اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Tuesday, 23 January 2018

قاسمی کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ کا یوم جمہوریہ کے موقع پر بیداری پروگرام بعنوان" یوم جمہوریہ اور ہماری ذمہ داری" کل ہوگا منعقد!

رپورٹ: محمد انظر اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــ
سرائے میر/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 23/جنوری 2018) قاسمی کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ سراۓ میر اعظم گڈھ کے طلبہ کا یوم جمہوریہ کے موقع پر بیداری پروگرام بعنوان "یوم جمہوریہ اور ہماری ذمہ داری"  کل 24 جنوری  بروز بدھ دن میں ایک بجے انسٹی ٹیوٹ پر منعقد ہوگا اس پروگرام کی صدارت محمد فیصل اعظمی اور مھمان خصوصی کے طور پر مفتی اشفاق احمد اعظمی، مولانا انیس احمد اصلاحی، ڈاکٹر اختر حنفی، مولانا افضل قاسمی، مفتی محمد اعظم اعظمی ان شاء اللہ شرکت کریں گے، جس میں تقریبا 24 طلبہ قاسمی کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ اردو ہندی اور انگلش میں اسی عنوان کے تحت اپنا مضمون پیش کریں گے، جس کے بعد لوگوں کے یوم جمہوریہ کے تٸیں بیداری اور جمہوریت کی بقا اور  سالمیت آج کی موجودہ صورت حال میں کس طرح سے ہو، اس کو شوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعہ لوگوں تک پہونچائیں گے.
 اس پروگرام کی تیاری کے سلسلے میں محمد انظر اعظمی نے کہا کہ پروگرام کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں، طلبہ اپنا مضمون شراٸط کے مطابق انسٹی ٹیوٹ پر جمع کرچکے ہیں کل ان کے درمیان مقابلہ بھی ہوگا جس میں پوزشن کے علاوہ تمام شرکت کرنے والے طلبہ کو انعام سے نوازا جاۓ گا پروگرام صرف ایک گھنٹے کا ہوگا اللہ اس پروگرام کو مکمل طور پر کامیاب بناۓ آمیــن.

نکاح کی شرعی حیثیت!

تحریر: مفتی فہیم الدین رحمانی چیئرمین شیخ الھند ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ آف انڈیا
ــــــــــــــــــــــــــ
نکاح اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہےاور دین و دنیا کے کام اس سے درست ہوجاتے ہیں اور اس میں بہت سے فائدے اور بےانتہا مصلحتیں ہیں آدمی گناہ سے بچتا ہے دل ٹھکانے ہوجاتا ہے اور برے خیالات وتفکرات سے محفوظ ہوجاتا ہے اور بڑی بات یہ ہے کہ فائدہ اور ثواب کاثواب کیوں کہ میاں بیوی کا پاس بیٹھ کر پیار و محبت کی باتیں کرنا دل لگی کرنا نفل نمازوں سے بہتر ہے،
مسند بزار کی ایک روایت ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےارشاد فرمایا کہ عورتوں سے نکاح کرو وہ تمہارے لئے مال لائیں گی نکاح کی ایک حیثیت توایک باہمی معاملے اور معاہدے کی ہے جیسے بیع وشراء اور لین دین کےمعاملات ہوتے ہیں دوسری حیثیت سنت اور عبادت کی ہے اس پر تو تمام امت کا اتفاق ہے کہ نکاح عام معاملات ومعاھدات سے بالا ترایک حیثیت شرعی عبادت وسنت کی رکھتا ہے اسی لئے نکاح کے منعقد ہونے کے لئے باجماع امت کچھ ایسی شرائط ضروری ہیں جو عام معاملات بیع وشراء میں نہیں ہیں.
 (۱) اول تو یہ کہ ہر عورت اور ہرمرد سے سے نکاح نہیں ہوسکتا بلکہ اس میں شریعت کا ایک مستقل نظام اور قانون ہے جس کے تحت بہت سی عورتوں اور مردوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا ہے
 (۲) دوسرے تمام معاملات ومعاہدات کےمنعقد اور مکمّل ہونے کے لئے کوئی گواہی شرط نہیں اور گواہی کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب فریقین میں اختلاف ہوجائے لیکن نکاح ایسا معاملہ نہیں بلکہ یہاں منعقد ہونے کے لئے بھی گواہوں کا سامنے ہوناشرط ہے مثلاً اگر دومرد دوعورت بغیر گواہوں کے آپس میں نکاح کرلیں اور دونوں میں سے کوئی فریق کبھی بھی اختلاف وانکار نہ کرے اس وقت بھی شرعاً وہ نکاح باطل اور کالعدم ہے جب تک کہ گواہوں کے سامنے دونوں کا ایجاب وقبول نہ ہو اور سنت یہ ہے کہ نکاح اعلان عام کے ساتھ کیا جائے اس طرح کی اور بھی بہت سی شرائط وآداب ہیں جو معاملہ نکاح کے لئے ضروری یامسنون ہیں اور اسلامی تعلیمات کا اصل رخ یہ ہےکہ نکاح کا معاملہ اور معاہدہ عمر بھر کےلئے ہو اس کے توڑنے اور ختم کرنے کی کبھی نوبت ہی نہ آئے کیوں کہ اس معاملہ کے انقطاع کا اثر صرف فریقین پرنہیں پڑتا بلکہ نسل واولاد کی تباہی وبربادی اور بعض اوقات خاندانوں اور قبیلوں میں فساد کی نوبت پہنچتی ہے اور پورا معاشرہ بری طرح اس سے متاثر ہوتاہے اسی لئے جو اسباب و وجوہ اس معاملے کے توڑنے کا سبب بن سکتے ہیں تو قرآن وسنت کی تعلیمات نے ان تمام اسباب کو راہ سے ہٹانے کا پورا انتظام کیا ہے، زوجین کے ہر معاملے اور ہرحال کےلئے جو ہدایتیں قرآن و سنت میں مذکور ہیں ان سب کا حاصل یہی ہے کہ یہ رشتہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ مستحکم ہوتا چلا جائے اور ٹوٹنے نہ پائے ناموافقت اور نبھاؤ نہ ہونے کی صورت میں اول افہام وتفہیم پھر زجر وتنبیہ کی ہدایتیں دی گئی ہیں اور اگر بات بڑھ جائے اور اس سے کام نہ چلے تو خاندان ہی کے چند لوگوں کو حکم اور ثالث بناکر معاملہ طے کر نےکی تعلیم دی جائے، جیسا کہ آیت ,, حکما من اھلہ وحکما من اھلہا ,, میں خاندان ہی کے افراد کو حکم اور ثالث بنانے کا ارشاد کس قدر حکیمانہ ہے کہ اگر معاملہ خاندان سے باہر گیا تو بات بڑھ جانے اور دلوں میں زیادہ بعد پیدا ہونے کا خطرہ ہے لیکن بعض اوقات ایسی بھی صورت پیش آتی ہیں کہ اصلاح حال کی تمام کوششیں نا کام ہوجاتی ہیں اور تعلق نکاح کے مطلوبہ ثمرات حاصل ہونے کے بجائے طرفین کا آپس میں مل کر رہنا ایک عذاب بن جاتا ہے ایسی حالت میں اس ازدواجی تعلق ختم کر دینا ہی طرفین کیلئے راحت و سلامتی کی راہ ہوجاتی ہے.

مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائے میر اعظم گڑھ میں جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے گا یوم جمہوریہ، تیاریاں شروع!

رپورٹ: سفیان حیدرمظفر پوری
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
سرائے میر/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 23/جنوری 2018) اعظم گڑھ کے سرائے میر علاقہ میں قدیم دینی ادارہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم میں زیر سرپرستی حضرت مولانا مفتی محمد احمدالله صاحب پھولپوری دامت برکاتہم ناظم اعلی و شیخ الحدیث(ثانی) مدرسہ ھذا اور زیر صدارت حضرت مولانا مفتی محمد اجودالله صاحب پھولپوری دامت برکاتہم نائب ناظم (محکمہ تعلیمات) مدرسہ ھذا اور زیر قیادت حضرت مولانا جمال انور صاحب قاسمی نائب ناظم (محکمہ تعمیرات) مدرسہ ھذا میں ہر سال کی طرح امسال بھی یوم جمہوریہ کا پروگرام جوش وخروش کے ساتھ منایا جائے گا، پروگرام کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں.
                      ــــــــعــــــ
مٹے ہر چند ہم پھر بھی سلف کی شان باقی ہے
رگوں میں اب بھی خون طغرل و عثمان باقی ہے

مجاھدین آزادی، سرفروشان وطن پاسبان ملت،  قائدین ملک و قوم کی
قربانیوں کا اور ان کی حسین داستانوں کا ایمان افروز ولولہ انگیز دلکش ودل آویزتذکرہ سننے کیلئے 26 جنوری 2018 بروز جمعہ بوقت 8 بجے صبح مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائے میر کی خوش منظر پررونق دارالحدیث کے سامنے  تشریف لائیں.
                  ـــــــــعـــــــ
یہ خطہ سب سے پہلے دیش پر قربان ہوتا ہے
یہاں کا نوجواں برگیڈیئر عثمان ہوتا ہے
ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے
 ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستاں میں

منجانب طلباء دورہ حدیث شریف مدرسہ بیت العلوم سرائے میر اعظم گڑھ

دارالعلوم دیوبند کی تعلیمی تجاویز: مثبت پیغام، خوش آئند پیش رفت!

تحریر: مولانا محمد نوشاد نوری قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
خبر موصول ہوئی ہے کہ نیشنل ایجوکیشنل پالیسی کے سلسلے میں مرکزی حکومت کی جانب سے بنگلور میں منعقد کی گئی کانفرنس میں، ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے نمائندہ نے شرکت کی، اور مفید تعلیمی تجاویز پیش کیں، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ دارالعلوم دیوبند نے ملک وملت کے مفاد میں، اپنی حصہ داری دکھائی ہو؛ بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ ملک جب بھی داخلی یا خارجی فتنہ کی زد میں ہوا تو دارالعلوم دیوبند کے جیالوں نے اس میں غیر معمولی سرگرمی کا اظہار کیا ہے، کاروان دارالعلوم دیوبند کا شعار ہی یہ رہا ہے:
          ـــــــــــــعــــــــــ
سوبار سنوارا ہے ہم نے اس ملک کے گیسوئے برہم کو
یہ اہل جنوں بتلائیں گے ، کیا ہم نے دیا ہے عالم کو

