اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 13 June 2018

عبادات کی قبولیت کی نشانی...

از: مولانا طاھر مدنی
ــــــــــــــــــــــ
رمضان کی 27 تاریخ گزر گئی، اب چند ہی روز میں یہ مبارک مہینہ رخصت ہونے والا ہے، ماشاء اللہ رمضان آتا ہے تو سبھی لوگ عبادات کا خوب اہتمام کرتے ہیں، فرائض کے علاوہ سنن و نوافل بھی ادا کرتے ہیں، مساجد آباد ہوجاتی ہیں، قرآن حکیم سے تعلق بڑھ جاتا ہے، صدقہ خیرات میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے،
غرض یہ کہ مختلف النوع عبادتوں کو انجام دیا جاتا ہے. اب جب کی یہ مبارک مہینہ ہم سے رخصت ہونے والا ہے، ذہنوں میں اس سوال کا پیدا ہونا فطری ہے کہ ہماری عبادات قبول ہوئیں یا نہیں؟
اس کی ایک بڑی واضح علامت اور نشانی ہے؛ اگر رمضان کے بعد بھی عبادات سے شغف اور دلچسپی قائم ہے، نمازوں کی پابندی ہورہی ہے، قرآن حکیم سے تعلق قائم ہے، انفاق کا سلسلہ جاری ہے، حقوق العباد کی ادائیگی ہورہی ہے اور دعوت قرآنی کو پھیلانے کی دھن ہے اور اللہ کے کلمہ کی سربلندی ترجیح اول ہے، زندگی کی گاڑی کا رخ آخرت کی جانب ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری عبادتیں مقبول ہوگئیں اور رمضان کی ہماری محنت ٹھکانے لگ گئی.... لیکن اگر رمضان کے جاتے ہی ہم ڈھیلے پڑ گئے، مسجدیں ویران ہوگئیں، قرآن حکیم کو طاق نسیاں پر رکھدیا گیا، دعوت دین کے لیے ہمارے پروگرام میں کوئی جگہ نہیں، فکر آخرت سے دل خالی ہیں اور غم حیات کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہیں تو سمجھ لیجیے کہ رمضان آیا اور چلا گیا، ہمارا دامن خالی ہی رہ گیا اور ہم ان بدنصیب لوگوں میں ہیں جو رمضان کی برکتوں سے محروم رہ گئے.
آئیے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائیے...
اے اللہ! ہمیں رمضان کی برکتوں سے ہمکنار کر، ہماری عبادتوں کو قبول فرما اور رمضان بعد بھی اعمال صالحہ پر استقامت عطا کر. آمین

دیوگاؤں: ATM میں کیش نہ ہونے سے صارفین پریشان!

حافظ ثاقب اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــ
دیوگاؤں/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 13/جون 2018) اعظم گڑھ علاقہ کے دیوگاؤں میں ATM میں کیش نہ ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تقریباً ہفتوں سے صارفین پیسے کیلئے رمضان المبارک میں جون کی اس شدید گرمی میں ATM سے خالی ہاتھ واپس جارہے ہیں.
موصولہ خبر کے مطابق تقریبا ایک ہفتوں کے دوران اس علاقے کے اے ٹی ایم میں پیسہ نہیں ہے جبکہ مسلمانوں کا سب سے بڑا تہوار (عیدالفطر) سر پر ہے، ایسے میں لوگ سامان خریدنے کے لئے پیسے نکالنے جب اے ٹی ایم جا رہے ہیں تو وہاں پیسہ سے محروم ہوجاتے ہیں، یہ حالت صرف کسی ایک ATM کا حال نہیں بلکہ دیوگاؤں کے تمام  ATM کا یہی حال ہے، کسی میں کیش نہیں ہے، جس کو لیکر صارفین میں کافی غصہ دیکھا جا رہا ہے، ایسے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ ATM میں کیش نہ ہونے سے اس بار یہاں کے لوگوں میں عید کی خوشیاں پھیکی پڑ سکتی ہے.

Tuesday, 12 June 2018

بڑے خوش نصیب ہیں وہ شخص جس نے تراویح میں مکمل قرآن کریم کو سنا، ختم تروایح کے موقع پر مولانا نظام الدین قاسمی کا خطاب.

