اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 9 June 2018

8سالہ بچی نے رمضان المبارک کا رکھا روزہ!

مئوآئمہ/الہ آباد(آئی این اے نیوز 9/جون 2018)رمضان کا مقدس مہینہ گامزن ہے، گرمی بھی اپنے پورے شباب پر ہے، فرزندان توحید کو رمضان کا روزہ رکھنے میں یقینا مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جہاں سخت گرمی کے باوجود مسلم نوجوان، بوڑھے، عورتیں پابندی کے ساتھ روزہ رکھ رہے ہیں، وہیں ننھے منے بچہ بھی پیچھے نہیں، مئو آئمہ قصبہ کے محلہ اعظم پور میں مفتی محمد شوکت علی قاسمی کی نواسی سودہ قیوم بنت جناب عبدالقیوم جن کی عمر محض ۸ سال ہے،
رمضان کا روزہ رکھ کر سب کو متاثر کیا، اس بچی کی حوصلہ افزائی کے لئے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوان عالم دین مفتی فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی نے کہا رمضان میں اللہ کی خصوصی رحمت بندوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے، انسان بندوں کو ہمت دیتا ہے کہ بندے روزہ اور تراویح کی نماز ادا کرتے ہیں.
 مفتی فضل الرحمان نے کہا اس ننھی سی بچی سے سبق لیتے ہوتے ہوئے بڑوں کو بھی ہمت کرنا چاہیے اور فریضہ صیام کی ادائیگی میں مشغول رہنے کی کوشش کرنی چاہیے، اہل خانہ نے سودہ قیوم کو گراں قدر انعامات سے نوازا.
 اس موقع پر حافظ عبیداللہ،  عبداللہ زین انصاری، عبدالرحمان، عبدالقیوم انصاری، حنظلہ عبدالقیوم انصاری شریک رہے، مفتی فضل الرحمان قاسمی کی رقت آمیز دعا پر مجلس کا اختتام ہوا.

سماجوادی پارٹی کے سینیئر رہنما شیوپال یادو کی مولانا رابع حسنی ندوی سے ملاقات!

لکھنؤ(آئی این اے نیوز 9/جون 2018) سماج وادی پارٹی کے سینیئر رہنما وسابق وزیر شیوپال سنگھ یادو نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قومی صدر و دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ناظم مولانا رابع حسنی ندوی سے ندوہ جاکر ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔
ان کے ہمراہ سماج وادی پارٹی کے سابق ریاستی وزیر و اقلیتی سیل کے صدر فرحت حسن خان، مولانا نسیم غازی اور فرحت خان ایڈوکیٹ بھی موجود تھے۔
اس موقع پر شیوپال یادو نے مولانا رابع حسنی ندوی اور ندوہ کالج سے اپنے دیرینہ تعلقات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے رشتے بہت پرانے ہیں اسلئے محبت کا اظہار کرنے حاضر ہوجاتے ہیں، شیوپال نے کہا کہ ملائم سنگھ یادو جی کا برسوں سے معمول رہا کہ وہ ندوہ آکر اپنے بزرگوں سے محبت کا اظہار اور ان سے دعائیں لیتے رہتے ہیں۔

مبارکپور میں بارش ہونے سے موسم خوشگوار، روزہ داروں میں کافی راحت، کسانوں کے چہرے کھلے!

جاوید حسن انصاری
ـــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 9/جون 2018) ریشم نگری مبارکپور علاقے میں گزشتہ کئی ہفتوں سے پڑ رہی شدید گرمی سے بلبلائے لوگوں کے لئے جمعہ کی شام کو بارش شروع ہونے سے موسم خوشگوار ہو گیا، جس سے روزہ داروں کو بھی راحت ملی، تو وہیں  کسانوں کے چہرے کئی دنوں کے لئے بارش کا انتظار کر رہے تھے کھلکھلا اٹھے، ایک طرف جہاں لوگوں کو گرمی سے راحت ملی، تو وہیں نگر پالیکا میں پانی کےجمع ہونے سے محکمہ کی لاپرواہی بھی سامنے آگئی، فصلوں کے فائدے کو دیکھنے کے لئے کسان بھی خوش تھے، کسانوں کا کہنا ہے کہ ہم لوگ کئی دنوں سے بارش کا انتظار کر رہے تھے بارش ہو اور فصلوں پر فائدہ ہو بارش نہ ہونے سے فصلیں سوکھ رہی تھی.
وہیں بارش سے نگر پالیکا کی پول کھل گئی جگہ جگہ گندگی کے انبار لگ گئے اور پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گندے پانی جمع رہے، جس سے آنے جانے والوں کو کافی دقت ہوئی، پھر نگر پالیکا تماشائی بنی رہی.

