اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 27 June 2020

*بلڈ ڈونیٹ گروپ ( الفلاح فرنٹ) کی ایک اور ناقابل یقین کامیابی* نبراس امین اعظمی رکن:بلڈ ڈونیٹ گروپ (الفلاح فرنٹ) عبداللہ و علی صاحبان بنے مسیحا

*بلڈ ڈونیٹ گروپ ( الفلاح فرنٹ) کی ایک اور ناقابل یقین کامیابی*



نبراس امین اعظمی
رکن:بلڈ ڈونیٹ گروپ (الفلاح فرنٹ)
عبداللہ و علی صاحبان بنے مسیحا

مکرمی:ونسٹن چرچل کا مشہور مقولہ ہے"کامیابی حتمی منزل نہیں ہے اور نا ہی ناکامی حتمی مایوسی،دراصل حوصلہ قائم رہے یہی سب سے بڑی کامیابی ہے.انسان کی کامیابی اسکی جسمانی ساخت سے بالکل مشروط نہیں ہے.کامیابی کیلئے ذہنی و فکری مضبوطی کیساتھ کیساتھ غیر متزلزل یقین،عزم مصمم،آگے بڑھنے کی خواہش بہت ہی ضروری ہوتی ہے
وہ لوگ جو کامیابی کی رکاوٹوں میں منزلوں کی پرواہ نہیں کرتے.کچھ ایسا ہی نمونہ پیش کیا آج ہمارے بھای عبداللہ و علی صاحبان نے اس دور خود غرضی میں بلا مفاد کے یوں ہی بغرض خدمت خلق کی نیت سے ایک ضروت مند کی عین موقع پر مدد کرکے انسانیت کی اعلی مثال پیش کی.اور ببانگ دہل یہ اعلان کر دیا کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے نوجوان ہیں جو تمام مذہبی رواداری کو پیچھے چھوڑ کر کسی بھی وقت خدمت خلق کیلئے تیار رہتے ہیں.اللہ یونہی ان سے کام لیتا رہے اور ہم سب کو اس پر اجر عظیم عطا کرے .گروپ کے بانی کو کیلئے بھی اس مہم کو صدقہ جاریہ بنائے.میں ان دونوں  صاحبان کو بلڈ ڈونیٹ گروپ کی جانب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں

*تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا*
*ترے سامنے آسمان اور بھی ہیں*


.گروپ سے جڑنے کیلئے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں۔
8368463763

نبراس امین اعظمی
رکن:بلڈ ڈونیٹ گروپ (الفلاح فرنٹ)

Friday, 26 June 2020

موڑ آجائے، تو: مڑنا پڑتا ہے؛ اسے راستہ بدلنا نہیں کہتے۔ از : _______ وقار احمد قاسمی

موڑ آجائے، تو: مڑنا پڑتا ہے؛ اسے راستہ بدلنا نہیں کہتے۔
از : _______ وقار احمد قاسمی
_____________________________________
خلاصہ بحث:
مدارس کے طلبہ ہوں یا یونیورسٹیز وکالجز کے؛ زبانیں ہر کسی کو سیکھنا چاہیے۔ حالات حاضرہ کے پیش نظر کم از کم عربی اور انگریزی تو ضروری ہے؛ البتہ زبان سیکھتے ہوئے خاص خیال رہے کہ اسلامی تہذیب وثقافت اور اسلامی احکامات وتعلیمات کی خلاف ورزی نہ ہو۔
_____________________________________

بالتفصیل:
زبان وادب ایک ایسی شے ہے، جس سے اپنے مافی الضمیر کو بہتر طور پر ہر خاص وعام تک پہونچایا جاسکتا ہے؛ مگر یہ اسی وقت ممکن ہے، جب مختلف شہرت یافتہ زبانوں پر مکمل عبور حاصل ہو۔ موجودہ عہد میں چند مشہور زبانیں : عربی، انگریزی، ترکی، فارسی اور اردو؛ ہیں۔ مجموعی طور پر یہ زبانیں دنیا کے تقریبا ہر حصہ میں بولی اور سمجھی جاتی ہیں؛ البتہ اِن میں عربی اور انگریزی بنسبت دوسری زبانوں کے زیادہ عام ہے۔

ہندوستان میں تعلیم کی دو صورتِ حال ہے: جسے علوم جدیدہ اور علوم اسلامیہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ علوم جدیدہ کے تعلیم یافتہ یا اس سے متعلقین صرف انگریزی زبان تک ہی محدود رہتے ہیں؛ الا یہ کہ مختصر عربی جانتے ہوں، جو اس نیت سے سیکھتے ہیں کہ ترجمہ نگاری کے مواقع فراہم ہوں گے۔ جہاں تک ترکی اور فارسی زبان کا تعلق ہے، تو یہ گنے چنے افراد، جن کا عنوان ہی یہی ہوتا ہے، وہ اس سے شغف رکھتے ہیں؛ ورنہ ان زبانوں کے سیکھنے سکھانے کا کوئی خاص اہتمام نہیں ہوتا؛ الا ماشاء اللہ؛ بلکہ بعض تو ان زبانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، جب کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، زیادہ سے زیادہ زبانیں سیکھنی چاہیے اور عربی زبان تو ہر مسلمان کو سیکھنا چاہیے؛ چوں کہ یہ قرآن کی زبان ہے، نبی کی زبان ہے اور اسلامی زبان ہے؛ گویا مسلمانوں کی شناخت ہے۔

اس کے برخلاف مدارس اسلامیہ کے طلبہ عربی زبان میں تو ماہر ہوتے ہی ہیں، ساتھ ہی ساٹھ سے ستر فیصدی طلبہ فارسی بھی جانتے ہیں اور جہاں تک انگریزی کا تعلق ہے، تو ان کی تیس فیصد تعداد اس زبان پر مکمل عبور رکھتی ہے اور تقریبا دس فیصد ٹوٹی پھوٹی انگریزی جانتے ہیں۔ مزید یہ کہ ترکی زبان سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں؛ گرچہ مواقع کے پیش نظر سیکھتے ہیں؛ ورنہ یہ تعداد یہاں بھی بہت کم ہی ہوتی ہے اور اردو تو مادری زبان ہی ہے۔

ہاں؛ مدارس اسلامیہ کے بیس سے تیس فیصدی طلبہ دیگر زبانوں کو تو نہیں؛ لیکن انگریزی زبان کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ وہی طلبہ ہوتے ہیں، جن کی ابتدائی تعلیم چھوٹے تعلیمی ڈبوں میں ہوتی ہے، جہاں تعلیمی سختی کا ذہنی اثر ایسا ہوجاتا ہے کہ ان کے دل ودماغ وسعت کی جگہ تنگی اختیار کرجاتے ہیں؛ یہ ذہنیت آگے چل کر کافی نقصاندہ ثابت ہوتی ہے۔ یہ جماعت انگریزی کے تعلق سے خیال کرتی ہے کہ زبانی علم بے مطلب ہے، جس کے ہم محتاج نہیں۔

محترم یہاں محتاجگی یا غیر محتاجگی کا سوال نہیں؛ بلکہ سوال علوم کی محدودیت کا ہے، حالاں کہ اسلام ساری دنیا اور قیامت تک کے لیے آخری خدائی مذہب ہے؛ یہ ایک وسعت پذیر، ہمہ گیر اور تمام بنی نوع انسانی کے لیے آیا ہے؛ لہذا اس میں زبان وتعلیم کی حدبندی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوسکتا اور چوں کہ شریعت نے بھی زبان سیکھنے اور بولنے پر کوئ پابندی عائد نہیں کی ہے، جیسا کہ کاتب رسول حضرت زید بن ثابت نہ صرف عبرانی اور سریانی زبان جانتے تھے؛ بلکہ فارسی، رومی، قبطی اور حبشی زبانیں بھی جانتے تھے اور حضور علیہ الصلاة والتسلیم کی غیر زبانوں میں خط وکتابت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔

جب شریعت مطہرہ نے زبان سیکھنے سے منع نہیں کیا ہے؛ بلکہ ترغیب دی ہے، تو: کیوں اسے حاصل نہ کیا جائے؟ یہ محض ایک زبان ہی تو ہے؟ اسے سیکھتے ہوئے اسلامی تہذیب وثقافت کو ملحوظ رکھا جائے اور دوسروں کی تہذیب کو ٹھکرا دیا جائے، تو: سیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔

مدارس اسلامیہ کی نشأة ثانیہ کے بانیین کی فکر تھی کہ مدارس اسلامیہ کے فارغین عظیم فکروں کے ساتھ عالمی شخصیت کے حامل ہوں: اور یہ اسی وقت ممکن ہے، جب انہیں دنیا کی کم از کم مشہور ترین زبانوں کا علم ہو؛ ورنہ وہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا۔ آپ مطالعہ کریں (حاشیہ کے ساتھ) عبید اللہ سندھی کی کتاب : "شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک" کا اور ان کے تعلیمی افکار ونظریات کا جائزہ لیں: ان اکابرین میں ایک فرد بھی آپ کو ان زبانی علوم کے خلاف نہیں ملے گا؛ الا یہ کہ اسلامی تہذیب وثقافت کا خاتمہ ہونے لگے؛ تو: سب خلاف ہوجائیں گے، جیسا کہ علامہ رشید احمد گنگوہی نے کہا تھا: "انگریزی زبان سیکھنا درست ہے؛ بشرط یہ کہ: معصیت کافر قلب میں نہ ہو اور نقصان دین میں اس سے نہ ہووے" ( آب کوثر، از: شیخ محمد اکرم، ص:49)۔ اسی طرح مفکرِ دارالعلوم دیوبند حضرت نانوتوی بھی زبان کے خلاف نہیں تھے؛ بلکہ انہوں نے تو اپنے آخری سفرِ حج کے دوران ارادہ کیا تھا کہ وہ واپس آکر انگریزی زبان سیکھیں گے۔ (سوانح قاسمی، از: مناظر احسن گیلانی، ج:2، ص:227/ 280)؛ یہی وجہ ہے کہ علامہ شبلی اور مولانا آزاد وغیرہ مذکورہ تمام زبانوں پر مکمل عبور رکھتے تھے۔

