اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Tuesday, 3 April 2018

امام تجھے لاکھوں سلام !

عبدالرّحمٰن الخبیر قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رام نوی کے موقع پر اس سال بھیانک فساد بھڑک اٹھا جس سے پورا ملک جل اٹھا لیکن بنگال اور بہار کو اس فساد نے شعلہ جوالہ بنا دیا نفرت کی آگ نے سینکڑوں دکانوں کو خاکستر کردیا اور کئی معصوموں کو خون میں تڑپا دیا سب سے خطرناک آگ بنگال کے شہر آسنسول میں لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں کی زمین چار لوگوں کے خون سے لالہ زار ھو گئی ان میں ایک جواں سال لڑکا صبغت اللہ  رشیدی بھی تھا جس کو ظالموں نے بڑی بیدردی سے قتل کیا سر کو تن سے جدا کیا اور پھر ناخن بھی کھینچ لئے صبغت اللہ  کے والد امداد اللہ  رشیدی ایک مسجد کے امام ھیں لاش کی بے حرمتی کو دیکھ کر مسلمانوں کا جوش انتقام بھڑک اٹھا اور خون کا بدلہ لینے کیلئے بڑی تعداد میں عیدگاہ میں جمع ھو گئے قریب تھا کہ آسنسول میں خون کی ندیاں بہہ جاتیں تلواریں نیام سے باہر آگئیں اور نوجوان سر میں کفن باندھ کر میدان کارزار میں کود پڑے حالت کو بارود کے ڈھیر پر دیکھ ضلع انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ان کی سمجھ میں نہیں آرھا تھا کہ وہ اسکو آگ بجھانے کیلئے کیا کرے کہ اچانک مقتول کے والد بھیڑ کے سامنے نمودار ھوتے ھیں اور کچھ یوں مخاطب ھوتے ھیں :میرے بھائیو اور دوستو مجھے معلوم ھے کہ میرا بیٹا اس دنیا سے جا چکا ھے اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گا اس نے اپنی حیات مستعار کے مقررہ دن پورے کر لئے اس لئے اسے رب نے اپنے پاس بلا لیا میں اسکے فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ھوں اور آپ لوگوں سے اپنی عزت واحترام کا واسطہ دے کر التجاء کرتاھوں کہ آپ شہر کے امن وسکون کو غارت نہ کریں ورنہ میں اس شہر کو ھمیشہ کیلئے چھوڑ کر چلا جاؤں گا سوز ودرد میں ڈوبی ھوئی ان کی اپیل کا ایسا اثر ھواکہ پورا مجمع سناٹے میں آگیا لوگوں نے غایت ادب کے ساتھ ان کی صدا پر لبیک کہا اور خاموشی کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹ گئے یہ منظر دیکھ کر ضلع انتظامیہ کے افسران ہکا بکا ھو گئے انہیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ مودی کے راج میں نفرت کے ماحول میں کوئی ایسا انسان بھی ھمارے درمیان موجود ھے جس کی آنکھوں کے سامنے اسکی امیدوں کے چراغ کو درندگی کے ساتھ بجھا دیا گیا اور معصوم کلی کو پوری سفاکیت کے ساتھ مسل دیا گیا۔۔۔لیکن اسکی زبان پر حرف شکایت تک نہیں ۔۔۔بلکہ الٹا دوسروں کو امن وشانتی کی تلقین کر رھا ھے ۔۔۔یہ منظر بڑا ھی رقت آمیز تھا جس نے سب کو آبدیدہ کردیا ملک بھر کے میڈیا نے اس خبر کو ہیڈلائن کے ساتھ نشر کیا اور نفرت کی سیاست کرنے والے لیڈروں کو اس سے سبق لینے کی اپیل کی ۔۔۔ٹی وی چینلس نے اسے نفرت کے ماحول میں امید کی کرن سے تعبیر کیا۔۔لیکن لاکھ ٹکے کا سوال یہ ھے کہ کیا ھمارے لیڈران اس سے نصیحت لیں گے یا اپنی ہٹ دھرمی دریدہ دہنی کے ساتھ نفرت کے پجاریوں کو پناہ دیتےرھیں  گے  ؟؟ظالموں کو کیفر کردار تک پہونچانے کے بجائے اس کی پشت پناھی کر تے رھیں گے؟؟ یہ سوال آج گری راج اور اشونی چوبے سے بھی ھے اور ضمیر فروش نتیش کمار سے بھی ۔۔مودی سے بھی ھے اور یوگی سے بھی ۔۔۔سادھوی پراچی سے بھی ھے اور سنگیت سوم سے بھی ۔۔۔یہ سوال ہمیشہ قائم رھے گا لیکن دیکھنے والی بات یہ ھے کہ  کیا امام کی اپیل کسی کے ضمیر کو جھنجھوڑنے میں کامیاب ھوتی ھے یا نہیں؟۔

مبارکپور: مظاہرین نے جلوس کے دوران بی جے پی لیڈر پر بولا حملہ، توڑے گاڑی کے شیشے!

مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 3/اپریل 2018) مبارکپور قصبے میں دلت سماج کے لوگوں نے Sc/St قانون میں ترمیم کئے جانے کی مخالفت میں ہزاروں کی تعداد میں دلت سماج کے لوگوں نے جلوس نکال کر ناراضگی کا اظہار کیا، دھرنا کے لئے ارد گرد کے علاقوں سے دلت سماج کے ہزاروں لوگ تھانہ کے پاس واقع روی داس مندر پر متحد ہوکر جلوس قصبہ سمیت دیہی علاقے املو، نوادہ، حسین آباد، لوہیا، چكيا وغیرہ گاؤں سے ہوتے ہوئے روڈویز چوراہے پر پہنچ کر روڈ جام کر دیا جس سے نصف گھنٹہ لوگوں کو آنے جانے میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا،
یہ جلوس پھر روی داس مندر پہنچ کر پروگرام میں تبدیل ہوگیا، جس میں بھاشن کرتے ہوئے کہا گیا کہ Sc/St قانون میں ترمیم سے دلتوں کو ہراساں بڑھے گا حکومت فوری طور پر اپنے فیصلے کو واپس لے.
اس قانون کو لے کر مظاہرین نے بی جے پی اقلیتی انچارج آفتاب مرزا بیٹے وھاب الدين کی گاڑی پر اینٹ اور پتھر پھینکے.
واضح ہو کہ Sc/St قانون کی مخالفت کر رہے دلت سماج کے لوگوں کی طرف سے پیر کو دھرنا کارکردگی کے دوران محمد آباد گوہنہ سے مبارکپور ہوتے ہوئے رانی سرائے اپنے گھر جارہے بھاجپا اقلیتی انچارج آفتاب مرزا بیٹے وهاب الدين کی گاڑی پر اینٹ اور پتھر پھینکے گئے جس سے ڈرائیور ریاض احمد بیٹے افضل احمد کو چوٹ آئی، آفتاب مرزا نے مبارکپور تھانہ پہنچ کر نامعلوم افراد کے خلاف تحریر دیا ہے.
آفتاب مرزا نے اپنی تحریر میں بتایا کہ جیسے ہی میری گاڑی تھانہ مبارکپور پہنچی اسی وقت مظاہرہ کر رہے لوگوں نے گاڑی پر اینٹ پتھر سے حملہ کر دیا گاڑی سے نکل کر کسی طرح اپنی جان بچائی.

Monday, 2 April 2018

دارالعلوم دیوبند امن وشانتی کا علمبردار!

فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہندوستان کا ہر شہری اس کا مذہب کچھ بھی ہو، دارالعلوم دیوبند کے احسانات کے تلے دباہوا ہے، دارالعلوم دیوبند صرف ایک مدرسہ کا نام نہیں  ہے، بلکہ ایک تحریک کانام ہے جو ہمیشہ انسانیت اور بھائی چارہ کو عام کرنے اور ظالموں کے خلاف کمربند رہتی ہے، دارالعلوم دیوبند کے سپوتوں نے ہی آزادی کے لئے اپنا تن من قربان کیا اور وطن عزیز ہندوستان کے لئے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا، اور ملک ہندوستان کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرایا، ہندوستان کا ہر باشندہ آزادی کے ساتھ آزاد ہندوستان میں سانس لے رہا ہے، ہماری ہر سانس میں دارالعلوم دیوبند کا احسان شامل ہے، ہم کو دارالعلوم دیوبند سے ہمیشہ امن و شانتی کا پیغام ملا، دارالعلوم دیوبند ہمیں ملک سے تئیں وفاداری کی تعلیم دیتا ہے، دارالعلوم دیوبند کے سپوتوں نے ملک کے لئے اپنی جانوں کو نچھاور کرکے ثابت کردیا، کہ دارالعلوم وطن دوست ادارہ ہے.
 دہشت گردی ظلم و زیادتی جبر وتشدد ان چیزوں سے دارالعلوم دیوبند پاک صاف ہے، اس کی وجہ یہ ہے دارالعلوم دیوبند اسلام کی صحیح تصویر پیش کرتا ہے، پوری دنیا میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی صحیح ترجمانی کرتا ہے، اسلام میں ظلم و جبر ناحق خون بہانا، زمین میں فساد برپا کرنا ان چیزوں کی قطعاً اجازت نہیں، اسلام ان چیزوں کو بدترین گناہ قرار دیتا ہے، ایسے شخص کو جو زمین میں فساد برپا کرے ایسے شخص کو اللہ پسند نہیں کرتا، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسے شخص کے بارے میں سخت وعید ہے، اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے والا ادارہ دارالعلوم دیوبند اسلام کے خلاف تعلیم کی کبھی تبلیغ واشاعت نہیں کرسکتا، دارالعلوم دیوبند ملک کے ماحول کو خراب نہیں بلکہ ملک کے ماحول کو سازگار بناتا ہے، ملک میں امن و شانتی قائم کرنے میں اہم کردار کرتا ہے، دارالعلوم دیوبند پر اس طرح کا الزام عائد کرنا اس روئے زمین پر بدترین ظلم ہے.
 دارالعلوم دیوبند تو دہشت گردی کے ہمیشہ سے خلاف رہا ہے، اور دہشت گردی کے خلاف فتوی بھی دیا، اور دہشت گردی کے خلاف دیوبند میں ہندوستان میں سے سب سے بڑی کانفرنس ہوئی، دارالعلوم دیوبند وہ ادارہ ہے جس کے فضلاء ملک کے کونے کونے میں بھائی چارہ کو قائم کئے ہیں، اور مسلمانوں کو ملک سے محبت اور وفاداری کی تعلیم دے رہے ہیں، ملک کی کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں اس وطن دوست ادارہ دارالعلوم دیوبند کے فارغین نہ ہوں، جب یہ بات ثابت ہوگئی اسلام سراپا امن کا مذہب ہے، انسانوں ہی نہیں، جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا ہے، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوڑا ڈالنی بوڑھی عورت کے ساتھ بھی حسن سلوک کا معاملہ کیا، ہمیں تو ہمارے نبی نے دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک کاحکم دیا، ہمارا اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے گھر میں کوئی عمدہ کھانا پکاؤ تو پڑوسی کو بھی دو، صحابی رسول حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل کہ حضرت کے یہاں کوئی عمدہ کھانا بنتا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ گھر والوں سے کہتے کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کو ہدیہ کیا، ہمارا اسلام یہ تعلیم دیتا ہے، کہ پڑوسی ہندو ہو یا سکھ ہو عیسائی ہو سب کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، اسلام تو ہمیں امن وشانتی کی تعلیم دیتا ہے، جب اسلام امن وشانتی کا علمبردار ہے، تو اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے والا وطن دوست ادارہ دارالعلوم بھی امن وشانتی کا علمبردار ہے، دارالعلوم دیوبند پر ملک کی فضا کو خراب کرنے کا الزام بے بنیاد اور حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، اس بیہودہ بیان سے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچی ہے.
 دارالعلوم دیوبند یہ وہی ادارہ ہے جس مدرسہ کے بانیین شاملی کے میدان میں ملک کی آزادی کے لئے انگریزوں سے جنگ لڑی، جی ہاں دارالعلوم دیوبند وہی ہے جس مدرسہ کے سرپرست ثانی امام ربانی مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کو ملک کی آزادی کے لئے چھ مہینہ مظفر نگر جیل میں رہنا پڑا، اس ادارہ کے بانی حجہ الاسلام مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ پر انگریزوں کی طرف سے گرفتاری کاوارنٹ جاری ہوا.
جس دارالعلوم دیوبند کی ملک ہندوستان کے لئے اس طرح عظیم الشان قربانی ہو، اس وطن دوست ادارہ پر بیہودہ قسم کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، دارالعلوم دیوبند نے ہمیں آزادی اور ایمان کی دولت سے نوازا، دارالعلوم دیوبند ہم مسلمانوں کا دھڑکتا ہوا دل ہے، اس بیہودہ قسم کے بیان سے ہمیں سخت تکلیف ہوئی ہے، جس شخص کی وجہ کروڑوں مسلمانوں کا دل دکھا ہو، یقینا ایسے لوگوں پر قدغن لگے، بیہودہ گوئی کرنے والوں پر انتظامیہ لگام کسے، دارالعلوم دیوبند ہمارا مرکز ہے، دارالعلوم دیوبند ہمارے لئے آئیڈیل اور نمونہ ہے، دارالعلوم دیوبند ملک سے محبت، امن وشانتی بھائی چارہ کی تعلیم دیتاہ ہے، دارالعلوم دیوبند ام المدارس یعنی تمام مدارس کی ماں ہے، ہندوستان کے تمام مدارس دارالعلوم دیوبند کے اس مشن کو عام کرتے ہیں، تمام مدارس امن وشانتی کی تعلیم دیتے ہیں، کچھ لوگ اپنے ذاتی مفاد کے لئے اس طرح کے بیہودہ بیانات دیتے ہیں، دارالعلوم دیوبند پر کسی قسم کے تبصرہ سے پہلے اس کی تاریخ سے واقفیت ضروری ہے، اللہ کی ذات سے یہی امید ہیے مادر علمی دارالعلوم دیوبند کو یوں ہی پھلتا پھولتا رکھے، چمگادڑ کے سورج پر ملامت کرنے سے سورج کی روشنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا، اللہ تعالی مادر علمی دارالعلوم دیوبند کی تمام شرور و فتن سے حفاظت فرمائے. آمین
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا.....

دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس میں کثیر تعداد میں لوگ ہوں گے شریک:محمد صدرعالم نعمانی

محمد ارمان علی
ـــــــــــــــــــــ
سیتامڑھی(آئی این اے نیوز 2/اپریل 2018) جمعیت علماء ضلع سیتامڑھی کے صدر و رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم، ضلع سیتامڑھی کےجنرل سکریٹری مولانا محمد صدرعالم نعمانی نے کہاکہ امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ، پھلواری شریف، پٹنہ کے زیراہتمام 15اپریل 2018 کو پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں منعقد ہونے والے "دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس" میں سیتامڑھی ضلع سے بھی کثیر تعداد میں مسلمان شریک ہونگے، انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں مرکزی حکومت شریعت اسلامی میں مداخلت کرنا چاہ رہی ہے جسے مسلمان کَبھی برداشت نہیں کریگا.
حضرت مولانا محمد ولی رحمانی امیر شریعت بہار اڑیسہ وجھاڑکھنڈ نے دین ودیش بچانے کی خاطر مسلمانوں سے ایک دن کا وقت دینے کی اپیل کی ہے، حضرت امیر شریعت کی اپیل پر ضلع کے مسلمان لبیک کہتے ہوئے کثیر تعداد میں کانفرنس میں شریک ہوکر اپنی دینی حمیت کا ثبوت پیش کریں گے.
واضح ہو کہ ضلع میں کانفرنس کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں جگہ بہ جگہ میٹنگ ہورہی ہے، لوگوں میں کانفرنس میں شرکت کرنے کے تئیں جوش وجزبہ ہے انہوں نے  مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ 15/اپریل کو اپنی تمام تر مصروفیات کو درکنار کرتے ہوئے دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس میں شریک ہوکر ملی اتحاد اور شریعت محمدی سے اپنی محبت کاثبوت پیش کریں، اور کانفرنس کو کامیاب بناکر مرکزی حکومت کو مجبور کر دیں کے وہ شریعت محمدی میں مداخلت سے باز آجائے.

ہنومان جینتی کے موقع پر ہندو رکچھا دل نے نکالی ریلی، لونی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا انعقاد، نازیبا الفاظ بھی کئے گئے استعمال!

 کہیں لونی کو فساد میں جھوکنے کی سازش تو نہیں؟

لونی/غازی آباد (آئی این اے نیوز 2/اپریل) آج لونی میں ہندو رکچھا دل کی جانب سے ایک ریلی نکالی گئی جسمیں پانچ تنظیموں (ہندو رکچھادل، ہندو یوا واہنی، بجرنگ دل وشو ہندو پریشد، آرایس ایس) نے شرکت کی جو لونی تراہے سے شروع ہوکر پاوی صادق پور میں ختم ہوا.
 ہم آپ کو بتادے کہ حال ہی میں بہار بنگال میں ہوئے فسادات میں ایک امام صاحب کے لڑکے کو جس طرح سے شہید کیا گیا اور امام صاحب نے جس ہمت وجواں مردی کیساتھ امن وشانتی کا پیغام دیا وہ قابل مبارکباد ہے، اسی طرح آج ہندو رکچھادل نے بھگوا جھنڈا لہرایا اور بائک پر تین سے چار آدمی سوار ہوکر جے شری رام کے ساتھ وندے ماترم اور ہندوستان میں رہنا ہوگا وندے ماترم کہنا ہوگا جیسے نعرے بازی بھی کی، اس طریقے سے لگتاہیکہ کہیں لونی کو فساد میں جھوکنے کی سازش تو نہیں ہورہی ہے، اگر حکومت نے ان لوگوں پر نظر نہیں رکھی تو یہ بھی فساد کی آگ میں جھلس سکتا ہے.
 آل انڈیا تحریک عوام ہند کے قومی صدر مولانا عارف سراج نعمانی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سرپسند عناصر پر نظر رکھنے کی مانگ کی.