قرآن کریم کو اپنی زندگیوں میں اتاریں: مولانا عبدالحمید مفتاحی

محمد ارشاد الحق مفتاحی
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
پانی پت/ھریانہ(آئی این اے نیوز 9/جون 2018) شہر پانی پت کی مسجد فخرالدین میں تراویح میں قرآن کریم کے تکمیل کے موقع پر ایک مجلس منعقد کی گئی، جس میں مولانا عبدالحمید مفتاحی نے عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم قرآن کریم صرف تلاوت تک محدود نہ کردیں، بلکہ اس کو اپنی زندگی میں بھی اتاریں کیوں کہ اصل مقصود یہی ہے اور زندگی کے ہر ہر شعبہ میں قرآن کریم کو اپنا مشعل راہ بنائیں، اسی وقت اس امت مسلمہ کی ترقی ممکن ورنہ یہ جتنی آج تنگ حال و ذلیل و خوار ہے، اس سے بھی کہیں زیادہ ذلیل ہو جائے گی، اور پھر کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا، تاریخ گواہ ہے صحابہ کرام کو قرآن کریم کو اپنی زندگی میں اتارنے سے پہلے لوگ انپڑھ گوار کہا کرتے تھے، مگر جب قرآن کریم کو زندگیوں میں اتارا تو پھر صحابہ کرام کا لقب ملا اور آج اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان کا نام زندہ ہے، اور تا قیامت زندہ رہیگا، اس لیے ہم قرآن کو سیکھیں بھی اور اپنی اولاد کو سکھائیں، اور اسی کے مطابق زندگی بھی گزاریں، آخر میں حضرت ہی رقت آمیز دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا.
اس موقع پر مفتی محمد ارشاد الحق مفتاحی، مولوی محمد انعام متعلم دارالعلوم (وقف) دیوبند، حافظ محمد اسماعیل، ماسٹر شبیر اور اہل بستی موجود رہے.

Friday, 8 June 2018

مبارکپور: سعودی عرب کے ریاض میں آگ لگنے سے مبارکپور کے بنکر کی موت، خاندان میں مچا کہرام مچ گیا، 3 سال قبل کمانے کیلئے گیا تھا سعودی عرب!

جاوید حسن انصاری
ــــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 8/جون 2018) مبارکپور تھانہ علاقہ کے محلہ پورہ سوفی کے قریب بھونو قریشی رہائشی رفیق احمد انصاری 30 بیٹے نياز احمد تین سال قبل کمانے کی غرض سے گھر سے سعودی عرب کی دارالحکومت ریاض میں واقع البطحا میں دوا کی ایک کمپنی میں کام کرتا تھا گذشتہ دنوں 3 جون 2018 کو کام کرنے کے دوران کمپنی میں خطرناک آگ لگ گئی جس میں درجنوں لوگ آگ کی زد میں آگئے، اسی آگ میں رفیق احمد انصاری بھی بری طرح جھلس گیا، جسکی ہسپتال لے جاتے وقت راستے میں موت ہو گئی،
بتایا جارہا ہے کہ اس آگ میں وارانسی اور بنگلہ دیش کے کئی نوجوان بری طرح زخمی ہیں، جس میں سے 5 لوگ اب بھی زندگی اور موت کے درمیان ہیں، رفیق احمد کی موت کی اطلاع ملتے ہی سعودی عرب میں موجود ان کا چھوٹا بھائی رقيب احمد جدہ سے فوراً بھائی کے کمپنی ریاض پہنچا جہاں اپنے بڑے بھائی کی لاش دیکھ کر چھوٹے بھائی کا رو رو کر برا حال رہا، وہاں پورہ سوفی کے نصف درجن نوجوان کام کرتے ہے خبر ملتے ہی پہنچے اور ساتھ مل کر مدد کی، وہیں لاش کو لانے کی تیاری کر رہے ہیں، لیکن انڈین ایم بی سی بند ہونے کی وجہ سے اب لاش عید کے بعد انڈیا آنے کی خبر ہے.
واضح ہو کہ رفیق احمد انصاری 30 بیٹے نياز احمد پورہ سوفی کے قریب بھونو قریشی کے پاس گھر ہے اور غوث موبائل کے غلام غوث انصاری کے بڑے ابو کا لڑکا تھا، میت رفیق احمد کے دو لڑکے اور ایک لڑکی ہے، والدین اور بیوی سمیت چھوٹے بچوں کو رو رو کر برا حال ہے.

Thursday, 7 June 2018

الٰہ آباد: مسجد کڑک شاہ میں روزہ افطار کا اہتمام، سیکڑوں مسلمانوں نے شرکت کی اور ملک میں امن وشانتی کے لئے دعائیں مانگی!

مئوآئمہ/الہ آباد(آئی این اے نیوز 7/جون 2018) مقدس رمضان کا مہینہ گامزن ہے، جگہ جگہ روزہ داروں کو افطار کا اہتمام کیا جارہا ہے کل مئو آئمہ قصبہ کے محلہ حجیانہ مسجد کڑک شاہ میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا، جس میں قصبہ کے سیکڑوں روزے داروں نے شرکت کیا.
اس موقع پر افطار سے قبل مفتی فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ روزہ ایک ایسی عظیم الشان عبادت ہے جس کا بدلہ اللہ پاک خود اپنے ہاتھوں سے دیگا، دوسری عبادتوں کا بدلہ فرشتوں کے ذریعہ دلوایا جائے گا، انہوں نے کہا روزہ کا مقصد زندگیوں کے اندر تقوی وپرہیزگاری پیدا کرنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک ارشاد ہے جو شخص کسی مسلمان کو روزہ افطار کرائے تو یہ اس کے مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے، اور اگر شکم سیر کرے تو اللہ تعالی اسے میرے حوض کوثر سے ایسا شربت پلائے گا کہ اس وقت تک پیاس نہیں لگے گی یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے، افطار سے قبل مفتی فضل الرحمان قاسمی نے ملک میں امن وامان بھائی چارہ، ملک کی خوش حالی کے لئے دعا کرائیں، آمین کی صداوں سے فضا روحانی ہوگئی تھی، اور روزہ داروں کے آنکھوں سے آنسوں ٹپک رہے تھے.
 اہم شرکاء میں عمیر جلال صاحب، حاجی مشتاق، حاجی نرالے، محمد اسلم، ماسٹر محفوظ، عفان انصاری، وغیرہ شریک رہے.