ایم صدیقی
ــــــــــــــــــــ
لونی/غازی آباد(آئی این اے نیوز 12/جون 2018)  پوجا کالونی کی عثمانیہ مسجد میں تراویح میں قرآن کریم کے تکمیل کے موقع پر ایک مجلس منعقد کی گئی، جس میں مولانا نظام الدین قاسمی بانی ومہتمم جامعہ منبع العلوم پوجاکالونی نے عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم قرآن کریم صرف تلاوت تک محدود نہ کردیں،
بلکہ اس کو اپنی زندگی میں بھی اتاریں کیوں کہ اصل مقصود یہی ہے اور زندگی کے ہر ہر شعبہ میں قرآن کریم کو اپنا مشعل راہ بنائیں، اسی وقت اس امت مسلمہ کی ترقی ممکن ورنہ یہ جتنی آج تنگ حال و ذلیل و خوار ہے، اس سے بھی کہیں زیادہ ذلیل ہو جائے گی، اور پھر کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا، تاریخ گواہ ہے صحابہ کرام کو قرآن کریم کو اپنی زندگی میں اتارنے سے پہلے لوگ ان پڑھ گوار کہا کرتے تھے، مگر جب قرآن کریم کو زندگیوں میں اتارا تو پھر صحابہ کرام کا لقب ملا اور آج اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان کا نام زندہ ہے، اور تا قیامت زندہ رہیگا، اس لیے ہم قرآن کو سیکھیں بھی اور اپنی اولاد کو سکھائیں، اور اسی کے مطابق زندگی بھی گزاریں قرآن کریم دنیا کی وہ واحد کتاب ہے جس کا پڑھنا سننا حتی کہ دیکھنا بھی باعث ثواب ہیں ، آخر میں حضرت ہی کی رقت آمیز دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا حافظ عبید رحمانی امام وخطیب مسجد ہذا نےتراویح میں مکمل قرآن کریم کیا.

عیدالفطر کا پیغام اور ہماری ذمہ داریاں!

