اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 4 September 2017

شہید کے اعزاز پر گھمسان مچنے کے بعد سماجوادی پارٹی کے کارکنان نے شہید عبدالحمید کی بیوہ کے گھر جا کر دیا اعزاز!


رپورٹ: ایڈیٹر انچیف
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 4/ستمبر 2017) یوپی کے اعظم گڑھ میں گزشتہ 30 اگست کو سابق وزیر اعلی اور سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کی طرف سے ایک پروگرام میں پرمویر ویر چکر فاتح عبدالحمید کی بیوہ رسولن بی بی کے نام پر کسی اور کو نوازے جانے کی صورت میں سماجوادی پارٹی کی کرکری کے بعد کارکنان گھر جاکر  معافی مانگے.
بقرعید کے اگلے دن اتوار کو آناً فاناً سماجوادی پارٹی اعظم گڑھ کے ضلع صدر حولدار یادو، سابق ایس پی راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ نند کشور یادو اور دیگر ایس پی لیڈروں نے رسولن بی بی سے ان کے گھر جا کر مانگی معافی اور رسولن بی بی کو ان کے گھر دلہہ پور غازی پور میں خاندان کے درمیان اعزاز سے نوازا .
غور طلب ہے کہ اعظم گڑھ کے کارگل شہید رام سموجھ یادو کے شہادت کے دن پر پروانچل کے شہیدوں کی بیویوں اور خاندان کو اعزاز دینے کا پروگرام ایس پی کے لوگوں نے پارٹی کے بینر تلے کرایا تھا، جس میں مہمان خصوصی کے طور پر سابق سی ایم اکھلیش یادو نے سب کو نوازا بھی تھا، اس تقریب میں پرمویر ویر چکر عبدالحمید کی بیوہ رسولن بی بی گئی ہی نہیں تھی اور وہاں منتظمین نے ان کے نام پر کسی اور کو اعزاز دے دیا.
رسولن بی بی نے اس بات پر بعد میں جب اعتراض کیا کہ میں تو وہاں گئی بھی نہیں تھی پھر میرا فرضی اعزاز کیوں دیا گیا، پوتے جمیل نے کہا تھا کہ ہمیں کارڈ بھی نہیں ملا تھا پھر وہاں ہم کس طرح جاتے اور پھر بعد میں یہ خبریں دکھائے جانے کے بعد ذرائع بتاتے ہیں کہ اکھلیش یادو نے منتظمین پر ناراضگی ظاہر کی، جس پر آج اعظم گڑھ کے ضلع صدر حولدار یادو سابق ممبر پارلیمنٹ نند کشور یادو، پرمود یادو اور دیگر ایس پی لیڈروں نے رسولن بی بی سے معذرت چاہتے ہوئے منتظمین سے ہوئی بڑی بھول کی مذمت کی اور شہید کی بیوی رسولن بی بی کو شال اور میمونٹو دے کر نوازا اس کے ساتھ ہی شہید کے پوتے جمیل عالم اور سلیم عالم کو بھی میمونٹو دے کر اعزاز سے نوازا.

Sunday, 3 September 2017

عیدالاضحی کے موقع پر گئوکشی کے نام پر لونی کے پرامن فضا کو بگاڑنے کی کوشش، جمعیت علماءہند کے بروقت کارروائی اور پولیس انتظامیہ کے مستعدی سے حالات قابو!


رپورٹ: یاسین صدیقی قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لونی/غازی آباد(آئی این اے نیوز 3/ستمبر 2017) آج اس وقت لونی کے اندراپوری پولیس چوکی کے سامنے افراتفری مچ گئی جب راہل چودھری نیرج ماوی ہرپیت سنگھ نے اپنے سینکڑوں حامیوں کے ساتھ گئوکشی کے نام پر دلی سہارنپور ہائے وے کو جام کردیا اور جے شری رام کے نعرے لگانے لگے جیسے ہی اس کی اطلاع جمعیت علماءہند شہرلونی کو لگی فوراََ پولیس سے رابطہ کیا اور حالات کو کنٹرول کرنے پر دباؤ بنایا اور پولیس نے اپنی مستعدی سے حالات کو کنٹرول کیا.
جمعیتِ علماء کے جنرل سیکریٹری مولانا نزاکت قاسمی نے سی او لونی درگیش سنگھ کو بتلایا کہ مسلمانوں نے کبھی بھی اور بالخصوص عیدالاضحی جیسے مقدس تہوار میں ممنوعہ جانوروں کی قربانی نہیں کی اور نہ ہی غیر ممنوعہ جانوروں کے فضلات کو ادھر ادھر پھینکا بلکہ نگر پالیکا کی طرف سے جو گاڑی بھیجی گئی تھی اس میں ہی ڈالی گئی.
مزید جمعیتِ علماء ہند نے سی او پر دباؤ بنایا کہ ان شرپسندوں کو گرفتار کرکے کیفردار تک پہونچائے تاکہ آئندہ ماحول خراب نہ ہو ۔
اس وفد میں مولانا نزاکت قاسمی حاجی عبدالعزیز قریشی قاری فیض الدین عارف قاری نواب قاری یونس مولانا یاسین صدیقی قاسمی مولانا نظام الدین قاسمی قاری فرمان عارف نعمانی کے علاوہ جمعیتِ کے سینکڑوں کارکنان اور عہدیداران موجود تھے۔

