اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Tuesday, 5 June 2018

شب قدر اور اعتکاف، دو بڑی نعمتیں!

رمضان میں خطبہ جمعہ ۳

محمد غالب فلاحی
ــــــــــــــــــــــــــــ
رمضان کا مقدس مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے اور تقریباً دو عشرہ گزرنے کو ہے رمضان کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ تحریق جہنم سے آذادی کا ہے یوں تو رمضان کا پورا مہینہ عبادت کا ہے لیکن آخری عشرے کی فضیلت دونوں عشروں سے بڑھ کر ہے کیونکہ اس عشرے میں دو بڑی نعمتیں ہیں ایک شب قدر اور دوسری نعمت اعتکاف
شب قدر بڑی فضیلتوں کی حامل ہے کیونکہ اس رات میں قرآن مجید کا نزول ہوا شب قدر کی فضیلت میں اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں ایک مکمل سورہ نازل کی ہے
انا أنزلناه فى ليلة القدر وما ادراك ما ليلة القدر ليلة القدر خير من ألف شهر تنزل الملائكة والروح فيها بإذن ربهم من كل أمر سلام هى حتى مطلع الفجر
ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا ہے اور تمہیں کیا معلوم کہ یہ شب قدر کیا ہے یہ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس رات میں فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے حکم سے ہر امر کو لے کر اترتے ہیں یہ رات سراپا سلامتی ہے اور طلوع صبح صادق تک رہتی ہے
سورہ دخان میں بھی اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے انا أنزلناه فى ليلة مباركة  ہم نے قرآن کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے
متعدد احادیث میں بھی اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے
من قام ليلة القدر إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
جو شخص ایمان و احتساب کے ساتھ شب قدر میں قیام کریگا اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے ایک اور حدیث میں ہے
من حرم خيرها فقد حرم
جو شب قدر کی بھلائی سے محروم رہا وہ بہت بڑی بھلائی سے محروم رہا .
شب قدر ماہ رمضان کے آخری عشرے کی کسی رات میں ہے یہی وجہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم آخری عشرہ میں عبادت کا بہت زیادہ اہتمام کرتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجتهد في العشر الأواخر ما لا يجتهد في غيره (مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادات میں اس قدر جد و جہد کرتے کہ اتنی دوسرے عشروں میں نہ کرتے تھے .
رمضان المبارک عبادتوں کا موسم بہار ہوتا ہے اس میں قرب خدا وندی کے حصول کے بہت سے مواقع ہوتے ہیں ایسا ہی ایک موقع آخری عشرہ میں اعتکاف ہے اعتکاف دنیاوی امور سے قطع تعلق کر کے خالص اللہ کے ذکر واذکار میں اپنا وقت صرف کرنا ہے.
اعتکاف بھی بڑی فضیلت کا حامل ہے قرآن میں ہے
و عهدنا إلى إبراهيم و إسماعيل أن طهرا بيتى للطائفين والعاكفين والركع السجود
اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو تاکید کی کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں اور اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے خوب پاک صاف بنایے رکھو.
نبی کریم ہر سال رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے
عن عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله ثم اعتكف ازواجه من بعده (بخاري)
نبی کریم کی وفات تک یہ معمول رہا کہ آپ آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی ازواج مطہرات بھی اسی سنت کی پیروی میں اعتکاف کرتی تھیں
بیہقی کی ایک روایت میں ہے
"من اعتکف عشراً فى رمضان كان كحجتين و عمرتين"
یعنی جس نے رمضان میں دس دن اعتکاف کیا تو اسے دو حج اور دو عمرے کرنے کے برابر ثواب ملے گا.
ان دونوں نعمتوں کی بڑی فضیلت ہے اور آخری عشرہ تحریق جہنم سے آزادی کا ہے اسی لئے اللہ نے ان دونوں نعمتوں کو آخری عشرے میں رکھا تاکہ انسان اس عشرے میں اللہ کی زیادہ سے زیادہ عبادت کر سکے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ سکے.
لیکن افسوس ہوتا ہے کی مسلمان آخری عشرہ کی فضیلت سے واقف ہونے کے بعد بھی اس کی برکتوں سے محروم ہو جاتے ہیں اور اپنی مغفرت نہیں کروا پاتے ہیں.

غیر قانونی کھدائی کو روکنے پر مل رہی ہے جان سے مارنے کی دھمکی!

اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 5/جون 2018) سدھاری تھانہ علاقے ہتھیا گاؤں کے رہائشی امت راج سونکر نے سوموار کو ایس پی کو ایک خط دیا جس میں الزام لگایا کہ زمین کی غیر قانونی طور پر کھدائی کو روکنے پر دھمکی دی جارہی ہے.
امیت راج نے الزام لگایا کہ اتوار کو رات جے سی بی اور ٹریکٹر ٹرالی لگاکر گاؤں میں غیر قانونی طور پر کھدائی کی جارہی تھی جب اس نے اس کھدائی کی مخالفت کی تو لوگ اسے دھمکی دینے لگے، جب انہوں نے یوپی 100 کو اطلاع دی، پولیس نے موقع پر پہنچا اور منع کرتے ہوئے واپس چلی گئی، اس کے بعد جب انہوں نے غیر قانونی کھدائی کی ویڈیو بنانا شروع کر دیا، تو کھدائی کرنے والوں نے انہیں دھکیل کر بھگا دیا، ایس پی کو دیے گئے خط میں امت راج نے کہا کہ کھدائی سنتوش پاسی کی طرف سے کی جارہی ہے، جو ڈی اے وی پی جی کالج میں چوکیدار ہے، اور جے سی بی اور ٹریکٹر ٹرالی رانا یادو اور پہوڑی یادو کی تھی، ان لوگوں نے یہ بھی دھمکی دی کہ اگر شکایت کرتے ہو تو یہ ٹھیک نہیں ہوگا، امت راج نے غیرقانونی کھدائی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا.

Monday, 4 June 2018

اعتکاف، ایک مہتم بالشان عبادت!