محمد انور داؤدی، قاسمی ایڈیٹر روشنی أعظم گڑھ
Mdanwardaudi@gmail.Com
Mob: 8853777798
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کے اس دور میں آپ سے کچھ خاص باتیں عرض کرنی ہیں، اللہ سےدعا کریں کہ حق بات زبان پر جاری فرمائے اور ہم سب کے لئے نفع بخش بنائے. آمین
بهائیو!
دنیا میں جتنی قومیں یا مذاهب آباد ہیں ان میں سے ہر ایک کے کچھ خاص تہوار ہوتے ہیں جس میں ان مذاهب کے ماننے والے اپنی اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق اچھا پہنتے، کھاتے اور اپنے طور پر خوشیاں مناتے ہیں، اسلام نے بهی انسانی فطرت کا خیال کرتے ہوئے مسلمانوں کو دو تہوار دیا ایک عیدالفطر، دوسرا عیدالاضحی
پورے سال کے اندر صرف یہی دو تہوار مذہبی، ملی اور قومی ہیں، لیکن  اسلامی تہوار دیگر اقوام عالم کے تہواروں سے بالکل منفرد اور نمایاں پہچان رکھتا ہے.
     قوموں کے تہوار یا عید دراصل انکے عقائد وتصوارت اور انکی تاریخ و روایات کے ترجمان ہوتے ہیں آپ جب غور کریں گے تو بات واضح ہوجائے گی کہ اقوام عالم میں عید اور تہوار کے معنی رنگ رلیاں یا اپنی قومیت کو مستحکم کرنا یا کسی مقتدا کی یاد تازه کرنا ہے اور یہ کہ جشن کا اظہار لہو و لعب، یا ناچ گانے سے خوب کیا جاتا ہے، لیکن اسلام ایک پاکیزہ اور مبارک دین ہے جسکی مذہبی اقدار وتعلیمات لہو و لعب سے کوسوں دور ہیں، اسلام میں عید کے تہوار کے معنی اجتماعی طور پر خدا کی یاد کرنے، اس کی طرف رجوع کرنے اور اس کا قرب حاصل کرنے اور اسکے نام پر غریبوں کی مدد کرنے کے ہیں ،جشن اور خوشی کے مواقع میں عموما انسان اپنے مولیٰ کو بهول بیٹهتا ہے لیکن اسلام کی شان دیکھئے خوشی کے یہ دن بهی عبادت بن جاتے ہیں مسلم قوم دوگانہ ادا کرکے اللہ کی جناب میں قربانی کرکے اور حاجت مندوں پر رقم خرچ کر کے یہ بتلانا چاہتی ہے کہ ایک طرف وه خدا کے نام لیوا ہیں
تو دوسری طرف دنیا کےمفلوک الحال انسانوں کی ضروریات کا خیال کرکے وہ ایک زندہ، عوامی اور عالمی قوم ہے جسے نہ قبیلے تقسیم کر سکتے ہیں اور نہ ملکوں کی سرحدیں.
{ پیغام عیدالفطر }
    ➖برادران ملت ➖
آج عید کا دن ہے، خوشی و مسرت کا دن ہے آج کا یہ دن اسلامی تہوار کا پہلا دن ہے اسکی رات کو لیلة الجائزة (انعام کی رات) اور دن کو یوم الجائزة  (انعام کادن) کہا جاتا ہے، آج کا دن مسلمانوں کے لئے انتہائی اہم ہے آج رحمت خداوندی سب کو ڈهانپے ہوئے ہے آج لوگ مغفور ہوکر گهر لوٹیں گے لیکن آج کا دن ہمیں ایک پیغام دیتا ہے کہ دیکھو آج بخشے بخشائے گهر لوٹ رہے ہو پهر گناہوں کی دلدل میں نہ دهنس جانا، آج جیسے تمهارے کپڑے اجلے ہیں، داغ دهبے سے صاف ہیں، نہ صرف تمهارا جسم بلکہ گلی گلی اور فضائیں تک خوشبوؤں سے معطر ہیں ایسے ہی تمهارا دل بهی شیشے کی طرح گناہوں سے پاک رہنا چاہیے، تمهاری تلاوت و دیگر اعمال خیر سے تمهاری روح، بلکہ پورا معاشرہ وفضا بهی پاکیزہ رہنی چاہیے.
جی ہاں رمضان کا مہینہ تربیتی کیمپ تها،ٹریننگ کورس تها جس میں  دن بهر روزه کے ذریعہ نفس کو مانجها اور صاف کیا گیا اور رات کو اس صاف شده ظرف پر تلاوت وتراویح سے قلعی کی گئی جس سے وه چمک اٹها ہے، گویا رمضان میں نفس کو پاکیزہ بنانے اور تقوی کی صفات پیدا کرنے کا کام کیا گیا اسی لئے جب قرآن نے روزے کا ذکر کیا تو اس کا سب سے بڑا ثمره تقوی بتلایا.
 ارشاد ہے: یا ایهاالذین آمنوا کتب علیکم الصيام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون(البقره)
حضرات گرامی ➖
نفسانی خواہشات و لذات کو جب تک توڑا نہیں جائے گا،قربان نہیں کیا جائیگا تب تک تقوی کی صفات پیدا نہیں ہونگی، آسان زبان میں سمجھئے اوامر پر عمل ہو اور نواھی سے پرہیز، خیر اور شریہ دو مادے ہیں اگر صرف خیر ہی خیر ہو تو وه انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہے، اور اگر صرف شر ہی شر ہو تو وہ شیطان ہے اور جہاں خیر و شر دونوں مادے مل جائیں وہاں انسان ہے، جیسے ہر انسان  کے اندر اللہ نے دو ماده رکها ہے ایک خیر کا دوسرا شر کا، اسی طرح شریعت اسلام کے دوحصے ہیں ایک اوامر جیسے کہا گیا کہ نماز پڑھو، روزه رکهو، حج کرو
دوسرا حصہ نواھی کا ہے جیسے کہا گیا چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، قتل نہ کرو وغیره
 اور رمضان میں یہ دونوں چیزیں موجود ہیں، اور اس  کے ایام اسی شان سے پورے ہوتے ہیں کہ اسکے دن تروک میں مصروف اور اسکی راتیں افعال میں مشغول -
پهر عید کا چاند تکمیل عبادت کا مسرت بهرا پیغام لیکر فضاء آسمانی میں نمودار ہوتا ہے گویا وه یہ اعلان کرتا ہے کہ اے بندگان خدا تم نے دنوں کو نفسانی لذتوں پر قرب خداوندی کی لذتوں کو ترجیح دی اور راتوں کو لہوالحدیث میں نہ گنوا کر خیرالحدیث کے کہنے اور سننے میں مشغول رکها، اس لئے ھلال عید کے ذریعہ تمهیں کامیابی کی مبارکباد دی جاتی ہے.
   بزرگو اور دوستو ➖
 حکم آجائے"کرو" تو کرنا عبادت، اور جب منع کر دیا جائے تو رک جانا عبادت، اسی کا نام دین ہے اور اسی کا نام تقویٰ ہے، تقویٰ کا ماحصل یہی ہے کہ دلوں میں اللہ کا خوف جم جائے، قرآن نے مختلف جگہوں پر ذکر کیا ہے "اتقوا الله، اتقوا الله" یہ تصور پیدا ہوجائے کہ میرا اللہ مجهے دیکھ رہا ہے، دن کا اجالا ہو یا رات کی تاریکی، جلوت میں ہو یا خلوت میں، جب بهی گناه کی طرف قدم بڑهے اللہ کا دهیان آجائے، یہی وه تصور ہے جو اسلام دیتا ہے رمضان دیتا ہے اور آج عید کا یہی  پیغام ہے کہ جس خوف جذبے اور خلوص کے ساتھ ماه رمضان گزارے گئے آنیوالے گیاره ماه بهی اسی تصور کیساتھ گزارے جائیں.
گرامی قدر➖
اسلام نے دو عقیدہ ایسا دیا ہے جو کسی اور کے پاس نہیں ہے، ایک اللہ کا ڈر، دوسرا آخرت میں جواب دہی.
     دوستو!
اگر غور کیا جائے تو جرائم کا خاتمہ بغیر تقویٰ کے ممکن نہیں، جرائم و کرائم کو نہ پولیس روک سکتی ہے، نہ فوج نہ ہتهیار، اگرمحض پولیس سے جرائم کو روکا جا سکتا تھا تو آج کی دنیا کو سب سے زیاده پر امن اور متقی ہونا چاہیے تھا کیونکہ آج نہ پولیس کی کمی ہے نہ فوج کی اور نہ ہی ہتهیار کی، پولیس سامنے ہے تو خوف ہے قانونی اداروں کی موجودگی میں قانون کا ڈر ہے لیکن جہاں نگاه سے اوجهل ہوئے ڈر ختم ہوجاتا ہے مگر اسلام جو تصور دے رہا ہے وہاں کوئی ہو یا نہ ہو ہر دو حالت میں احکم الحاکمین کا خوف ہے، بات سمجھنے کے لئے میں صرف دومثال پیش کرتا ہوں
⬅ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک عورت آئی اور عرض کی یارسول اللہ مجھ سے غلط کام ہوگیا اور حمل ٹھہر گیا مجهے سزا دیجئے.
غور کیجئے!
 عورت کی غلطی چھپی تهی مگر وه کیا چیز تهی جو اسے دربار رسالت میں کهینچ لائی جی وه خوف خدا تها اور آخرت میں جوابدہی کا تصور،
آپ نے فرمایا ابهی واپس جاؤ پیدائش کے بعد آنا، وه عورت وضع حمل کے بعد پهر آئی.