جب ان مدارس اسلامیہ کی نشأة ثانیہ کے بانیین زبان وادب سیکھنے اور سکھانے کے خلاف نہیں تھے اور ان کی کوشش تھی کہ علوم اسلامیہ کے فارغین پورے عالم میں نمایاں شخصیت کے حامل ہوں، تو: ہر حال میں کوشش کرنی چاہیے کہ ان فکروں کی لاج رکھی جائے اور اس میں کوئی نقصان بھی نہیں ہے۔

اور چوں کہ اب وقت اور حالات ایسے آچکے ہیں کہ علوم جدیدہ کے متعلقین عربی زبان سیکھیں، تاکہ بقدر ضرورت اسلامی علوم بھی حاصل کرسکیں، جو کہ زندگی کا اصل مقصد ہے اور ان تعلیمات کی روشنی میں بہتر عمل اور انصاف کرتے ہوئے خوشگوار زندگی گزاریں۔ اسی طرح مدارس اسلامیہ کے بچے کُھچے طلبہ بھی انگریزی زبان سیکھیں، تاکہ پیش آنے والے مسائل ومشکلات کا بہتر طور پر دفاع کر سکیں، جس کے لیے بنیادی اصول وقوانین کا علم ہونا ضروری ہے اور ایسی چیزیں عموما انگریزی میں ہی ہیں۔ نیز دونوں جماعتوں کے طلبہ زیادہ سے زیادہ زبانیں سیکھیں، تو: بہت بہتر رہے گا۔

اور زبان سیکھنا، سکھانا؛ حقیقتا علوم یا طریقہ حصول علوم کی کوئی تبدیلی نہیں ہے؛ بلکہ اب حالات نے وقت کے دباؤ میں اپنا رخ موڑ لیا ہے اور جب موڑ آجائے، تو: مڑنا پڑتا ہے، اسے راستہ بدلنا نہیں کہتے۔ اگر نہیں مڑے، تو یا دیوار سے ٹکرائیں گے یا ایسی کھائی میں گریں گے، جہاں سے نکلنا مشکل ہوگا اور اگر نکل بھی گئے، تو جب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

سنگھی دہشت گردی رکنے کا نام نہیں لے رہی!

تحریر: محمد سالم قاسمی
نائب مہتمم جامعہ قاسمیہ خیرالعلوم نانپارہ بہرائچ
 ___________
اس وقت جہاں پورا ملک کرونا وایریس جیسی لاعلاج بیماری کی چپیٹ میں ہے روزآنہ ہزاروں مریض پائے جا رہے ہیں ہسپتالوں میں مریض کے لیے آکسیجن اور بیڈ کم پڑ گیے ہیں مہنگائی زوروں پر ہے کھانے پینے کی اشیاء پیٹرول ڈیزل اور گیس کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں ملک کی معیشت کا برا حال ہے سرکار کی بے توجہی اور ناکامی کی وجہ سے غریب و مزدور طبقہ بھکمری کا شکار ہیں اور ان تمام حالات میں موجودہ سرکار کی ناکامی اور بے حسی جگ ظاہر ہو چکی ہے اب ایسے ناگفتہ بہ حالات میں جہاں لوگ بلا تفریق مذہب و ملت ایک
دوسرے کی مدد کرتے ذات پات برادری سے اوپر اٹھ کر آپسی بھائی چارگی کو فروغ دیتے نفرت کی دیوار گرا دی جاتی اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے مگر اس کے برعکس ہمارے ملک میں ایسے حالات میں بھی گودی میڈیا اور نیوز چینلس کے اینکر ڈیبیٹ میں مسلمانوں اور ہمارے بزرگ علماء کے خلاف زہر افشانی کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف لوگوں کی ذہن سازی کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف دہشت گرد تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں کوشاں ہیں کہیں غریب ٹھیلا لگانے والے مسلمان کو خاص ذہنیت کے لوگ اپنے محلّے میں سامان فروخت کرنے سے منع کر رہے ہیں اور اگر کوئی مسلمان سامان فروخت کرنے چلا بھی جائے تو اس کی لنچنگ کردی جاتی ہے اس کے سامان کو برباد کر دیا جاتا ہے کہیں راہ چلتے مسلمان کا نام پوچھ کر کرونا پھیلانے کے الزام میں زد و کوب کیا جاتا ہے تو کہیں مسلمانوں کے خلاف جھوٹی جاسوسی کی جارہی ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ان تمام واقعات میں حکومت صرف تماشائی بنی ہوئی ہے
حکومت کا کام تھا کی مجرموں کو کیفر کرداد تک پہنچاتی مظلوم کے لیے انصاف کو یقینی بناتی اور ظلم و ستم کو انصاف کی بالادستی سے ختم کرتی لیکن ابھی تک ہجومی تشدد کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ان میں مقامی پولس اور بر سر اقتدار پارٹی کے عہدے دار لوگ صرف تماش بین بنے نظر آتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے مسلمانوں کی ماب لنچنگ حکومت کی پشت پناہی میں ہو رہی ہے ابھی حال میں سلیم اور اسرار نام کے دو لوگوں کی سنگھی بھیڑیوں کی طرف سے ماب لنچنگ کی گئی اور ابھی تک ان مجرموں کو پکڑا نہیں جا سکا ہے،
ہم مسلمانان ہند حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد ماب لنچنگ کے خلاف قانون بنایا اور اسکے روک تھام کے لیے کڑے سے کڑا قدم اٹھایا جائے اور سزا کا تعین کرکے ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے اگر حکومت ایسا نہیں کرتی ہے تو ملک کے حالات کیا ہونگے کچھ کہا نہیں جا سکتا،
وہیں تمام مسلمانوں سے گزارش ہیکہ خدا نا کرے کبھی آپ کے ساتھ ایسے حالات پیش آئیں تو  آپ خود سپردگی اور ظاموں کے آگے گڑگڑانے اور رحم کی بھیک مانگنے کے بجائے اپنی حفاظت خود کریں جہاں تک ممکن ہو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو!

ماسٹر ریاض صاحب کے انتقال پر کیا گیا ایصال ثواب کا اہتمام باغپت :26/جون 2020 آئی این اے نیوز رپورٹ! محمد دلشاد قاسمی

ماسٹر ریاض صاحب کے انتقال پر کیا گیا ایصال ثواب کا اہتمام
باغپت :26/جون 2020 آئی این اے نیوز
رپورٹ! محمد دلشاد قاسمی
قومی خدمت گزار جناب ماسٹر ریاض صاحب دہلی کے انتقال فرمائے جانے پر آج معہد مرشدالامت اسارا میں قرآن خانی کر کے ایصال ثواب کیا گیا اس موقع پر معہد مرشد الامت اسارا کے بانی قاری محمد یوسف اساروی نے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  مرحوم  کی شخصیت بہت ہی معروف و عوام و خواص میں بہت مقبول تھی آپ بہت ہی اچھے انسان اور بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے مرحوم کا اچانک یوں  رخصت ہوجانا سبھی کے لئے دکھ کی بات ہے مرحوم جدید فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے صدر کے عہدے پر فائز تھے جس سے لوگوں کو کافی فائدہ پہنچایا غریب عوام کی مدد کی غریب بچیوں کی شادی وغیرہ کرائی اس کے ساتھ ساتھ قوم کی کافی خدمات  کی مدارس و مساجد کی ہر طرح سے خدمت کرنے کا بہت زیادہ شوق رکھتے تھے معہد مرشدالامت اسارا سے بھی کافی لگاؤ رکھتے تھے علماء کرام سے بڑی محبت کرتے تھے اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین اس موقع پر دہلی سے تشریف لائے جدید فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے تحت چلنے والے مجیدیہ میرج بیورو کے ڈائریکٹر جناب نواب محمد حسین انصاری صاحب نے بتایا کہ لوک ڈاؤن کے بنائے گئے قوانین پر مکمل طور سے عمل کرتے ہوئے مرحوم موصوف کو ان کی آخری آرام گاہ تک پہنچایا گیا تاکہ  حکومت کی طرف سے بنائے قانون کی خلاف ورزی نا ہو جائے ہمارے صدر مرحوم اپنی زندگی میں قوانین پر مکمل طور پر خود بھی عمل کرتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی ہدایت فرماتے تھے مرحوم موصوف میں قوم کی خدمت کرنے کا بہت زیادہ جزبہ تھا لوک ڈاؤن کے دوران مستقل تین سو لوگوں کو دونوں وقت کا کھانا اور دودھ وغیرہ خود غریب عوام لوگوں کے گھروں پر پہنچاتے تھے تاکہ غریب بھوکا نا سوئے اس موقع پر جناب نواب محمد حسین انصاری صاحب نے بتایا کہ جدید فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے زیر اہتمام دہلی کے اندر چار اسکول مجیدیہ کے نام سے چل رہے ہیں جن میں کافی تعداد میں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں نواب محمد حسین انصاری نے کہا کہ انشاء اللہ ہم مرحوم موصوف کی گئی خدمات کو آگے بڑھاتے رہیں گے   اللہ تبارک و تعالیٰ  مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین اس کے ساتھ ساتھ قاری محمد طارق فلاحی اساروی مولانا وقار احمد قاسمی اساروی مہتمم معہد مرشدالامت اسارا قاری محمد خالد وغیرہ نے بھی اپنے اپنے تاثرات پیش کئے  قاری محمد یوسف اساروی کی دعاؤں پر تعزیتی مٹنگ کا اختتام ہوا