تحریر: عاصم طاہر اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ٹھہر جانے اور خود کو روک لینے کے ہیں۔ شریعت اسلامی کی اصطلاح میں اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں،
اعتکاف کی حقیقت خلوت نشینی ہے اور یہ اللہ رب العزت کا اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تصدُّق سے امت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خصوصی لطف و احسان ہے کہ وصال حق کی وہ منزل جو اممِ سابقہ کو زندگی بھر کی مشقتوں اور بے جا ریاضتوں کے نتیجے میں بھی حاصل نہیں ہوتی تھی فقط چند روز کی خلوت نشینی سے میسر آسکتی ہے چنانچہ اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ انسان چند روز کے لئے علائق دنیوی سے کٹ کر گوشہ نشین ہوجائے ایک محدود مدت کے لئے خلوت گزیں ہو کر اللہ کے ساتھ اپنے تعلقِ بندگی کی تجدید کرلے، اپنے من کو آلائش نفسانی سے علیحدہ کر کے اپنے خالق و مالک کے ذکر سے اپنے دل کی دنیا آباد کرلے، مخلوق سے آنکھیں بند کر کے اپنے خالق کی طرف لو لگائے ان کیفیات سے مملو ہوکر جب انسان دنیا و مافیھا سے کٹ کر صرف اپنے خالق و مالک کے ساتھ لو لگا لیتا ہے تو اس کے یہ چند ایام سالوں کی عبادت اور محنت و مشقت پر بھاری قرار پاتے ہیں،
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انسان کا نفس انسان کو ہمہ وقت برائی پر اکساتا رہتا ہے :
إن النفس لامارۃ بالسوء
(یوسف، 12 : 53)
’’بیشک نفس تو برائی کا بہت ہی حکم دینے والا ہے۔‘‘
ارشاد قرآن کی رو سے تمرد و انحراف انسانی نفس کا شیوہ اور اس کی فطرت میں شامل ہے چنانچہ کاروبار حیات کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے انسان بالعموم غفلتوں کا شکار رہتا ہے نتیجتاً انسان میں کسی کا بندہ ہونے کا شعور بیدار نہیں رہتا اور انسان مسلسل بغاوت و سرکشی پر مائل رہتا ہے اسی شعور بندگی کو بیدار کرنے کے لئے اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اس امر کی تعلیم دی ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں تھوڑی دیر کے لئے انسان گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور اپنے آپ کو ایک مجرم کی حیثیت سے اپنے آقا و مولا کی بارگاہ میں پیش کر کے اصلاح احوال کا متمنی ہو یہ معمول زندگی بھر رہنا چاہئے لیکن رمضان المبارک چونکہ خصوصی رحمتوں کا مہینہ ہے اس لئے اس ماہ رحمت میں خلوت نشینی کے اس تصور کو ایک باقاعدہ ضابطے کے تحت اعتکاف کی صورت میں متعین کیا گیا ہے تاکہ سال بھر علائق دنیوی میں ملوث رہنے والا انسان چند روز کے لئے اپنے نفس کے متمرد اور سرکش گھوڑے کو لگام ڈال سکے، نیز کثرت ذکر الٰہی اور ریاضت و مجاہدہ کے ذریعے تصفیہ باطن کر کے خلوت میں جلوت محبوب کی دولت سے بہرہ ور ہوسکے،
اعتکاف کی عظمت اور فضیلت کا بیان احادیث نبویہ میں کئی جگہوں پر آیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
اعتكاف عشر في رمضان كحجتين و عمرتین،،
رمضان کے دس دن کا اعتکاف دو حج اور دو عمروں جیسا ہے،
دوسرے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من اعتکف ایماما واحتسابا غفرله ما تقدم من ذنبه،،
جس نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اخلاص وایمان کے ساتھ اعتکاف کیا تو اس کے گزشتہ (صغیرہ) گناہ معاف ہوجائیں گے-،،
دنیا کے تمام معمولات اور مصروفیات کو چھوڑ کر جب بندہ مسجد میں بغرض اعتکاف بیٹھتا ہے تو یہ اس کی علامت ہے کہ اس دس دن کے لیے خود کو اللہ کے حوالے کردیا، اور اس کی خوشنودی کو اپنا مقصد عین بنا لیا، ایسے عالم میں وہ خدائی رحمتوں کے خزانوں سے اپنا حصہ پاتا ہے اور جو اس کی جائز اور نیک مرادیں ہیں اس کو پانے میں کامیاب ہوتا ہے رمضان تو آتا ہی اس لیے کہ خدائی انعامات سے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کیا جائے، گناہوں کی توبہ کی جائے، برائیوں کے نہ کرنے کا عہد کیا جائے، اور اللہ سے اپنے لیے دینی و دنیاوی فلاح کی دعائیں کی جائیں، وہ خلاق دو عالم ہے وہ ہماری جائز دعاؤں کو کبھی رد نہیں کرتا شرط اگر پورا کیا جائے تو وہاں سے پروانہ قبولیت عطا کردیا جاتا ہے، اللہ تعالٰی اعتکاف جیسی اہم عبادت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے،(آمین)

خدارا، مہذب معاشرے کے ان غیر مہذب بچوں کو بچا لیجئے!!!

قلندر کی بات.......