غورکیجئے!
کئی ماه گزرنے کے باوجود اسکا خوف سرد نہیں ہوا، اس پر کوئی دباؤ نہیں تها کوئی ایف آئی آر نہیں،  کوئی وارنٹ نہیں مگر وه آئی.
آپ نےفرمایا ابهی واپس جاؤ ابهی بچہ چهوٹا ہے ابهی اسے تیری ضرورت ہے وه گئی پهر دو سال بعد آئی اور بچے کے منھ میں روٹی کا ٹکڑا تها یہ ثابت کرنے کے لئے کہ اب بچہ غذا کهانے لگا اس لئے مجهے اسلامی قاعدے کے مطابق سزا دیجئے.
یہ ہےخوف خدا
⬅دوسری مثال
امریکہ نے ایک مرتبہ شراب پر پابندی لگانے کے لئے پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون بنایا، پهر کمیٹی قائم کی گئی، لاکھوں کے بجٹ تیار کئے گئے، اشتہارات شائع کئے گئے غرض بے پناه محنت اور بےپناه خرچ کے بعد قانون نافذ کردیا گیا کچھ عرصہ بعد رپورٹ سونپی گئی کہ پابندی سے قبل اگر پچاس ہزار لوگ شراب پیتے تهے تو اب وه  ایک لاکھ ہوگئے، کیوں؟؟؟؟
کهلے عام وضعدار لوگ اپنی ساکھ بچانے کے لئے نہیں پیتے تهے مگر جب بینڈ لگ گیا تو سب کو موقع مل گیا بلیک میلنگ بڑھ گئی اور نتیجہ الٹا ہو گیا.
 اسلام نے شراب پر کیسے بینڈ لگایا جانتے ہیں؟
 جب اللہ نے چاہا کہ شراب بند کیا جائے تو سب سے پہلے بتایا "يسألونك عن الخمر و الميسر قل فيهما اثم كبير و منافع للناس واثمهما أكبر من نفعهما" (البقره 219/)
یعنی لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو بتا دیجیے کہ ان میں بڑا گناه ہے لوگوں کے فائدے بهی ہیں لیکن گناه فائده سے بڑا ہے، اب کچھ لوگوں نے اسی وقت شراب چهوڑ دی، پهر دوسرا حکم آگیا "یا ایهاالذین آمنوا لاتقربوا الصلوة وأنتم سکٰری"ٰ (النساء43/)
یعنی اب شراب پی کر نشے کی حالت میں نماز مت پڑهو.
    کچھ لوگوں نے اس وقت چهوڑ دی مگر کچھ نماز کے علاوه اوقات میں پیتے رہے پھر عرصہ بعد شراب مکمل حرام کردی گئی ارشاد ہے "یا ایها الذین انما الخمر والمیسر و الانصاب والازلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه" (النساء90/)
اب مکمل اجتناب کا حکم آیا تو جنهوں نے جام لب سے لگایا تها وه ایک گهونٹ اتارنے تک کو تیار نہ ہوئے بلکہ گلیوں میں بہا دیا، یہ ہے اسلامی طریقہ اور حکمت.
    ➖حالات حاضرہ ➖
برادران ملت اور رشتہ اسلام کی ماں بہنو!
تقوی اختیار کرو اپنے دین پر مضبوطی کیساتھ جم جاؤ لاکھ مخالفتیں ہوں، ہزارہا باد مخالف چلے، گرچہ ظاہرا رسوائی ہو، ملامتیں کی جائیں مگر دین کو اپنی ذات سے بدنام نہ ہونے دینا، آج باطل طاقتوں نے، مخالفین نے انداز بدل دیا ہے، اسلام سے بدظن کرنے کے لئے ملت اسلامیہ کو تشویش میں مبتلا کرنے کیلئے عورتوں کا سہار لیا ہے اور حقوق کی بات کر کے پرسنل لاء کو چیلنج کر رہی ہیں، حالانکہ جو عزت وحفاظت، عظمت وتقدس اور حقوق و اختیارات اسلام نے عورتوں کو دیا ہے وه کسی اور نےنہ دیا ہے اور نہ دینے کی ہمت کر پارہے ہیں بیٹیوں کی تعلیم وتربیت اور نکاح پر اللہ کے رسول نے جنت میں اپنے ساتھ جگہ ملنے کو کہا ہے.
عورت پیر کی جوتی سمجھی جاتی تهی اسلام نے اسے گهر کی ملکہ بنا دیا وراثت سے محروم کردی جاتی تهی آج بھی دیگر اقوام میں اسے محروم رکھا جاتا ہے مگر اسلام نے اسے وارث بنایا، لاتعداد طلاق اور پهر رجوع کے ذریعہ اسے ٹارچر کیا جاتا تها اسلام نے تین طلاق کی حدبندی کردی اور ظالم شوہر سے نجات دلائی، طلاق مسئلہ نہیں ہے مسئلے کا حل ہے.
اسلام نے ہمیشہ عورتوں کیساتھ عمدہ سلوک کی تلقین کیا ہے، انکی فریاد کو اولیت دی ہے اسلامی تواریخ اس قسم کے واقعات سے بهری پڑی ہیں.
   🔵  ایک عورت کی خاطر سرکاری فرمان جاری کیا گیا🔵
   حضرت عمر رضی اللہ عنه کازمانہ خلافت ہے رات کو گشت کر کے رعایا کا حال جاننے اور خبر رکهنے کی کوشش کرتے ہیں ایک رات ایک گهر سے گنگنانے (گانے) کی آواز آئی، فاروق اعظم ٹهٹهک گئے دروازے پر دستک دی کون؟
لڑکی آواز پہچان کر ڈر گئی، امیرا لمومنین نے دوباره سخت آواز دی وه اور سہم گئی، فاروق اعظم کا شک اور بڑھ گیا دیوار پهلانگ کر گهر کے اندر گئے تو دیکها لڑکی اکیلی ہے، نوجوان ہے آپ نے پوچها کون ہےتو؟اورکیوں گارہی ہے؟ کیا تجهے معلوم نہیں کہ اسلام نے عورت کی آواز بهی عورت بنایا ہے تو گناہ گار ہوئی؟
اب عورت کو جرات ہوئی اور بولی آپ مجهےطعنہ دے رہے ہیں حالانکہ آپ یہاں کهڑےکهڑے تین گناه کئے ہیں، اتنا سنتے ہی حضرت عمر کا غصہ ٹهنڈا ہوگیا، رعایا کی ایک لڑکی امیرالمومنین سے ایسی بات کہہ دے اور پهر امیرالمومنین پوچهیں وه گناه کیا ہیں آج کے دور میں تصور ہے؟؟؟؟
لڑکی نےکہا
(۱) میں اجنبی لڑکی ہوں اور اس طرح میرے ساتھ کسی مرد کو خلوت جائز نہیں.
(۲) قرآن کہتا ہے کسی کے گهر میں داخل ہونے سے پہلے صاحب خانہ سے اجازت لے لو مگر آپ بلا اجازت اندر آئے .
(۳) قرآن کہتا ہے "واتوا البیوت من أبوابها" گهروں میں دروازے کے ذریعہ داخل ہو اورآپ دیوار پهلانگ کر آئے.
اب فاروق اعظم بہت شرمندہ ہوئے یہ آپکی تواضع اور انکساری تهی ورنہ ایک ذمہ دار کو سچ جاننے کے لئے چهاپہ مار کاروائی کا حق ہے، بہرحال فاروق اعظم واپس لوٹ آئے رات بهر عبادت میں صرف کیا پهر صبح ضابطے کے مطابق اس لڑکی کے پاس آدمی بهیجا اور طلب کیا اور کہا اللہ تجهے جزائے خیر عطا فرمائے تو نے مجهے متنبہ کیا، لیکن بحیثیت امیرالمومنین پوچهتا ہوں وه گانا بجانا کیسا تها؟
      لڑکی نے جواب دیا میں ایک نوجوان لڑکی ہوں اور بهرپور جوانی ہے، پندرہ روز پہلے شادی ہوئی میرا خاوند بهی جوان تها آپ نے اسے ایک محاذ محاذ پر بهیج دیا، میں اسکے فراق میں عاشقانہ اشعار پڑھ رہی تهی، میں نہ بدکارہوں نہ زانیہ.
      فاروق اعظم نےاطمینان کی سانس لیا اور اسے عزت کیساتھ رخصت کیا، واپس اپنی بیوی کے پاس آئے اور بولے اگر نوجوان لڑکی کی شادی ہو اور خاوند بهی نوجوان ہو اور دونوں میں جدائی ہو جائے وه کتنے دن تک صبر کرسکتے ہیں کہ اسکے بعد بدکاری کا اندیشہ نہ ہو؟
بیوی نے کہا 3 ماه، یہ الگ بات ہے کہ اسکا دین مضبوط ہو، اس میں حیا ہو اپنے اخلاق کیوجہ سے برسہا برس بلکہ عمر گزار دے.
یہ سن کر عمر فاروق نے سرکاری فرمان جاری کیا کہ جن شادی شده جوانوں کو جنگ پر بهیجا گیا انهیں تین ماه کے اندر واپس کیا جائے انکی جگہ دوسرے سپاہی بهیجے جائیں.
      یہ ہےاسلام میں خواتین کی عزت کہ ایک عورت کی وجہ سے ایک نظام مرتب ہوگیا.
    بهائیو!
 دین کی حفاظت کرو تم محفوظ رہو گے، اسلام مخالف لاکھ قوانین بنائے جائیں اگر ہم خود اپنے دین پر کاربند رہے اور اپنے مذہبی معاملات کو شریعت کی روشنی میں حل کراتے رہے توہم کسی سازش کا شکار نہیں ہوسکتے .
آئیے!
ہم سب ایک اچھی پاکیزہ اور پروقار زندگی گزارنے کا عہد کریں اور برادران وطن میں پهیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش بهی کریں، ملک میں امن وأمان کے قیام اور خوب ترقی کی دعا بهی مانگیں.

