس کے پیشے سے ہمیشہ انصاف کیا کہ ۵۳ سالہ تدریسی زندگی میں کبھی بھی آپ پر اپنے پیشے سے نا انصافی اور نہ ہی کسی طرح کی مالی بے ضابطگی کا الزام لگا اور نہ معاشرتی اور سماجی زندگی میں کوئی دھبہ لگ سکا۔
بہت سے مواقع ایسے آئے جب خاندانی رقابتیں الیکشن یا مسلکی اور محلہ جاتی دشمنیوں کا عفریت لوگوں کے سروں پر سوار تھا مگر آفریں ہے آپ کی ذات پر کہ گاؤں میں رہتے ہوئے بھی ایسے مواقع پر اپنے آپ کو صاف بچا لے گئے۔
جس زمانے میں آپ کو اللہ نے حفظ قرآن کی دولت سے نوازا تھا اسوقت اچھے حافظ قرآن خال خال ہی ملتے تھےاور بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے آپ اگر چاہتے کسی بڑے شہر کا انتخاب کرکے پیسہ بھی کما سکتے تھے، مگر آپ نے گاؤں اور گاؤں کے بچوں پر محنت کو ترجیح دی بلا شبہ اس قربانی کیلئے آپ مبارکباد کے مستحق ہیں پیسہ کو کبھی آپ نے خدمت پر ترجیح نہیں دی چنانچہ ۱۹٦٦ء میں40 روپیہ مشاہرہ پر آپ کا تقرر عمل میں آتا ہے اور آج ٢٠١٧ء کے اس ہوش ربا گرانی کے دور میں آپ کا آخری مشاہرہ صرف آٹھ ہزار ہوتا ہے.
  بلاشبہ اللہ کی طرف سے کھلی برکت کا نزول ہی ہے کہ اس قلیل آمدنی میں بھی بچوں کی کفالت اور تعلیمی اخراجات پورے ہوتے تھے۔  
   مگر افسوس صد افسوس جس ہستی نے اپنی زندگی کے ۵۳ بیش قیمتی سال قوم و ملت کے لئے وقف کردئیے ہوں اور ہڈیوں کا گودا تک نچوڑ کر قوم کو دے دیا ہو اور جس نے ہماری تین نسلوں کو افضل کتاب کی دولت سے مالا مال کیا ہو ہمارے قلوب کو آیات قرانیہ کی لا زوال نعمت سے فروزاں کیا ہو مگر ہم ایسے محسن مطاع ومخدوم کی قدردانی کا حق ادا نہ کر سکے ہم آپ کو کوئی الوداعیہ بھی نہ دے سکے نہ کوئی تقریب نہ اہتمام نہ کوئی تام جھام شاید ہم زندہ قوم نہیں ہیں زندہ قومیں وہ ہوتی ہیں جو ایسی شخصیات کو سروں اور پلکوں پر بٹھاتی ہیں اور جنکے سر اپنے محسنین کے احسانات کے بار سے جھکے رہتے ہیں۔
یقیناً ہم بہت ناشکرے ہیں مگر رب دو جہاں تو بہت قدر شناس ہے یقیناً وہ دن ہمارے لئے رشک کا دن ہوگا جب اللہ رب العزت صدیقین شہداء اور صالحین کے ساتھ فرشتوں کی محفلوں میں آپ کی عزت افزائی کرے گا تب آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی.