دارالعلوم دیوبند کی طرف سے جو تجاویز سامنے آئی ہیں، وہ ملک وملت کے لیے یکساں مفید ہیں۔
دار العلوم دیوبند نے بنیادی طور سے تین تجاویز رکھی ہیں: (۱) تعلیم کو سیکولر رکھا جائے، کسی مذہبی مضمون کو جیسے یوگا وغیرہ كو اختیاری مضمون کی حیثیت سے پڑھايا جاسکتا ہے (۲) حکومت مدرسہ بورڈ کے نصاب میں دخل اندازی سے گریز کرے (۳) فضلائے مدارس کو حکومت تعلیم یافتہ تسلیم کرے۔
بلا شبہ یہ تینوں تجاویز اپنی جگہ بہت ہی مفید اور کار آمد ہیں ؛ ان میں سب سے اہم تجویز آخری تجویز ہے، جس میں فضلائے مدارس کو تعلیم یافتہ تسلیم کرنے کی بات کہی گئی ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ایک تجویز نہیں ہے؛ بلکہ ہمارے اداروں اور ان کے فضلاء کے قومی تشخص کا مسئلہ ہے، حکومت کی نظر میں مدارس اسلامیہ نہ تو تعلیمی مراکز ہیں اور نہ ہی فضلائے مدارس تعلیم یافتہ افراد، ہم قومی دھارا سے بالکل الگ ہیں، اس تعلق سے ہمارے فضلاء کی بے چینی روز افزوں ہے، اس ضرورت کا اظہار فضلاء دارالعلوم دیوبند مختلف اسٹیجوں سے کرتے رہے ہیں اور اپنے بڑوں پر بے توجہی کا الزام دھرتے رہے ہیں۔
۲۰۱۵ء میں مولانا آزاد نيشنل اردو یونیورسیٹی کی جانب سے شہر لكھنؤ میں منعقد ایک تعلیمی کانفرنس میں حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب صدر مهتمم دار العلوم وقف دیوبند کی ہدایت پر مولانا محمد شکیب قاسمی صاحب(استاذ دار العلوم وقف ديوبند و ڈائریکٹر حجۃ الاسلام اكيڈمی) نے شرکت کی، اور اس ضرورت کا مطالبہ کیا کہ حکومت ہمارے موجودہ ڈھانچہ کو تسلیم کرے، اس وقت بھی بہت سے لوگوں نے اس اقدام کو خوش آئند پیش رفت قرار دیا تھا، اب دارالعلوم دیوبند نے بھی یہی تجویز پیش کرکے اس کی معقولیت پر مہرتصدیق ثبت کردی ہے، دارالعلوم دیوبند ام المدارس ہے، بحمد اللہ اس کے پاس اسباب و وسائل کی کمی نہیں ہے، رابطہ مدارس اسلامیہ کی شکل میں ایک بہترین پلیٹ فارم موجود ہے، ضرورت ہے کہ اس تجویز کو تحریک کی شکل دی جائے، جزوی اور فروعی مسائل کے لیے نہ جانے ہم نے کتنی کانفرنسیں اور جلسے منعقد کرلیے، مدارس اسلامیہ نہ تو حکومت سے کسی قسم کا تعاون لیتے ہیں اور نہ ہی اس کے خواہاں ہیں، مفت میں ملک و ملت کیلیے بہترین افراد تیار کرتے ہیں، ملک وقوم کی گردنیں ان مدارس کے احسانات سے گراں بار ہیں، مدارس کو تعلیمی مراکز اور فضلائے مدارس کو تعلیم یافتہ شمار کرنا ان مدارس کا بنیادی حق ہے. اور جب ضرورت ہماری ہے تو اس کے حصول کے لیے جدوجہد اور کوشش بھی ہمیں ہی کرنی ہوگی۔
مجھے یقین ہے کہ یہ انتہائی ضروری اور معقول تجویز “صدا بصحرا” ثابت نہیں ہوگی ؛ بلکہ ہمارے اکابرین ،ذمہ داران دارالعلوم دیوبند اس حق کے حصول تک اپنی مخلصانہ جدوجہد جاری رکھیں گے، اخلاص کے اس تاج محل کو اپنے مطالبے کو تسلیم کرانے میں ان شاء اللہ زیادہ دقت اور پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کہ:
“اس کاخ فقیری کے آگے شاہوں کے محل جھک جاتے ہیں”۔)

مضمون نگار نوجوان اسلامی اسکالر اور دارالعلوم وقف دیوبند کے موقر استاذ ہیں.

آؤ مل کر انقلابِ تازہ تر پیدا کریں!