دارالعلوم دیوبند کی تمام عربی جماعتوں کے نتائج منظر عام!

رضوان سلمانی
ــــــــــــــــــــــــ
دیوبند(آئی این اے نیوز 12/جون 2018) دارالعلوم دیوبند کی تمام عربی جماعتوں کے سالانہ نتائج منظر عام پر آچکے ہیں، گزشتہ روز ویب سائٹ کے توسط سے منظر عام پر آئے دورہ حدیث شریف کے نتائج میں ادارہ کے طالبعلم فخر الدین جونپوری نے اول پوزیشن حاصل کرکے نام روشن کیا ہے،
حسب سابق دارالعلوم دیوبند کے عربی درجات کے نتائج رمضان المبارک کی پہلی تاریخ سے منظر پر آنا شروع ہوتے تھے، جن کو نئے داخلوں کے مرحلہ سے قبل منظر عام پر لانا انتظامیہ کے لئے ضروری ہوتا، اسی کے تحت گزشتہ دن دورہ حدیث شریف کے نتائج ادارہ ویب سائٹ کے ذریعہ منظر عام پر آئے، اس مرتبہ دورہ حدیث شریف میں 91.70؍ فیصد نمبرات کے ساتھ فخر الدین جونپوری نے اول پوزیشن حاصل کی جبکہ غاذب اشرف اعظم گڈھی نے 91.60؍ فیصد نمبرات کے ساتھ دوم اور محمد شاہ نواز سہارنپور نے 90.60؍ فیصد نمبرات کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
واضح ہو کہ دورہ حدیث میں شریف میں کل 1540؍ طلباء نے شرکت کی تھی جن میں سے اکثر طلباء نے نمایاں نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے، اول تا دورہ حدیث کے نتائج دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ دیکھے جاسکتے ہیں۔