جمعیۃ علماء ھند باغپت کے زیر اہتمام دینی تعلیمی بیداری عشرہ کا آغاز، علماء کرام نے کیا خطاب!

محمد دلشاد قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــ
کھیکھڑہ/باغپت(آئی این اے نیوز 2/اپریل 2018) ضلع باغپت کی تحصیل کھیکھڑہ کی نور مسجد میں جمعیۃ علماء ھند باغپت کی ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت مفتی محمد شمیم صاحب نے فرمائی اور نظامت کے فرائض حافظ محمد نسیم صاحب خادم ادارہ ناصر الامت کھیکھڑہ نے انجام دیے.
جمعیۃ علماء ھند کے زیر اہتمام چلنے والے دینی تعلیمی بورڈ کے ذریعے منائے جارہے دینی تعلیمی بیداری عشرہ کا آغاز کیا گیا جس میں علماء کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بغیر تعلیم کے نہ ہی اللہ کو پہنچانا جاسکتا ھے اور نہ دین کو جانا جاسکتا ہے، اور نہ ہی زندگی کے کسی میدان میں ترقی پائی جاسکتی ہے، اس لیے ہر حال میں اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے روشناس کرائے اور ہر بستی میں دینی تعلیمی تعلیمی بورڈ کا قیام عمل میں لایا جائے، تاکہ مسلم کا قوم کا ایک بھی بچہ دینی تعلیم سے محروم نہ رہ سکے ،مجلس کو مفتی محمد سرتاج صاحب مولانا محمد عمران صاحب اور دیگر علماء نے خطاب کیا. اس موقع پر جمعیۃ علماء ھند ضلع باغپت کے تمام عہدہ داران اور آس پاس کے ائمہ کرام نے شرکت کی.

سرائے میر: قاسمی کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ کا سالانہ پروگرام تاریخ کا سفر تیاریاں شباب پر، 5 اپریل کو ہوگا منعقد!

محمد انظر اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــ
سرائے میر/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 2/اپریل 2018) قاسمی کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ کا سالانہ پروگرام بعنوان "تاریخ کا سفر" کی تیاری کے سلسلے میں پروگرام کنوینر انظر اعظمی کیساتھ محمد مذکر، سیف الاسلام اعظمی، محمد دانش اعظمی پر مشتمل ایک وفد نے اعظم گڈھ و اطراف کا دروہ کیا، چھاؤں میں توقیر اعظمی عرف اچھو بھائی سے ملاقات کر پروگرام کے سلسلے میں بات چیت کرتے ہوۓ انھوں نے کہا پروگرام بہت عمدہ ہے میں پوری کوشش کروں گا اس میں شریک ہوں، نظام آباد کے ممبر اسمبلی عالم بدیع اعظمی سے ان کے گھر پر ملاقات کی تاریخی پروگرام کی بات چیت کے بعد انہوں نے کہا کی انشاء اللہ پروگرام میں شرکت کریں گے.
واضح ہوکہ تاریخ کا سفر پروگرام 5 اپریل کو بعد نماز عشاء متصلا یونس ٹی اسٹال گراؤنڈ میں منعقد ہوگا جس میں طلبہ مدرسة الاصلاح مدرسہ بیت فیض العلوم کی تاریخ اردو میں جب کہ سرزمین اعظم گڈھ کی تاریخ ہندی میں پیش کریں گے اور ہر تاریخ کے بعد اسی پیش کردہ تاریخ سے کوئز بھی پیش کی جاۓ گی اور ایک مزاحیہ پروگرام "چھوٹے ہیں پر کسی سے کم نہیں" جس میں دکھایا جاۓ گا کی تعلیم کے بغیر ترقی ناممکن ہے.
منجیر محمد فیصل اعظمی نے بتایا کی طلبہ اپنے آفیشیل سافٹ ویر سے اس پروگرام کو مرتب کرکے پیش کرنے جارھے ہیں میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوکر اس تاریخی پروگرام کو کامیاب بنائیں.

Sunday, 1 April 2018

اپریل فول گناہ کا مجموعہ اور جھوٹ کا عالمی دن ہونے کیساتھ انتہائی نقصان دہ عمل ہے، اس فضول اور قبیح عمل کا بائیکاٹ کریں!