رپورٹ: اسامہ اثمر
ــــــــــــــــــــــــــــ
دیوگاؤں/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 23/جنوری 2018) آپ تمام حضرات کو یہ اطلاع دیتے ہوئے بڑی خوشی ہورہی ہے کہ آپکے اپنے جامعہ فیض عام  دیوگاؤں اعظم گڑھ کا عظیم الشان اجلاس عام  ٨ فروری ٢٠١٨ کو ان شاء اللہ منعقد ہوگا، جس میں ملک کے مشہور علمی مراکز کے مایہ ناز علماء کرام تشریف لارہے ہیں:
 خاندانِ قاسمی کے گلِ سرسبد،رکنِ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند.ترجمانِ اسلام حضرت مولانا محمد سفیان صاحب قاسمی ازھری  دامت برکاتہم العالیہ
نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن، مناظرِ اسلام و استاذ دارالعلوم دیوبند  حضرت مولانا مفتی محمد راشد صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ
پروگرام کی ترتیب حسبِ ذیل ہے:

  • مجلس ابناءقدیم:- ٨ فروری ٢٠١٨ بروز جمعرات ٢:٣٠ بجے سے ٤:٠٠ تک
  • غیر مسلم بھائیوں کیلیے :- ٨ فروری ٢٠١٨ بروز جمعرات  ٤:٣٠  بجے سے ٥:٤٥ تک
  • اجلاس عام :- ٨ فروری ٢٠١٨  بروز جمعرات بعد نماز مغرب  تا  عشاء
  • بزمِ خواتین :- ٩ فروری ٢٠١٨  بروز جمعہ  ٩ بجے سے نماز ظھر تک
  • استقبال:- ( مولانا ) حبیب الرحمٰن قاسمی (خادمِ جامعہ) اپنے ہمرائیوں کے ساتھ.

بنجر اور غیر قانونی قبضہ پر چل گئی جے سی بی، انتظامیہ کا چلا ڈنڈا!

رپورٹ: سلمان اعظمی
ــــــــــــــــــــ
سگڑی/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 23/جنوری 2018)سگڑی تحصیل علاقہ لاڑو بلیاں میں کل صبح گرام سبھا میں تحصیل انتظامیہ نے غیر قانونی قبضے داروں پر اس وقت کارروائی شروع کر دی، جب تحصیلدار منوج کمار لیکھ پال اور پولیس انتظامیہ کے ساتھ لاڑو بلیاں کے گاؤں تک پہنچے، جے سی بی اور تحصیل انتظامیہ کو دیکھ کر ہڑکمپ سا مچ گیا.
تحصیلدار نے بنجر زمین و غیر قانونی قبضہ داروں پر کارروائی شروع کی، جس میں بسرا بیٹے ستئی اور لالیتا بیٹے ہردیو نے کئی سالوں سے کٹیرین ڈال کر گاٹا نمبر 194، 196 رقبہ 0.34 ہیکٹر پر قبضہ جما رکھا تھا، جس کو انتظامیہ نے جے سی بی سے خالی کیا ہے، تحصیلدار نے کہا کہ کئی بار ان لوگوں کو خالی کرنے کے لئے کہا گیا تھا، اب تک ان لوگوں نے خالی نہیں کیا، اس لئے انتظامیہ کو اب اسے خالی کرانے کیلئے مجبور ہونا پڑا.

غازی آباد: دارالعلوم الفلاحیہ لونی میں دعائیہ تقریب کا انعقاد!

رپورٹ: یاسین صدیقی
ــــــــــــــــــــــــــــ
لونی/غازی آباد(آئی این اے نیوز 23/جنوری 2018) لونی کا معروف دینی ادارہ دارالعلوم الفلاحیہ انجلی سٹی راشد علی گیٹ لونی میں دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جسکی صدارت مفتی فہیم الدین رحمانی چیئرمین شیخ الہند ٹرسٹ آف انڈیا نے کی پروگرام کا آغاز مدرسہ ھٰذا کے طالب علم کی تلاوت کلام اللہ اور مولانا عارف سراج نعمانی کی دلکش نعتیہ کلام سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا صیاد مظاہری نے انجام دئیے، ابتدائی خطاب مولانا قاری فیض الدین عارف خازن جمعیۃ علماء شہر لونی کا ہوا.
اس دوران مہمان خصوصی کی حیثیت سے تشریف لائے مولانا محمد سالم قمر عبد اللہ قاسمی چترویدی نے اپنے خطاب کے دوران مسلمانوں کے باہمی اتحاد و اتفاق پر زور دیا، ساتھ ہی مولانا نے مسلم نوجوانوں کو علوم دینیہ کے ساتھ علوم عصریہ پر بھی زور دیا، مولانا نے کہا کہ کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی اسکی عمدہ تعلیم و صلاحیت سے طے ہوتی ہے اور جو قوم تعلیم سے نا بلد ہو وہ کبھی ترقیوں کے منازل کو طے نہیں کرتی، ان نصیحتوں کے بعد مولانا نے کی دعاء پر پروگرام اختتام پزیر ہوا.
 اہم شرکاء میں مولانا صغیر احمد مہتمم دارالعلوم مالکیہ قاری محمد عیاض امام مسجد رشیدیہ، قاری محمد نعمان، قاری فہیم احمد، مولانا شاہنواز مظاہری، مولانا جلالی مولانا قاسم مظاہری، قاری قاسم امام رحمتی مسجد، قاری نسیم الدین مرس مدرسہ ھذا کے نام قابل ذکر ہیں اخیر میں ادارہ کے مہتمم مولانا صیاد مظاہری نے جملہ مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا.