مسلمان اعلی اخلاق کو اپنائیں، تاکہ اسلام دشمن طاقتیں کمزور ہو سکے: مفتی ارشادالحق



رپورٹ:محمد دلشاد قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بٹراڈی/شاملی(آئی این اے نیوز 3/ستمبر 2017) حضرت مولانا مفتی محمد ارشاد الحق صاحب صدرمجلس احرار ضلع پانی پت (ھریانہ) آج اپنی رہائش گاہ  پر تشریف لائے، انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان اپنے اندر تعلیماتِ نبوی کو کماحقہ اتاریں اور اعلی اخلاق  کو اختیار کرے، تاکہ اسلام  دشمن طاقتیں کمزور ہوسکے، کیونکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جس معاشرہ میں مبعوث کیا گیا تھا وہ بڑا ہی جاہل معاشرہ  طبقہ تھا لیکن آپ ص کے اعلیٰ اخلاق سے سب متاثر ہوگئے تھے، انہیں صفات و کمالات کو اپنانا ہوگا تاکہ برادران وطن بھی اسلام کو اپنا سکیں، اور اسلام کو فروغ مل سکے اور دیش سے بدامنی اور بے ایمانی ختم ہوسکے.

دیوبند میں دردناک حادثہ، تیز بارش میں ایک گھر گرنے سے چار افراد ملبہ میں دبے!


رپورٹ: محمد عاصم اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دیوبند(آئی این اے نیوز 3/ستمبر 2017) مسلسل بارش کے نتیجے میں آج مدنی مسجد کے قریب ایک گھر کی دیوار گر گئی، جس  میں راہ چلتے چار لوگ ملبے کے اندر دب گئے، ملبہ ہٹانے تک زخمیوں کی شناخت منی پور کے ایک طالب علم سمیت تین دیگر افراد شامل ہیں.
بتایا جاتا ہے کہ ان دنوں دیوبند و اطراف میں موسلہ دھار بارش ہو رہی ہے جس کے چلتے ایک خستہ حال مکان گر گیا جس کی زد میں راہ چلتے چار افراد آ گئے، خبر لکھے جانے تک آگے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی.

قربانی اور اس کی قبولیت!