کل دوپہر 12؍بجے آئے گا یوپی بورڈ کا رزلٹ


کل دوپہر 12؍بجے آئے گا یوپی بورڈ کا رزلٹ

لکھنؤ: اترپردیش سیکنڈری ایجوکیشن کونسل یعنی یوپی بورڈ کے ہائی اسکول اور انٹر میدیٹ امتحانات کےنتائج کا اعلان 27جون بروز ہفتہ کو دن 12بجے کیا جائےگا۔تعلیمات ڈائرکٹر(سیکنڈری)ونےکمارپانڈے نے جمعہ کو یہاں بتایا کہ نائب وزیر اعلی ڈاکٹر دنیش شرما کل دوپر 12بجے ہائی اسکول اور انٹر میڈیٹ امتحانات کے نتائچ کا اعلان یہاں لوک بھون میں کریں گے۔قابل ذکر ہے کہ ایشیاء کے سب سے بڑے بورڈ کے امتحانات میں اس سال تقریبا 56لاکھ طلبہ و طالبات شریک ہوئے تھے۔ کوورنا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے باوجود ایک لاکھ 20ہزار ٹیچروں نے تقریبا ساڑھے تین کروڑ کاپیوں کا جانچنے کی ذمہ داری کو انجام دیا ہے۔نقل سے پاک امتحان کے سخت انتظام کے درمیان ہائی اسکول اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات منعقد ہوئے تھے حالانکہ تقریبا چار لاکھ 70ہزار طلبہ و طالبات میں بیچ میں ہی امتحان چھوڑ دیا تھا جس میں آدھے سے زیادہ ہائی اسکول کےطلبہ ہیں۔

Thursday, 25 June 2020

ایم ایل اے ڈاکٹر محمد فیاض احمدکے ہاتھوں پانچ سڑکوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا مدھوبنی:25/جون 2020 آئی این اے نیوز رپورٹ! محمد سالم آزاد

ایم ایل اے ڈاکٹر محمد فیاض احمدکے ہاتھوں پانچ سڑکوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا

مدھوبنی:25/جون 2020 آئی این اے نیوز
رپورٹ! محمد سالم آزاد
بسفی اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے ڈاکٹر محمد فیاض احمد نے آج اپنے اسمبلی حلقہ کے مدھوبنی بسفی بلاک میں سوگونہ این ایچ سے کھروا قبرستان جائے والی سڑک دوسرا ڈمری رام نگر پاور ہاؤس سے بہربن تک ایم ایل اے فنڈ سے نو تعمیر سڑک کا افتتاح کیا اس دوران ایم ایل اے ڈاکٹر محمد فیاض احمد نے کہا کہ میں صرف کام کرنے پر یقین رکھتا ہوں اس سے سیدھے طور پر عوام کو فائدہ پہنچے گا ہماری کوشش بھی رہی ہے کہ ہر ضروری سڑکیں جو میرے حلقہ میں تعمیر نو کے لئے انتہائی ضروری ہے اور میں اس کی ترجیحی بنیاد پر تعمیر کرا رہا ہوں بسفی حلقہ میں  ترقیاتی کام تیزی کے ساتھ ہورہے ہیں آپ کو معلوم ہوکہ اس وقت جب پوری دنیا کورونا وائرس جیسی عالمی وباء سے پریشان ہے ایم ایل اے ڈاکٹر محمد فیاض احمد نے اس مشکل وقت میں بھی مزدوروں غریبوں ضرورت مندوں کی ہر ممکن مدد کی او ر آخر تک مدد کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہوں گا اس موقع پر  افسر علی کوثر شاہد احمد محمد تبریز  وشنودیو سنگھ ستروہن پرساد ارون یادو اتم لال یادو پرشو رام جھا محمد مدنی اجیت ناتھ یادو مکھیا سرون کمار کاپری ضلع پریشد ممبر انیتا دیوی ثناءاللہ اور دیگر موجود تھے

اخلاق بندوی کی کتاب "دستاویز" (بندی کلاں کا تاریخی پس منظر و شجرہءِ نسب) کا تعارف ... 8368463763 ذاکر حسین صدر:الفلاح فرنٹ بانی:بلڈ ڈونیٹ گروپ

اخلاق بندوی کی کتاب "دستاویز" (بندی کلاں کا تاریخی پس منظر و شجرہءِ نسب) کا تعارف
...
8368463763

ذاکر حسین
صدر:الفلاح فرنٹ
بانی:بلڈ ڈونیٹ گروپ

اس پر فتن دور میں تخریبی طاقتوں کی شر انگیزی طشت از بام ہے ۔ ہر سطح پر مسلمانوں کوصفحہء ہستی سے مٹانے کی کوشش ہورہی ہے۔٨٠٠ سال تک اس ملک پر حکومت کرنے والی قوم کو اپنے وجود کی فکر لاحق ہو گئی ہے۔ آزاد ہندوستان میں شروع کے ٦٥ برس تک ہندوستانی مسلمان اپنے آئینی حقوق کے تحفظ اور اپنی بقا کے لیے جدو جہد کرتے رہے ہیں۔ اس دوران کئی تباہ کن فرقہ وارانہ فسادات کا کرب بھی جھیلنا پڑا جو مسلمانوں کے خلاف اس وقت کی سرکاروں نے منظم سازش کے تحت برپا کیے تھے جن میں نیلی، ہاشم پورہ، ملیانہ، بھاگل پور، مرادآباد، علی گڑھ، ممبئی، احمد آباد اور گودھرا کے فسادات نے جو کاری زخم دیے ہیں ان سے اب بھی خون رستا ہے۔ گزشتہ ۶ برسوں میں اس ظلم و تشدد اور جبر و استبداد کو انتہا پرپہنچا دیا گیا ہے اور مسلمانوں پر عرصہء حیات تنگ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جانے لگی ہے۔ یہاں تک کہ تقریباً ٢٠ کروڑ آبادی پر مشتمل ملک کی اس سب سے بڑی اقلیت کو شہریت سے ہی محروم کردیے جانے کی حکمت عملی پرمرکزی اور صوبائی سرکاریں عمل پیرا ہو چکی ہیں۔ تاریخ کی کتابوں میں درج امت مسلمہ کے سنہرے ابواب پر کالک پوتی جا رہی ہے اور تاریخی مقامات کی حیثیت اور ہیئت یکسر تبدیل کی جا رہی ہے۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس خطرناک صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمارے پاس کوئی تیاری بھی نہیں ہے۔ ہم بڑی آسانی سے ایک حیوانی بھیڑ میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ ہماری نئی نسل اپنی پرانی روایات اور تہذیبی وراثت سے رفتہ رفتہ دست بردار ہوتی جا رہی ہے۔ عہد حاضر کے اسی منظر نامے کے پیش نظر اخلاق بندوی نے اپنی بستی کے سلسلہء نسب کے ارتقا اور آباد کاری کے تاریخی واقعات پر ایک کتاب شائع کی ہے ۔ یہ کتاب بعنوان” دستاویز“ وہاں کے باشندوں کی اس مٹی سے نسبت کی گواہی کا دستاویز ہے۔ مصنف کی بستی ”بندی کلاں“ متحدہ اعظم گڑھ کا ایک مردم خیز موضع ہے جو اب یوپی کے ضلع مئو کا حصہ ہے۔ ٩٠ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مصنف کے تعارف اورخود نوشت مقدمہ کے علاوہ موضع کا رقبہ اور قدیم آبادی کے احوال شامل اشاعت ہیں۔ اس کتاب میں جہاں سب سے بڑے خانوادے کے مورث اول شیخ صلاح الدین کاذکرہے جو شہنشاہ اورنگزیب کے زمانے میں ہندو راجپوت سے مشرف بہ اسلام ہوکر موضع بِرماں مبارک پور سے آکر آباد ہوئے تھے وہیں ایک اور خاندان کے کوائف قلم بند ہیں جس کے بزرگ شیخ للئی کا تعلق ننداﺅں، سرائے میر سے تھا۔ ان اجداد کا نسل در نسل شجرہء نسب بھی زینت قرطاس ہے۔ گاﺅں کے مدارس، مساجد، عیدگاہ، قبرستان، کھیل کے میدان، تعلیم و تعلم، طرز معاشرت، تہذیب و ثقافت اور ذریعہء معاش عنوانات کے تحت تفصیلات رقم کی گئی ہیں۔ جن اہم شخصیات کا سوانحی خاکہ شامل اشاعت ہے ان میں اصغر علی، محبوب علی، مینیجر لطف الرحمان، عبد اللطیف اعظمی، ڈاکٹر محمد یونس، پروفیسر شمشاد احمد، ڈاکٹر منصور احمد اور ڈاکٹر محمد طاہر کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔
”دستاویز“ کو مصنف نے اپنے بڑے بھائی پروفیسر شمشاد احمد کے نام منسوب کیا ہے جو امریکہ میں مقیم ہونے کے باوجود اپنے وطن کی تعمیر و ترقی اور رفاہ عامہ کے روح رواں تھے۔ آخری صفحات پر مصنف اخلاق بندوی کا اپنا تعارفی نوٹ ہے۔ ”دستاویز“ المعروف ایجوکیشن ایند ویلفیر سوسائٹی بندی کلاں کے زیر اہتمام النور پبلیکیشنز دریا گنج نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے۔آخری آٹھ صفحات پر موضوع سے متعلق کچھ رنگین تصاویر ہیں جو کتاب کو پرکشش اور دیدہ زیب بناتی ہیں۔ کتاب کی زبان فصیح و بلیغ او بیانیہ انتہائی موثر اور دلچسپ ہے۔ امید ہے اخلاق بندوی کی یہ کتاب "دستاویز" اپنے مقاصد پورا کرنے میں کامیاب ہوگی.