Monday, 22 January 2018

آزادی و جمہوریت کو فرقہ پرست عناصر سے خطرات لاحق، ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ کیلئے ہندو مسلمانوں کو ساتھ آنا ضروری: مولانا اسرارالحق قاسمی

کشن گنج(آئی این اے نیوز 22/جنوری 2018)ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں مسلمانوں نے دیگر برادران وطن کے ساتھ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہر محاذ پر انہوں نے اپنے جان و مال کی قربانی پیش کی جس کے نتیجہ میں آج ہم ایک آزاد ملک میں ہر قسم کی سہولت و جمہوریت کے ساتھ زندگی گزاررہے ہیں، ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین وممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے پوٹھیابلاک کے ہلداگاؤں میں1؍کروڑ 72؍لاکھ کے بجٹ سے تعمیر ہونے والے پل کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ہمارے ملک کے رہنماؤں نے اس ملک کا ایک جمہوری دستور بنایا جس کے تحت ہندوستان کے تمام طبقات کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنے مذہب اور مذہبی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اس ملک میں رہیں اور اس کی ترقی و خوشحالی میں اپنا رول ادا کریں، مگر افسوس کی بات ہے کہ فرقہ پرست عناصر پر مشتمل ایک طبقہ ہمیشہ اس نظریہ اور ملک کے دستور کے خلاف رہا اور اس نے ہمیشہ ملک کے سیکولر تانا بانا کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، آج یہی طبقہ ملک میں برسر اقتدار ہے اور عوام کے درمیان نفرت و دشمنی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
مولانا قاسمی نے کہا کہ اس وقت ہندوستان کے تمام شہریوں کوملک کی جمہوری روح کے تحفظ کے لئے پوری قوت کے ساتھ آگے آنے اوران طاقتوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے جو ملک کے شہریوں کے درمیان نفرت و عداوت کی لکیر کھینچنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ اقدار کے تحفظ کے لئے ہندواور مسلمان سبھی کو ایک ساتھ مل کر محنت کرنے کی ضرورت ہے،مولانا نے ملک کے مسلمانوں کے مسائل و ضروریات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس وقت مسلمانوں میں باہمی اتحاد و اتفاق کا قیام اور تعلیمی بیداری کا کام کرنا وقت کا ایک اہم ترین تقاضا ہے، جب تک ہمارے درمیان باہمی اتحاد و اتفاق کا جذبہ نہیں پیدا ہوگا اس وقت ہم دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہوتے رہیں گے اور قدم قدم پر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جبکہ تعلیم ہی اصلاح معاشرہ کی کلید اور کنجی ہے لہذا مساجد کے منبر و محراب سے بھی قوم میں تعلیمی بیداری کا کام کرنا ہوگا اور مدارس اور تعلیم گاہوں کے ذریعے سے بھی۔ انہوں نے کہاکہ والدین اگراپنے بچوں کے ذریعہ تعلیم کا پودا لگائیں گے تو یہی آگے چل کر اعلی تعلیمات سے فیضیاب ہوں گے اور ملک و ملت کے لئے ثمرآور ثابت ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ دین کی سمجھ بھی صحیح علم پر موقوف ہے اور معاشرہ میں پائے جانے والے بگاڑ کو دور کرنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ مسلمان اللہ کی رسی یعنی قرآن و سنتِ رسول اللہﷺ کو مضبوطی سے تھام لیں ،لہذا ہمیں ہر قیمت پر اپنی نئی نسل کو تعلیم یافتہ بنانے اور اس کے ساتھ ان کی صالح تربیت کی کوشش کرنی ہوگی ۔
اس موقع پر کئی عوامی نمائندے اور سماجی کارکن بھی موجود رہے جن میں ممبراسمبلی ڈاکٹر جاوید آزاد، سماجی کارکن جہانگیرعالم، ایم پی کے نمائندہ منیجر محمد اسلم، پوٹھیا کانگریس کے صدر انعام الحق،مکھیا سنجے اپادھیائے، محمد ریحان، محمد عادل، اورنگزیب، ہمایوں وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
 واضح رہے کہ مولانا قاسمی ان دنوں متعدد ترقیاتی منصوبوں کی شروعات کرنے اور ان کا جائزہ لینے کے لئے اپنے حلقہ کے دورہ پر ہیں۔

جامعہ انوار العلوم محمدیہ، نابھہ، ضلع پٹیالہ میں عظیم الشان افتتاحی پروگرام کا انعقاد!