محمد سالم قاسمی سریانوی، استاذ جامعہ عربیہ احیاءالعلوم مبارکپور اعظم گڑھ یوپی
salimmubarakpuri@gmail.com
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس وقت پوری دنیا میں "عید الاضحی" کا اسلامی تہوار جاری ہے، لاتعداد مسلمانوں نے اپنے رب کے حضور اپنے قیمتی جانوروں کی قربانی پیش کی ہے، اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان کی قربانیوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔آمین
"قربانی"ایک بہت بڑی عبادت ہے جو اللہ تبارک وتعالی نے امت محمدیہ کو عطا فرمائی ہے، یہ قربانی در حقیقت حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کی قربانی کی یادگار ہے، جو انھوں نے اپنے رب کی خاطر کی تھی، اس قربانی کے فلسفہ میں اپنی ذات کو اللہ کے لیے فنا کرنے اور فدا کرنے کا جذبہ پنہاں ہوتا ہے، اور یہی درحقیقت اس سے مقصود ومطلوب ہے۔
مسلمان بالعموم قربانی کرنے کے بعد اس حوالے سے بے فکر ہوجاتے ہیں کہ ان کی قربانی قبول ہوئی کہ نہیں، جب کہ اعمال وافعال کی ادائیگی کے بعد سب سے زیادہ اسی کی فکر ہونی چاہیے کہ ہمارا کیا ہوا عمل اللہ کے یہاں قبول ہوا کہ نہیں؟ بل کہ عمل کرنے کے بعد اللہ سے دعا  مانگنی چاہیے ، اور اس تئیں قربانی سے پہلے اور بعد میں اپنے دل کو ٹٹولنا چاہیے ؛ تاکہ اخلاص کے ساتھ یہ عمل انجام پاسکے، کہیں ایسا نہ ہوکہ معمولی بے توجہی اور لاپرواہی سے قربانی جیسا عظیم عمل اکارت نہ جائے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ جائیں۔
قرآن کریم نے "قربانی" کے تعلق سے ایک ضابطہ بیان کیا ہے( یہ ضابطہ صرف قربانی کے لیے نہیں ہے؛ بل کہ سارے ہی عمل کے لیے ہے، البتہ یہاں پر صراحۃ بیان قربانی ہی کا ہے) کہ اللہ کے یہاں قربانی کی  روح دل کا تقوی اور اخلاص ہے، نہ کہ ظاہری کوئی اور چیز! ارشاد ربانی ہے: "لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ" (سورہ حج آیت نمبر:37) ''کہ اللہ رب العزت کے یہاں تمہاری قربانیون کا نہ ہی گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی ان کا خون پہنچتا ہے؛ بل کہ اس کے یہاں تمہارے دل کا تقوی پہنچتا ہے۔" علامہ بغوی ؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: "ولكن ترفع إليه منكم الأعمال الصالحة والتقوى، والإخلاص وما أريد به وجه الله"(تفسیر البغوي)  "کہ اللہ کے یہاں تمہارے نیک اعمال، تقوی، اخلاص اور وہی چیزیں پہنچتی ہیں جن سے مقصود اللہ کی رضا وخوش نودی ہوگی۔"
اس لیے قربانی کے موقع پر پہلے بھی اور بعد میں بھی اپنے دل کو ٹٹولتے رہنا چاہیے کہ اس عمل سے ہمارا مقصود کیا ہے؟ اللہ کی رضا ہے کہ نہیں؟ کہیں اور کوئی دنیاوی غرض تو اس میں  شامل نہیں ہے! قربانی جیسے عظیم عمل میں ہر موڑ پر ریاکاری اور نام ونمود کا خطرہ رہتا ہے،اور شیطان بھی ہمہ وقت اسی فکر میں لگا رہتا ہے کہ کسی طرح مسلمان کے اس عمل کو اکارت کیا جاسکے، اس لیے وہ نیت ورادے ہی پر حملہ کرتا ہے اور اس میں اخلاص وتقوی کے علاوہ دیگر چیزوں کی آمیزش کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اگر ہم نے اس طرف توجہ دی تو ان شاء اللہ ہماری قربانی اللہ کے حضور قبول ہوگی اور اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ واللہ الموفق وھو المستعان

روز کرتا تھا لڑکیوں سے چھیڑ خانی، جب ملاقات کیلئے گاؤں پہنچا تو دیہاتیوں نے دبوچا!



رپورٹ: وسیم شیخ
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
جہانا گنج/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 3/ستمبر 2017) فون پر لڑکیوں کو پریشان کرنے والے دو نوجوان جمعہ کی رات لڑکیوں کے گاؤں ملاقات کیلئے پہنچ گئے، اس کی بھنک پاکر دیہاتیوں نے انہیں گھیرابندی کر پکڑ لیا، نوجوانوں کی جم کر دھنائی کے بعد دیہاتیوں نے انہیں پولیس کے حوالے کر دیا، واقعہ جہاناگنج علاقے کے مولناپور گاؤں کا ہے.
موصولہ خبر کے مطابق مولناپور گرام رہائشی دو لڑکیوں کو گزشتہ کئی دنوں سے موبائل فون پر کال کرکے پریشان کیا جا رہا تھا، اس بات کی معلومات انہوں نے اپنے اہل خانہ کو دی، رشتہ داروں کی طرف سے منچلے نوجوانوں کو فون کیا گیا تو انہوں نے ان سے نامناسب طریقے سے بات کی، اس بات کی شکایت لے کر متاثرہ فریق جہاناگنج تھانے پہنچے، تھانے پر موجود پولیس اہلکار نے جب فون کرنے والے نوجوانوں سے مذاکرات کیا تو اس کے ساتھ بھی بے حیائی کی گئی، اس کے بعد مایوس لواحقین واپس گھر لوٹ گئے، جمعہ کی رات دونوں منچلے نوجوان لڑکیوں سے ملاقات کرنے کے لئے مولناپور گاؤں پہنچ گئے، اس بات کی معلومات گاؤں کے لوگوں کو ہوئی تو دونوں کو گھیرابندی کر پکڑ لیا گیا، دیہاتیوں نے دونوں نوجوانوں کو جم کر پیٹا اور انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا.
پکڑے گئے ملزمان میں شيام سندر گرام پرمیشورپور تھانہ سدھاری اور نرسنگھ گرام دیويت تھانہ مینہ نگر کے رہائشی بتائے گئے ہیں، ہفتہ کو ملزمان کے خلاف متاثرہ فریق کی طرف سے تھانے میں تحریر دی گئی، پولیس کارروائی میں جٹ گئی ہے.