ذاکر حسین
صدر,الفلاح فرنٹ
بانی,بلڈ ڈونیٹ گروپ
8368463763
Email:hussainzakir650@gmail.com

زندہ رہنا ہےتو ترکیبیں بہت ساری رکھو!! تحریر :سرفرازاحمد قاسمی (حیدرآباد ) برائے رابطہ:8099695186

                                                                               زندہ رہنا ہےتو ترکیبیں  بہت ساری رکھو!!

تحریر :سرفرازاحمد قاسمی (حیدرآباد )
برائے رابطہ:8099695186

  وقت جیسے جیسے گذرتاجارہاہے ،ملکی مسائل  میں اضافہ  ہورہاہے ان مسائل کوحل کرنےاوراسکوکم کرنےکی کوئی  سنجیدہ  کوشش نہیں کی جارہی ہے،موجودہ  حکومت  کی کارکردگی کا  اگرجائزہ لیاجائے تو یہ کہناپڑےگاکہ  ان 6سالوں  میں    انتہائی  سردمہری کا مظاہرہ  کیاگیا،حکومت  کی کرسی پرجولوگ ابھی براجمان  ہیں،انھیں لوگوں  کےمسائل اور انکی تکالیف  وپریشانیوں سےکوئی  لینادینانہیں،انھیں صرف اپنی کرسی عزیزہےیہی وجہ ہےکہ یہ لوگ  ہرقدم پرجھوٹ بول کر،مکاری وعیاری کے ذریعےملک اور قوم کوگمراہ کرتےہیں ،بےشرمی وبےغیرتی کی انتہاء  یہ ہےکہ یہ لوگ جھوٹ  بولنےمیں ذرابھی ہچکچاتے  نہیں ،ایسالگتاہےکہ ان لوگوں  نےسچ نہ بولنےکی قسم کھارکھی ہےاور شدت کےساتھ اس پرقائم ہیں،ان سےاگرسوال کیاجائے کہ 6سال سےتم اقتدار میں ہوبتاؤ تم نےکیاکیا؟کتنے لوگوں کوروزگاردی،کتنےمسائل حل کئے؟کتنےلوگوں کو فائدہ پہونچایا ؟تواسکے جواب میں  یہ وہی شمارکراتےہیں جو تخریبی ہومثلاہم نےطلاق بل پاس کرایا ،370ہٹایا،رام مندر کامعاملہ حل کرایا،وغیرہ  وغیرہ  یہ ساری وہ چیزیں  ہیں جولوگوں کوتقسیم کرتی ہیں،اوریہی ان لوگوں  کاایجنڈابھی ہے،"لڑاؤ اورحکومت  کرو"مجھےیہ کہنے میں کوئی  عارنہیں کہ گذشتہ 6سالوں  میں ان لوگوں نےیہی سب کیاہے،اسلئے یہ  لوگ  کوئی ایک تعمیری  کام شماربھی نہیں کراسکتے،ملک اس وقت جس دوراہےپرکھڑاہے،اس حکومت  نےملک  کوجتنا نقصان  پہونچایا اسکی تلافی شاید اب آنےوالےپچاس سالوں  میں بھی نہیں ہوسکتی،لیکن اسکےباوجودحکومت کارویہ آج بھی فرعون  سےکم نہیں ہے،آزادبھارت کی تاریخ میں شاید یہ سب سےنکمی اورناکام حکومت ہےجسکاخمیازہ  بھولی بھالی عوام بھگت رہی ہے،اورمزیدہمیں یہ کب تک بھگتناپڑےگااسکےبارےمیں کچھ کہانہیں جاسکتا،ملک جس تیزرفتاری کےساتھ  زوال اور انتشار کی جانب بڑھ  رہاہےیہ  بےحدتشویشناک ہے،ملک  کی باگ ڈورجن لوگوں کےہاتھ میں ہےانکارویہ دیکھ کرلگتایہی ہےکہ اب ہماراملک غیرمحفوظ  ہاتھوں  میں ہے،اگراس پرتوجہ نہ دی گئی  ،زندہ دلی  کامظاہرہ نہ  کیاگیاا   ورنوجوانوں نے ملک کی حفاظت  کےلئےکوئی اقدام  نہ کیاتو ملک کامحفوظ رہناانتہائی مشکل ہوگا،گذشتہ  دنوں   کانپور ،یوپی کےایک سرکاری شیلٹر  ہوم میں 50سےزائد بچیاں   کروناپازیٹو پائی گئی  جس میں کئی ایک حاملہ بھی ہیں،اس سےقبل  بہارکےمظفرپور کےشیلٹرہوم کاواقعہ بھی ملک کےسامنےآیاتھا،اب کانپور  کاواقعہ  یہ ظاہرکرتاہےکہ ریاستی ومرکزی حکومتیں کس قدر غیرذمہ داری کامظاہرہ  کررہی ہے،کیایہ واقعات  ملک کی تعمیر میں معاون  ہوں گے؟لداخ میں چین نےہمارے20جوانوں  کوشہیدکردیا80سےزائد زخمی اورکئی درجن لاپتہ ہیں ،اتنابڑاسانحہ ہونےبعدبھی حکمراں طبقے پرکوئی  اثرنہیں،انکےچہرےپرذرابھی شکن نہیں ،وزیراعظم مودی نےانتہائی بےشرمی کےساتھ آل  پارٹی  میٹنگ میں جھوٹ  بولااورملک کویہ کہہ کرگمراہ کیاکہ "ہماری سرحدپرکسی کا قبضہ نہیں  ہوااورنہ ہی کوئی ہماری سرحدمیں گھسا"سوال یہ  ہےکہ پھرہمارےفوجیوں کوکیسےنشانہ بنایاگیا؟جبکہ حقیقت اسکےبرعکس ہےاوردرست  بات یہ  ہےکہ چین  نےہماری سرحدمیں گھس کرفوجیوں کو مارابھی   اورقبضہ بھی کیا،پھراس سےانکارکیوں ہے؟اب   اسکی   جواب دہی  کون کرےگا؟کہاں  گیاوہ بھاشن جس میں کہاجاتاتھاکہ"ہماراسینہ 56انچ کاہے،ایک  کےبدلےدس سرلائیں گے"آخراس پرعمل آوری کب ہوگی؟کہاں  گیایہ 56انچ کاسینہ؟ان لوگوں کےدل میں اتنی جگہ بھی نہیں کہ ایک ایسے وقت جبکہ  یہ معاملہ رونماہوااورملک  بھرمیں غم کی لہردوڑگئی ،لوگوں میں ایک اضطراب پیدا ہوگیا،و زیراعظم نےآل پارٹی  کی میٹنگ بلائی اس میں تمام پارٹیوں  کوآخرشامل کیوں نہیں کیاگیا؟ایم آئی ایم،آرجےڈی،عام آدمی  اوردیگرپارٹیوں کوآخرکس بنیادپرآل پارٹی میٹنگ میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی؟کیوں انھیں میٹنگ سےدوررکھاگیا  ؟کیایہ پارٹیاں  اورانکی سرگرمیاں ملک مخالف ہیں؟بات دراصل یہ ہےکہ ا نکی نیت میں فتورہے،خودغرضی اورمفادپرستی سےاوپراٹھ کریہ سنگھی لوگ نہیں سوچ سکتے،ورنہ اگریہ مخلص ہوتے،انھیں ملک کی فکرہوتی اورانکادل صاف ہوتاتو یہ تمام پارٹیوں  کومدعوکرتے،کچھ لوگوں  کاکہناہےکہ آل پارٹی میٹنگ میں صرف انہی پارٹیوں  کومدعوکیاگیاجسکے کم سےکم ممبران  کی تعدادپانچ تھی حالانکہ  یہ بات بالکل غلط ہے،اگریہی بات ہوتی توپھر مایاوتی کی پارٹی کوکیوں  شامل کیاگیا؟انکےممبران کی تعدادکتنی ہے؟
خلاصہ یہ ہےکہ ملک  کےلئے،اقتدارمیں بیٹھےلوگوں کی نیت صاف نہیں ہے،جامعہ ملیہ کی 27سالہ طالبہ  اورسماجی کارکن،صفورہ زرگرکو عدالت نے انسانی بنیاد پرمشروط ضمانت دینےکافیصلہ  کیا،اب انکورہاکردیاگیاہے،انکو10اپریل کو گرفتار کرکےتہاڑجیل میں قیدکیاگیاتھا،ان پریہ جھوٹاالزام لگایاگیاکہ دہلی فساد بھڑکانےمیں انکاہاتھ ہے،وہ 23ہفتےکی حاملہ ہیں،انکی گرفتاری کےبعدسےہی  ملکی اورعالمی سطح پرتشویش  کااظہارکیاجارہاتھا،انتہاء پسندوں  کی جانب سےصفورہ زرگرکے حمل کولیکر سوشل میڈیاپرلگاتارانکی کردارکشی کی جارہی تھی،بہرحال کافی جدوجہد کےبعدانکو تورہاکردیاگیا،لیکن ہمیں یہ سمجھناہوگاکہ کیاانکی رہائی کافی ہے؟ملک بھرکی جیلوں  میں ہزاروں معصوم مسلم نوجوان جو اب تک قیدہیں انکی رہائی کب ہوگی؟یواےپی اے کےتحت جن ہزاروں  لوگوں  کوپھنسایاگیاانکاکیاہوگا؟انکےمستقبل کاکیاہوگا؟اس پرہمیں سنجیدگی سےغورکرنےکی ضرورت ہے،ملک کی پولس کایہ دوہرا رویہ کتناافسوسناک ہےکہ  ایک طرف حزبِ المجاہدین  کےدہشت گردوں  کو پناہ دینےوالےاورپارلیمنٹ پردہشت گردانہ حملہ  وپلوامہ اٹیک میں  ملوث  ملزم اور جموں  وکشمیرکےسابق ڈی ایس پی  دیوندر سنگھ  کو دہلی عدالت نے ضمانت  پررہاکردیا،انکی رہائی  کی وجہ  یہ ہےکہ  دہلی پولس کی اسپیشل  انویسٹی  گیشن ٹیم 90دنوں  کے اندر ملزم کےخلاف چارج شیٹ داخل کرنےمیں ناکام رہی،اسی کوبنیاد بناکرکورٹ  نےملزم کی ضمانت  منظور کرلی،دوسری جانب دہلی فساد کےدوران تشدد کےمزید دومعاملوں میں دہلی پولس کی خصوصی سیل  نےعام آدمی پارٹی کےمعطل کونسلر ،طاہر حسین  کےخلاف چارج شیٹ داخل کردی ہے،کیاآپ ان دونوں  واقعات سے اندازہ   نہیں لگاسکتے کہ  اگرکوئی معاملہ مسلمانوں   سےمتعلق  ہوتواس میں ملک کی حکومت ،عدالت ،پولس اوردیگرادارےوایجنسیاں  کتنی متحرک  ہوجاتی ہیں،مسلمانوں  پرشکنجہ کسنےکےلئےانکےپاس کتنی جلدبازی ہوتی ہے؟کیایہ  حیرت انگیز نہیں ہےکہ  ملکی سلامتی جیسےحساس  معاملے میں  تین مہینے میں بھی   ملک کی  متعصب اورفرقہ پرست پولس  ،ملزم کےخلاف  کوئی چارج شیٹ داخل نہیں  کرپاتی،انھیں ملزم کےخلاف کوئی  ثبوت   ہاتھ نہیں لگتا،اوریہ پولس اطمینان  سے اسکی رہائی  کاراستہ صاف کردیتی ہے،کیونکہ یہ مسلم نہیں ہیں،اگرانکی جگہ کوئی  مسلم ہوتاتب بھی پولس کارویہ یہی  ہوتا؟ذراسوچئے اورغورکیجئے،دہلی فساد کےاصل مجرم ،کپل مشرا،انوراگ ٹھاکر جیسےلوگ آزاد گھوم رہےہیں انکےخلاف کوئی  کارروائی  نہیں،کیوں  کہ مسلمان نہیں ہیں،اگرمسلمان ہوتےفوری  طورپربھارت کاسسٹم حرکت میں آجاتااورمسلمانوں کےکارروائی ہوجاتی،ایک سنگھی اینکر ڈیبٹ  کے بہانے اول فول بکتاہے،سلطان  الہند خواجہ اجمیری  ؒ کی شان میں گستاخی کرتاہے،پورے ملک میں انکے خلاف ایف  آئی آر کرائی گئی،کئی درجن ایف آرہونےکےباوجود اب تک  اسکے خلاف کوئی   کارروائی  نہیں  ہوئی اور یہ اب تک آزاد گھوم رہاہے،ملک کےلئے ایک مشکل وقت یہ بھی ہے کہ اب  چین کےساتھ  نیپال اور بنگلہ دیش جیسے چھوٹے  ممالک بھی  اب ہمارے ملک کوآنکھ دکھانےلگے ہیں،پاکستان  سےکشیدگی برقرار ہے،سری  لنکا پہلے سے ناراض ہے ایسے میں بھارت کامستقبل  پڑوسیوں  کےبغیر کیساہوگا؟اور کیااس طرح  ملک محفوظ  رہ سکتاہے؟کورونا اور لاک  ڈان   سےملک  کی عوام پریشان  ہے،غریب بھوکے مررہے ہیں،خودکشی کررہےہیں،  کروڑوں  لوگ بےروزگار  ہیں،لیکن ڈیزل  اورپٹرول کی قیمتوں  میں مسلسل اضافہ  کیاجارہا ہے،مسلمانوں  کی لنچنگ کاسلسلہ بھی جاری ہے،لیکن اس کےخلاف کوئی آواز اٹھانےوالانہیں،ابھی دوچاردن قبل ،دیوبند کےقریب ایک  گاؤں  میں ایک  مسلم غریب کو ہندو دہشت گردوں   کی ٹیم نے گھیرکرموت کےگھاٹ اتاردیا،لیکن  مجرم ابھی  بھی  آزادہیں ،ملک
  کاسسٹم مفلوج  ہوچکاہے،یاکردیاگیاہے،
ایسےوقت میں ہمیں  سوچنا ہوگا،غوروفکر کرناہوگا منصوبہ  بندی کرنی ہوگی اگرہم بھارت میں رہنا چاہتے ہیں ،  ہم اب  بھی خواب غفلت میں رہےتو پھر دوسرااسپین بننے کےلئے ہمیں تیاررہناہوگا،راحت اندوری  نے شاید اسی منصوبہ   بندی اور لائحہ عمل طے کرنے کےلئے  رہنمائی  کی ہےکہ
آنکھ میں پانی رکھو،ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں   بہت ساری رکھو