 متین خان
ــــــــــــــــ
ایک بھیک مانگتے ہوئے نوجوان کو دیکھ کر میں نے کہا کہ اچھے خاصے ہٹے کٹے ہو بھیک مانگتے ہوئے شرم نہیں آتی.... اس نے کہا  صاحب شرم کرنے کا حق مجھ سے چھین لیا گیا ہے.... میری ہی طرح شہر کی سڑکوں پر انکار و تسلیم سے بے نیاز بھیک مانگتے ہوئے بچے جوان بوڑھے مردوں اور عوتوں کو آپ نے دیکھا  ہوگا بعض کے علاؤہ  یہ سبھی اپنی مرضی سے بھیک نہیں مانگتے اور نہ ہی  انہیں شعور کہ دنیا میں کوئی مرضی نام بھی شئے ہے،
کسی کی ٹوٹی ہوئی ٹانگیں، کسی کے کٹے ہوئے بازو بھی آپنے دیکھے ہوں گے۔
یہ ان کی مرضی سے نہ ٹوٹے نہ توڑے گئے ، اور کٹے نہ کاٹے گئے ہیں بلکہ اپنی کمائی بڑھانے کے لئے ان کے پیدا کرنے والوں نے یا خریدنے والوں نے توڑ دئیے  ہیں۔ یا کاٹ دئے ہیں
اگر کبھی ملنے کی  توفیق ہو تو انسے پوچھئے گا  ..... اگر آپ میں شرم ہوگی ہوگی تو..... انکی داستان الم سنکر  آپکو اپنے مہذب معاشرے پر شرم آئے گی  وہ بھی میری طرح اپنی مرضی سے بھیک نہیں مانگتے بلکہ انکے گردے بھی  آپ جیسے زندگی کے اصل حقداروں کی قیمتی جان بچانے کے کام آئے ہیں۔
آپنے بھیک مانگنے ہوئے اندھے بھی دیکھے ہوں گے کبھی انسے بھی ملئے گا جنہوں نے اپنی زندگی تاریک کرکے کسی ایسے شخص کی زندگی کو روشن کیا ہوگا جسکا دنیا کے کاروبار دیکھنا ضروری تھا .
کبھی آپنے یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ کھیتوں میں نہ اگنے والے اور کسی کمپنی میں نہ بننے والے انسانی اعضاء وافر مقدار میں آتے کہاں سے ہیں.
صاحب.. ہم سبھی آزاد نہیں ہوتے بلکہ بندھوا یا غلاموں کی طرح  پیدا ہی کسی کی بے چوں چرا خدمت گزاری اور مار کھانے کے لئے ہوتے ہیں۔ ہوش سنبھالتے ہی بتا دیا جاتا ہے کہ یہ دنیا ان کی ہے جو انہیں روٹی دیتے ہیں، کپڑے دیتے ہیں اور انکا فٹپاتھ میں رہنا گورا کرلیتے ہیں ہم سے بہتر اوقات  تو امیروں کے گھروں میں پلنے والے کتے اور بلیوں  کی ہے جو انکے صوفوں پر بیٹھ سکتے ہیں جس کی  اجازت ہمیں نہیں۔
 ہم میں اور کیڑے مکوڑوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ کسی کام کے نہیں ہوتے اس لئے ان کو تلف کردیا جاتا ہے اور ہمیں زندہ صرف کام کرتے رہنے کی شرط پر رکھا جاتا ہے جب  کام کے نہیں رہتے تو سانس بھی بند کردی جاتی ہے ہمارے باس ہوتے ہیں جو کڑی نظر رکھتے ہیں اس دلدل سے ہم مرکر ہی نکل پاتے ہیں۔ اور منسپلٹی والے ہماری تدفین یا انتم سنسکار کرکے ہماری زندگی بھر کی خدمات کا صلہ دیتے ہیں ۔
آپ تو پڑھے لکھے ہیں صاحب اخباروں میں اکثر پڑھتے ہونگے کہ فلاں علاقہ کی جھگیوں میں کس طرح آگ لگ گئ جھلس کر وہاں رہنے والے مر گئے.
اس تباہی کو میڈیا کوریج بھی اپنی ٹی آرپی بڑھانے کے لئے دیتا ہے یا کسی سیاسی مفاد کی غرض سے.
سب ختم ہوجانے کے بعد مخیر حضرات ان گندی بستیوں میں مدد لکیر پہچتے ہیں جب تک سانس چلتی ہے کوئی ہمدرد نظر نہیں آتا کیونکہ اسوقت وہاں پر میڈیا نہیں ہوتا کوئ فوٹو کھنچنے والا نہیں ہوتا ۔
ہماری فکر چھوڑئے صاحب... اپنے مہذب معاشرے کے ان نونہالوں کی فکر کیجئے جو محلے کے بچے غلط صحبت میں پڑکر مختلف قسم کے نشہ کے عادی ہوجاتے ہیں انکے والدین اصلاح کی تمام کوششیں کرکے تھک چکے ہوتے ہیں اور نشہ مکتی کیندر بھیجنے کی طاقت نہیں رکھتے ان بچوں کو کبھی نشہ کی طلب بیقرار کرتی ہے تو چوری کرتے ہیں یا تو مایوس ہوکر قسمت کو کوس رہے ہوتے ہیں رات کی سردی یا گرمی میں تاریک مسقتبل سے مایوسی انہیں سونے نہیں دیتی تو یہ زمین کا بوجھ کم کرنے کے لئے نکل پڑ تے ہیں گلی کوچوں میں کھڑی ہوئی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے پٹرول چرا کر سونگتے ہیں اور نیم بے ہوشی کی حالت میں سو جاتے ہیں یا پھر کسی موچی کی سلوشن کی ٹیوب چرا کر  سونگتے ہیں اور نتیجے میں رفتہ رفتہ  اہپنے علاقے سے دور خود کی زندگی کا چراغ بجھا کر زمین کا بوجھ کم کردیتے ہیں تاکہ انکے حصہ کی آشائسیں آپکے کام آئیں بہت کم ہیں جنہوں نے آپکو اپنے تدفین کی بھی زحمت دی ہوگی  یہ کام بھی سرکاری محکمہ کردیتا ہے بعض تو ایسی جگہ مرتے ہیں کہ کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی اور  اسکی لاش پر کتے دعوت اڑانے ہیں۔
میں نے صرف یہ بتانے کے لئے آپکا قیمتی وقت ضائع کیا ہے کہ اپنے مہذب معاشرے کے بچوں کو بچا لیجئے یہ کمپنوں اور کارخارنوں میں آپکی خدمت گزاری کرینگے اگر آپنے انکو صحیح تعلیم اورتر بیت گاہ فراہم کردی تو ملک اور قوم کا روشن مستقبل تعمیر کریں گے .اور یہ کام آپکے حق میں قیمتی زخیرہ آخرت ہوگا.

سرائے میر: سعودی عرب میں ایک شخص نے لگائی پھانسی، اہل خانہ میں مچا کہرام!

سرائے میر/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 4/جون 2018) سعودی عرب میں مقیم سرائے میر رہائشی ایک شخص نے پھانسی لگاکر اپنی جان دے دی.
موصولہ خبر کے مطابق سرائے میر تھانہ علاقہ کے گرام راجا پور سکرور رہائشی رضی الدین 38 بیٹے رحیم الدین کمانے کی غرض سے تقریباً تین مہینہ پہلے سعودی عرب گیا تھا، جہاں اس نے زندگی سے عاجز آکر خود کو پھانسی لگا کر اپنی جان دے دی، بتایا جارہا ہے میت کے دو لڑکے اور ایک لڑکی ہے، تین مہینہ قبل وہ سعودی عرب دوبارہ گیا تھا.
خبر لکھے جانے تک تکفین و تدفین کی اطلاع موصول نہیں ہوئی.

Sunday, 3 June 2018

دبئی میں بہار اور جھاڑکھنڈ کے تاجروں کی جانب سے دعوت افطار!

صدر عالم نعمانی سیتامڑھی
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
دبئی(آئی این اے نیوز 3/جون 2018) دبئی میں مقیم بہار اور جَھارکھنڈ کے لوگوں کی جانب سے تقریبا دس سالوں سے رمضان المبارک کے مبارک مہینہ میں دعوت افطار کا اہتمام کیا جارہا ہے، ہرسال دعوت افطار میں ہزاروں لوگ  شریک ہوتے ہیں، اس سال بھی دعوت افطار میں بھی ہزاروں لوگوں نے شرکت کی، اور ایک ساتھ افطار کیا.
دعوت افطار کے انتظامی امور کے سربراہ ماہر تعلیم  مشہور ومعروف سماجی کارکن اور سیوان بہار کے باشندہ ڈاکٹر اختر حسین  نے اپنے بیان میں  کہا کہ ہرسال کی طرح اس سال بھی رمضان المبارک کے اس مقدس مہینہ میں بہار اور جھارکھنڈ کے چند سینئر تاجروں کی جانب سے دعوت افطار کا اہتمام کیا گیا، اس دعوت افطار میں ہندوستان کے علاوہ دوسرے ملکوں کے روزہ دار بھی کثیر تعداد میں شریک ہوئے، دعوت افطار کا اہتمام دبئی کے ایک بڑے ہال میں کیا گیا.
 اس موقع  سے باشندگان بہار و جھارکھنڈ کے سینئر حضرات نے موجود لوگوں سے خطاب بھی کیا، پرتکلف دعوت افطار کے بعد با جماعت نماز مغرب اداکی گئی، اور کھانے سے فارغ ہوئے.
 انتظامی امور میں اہم کردار ادا کرنے والوں میں محمد نعمان، امتیازالحسن، نیرحسن، عامرحسن، محمدحمدانی، محمدآصف،محمد نادر، محمدنیاز اور انوار باری قابل ذکر ہیں.