تحریر: قاری عطاءالرحمان بلہروی
ـــــــــــــــــــــــــــــ
مذہب اسلام ایک ایسا جامع اور ہمہ گیر مذہب حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کی ہمہ وقت رہنمائی کرتا ہے اور جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے کسی انسان کو بھی تکلیف پہونچانے کی اسلام میں کوئی اجازت نہی ہے محمد عربی نے ارشاد فرمایا کہ اصل مسلمان وہ ہے جسکے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں بعض لوگ  یکم اپریل کو اپریل فول منا کر دوسروں کو بیوقوف بناتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں   اپریل فول چاہے نئے سال یا مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کے یادگار کے طور پر منایا جاتا ہو یہ بنیادی طور پر ایک  انتہائی قبیح اور نقصاندہ عمل ہے
اپریل فول جھوٹ کا عالمی دن ہے اس دن لوگ ایک دوسرے کو بیوقوف بناتے ہیں بعض مرتبہ یہ بیوقوف بنانا انتہائی سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے کہب لوگوں کو جسمانی نقصان بھی پہونچتا ہے اور لوگ  جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کسی کو کسی عزیز کے انتقال کی خبر سنائی جاتی ہے کسی کو ایکسیڈنٹ کا کہہ دیا جاتا ہے کسی سے رقم لے لی جاتی ہے فائر بریگیڈ کے عملے کو فون کرکے آگ لگنے کی جھوٹی خبر سنائی جاتی ہے تو کہیں ایمبولینس کو فون کرکے غلط حادثے کی خبر دی جاتی ہے اگر بات کی جائے تو بیٹے اور کسی عزیز کے انتقال  کی اچانک خبر سنکر ہاٹ اٹیک میں مبتلا ہو کر جان جان آفریں کے سپرد کردیتا ہے بالخصوص فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کو غلط فون کرنے کے سبب سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ بار بار فون کرکے جھوٹ سے لوگ تنگ کر رہے ہیں تو پھر وہ واقعی کہیں کوئی حادثہ ہوجائے کہیں کوئی واردات ہوجائے آگ لگ جائے تو متعلقہ ادارے اسکو بھی جھوٹ سمجھ کر فوری کارروائی نہیں کرتے جسکے سبب کسی کے جھوٹے مذاق سے کئی خاندانوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے.
اسلئے میری ان تمام افراد سے گذارش ہیکہ جو اپریل فول مناتے ہیں وہ لوگ غیر ذمہ دارانہ حرکت نہ کریں اور اسکی  قباحت اور نقصان کو سمجھتے ہوئے اسکا مکمل بائیکاٹ کریں اور سنجیدہ رویہ اپنائیں اسلامی تعلیمات کو دل سے لگائیں اور یہ جان لیں کہ مومن سچائی کا دوسرا نام ہے.
اللہ ہم سب کی اس قبیح رسم سے حفاظت فرمائے دین اسلام کے مطابق عمل کی توفیق عنایت فرمائے آمین 

مدرسہ اسلامیہ انوارالاسلام میں شعبہ پرائمری کے امتحان مکمل، تقسیم رزلٹ کی تقریب کا انعقاد!

محمد دلشاد قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــ
روشنگڑھ/باغپت(آئی این اے نیوز یکم اپریل 2018) باغپت کے موضع روشن گڑھ کے مدرسہ اسلامیہ انوارالاسلام میں شعبہ پرائمری کے امتحان ختم ہونے کے بعد تقسیم رزلٹ کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں مدرسہ کے اندر عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو رزلٹ دیئے گئے.
مدرسہ ھذا ناظم اعلی مفتی محمد دلشاد قاسمی نے بتایا کہ اس مدرسہ میں حالات کے پیش نظر دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا بھی بندوبست ہے، جس کے سالانہ امتحان کرانے کے بعد طلبہ و طالبات کو رزلٹ دیا گیا، ساتھ ہی ہر کلاس میں اول دوم سوم پوزیش حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا کہ ان بچوں کو انعامی اجلاس میں مدرسہ کی جانب سے گراں قدر انعامات سے بھی نوازا جائے گا.
آپ کو بتادیں کہ ابھی مدرسہ ھٰذا کے شعبہ حفظ و ناظرہ کے امتحان باقی ہے، جو کہ 4 مئی کو امتحان منعقد کرائے جائے گیں، اور پھر 6 مئی کو انعامی اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا.
واضح ہو کہ عصری تعلیم میں کلاس 8 میں محمد سالم نے اول پوزیشن اور دوم پوزیشن شبنم خاتون اور سوم پوزیشن ثناء خاتون نے حاصل کیا جب کہ کلاس 7 میں اول پوزیشن محمد ثمیر دوم پوزیشن صفیہ خاتون سوم پوزیشن محمد نسیم نے حاصل کی، بہر حال ہر کلاس میں تین طلبہ و طالبات نے پوزیشن حاصل کی ہے، جن کو انعامی اجلاس میں انعامات دیے جائے گے.
اس موقع پر صدر منشی اسرائیل نائب صدر، کلو چوکیدار، حافظ عبد القیوم، ماسٹر محمد شعیب وغیرہ موجود رہے.

مسلمان اپنے کو معمولی نہ سمجھیں، بلکہ سنت رسول اللہ پر عمل کرتے ہوئے انسانیت کو زندہ کریں، کامیابی قدم چومے گی: مولانا سید صہیب حسینی ندوی

عطاءالرحمان
ـــــــــــــــــــــ
ہردوئی(آئی این اے نیوز یکم اپریل 2018) ساری عزت اللہ نے اپنے دین میں رکھی ہے اسلئے مسلمان اپنے کو معمولی نہ سمجھیں اور نہ مایوسی کا شکار ہوں بلکہ سنت رسول پر عمل کریں اور انسانیت کو زندہ کریں کامیابی قدم چومے گی، مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا سید صہیب حسینی ندوی استاد تفسیر دارالعلوم ندوةالعلماء لکھنو نے ضلع ہردوئی کے بھدیورا کے عیدگاہ کے میدان میں سیرت النبی ﷺ کا پیغام انسانیت کے نام سے منعقد جلسہ سے بطور صدر خطاب کیا.
جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے مولانا فخرالحسن ندوی ناظر شعبہ تعمیر و ترقی ندوةالعلماء نے کہا کہ ہم سنت نبوی کے ساتھ زندگی بسر کریں اور اپنی نسلوں کو اسلامی شان و شوکت کیساتھ لیکر چلنے کی فکر کریں.
دارالعلوم ندوةالعلماء کے شعبہ دعوت و ارشاد کے مبلغ مولانا آفتاب عالم ندوی خیرآبادی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ نے موت اور زندگی اسلئے بنائی ہے تاکہ اللہ دیکھے کہ ہم کس طریقے کے مطابق چلتے ہیں اور کس طریقے کے مطابق چل کر فخر محسوس کرتے ہیں اسلئے مسلمانوں کو چاہیئے کہ توحید خالص کو سینے میں جگہ دیں اور محمد عربی ﷺ کے نقش قدم پر چلیں ۔
مولانا آفتاب عالم ندوی خیرآبادی نے مزید کہا کہ ہمارا کوئی بھی معاملہ ہو تجارت زراعت کا معاملہ ہو یا گھریلو مسائل ہوں یا باپ کا ترکہ تقسیم ہورہا ہو یا میراث تقسیم ہورہی ہو ہم ان سارے معاملات کو دین اسلام کی روشنی میں ہی حل کریں،مولانا ندوی نے کہا کہ مال کا مالک اللہ ہے ہم  اسکو اسکے بندوں پر خرچ کریں گے اللہ اضافہ فرماتا رہے گا، تعلیم کے سلسلے میں کہا کہ سب سے پہلے ہم اپنے بچوں کو دین کی بنیادی تعلیم سے روشناس کرائیں یہ والدین کی ذمہ داری ہے اسکے بعد کسی اور علوم کی جانب بڑھیں اور اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، سائنٹسٹ بنائیں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے.
جلسہ کی نظامت مولانا محمد انس ندوی نے کی اس موقع پر علماء طلباء سمیت کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی.

اپریل فول: تاریخ و تعارف اسلامی نقطہ نظر سے!

تحریر: قیام الحق متعلم دارالعلوم وقف دیوبند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اسلام ایک آفاقی مذہب ہے اس نے زندگی کے تمام شعبہ جات کے لئے اپنے ماننے والوں کو عمدہ اصول قوانین دیئے ہیں،اخلاقی زندگی ہو یا سیاسی،سماجی ہو یا اجتماعی اور معاشرتی ہر قسم کی زندگی کے تمام شعبوں کے لئے اسلام کی جامع ہدایات و فرمودات موجود ہیں-اور اسی میں ہماری دنیوی و اخروی فلاح مضمر ہے-
مگر افسوس کہ آج ہمیں یورپ اور یہودی و نصاری کی تقلید میں مزہ آتا ہے اور دل کو سکون ملتا ہے،اور مغربی تہذیبوں کے ہم دلدادہ ہیں-یورپی تہذیب و تمدن اور طرز معاشرت نے مسلمانوں کی زندگی کے مختلف شعبوں کو اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے-مسلمانوں کی زندگی میں انگریزی تہذیب کے بعض ایسے اثرات بھی داخل ہو گئے ہیں،جن کی حقیقت پر مطلع ہونے کے بعد ان کو اختیار کرنا انسانیت کے قطعا خلاف ہے،مگر افسوس کہ آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان اثرات پر مضبوطی سے کاربند ہے-حالاں کہ قوموں کا اپنی تہذیب و تمدن کو کھودینا اور دوسروں کے طریقہ رہائش کو اپنا لینا ان کے زوال اور خاتمہ کا سبب ہوا کرتا ہے-مذہب اسلام کا تو اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ ہے کہ:"ياايهاالذين آمنوا أدخلوا في السلم كافة ولا تتبعوا خطوات الشيطان إنه لكم عدو مبين،،(البقرة:٢٠٨)
یہود و نصاری کی جو رسومات ہمارے معاشرہ میں رائج ہوتی جارہی ہیں-انھیں میں سے ایک رسم"اپریل فول،،منانے کی بھی ہے،اس رسم کے تحت اپریل کی یکم تاریخ میں جھوٹ بول کر کسی کو بھی دھوکہ دینا مذاق کے نام پر بے وقوف بنانا اور تکلیف پہنچانا نہ صرف جائز سمجھا جاتا ہے؛بلکہ اسے ایک کمال قرار دیا جاتا ہے-جو شخص جتنی صفائی اور چالاکی سے دوسروں کو جتنا بڑا دھوکہ دے دے اتنا ہی اس کو ذہین،قابل تعریف اور یکم اپریل کی تاریخ سے صحیح فائدہ اٹھانے والا سمجھا جاتا ہے،یہ رسم اخلاقی،شرعی اور تاریخی ہر اعتبار سے خلاف مروت،خلاف تہذیب اور انتہائی شرمناک ہے نیز عقل و نقل کے بھی خلاف ہے-
اپریل فول کی مستند تاریخی حقیقت کسی کتاب میں مذکور نہیں البتہ چند وجوہات یا واقعات زبان زد و عام ہیں اور ان میں بھی مورخین کا خاصہ اختلاف ہے-
(الف)١٥٦٤ء تک نئے سال کا آغاز مارچ کے آخر میں ہوتا تھا-اور سال کا افتتاحی جشن ٢١یا ٢٥ مارچ سے یکم اپریل تک منایا جاتا تھا-پوپ گریگوری٨(pope Gregory XII)نے ایک نیا کیلنڈر متعارف کروایا جس میں سال کا آغاز جنوری سے ہوتا تھا،چناں چہ چارلس٩(Charles IX)نے اس کیلینڈر کو رائج کردیا،غیر ترقی یافتہ ذرائع ابلاغ کے باعث بہت سے لوگ اتنی بڑی تبدیلی سے لاعلم رہے اور بدستور نئے سال کی تقاریب پہلے کی طرح ہی مناتے رہے،جن لوگوں کو اس تبدیلی کا علم ہو چکا تھا انھوں نے اس تبدیلی سے ناواقف لوگوں کو مذاق کا نشانہ بنایا اور ان کو اپریل فول کے طنزیہ نام سے پکارنے لگے-پھر آہستہ آہستہ یہ لوگوں میں عام ہوتا گیا یہاں تک کہ اسے باقاعدگی سے منایا جانے لگا۔(روزنامہ نوائے وقت لاہور،٢اپریل٢٠٠٨ء۔
       (ب)اندلس پر تقریبا آٹھ سو سال مسلمانوں کی حکومت رہی ہے،مسلم حکومت پر جب وقت زوال آیا تو عیسائی دوبارہ ان علاقوں میں قابض ہو گئے حتی کہ سپین(اندلس کا علاقہ)پر بھی قبضہ کرلیا اور مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہوئے خون کی ندیاں بہادیں،ان حالات کو دیکھ کر بعض مسلمانوں نے اپناروپ(رہن سہن)عیسائیوں جیسا بنالیا،عیسائیوں نےجاسوس چھوڑے تاکہ بچے ہوئے مسلمانوں کی نشاندہی کرکے انھیں قتل کیا جائے،لیکن کامیاب نہ ہو سکے،چناں چہ عیسائی بادشاہ فرڈینینڈ٢(Ferdinand 2)نے ایک منصوبہ تشکیل دیا اور اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں ایک مہینہ تک اعلان عام کروایا کہ تمام مسلمان غرناطہ میں جمع ہوجائیں تاکہ انہیں بحری جہاز کے ذریعہ دوسرے علاقے میں لے جاکر مسلمانوں کا ایک الگ ملک آباد کیا جاسکے،اس اعلان میں اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ انھیں امن وامان سے لے جایا جائے گا اور دھوکہ دہی نہیں کی جائے گی۔اعلان سن کر تمام مسلمان غرناطہ میں الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں جمع ہوگئے،جہاں ان کے لئے خیمے لگائے گئے تھے،مسلمانوں کو بحری جہاز پر سوار کیا گیا جس میں بچے،بوڑھے،مرد و خواتین سب موجود تھے اور جہاز وہاں سے روانہ ہوا۔جب گہرا سمندر آیا تو ان بدبختوں نے اپنے منصوبے کے تحت اس جہاز کو غرق کر دیا اور تمام مسلمان کو ابدی نیند سولا دیا،یہ سانحہ تقریبا پانچ سو سال قبل یکم اپریل کو وقوع پذیر ہوا۔اس واقعہ کے بعد سپین میں خوب جشن منایا گیا کہ دیکھو ہم نے مسلمانوں کو کس طرح بے وقوف بنانا؟(اپریل فول،عبدالوارث ساجد،ص٣١)
       پھر یہ سانحہ سپین سے تجاوز کرتا ہوا پورے یورپ میں فتح عظیم کی شکل اختیار کر گیا جسے اپریل فول کے بےوقوف کا نام دیا گیا۔
جب کہ برصغیر میں اپریل فول :کہاجاتا ہے کہ برصغیر میں پہلی بار اپریل فول انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر(سلطنت مغلیہ کے آخری چراغ)سے منایا گیا کہ جب وہ رنگون جیل میں تھے انگریزوںنے صبح کے وقت بہادر شاہ ظفر سے کہا کہ یہ لو تمہارا ناشتہ آگیا ہے،جب بہادر شاہ ظفر نے پلیٹ پر سے کپڑا اٹھایا تو پلیٹ میں ان کے بیٹے کا کٹا ہوا سر تھا جس بنا پر بہادر شاہ ظفر کو بہت صدمہ پہنچا جس پر انگریزوں نے ان کا خوب مذاق اڑایا۔
  افسوس تو اس بات پر ہے کہ یہ رسم تو صرف غیر مسلموں میں ہی معروف تھا لیکن ایک عرصہ سے یہ رسم مسلمانوں میں بھی عام ہوگیا ہے، اس سے صرف نظر کہ اس کی حقیقت کو پس پردہ رکھا گیا جس کی وجہ سے مغربی معاشرے سے متاثر لوگوں نے اس رسم میں شمولیت اختیار کر کے مغربی تہذیبوں کو اپنا لیا اور اب تو مسلمانوں میں بھی یہ رسم فیشن کے طور پر کھلے عام منایا جا رہا ہے،جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے بطور تنبیہ کے مسلمانوں کو خبردار اور ہوشیار کر دیا تھا کہ ایک وقت تم پر ایسا بھی آئے گا کہ:جب تم یہود و نصاری کی اتباعاس طرح کرو گے جیسا بالشت برابر بالشت اور بازو برابر بازو ہے حتی کہ اگر کوئی یہودی کسی گوہ(ایک جنگلی جانور جو زمین میں بل بناکر رہتا ہے)کے سراخ میں گھسا ہوگا تو تم بھی ویسا ہی کرو گے۔(بخاری شریف:٣٤٥٦
     مندرجہ بالا تفصیل سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ تاریخی اعتبار سے یہ رسم بد قطعا اس قابل نہیں کہ اس کو اپنایا جائے کیوں کہ اس کا رشتہ یا تو کسی توہم پرستی سے جڑا ہوا ہے یا کسی گستاخانہ نظریہ سے اور اس کے علاوہ اس لئے بھی قابل ترک ہے کہ یہ کئی گناہوں کا مجموعہ ہے۔
(١)مشابہت کفار یہود و نصاری (٢)جھوٹا اور ناحق مذاق (٣)جھوٹ بولنا(٤)دھوکہ دینا(٥)دوسروں کو اذیت پہنچانا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ"اپریل فول،،بہت سارے بدترین گناہوں کا مجموعہ ہے لہذا اب ہم کو خود فیصلہ کر لینا چاہیے کہ آیا یہ رسم بد اس لائق ہے کہ مسلمان قوم اس کو اپنا کر معاشرہ میں فروغ دیں؟
   اللہ تعالی سے دعا ہے کہ رب کریم تمام انسانیت کو عموما اور مسلم قوم کو خصوصا اس طرح کی تمام برائیوں سے محفوظ رکھے اورایسے کاموں کی توفیق بخشے جس میں انسانیت کی فلاح و بہبود اور آخرت کی بھلائی نصیب ہو ۔(آمین ثم آمین )

فول اپریل منانا یہود و نصارٰی کا عمل!

تحریر: عاصم طاہر اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مشرقی اقوام کو دیار مغرب سے ملنے والی غیر مہذب وناشائستہ روایات میں ایک بڑی روایت” اپریل فول“ کہلاتی ہے، ہر سال یکم اپریل کو مرد وزن آپس میں ایک دوسرے کو جھوٹ بک کر واہیات پھیلا کر بے وقوف بناتے ہیں ایک دوست دوسرے دوست کو مٹھائی کھلانے کے بہانے بدمزہ چیز کھلا کر احمق بناتا ہے کوئی اپنے دوست احباب اوررشتہ داروں کو اپنے ہی کسی عزیز کے مرنے کی جھوٹی خبر دے کر انہیں رنج وغم میں مبتلا کرجاتا ہے اور کوئی اسی طرح کی جٹ پٹی خبر پھیلاکر لوگوں کا تمسخر اڑاتا ہے.
نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم نے قیامت کی جو علامات بتائی ہیں ، ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ بہت سے گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب مہذب اور شائستہ ناموں سے کریں گے، شراب نوشی کریں گے مگر نام بدل دیں گے، سود خوری کریں گے اور اس کو نام کچھ اور دے دیں گے، غور کیا جائے تو یہ برائی کی سب سے بد ترین صورت ہوتی ہے کیوں کہ اس میں بھلائی کے لبادے میں برائی کی جاتی ہے، تہذیب کے نام پر بد تہذیبی کو روا رکھا جاتا ہے، آزادی کے نام پر نفس کی غلامی کی راہ ہموار کی جاتی ہے، اسلام جس وقت دنیا میں آیا اس وقت بھی کم و بیش یہی حالت تھی، اہل عرب اپنے کو دین ابراہیمی کا پیروکار کہتے تھے، لیکن پوری طرح شرک میں ملوث تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قرب قیامت کی جو جو علامات ارشاد فرمائی ہیں، کسی قدر معمولی غور و فکر سے دیکھا جائے تو وہ منظر قریب قریب اب ہمارے سامنے ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ہم اس دور سے گذر رہے ہیں.
فول اپریل اس رسم کی ابتداء کب اور کیسے ہوئی.
اس بارے میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے مختلف مؤرخین کی الگ الگ وجوہات لکھی ہیں:
(1) بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ فرانس میں سترھویں صدی سے پہلے سال کا آغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا، اس مہینے کو رومی لوگ اپنی دیوی وینس کی طرف منسوب کرتے تھے،
(2) اور دوسرے بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ چونکہ اپریل سال کی سال کی پہلی تاریخ ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایک بت پرستانہ تقدس بھی وابستہ تھا، اس لیے اس دن کو لوگ جشن مسرت کا ایک حصہ ہنسی مذاق بھی تھا جو رفتہ رفتہ ترقی کرکے اپریل فول کی شکل اختیار کرگیا،
(3) بریٹانیکا میں اس رسم کی ایک اور وجہ بیان کی جاتی ہے کہ 21 مارچ  سے موسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہوتی ہیں ان تبدیلیوں کو بعض لوگوں نے اس طرح تعبیر کیا کہ (معاذاللہ) قدرت ہمارے ساتھ مذاق کرکے ہمیں بے وقوف بنا رہی ہے لہٰذا لوگوں نے بھی اس زمانے کو میں ایک دوسرے کو بے وقوف بنانا شروع کردیا،

اپریل فول منانے کی قباحتیں
اپریل فول منانے سے خالصتا کفار سے مشابہت ہے
جھوٹ پر اس کی بنیاد ہے اور جھوٹے  پر اللہ کی لعنت ہے،
دھوکہ پر اس کی بنیاد ہے اور دھوکہ دینے والا امت محمدیہ میں سے نہیں،
مخلوقات کو ستانے کا وبال ہے
اور اس کے ساتھ ساتھ انسان اپنا اعتماد بھی کھو دیتا ہے مذہب اسلام ان تمام چیزوں کی اجازت نہیں دیتا فول اپریل منانا غیر شرعی اور یہود و نصارٰی کا عمل ہے مذہب اسلام اس کے خلاف ہے لہٰذا مسلمان اس گناہ سے بچیں.
خدائے عظیم تمام مسلمانوں کو اس سے بچائے آمین ثم آمین

دارالعلوم اشرفیہ دیوبند کے تحت آج یکم اپریل کو تعلیمی بیداری یکجہتی کانفرنس!

توقیر عالم غازی پوری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیوبند(آئی این اے نیوز یکم اپریل 2018) آج ہی بعد نماز مغرب دیوبند کی مشہور و معروف دینی درسگاہ دارالعلوم اشرفیہ کے تحت درجہ حفظ قرآن کریم، قرات، اور تکمیل افتاء کے کل 95 فارغین کی دستاربندی و تقسیم تحفہ الوداع کے حسین اور پر مسرت موقع پر "تعلیمی بیداری یکجہتی کانفرنس" کا انعقاد کیا گیا ہے، واضح رہے کہ یہ کانفرنس نمونہ اسلاف عارف باللہ حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن صاحب خیرآبادی مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند کی سرپرستی میں منعقد ہورہی ہے تو وہیں پر اس کانفرنس کی صدارت حضرت مولانا محمد اختر صاحب جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ سہارنپور فرمائیں گے.
اس کانفرنس میں شیخ طریقت حضرت مولانا نجم الحسن صاحب ناظم خانقاہ امدادیہ اشرفیہ تھانہ بھون، حضرت مولانا محمد اسلام صاحب، حکیم روحانی عالم باعمل مولانا حسن الہاشمی قومی صدر ادارہ خدمت خلق دیوبند اور ان کے علاوہ بہت سے علماء کرام اور دیگر مذاہب کے کافی لوگ تشریف لا رہے ہیں.
اس کانفرنس میں طلبہ دارالعلوم اشرفیہ دیوبند انسانیت کے درد محبت میں ڈوبی تقاریر، فقہی مقالمے، عدالت کے طرز پر مقدمات اور ان کا حل پارلیمنٹری بحث اور دیگر بہت سے قابل دید ثقافتی تہذیبی، تعلیمی و تربیتی رنگا رنگ پروگرام کا مظاہرہ کریں گے، مدرسہ ہذا کے معتمد حضرت مولانا محمد سالم اشرف صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ نے تمام برادران اسلام سے درخواست کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت فرما کر اس کانفرنس کو کامیاب بنائیں.
نــــوٹ: دیوبند سے باہر رہنے والے حضرات مایوس نہ ہوں آپ لوگوں کی آسانی کے لئے اس کانفرنس کو فیسبک پر لائـیـــو نشر کیا جائے گا تو ابھی اور اسی وقت اولاً "اتحـــاد نیـوز اعظم گڑھ INA NEWS" کے فیسبک پیج کو لائک کریں، اور ایک بار شیئر بھی ضرور کریں.👇👇
http://www.facebook.com/inanews.in/