(مضمون  نگار کل ہند معاشرہ  بچاؤ تحریک  کے جنرل سکریٹری  ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com

بنکر مخالف حکم نامہ کے خلاف ایک جولائی سے پاورلوم کی ہڑتال: حاجی افتخار ٹانڈه/امبيڈکرنگر:25/جون 2020 آئی این اے نیوز رپورٹ! معراج احمد انصاری

بنکر مخالف حکم نامہ کے خلاف ایک جولائی سے پاورلوم کی ہڑتال: حاجی افتخار 

ٹانڈه/امبيڈکرنگر:25/جون 2020 آئی این اے نیوز
رپورٹ! معراج احمد انصاری
یوگی حکومت کے خلاف بڑے آندولن کی تیاری، فلیٹ ریٹ پاس بک اسکیم کے خاتمے سے بنکر ہیں پریشان، ایک جولائی سے پاورلوم کارخانوں کا مکمل لاک ڈاؤن کرنے کا کیا اعلان، تفصیلات کے مطابق اترپردیش بنکرسبھا کے صدر و نگرپالیکا ٹانڈہ کے سابق چیئرمین حاجی افتخار احمد انصاری کی قیادت میں پاورلوم بنکروں نے ضلع مجسٹریٹ کےمعرفت یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے نام میمورنڈم پیش کیا ہے۔ جس میں پاورلوم پر ملنے والی بجلی فلیٹ ریٹ پاس بک اسکیم کے خاتمے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے ایک جولائی سے پاورلوم ہڑتال کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اسی کے ساتھ ہی حکومت سے اس اسکیم کو بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اترپردیش بنکر سبھا کے صدر حاجی افتخار احمد انصاری نے بتایا کہ پردیش کے پاور لوم بنکروں کی فلاح و بہبود کے لئے کسانوں کی طرح  پاور لوم بنکروں کو بھی 2006 سے ریاستی حکومت کی طرف سے فلیٹ ریٹ بجلی دئے جانے کا حکم جاری کیا گیا تھا، لیکن موجودہ صوبائی حکومت اس حکم نامے کو ختم کر کے بتاریخ 4 دسمبر 2020 کو نیا حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔انہوں نے کہا  کہ یہ حکم نامہ پاورلوم بنکروں کے مفاد کے خلاف ہے۔محکمہ بجلی کے ذریعے بنکروں کا بڑے پیمانے پر استحصال اور ہراساں کیا جائےگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس نئے حکم نامے کے خلاف پورے ضلع میں پاورلوم ایک جولائی سے بند رہینگے۔ ایک ہفتے کے بعد بندی کا جائزہ لینے کے بعد مزید آگے بڑھایا جائےگا۔ جس کی اطلاع حکومت و انتظامیہ کو دے دی گئی ہے۔ انہوں نے اس صنعت سے منسلک تمام افراد سے گذارش بھی کی ہے کہ اس بند کی حمایت کریں تاکہ اس کی گونج حکومت کے حلقوں میں سنائی دے۔ اسی کے ساتھ ہی ریاست کے سبھی بنکر مراکز پر پاورلوم بند کرکے بنکر مخالف حکم نامہ کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔

کورونا کے دور میں آن لائن کلاسس حصول تعلیم کا بہترین ذریعہ۔ فیروزہ تسبیح

کورونا کے دور میں آن لائن کلاسس حصول تعلیم کا بہترین ذریعہ۔ 

فیروزہ تسبیح

آج جب کہ بچوں کی آن لائن کلاسس شروع ہو چکی ہیں اور مذید شروع ہونے کو ہیں تو لوگوں میں یہ آن لائن کلاسس چرچے کا باعث بنی ہوئی ہیں کہی یہ آن لائن کلاسس بچوں کی ترقی و ترویج کے لئے اچھی تکنیک سمجھی جا رہی ہے تو زیادہ تر لوگ اس موضوع پر آپس میں اور شوشیل میڈیا پر یہ بھی کہتے پائیں جارہے ہیں کہ بچوں کی تعلیم کا یہ طریقہ کار بلکل غلط ہے۔ جن بچوں کو ہم ڈیوائس (موبائل) سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان سے دور رہنے کی تربیت اور ہدایت دیتے ہیں انہیں ہی ہم آن لائن تعلیم کے لئے موبائیل ان کے ہاتھ میں دیں اور لیپ ٹاپ ان کے حوالے کر دیں تو یہ  اس مصداق کے ہوگا کہ" آ بیل مجھے مار"  یعنی ہم خود ہو کر اپنی اولاد کو موبائل نام کے فتنے سے متعارف کروائیں گے دوسری صورت میں ہر جانب سے ہم پریشانی میں آجائیں گے، مطلب ہمارے بچوں کو موبائل استعمال کرنے کی پوری آزادی ملےگی اور وہ موبائل کے عادی ہو جائیں گے اوپر سے آنکھیں اور صحت پر بھی مضر اثرات پڑنے کا خدشہ لاگو ہو گا۔
یہ ساری باتیں سولہ آنے سچ اور حقیقت پر مبنی ہے اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگ اس بات سے متفق بھی ہونگے پر اس بات کو شرف قبولیت دیتے وقت لوگ یہ بھی ضرور سوچیں گے کہ ویسے بھی بچے کہا کسی کی سنتے ہیں، سارا دن موبائل کو ہاتھ میں لئے اسکرین کو تکا کرتے ہیں۔ ہاتھ سے لے لو تو بغاوت پر اتر آتے ہیں،  نہ دو تو بور ہو کر چڑچڑا پن دکھاتے ہیں۔ ویسے بھی آج لوگوں نے اپنے گھروں کے ماحول کو یکسر بدل دیا ہیں۔ گھر میں صرف بچے اور ان کے ماں باپ ہی رہتے ہیں، دادا دادی جو بچوں کے لئے  بہترین دوست، تجربہ کار، سمجھدار اور  بےلوث محبت کے حامل عمدہ تربیت کا ادارا ہوتے ہیں، انہیں پہلے ہی سے گھر سے نکال گاوں میں یا دو سرے کسی گھر میں آرام کی زندگی کے ساتھ شفٹ کرا دیا جاتا ہے تا کہ بچے ان کے ساتھ ٹائم پاس کر کے اپنی پڑھائی کا نقصان ناکریں اور والدین جب پڑھائی کی سختی دکھائیں تو دادا دادی بیچ میں دخل دے کر بچوں کو سر پر نا چڑھا لیں، افسوس اس قسم کی سوچ سے آج زیادہ تر گھرانوں کے دادا دادیوں کو اپنے پوتوں اور پوتیوں کے ساتھ نہیں رکھا جاتا ہیں۔
 اب آپ ہی بتائے ایسے جیل نما گھر میں جہاں جیلر بنے والدین اپنے کاموں میں مصروف ہو اور بچوں کو صرف پڑھائی کا حکم دیتے رہتے ہو کیا بچے نفسیاتی طور پر صحت مند رہ سکتے ہیں ؟ بلکل نہیں، ظاہر سی بات ہے انہیں بورنگ تو ہوگی ہی جو سیدھے ان کے برتاو میں چڑچڑاپن لے آتی ہیں۔ اور ایسے میں جب بھی انہیں موقع ملتا ہے وہ اپنے والدین کے اسمارٹ فون کو اٹھا کر اپنی وقت گزاری کا دلچسپ ذریعہ بنا  لیتے ہیں اور والدین دیکھ کر ان دیکھا کر دیتے ہیں اور جان بوجھ کر انجان بن جاتے کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے بچہ اپنے خالی وقت میں کچھ وقت گزاری کا طلب گار ہے جب کہ والدین جانتے بھی ہوتے ہیں کہ بچہ موبائیل پر کس چیز کا طلب گار ہے پھر بھی کچھ وقت کے لئے انہیں موبائل کی کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے اور یہ ہی وہ غلط سمجھوتا ہوتا ہے جو بچوں کو موبائل کے برے اثرات میں ملوث کر اس فتنے کا عادی بنا دیتا ہے پھر چاہے وہ گیمس ہو، فلمیں یا سیریلس ہو، کوئی Tik tok جیسا فحش اور غلط تربیت کا ایپ ہو، پورا کے پورا گوگل نام کے دجال سے جڑا موبائیل نام کا شر بچوں کے لئے مضر صحت اور مستقبل کی بربادی ہی ثابت ہوتا ہیں ۔ اوپر سے آنکھوں کی کمزوری کا وارد ہونا ایک الگ مسئلہ ہوتا ہے۔ کھیل کود میں حصہ نہ لے کر جسم میں موٹاپا لے آنا اور ایک  بڑا مسئلہ ہے، سارا دن خاموش اسکرین کو گھورنا بھی ایک سنگین مسئلہ بن جاتا ہے  یعنی لگاتار موبائل کی اسکرین کو ایک ٹک  دیکھنے سے بچوں میں قوت گویائی کم ہو جاتی ہے اور  بات کرنے کا لحجہ بگڑ جاتا ہے، کم بولنے کی وجہ سے جب کبھی بچے کچھ بولتے ہیں تو ان کا انداز بیاں تو عجیب سا ہوتا ہی ہے اوپر سے کچھ ہکلا کر بھی بولتے ہیں۔
موبائل کے گیمس تو اتنے خطرناک ہوتے جا رہیں ہیں کہ بچے گیمس کے جنون میں خاموشی سے کسی کو کانوں کان خبر نہ دیتے ہوئے  اپنی جان تک گنوا دیتے ہیں اور یہ کوئی نئی اور چونکا دینے والی بات نہیں ہے بلکہ یہ خبریں اکثر اخبارات میں سرخیاں بنی ہوتی ہیں۔
ایسے میں یہ آن لائن کی تین گھنٹہ پڑھائی بچوں کی صحت کے لئے کچھ مضر ضرور ہے پردوسری فحش سائٹس کے بمقابل زیادہ بہتر ہے۔
چھوٹے بچوں کے لئے چونکہ موبائل ڈیوائس ایک خطرہ ہی ہے اس لئے ان بچوں کے والدین آن لائن کلاسس سے خود اپنے بچوں کی اسٹڈی حاصل کر لیں اور آن لائن حاصل کی گئی پڑھائی وہ اہنے بچوں کو پڑھا لیا کریں اس سے ہو گا یہ کہ بچے موبائل سے دور رہیں گے، والدین خود آن لائن جو تعلیم لیں گے اس سے ان کی معلومات اور تعلیمات میں تو اضافہ ہوگا ہی پر مذید ان کو یہ بھی پتہ چلے گا کہ ان کے بچے کیا پڑھتے ہیں اور  بچوں کو کس طرح پڑھایا جاتا ہے، اور سب سے بڑھکر بچوں کو اپنے والدین کا کچھ دیر قریبی ساتھ ملےگا جس کے سبھی بچے متمنی ہوتے ہیں ۔
اب رہا اسکولوں کے کھلنے کا مسئلہ، چونکہ کورونا وائرس اس وبا سے لوگوں کو  ابھی تک پوری طرح  نجات حاصل  نہیں ہے اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ امسال اسکولوں کو بند ہی رکھا جائیں اور بچوں کی آن لائن پڑھائی پر توجہ مبذول کرادی جائے۔
وزیر تعلیم محترمہ ورثا گائیکوارڈ اس بات پر غور و خوض کرے کہ ملک کے بچے اپنے ملک کے  لئے سنہرا مستقبل کہلائے جاتے ہیں ساتھ ساتھ وہ اپنے والدین کا سہارا اور نام لیوا ہوتے ہیں اور ان سے ہی نسل آگے بڑھتی ہے۔ آج کورونا کے ہوتے ہوئے چاہے کتنے ہی اچھے انتظامات،احتیاط اور سہولتوں کے ساتھ گر اسکولوں کو کھولا گیا تو بلا شبہ یہ فیصلہ بچوں اور والدین کے ساتھ پورے ملک کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے یعنی اس تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کا ملک کو مذید خدشہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی بچے پڑھائی میں تیز  ہوتے ہیں اور ایک سال سے کوئی خاصہ فرق بھی نہیں پڑ نے والا ہے کیونکہ آن لائن کلاسس تو جاری ہی رہیں گی، اس لئے اس سال آن لائن پڑھائی اور اگلے سال ۲۰۲۱ سے اسکول کی پڑھائی کا آغاز انشا اللہ بچوں کے شاندار مستقبل کی ایک  نئی اور بہترین شروعات ثابت ہو نگی۔