زکوٰۃ کی ادائیگی مال کی پاکیزگی کا سبب!

تحریر: عاصم طاہر اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آپ دنیا کی کسی بھی تحریک کو دیکھ لیں کسی بھی مذہب کا مطالعہ کر لیں روٹی کا مسئلہ نہ کسی نے نظر انداز کیا نہ کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ غریبوں بیواؤں، یتیموں اور معذوروں کی مدد کرنے کا حکم ہر جگہ ہر ایک نے دیا اور دے رہے ہیں مگر جس طریقے سے اس مسئلے کو اسلام نے اپنایا اور جس حکمت عملی سے حل کیا ہے وہ صرف اسلام ہی کا خاصہ ہے عام طور پر دوسرے مذاہب میں ایک دوسرے کی مدد ایک اخلاقی ہدایت تک محدود رکھی گئی ہے کہ مدد کرنا چاہیے
دوسرے کی مدد کرنا اچھی بات ہے، مگر یہ اسلام کا امتیاز ہے کہ اس نے جو نظام حیات دیا ہے اس میں نماز جیسی اہم ترین عبادت کے بعد زکوٰۃ کی صورت میں غربت کے مسئلے کو حل کیا ہے زکوٰۃ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا جا سکتا ہے کہ اسلام کی سب سے مقدم عبادت نماز کے بعد اسی کا نمبر ہے شب معراج کو فرض ہوئی یعنی ہجرت سے ایک سال پہلے جب کہ زکوٰۃ 2ہجری میں فرض ہوئی قرآن کریم میں نماز اور زکوٰۃ کو 82 مقامات پر ملا کر بیان کیا گیا ہے جس کی نظیر کسی اور حکم میں نہیں ملتی، زکوٰۃ ادا کرنے کے چند مقاصد اور آداب ہیں جو ملحوظ رکھنے چاہئیں اور اگر ان آداب کا خیال نہ رکھا جائے تو زکوٰۃ کی ادائیگی مشکوک بن جاتی ہے، زکوٰۃ دہندہ کا دل دنیا کی حرص و ہوا سے پاک ہو جائے یہ زکوٰۃ کا حقیقی اور بنیادی مقصد ہے اور وہ تقوی کے کاموں کے لیے تیار رہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے، اور اس (آگ) سے اس بڑے پرہیزگار شخص کو بچا لیا جائے گا جو اپنا مال (الله کی راہ میں) دیتا ہے کہ اس سے اپنے جان ومال کی پاکیزگی حاصل کرتا ہے، زکوٰۃ کا دوسرا مقصد رضائے الٰہی ہے اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا :ہم تم کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے کسی بدلے کے خواہاں ہیں نہ شکریے کے، (سورہ الدھر :9)زکوٰۃ ادا کرنے سے رب کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے لہذا کسی اور مقصد کو رضائے الٰہی پر فوقیت نہیں دینی چاہیے لینے والا اپنا حق لے رہا ہے اور دینے والا اپنا فرض ادا کر رہا ہے لینے والا سوائے پروردگار کے کسی اور کا احسان نہیں اٹھائے گا اور دینے والا سوائے رضائے الٰہی کے کسی صلہ و ستائش کا طالب نہیں ہوگا، زکوٰۃ کی اس غیر معمولی اہمیت اور افادیت کی وجہ سے اس کا حکم اگلے پیغمبروں کی شریعتوں میں بھی نماز کے ساتھ ہی ساتھ برابر رہا ہے، سورۂ انبیاء میں حضرت ابراہیم اور ان کے صاحبزادے حضرت اسحق اور پھر ان کے صاحبزادے حضرت یعقوب علیہم السلام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے:۔ ’’اور ہم نے ان کو حکم بھیجا نیکیوں کے کرنے کا (خاص کر) نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کا اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے‘‘ (سورۃ انبیاء۵) اور سورۂ مریم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا ہے:۔ ’’ اور وہ اپنے گھروالوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے‘‘ اور اسرائیلی سلسلے کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ ابن مریمؑ کے متعلق ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے فرمایا:۔ ’’میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور نبی بنایا ہے اور جہاں کہیں میں ہوں مجھے اس نے بابرکت بنایا ہے اور جب تک میں زندہ رہوں مجھے نماز اور زکوۃ کی وصیت فرمائی ہے‘‘ (سورۃ مریم۲) سورۂ بقرہ میں جہاں بنی اسرائیل کے ایمانی میثاق اور ان بنیادی احکام کا ذکر کیا گیا ہے جن کی ادائیگی کا ان سے عہد لیا گیا تھا ان میں ایک حکم یہ بھی بیان کیا گیا ہے:۔ ’’اور نماز قائم کرتے رہنا اور زکوۃ ادا کیا کرنا‘‘ (سورۃ بقرہ۱۰) اسی طرح جہاں سورہ مائدہ میں بنی اسرائیل کے اس عہد ومیثاق کا ذکر کیا گیا ہے، وہاں بھی فرمایا گیا ہے:۔ ’’اوراللہ نے فرمایا میں (اپنی مدد کے ساتھ) تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز قائم کرتے رہے اور زکوۃ دیتے رہے اور میرے رسولوں پر ایمان لاتے رہے‘‘ (سورہ مائدہ۳) قرآن مجید کی ان آیات سے ظاہر ہے کہ نماز اور زکوٰۃ ہمیشہ سے آسمانی شریعتوں کے خاص ارکان اور شعائر رہے ہیں، ہاں ان کے حدود اور تفصیلی احکام وتعینات میں فرق رہا ہے اور یہ فرق تو خود ہماری شریعت کے بھی ابتدائی اور آخری تکمیلی دورمیں رہا ہے، مثلاً یہ کہ پہلے نماز تین وقت کی تھی پھر پانچ وقت کی ہوگئی، اور یہ کہ پہلے ہر فرض نماز صرف دو رکعت پڑھی جاتی تھی پھر فجر کے علاوہ باقی چار وقتوں میں رکعتیں بڑھ گئیں، اور ابتدائی دور میں نماز پڑھتے ہوئے سلام وکلام کی اجازت تھی اس کے بعد اس کی ممانعت ہوگئی، اسی طرح ہجرت سے پہلے مکہ کے زمانۂ قیام میں زکوٰۃ کا حکم تھا، (چنانچہ سورۂ مؤمنون،سورۂ نمل اور سورۂ لقمان کی بالکل ابتدائی آیتوں میں اہل ایمان کی لازمی صفات کے طور اقامتِ صلوۃ اور ایتاء زکوۃ کا ذکر موجود ہے، حالانکہ یہ تینوں سورتیں مکی دور کی ہیں) لیکن اس دور میں زکوٰۃ کا مطلب صرف یہ تھا کہ اللہ کے حاجت مند بندوں پر اور خیر کی دوسری راہوں میں اپنی کمائی صرف کی جائے، نظامِ زکوۃ کے تفصیلی احکام اس وقت نہیں آئے تھے، وہ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں آئے، جو صاحبان ثروت اور صاحبان استطاعت زکوٰۃ کی ادائیگی کے احکامات کو پس پشت رکھتے ہیں اور حکم عدولی کرتے ہیں زکوٰۃ نہ ادا کرنے پر لوگوں کو روز محشر ان کے اموال کے ساتھ سخت حشر کرنے کی وعید سنائی ہے :جس دن اس سونے چاندی اور مال سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی اور ان سے کہا جائے گا یہ وہی مال ہے جو تم نے اپنی جانوں کے مفاد کے لیے جمع کیا تھا سو اب تم اس کا مزہ چکھو جسے تم جمع کرتے رہے تھے (التوبہ 35:9) انسان فطرة بڑا حریص اور مادیت پرست ہے وہ مال و دولت جاہ و منصب سے محبت کرتا ہے اور دنیا کی حرص و طمع اس کی فطرت ثانیہ بن گئی ہے، ہابیل نے قابیل کا قتل بھی نفسانی خواہش کی تسکین کے لیے کیا تھا کثرت مال کی وجہ سے یہی لوگ اپنا اصل مقصد بھول جاتے ہیں اگر معیشت کو اسلام کے نظام زکوٰۃ کے ذریعے معاشرے کی کما حقہ بنیادوں پر استوار کیا جائے اور نظام زکوٰۃ کے عمل کو اوپر سے نچلی سطح تک منظم، مربوط اور مستحکم کیا جائے تو اسلام کے اس روشن اصول کے ذریعے معاشرے سے تنگدستی اور غربت کے اندھیروں کو ختم کیا جا سکتا ہے، آج کے دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ نظام زکوٰۃ کو منظم طریقے سے فعال کیا جائے تا کہ اس کے فوائد سے حقدار لوگ صحیح معنوں میں مستفید ہو سکیں، اور یہ زکوٰۃ کی ادائیگی ہر سال ہر صاحب نصاب کی جانب سے ہونی چاہیے تاکہ سب لوگوں کو ہمیشہ ذریعہ معاش مہیا کیا جا سکے، الله تعالٰی ہر صاحب نصاب کو اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمیـــــن ثم آمیــــن