Monday, 11 June 2018

سیوان میں ڈاکٹر اختر حسین کے مالی تعاون سے غریبوں میں عید کے کپڑے تقسیم!

محمد صدرعالم نعمانی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سوبھن/سیوان (آئی این اے نیوز 11/جون 2018) سیوان کے باشندہ اور دبئی میں مقیم مشہور ومعروف سماجی کارکن ڈاکٹر اختر حسین کے مالی تعاون سے دلت مسلم سماج کے بینر تلے سیوان ضلع کے سوبھن قصبہ، ملت کالج اور غالب کالج کے نزدیک بسے ہوئے انتہائی غریب و پسماندہ سیکڑوں مسلمانوں کے درمیان عید کا کپڑا و دیگر سامان تقسیم کیا گیا، ڈاکٹر اختر حسین نے دلت مسلم سماج کے کنویر ڈاکٹر ایوب راعین کے ذریعے انتہائی غریب وپسماندہ
مسلمانوں کی ایک فہرست تیار کروائی ہے، اس فہرست میں کئی گاؤں اور ٹولے محلے شامل ہیں، ان انتہائی غریب اور پسماندہ مسلمانوں تک عید کے کپڑے و دیگر سامان پہونچانے کیلئے ایک ٹیم بنائی گئی ہے جو ان تک عید کے کپڑے ودیگر سامان پہونچا سکے، عید کا سامان غریبوں کے درمیان پہونچانے کا یہ سلسلہ چاند رات تک جاری رہے گا ان شاء اللہ.
اس موقع پر دلت مسلم سماج سیوان کے کنوینر ڈاکٹر ایوب راعین، طارق اقبال، محمد غفران، عتیق الرحمان، محمد کیف، احتشام الحق، صغیر احمد، شکیل احمد ڈاکٹر شمس الضحی، بدرالدین، محمد نزیر وغیرہ پیش پیش رہے.

جین پور: ڈی سی ایم کی زد میں آنے سے بچی کی موت!