نسلی تعصب مفتی محمد ثنائ الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ

نسلی تعصب
مفتی محمد ثنائ الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ
۲۵مئی ۲۰۲۰ء کو جارج فلوئیڈ مینے سوٹا میں ڈریک شوون کے تشدد کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھا، ڈریک شوون نے آٹھ منٹ چھیالیس سکنڈ تک اس کا گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا ، وہ بار بار کہہ رہا تھا کہ میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں، میرا دم گھٹ رہا ہے (I CAN NOT BREATH)ٰؒلیکن اس گورے پر نسلی عصبیت اس قدر غالب تھی کہ اس کالے کی وہ ایک بھی سننے کے لیے تیار نہیں ہوا، بات معمولی سی تھی جارج فلوئیڈ نے ایک ڈبہ سگریٹ لیا تھا اور دوکاندار نے بیس ڈالر کے اصلی نوٹ کو جعلی سمجھ کر اسے پولیس کے حوالہ کر دیا تھا ۔
 امریکہ کے تیرہ فی صد سیاہ فام باشندوںنے اس ظلم کو برداشت نہیںکیا اور سڑکوں پر نکل آئے، امریکہ کے ہر بڑے شہر میں اجتماع، مظاہرے ہوئے، عام زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ، مظاہرین وہائٹ ہاؤس کے قریب جمع ہو گیے اور امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بال بچوں کے ساتھ ڈھائی گھنٹہ تک بیرک میں چھپنا پڑا، ڈونالڈ ٹرمپ کے الٹے سیدھے بیان پر ایک پولس افسر نے انہیں کہا کہ’’ اگر آپ کچھ اچھا بول نہیں سکتے تو اپنی زبانیں بند ہی رکھیے‘‘۔ فرانس اور کناڈا میں بھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند ہو رہی ہے ۔
 امریکہ میں پولیس کے ذریعہ ظلم کی یہ پہلی کہانی نہیں ہے ، ’’میپنگ پولیس وائلنس ‘‘ ویب سائٹ کی معلومات کو صحیح قرار دیں تو امریکہ میں روزانہ تین افراد اوسطا پولیس کی گولی سے مرجاتے ہیں، 2019ء میں دس سو ننانوے1099 افراد پولیس کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، تیرہ13 فی صد ہونے کے با وجود مرنے والوں میں سیاہ فام لوگوں کا تناسب چوبیس فی صد تھا۔نسلی تعصب کی وجہ سے یہاں انسانی حقوق کی کھلے عام خلاف ورزی ہوتی رہی ہے ، چاہے 1921ء کا ٹلسا فساد ہو یا 1919ء کا شکاگو فساد، 1443 ئ میں ڈیٹڈ رائٹ فساد ہو یا 1963ء کا نیو یارک تشدد، سب کی جڑمیں یہی نسلی تعصب کا رفرما رہا ہے۔
 امریکہ میں نسلی تعصب اس قدر شدید ہے کہ جو لوگ اس کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں انہیں بھی ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے ، امریکہ میں غلامی کے خاتمہ کے سو سال بعد28 اگست 1963ء کومارٹن لوتھر کنگ جونیرنے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور ان کی شہرہ آفاق تقریر ’’میرا ایک خواب ہے‘‘ کو سننے کے لیے ڈھائی لاکھ لوگ واشنگٹن ڈی سی میں جمع ہوئے تھے، لیکن 1968ء میں مارٹن لوتھر موت کے گھاٹ اتار دیے گیے ، سابق صدر بارک اوباما کا تعلق گوروں کی نسل سے نہیں تھا، ایسے میں امید بندھی تھی کہ حالات بدلیں گے اور ان کے دور اقتدار میں نسلی تعصب اختتام کو پہونچے گا ، لیکن وہ بھی اس پر قابو نہیں پا سکے ، ان کے عہد حکومت میں نسلی تعصب کے خلاف کام کرنے والے ایرک گارنر کو بھی جارج فلوئیڈ کی طرح ہی مار ڈالا گیا تھا اور اس کے بھی آخری الفاظ یہی تھے کہ’’ میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں‘‘۔
 اس مظاہرہ کا ایک قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میںجو پلے کارڈ اٹھارکھا تھا ، اس میں بعض پر لکھا ہوا تھا کہ ’’ ہم عرب نہیں کہ مارتے رہو اور خاموش رہیں (WE ARE NOT ARABS TO KILL US AND KEEP SILENT) á یہ جملہ عربوں کی صحیح صورت حال کی عکاسی کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ عرب والے مغرب سے کس قدر خوف زدہ ہیں کہ ایسے موقعوں سے آواز ان کے گلے میں دب جاتی ہے ، اس پلے کارڈکا مطلب یہ ہے کہ ہم بزدل نہیں ہیں اور ہم عربوں کی طرح اپنے ساتھیوں کی موت پر خاموش نہیں رہ سکتے ہیں۔
امریکہ میں دستوری طور پر کالوں کو مساویانہ حقوق دیے گیے ہیں، ابراہیم لنکن کے زمانہ میں1861سے 1865ء تک امریکہ میںجو خانہ جنگی ہوئی اس کی بنیاد بھی سیاہ فام شہریوں کے حقوق تھے، یہ لڑائی زمانہ دراز تک جاری رہی اور بالآخر 1996ء میں سیام فام تمام شہری حقوق کے حصول میں کامیاب ہو گیے ، لیکن امریکہ کے گوروں کی ذہنیت نہیں بدلی، وہ آج بھی سیام فام لوگوں کو اپنے سے الگ سمجھتے ہیں اور ان کو پریشان کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔
یہی حال اسرائیل میں یہودی ، مینمار میں بدہسٹ ، جرمن میں نازی اور ہندوستان میں برہمنوں کا رہا ہے ، ان کے نسلی تعصب اور تفاخر نے ان ملکوں میں جو انسانیت کے خلاف طوفان بد تمیزی برپا کررکھی ہے وہ کسی پڑھے لکھے آدمی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔
 اس ذہنیت کو بدلنے کے لیے اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے ، آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا حجۃ الوداع کے موقع سے خطاب کے اس جملے کو یاد رکھیے کہ کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر اور کسی احمر کو اسود پراور کسی اسود کو احمر پر فضیلت حاصل نہیں، افضل وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے ،رنگ ونسل اور ذات پات کی بنیاد پر اعلیٰ ادنیٰ کی تقسیم اکرام انسانیت کے خلاف ہے، یہ محض خاندان وقبائل کے تعارف کا ذریعہ ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں، واقعہ یہی ہے کہ اللہ کا خوف ، اللہ کی خشیت اور اللہ کا ڈر یہ ’’ماسٹر کی‘‘Master key)ہے ، شاہ کلید ہے، بغیر اس کے نسلی تعصب وتفاخر کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔

Wednesday, 24 June 2020

*تصوف و سلوک کے بے تاج بادشاہ خواجہ معین الدین چشتی ؒ اور نیوز ؍۱۸ کے اینکرکا گستاخانہ رویہ ناقابل برداشت محمد ابوالمحاسن* *

*تصوف و سلوک کے بے تاج بادشاہ خواجہ معین الدین چشتی ؒ اور نیوز ؍۱۸ کے اینکرکا گستاخانہ رویہ ناقابل برداشت محمد ابوالمحاسن* *
 ابتدائے آفرینش ہی سے حق و باطل کی معرکہ ٔ آرائی  ہوتی رہی ہے ، حق  ہمیشہ غالب ہوتا رہے ، لیکن حق اور سچ کے خلاف ہمیشہ سازشیں اور پروپیگنڈے کیئے گئے ، حق اور سچ کو چھپانے کی کوشش کی گئیں ، اور اہل حق کے ساتھ  بھید بھاؤ کیا گیا ، چنانچہ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی  جو الفت و محبت ، ہمدردی اور آپسی ہندومسلم بھائی چارگی کا گہوراہ ہے ، وہ بھی تعصب پسندی اور نفرت انگیزی کے زد میں آگیا ، ان خیالات کا اظہار فلاح ملت ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے سکریٹری محمد ابوالمحاسن استاذ جامعہ اسلامیہ سراج العلوم ڈپرکھا تروینی گنج سوپول نے ٹی وی اینکر امیش دیوگن کے ذریعہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمة الله عليه پر کئے غلط تبصرے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ، میڈیا کے نفرت آمیزتہمت سے ہر شخص  واقف ہے ، چنانچہ کبھی مسلمانوں پر گئو کشی کے الزام میں  مسلمانو ں کو ہندوستانی حکومت کی زرخیز غلاموں کے ذریعے ایف آئی آر درج کر کے انہیں پس دیورازنداں کیاگیا، تو کبھی مسلمانوں کے علماء ، مدارس اور تبلیغی جماعت کو بدنام کیا گیا ، ہر مرتبہ مسلمانان ہند خاموش صبر وشکیبائی کا چادر اڑھے  رہے ، افسوس ! جس  کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے اولیا ء میں سے خواجہ معین الدین چشتی کے بارے میں ٹی وی ۱۸ کے اینکر نے بدکلامی کی اور آپ ؒ کو (نعوذ بااللہ؟ لٹیرا چشتی قرار دیاخواجہ معین الدین چشتی ؒ ان تمام تر تہمتوں سے  پاک تھے ، آپ ؒ نہایت ہی شریف النفس ،صوفی وقت  تھے ، آپ ؒ غم گساری و ہمدردی اور انسانیت سازی اور بھائی چاگی کا دل لئے ہوئے اپنے جسم میں گھما کرتے تھے ، جس کی وجہ سے نہ معلوم کتنے لوگ مسلمان ہوئے ، آپ ؒ حد درجہ منکسر المزاج اور متواضع واقع ہوئے تھے ،  مگر افسو س ٹی وی ۱۸؍ کے اینکر نے تعصب پسندی کا لبادہ اوڑھتے ہوئے ان پر الزام سادھا ہے ، جو ناقابل برداشت ہے ، تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ہندوستان کے دستور اور آئین کے آئینہ میں ایف آئی درج کرائین اور میں حکومت ہند سے مطالبہ کرتاہوں کہ ایسے نیوز چینل جو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کر کے مذہبی پیشواؤں پر کیچڑ اچھال کر اپنا کاروبار چلانے کی کوشش کرے ان پرپابندی عائد کی جائے اور ٹی وی اینکر امیش دیوگن پر سخت سے سخت کاروائی کرے