مولانا محمد صابر حسین رحمتہ اللہ علیہ کی کچھ یادیں اور کچھ باتیں!

محمد صدر عالم نعمانی صدرجمعیت علماء سیتامڑھی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت مولانا محمد صابر حسین شمسی سوتیہاروی رحمتہ اللہ علیہ  صدر مدرس مدرسہ اسلامیہ بکھری باجپٹی سیتامڑھی بہار کی کچھ یادیں اورکچھ باتیں :
مولانا 16رمضان المبارک 1438 کو  اچانک داعئی اجل کو لبیک کہتے ھوئے دارفانی سے داربقا کی طرف کوچ کر گئے. انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا محمد صابر حسین رحمہ اللہ
اللہ انکو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی  مقام عطاء فرمائے، پرودرگار عالم انکی طویل تدریسی خدمات کو قبول فرمائے اور پسماندگان کو صدقہ جاریہ کا ذریعہ بنائے آمین۔
مولانا مرحوم کی جائے پیدائش سوتیہارا وایہ پریہار ضلع سیتامڑھی بہار ہے، نکے والد بزرگوار حافظ عبدالغفور صاحب بڑے ہی عابد وزاہد اور متقی پرہیزگار تھے، مولاناصابرحسین کا شمار سیتامڑھی ضلع کے نامور فعال اور با صلاحیت علماء میں ہوتا تھا، مولانا اپنی پچاس سالہ تدریسی خدمات کی وجہ سے ہمیشہ یاد کئے جاتے رہیں گے۔
مولانا بےشمار خوبیوں کے مالک تھے، ہم اس مختصر تحریر میں انکی خوبیوں کو رقم کرنے سے قاصر ہیں۔
مولانا مرحوم ایک جید عالم دین، متواضع ومنکسر المزاج، مشفق استاذ، مخلص و مربی، ملنسار ، خوش مزاج و خوش اخلاق اور متقی و پرہیزگار تھے، مولانا کی  فکر اور سوچ بڑی دوررس، اور گہری تھی، انکی تعلیمی خدمات تقریبا پچاس سالوں پر محیط تھی، انکے تلامذہ کی تعداد لاکھوں میں ہے جو ملک اور بیرون ملک میں دینی و عصری خدمات پیش کررہے ہیں، مولانا سماجی اور رفاہی کاموں میں بھی سر گرم رہتے تھے۔ جمیعت علماء ہند سے بھی تاحیات وابستہ رہے، حالات حاضرہ پر انکی گہری نظر تھی، مطالعے کے بڑے شوقین تھے، تحریر بڑی عمدہ تھی، اصول و ضوابط کے بڑے پابند تھے، دینی محافل و مجالس میں کثرت سے شریک ہوا کرتے تھے،  وہ اپنی نیکیوں اور خوبیوں کی وجہ سے  علاقے  میں بہت ہی مشہور اور مقبول تھے، انہون نے مدرسہ اسلامیہ بکھری باجپٹی سیتامڑھی کے صدر مدرس کی حیثیت  سے علاقہ و مضافات میں تعلیمی انقلاب پیدا کردیا، انکی اس اعلی کارکردگی کا گواہ  مدرسہ کا درو دیوار بھی ہے، انکی کارکردگی کی مکمل تفصیل پیش کرنے کا ابھی موقع نہیں ان شاءاللہ کسی دوسرے موقع سے ضرور کیا جائے گا۔
مولانا ہمارے قریبی رشتہ داربھی تھے، اور استاذ بھی، بہترین دوست بھی تھے اور مخلص ومربی بھی، جب راقم الحروف نے مدرسہ مصباح العلوم ہرپوروا عالم نگر باجپٹی سیتامڑھی کی داغ بیل ڈالی، اس وقت سے لیکر تادم حیات اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے اورخوب حوصلہ افزائی فرماتے، مدرسہ کی ہر تقریب میں ایک روز قبل سے ہی شرکت فرماتے، اور مخالفین مدرسہ کی  مخالفت سے نہ گھبرانے کی تلقین فرماتے، ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا جتنی آپ کے مدرسہ کی مخالفت ہوگی، اتنی ہی آپ کا مدرسہ کامیابی وکامرانی کی دہلیز پے ہوگا.
              ـــــــــــعــــــــ
بادہ تند مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتے ھیں تجھے اونچا اڑانے کے لئے

مولانا کی یہ بات  سچ  ثابت  ہورہی ہے، مولانا کے لڑکے مفتی محمد ظفر اقبال قاسمی، مفتی محمد قمر اقبال قاسمی، حافظ وقاری محمد نصر اقبال اور حافظ محمد اظہر اقبال، انکے لئے بہترین صدقہ جاریہ ہیں، وہیں لڑکیاں بھی سب کی سب دینی علوم  فنون  سے آراستہ و پیراستہ ہیں، جو انکے لئے صدقہ جاریہ کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں.
 ہم خدا سے مولانا محمد صابر حسین شمسی رحمتہ اللہ علیہ کیلئے مغفرت اور اعزاز و اکرام سے سرفرازی اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل  کی دعاء کرتے ہیں.

زکوٰة اسلام کا اہم رکن ہے، مسلمان زکوٰة نکال کر اپنے مال کو پاک و صاف رکھیں: مولانا سید انظر شاہ قاسمی

نبی کریم ﷺ نے تاحیات رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا، شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی کا جمعہ میں خطاب.

محمد فرقان
ـــــــــــــــــــ
 بنگلور(آئی این اے نیوز 3/جون 2018) اسلام کے پانچ اہم ارکان میں سے ایک رکن زکوٰة ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر مخلوق کی روزی کا کوئی نہ کوئی ذریعہ بنایا ہے، اسی طرح غریب کی روزی مالدار کے دولت میں زکوٰة کے نام پر رکھ دیا ہے، مالداروں کو چاہیے کہ وہ زکوٰة نکالے۔شریعت میں مالدار وہ ہے جس کے پاس 612 گرام چاندی کی قیمت ضروریات زندگی سے زائد ہو، آج لوگوں کو زکوٰة فرض ہوجانے کے باوجود پتہ نہیں رہتا،ہم دنیاوی کاموں میں کئی لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں لیکن وہی بات اگر دین کی ہو، شریعت کی ہو تو کسی عالم دین سے پوچھنے کے بجائے خود مفتی بن جاتے ہیں،جو بہت افسوس کی بات ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسجد شباب الاسلام، گروپن پالیہ ،بنگلور میں نماز جمعہ کے قبل خطاب کرتے ہوئے شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔
 شاہ ملت نے فرمایا کہ اگر آج کوئی غریب لاچار بھوک کی وجہ سے مرتا ہے تو اسکا وبال اس مالدار پر پڑے گا جس نے اسکا حق دبا کر زکوٰة نہیں نکالا۔مولانا نے فرمایا کہ آج لوگ ٹیکس، جی ایس ٹی وغیرہ جس کی بڑی رقم بنتی ہے وہ تودیتے ہیں لیکن زکوٰة جو صرف ڈھائی فیصد ہے اسے دینے سے پیچھے بھاگتے ہیں۔انہوں نے فرمایا کہ یہ جان و مال سب اللہ کا ہے، اگر وہ سب کچھ بھی مانگے ہم کو دینا پڑے گا کیونکہ کہ اس پر ہمارا کوئی حق نہیں، لیکن اللہ اپنے بندوں پر رحم فرماتے ہوئے صرف ڈھائی فیصد زکوٰةنکالنے کو کہا۔مولانا نے فرمایا کہ پچھلی قوموں پر بھی زکوٰة فرض تھی، وہ لوگ زکوٰةکو پہاڑیوں پر رکھ آتے اور آسمان سے آگ اگر اسے جلاکر راکھ کر دیتی۔ لیکن اللہ نے امت محمدیہ پر کرم کا معاملہ فرمایا اور کہا کہ زکوٰة غریب، مسکین وغیرہ کو دو اور ان سے واپسی میں دعائیں لو، انہوں نے فرمایا کہ یہ تو لینے دینے کا معاملہ ہوگیا، اسکے باوجود اگر کوئی زکوٰة فرض ہونے پر بھی زکوٰةنہ دے تو آخرت میں سزا تو ملے گی دنیا میں بھی اللہ اسے پائی پائی کا محتاج بنا دیگا۔ شاہ ملت نے فرمایا کہ زکوٰة کو زکوٰة کے مستحق تک پہنچانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو غریب لوگ ہیں انکو، مدارس عربیہ جہاں غریب مسکین بچے پڑھتے ہیں انکو اور ایک اور طبقہ جو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بند پڑا ہے جن کے پاس زبان ہونے کے باوجود بول نہیں سکتے انکو زکوٰة دینا چاہیے۔
 مولانا شاہ قاسمی نے رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کے بارے میں بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے تاحیات المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف کیا ہے۔ آج مسلمان کہتا ہے کہ اس کے پاس وقت نہیں! مولانا نے سوال کھڑا کرتے ہوئے فرمایا کہ دس دن گزرنے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگتا، اگر اللہ ہمیں کسی پریشانی میں مبتلا کردے، کسی کیس میں مبتلا کردے، کسی پولیس یا حکومت کے اہلکار کا بلاوا آجائے تو کیا ہم اسے یہ کہیں گے کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے؟ وہیں دونوں جہاں کا مالک اللہ ہمیں اپنے گھر بلا رہا ہے تو ہمارے پاس وقت نہیں؟ یہ کچھ اور نہیں بس ہمارے ایمان کی کمزوری ہے، مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے مسلمانوں کو آخری عشرے کا اعتکافِ سنتِ موکدہ کرنے کی اپیل کی۔
 قابل ذکر ہیکہ ہزاروں کی تعداد میں عوام الناس سے خطبہ جمعہ سے استفادہ کیا اور نماز جمعہ ادا کی، بعد نماز ذکر کی مجلس منعقد ہوئی اور شاہ ملت کی رقت آمیز دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔

Saturday, 2 June 2018

قوم کے ان محسنین کو ہم چندہ خور کہتے ہیں!

قلندر کی بات

متین خان
ــــــــــــــــ
جنگ آزادی کی ابتدا کے بعد ہندوستان میں ایسے حالات گزرے کہ شہدائے آزادی کی اولادوں پر فاقہ گزرنے لگا، جسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہودی مشنری سرگرم ہوگئ، اور اسنے لالچ دیکر مسلمانوں کو مرتد کرنا شروع کردیا، فاقہ کش مسلمانوں کی بڑی تعداد مرتد ہوئی.
اگر علماء کرام، توجہ نہ فرماتے تو شاید ہمارے اجداد اپنا ایمان گنوا دیتے، اور آج ہم کسی چرچ میں پرئر کرتے اور خنزیر کھا رہے ہوتے،
احسان مانئے ان ایمان کے محافظین کا جنہوں نے مدارس دینیہ قائم کردئے، اسوقت علماء دین بیک وقت کئ محاذوں پر ڈٹے ہوئے تھے، ایک طرف یہی علماء فرنگیوں سے ٹکرا رہے تھے، تو دوسری طرف ایمان کے لٹیروں سے نبرد آزما تھے، تیسری طرف شہدا کے لواحقین کی فاقہ کشی انہیں بیچینی کئے ہوئ تھی، چوتھی جانب شہدا کی جوان بیواؤں کی فکر تھی کہ ان بیٹیوں کی زندگیوں کا کیا ہوگا، سب کے لئے کچھ نہ کچھ کررہے تھے، ورنہ انگریزی مشنری گھات میں تھی، بہت سے مجبور مسلمانوں کو اپنے جال پھنسا چکی تھی.
 اسوقت دو چار دس نہیں سیکڑوں علماء ایک ساتھ شہید کئے جارہے تھے، چشم فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا ہے جب فرنگیوں نے ہزاروں علماء ایک ساتھ شہید کئے، تاریخ اٹھا کر دیکھیں کہ اسوقت چاندنی چوک دلی کی فتحپوری مسجد سے لال قلعہ تک کتے علماء کے لاشیں درختوں پر لٹکائ گئ تھیں، خوفناک حالات میں علماء نے اپنی جان کی پرواہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کے ایمان کی فکر کی تب آج مساجد میں اذانیں گونجتی ہیں،اور میتوں کونماز جنازہ نصیب ہوتی ہے، یہ اذانیں اور اور نمازیں ایسے ہی نہیں قائم، آج مساجد کے قمقمے علماء کے خون سے روشن ہیں، ورنہ کب کے بے نور ہوچکے ہوتے.
علماء کا احسان مند ہونے کی بجائے ہم انکی تذلیل کرتے ہیں سو پچاس روپئے کی رسید کٹا کر سمجھتے ہیں کہ علماء پر احسان کردیا.
قوم کے ان محسنین کو ہم چندہ خور کہتے ہیں، آخر یہ بھی انسان ہیں، ان کی بھی ضروریات ہیں، بیوی اور بچے اور انکی فرمائشیں ہیں، آپکی بیوی بچوں کی طرح انکے اہل خانہ کی بھی فرمائشیں ہوتی ہیں، انکی بیوی بھی انسان ہوتی ہے، اور اسکے سینے بھی ایک عدد دھڑکتا ہوا دل ہوتا ہے، ارمان ہوتے ہیں حسرتیں ہوتی ہیں وہ کوئی  پتھر کی مورت نہیں ہوتی.
آپکی بیوی کی طرح، مولوی کی بیوی بھی چاہتی ہے کہ وہ اور اسکے بچے اچھے کپڑے سلائس، وہ نہیں چاہتی کہ عید کے دن ہمسایہ سیٹھ کے بچوں کو میرے بچے حسرت سے دیکھیں اور والدین کی لاچاری کا خوشی کے دن ماتم کریں.
مولوی کے بچے بھی معاشرے کے بچوں کی طرح اچھے کپڑے اور اچھے اسکول میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہ کیا ضروری ہے کہ باپ مولوی ہے تو بیٹا بھی مولوی بنے گا، اگر بچے کو دلچسپی نہیں ہے تو ایک ڈاکٹر یا وکیل اپنے بچے کو ڈاکٹر وکیل نہیں بناپاتا تو مولوی کیسے اپنے بچے کو مولوی بنا سکتا ہے، وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے، جسطرح بچے کی مرضی کے خلاف تعلیم آپ نہیں دلا پاتے، اسی طرح مولوی بھی اولاد سے بے بس ہوجاتا ہے، لیکن مولوی اور آپ میں یہ فرق ہے کہ آپکے بچے بگڑتے ہیں تو آپ معاشرے کو مجرم ٹھہراتے ہیں، اگر مولوی کا بچہ بگڑ جائے تو آپ مولوی کا مذاق بناتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ مولوی کو معاشرے نے دیا ہی کیا ہے، جو اسکے بچے مولوی بننا چاہیں؟
ان بچوں نے تو مہینہ پورا ہونے سے پہلے باپ کو اخراجات کی تنگی سے پریشان دیکھا ہے،راشن کے بقایا کا تقاضہ کرتے راشن والے کو ٹوکتے ہوئے دیکھا ہے.
مولوی بہت سے مسائل سے دوچار رہتا ہے ، مولوی کی جتنی تنخواہ ہوتی ہے اتنے کی مہینے میں آپکے بچے چاکلیٹ کھاتے ہیں، سوچئے اتنی قلیل تنخواہ میں انکا گھر کیسے چلتا ہوگا، اگر رمضان میں چندہ کے لئے اضافی محنت کے صلہ میں کچھ اضافی محنتانہ لے لیتے ہیں تو کیا برائی ہے، ہم خود مولویوں کو کچھ دیتے نہیں، کوئی اہل دل کبھی کچھ نذرانہ دے بھی تو لوگ مولوی کا مذاق بناتے ہیں، خدارا اللہ سے ڈرئے، یہ علماء اور مدارس امت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اگر علماء حالات سے لڑتے ہوئے اپنا حوصلہ توڑ بیٹھے، اور مدارس دینہ کی بجائے کی بجائے بازار کا رخ کرلیا تو آپکے بچوں کو کوئی قرآن پڑھانے والا نہ ملے گا، کوڑیوں بھاؤ وہ امام نہیں ملیں گے جو منصب امامت کو پس پشت ڈال کر ٹرسٹیان کی غلامی کرے، اتنا ستم نہ ڈھاؤ انکی اتنی تذلیل مت کرو، اب زمانہ بدل گیا ہے، پہلے جیسے علماء نہیں رہے جو تمام ذلتوں کے باوجود بھی آپکی خدمت کریں گے، خیال رکھئے اور اپنی اوقات میں رہئے نئے دور کے علماء اتنا حوصلہ اور صلاحیت بھی رکھتے ہیں جو آپکی غلامی کی بجائے کہیں عزت کی نوکری کرکے اچھی تنخواہ بھی پا سکتے ہیں، آپکو یہ بھی گورا نہیں کہ سال میں ایک بار محنت کرکے اضافی محنتانہ وصول کرلیں آخر کیوں؟ جبکہ اللہ کے رسول نے بھی ذکواۃ وصول کرنے والے عمال مقرر کئے تھے، جنکو زکواۃ وصول کرنے کی تنخواہ دی جاتی تھی، خدارا اپنی سوچ بدلئے زمانہ بدل گیا ہے، اگر علماء بدل گئے تو آپکا ایمان و عقیدہ بھی سلامت نہیں رہے وہ بدل جائے گا، جسکے نتیجے میں، آپ جنت کے منتظر ہوں گے لیکن جہنم آپکی مشتاق ہوگی، اللہ کے لئے یہ مشکل نہیں کہ آپکو جنہم کے حوالے کردے.
ہمیں جہنم سے بچانے کیلئے ہندوستان کے طول و عرض میں قائم ہزاروں مدارس دینہ جنہیں دین کے قلعوں سے تعبیر کیا جاتا ہے، ان قلعوں کی تعمیر اور انہیں جاری رکھنے کے لئے علماء دین کتنے پرخطر مراحل سے گزرے ہیں، اور کتنی مشقتیں برداشت کرتے ہیں آئر کنڈیشن میں بیٹھکر دھوپ میں سفیروں کو لائین میں کھڑا کرکے چندہ دینے والے، سیٹھ صاحب تصور بھی نہیں کرسکتے.
 خدا کے لئے ان دین کے خدمت گزاروں کی سر راہ تذلیل نہ کیجئے، یہ علماء، ہمارے ایمان کے پاسباں ہیں.
اس سے انکار نہیں کہ کمیشن خور علماء کی بھرمار ہے اسکے باوجود بھی، صحیح طرح سے دین کی خدمت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے، آپ ہر کام میں نفع نقصان، صحیح اور غلط کی تحقیق کرتے ہیں، لیکن سبھی علماء کو ایک ہی صف میں کھڑا دیتے ہیں، یہ تو علماء پر ذیادتی ہے.
وہ مدارس جو اسلام کے قلعے ہیں اور جن کے سفراء رات دن ایک کرکے ایمان داری کے ساتھ فنڈ جمع کرتے ہیں، اور مدارس دینیہ چل رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے ایثار و قربانی کو قبول فرمائے، اور در بدر برداشت کی ہوئی تمام ذلتوں کو عزت و عظمت سے مبدل فرمائے، اور ہمیں انکی عزت و توقیر کا پاس رکھنے کی توفیق عطا فرمائے. آمیــــن

بہوجن مکتی پارٹی کے ضلع انچارج چودھری جاوید احمد خان پر مار پیٹ کا الزام!

سلمان کبیرنگری
ـــــــــــــــــــــــــ
بلواسینگر/سنت کبیرنگر (آئی این اے نیوز 2/جون 2018) بہوجن مکتی پارٹی کے ضلع انچارج چودھری جاویداحمد خان کو مارپیٹ کے الزام میں سانتھا پولیس چوکی انچارج نے ایس ڈی ایم مہنداول کی ہدایت پر 28مئی کو 14دن کے لئے بستی جیل بھور بھیج دیا تھا،
تاہم چودھری جاوید احمد خان نے اپنی ضروری کاروائی ایک دن میں مکمل کرکے جیل سے رہا ہوگئے، جس سے ان کے حامیوں میں خوشی ہوئی ہے جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے نمائندہ سے فون پر رابطہ کر کہا کہ جان بوجھ کر مخالفین نے مجھے پھنسایا ہے جو کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے، انہوں نے بتایا کہ میری مقبولیت کو دیکھ کر مخالفین مجھے بدنام کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ 20جون 2018 کو ضلع کے تاریخی گاؤں سانڑا میں کل ہند یکجہتی مشاعرہ ہے، جس سے مخالفین کو قومی یکجہتی سے خطرہ لاحق ہوگیا ہے.
چودھری جاوید احمد خان نے کہا کہ میرے زندگی کا مقصد مظلوموں و بے سہارا لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوکر اتحاد کا پیغام عام کرنا ہے.

قرآن صرف ایصال ثواب کی کتاب نہیں: مفتی فضل الرحمان الہ آبادی

مدینہ مسجد مئو آئمہ میں تکمیل قرآن کی مجلس میں مفتی فضل الرحمان نے عظمت قرآن کو اجاگر کیا.

 عبداللہ انصاری
ـــــــــــــــــــــــ
مئوآئمہ/الہ آباد(آئی این اے نیوز 2/جون 2018) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے ہے، آپ کی نبوت آفاقی ہے، لہذا آپ صلعم پر ایسی کتاب کا نزول ہوا جو زندگی سے لیکر موت تک کے تمام شعبوں میں رہنمائی کی گئی، مذکورہ خیال کا اظہار قصبہ مئوآئمہ میں واقع مدینہ مسجد محلہ مصطفی آباد میں تکمیل قرآن کی محفل میں نوجوان عالم دین مفتی فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی نے کیا، انہوں نے کہا قرآن صرف ایصال ثواب کی کتاب نہیں کہ اس کے ذریعہ مردوں کو بخشاجائے اور برکت کے واسطہ گھروں میں تلاوت کی جائے، بلکہ قرآن مکمل دستور حیات ہے، مفتی قاسمی نے کہا شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ نے مالٹا کی جیل کی صعوبت برداشت کرنے کے بعد واپسی پر فرمایا تھا کہ مسلمانوں کی پستی اور ذلت کے دو سبب ہیں ایک آپسی اختلاف دوسرے قرآن سے دوری ہے.
مفتی فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ وقت میں ہماری ذلت وپستی کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے قرآن سے دور ہوگئے ہیں، قرآن کو ہم نے پس پست ڈال دیا ہے،افسوس کا مقام ہے وہ لوگ جن کا قرآن پر ایمان نہیں، آج وہ قرآن میں غور و فکر کر کے نئے نئے ایجادات کر رہے ہیں، اور ہم مسلمان قرآن پر ایمان تو رکھتے ہیں، قرآن کا احترام تو کرتے ہیں لیکن قرآن سے فائدہ نہیں اٹھاتے، انہوں نے صاف لفظوں میں کہا سائنس کوئی چیز نہیں سائنس کے تمام جزئیات کامدار قرآن وحدیث پر بالواسطہ یا بلاواسطہ ہے.
مفتی فضل الرحمان نے کہا میری طالب علمانہ زمانے ایک کویز میں یہ سوال کیا گیاتھا کہ سورج کی روشنی زمین پر آنے میں کتنی دیر لگتی ہے؟ اس وقت سائنس کے طلباء سے دریافت کرنے پر معلوم ہواتھا کہ ۸ منٹ پر سورج کی روشنی زمین پر پہنچتی ہے، مفتی الہ آبادی نے کہا جب قرآن کریم کی تفسیر میں میں نے دیکھا قرآن کریم کی عربی تفسیر روح المعانی میں علامہ محمود آلوسی رحمہ اللہ نے اسے ذکرکیا تھا، مفتی فضل الرحمان نے مسلمانوں سے اپیل کی قرآن سے رشتہ مضبوط کریں.
مجلس کا آغاز قاری اطہر صاحب کی تلاوت سے ہوا، حافظ محمد رضوان نے تراویح میں قرآن کی تکمیل کیا، حافظ عبیدالرحمان، محمد حامد خاص طور پر شریک رہے، مفتی فضل الرحمان کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا.

Friday, 1 June 2018

اعظم گڑھ: پٹرول ڈیزل کی قیمت میں اضافہ اور مہنگائی کے خلاف طلبہ نے سر منڈوا کر کیا احتجاج!

شارق خان
ـــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز یکم جون 2018) شبلی نیشنل پی جی کالج اعظم گڑھ، DAV کالج، كويلسا پی جی کالج، چنڈیشور کالج، شری شیوا کالج تیرہی اعظم گڑھ کے طلبہ یونین لیڈر لالجيت یادو اور شارق خان اعظمی، شتيش کمار کی قیادت میں پٹرول، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کو لے کر DM دفتر پر سر منڈوا کر احتجاج کیا گیا اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ پٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی نہیں ہوئی اور مہنگائی پر روک نہیں لگی تو پوری ریاست کے طلبہ احتجاج کے لئے سڑکوں پر ہوں گے.
لالجیت یادو نے کہا کہ پٹرول ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہونے سے غریب، کسان، مزدوروں کا نقصان ہوا اس پر سرکار کو سنجیدہ ہونا چاہیے.
اس موقع پر سراج احمد، کملیش کمار، ستیش کمار، شارق خان، سنجے، ورون یادو، پردیپ موریہ، سنجیت کمار، انوراگ یادو، سنجے یادو، سرون یادو، راجیش یادو، اونیش یادو، ابھیمنت یادو، سمیت سیکڑوں کی تعداد میں طلبہ موجود رہے.