عبدالکافی چشتی
ــــــــــــــــــــــــــ
جین پور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 11/جون 2018) جین پور بازار میں گزشتہ دن ڈی سی ایم اور بائک کی ٹکر ہوگئی جس سے بائک گر گئی، جس میں شرما گوڑ رہائشی نئی بازار جین پور کی پانچ سالہ بچی شتو کی موقع پر موت ہوگئی.
ملی اطلاع کے مطابق ہیرا لال رہائشی مرکھاپور تھانہ اعظم گڑھ اپنے بھائی کے سالے کے گھر گئے تھے، جہاں شرما گوڑ کی پانچ سالہ بیٹی پھوپھی کے گھر جانے کیلئے رونے لگی، اور ہیرا لال کے ساتھ ہو لی،
جین پور بازار میں آتے ہی  UP 53 DT 3206 نمبر کی ڈی سی ایم نے ٹکر مار دی جس سے پانچ سالہ بچی کی موت ہوگئی، موقع پر پہنچی جین پور کوتوالی پولیس نے ڈی سی ایم کو اپنے قبضہ میں لیا، اور ڈرائیور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، پولیس تحقیقات میں مصروف ہے.

مئو: چناوی رنجش میں نامعلوم بدمعاشوں نے ماری گولی، حالت سنگین!

محمد عامر
ـــــــــــــــ
گھوسی/مئو(آئی این اے نیوز 11/جون 2018) مئو ضلع کے گھوسی کوتوالی علاقہ کے تھانی داس موڑ پر نامعلوم بدمعاشوں نے چناوی رنجش میں ایک شخص کو گولی مار دی، گولی سر میں لگنے سے زمین پر گر گیا، گولی کی آواز سنتے ہی وہاں موجود لوگوں نے بدمعاشوں کو دوڑایا لیکن بدمعاشوں نے خود کو گھرتے دیکھ اپنی بائک موقع پر چھوڑ بھاگے، زخمی شخص گھوسی تھانہ علاقہ کے محمد پور گاؤں کا رہنے والا ہے، جس کا نام امرناتھ بتایا جا رہا ہے.
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ امرناتھ کو گاؤں کے ہی ایک شخص نے جس کا نام سنیل ہے لیکر تھانی داس موڑ پر لایا، جہاں گاؤں کی پردھانی کو لیکر تنازعہ ہوا، اور وہاں پہلے سے موجود گاؤں کے ہی کچھ لوگ تھے، جس میں سے پیچھے سے کسی نے گولی مار دی، گولی سر میں لگنے سے امرناتھ زمین پر لڑکھڑا کے گر گیا، موقع لوگوں نے اسے دوڑا لیکن بدمعاش فرار ہوگئے، زخمی امرناتھ کو علاج کیلئے ضلع اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے حالت دیکھ کر ورانسی کیلئے ریفر کر دیا، زخمی امرناتھ کی حالت نازک بنی ہوئی ہے، اس پورے معاملے میں پولیس کچھ بھی کہنے سے بچ رہی ہے.

Sunday, 10 June 2018

گورکھپور: ڈاکٹر کفیل خان کے چھوٹے بھائی کاشف جمیل پر جان لیوا حملہ، قتل کی سازش!

سمیع اللّٰہ خان
جنرل سیکریٹری کاروانِ امن و انصاف
ksamikhann@gmail.com
ـــــــــــــــــــــــــــ
گورکھپور(آئی این اے نیوز 10/جون 2018) مسیحائے انسانیت،  ڈاکٹر کفیل خان کے چھوٹے بھائی کاشف جمیل پر ابھی ابھی جان لیوا حملہ ہوا ہے، دو گولیاں لگی ہیں، حالت نازک بتائی جارہی ہے.
بتایا جارہاہے کہ: یہ بندوق بردار، دراصل ڈاکٹر کفیل کو ختم کرنے آئے تھے، لیکن نشانہ چوک گیا اور ان کے چھوٹے بھائی فائرنگ کی زد میں آگئے، کاشف جمیل اس وقت گورکھپور اسٹار ہاسپیٹل میں بھرتی ہیں،
ڈاکٹر کفیل خان وہی شخص ہیں جنہوں نے گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں گیس کی کمی کی وجہ سے قتل عام کا شکار ہونے والے معصوم بچوں کی زندگیاں بچانے کی کوشش کی تھی، اس جرمِ وفا کے عوض یوگی حکومت نے الٹا، ڈاکٹر کفیل پر ہی کیس ٹھوک کر انہیں جیل میں ٹھونس دیا تھا، ابھی کچھ مہینے قبل ہی وہ بمشکل  رہا ہوکر آئے تھے ۔
جیل سے آنے کے بعد ان کی مقبولیت میں برابر اضافہ ہورہاتھا، جو کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے حلقہ گورکھپور کے سنگھی جنونیوں کو بھلا کیسے برداشت ہوتا؟
یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار میں ۱۰۰ کے قریب معصوم بچے مارے جاتےہیں، ایک ہمدرد مسیحا ان بچوں کو بلاتفریق مذہب بچانے کی کوشش کرتاہے، یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار آج تک ان مجرم قاتل ڈاکٹرز کو تو کیفرکردار تک پہنچا نہیں سکی! لیکن اس انسانیت سوز واقعے میں انسانیت کی پاسداری کرنے والے ایک ڈاکٹر کو اٹھا کر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا.
اور اب ان کے گھر پر قاتلانہ حملے ہورہےہیں، یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار کو چاہیے کہ فوراﹰ سے پیشتر مجرمین کو سامنے لائے، وگرنہ یہ خیال بھی وائرل ہوسکتاہے کہ: " یوگی آدتیہ ناتھ سرکار ڈاکٹر کفیل کے قاتلانہ منصوبے کی پشت پناہی کررہی ہے " اور، یہ اچھا نہیں ہوگا، کیونکہ اترپردیش میں یوگی جی کی وزارت میں غنڈہ راج جگ ظاہر ہوچکاہے ۔
آج کا یہ سفاک خونی واقعہ بھارت کے نظام قانون کو چیلینج کررہاہے، اور یہ سوال کھڑے کرتاہے کہ کیا " منو سمرتی " کے سفاک جنونیوں کی پیاس اس حد تک بڑھ چکی ہے؟ جنہیں انسانیت، ہمدردی، حق و انصاف اور عدل و مساوات سے ازلی بیر ہے ۔
یہ وقت ہے کہ اترپردیش کا ہر ہر بچہ اور جوان، ہندو مسلم، سکھ عیسائی، علما و اسکالرز، پروفیسران و دانشوران،خاص طور پر ملی و سماجی تنظیموں کے ذمہ داران، سب ملکر ڈاکٹر کفیل کے گھرانے کو مضبوط کریں، وگرنہ سنگھی جنونیوں کی پیاس اگلا نشانہ آپ کو بناسکتی ہے.