قرآن نبی کا معجزہ اور اللہ کا کلام ہے، مسجد بلال محلہ بہرانہ میں عظمت قرآن کو مفتی فضل الرحمان نے اجاگر کیا.

عبداللہ انصاری
ـــــــــــــــــــــ
مئو آئمہ/الہ آباد(آئی این اے نیوز 7/جون 2018) قرآن نبی کا معجزہ ہے، اللہ تبارک نے انبیاء کرام کے زمانے کے اعتبار معجزات سے نوازا، معجزہ کہتے ہیں مدعی نبوت شخص پر عادت کے خلاف کسی کام کا ظاہر ہونا،
مذکورہ خیالات کا اظہار مئو آئمہ قصبہ کی محلہ بہرانہ کے مسجد بلال میں نوجوان عالم دین مفتی فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی نے کیا، انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فصاحت و بلاغت کا چرچہ تھا، عربوں کو اپنی زبان دانی پر ناز تھا، اللہ نے نبی پر ایسی کتاب کا نزول کیا جس کے سامنے منکرین قرآن نے گھٹنے ٹیک دیئے، اور چودہ سو سال گزر گیا لیکن قرآن کا مثل پیش کرنے سے عاجز و قاصر ہیں، مفتی فضل الرحمان نے کہا قرآن اللہ کا کلام ہے اور قرآن کو امتیاز حاصل ہے کہ اللہ نے قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے ذمہ لی ہے، دیگر آسمانی کتابوں کی حفاظت کی  ذمہ داری اللہ نے نہیں لی، یہی وجہ ہے دیگر آسمانی کتابیں مثلا توریت اور انجیل وغیرہ اپنی اصلی حالت پر باقی نہیں.
مفتی الہ آبادی نے کہا قرآن کا چھونا چومنا ثواب سے خالی نہیں، قرآن کے ہر حرف پر دس نیکیوں سے نوازا جاتا ہے، لیکن رمضان میں ایک حرف پر ستر نیکیوں سے نوازا جاتا ہے، انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ قرآن کریم کی روزانہ تلاوت کریں، رئیس المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا جو شخص روزانہ قرآن کی تلاوت کرتاہیے، شیطان اس کاساتھی نہیں ہوتا،مفتی فضل الرحمان نے قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ قرآن کو سمجھنے پر زور دیا، انہوں نے کہا ہمارے ایمان کےاندر تازگی تبھی آئے گی، جب ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں گے.
قاری محمد شاداب کی تلاوت سے مجلس کا آغاز ہوا، افضال احمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نذرانہ عقیدت پیش کیا، اس موقع پر ملک میں امن وامان بھائی چارہ کے لئے خاص طور سے دعائیں کی گئی، مجلس کا اختتام مفتی فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی کی رقت آمیز دعا پر ہوا.

عید قریب آتے ہی شہر میں بڑھ رہی ہے بھیڑ، کپڑے اور سیویّاں کی دکانیں سج کر تیار!

سلمان اعظمی
ـــــــــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 7/جون 2018) عید کے قریب آتے ہی مارکیٹ میں مختلف قسم کے دکانیں سج کر تیار ہیں، بھیڑ اس قدر بڑھ رہی ہے کہ شہر سے گزرنا مشکل ہورہا ہے، خاص طور پر عید میں بنائی جانے والی سیویّاں مختلف دکانوں میں نظر آرہی ہے، شہر کے تکیا علاقے میں بہت زیادہ بھیڑ بڑھتی جارہی ہے، بڑی دکانوں کے علاوہ چھوٹی دکانیں بھی اب دیر رات تک کھلی رہتی ہیں، دوکانداروں کی مانیں تو بھیڑ ابھی اور بڑھے گی، اس لئے کہ عید کی سیویّان کی خریداری رمضان کے آخری دنوں میں خریداری کی جاتی ہے.
 دوکانداروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں سیویاں اس سال کئی قسم کی ہیں، جن میں سوت فینی، کچی مہین، بنارسی، بنارسی ڈبا اور بھونی موٹی سیویّاں شامل ہیں، اس سال سوت فینی، اور بھونی موٹی سیویّاں کی مانگ زیادہ ہے.

Wednesday, 6 June 2018

اعظم گڑھ: پولیس کو چکما دیکر بھاگے 75ہزار انعامی بدمعاش نے خود کو کیا عدالت میں پیش، کئی مقدمے ہیں درج!

اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 6/جون 2018) پولیس کو چکما دیکر بھاگے 75ہزار انعامی بدمعاش نے منگل کو عدالت میں خود کو پیش کر دیا، پولیس کو کافی دنوں سے اس کی تلاش تھی، جج نے انہیں عدالتی حراست میں لیکر جیل بھیج دیا. اس پر اعظم گڑھ پولیس نے 50 ہزار اور غازیپور پولیس  25 ہزار روپے انعام کے لئے اعلان کیا تھا.
مینہ نگر تھانہ علاقے مالپار گاؤں رہائشی دیپک یادو ایک بڑا مجرم ہے، اس کے خلاف رنگداری، قتل اس طرح کے کئی مقدمے مینہ نگر، ترواں، گمبھیرپور تھانے میں درج ہیں، پولیس عرصے سے اس کی تلاش کر رہی تھی، 31 مئی کو ترواں تھانہ علاقہ میں ہوئے مڈبھیڑ میں پولیس نے کئی دن تک گھیرابندی کر گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس ناکام رہی.
اعظم گڑھ پولیس کی جانب سے  اس پر 50ہزار اور غازیپور پولیس کی طرف سے 25 ہزار انعام تھے، منگل کو پولیس کو چکما دیتے ہوئے ضلع کورٹ کے کورٹ نمبر 14میں نیرج ترپاٹھی کے سامنے خود کو پیش کر دیا، جج نے اسے عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا.