برما کی حکومت مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو روکیں: مولانا محمد علی نعیم رازی


رپورٹ: محمد عاصم اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نجیب آباد(آئی این اے نیوز 3/ستمبر 2017) نجیب آباد کے نوجوان عالم دین مولانا محمد علی نعیم رازی فاضل مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور نے پریس جاری کر ایک بیان میں برما کے مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کا بدترین قتل عام قرار دیا.
مولانا محمد علی نعیم رازی نے اپنے بیان میں کہا کہ برما کی فوج جس طرح مسلمانوں کی نسل کشی کررہی ہے وہ نہایت ہی بزدلانہ اور ناقابل برداشت ہے، برما کی حکومت اور ظالم فوج کو یاد رکھنا چاہئے کہ تمام حکومتوں سے بالاتر بھی ایک حکومت ہے جو ظالموں کو تہس نہس کرنے کی قدرت رکھتی ہے.
مولانا رازی نے کہا کہ بدھسٹ قوم خود کو سب سے زیادہ پرامن قوم ہونیکا دعوٰی کرتی ہے لیکن ان مظالم سے اسکے جھوٹے دعوے کی قلعی کھلتی ہے.
مولانا محمد علی نعیم رازی نے انسانیت کے  علمبرداروں کی مجرمانہ خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے سوال کیا کہ اسوقت کیوں نہیں ان لوگوں کی انسانیت کی شہ رگ پھڑکتی ہے؟
مولانا محمد علی نعیم رازی نے سوال کیا کہ آخر انسانیت کا یہ دوہرا معیار کیوں ہے؟
مولانا نے کہا کہ اسوقت مسلمان کاخون پورے عالم میں پانی سے بھی ارزاں ہوچکا ہے.
آخر میں مولانا نے عالم اسلام کے قائدین سے مطالبہ کیا کہ وہ سب ملکر اس قتل عام کے خلاف کوئ لائحہ عمل تیار کریں اور بدھسٹ حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اس قتل عام کو روکیں اور ظالموں کو کیفرکردار تک پہنچائیں.

شہید کے اعزاز پر مچا گھمسان، اہل خانہ نے کہا کہ توہین کی جارہی ہے!


رپورٹ: ایڈیٹر انچیف
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سگڑی/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 3/ستمبر 2017) کارگل شہید رام سموجھ یادو کے مجسمے کی نقاب کشائی کے موقع پر 30 اگست کو سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کی جانب سے کئے گئے شہیدوں کے اعزاز کو لے کر گھمسان ​​مچا ہے.
ایک طرف شہید عبدالحمید کے خاندان کی جانب سے پروگرام میں نہ آنے پر بھی رسولن بی بی کے نام پر کسی کو عزت پر اعتراض ظاہر کیا گیا ہے، وہیں اناؤنسر کی غلطی کو طول دے کر بدنام کرنے پر شہید بھگوتی سنگھ کے خاندان نے اسے شہیدوں کی توہین بتایا ہے.
30 اگست کو انجانشہيد کے پاس نتھوپور میں کارگل شہید رام سموجھ یادو کے مجسمے کی نقاب کشائی میں سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کی جانب سے شہیدوں کے اہل خانہ کو اعزاز سے نوازا گیا.
آرگنائزر شہید رام سموجھ کے بھائی پرمود یادو کے مطابق پروگرام میں کل 37 شہیدوں کو خاندانوں کو اعزاز کے لئے مدعو کیا گیا تھا، اس میں غازی پور کے  شہید ویر عبدالحمید کی بیوی رسولن بی بی کو بھی مدعو کیا گیا تھا.
پرمود کے مطابق انہوں نے خود رکچھا بندھن کے دن دلہہ پور پر انکے پٹرول پمپ سے پر گئے تھے وہاں انہوں نے فون پر انکے پوتے سلیم سے بات کرنے کے بعد دعوت نامہ چھوڑ گئے تھے.
انہوں نے ساتھ لیکر آنے کی بات بھی کہی تھی، 28 اگست کو بھی سلیم سے فون پر بات ہوئی تھی، جس میں انہوں نے رسولن بی بی کی طبیعت خراب کی بات تو بتائی تھی، لیکن ٹھیک ہونے پر لے کر آنے یا خود آنے کی بات کہی تھی.
کیسے پھیلی یہ بات!
شہیدوں کے اعزاز کی تقریب کے دوران  37 شہیدوں میں سے 25 شہیدوں کے خاندان پہنچا،  اسٹیج پر اناؤنسر کر رہے بلیا کے وجے بہادر سنگھ نے تھوڑی سی چوک کی وجہ سے موجود شہید خاندانوں میں رسولن بی بی کا نام بھی لے لیا، جبکہ وہ پروگرام میں نہیں آئی تھیں، اس کے بعد افواہ پھیل گئی کہ رسولن بی بی کا اعزاز ایک فرضی خاتون نے لے لیا، تاہم جس عورت کو دینے کے لئے کہا جا رہا ہے وہ اعظم گڑھ کے مدیاپار سے شہید بھگوتی سنگھ کی بیوی للیتا دیوی ہیں.
چین کی جنگ میں بھگوتی سنگھ کو شہید کیا گیا تھا، سینے پر گولی مار دی گئی تھی، اس نے اپنا اعزاز لیا ہے، ایک طرف پروگرام میں نہ آنے پر بھی اعزاز دیئے جانے  کی بات سامنے آنے پر اب جہاں شہید ویر عبد الحمید کے لواحقین اس پر اعتراض جتا رہے ہیں، وہیں فرضی عورت کے طور پر پروپیگنڈے کرنے پر مدياپار رہائشی شہید کی بیوی اور اہل خانہ نے اسے شہیدوں کی توہین کو بتایا ہے.
مقامی لوگوں میں اسے اناؤنسر کی چوک کو فرضی بتاتے ہوئے موضوع بحث بنا ہوا ہے.
رسولن بی بی کے پوتے سلیم نے کہا کہ یہ پروگرام میں دادی کو مدعو کرنے کی بات کہی جارہی ہے حالانکہ دعوت نامہ ہمارے ہاس نہیں پہنچا تھا، یہ کہنا غلط ہے کہ یہ پروگرام میں موجود نہیں تھے.
پروگرام کے آرگنائزر پرمود یادو نے کہا کہ رکچھا بندھن کے دن ہی شہید ویر عبد الحمید کے اہل خانہ کو دلہہ پور مین واقع پیٹرول پمپ پر دعوت نامہ دیا تھا، اس کے بعد دو مرتبہ فون پر بات چیت کی تھی. میرے پاس آڈیو ریکارڈنگ ہے، پہلے سے طے شدہ ہونے کے باوجود اناؤنسر نے رسولن بی بی کا نام لیا، اس پروگرام میں کی دوسرے خاندان کو اعزاز نہیں دیا گیا ہے، بغیر وجہ کے یہ طول دیا جا رہا ہے.
شہید بھگوتی سنگھ کی بیوی للیتا دیوی نے کہا کہ وہ مدعو کے بعد ہی پروگرام میں حصہ لینے کے لئے گئے تھے، اس کے باوجود بھی، یہ غلط تشریح کی جا رہی ہے، بے وجہ ہمارے جذبات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے یہ شہیدوں کی توہین ہے.

اعظم گڑھ میں امن و سکون کے ساتھ ادا کی گئی عید الاضحٰی کی نماز!


رپورٹ: ایڈیٹر انچیف
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 3/ستمبر 2017) عیدالاضحٰی کی نماز ادا کرنے کے لئے صبح ہی بزرگ جوان اور بچے نہا دھوکر نئے نئے کپڑے پہن کر عید گاہ کے لئے گئے، عید گاہ جاتے وقت تمام لوگ "اللہ اکبر اللہ اکبر لا اله اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر ولله الحمد" بلند آواز میں پڑھتے ہوئے عید گاہ پہنچ کر نماز ادا کی، اس کے بعد اپنے اپنے گھر پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کے مطابق جانوروں کی قربانی کی، ٹاؤن کے عید گاہ میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے مفتی ارشد فاروقی نے کہا کہ یہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السـلام کے طریقے پر جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اسی طرح تمام مسلمان کریں.
مولانا فاروقی نے کہا کہ قربانی کرتے وقت، ذہن میں رکھو کہ غیر مسلم بھائیوں کو نقصان نہ پہنچے، اور جانوروں کے بچے ہوئے حصے کو ادھر ادھر نہ پھینک کر گڈھے کھود کر دفن کر دیں، صفائی و پاکیزگی کا خیال رکھو کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے.
اعظم گڑھ کے شیرواں، اسرولی، كورولی خرد، سرهی خرد، ننداؤں، اساڑا، چھتے پور، كورها، بكھرا، كھریواں، راجاپور سكرور، سنجر پور، بلریاگنج، جین پور، اشرفپور، محی الدین پور، شیخوپور، بھاواپور، بنکٹ، انجانشہید، نتھوپور، مبارکپور، جہاناگنج، جیراجپور، محمد پور، چھچھوری، چاندپٹی، عظمت گڑھ وغیرہ دیہات میں پرامن طریقے سے عید الاضحیٰ کی نماز اور قربانی ادا کی گئی، وہیں بچے عید گاہ کے باہر لگے ہوئے میلے میں مختلف کھیلونے اور رنگ برنگ کی میٹھی چیزیں خرید کر خوشیاں منائی.
عیدالاضحیٰ میں امن و امان قائم رہے اس کے لئے الگ الگ تھانہ انچارج  پولیس کو ساتھ لے کر اپنے اپنے علاقہ میں دن بھر دورہ کرتے رہے.

Friday, 1 September 2017

ہندوستانی مسلمان امن و یکجہتی کے ساتھ عیدالاضحیٰ منائیں: حافظ رضوان الحق


رپورٹ: محمد دلشاد قاسمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بڈھانہ/شاملی(آئی این اے نیوز 1/ستمبر 2017) قصبہ بڈھانہ کے مشہور و معروف سماجی کارکن و نگر پنچایت بڈھانہ سے چیئرمین  امیدوار ایچ ایم رضوان الحق نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ مسلمان عیدالاضحٰی کو یکجہتی کے ساتھ منائیں قربانی کرنا یہ سنت ابراہیمی ہے قربانی کو اخلاص اور اللہ کی رضا کے لیے کریں ہماراـکوئی بھی عمل ایسا نہ ہو جس سے برادران وطن کی دل آزاری ہو، قربانی کے جانور کھلے میں ذبح نہ کریں ہندوستانی قانون پر مکمل عمل کریں، گاؤں کے ذمہ داران حضرات ہڈی وغیرہ کے دفن کرنے کا انتظام کریں، تاکہ امن و سکون قائم رہے.

جمعیت علماء بہار کی جانب سے سیتامڑھی میں سیلاب متاثرین کے درمیان خوردنی اشیاء کی تقسیم!



رپورٹ: محمد صدرعالم نعمانی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سیتامڑھی(آئی این اے نیوز 1/ستمبر 2017) بہار سیلاب کی قیامت خیز تباہی سے لاکھوں افراد کی زندگی تباہ وبرباد ہوگئی ہے لوگ کھانے کھانے کو ترس رہے ہیں، اس کے پیش نظر حضرت مولانا سید ارشد مدنی صدر جمیعت علماء ہند اور الحاج حسن احمد قادری جنرل سکریٹری جمعیت علماء بہار کی ہدایت پر سیتامڑھی کے باجپٹی بلاک کے عالم نگر ہرپوروا کے مدرسہ مصباح  العلوم میں سیلاب سے متاثرین ڈھائی سو لوگوں کے درمیان مولانا محمد صدرعالم نعمانی صدر جمیعت علماء سیتامڑھی و کنوینر ریلیف کمیٹی نے خوردنی اشیاء تقسیم کی. اس موقع پر ہرپوروا پنچایت کے مکھیاء محمد شرف عالم، سابق مکھیا عبد المنان، جمعیت علماء بلاک باجپٹی کے صدر محمد ابرار نعمانی، مدرسہ مصباح العلوم ہرپوروا عالم نگر کے سکریٹری محمد بشیر کے اسماء قابل ذکر ہیں، ریلیف لینے آئے لوگوں نے کہاں کہ اسی طرح اگر دوسری تنظیم بھی سیلاب متاثرین کے لئے راحت رسانی کا کام کرتی تو بہت حد تک لوگوں کی مشکلات کم ہوجاتی، مکھیا محمد شرف عالم نے کہا کہ اتنے لوگوں کے درمیان ایک ساتھ ریلیف تقسیم کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے انہوں نے کہا کہ یہ بہت ہی اچھی بات ہے، سابق مکھیا عبدالمنان نے کہا کہ مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنے کیلئے سبھی لوگوں کو آگے آنا چاہیئے.

عید قرباں: چند گزارشات!


از: فضیل احمد ناصری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*پیشِ لفظ*

سب سے پہلے آپ میری طرف سے عیدِ قرباں کی مبارک باد قبول فرمائیں، عید کے یہ ایام آپ کے مستقبل کی مسرتوں کے لیے مضبوط بنیاد ثابت ہوں، میں بہت خوش ہوں، آپ بھی بہت مسرور ہیں، خدا کرے کہ شادمانی کی یہ بادِ بہاری ہم سب کی یوں ہی قدم بوس رہے۔۔۔