جب قرآن کا ایک ایک حرف ایک ایک حرکت ایک ایک نقطہ آپ کی سفارش کریں گے اور جب ہزاروں معصوم بچے اور بچیاں آپ کے عشق قرآن کی گواہی دیں گےاور ہزارہا شاگردوں کے جلو میں اللہ آپ کو جنت میں داخل فرما ئے گا  بیشک اللہ سے یہی امید ہے۔
    12/07/2017 کا وہ دن مدرسۃ الاسلام کیلئے بڑا غمناک رہا ہوگا جب آپ نے ۵۳ سالہ رفاقت کے خاتمے کا اعلان کیا ہوگا مدرسہ پر اداسی کے بادل رہے ہوں گے اسکے در و دیوار گریہ کناں رہے ہوں گےاور اگر ہم محسوس کرسکتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ وہ پیپل کا درخت آپ کی جدائی پر دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہے جو ایک عرصہ تک آپ کا ہم راز رہا ہے جسکے سائے میں بیٹھ کر آپ نے آیات قرانیہ کا درس دیا ہے۔
   مگر اے مدرسۃ الاسلام کے بے جان در و دیوار اور اے حافظ صاحب کے ہمراز پیپل کے درخت سنو :- قوم کا سچا مخلص اور ہمدرد وہی ہوتا ہے جسے قوم کے نو نہالوں کے مستقبل کی فکر ہو، شاید اب ضعف و نقاہت کی وجہ سے وہ حق ادا نہ ہو سکے جو آپ سے مطلوب ہے لہذا تم سب کی جدائی تو برداشت کر سکتے ہیں مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ ان کا بڑھاپا اور کمزوری ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں رکاوٹ بنیں لہذا انھیں بادل نخواستہ اور با دیدۂ نم الوداع کہو.
     بہر حال حافظ صاحب آفریں ہے آپ کی خدمات پر آپ کے جذبۂ ایثار پر آپ کے خلوص و للہیت پر آپ کے اعتماد و توکل پر
  خوشا نصیب حافظ محمد عرفان صاحب قوم وملت کیلئے آپ کی خدمات ہماری تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے درج ہوں گی اور آپ کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی   اللہ آپ کا صحت و سلامتی کے ساتھ سایہ تادیر رکھے. آمیــــن
            ــــــــــــعـــــــــــ
کہہ رہی ہیں درد میں ڈوبی فضائیں الوداع
چارسو چھائیں ہیں اشکوں کی گھٹائیں الوداع
یہ درو دیوار یہ صحن و چمن یہ رونقیں
کس طرح تیری رفاقت کو بھلائیں الوداع

مدرسة الاصلاح سرائے میر میں خواتین محدثات ایک تعارف پروگرام کا انعقاد!


رپورٹ: محمد انظر اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سرائےمیر/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 24/جولائی 2017) علم حدیث میں خواتین کا حصہ حیرت انگیز اور علم حدیث کی خدمت کرنے والی خواتین کی تعداد دس ہزار سے متجاوز ہے یہ باتیں کیمبرج یونیورسٹی لندن کے ڈین ڈاکٹر محمد اکرم نے مدرسة الاصلاح سرائے میر میں منعقد خواتین محدثات ایک تعارف پروگرام میں کیا.
مزید انہوں نے کہا کہ ذخیرہ احادیث کا چوتھائی حصہ صرف خواتین سے مروی ہے اور قرون اولی اور قرون وسطٰی میں بڑی بڑی محدثات اور فقہات عالم اسلام کے اندر موجود تھیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواتین کی امامت میں مردوں کی اقتدا درست نہیں ہے.
صدارتی خطاب میں مدرسہ کے رکن انتظامی اور ابن ہیثم اسلامیہ کالج بحرین کے ڈاکٹر شکیل احمد نے کہا کہ خواتین کے سلسلے میں ہمیں احساس کمتری سے نکلنا ہوگا اور ٹھوس اقدام کی ضرورت ہے خواتین کا تابناک مستقبل رہا ہے.
استقبالیہ خطاب میں سابق صدر مدرس مولانا سرفراز احمد مدنی قرآن کی تعلیمات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قرآنی تعلیمات کے ذریعہ ہی دنیا میں امن قائم ہوا تھا آج اس پر آشوب وقت میں انسانیت کراھ رہی ان حالات میں ہمیں قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی امن قائم کیا جاسکتا ہے.
ناظم تعلیمات سہیل احمد نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسطرح کے پروگراموں سے اداروں کو فائدہ پہنچتا ہے ہم آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں.
پروگرام کا آغاز مولانا محمد عمران اصلاحی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا ۔اور مدرسہ کا ترا محمد اشرف نے رفقاء کے ساتھ پیش کیا ، پروگرام میں اساتذہ وطلبہ کے علاوہ کثیر تعداد میں علاقائی عوام شریک ہوئے.