*رد بدعات و رسومات* ✍🏻 از قلم : محمد عادل دربھنگوی


     *رد بدعات و رسومات*
     
✍🏻 از قلم : محمد عادل دربھنگوی

  اس روئے زمین پر سب سے اچھا، سب سے بہتر، سب سے اعلی و ارفع کلام اگر کسی کا ہے، تو وہ اللہ کا کلام (کتاب اللہ) ہے اور زندگی بسر کرنے کرنے کے جتنے طریقہاے کار ہیں، ان میں سب سے بہترین طرز زندگی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز زندگی ہے‚ جن چیزوں سے گمراہی کے امکانات ہو سکتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جڑیں بتا دیں اور فرمایا ”شر الامور محدثاتهاوكل بدعة ضلالة*“ (اس روئے زمین پر بدترین کام وہ ہے جو نئے نئے طریقے سے دین میں ایجاد کیے جائیں) مذکورہ بالا حدیث میں بدترین کا لفظ مذکور ہے‘ چونکہ بدعت ظاہری اور باطنی گناہوں سے بھی بدتر ہے اس لئے کہ ایک ادنیٰ درجہ کا ایمان والا شخص بھی ظاہری گناہ کو گناہ سمجھتا ہے برا سمجھتا ہے مثلاً اگر کوئی اتنا درجے کا مسلمان جھوٹ بولتا ہے شراب پیتا ہے چوری کرتا ہے اور غیبت کرتا ہے اس ادنیٰ درجے کے ایمان والے شخص سے بھی اگر پوچھا جائے کہ یہ کام تمہارے لحاظ سے کیسے ہیں؟ تو وہ مسلمان یہی  جواب دے گا کہ کام تو ہیں ویسے برے لیکن کیا کروں میں عادی ہو گیا ہوں‘ایسے مسلمان کو جو گناہ کو گناہ سمجھتا ہے, اللہ رب العزت بھی اپنے فضل و کرم سے اس کو کبھی نہ کبھی توبہ کی توفیق عطا فرما دیتے ہیں۔
لیکن بدعت یعنی دین میں ایجاد کی گئی نئی چیز میں جو شخص مبتلا ہوتا ہے وہ اس کو گناہ نہیں سمجھتا بلکہ اچھا کام نیک کام سمجھتا ہے اور اگر کوئی دوسرا شخص اس بدعتی سے یہ کہے کہ یہ کام برا ہے، اسے مت کرو، اسے چھوڑ دو تو وہ بدعتی اس سے بحث و مباحثہ اور لڑائی جھگڑا کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے، وہ بدعتی کہتا ہے کہ اس میں کیا نقص ہے کیا خرابی ہے ؟کیا برائی ہے ؟ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی تعلیمات کو ناکافی سمجھنا اور دین میں نئی نئی چیزیں ایجاد کرنا ہی ”بدعت“ ہے روایات میں آتاہے: ”*ياكم ومحدثات الامور فان كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة“ (دین میں نئی نئی نکالی ہوئی باتوں سے اپنے کو  رکھنا ‘اس لیے کہ دین میں نئی نکالی ہوئی ہر بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے) اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کی خالص تعلیمات اور دنیاوی خرافات کے درمیان ایک واضح فرق باقی رکھنے کے لیے صراحت سے ارشاد فرمایا:”من أحدث فى أمرنا هذا ماليس منه فهو رد“ (جو ہمارے دین میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کرے جو اس میں داخل نہیں تھی تو وہ قابل تردید ہے)
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ بدعت کی برائی کو اور سنت کی امتیازی شان کو بلیغ اسلوب میں یوں بیان فرماتے ہیں ”*کہ بدعات درحقیقت دین الٰہی کے اندر شریعت انسانی کی تشکیل اور ریاست اندرون ریاست ہے اس شریعت کی الگ فقہ ہےاور مستقل فرائض و واجبات اور سنن و مستحبات جو بعض اوقات شریعت الہی کے متوازی اور بعض اوقات تعداد اور اہمیت میں اس سے بڑھ جاتے ہیں بدعات اس حقیقت کو نظرانداز کرتی ہے کہ شریعت مکمل ہوچکی ہے جس کاتعین ہونا تھا وہ ہو گیا اور جس کو فرض و واجب بننا تھا وہ فرض یا واجب بن چکا اب جو سکہ اس کی طرف منسوب کیا جائے گا وہ جعلی ہو گا۔
 امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہی خوب فرمایا: *من إبتدع في الإسلام بدعةو يراها حسنة فقد زعم أن محمداً صلى الله عليه وسلّم خان الرسالة فإن الله سبحانه يقول:(اليوم اكملت لكم دينكم)*
 ترجمہ: جس نے اسلام میں کوئی بدعت پیدا کردی اور اس کو وہ اچھا سمجھتا ہے توگویا وہ اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے( نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ) پیغام پہنچانے میں خیانت کی اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے اپنی کتاب قرآن مقدس میں کہ” میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا“ چنانچہ جو بات عہد رسالت میں دین نہیں تھی وہ آج بھی دین نہیں ہو سکتی،جیسے جیسے قیامت قریب آرہی ہے ٹھیک اسی طرح مسلمان دن بہ دن بدعات و خرافات اور رسم و رواج میں مبتلاء ہوتا جا رہا ہےانسان دنیا داری کے کاموں کے قوانین میں کسی بھی طرح کا رد وبدل ہرگز ہرگز برداشت نہیں کرتا وہی بات اگر دین کی ہو، بات اگر شریعت کی ہو تو جھوٹی حکمت اور جھوٹی مصلحت کے نام پر اس میں ردوبدل کرنے کے لیے مسلمان آج سب سے آگے رہتا ہے دین و شریعت اللہ رب العزت کے احکامات ہے جب ہمارے آقا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے احکامات میں ردوبدل کرنے کی اجازت نہیں تو ہم کون ہوتے ہیں۔
 ★بدعت کا صحیح مفہوم★
 آج کل لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر ہر نئی بات بدعت ہے اگر ہر نئی چیز گمراہی ہے تو یہ پنکھا گاڑی اور ٹیکنالوجی کے سازوسامان وغیرہ بھی گمراہی ہے کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھی یہ چیزیں بھی اب پیدا ہوئیں ہے لہٰذا ان کو بھی بدعت کہنا چاہیے ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے بدعت کو جو ناجائز و حرام قرار دیا ہے یہ وہ بدعت ہے جو دین اور شریعت کے اندر نئی بات نکالی جائے اور یہ کہا جائے کہ یہ بھی دین اور شریعت کا جزو اور حصہ ہے جیسے ایصال ثواب دسواں چہلم وغیرہ کے ذریعہ بعض نئی چیزیں تو وہ ہوتی ہے جن کو کوئی بھی شخص دین کا حصہ نہیں سمجھتا جیسے پنکھا لائٹ وغیرہ وغیرہ یہ چیزیں اس لئے بدعت نہیں ہے کہ ان کو کوئی بھی دین کا حصہ اور جزو نہیں سمجھتا اور دین کے جن کاموں کو انجام دینے کا اللہ اور اللہ کے رسول نے کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کیا ان کو جس طرح چاہو ادا کر لو ان کاموں کے لئے جب کوئی خاص طریقہ مقرر کر لیا جائے اور اس طریقے کو دین کا حصہ قرار دیا جائے تو وہ بدعت بن جائے گا یہ بات اگر ذہن میں رہے تو انشاءاللہ برے خیالات خود بخود دور ہو جائیں گے اور ہم خود ہی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ دین ہیں یا یہ بدعت ہے اللہ ہم سب کو بدعات و خرافات اور رسم و رواج سے مکمل طور پر اجتناب کی توفیق عطا فرمائے اور دین و شریعت کی صحیح فہم و فراست ہم سب کو عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین