اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Tuesday, 14 February 2017

ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور اسلام کی تعلیمات!


از قلم: مفتی محمد ثاقب قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مالیر کوٹلہ/پنجاب (آئی ان اے نیوز 14/فروری 2017) ہر سال چودہ فروری کو منایا جانے والا دن ویلنٹائن ڈے (یوم عاشقان یا یوم محبت) کہلاتا ہے، جسمیں لڑکے اور لڑکیاں آپس میں جن سے وہ محبت کرتے ہیں اپنی محبت وچاہت کا اظہار کرنے کیلئے تحفے، کارڈز اور گلاب پیش کرتے ہیں، دکانیں سجائی جاتی ہیں لوگ کارڈز، تحفے اور گلاب خریدتے نظر آتے ہیں، ویلنٹائن ڈے کی ابتداء کہاں سے ہوئی؟ اس کے بارے میں کوئی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا، البتہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ (Nun) کی محبت کے شکار ہوگئے، چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کیلئے نکاح ممنوع تھا، اس لئے اس دن ویلنٹائن نے اپنی معشوقہ کی تشفی کیلئے اسے بتایا کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے کہ اس دن اگر کوئی راہب اور راہبہ جنسی تعلقات بھی قائم کرلیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا، راہبہ نے اس پر یقین کیا دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کر گزرے،  اس طرح سے جنسی تعلقات کے قائم کرکے کلیسا کی بے ادبی کرنے پر اسے قتل کردیا گیا بعد میں کچھ نوجوان عیاشوں اور منچلوں نے ویلنٹائن کو شہیدِ محبت پر فائز کرتے ہوئے  ان کی یاد میں یہ دن منانا شروع کردیا، تاریخ میں اس دن سے اور بھی کئی منسوب داستانیں ہیں،  لیکن اتنا ضرور ہے کہ جس نے بھی اس دن کو یومِ محبت کا نام دیا اس نے انسانیت پر بہت بڑا ظلم کیا ہے یہ محبت نہیں ہوس کا دن ہے محبت میں خلوص ہوتا ہے، ہوس میں مفاد ہوتا ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس مکرو فریب کا سب سے زیادہ نشانہ صنفِ نازک ہی بنی، محبت کے نام پر ان کو دھوکہ دیا جاتا ہے، محبت کے نام پر انہیں بے آبرو کیا جاتا ہے، لیکن عورت سمجھ رہی ہے کہ یہی میری عزت ہے یہی میرا کمال ہے، ویلنٹائن ڈے کے ذریعے سے ایک طرف  تو بے حیائی، عریانیت پھیلتی ہے جبکہ دوسری جانب معاشرے میں خاندانی نظام میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور اس موقع سے خواتین کو ملنے والے تحائف کی وجہ سے کئی گھروں میں بہت ہی سنگین حادثات جنم لے لیتے ہیں، اگر ہم آنے والی نسلوں کو مغرب کے اس حملے سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسکے خلاف قدم اٹھانا ہوگا اسکے لئے ہمیں چند اقدامات کرنے ہوں گے اولا جو دکاندار اس کارڈز اور گلاب کو فروخت کررہے ہیں ان کو سمجھایا جائے، اور معاشرتی طور پر ان پر دباؤ ڈالا جائے، پھر فیملی ممبرز، دوستوں اور اپنے سے منسلک تمام لوگوں سے کہا جائے کہ اس کام کے ارتکاب کرنے سے بچیں اس دن کو بے شرمی اور عریانیت کے طور پر منانے کے بجائے حیاء ڈے کے طور پر منائیں.

Monday, 13 February 2017

اعظم گڑھ کے 10 سيٹوں کے لئے آج 49 امیدواروں نے کیا نامزدگی!


® ثاقب اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 13/فروری 2017) چھٹے مرحلے کی نامزدگی کے پانچویں دن ضلع کے دس اسمبلی سيٹوں کے لئے 4 درجن سے زائد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیا جس میں سیاسی پارٹیوں، نردل(آزاد)  اور باغیوں نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کیا. اس دوران کلیکٹریٹ کے  باہر امیدواروں کے حمایتیوں نے دوپہر سے لیكر دیر شام تک جم کر نعرے بازی کی وہی پولیس کے ذریعہ سیکورٹج کا بندوبست بھی تھا.
آج جدید کلیکٹریٹ عمارت میں صبح 11 بجے سے نامزدگی شروع ہوتے ہی صدر سیٹ سے ریاستی حکومت کے وزیر درگا پرساد یادو، دیدارگنج اسمبلی سیٹ سے بی ایس پی کے امیدوار اور سابق اسمبلی ممبر سکھ دیو راج بھر، لال گنج سے بی جے پی کے داروغہ سروج اسی طرح بی ایس پی سے سگڑی اسمبلی سیٹ سے سابق رکن اسمبلی سيپو سنگھ کی بیوی بندنا سنگھ، نظام آباد سے بی ایس پی کے سابق ممبر اسمبلی چندردیو رام عرف كریلی، صدراسمبلی سیٹ سے بھوپندر سنگھ عرف منا سنگھ، اتروليا سے اکھنڈ پرتاپ سنگھ نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے وہیں نظام آباد سے بی جے پی کے سابق ضلع صدر ونود رائے، مبارکپور سے لکشمن موریا، پھول پور پوئی سے بی جے پی کے سابق رہنما رماكانت یادو کے بیٹے ارون كانت یادو، لال گنج سے سماج وادی پارٹی کے باغی سابق ممبر پارلیمنٹ داروغہ سروج نے کاغذات نامزدگی داخل کیا.
اسی طرح گوپال پور سے امتیاز بیگ، پھول پور پوئی سے راماجنا یادو، سگڑی سے سری کانت سنگھ اور مبارکپور سے رامہرش یادو نے نامزدگی کیا. ديدارگنج سے آل انڈيا فارورڈ بلاک کے كرشكانت یادو، اسی سیٹ سے بی جے پی کے سابق ممبر پارلیمنٹ رماكانت یادو کے بھائی کی بہو ارچنا یادو نے نردل(آزاد) کے طور پر، مینھ نگر سے اکھنڈ پارٹی سے پركاش چندر، ديدارگنج سے مہاکرانتی دل کے جشونت سنگھ، مبارکپور سے اکھنڈ پارٹی سے نرملا یادو، سگڑی سے نردل(آزاد) رادھے شیام یادو، صدر سے بی ایس پی امیدوار بھوپندر سنگھ کی بیوی سندھا سنگھ نے اسی سیٹ سے نردل(آزاد) امیدوار کے طور پر کاغذات نامزدگی بھرا مینھ نگر سے اكھنڈ پارٹی سے رینو دیوی، لال گنج سےآل انڈیا فارورڈ بلاک کے اوما شنکر سونکر اور مینھ نگر سے سومن بھارتی، صدر سے راشٹریہ لوک دل کے پترام یادو اور اتروليا سے هرشچندر، نظام آباد اکھنڈ پارٹی کے رامنين چوہان، پھولپور پوئی سے نشاد پارٹی کے رام سورت راج بھر، سگڑی سے ریتو کھرے اور ديدارگنج سے روجی چوہان، اتروليا سے بہوجن مکت پارٹی کے اننت پرساد، سگڑی سے راجیش کمار یادو، صدر سے پرینکا سنگھ چوہان، نظام آباد سے نردل(آزاد) جے مرام سونکر، گوپال پور سے پچھڑا ورگ مہا پنچایت سے هوسلا راج بھر اور مینھ نگر سے سنگیتا گوتم، سگڑی سے نردل(آزاد) اجے کمار گوتم، نظام آباد سے پیس پارٹی کے رادھے شیام یادو، نظام آباد سے نردل(آزاد) نلنيكانت اپادھیائے، سگڑی سے بی جے پی گٹھبندن کے باغی اور پھولن سینا کے راشٹریہ صدر گوپال نشاد نے نردل، مبارکپور سے نردل(آزاد) رمیش راج بھر، سگڑی سے نردل(آزاد) وجے کمار گوڑ، مبارکپور سے نردل اور ہندو یوا واہنی کے امیدوار ہری ونش مشرا، پھولپور پوئی سے ریٹا موریا اور اتروليا سے نردلیہ لکشمی چیبے سمیت کل 49 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیا.

کاغذات مکمل نہ ہونے پر افسر نے کیا نامزدگی سے خارج!


® سلمان کبیرنگری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بلواسینگر/سنت کبیر نگر(آئی این اے نیوز 13/فروری 2017) مہنداول اسمبلی حلقہ سے بہوجن مکتی پارٹی سے پرچہ داخل کرنے والے جاوید احمد کا پرچہ رٹرننگ آفیسر راہل پانڈے نے حلف نامہ مکمل نہ ہونے کی بنا پر خارج کردیا اس سے ناراض امیدوار اور ان کے حامیوں نے کلکٹریٹ پر کچھ دیر تک ہنگامہ کیا، بعد میں انتظامیہ اور پولیس کی سختی کے بعد امیدوار اور ان کے حامیوں کو احاطہ سے باہر کردیا، جاوید احمد نے اپنے وکیل کے ساتھ دوبارہ رٹر ننگ آفیسر کے سامنے پہنچ کر اپنا موقف پیش کیا لیکن رٹر ننگ آفیسر نے یہ کہتے ہوئے ٹر خا دیا کہ حلف نامہ پرچہ داخلہ آخری دن جمع ہونے کا ضابطہ ہے لیکن حلف نامہ میں کمی بیشی کی درستگی کے واسطے آپ لوگ وقت سے حاضر نہیں ہوئے. ایسی صورت میں آپ کا پرچہ ناقابل قبول ہے لہٰذا پرچہ خارج رہے گا. امیدوار جاوید احمد کا الزام ہے کہ ان کا پرچہ حکومت پر قابض پارٹی کے اشارہ پر ہی خارج کیا گیا ہے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے امیدوار جاوید احمد نے کہا کہ ہماری یہ لڑائی جمہوری انداز میں جاری رہے گئی جب تک کہ ہمیں انصاف نہیں مل جاتا ہم بھر پور جدوجہد کرتے رہیں گے اور امیدہے کہ ہمیں انصاف ملے گا اور ہم الیکشن میں حصہ لے کر عوام کی بھر پور تائید حاصل کریں گے.

ووٹر لسٹ سے غائب ہوا امیدوار کا نام!


® سلمان اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 13/فروری 2017) پچھڑا ورگ مہا پنچایت پارٹی کی مبارکپور اسمبلی سے امیدوار سیما سنگھ نے الزام لگایا کہ مخالفین کے سازش کے تحت ووٹر لسٹ سے میرا نام محکمانہ ملی بھگت کی وجہ سے ہٹوا دیا گیا سمیندا رہائشی سیما سنگھ نے اتوار کو بتایا کہ میں پہلے گرام پردھان کا بھی الیکشن لڑ چکی ہوں اور میرے پاس ووٹر کارڈ ہے لیکن کچھ لوگوں نے مل کر میرا نام سازش کے تحت کٹوا دیا ہے. انہوں نے ضلع الیکشن افسر سے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹ میں میرا نام جلد شامل کیا جائے ساتھ ہی جن لوگوں نے سازش کے تحت میرا نام ووٹر لسٹ سے غائب کرایا ہے انہیں سزا دی جائے. انہوں نے کہا کہ نام کاٹے جانے کی وجہ سے اگر میرا فارم داخل نہیں ہوا تو میں نے بھارت الیکشن کمیشن افسر تک جا کر انصاف کی لڑائی لڑوں گی.

Sunday, 12 February 2017

بی جے پی نے تبدیل کیا اپنا امیدوار، بے جے پی کے خلاف ان کے ہی کارکنان نے لگائے نعرے!


® ثاقب اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 12/فروری 2017) اسمبلی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی کے آخری دو دن باقی بچے ہیں لیکن ٹھیک اس کے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی نے سگڑی اسمبلی نشست پر اپنا امیدوار تبدیل کر دیا ہے، بی جے پی میں پارٹی کے قد آور لیڈر دویندر سنگھ کو سگڑی سے ٹکٹ دیا ہے. پہلے گوپال نشاد کو امیدوار بنایا گیا تھا جنہوں نے 9/ فروری کو اپنا پرچہ بھی داخل کر دیا تھا.سگڑی اسمبلی سے دو ہفتے قبل بی جے پی سے  امیدوار پھولن سینا کے قومی صدر گوپال نشاد کا ٹکٹ کاٹے جانے سے گوپال نشاد کے حامیوں نے اتوار کی شام 5:00 بجے بہلا بازار میں ریاستی صدر کیشو موریا کا پتلا پھونکا اور بی جے پی کی مخالفت میں نعرے بازی بھی کی.
گوپال نشاد کے 2 ہفتے پہلے سگڑی اسمبلی سے بی جے پی امیدوار کے طور پر نام قرار دیا گیا تھا تبھی سے سگڑی سے بی جے پی امیدوار تبدیل کرنے کا قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھی آج کی شام 4:00 بجے کے ارد گرد جیسے ہی گوپال نشاد کا ٹکٹ کاٹ کر جہاناگنج علاقے کے دیویندر سنگھ کے نام کا ٹکٹ قرار دیا گیا گوپال نشاد کے حامی سڑک پر اتر آئے اور مہلا بازار میں ریاستی صدر کا پتلا پھونکا اور خلاف میں نعرے بازی کی. اسی دوران عظمت گڑھ میں گوپال نشاد کے حامی سڑک پر اتر کر بی جے پی کے خلاف نعرے بازی کی. معاملے میں اڑن دستہ انچارج ہری موہن سنگھ نے گوپال نشاد اور 30 ​​سے ​​40 حامیوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا.
بتایا جارہا ہے کہ دویندر سنگھ جہاناگنج تھانہ علاقے کے سیما گاؤں کے رہائشی ہیں اور کافی وقت سے پارٹی میں جڑے ہوئے ہیں سال 1993، 1996 اور 2007 میں مبارکپور اسمبلی سیٹ سے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ چکے ہیں لیکن اب تک کامیابی ہاتھ نہیں لگی ہے.

غیر قانونی اسلحہ سے فائر، گولی لگنے سے نوجوان زخمی!


® ابوسعید اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
نظام آباد/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 12/فروری 2017) نظام آباد تھانہ علاقے کے محمدپور مدارداڑ کے جھليا گاؤں میں گولی لگنے سے ایک نوجوان زخمی ہو گیا اس کو مقامی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر نے معاملہ پولیس کا بتا کر علاج سے انکار کر دیا اس کے بعد اسے ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا پولیس نے متاثرہ کے گھر سے ہی براؤننگ برآمد کیا ہے.
اطلاع کے مطابق مذکورہ گاؤں رہائشی گڈو بیٹے شمبھو کے گھر ہفتہ کی دیر شام قریب 7 بجے گولی چلنے کی آواز آئی مقامی لوگ بھاگ کر اس کے گھر پہنچے تو گڈو خون سے آلودہ موقع پر پڑا تھا اس کے پاؤں میں گولی لگی تھی گاؤں والوں کی مدد سے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا لیکن ڈاکٹر نے پولیس کا معاملہ بتا کر علاج سے انکار کر دیا اسی درمیان کسی نے ڈائل 100 پر فون کر دیا پولیس موقع پر پہنچی اور زخمی کو ضلع ہسپتال میں داخل کرایا پوچھ گچھ کے دوران زخمی نے بتایا کہ وہ کھانا کھا رہا تھا تبھی اس پر فائر کیا گیا گولی اس کے پاؤں میں لگی.
وہیں پولیس نے شک ہونے پر اس کے گھر کی تلاشی لی تو براؤننگ برآمد ہوئی پولیس اور گاؤں کے لوگوں کا خیال ہے کہ زخمی نوجوان خود کسی کو پھنسانے کے لئے پاؤں میں گولی مار لیا یا پھر غلطی سے فائر ہو گیا وہیں لواحقین اس مسئلے پر کچھ بولنے کو تیار نہیں ہیں.

بی ایس پی کے ممبر اسمبلی شاہ عالم گڈو جمالی ہیں کروڑ پتی تو بہت سے ہیں لاکھ پتی !



® ثاقب اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 12/فروری 2017) مینھ نگر اسمبلی علاقے سے بی ایس پی کی امیدوار ودیا چوہدری جہاں اسلحوں کے شوقین ہیں وہیں روپے کے معاملے میں مبارکپور علاقے کے بی ایس پی امیدوار شاہ عالم گڈو جمالی کروڑ پتی ہیں جبکہ دیگر امیدوار لکھ پتی ہیں.
شا عالم عرف گڈو جمالی کے پاس 15.5 لاکھ روپے نقد اور بیوی کے پاس 80 ہزار روپے نقد ہے. اس کے علاوہ شاه عالم کے پاس 3150000 روپے کی قیمت کا سونا، چاندی اور دیگر قیمتی سامان ہے. ان کے پاس پستول سمیت جائیداد کروڑوں میں ہے.
بینک میں 395983 نقد جبکہ بیوی کے بینک میں 1102275 روپے ہے ان کا 1091458496 کا بیرون ملک میں اسٹاک ہے. جبکہ بیوی کا 739180 روپے کا اسٹاک ہے شاہ عالم کے پاس گاؤں، شہر اور رانی کی سرائے میں 14830320 روپے کی زمین ہے. جبکہ بیوی کے پاس 2429000 روپے قیمت کی زمین ہے.

Saturday, 11 February 2017

خود ملائم سنگھ دے چکے ہیں اکھلیش کو مسلم مخالف کی سرٹیفیکیٹ: مولانا طاہر مدنی



® ثاقب اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 11/فروری 2017) بی ایس پی سے اتحاد کے بعد اعظم گڑھ پہنچے علماء کونسل کے قومی جنرل سکریٹری مولانا طاہر مدنی نے کانگریس اور سماج وادی پارٹی پر جم کر حملہ بولا وہیں بی ایس پی  کی تعریف کی انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس اتحاد کا اثر صرف اتر پردیش کی نہیں بلکہ ملک کی سیاست پر دیکھنے کو ملے گا یوپی میں بی ایس پی کی مکمل اکثریت کی حکومت بنے گی.
شہر کے ایک ہوٹل میں منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی مسلم مخالف ہے. سال 2012 کے انتخابات میں ملائم سنگھ یادو نے مسلمانوں سے 12 وعدے کئے تھے، انہوں نے منشور میں شامل کیا گیا تھا لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا. عربی فارسی یونیورسٹی بی ایس پی نے بنوایا اور ایس پی کے لوگ اپنا بتا کر تالیاں لوٹ رہے ہیں بی ایس پی نے اقلیتوں کے بھلے کے لئے اقلیتی محکمہ کو الگ کیا وہیں اکھلیش یادو نے اپنی حکومت میں مسلمانوں کے لئے ایک کام نہیں کئے. خود ملائم سنگھ اکھلیش کو مسلم مخالف ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے چکے ہیں آخر ایک باپ سے زیادہ بیٹے کو اور کون سمجھ سکتا ہے.
مولانا نے کہا کہ مسلمانوں کی بدحالی کے لئے کانگریس ذمہ دار ہے کانگریس سے اتحاد سے سماجوادی پارٹی کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے بلکہ اس اتحاد کی بنیادیں پڑنے کے بعد مسلمان ایس پی سے دور ہو گیا ہے بی ایس پی اور ایس پی کا موازنہ کریں تو بی ایس پی کا ریکارڈ بہتر رہا ہے چاہے وہ ترقی کا معاملہ ہو یا پھر قانون تھا ایس پی حکومت پر صرف عام آدمی پر ظلم و ستم ہوا ہے اور فسادات ہوئے ہیں.
انہوں نے کہا کہ بی جے پی لوگوں کو اصل مسائل سے بھٹکانے کے لئے گئو کشی، لو جہاد، تین طلاق جیسے مسئلے اٹھا رہی ہے پارٹی کا مقصد روزگار ہونا چاہئے ہمارا اتحاد ترقی، قانون کو ایشو بنا رہا ہے ہم صاف ستھری سیاست پر یقین رکھتے ہیں.
مولانا مدنی نے کہا کہ علماء کونسل نے آٹھ سال عوام کے درمیان ان کے مفادات کی حفاظت کے لئے جد و جہد کی ہے اتحاد سے پہلے ہم 84 نشستوں پر امیدوار اتارنے والے تھے لیکن اب ہم امیدوار نہیں لڑا رہے ہم نے بی ایس پی کو باہر سے حمایت کی ہے حکومت میں شامل نہیں ہو گے اس اتحاد کے اثرات صرف یوپی میں نہیں بلکہ ملک کی سیاست میں بھی دیکھنے کو ملے گا. ہماری حمایت کے بعد ہی بریلوی، شاہی امام وغیرہ نے بی ایس پی کی حمایت کی.

پرچہ داخلہ کے تیسرے دن بھی رہی سخت سیکورٹی!


® سلمان اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 11/فروری 2017) اسمبلی انتخابات میں نامزدگی کے تیسرے دن انتظامیہ اور بھی سخت نظر آئی امیدوار اور ان کے حامی کو چھوڑ کسی دوسرے شخص کے جانے پر مکمل طور پابندی تھی خاص خاص جگہوں پر فورس تعینات تھی تو اہم گیٹ پر پولیس کی خصوصی چوکسی نظر آئی ادھر کل تک كلےکلیکٹریٹ کے ارد گرد لگے  ٹھیلہ و خوانچہ کو بھی ہٹا دیا گیا چوکسی کی حالت یہ رہی کہ نامزدگی کے عمل کو ختم ہونے کے تقریبا 10 منٹ بعد لال گنج سیٹ کے بی ایس پی امیدوار آزاد ارمردن کو بھی جانے سے روک دیا گیا اگرچہ وہ نامزدگی کرنے نہیں جا رہے تھے بلکہ نامزدگی کے کاغذات کے سلسلے میں معلومات لینے کی بات کہی پھر بھی انہیں واپس لوٹنا پڑا.
ادھر، ایس پی، بی جے پی اور بی ایس پی کے امیدواروں کے جلوس حامیوں نے نعرہ بازی بھی کی نامزدگی کے بعد جیسے ہی امیدوار گیٹ کے باہر تک پہنچ رہے تھے ان کا پھولوں سے استقبال کرتے.

Friday, 10 February 2017

طارق فتح کی شر انگیزی اور زی نیوز کا "فتح کا فتوی" شَو ملک کی جمہوریت کیلئے خطرناک!


تحریر: مفتی محمد ثناء اللہ قاسمی
بانی ومہتمم مدرسہ قاسم العلوم دتیا(ایم پی) و خادم دینی مسائل گروپ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کل ہندوستان کے بڑے مشہور ومعروف چینل زی نیوز پر طارق فتح کا جو شَو "فتح کا فتوی" نام سے چل رہا ہے در اصل وہ ایک خاص ذہنیت اور خاص ایجنڈے کو سامنے رکھ کر چلایا جارہا ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کو اور اسلام کو ہندوستان میں بدنام کرنا ہے، طارق فتح میڈیا میں فتنہ انگیز پروگرام اور مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد بیانات کے ذریعہ اقلیتی فرقے کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک ہندوستان کے مختلف فرقوں کے درمیان تشدد کی ہوا دینے کی کوشش کررہا ہے اور اس ملک کے سیکولرازم ماحول کو پراگندہ کررہا ہے، اگر اس پر فوری طور پر روک نہ لگائی جائے تو ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کے ہونے کا اندیشہ ہے، ان خیالات کا اظہار دتیا، ایم پی کے اسلامک اسکالر اور مدرسہ قاسم العلوم دتیا، ایم پی کے بانی ومہتمم مفتی محمد ثناء اللہ قاسمی نے کیا ہے، انہوں نے کہا کہ طارق فتح کو پڑوسی ملک پاکستان سے ان کی انتہا پسند مجرمانہ کاروائیوں کی وجہ سے ملک بدر کردیا گیا پھر اس نے کینیڈا میں پناہ لی لیکن وہاں بھی اسکو اسکی سازشی حرکتوں کی بنا پر پسند نہیں کیا گیا مگر گذشتہ کچھ ہفتوں سے یہ ہندوستان میں قیام پذیر ہے اور یہاں کی شہریت حاصل کرنے کا متمنی ہے، طارق فتح گستاخ رسول ہے یہودیوں کے مجمع میں تقریر کرتے ہوئے اس نے حضور کی شان میں گستاخی کی ہے قرآن کریم اور معراج کے واقعہ کا مذاق اڑایا ہے، حد تو یہ ہے اسے خدا کے ہونے کا یقین بھی نہیں ہے، طارق فتح کی ہندوستان آمد اور شر انگیز بیانات کے ذریعہ ہندوستان کی جمہوریت اور یہاں کے صاف  وشفاف اور پر امن ماحول کو گندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہاں کے ہندو اور مسلم بھائیوں کو آپس میں لڑانا اور ملک میں فساد برپا کرنا اسکا مقصد اور ہدف ہے، طارق فتح در اصل فسادی ذہنیت کا حامل اور انتہائی مفاد پرست انسان ہے، اس نے ہند کے بادشاہوں پر بے جا الزام اور محمد بن قاسم کو برا کہہ کر ہندوستان کے 25 کروڑ مسلمانوں کے قومی اور مذہبی جذبات کو نہ صرف مجروح کیا بلکہ ہندو بھائی کو مسلمانوں کے خلاف لڑانے اور فرقہ وارانہ فسادات کرانے کو بڑھاوا دیا ہے، مفتی ثناء اللہ نے مزید کہا کہ طارق فتح کے سامنے بحث ومباحثہ کیلئے پتہ نہیں کیسے لوگوں کو لایا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ علماء ہیں، افسوس تب ہوتا ہے جب یہ لوگ طارق فتح کے سامنے لا جواب ہوجاتے ہیں، طارق فتح کے سامنے کسی مستند عالم دین کو نہیں لایا جاتا، آخر کیا وجہ ہے کہ زی نیوز والے دارالعلوم دیوبند، مظاہر العلوم سہارنپور اور ندوة العلماء لکھنؤ جیسے بڑے اداروں سے علماء کرام کو اپنے پروگرام میں نہیں بلاتے، میں زی نیوز کے اینکر سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ اللہ کے واسطے ملک کے حالات کو خراب نہ کریں، آخر میں مفتی صاحب نے یہ کہا کہ اگر حقیقت میں آپکو اسلام کی جانکاری اور اسلام کی حقیقت سے عوام کو آگاہ کرانا ہے تو ہم کو دعوت دیں پھر میں انشاء اللہ آپ کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرکے طارق فتح جیسے انتہا پسند کو لاجواب کردوں گا یہ میں فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ تحدیثِ نعمت کے طور پر کہہ رہا ہوں مجھے اللہ کی ذات سے پوری امید ہے کہ طارق فتح میرے سامنے ٹِک نہیں پائے گا، میں ہندوستان کی سرکار سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ فسادی ذہنیت کے حامل طارق فتح کو ملک سے نکال دیا جائے اور زی نیوز پر نشر ہونے والے "فتح کا فتوی" شَو پر فی الفور پابندی عائد کرکے ملک کے ماحول کو صاف وشفاف اور پر امن بنایا جائے.

Thursday, 9 February 2017

اسلامک کوئز مقابلہ...



® سلمان کبیرنگری
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
بلواسینگر/سنت کبیر نگر(آئی این اے نیوز 9/فروری 2017) دودھارا تھانہ واقع مدرسہ نجمة للبنات محلہ مفتی مرتضی آباد موضع جانتے ڈیہا میں مولانا ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی بھٹکل( کرناٹک) کی جانب سے اسلامیات کا اسلامک کوئز مقابلہ ہونے جارہا ہے مدارس و اسکولوں کے اساتذہ کرام خواہش مند طلبہ وطالبات کو اس امتحان میں شریک مقابلہ کرسکتے ہیں شریک طلبہ کو فیس بھی جمع کر نی ہوگی امتحان انچارج محبوب عالم ندوی کے مطابق یہ امتحان دو سالوں سے کرایا جا رہا ہے مدرسہ ھذا اور دیگر مدارس و مانٹیسریز کے طلبہ بڑے ذوق وشوق سے شریک ہوتے ہیں اور اسلامی معلومات کا مظاہرہ کرتے ہیں مولانا نے بتایا کہ اس سال امتحان انشاءاللہ پچیس فروری کوصبح 9:00 بجےسے شروع ہوگا  اطفال تا مکتب چھارم کے امتحا نات تقریری ھونگےاوپرکے درجات کے امتحانات تقریری وتحریری دونوں ہونگے کامیاب ہونے والے طلبہ کو بالترتیب سونے کی گنی گولڈ میڈل سلور میڈل سند اور دیگر انعامات سے نوازا جائے گا اطفال تا چہارم کے لئے سوالات کاپیاں ہیں دیگر بچے کتاب اسلامیات سے تیاری کریں رجسٹریشن کی آخری تاریخ 12فروری 2017 ہے دیگر معلومات کے لئے درج نمبرات پر رابطہ کریں 9792126792،8416832151،7266891275

وسیم احمد منتری نے پریس کانفرنس میں کیا خلاصہ، جانیئے کس وجہ سے نہیں ملا گوپال پور اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ!


® ثاقب اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 9/ فروری 2017) گوپال پور اسمبلی حلقہ سے سماجوادی پارٹی سے ممبر اسمبلی جناب وسیم احمد (بیسک سکچھا منتری)  کا ٹکٹ کٹنے سے جہاں گوپال پور کی عوام ناراض ہے وہیں آج اس سلسے میں جناب وسیم احمد نے پریس کانفرنس کر تمام افواہوں کا خلاصہ کیا.
انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے صدر جناب اکھلیش یادو جی سے میں نے بات کیا کہ اگر میں نے پارٹی کے خلاف کوئی غلطی کی ہے تو مجھے بتا کر سزا دے سکے ہیں تو اکھلیش یادو جی نے وسیم احمد کی ایمانداری کو سراہتے ہوئے بھروسہ دلایا کہ آپ اپنے علاقہ میں سماجوادی پارٹی کو جیت دلائیں حکومت آنے کے بعد آپ کو پھر منتری کا عہدہ دیں گے.
جناب وسیم احمد نے نے گوپال پور میں ان کے بارے میں پھیلی افواہوں کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ میں پارٹی چھوڑنے والا نہیں ہوں 26 سالوں سے میں سماجوادی پارٹی میں میں ایمانداری اور ذمہ داری سے کام کر رہا ہوں اس پارٹی کو کیسے چھوڑ دوں پارٹی تو مرنے کے بعد چھوڑوں گا وہ بھی سماجوادی پارٹی کا جھنڈا کفن کے ساتھ ہوگا اس لئے لوگوں سے میں اپیل کرتا ہوں کہ افواہوں پر دھیان نا دیں ملکر سماجودی پارٹی کو ووٹ کریں.

Wednesday, 8 February 2017

راشٹریہ علماء کونسل اور بہوجن سماج پارٹی میں ہوا اتحاد، کسی بھی سیٹ سے علماءکونسل نہیں اتارے گی امیدوار!


® ثاقب اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
لکھنؤ(آئی این اے نیوز 8/فروری2017) آج شام راشٹریہ علماء کونسل اور بہوجن سماج پارٹی کے دونوں قد آور نیتا نسیم الدین صدیقی صاحب اور مولانا عامر رشادی مدنی صاحب کی موجودگی میں یوپی کا الیکشن ایک ساتھ لڑنے کی بات کہی وہیں نسیم الدین صدیقی نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک اور اتر پردیش کو فرقہ پرستوں سے بچانا ہے، اور ہم لوگ ملکر کرکے ایک اتہاس رچیں گے راشٹریہ علماء کونسل کے قومی صدر مولانا عامر رشادی مدنی نے کہا کہ ملک کے بٹوارے سے لیکر بابری مسجد کی شہادت میں جہاں جہاں دنگے نہیں ہوئے تھے وہاں وہاں بھی پانچ سال سپا حکومت نے دنگوں کا تحفہ دیا انہوں نے کہا کہ ہمیں بابری اور دادری کےخون آلود لوگوں کا صفایا کرناہے وہیں کانگریس کے لئے مولانا نے ایک شعر پڑھا۔
خود مسیحا خود ہی قاتل،وہ بھی آخر کیا کرے،
زخم دل پیدا کرے یا درد دل اچھا کرے۔
اکھلیش یادو پر جم کر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جو اپنے باپ کا نا ہوا وہ کسی کا نہیں ہوسکتا ایس پی حکومت میں عام لوگ تو چھوڑدیں پولس والے بھی محفوظ نہیں ہیں اسکی مثال ضیاءالحق ہیں مظفر نگر کے دنگائیوں کو کھلی چھوٹ دینے والے الیکشن آتے ہی انہیں گرفتار کرنے کی بات کررہے ہیں،سپا کے لئے بھی مولانا نے ایک شعر کہا۔
تیری چاہت میں ہم در بدر ہوگئے
اپنی ہستی سے ہی ہم بے خبر ہوگئے
تم سنور کر صنم سیفئی ہوگئے
ہم اجڑ کر مظفر نگر ہوگئے

ایسی صورت میں ایک ہی پارٹی نظر آتی ہے بسپا  کے نام سے بسپا کے دور حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بسپا حکومت میں لااینڈ آرڈر کا مسئلہ نہیں رہتا۔صحافیوں کے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم کسی امیدوار کو میدان میں نہیں اتاریں گے،اور اگر بسپا چاہے گی تو ہم انکے لئے پرچار بھی کریں گے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہماری پارٹی اتحاد کررہی نا کی خم ہورہی ہے.