*یہ بقرعید بھی ہے اور عید الاضحیٰ بھی*

آگے بڑھنے سے پہلے عوام کی غلط فہمی کے ازالے کے لیے یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ عید قرباں کے کئی نام ہیں، یہ نام دراصل وجہِ تسمیہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں، احادیث میں اسے عیدالاضحیٰ کہا گیا ہے، اسی کا ترجمہ "عیدِ قرباں" ہے، کسی دور میں ہندوستان میں اس عید کے موقع پر "گاے" کی قربانی ہی بیش تر ہوتی، اسی لیے اس کو "بقرعید" بھی کہا گیا، بقر کے معنیٰ گاے، بیل کے ہیں، یعنی گاے بیل کی قربانی والی عید۔۔۔ بعض لوگ اسے بگاڑ کر "بکرا عید" کہتے ہیں، عرفاٗ یہ غلط ہے، اگرچہ اس اصطلاح کے تلفظ میں شرعاً کوئی خرابی نہیں ، مگر دیکھا جاے تو یہ بقرعید کی ہی بگڑی ہوئی شکل ہے، اس لیے "بکراعید" کا املا بظاہر نادرست ہے۔۔۔

*عیدِ قرباں کی اہمیت*

عیدِ قرباں کی فضیلت و اہمیت عام اور آشکار ہے، پہلی بات تو یہ کہ یہ ہمارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، معلوم ہے کہ ہمارا مذہب "ملتِ ابراہیمی" بھی کہلاتا ہے، پیغمبر ﷺ کو اس عید سے بھی بڑی محبت تھی اور نماز کے بعد بڑے اہتمام سے قربانیاں فرماتے، قربان شدہ جانور کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی کا وعدہ خود زبانِ رسالت نے سنائی ہے، یہ جانور پل صراط پر سواری کا بھی کام دیں گے، قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ اللہ کو کوئی عمل اتنا پسند نہیں، یہ ایک ایسی عبادت ہے کہ آم کے آم بھی ہیں اور گٹھلیوں کے دام بھی، اسی کو کہتے ہیں: "ہم خرما و ہم ثواب"، عوامی زبان میں اسی کو "دونوں ہاتھوں میں لڈو" سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، مسلمان گوشت بھی کھاتے ہیں اور ثواب بھی پاتے ہیں، ان دنوں کی خاص بات یہ بھی ہے کہ مسلمان اللہ کا مہمان ہوتا ہے، ان دنوں میں مسلمانوں کو قبولیت کی معراج مل جاتی ہے۔۔۔

*قربانی کا گوشت مہینوں کے لیے ذخیرہ نہ کریں*

آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ کو قربانی جیسی عظیم عبادت ادا کرنے کی توفیق ملی، آپ اس پر اللہ کا جتنا شکر ادا کریں، کم ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ عرض بھی ہے کہ آپ قربانی کا گوشت شریعت کے مطابق استعمال کریں، غریبوں کو کھلائیں، دوست احباب کو ہدیہ کریں اور خود بھی کھائیں، جدید دور میں ایک بڑی خرابی ذخیرہ اندوزی کی آگئی ہے، لوگ بڑے بڑے فریج میں گوشت کا ذخیرہ کر لیتے ہیں اور مہینوں چلاتے ہیں، اس عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گوشت کی تقسیم اچھی طرح نہیں ہوئی، دوسری بات یہ ہے کہ اس طرح کھانے سے صحت پر بھی برا اثر پڑ سکتا ہے، تیسری بات یہ کہ بسا اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ گوشت درازئ زمانہ کی وجہ سے سڑ گیا، جس کے نتیجے میں اسے پھینک دیا گیا، ہماری بہاری زبان میں اسی کو کہتے ہیں: نہ تو کو، نہ موکو، چولھے میں جھونکو۔۔ یعنی کسی کے کام نہ آسکا، لہذا گوشت کا ذخیرہ اتنا ہی کیا جاے جسے زیادہ سے زیادہ دو تین ہفتوں تک چلایا جاسکے، واقعہ یہ ہے کہ جب سے فریج آیا ہے مستحقین تک گوشت پہونچنا مشکل ہو گیا ہے۔۔۔

*مووی نہ بنائیں،تصویر نہ کھینچیں*

عبادت کوئی بھی ہو، اخلاص چاہتی ہے، اخلاص کے بغیر بڑے سے بڑا عمل جھاگ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو قربانی کی سکت دی ہے تو پورے اخلاص و للہیت کے ساتھ خون بہائیں، اس کی تصویریں نہ بنائیں، اس کا ویڈیو تیار نہ کریں، یہ ویسے بھی حرام ہے، عبادات کی تصویر کشی اخلاص نہ ہونے کو بتاتی ہے، اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ قربانی کرنے والے نے یہ عبادت بغرضِ نمائش کی ہے، یہ ریاکاری جیسے خطرناک اور مہلک مرض کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے، آپ یہ عبادت بصد شوق انجام دیں، مگر تصویر کشی سے باز رہیں، یہ میری آپ سے مخلصانہ گزارش ہے۔۔۔

*سوشل میڈیا پر قربانی کی تشہیر نہ کریں*

بعض احباب بہرحال تصویریں بنا ڈالتے ہیں، یہ ان کا عمل ہے، وہ جانیں، مگر ان سے اتنی گزارش ہے کہ ویڈیو اور تصویریں سوشل میڈیا پر ہر گز نہ ڈالیں، معلوم ہے کہ حالات خراب ہیں، اسلام دشمن طاقتیں معمولی معمولی باتوں کا بہانہ لے کر اسلام میں مداخلت کرنے لگی ہیں، طلاق کا مسئلہ بالکل تازہ قصہ ہے، گاے بیل پر پابندی بھی کوئی پرانی بات نہیں ہوئی، اگر آپ قربان شدہ 'جانوروں' کی تصویریں عام کریں گے تو فساد بھڑک اٹھنے کا خطرہ ہے، پھر "جس کی لاٹھی، اس کی بھینس" کا معاملہ پیش آسکتا ہے، ہم مسلمان "آ بیل مجھے مار! " کا فارمولہ نہیں اپناتے، فتنوں سے حتی الامکان دور بھاگتے ہیں۔۔۔

*دوسرے اسلامی ممالک سے بھی درخواست*

اس کے ساتھ ہی دوسرے اسلامی ممالک کے باشندگان سے بھی درخواست ہے کہ وہ بھی اپنے ذبیحے کی متحرک اور جامد تصویریں سوشل میڈیا پر ہرگز نہ ڈالیں، کام آپ کریں گے اور یہاں پریشانی ہمیں ہوگی، ہر مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی کا خیال رکھنا چاہیے، ہم اپنے عمل سے دنیا کو یہ دکھادیں کہ ہمارے یہاں دل شکنی نہیں، دل جوئی ہے، ہم عبادت کرتے ہیں، کسی کو اذیت نہیں پہونچاتے۔۔۔

*چرمِ قربانی سے مدارسِ اسلامیہ کی امداد فرمائیں*

ایک گزارش اور آخری گزارش یہ بھی ہے کہ قربانی کی کھالیں مستحق مدارسِ اسلامیہ کو عطا فرمائیں، رمضان کے بعد مدارس کے استحکام کا دوسرا موقع عیدالاضحیٰ بھی ہے، آپ ان پر توجہ دیں، ان کے اساتذہ اور طلبہ آپ تک پہونچیں تو ان کی مدد فرمائیں، مدارس کی خدمت دین ہی کی خدمت ہے، آپ حتی الامکان ان کے دست و بازو بنیں، آپ کو عید قرباں کی ایک بار پھر مبارکباد۔

مدرسہ عربیہ نوریہ بڑوت میں مسابقہ نعت وتقریر کا انعقاد!


رپورٹ: محمد دلشاد قاسمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بڑوت/باغپت(آئی این اے نیوز 1/ستمبر 2017) ضلع باغپت کی مشہور ومعروف دینی درسگاہ مدرسہ عربیہ نوریہ پہونس والی مسجد بڑوت میں ہفتہ سے چل رہے امتحانات انجمن فیض مہربان کے مسابقہ نعت وتقریر پر اختتام پزیر ہوا.
مدرسہ ھذا کے ناظم تعلیمات مولانا محمد عارف الحق بڑوتوی نے بتایا کہ ہفتہ بھر سے چل رہے مدرسہ ھذا کے تمام درجات کے ماہانہ امتحان آج انجمن فیض مہربان کے مسابقہ پر مکمل ہوگئے، جس میں مہمان خصوصی کے طور پر علامہ یامین صاحب شیخ الحدیث ومہتمم دارالعلوم جلال آباد نے شرکت فرمائی، اور حکم اول مولانا محمد ذاکر صاحب اور حکم ثانی مفتی محمد ذاکر صاحب رہے.
مدرسہ ھذا کے امتحانات میں درجہ حفظ محمد شعبان نے اول پوزیشن حاصل کی اور دوم پوزیشن محمد ارمان اور سوم محمد عاطف نےحاصل کی، درجہ عربی میں محمد زید نے اول پوزیشن اور درجہ فارسی میں محمد حارث نے اول پوزیشن حاصل کی.پوزیشن لانے طلبہ کو مھمان خصوصی نے اپنے دست مبارک سے انعامات سے نوازہ اور آخر میں علم دین کو صحیح لگن اور توجہ کرنے اور اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے ہدایت کی علامہ صاحب کی دعاء پروگرام کا اختتام ہوا.