Tuesday, 5 June 2018

مشترکہ فیملی نظام میں ماں کا کردار!

تحریر: عزیز اعظمی اسرولی سرائےمیر
ــــــــــــــــــــــــــــــ
ترقی یافتہ ممالک کی طرح شادی کے بعد بیٹا اپنی نئی نویلی بیگم کے ساتھ رشتوں کا احترام کرتے ہوئے، آپسی  تعلقات اور بھائی چارے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، اپنی ازدواجی زندگی کی شروعات اپنے نئے گھر سے کرے اور ایک خوبصورت اور خوشگوار ازدواجی زندگی گزارے یہ تصور ہندوستان جیسے ملک میں ہر خاندان کے لئے ممکن نہیں جہاں غربت بھات بھات کرتے ہوئے دم توڑ جاتی ہو، زندگی کو بچانے کے لئے روٹی کا ایک ٹکڑا میسر نہ ہو اور ووٹ کی خاطر کروڑوں کی شراب  بانٹ دی جاتی ہو، جہاں بچوں کے لئے آکسیجن، مریضوں اور مردوں  کے لئے ایمبولینس نہ ہو پر جانوروں کے لئے بہترین شیلٹر اور بہترین ایمبولینس کی سہولیات مہیا ہو، ایسے دیش میں مشترکہ خاندانی نظام کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔
 جہاں غربت اور بے روزگاری کے سبب ایک ہی چھت کے نیچے کئی کئی خاندان اپنی زنگی گزار دیتے ہیں۔ لیکن جہاں کئی فیملیاں ایک ساتھ رہتی ہوں اس میں دشواری نہ ہو شکایتیں نہ ہوں یہ بھی ممکن نہیں،
مشترکہ فیملی نظام کی اہمیت اورافادیت کے درمیان ایک بڑا منفی پہلو یہ ہے کہ اگر گھر کا ایک فرد صاحب معاش ہے تو گھر کے دیگر افراد صاحب فراش ، وہ اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ، بچوں کے مستقبل سے بے پرواہ ، تعلیم و تربیت سے لا علم ماڑی دار کرتا پہن کر کسی سیاسی شخصیت کے پیچھے گھومنے میں اپنی عزت اور شان سمجھتے ہیں ، تھوڑے دن انکی چال میں شان اور لہجے میں آن تو رہتی ہے لیکن ایک دن وہ آتا ہے کہ نہ آن  باقی رہتی ہے نہ شان، اسی روایت اور بیماری کے شکارخانوادوں میں سے ایک خانوادہ میرا بھی تھا.
دادا ملیشیا رہتے تھے گھر میں خوشحالی تھی ، ہر چیز کی فراوانی تھی اس لئے ابا اور چچا نے کبھی کمانے کے بارے میں سوچا نہیں ، اماں ہمیشہ ابا سے کہتی کہ آپ بھی کچھ زمہ داری سنبھالئے ، کچھ کریئے ، ایک آدمی کمائے اور پورا گھر بیٹھ کر کھائے نہ یہ عقلمندی ہے ، نہ یہ مرد کے لئے شایان شان ہے ، اور نہ ہی کسی مشترکہ نظام کو مستحکم اور قائم رکھنے کے لئے مناسب ، بیوی اپنے شوہر اور بیٹے اپنے باپ کی کمائی پر ناز کرتے ہیں دادا اور تایا کی کمائی پر نہیں لیکن دادا کے ہر مہینے آنے والے ڈالر نے ابا کو اس قدر آرام پرست اور سست بنا دیا تھا کہ نہ تو ان پر اماں کی باتوں کا کوئی اثر تھا اور نہ ہی مستقبل کی کوئی فکر ، اماں کی انھیں باتوں پراکثر وہ اماں سے ناراض رہتے کہ تم مجھے کیوں ہر بار کچھ کرنے کی صلاح دیتی ہو تمھیں کس چیز کی کمی ہے اماں کہتیں کہ کسی چیز کی کمی تو نہیں لیکن وقت اور حالات ہمیشہ ایک جیسےنہیں رہتے کل بچوں کا مستقبل کیسا ہوگا وہ کیا کریں گے، نہ تو اس گھر میں تعلیم کا کوئی ماحول ہے نہ کوئی رجحان دن بھر غیر ضروری باتیں ، سیاسی محفلیں جو اس گھر اور بچوں کے لئے ناسور ہیں لیکن آپ سمجھتے کہاں ہیں، لیکن اب  آپ اپنے بچوں کے بارے میں سوچئے انکی تعلیم اور انکے مستقبل کے بارے میں فکر مند رہیئے یہ بڑی بڑی باتیں ، سیاسی محفلیں کافور ہو جائیں گی اس دن جس دن ابا ملیشیا چھوڑ دینگے اب انکی عمر اور صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کی وہ مزید کچھ دن ملیشیا میں رہیں ، کب سمجھیں گے آپ ! جب وقت ہاتھ سے نکل جائے گا تب.
لیکن ابا اپنی محفلوں میں مست یہ سب کچھ سوچنے اور سمجھنے سے قاصر تھے وہ سمجھتے تھے جس طرح آج وقت ہماری مٹھی میں ہے کل بھی اسی طرح ہوگا ، کاش ابا بھی اماں کی طرح پڑھے لکھے ہوتے تو تعلیم کو سمجھتے ، موسی و فرعون - ہارون وقارون کا مطالعہ کیا ہوتا تو حالات کو سمجھتے مغرور نہ ہوتے.
بالآخراسی طرح وقت گزرتا گیا ، عمر ڈھلتی گئ اور ایک دن وہ  آیا کہ دادا نے ملیشیا چھوڑ دیا ، اور کچھ ہی دن بعد وقت بدلنے لگا ، حالات کمزور ہونے لگے ، سیاسی محفلیں ختم ہو گئیں ، دربان کی طرح دن رات بیٹھنے والوں نے چوکھٹ چھوڑ دی ، گھریلو نا اتفاقیاں شروع ہو گئیں ، اور کچھ ہی دن بعد مشترکہ خاندانی نظام کی مستحکم بنیاد ہل گئی ، ایک با حیثیت گھرانے کا ٹوٹ جانا ،  بھائیوں کا الگ ہو جانا ، ایک ہی چھت کے نیچے کئ چولھ  { کچن } کا بن جانا معاشرے میں اپنے آپکو باعزت اور باحیثیت سمجھنے والے خاندان کے لئے یہ وقت کسی عذاب سے کم نہ تھا.
 مشترکہ خاندانی نظام کی ساری افادیت کے بیچ ایک  بہت بڑی کمی یہ بھی ہے کہ آپسی اتفاق اور خوش اسلوبی سے الگ ہونے کے بجائے جب تک بھائیوں میں نا اتفاقی اور عورتوں میں لڑائی نہ ہو ہم ایک دوسرے سے الگ  نہیں ہوتے اور یہی وہ نا اتفاقی ہے جو برسوں سے قائم خاندانی طاقت ، محبت اور خوشحالی کا گلہ گھونٹ دیتی ہے پھر جس کو بحال ہو نے میں ایک عرصہ بیت جاتا ہے.
ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا جس کا اماں کو ڈر تھا ، گھر ، جائداد سب تقسیم ہوگئے ، ایک دوسرے سے بات چیت بند ہو گئی ، آپسی نا اتفاقیاں ، اور تلخیاں بڑھتی چلی گئیں ، مالی و سماجی اعتبار سے  کمزور ہوتےگئے ، عزت و مرتبہ چھپانے کی خاطر اماں کے  گہنے ، زیور سب بک گئے ، پائی پائی کے محتاج ہو گئے جھوٹی شان اور خاندانی وقار کی خاطر کسی کے سامنے ہاتھ تو نہیں پھیلاتے لیکن ہماری خستہ حالی و غربت لوگوں سے پوشیدہ نہ رہ سکی  ، کل تک گاوں کے چند با حیثیت لوگوں میں شمار ہونے والا ہمارا گھرانہ آج گاوں کے چند مفلوق الحال  لوگوں میں شمار ہونے لگا.
 اماں ایک حساس اور غیرت مند دل رکھتی تھیں یہ پریشانی ، یہ ذلت و رسوائی اماں کے لئے ناقابل قبول تھی اور وہ  اپنی عزت اور غیرت بچانے کی خاطر ابا کو زبردستی تیار کیا اور بامبے چلی آئیں.
 اماں کے بڑے بھائی شفیق مامو ایک سپاری اسٹور میں کام کرتے تھے اماں نے انکی مدد سے ایک کھولی کرائے پر لے لی ، تعلیم کبھی رائیگاں نہیں جاتی اماں گاؤں کے ہی زاہدہ نسواں اسکول سے فارغ تھیں جب آس پاس کے لوگوں سے مانوس ہوئیں تو صبح  شام  ٹیوشن پڑھانے لگیں ابو چھوٹی موٹی نوکری کرنے لگے جس سے گھر کا کرایہ ، اسکول کی فیس اور دیگر اخراجات کسی طرح پورے ہوتے عید ، بقرعید پر کبھی نئے کپڑے بنتے کبھی نہیں ابا کا آرام پرست مزاج ، سست طبیعت کبھی کام پر جاتے کبھی نہیں ابا کے اس رویئے سے تنگ آکر اماں نے ایک سلائی سینٹر میں نوکری بھی کرلیں ، صبح شام بچوں کو ٹیوشن پڑھانا ، نوکری کرنا ، کھانا بنانا ، ہمیں وقت پر اسکول بھیجنا اماں کی اس محنت اور جفاکشی کو دیکھ کر دل بہت روتا میں اماں سے کہتا کہ مجھے اسکول سے نکال کر کہیں کام پر لگادیں تو مجھے سمجھاتی کہ بیٹا اگر تم مجھے خوش دیکھنا چاہتے ہو تو تمہیں پڑھنا ہوگا ، اگر تم مجھے باعزت دیکھنا چاہتے ہو تو تمھیں تعلیم میں آگے نکلنا ہوگا تمہاری چھوٹی سی کمائی سے نہ ہمارے حالات بدلینگے نہ اس غربت سے نجات،
 لیکن تمہاری تعلیم سے ہمارا کھویا ہوا وقار بھی حاصل ہوگا اور غربت سے نجات بھی ، بیٹا تم صرف پڑھو اور یہ سوچ کر پڑھو کہ مجھے اپنی خاندان  اپنے ماں باپ کو اسی مقام پر لا کھڑا کرنا ہے جو مقام و مرتبہ کسی زمانے میں تھا ، اپنے بھائی ، بہن کو تعلیم یافتہ بنا کر یہ ثابت کرنا ہے کہ عزت و وقار کا پیمانہ تعلیم ہے دولت نہیں ، خوشحالی کا راز خود اعتمادی میں ہے انحصاری پر نہیں ، میرے بیٹے اگر تم نے  میرے اس خواب کو سچ کردیا تو میں سمجھونگی کہ میں کامیاب ہو گئی ، میرا گاوں چھوڑنا با مقصد ہو گیا اماں کی ان جذباتی باتوں نے مجھے اتنا پراعتماد اور اتنا پرعزم بنایا کہ میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ اگر اماں کا مقصد مجھے پڑھانا ہے تو میرا مقصد بھی پڑھنا اور اماں کے خواب کو پورا کرنا ہے.
اماں نے مجھے پڑھانے کے لئے دن رات ایک کردیا ، صبح ، شام ٹیوشن پڑھانا، دن بھر سلائی سینڑ میں کام کرنا ، پھر گھر آکر کھانا بنانا ، کھلانا ،  بیمار ابا کی دیکھ بھال کرنا ایسا لگتا کہ اماں انسان نہیں کوئی مشین ہیں ، ہماری خاطر انھوں نے اپنی زندگی کو قربان کردیا ، اپنا سکھ ، چین تباہ کر لیا اوراپنے آپکو تباہ کرکے ہمیں سنوار دیا.
باخدا میری ماں کسی باپ سے کم نہ تھی ، تعلیم کے تئین انکا جذبہ ، انکی ایثار و قربانی کہ آج میں ڈاکٹر ہوں ، بہن لکچرر ہے ، جاوید چھوٹا بھائی پولیس آفیسر ہے ، کاش اماں کچھ دن اور زندہ ہوتیں تو اپنے خوابوں کی خوبصورت تعبیر دیکھ کر بے انتہا خوش ہوتیں ، ہماری کامیابی پرفخر کرتیں، اپنا کھویا ہوا وقار پاکر کھل اٹھتیں پر افسوس کہ آج وہ ہمارے بیچ نہیں رہیں لیکن میرا یہ وعدہ ہے کہ تعلیم کے لئے انکی قربانی اور جذبے کو زندہ رکھنے کے لئے گاوں میں انکے نام سے ایک اسکول بنواکر انکو خراج تحسین ضرور پیش کرونگا، تاکہ آنے والی نسل ماں کے مرتبے اور تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے تعلیم یافتہ، پروقار اور ایک ترقی یافتہ قوم کی طرح اپنی زندگی گزار سکے.

الوداعی جمعہ، کوئی تہوار نہیں!

تحریر: محمد انور داؤدی ایڈیٹر"روشنی" اعظم گڑھ
ــــــــــــــــــــــــــــــ
جمعة الوداع یعنی ماہ رمضان کا آخری جمعہ ہمارے یہاں دیہاتی زبان میں اسے "البِدائی جُمَّه" بولتے ہیں، اس جمعے کو خاص طور سے عورتیں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں، گھرکی صفائی، نفیس کھانے کا اہتمام، بچوں کو نہلا کر نئے کپڑے پہنانا، بعض عورتیں تو دن رات ایک کرکے اس جمعہ کے لئے خاص طور سے نیا کپڑا سلتی ہیں کہ بچہ پہنے گا.
واضح ہوکہ الوداعی جمعہ بحیثیت الوداعی جمعہ کوئی تہوار نہیں ہے،
یہ محض ایک رسم ہے، نہ اس دن کوئی مخصوص عبادت ہے اور نہ ہی شریعت نے اسکے لئے کسی اھتمام کا حکم دیا ہے، بس یہ ایک جمعہ ہے جس طرح اور جمعہ ہوتا ہے، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اگر سوچنے کا زاویہ بدل جائے اور یہ تصور پیدا ہوجائےکہ ماہ رمضان جو رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے جسے سیدالشھور کا لقب ملا ہے، اور یوم جمعہ جسکی فضیلت بھی مسلم ہے جسے سیدالایام کا خطاب ملا ہے، یہ دو فضیلتیں ایک ساتھ جمع ہورہی ہیں، اور یہ کہ اب یہ دونوں فضیلتیں آئندہ سال اسی کونصیب ہوں گی جسکی عمر وفا کرے گی، ماہ مبارک اور پھر یوم جمعہ اب رخصت ہونے والا ہے، عبادت میں مزید تیزی آجائے، تلاوت بڑھ جائے، صدقہ وخیرات میں دست کشادہ ہوجائے، تو یہ سوچ اور اس دن ایسا عمل مقبول بلکہ محمود ہے.
بہرحال جمعة الوداع کے حوالے سے لوگوں کی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے، اللہ تعالی ہم سب کوصحیح سمجھ عطا فرمائے. آمین
میں اس میں تھوڑا سا اضافہ اس طور پر کرنا چاہتا ہوں کہ یہ الوداعی جمعہ کی تقریب کا فیشن جو چل پڑا ہے جس کے لئے بالخصوص عورتیں الگ کپڑا بنواتی ہیں اور عید کے لئے الگ اسی طرح بچوں کو سجا سنوار کے ان کے اندر اس کی اہمیت ڈالی جاتی ہے، مرد حضرات اس دن خاص طور سے افطار کرانے کا پروگرام رکھتے ہیں اور ہمارے گھر کے ذمہ دار خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں ہر جائز ناجائز خوشی پوری کرنے میں اپنا اہم کارنامہ سمجھتے ہیں، جبکہ یہ جانے انجانے میں بدعت کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے کیونکہ الوداعی جمعہ کی تقریب وتکریم  کہیں سے ثابت نہیں ہے اور جو چیز رسول اللہ صلعم اور صحابہ کرام سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی دخول جہنم کا سبب ہے، اس لئے ہمیں ایسی چیزوں سے بچنا ازحد ضروری ہے.

آخری عشرہ اور اعتکاف کی فضیلت!

از قلم: اجود اللہ پھولپوری
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
اسلام کی پانچ بنیادی تعلیمات میں رمضان کریم کے روزوں کا شمار بھی کیا گیا ہے، اس ماہ مبارک کی بڑی فضیلتیں احادیث و آثار میں وارد ہوئی ہیں اس بابرکت مہینے میں اللہ جل شانہ کی خاص رحمت بندوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے، احادیث کی روشنی میں اس ماہ مبارک کو تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر عشرہ اپنے اندر ایک منفرد خصوصیت رکھتا ہے.
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کی ذکر کردہ روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے اور دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے جبکہ تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا (صحیح ابن خزیمہ، حدیث ۱۷۸۰ بیہقی شعب الایمان) یوں تو رمضان کریم کا پورا مہینہ ہی دیگر مہینوں کے تقابل میں ایک منفرد اور مثالی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس مہینہ کے آخر دس دنوں کی فضائل حدیث کی روشنی میں اور بھی زیادہ اہمیت کے حامل ہیں.
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم آخر عشرہ میں عبادت و ریاضت میں اپنی محنت کو خوب سے خوب تر فرما دیتے اماں عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مجاھدہ کو آخر عشرہ میں جتنا بڑھا دیتے دیگر دنوں میں اتنا نہیں کرتے (صحیح مسلم ۲۰۰۹)
آخر عشرہ کی جہاں بہت سی خصوصیات ہیں اسمیں سب سے بڑی خصوصیت آخر عشرہ کا اعتکاف ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک اخیر عشرہ کے اعتکاف کا اھتمام فرماتے تھے.
بخاری شریف کی روایت میں ہیکہ ام المؤمنین امی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخر عشرہ کا اہتمام فرماتے رہے حتی کی رب کریم نے آپکو اپنے پاس بلالیا (بخاری شریف ۱۸۸۶)
حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے اخیر دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے (بخاری شریف ۱۸۸۵)
اس آخر عشرہ کی خاص باتوں میں ایک بات یہ بھی ہیکہ یہ عشرہ اپنے اندر ایک ایسی رات کو سمیٹے ہوئے ہے جو ہزار راتوں سے بہتر ہے( لَیلَۃُ القَدرِ خَیرُ مِن اَلفِ شَھر ) اور اس بابرکت رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ہے اور کیوں نہ ہو یہی تو وہ رات ہے جس رات قرآن کریم جیسی رشد وھدایت سے بھری کتاب بیک وقت آسمان دنیا پر اتاری گئی "اِنّا اَنزَلنٰهُ فِی لَیلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنّا مُنذِرِین" قسم ہے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ہے ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے (سورۃ الدخان)
بہر حال آخر عشرہ میں اعتکاف اور کثرت سے عبادت و دعاء کا اہتمام کرنا چاھئے اور اس آخر عشرہ میں اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنی کو خوب کثرت سے پڑھنا چاہیے.
ایک بات اور جسکا خاص خیال کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ کسی بزرگ اور اللہ والے کی نگرانی میں اعتکاف کا اھتمام کرے( بشرطیکہ محلہ کی مسجد معتکف سے خالی نہ ہو ) خصوصا وہ لوگ جنکا کسی سے اصلاحی تعلق ہو وہ اپنے پیر ومرشد کے نگرانی میں اعتکاف کریں تاکہ عبادتوں میں نکھار پیدا ہو اور آپکی اصلاح بھی ہوتی رہے اسلئے کہ یہ وقت بڑا قیمتی ہے بعض لوگ خاموشی سے اعتکاف کو گزار جاتے ہیں جس سے ایک بڑے حاصل ہو جانے والے نفع سے محرومی ہاتھ آتی ہے
اللہ تعالی ہم سب کو اس اخیر عشرہ سے خوب فائدہ اٹھانے والا بنائے اور اپنی زندگی کو کسی اللہ والے کے زیر سایہ رہ کر گزارنے کی توفیق مرحمت فرمائے. آمین

سرائے میر: مسجد نذیر میں سابقہ روایات پر اعتکاف کا نظم!

سرائے میر/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 5/جون 2018) آج بتاریخ 20 رمضان المبارک 1439ھ مطابق 5جون 2018 ع بروز سہ شنبہ بعد عصر  قبل از غروب اعتکاف کا وقت شروع ہو رہا ہے، سالہاٸے گذشتہ جس طرح شیخ المشاٸخ حضرت اقدس مولانا شاہ مفتی محمد عبداللہ صاحب پھولپوری نوراللہ مرقدہ کی حیات میں اعتکاف کا نظم جاری تھا اسی طرح امسال بھی مدرسہ ھذا کی مسجد نذیر میں زیر سرپرستی حضرت اقدس مولانا شاہ مفتی محمد احمداللہ صاحب دامت برکاتہم ناظم اعلی وشیخ الحدیث مدرسہ ھذا معتکفین حضرات کے لٸے نظم کیا گیا ہے جس میں ملک کے مختلف صوبوں سے کثیر تعداد میں متعلقین ومحبین تشریف لارہے ہیں اعتکاف کے ساتھ ساتھ صحبت اہل اللہ و اصلاح نفس اور دین سیکھنے کا بہترین موقع فراہم ہے، آج انسان دنیاوی کاروبار اور معاش کے پیچھے انتھک لگ کر خدا اور نظام خدا کو بھول بیٹھا ہے دنیاوی نفع کے لٸے ہر قربانی کو تیار ہے لیکن اگر فرصت نہیں تو صرف عبادت اور آخرت کے لٸے، اس مقدس مہینہ میں جہاں مساجد میں نمازیوں کی بھیڑ ہے تو وہیں بے روزہ اور عیش وآرام اور دنیا کی چمک دمک میں مشغول بھی اس سے کہیں زیادہ ہیں، انتہاٸی افسوس کا مقام ہے آج سرپرست کی لاپرواٸی اور گھریلو نظام خراب ہونے کی وجہ سے ہمارا نوجوان روزہ، نماز اور تراویح جیسی عبادتوں سے محروم ہے آج ان کی دلچسپی صرف موباٸل اور انٹرنیٹ کی دنیا کی سیر کرنے میں ہے جس پر والدین اور سرپرست کی توجہ ضروری و لازم ہے ورنہ کل قیامت میں اس کا بھی حساب دینا ہوگا، چونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے "یاایھاالذین آمنو اقوا انفسکم واھلیکم نارا" اے ایمان والوں اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاٶ۔ اس آیت میں اپنی ذات کے ساتھ اپنے گھر والوں کو بھی دوزخ کی آگ سے بچانے کا حکم ہے.
اعتکاف عبادت کا بہترین ذریعہ ہے جس میں معتکف اگر مسجد میں خالی بھی بیٹھا رہے پھر بھی عبادت گزاروں میں شمار ہوتا ہےاس کا کوٸی بھی لمحہ ضاٸع نہیں ہوتا.
ایک روایت میں ہے کہ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اسے اتنا ہی بدلہ عطا کیا جاتا ہے جتنا نیکیاں کرنے والے کو ملتا ہے.
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جوشخص اللہ رب العزت کی خوشنودی کی تلاش میں ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے تواللہ تعالی اس کے اور جہنم کے درمیان تین ایسی بڑی خندقیں حاٸل فرما دیتے ہیں جو دنیا جہاں سے زیادہ چوڑی اور وسیع ہیں.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کےحکم کے بعد کبھی اس کا ناغہ نہیں فرمایا۔
اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے کہ جس شخص نے رمضان المبارک کے دس دنوں کا اعتکاف کیا اس کو دو حج اور دو عمرہ کا ثواب عطا کیا جاٸے گا۔
اب غور کرنے کی بات ہے کہ اس قدر فضیلت کے باوجود محرومی سو ٕ قسمت ہے حضرت مولانا مفتی محمد احمداللہ صاحب نے اپنے حالیہ خطاب میں فرمایا کہ آج کل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اعتکاف صرف ضعیفوں کے لٸے خاص ہے یا یہ کہ جس کو فرصت ہو وہ اعتکاف کرے یہ شیطانی دھوکہ ہے بلکہ نوجوانوں کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہٸے زندگی کی بٹن کب آف ہوجاٸے گی اس کا بھروسہ نہیں، ابھی اعلان ہوجاٸے فلاں چوراہے پر کچھ رقم یا سامان تقسیم ہونے والا ہے تو دنیادار وقت سے پہلے ہی جاکر لاٸن لگالیں گے، یہ ہماری قوم کا حال ہے
اللہ رب العزت کے نزدیک جوانی کی عبادت کا زیادہ ثواب ہے کیوں کہ جوانی میں خواہشات بھی زیادہ ہوتی ہیں اس لٸے نوجوانوں سے درخواست ہے کہ زیادہ سے زیادہ اپنے اوقات کو عبادت میں مشغول رکھیں اور اعتکاف کے لٸے اپنےآپ کو دس دنوں کے لٸے فارغ کریں
اعتکاف سنت کفایہ ہے اپنے محلے کی مسجد میں اعتکاف کریں، مرد کی بہ نسبت عورتوں کو اپنے گھروں میں اعتکاف کرنا زیادہ آسان ہے عورتیں بھی اس کا اہتمام کرنے کی کوشش کریں۔
اعتکاف میں یومیہ ترتیب ملاحظہ کریں.
بعد نماز فجر 9 بجے تک آرام بعدہ کتاب اور حضرت مولانا شاہ مفتی محمد احمد اللہ صاحب زیدمجدھم کا روحانی و اصلاحی خطاب،
بعد نماز ظہر حضرت مولانا شاہ مفتی احمداللہ صاحب  کی زیر نگرانی اجتماعی ذکر اور دعا کا اہتمام،
بعدنمازعصر نماز کی عملی مشق، تصحیح قرآن، اور اذان واقامت کی عملی مشق، گناہ کبیرہ اور سنت کے پرچے سنے جاتے ہیں اور اصلاحی کاپی کی جانچ اور اس کی ترکیب تجویز کی جاتی ہے اور بعد فراغت تلاوت وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے.
بعد مغرب آرام، بعد عشا ٕ تراویح( دس یوم میں ایک قرآن مکمل )
نوٹ: جو حضرات مسجد نذیر میں اعتکاف کرنے کا ارادہ کٸے ہیں وہ وقت مقررہ پر پہنچ کر اپنا نام و پتہ درج کرالیں تاکہ نظم میں آسانی ہوسکے.
زیر: انتظام مولانا محمد الیاس صاحب قاسمی
رابطہ نمبر       9415997184