رپورٹ: ایڈیٹر انچیف
ــــــــــــــــــــــــــــ
پٹیالہ/پنجاب(آئی این اے نیوز 22/جنوری 2018) کل گذشتہ پنجاب کے نابھہ شہر میں جامعہ انوار العلوم محمدیہ میں ایک عظیم الشان افتتاحی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، اولا جامعہ ہذا کے ایک طالب علم نے قرات کی، اسکے بعد نعت نبی گنگنایا گیا، اناؤنسری کے فرائض مفتی محمد ثاقب قاسمی انجام دے رہے تھے، مختلف مقامی علماء کرام، ائمہ حضرات اور دنشوران قوم نے اس پروگرام میں شرکت کی اور مدارس کی اہمیت وضرورت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا.
پروگرام کے ابتداء میں مفتی محمد ثاقب قاسمی نے علم کی فضیلت و اہمیت، مدارس کی ضرورت اور خاص کر دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم انگلش، حساب اور کمپیوٹر کو بھی نصاب میں شامل کرنے کی تاکید فرمائی.
واضح ہو کہ یہ مدرسہ 21 افراد کی کمیٹی پر مشتمل ہے، جن میں سے مولانا زبیر احمد اشاعتی کا نام سر فہرست ہے اور آپکو ہی اہتمام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے.
آخر میں مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی سابق مفتی اعظم پنجاب نے مدارس کی اہمیت وافادیت پر بہت ہی شاندار اور مغز بیان فرمایا، اور پھر دعا کے ذریعے سے پروگرام کا اختتام کیا.
اس پروگرام میں مالیر کوٹلہ سے تشریف لائے مفتی عبد الملک قاسمی، قاری محمد انس، حافظ محمد لقمان اور شہر واطراف کے معزز حضرات بھی موجود تھے.

کیا مدارس اسلامیہ کے نصاب میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟

تحریر: فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی
ـــــــــــــــــــــــــــ
سچر کمیٹی کے رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے مدارس اسلامیہ میں 4%فیصد سے کم مسلمانوں کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، جبکہ مسلمان بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہے، تقریبا 40% مسلمان بچے اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا، اور جو مسلمان تعلیم یافتہ بھی ہیں وہ بھی ملازمت سے محروم ہیں، یہ بات سچ ہے کہ جب کسی جھوٹ کو عام کیا جائے اور جھوٹ بولنے والوں کی کثرت ہو، تو یقینا اس میں شک ہوجاتا ہے ایا یہ تو سچ تو نہیں اتنی بڑی تعداد تو جھوٹ بول نہیں سکتی، یہی حال موجودہ زمانہ کے مدارس اسلامیہ کے طلباء اور مدارس کے نصاب کے ساتھ معاملہ کیا جارہا ہے، ایک جھوٹ بولا گیا کہ مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران طلباء کی زندگیوں کو برباد کررہے ہیں، پھر اس جھوٹ کی تحقیق کئے بغیر زور و شور سے اس جھوٹ کو فروغ دیا جانے لگا، اغیار تو اغیار اپنے بھی شک میں پڑ گئے، کیا واقعی مدرسوں میں پڑھنے والوں کی زندگیاں تاریک ہے، انہیں جدید تعلیم نہیں دی جاتی، مدارس اسلامیہ کے طلباء کے روشن مستقبل کا جھوٹا نعرہ لگا کر کچھ فاسد اغراض تھے، جو پنھاں تھے، ان مخفی رازوں سے ہمارے مسلمان نادانی کے بناپر نہیں سمجھ پائے، اور ان کی راگ میں راگ ملاکر الاپنے لگے، کہ مدرسوں میں سائنس کمپیوٹر، اور جدید علوم فنون کی تعلیم دی جائے، ذرا ان نادان لوگوں سے جو مدارس کے نصاب کو بدلنے کی بات کرتے ہیں بڑے ادب سے ہم یہ پوچھتے ہیں، رات و دن آپ کو مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے والے چار فیصد طلباء کی فکر ستاتی رہتی ہے، کیا کبھی آپ کو فکر ہوئی کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد گلیوں اور ہوٹلوں میں اور دوسری جگہوں میں ننھے منھے مسلم بچے کام کررہے ہیں، تعلیم سے کوسوں دور ہیں، کیا کبھی ان کی بھی فکر ہوئی، اغیار کے گمراہ کن مشوروں میں آکر کیا آپ مدرسوں کو اصلی شکل ہٹاکر اسکول میں تبدیل کرنا چاہتے ہو، مدارس کا قیام قرآن وحدیث میں مہارت پیدا کرنے والے افراد کوتیار کرنا ہے، ہمیں طلباء کو ہمہ تن گوش ہوکر قرآن وحدیث میں بصیرت حاصل کرنے کا موقع دو، کمپیوٹر اور انگلش اور سائنس کا لالیپاپ دکھا کر ہمارے مدارس کے طلباء میں قرآن وحدیث کی بصیرت کو ختم نہ کرو، مدارس اسلامیہ کے نصاب میں کسی قسم کی تبدیلی کی بالکل ضرورت نہیں، اولاً تو ان طلباء کو پوری توجہ کے ساتھ قرآن وحدیث کی تعلیم حاصل کرنے دو، کیونکہ دین کی تبلیغ کرسکے گا جب دین کے مہارت ہوگی،تبھی اسلام پر کئے جانے والے اعتراض کاجواب دینے پر قادر ہونگے، لیکن اگر ہم نے کمپیوٹر، سائنس اور جدید علوم بھی ساتھ ساتھ دلانے کی کوشش کرینگے، تو نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم، ہمارے یہ طلباء نہ شریعت میں مہارت رکھ پائیں گے اور نہ ھی جدید علوم پر مہارت ہوگی، پہلے ان طلباء کو دینی علوم میں مہارت پیدا کرنے دو.
میں اس بات کا بالکل منکر نہیں کہ جدید علوم وفنون کی ضرورت نہیں یقینا ضرورت ہے، لیکن پہلے ان طلباء کو اپنی اصلی تعلیم میں ماہر ہونے دو، پھر اسلامی ماحول میں رہ کر اسلامی کالج کی ضرورت ہے، کیونکہ مدرسہ میں پڑھنے والے طلباء کا ذہن وسیع ہوجاتا ہے، جدید تعلیم کو سیکھنے اور سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے.
الحمدللہ کچھ لوگوں نے عقل مندی کا ثبوت دیا کہ مدرسہ کے فارغ ہونے والے حافظ طلباء کے لئے ڈاکٹری کی تیاری کراتے ہیں، الحمد للہ کچھ حافظ حال ہی میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوئے، مدارس کے طلباء میں صلاحیت پوشیدہ ہیں، بس اسے صحیح رخ دینے کی ضرورت ہے، وہ دن دور نہیں جب انہیں مدرسوں کے طلباء ڈی ایم اور ایس ڈی ایم بنیں گے، لیکن ضرورت اس بات کی ہے اس پوشیدہ صلاحیتوں کا صحیح استعمال کیا جائے، ایسے کالج کے قیام کی سخت ضرورت ہے جہاں مدارس کے طلباء بھی جدید تعلیم حاصل کریں، برائے کرم مدارس کو مدارس ہی رہنے دیں، سو فیصد مدارس اسلامیہ اپنے مشن میں کامیاب ہیں، اغیار کے زہریلے بول کو سمجھو، انہیں مدارس اسلامیہ کے طلباء کے روشن مستقبل کی بالکل فکر نہیں، وہ تمہارے مدارس کو اس کی اصلی شکل سے ہٹاکر کالج کی شکل دینا چاہتے ہیں، انہیں یہ نہیں پسند کہ دین کے ماہر علماء پیدا ہوں، اگر مسلم نوجوانوں کی فکر ہوتی تو مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو تعلیم سے دور ہے، ان کے لئے کوئی اہم کوشش کرتے، مدارس سے ایم بی بی ایس ڈاکٹر نکلنا تو الحمد للہ شروع ہوگئے، قوم اگر عقل مندی و دانش مندی کا ثبوت دے، اور پوشیدہ صلاحیتوں کو صحیح رخ کی طرف پھیرا جائے تو یہ شکوہ بھی مدارس سے دور ھوجائے گا کہ جدید تعلیم میں مدارس اسلامیہ کے طلباء ماہر نہیں، میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں عصری درسگاہوں کے طلباء اور مدارس کے طلباء کا اگر ذہنی موازنہ کیا جائے، تو مدارس کے طلباء فائق ہوں گے، اللہ سے یہی دعا ہے قوم مسلم کو صحیح سمجھ دے آمیـــــن.

جین پور: پاری پٹی گاؤں میں شرپسندوں نے ڈیه مجسمہ کو توڑا، مچی افراتفری!

رپورٹ: عبدالکافی چشتی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جین پور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 22/جنوری 2018) جين پور کوتوالی علاقے کے پاری پٹی گاؤں میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور دو فرقوں کو آپس میں لڑانے کے مقصد سے شرپسندوں نے گاؤں میں واقع ڈيه کے مجسمہ کو رات میں توڑ دیا، اتنا ہی نہیں بلکہ چہار دیواری کے اندر خلاء بھی کر دیا، جس سے گاؤں میں حالات کشیدہ بن گئی اور موقع پر دیہاتیوں کی بھیڑ لگ گئی.
 واقعہ کی اطلاع ڈائل 100 پولیس کو دی گئی، اطلاع ملنے کے كچھ دیر بعد ہی موقع پر ڈائل 100، جين پور کوتوالی، CO سگڑی پہنچ گئے، اور پوچھ گچھ شروع کر تحقیقات میں لگ گئے، موقع کا معائنہ کر فوری مورتی کو بنوایا گیا، پولیس نے دیہاتیوں کو سمجھاتے ہوئے تحقیقات کر قصورواروں کے خلاف کارروائی یقین دہانی کرائی.

عمرہ پیکج 15 دنوں کیلئے خصوصی رعایت، رابطہ ضرور کریں!

رپورٹ: عبید الرحمٰن الحسینی
ــــــــــــــــــــــــــــ
آنند نگر/مہراج گنج(آئی این اے نیوز 22/جنوری 2018) اب حج و عمرہ کرنا ہوا مزید آسان اور کم قیمت پر الفا فلائی سروسیس پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب  سے حج و عمرہ زیارات کے تحت انتہائی فرحت و مسرت و شادمانی کے ساتھ یہ اطلاع عمومی طور پر تمام ہی حضرات کیلئے اور خصوصی طور پر یوپی والوں کے لیے بہت ہی شاندار اور دھماکے دار آفر صرف 50,000 میں الفا فلائی سرویسس پرائویٹ لمیٹڈ لیکر آیا ہے آپ حضرات کی خدمت میں، جس میں تمام تر سہولیات کے ساتھ تجربہ کار معلمین کی نگرانی میں عمرہ و حج ادا کرایا جائے گا.
پروپرائٹر: حافظ شمس الہدی قاسمی
الفا فلائی سرویسس پرائویٹ لمیٹڈ آنند نگر مہراج گنج یوپی
                   رابطہ نمبر
             919919831111+
             919838761536+
Email: alfaflyaservices@gmail.com
 حافظ عبیدالرحمن الحسینی
 سعودی عرب
               966535132774+
       Email;  obaidr388@gmail.com
فروری اور مارچ کیلئے ابھی بک کرائیں صرف 50,000 میں.
☆ عمرہ ویزہ
☆ لکھنؤ سے جدا جانے آنے کیلئے جہاز کا ٹکٹ
☆ مکہ و مدینہ کی زیارتیں
☆ مکہ و مدینہ کا سفر اے سی بس میں
☆ مکہ میں ہوٹل 1100 میٹر دوری پر
☆ مدینہ میں 400 میٹر دوری پر
☆ ناشتے و کھانے کا معقول انتظام
☆ زمزم 5 لیٹر بطور تحفہ

مبارکپور: پیراماؤنڈ ایجوکیشنل سینٹر کی جانب سے 70 ٹاپر طلبہ کو دیا گیا انعام!

رپورٹ: جاوید حسن انصاری
ــــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 22/جنوری 2018) ریشم نگری مبارکپور محلہ پورہ سوفی (قریب بھونو قریشی) واقع مشہور كوچنگ سینٹر پیراماؤنڈ ایجوکیشنل کے مینیجر/ڈائریکٹر ماسٹر نظر عالم انصاری صاحب کی طرف سے تعلیم کو فروغ دینے کے مقصد سے علاقے کے طلبہ میں پیراماؤنڈ اولمپياڈ 2017 گذشتہ 31 دسمبر 2018 کو انصار گرلس انٹر کالج مبارکپور میں مقابلہ منعقد ہوا تھا، جس میں کل 600 طلبہ نے حصہ لیا تھا جس میں 70 طلبہ نے ٹاپ کیا.
انہیں ٹاپر طلبہ، طالبات کو انعامات کے طور پر نقد روپے 21 جنوری 2018 بروز اتوار کو محلہ پورہ سوفی (قریب بھونو قریشی) میں پیراماؤنڈ کوچنگ سینٹر ایجوکیشنل کے مینیجر / ڈائریکٹر ماسٹر نظر عالم انصاری صاحب کی قیادت میں تقسیم کیا گیا،  جس میں ٹاپر طلبہ کو نقد 1400 سے لے کر 800 روپے کے ساتھ ہی سرٹیفکیٹ اور انعامات سے نوازا گیا.
پروگرام کے مہمان خصوصی رہے شبلی نیشنل کالج اعظم گڑھ کے ڈاکٹر عمران عزیز، شبلی کالج کے  نومنتحب طلبہ یونین صدر قمر کمال، عبداللہ پبلک اسکول پورہ سوفی کے مینیجر ضمیر احمد انصاری، هلال احمد، طالب علم رہنما محمد عادل ، علیم رضوان، طالب علم رہنما محمد اظہر الدین انصاری سونو، نوجوان سماجی کارکن جمشید عالم انصاری گڈو، محمد یاسر، انوار الحق کیفے، مجتبی حسن انصاری منا، بياپار منڈل کے صدر حاجی پرویز اختر نعمانی، ماسٹر عرفان عليگ، ​​بدھیہ رام پرجاپتی، راجیش، رام پرویش سمیت درجنوں ذمہ داروں نے شرکت کی،
پروگرام میں تمام 70 طلباء کو نقد  انعام دیا گیا.
اس موقع پر مہمان خصوصی ڈاکٹر عمران عزیز نے اپنے خطاب میں کہاکہ پہلے تو اس پروگرام منعقد کرنے والے "پیراماؤنڈ کوچنگ سینٹر" کے ڈائریکٹر ماسٹر نظر عالم انصاری صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اتنا شاندار پروگرام کرایا ہے، انہوں نے کہاکہ مقابلہ منعقد کرنے سے  600 طلبہ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت سامنے نظر آئی.
آخر میں پیراماؤنڈ ایجوکیشنل کوچنگ سینٹر محلہ پورہ سوفی کے ڈائریکٹر اور مینیجر ماسٹر نظر عالم انصاری صاحب نے آئے ہوئے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ مجھے خوشی ہو رہی ہےکہ آج طلبہ و طالبات کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت اجاگر ہوئی اور 70 طلباء اس مقابلے میں ٹاپر رہے جو مبارکباد کے مستحق ہیں انہوں نے اعلان کیا کہ جو بچے کمزور اور غریب ہیں وہ کوچنگ سینٹر میں آکر چار ماہ مفت میں کوچنگ کر سکتے ہیں، انہوں نے کہاکہ اگلی بار ان شاء اللہ اس سے بھی بڑا اور شاندار مقابلہ ہوگا.
اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں پیراماؤنڈ کوچنگ سینٹر کے ٹیچر گن نے کافی محنت کی، جس میں بنیادی طور پر سونو موریا، عمار جمال، مس مونیکا، عقیل احمد، مجتبی حسن انصاری عرف منا، معظم، شیام سندر، تابش علی، احمد رضا، مہاویر پرساد، سنتوش موریا وغیرہ شریک رہے.