بزم شبینہ میں پہلی شب پڑھے گئے دس پارے، نوجوان حفاظ کرام نے عمدہ تلاوت کرکے لوگوں کا جیتا دل!

عبداللہ انصاری
ـــــــــــــــــــــــ
مئوآئمہ/الہ آباد(آئی این اے نیوز 10/جون 2018) مئوآئمہ قصبہ واقع مسجد کڑک شاہ محلہ حجیانہ میں کل بروز سنیچر سے بزم شبینہ کا اہتمام کیا گیا، جس میں کل پہلے دن تراویح کی شکل میں ۲۰ رکعت میں ۱۰ پاروں کی تلاوت کی گئی، شبینہ کے آغاز سے قبل شبینہ کے ذمہ دار نوجوان عالم دین مفتی فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی نے کہا قرآن اللہ کی کتاب ہے، جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو اس کا سننا واجب ہے، قرآن کی تلاوت کے وقت بات چیت کرنا شور کرنا سخت گناہ ہے، انہوں نے مسلمانوں کو خاموشی کے ساتھ شبینہ پڑھنے کی تلقین کی، مفتی فضل الرحمان نے کہا مسجد اللہ کا گھر ہے، مسجد کا احترام انتہائی ضروری ہے،
مسجد میں فضول گوئی کرنا نیکیوں کو کھاجاتا ہے، پہلی شب میں مئوآئمہ قصبہ کے ۱۰ حفاظ نے مل کر ۱۰ پارہ کی تلاوت کی، جس میں نوجوان حفاظ کرام نے کافی عمدہ تلاوت کر لوگوں کے دلوں کوجیت لیا.
محلہ اعظم پور کے حافظ محمد ثاقب، حافظ محمد فیض، حافظ ریحان، حافظ محمد احتشام صاحب اور محلہ پورہ میانجی کے حافظ ولی اللہ صاحب نے اپنے عمدہ لب و لہجہ اور بہترین یادداشت کی وجہ سے لوگوں کو متاثر کیا، لوگ ان کی تلاوت سے کافی خوش ہوئے، محلہ حجیانہ کے نوجوانوں نے شبینہ پڑھنے والوں کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا، ہر چار رکعت کے بعد مصلیوں کے اندر تازگی کے لئے عمدہ و لذید قسم کے ناشتہ کا انتظام کیا گیا تھا، تاکہ مصلی دل جمعی کے ساتھ پڑھنے میں مشغول رہیں، تمام مصلیان شبینہ کمیٹی کے عمدہ انتظامات سے خوش نظر آئے، نظم ونسق کا جائزہ لینے کے لئے شبینہ کے اہم ذمہ دار  سعیدانصاری صاحب، مولانا حفیظ الرحمان صاحب اور مئو آئمہ کے چیئرمین حاجی محمد شعیب انصاری صاحب بھی مسجد کڑک شاہ پہنچے، اور حالات کا جائزہ لیا.
غورطلب ہو کہ یہ بزم شبینہ کا انعقاد  مئوآئمہ کے معروف سماجی کارکن و سماجوادی رہنما جناب عمیر جلال کی قیادت میں کیا جارہا ہے.

اس 6 سال کے بچہ نے رمضان المبارک کا پورا روزہ رکھا!

مئوآئمہ/الہ آباد(آئی این اے نیوز 10/جون 2018)مقدس رمضان کا اخیر عشرہ گامزن ہے، گرمی بھی اپنے پورے شباب پر ہے، ملت اسلامیہ فریضہ صوم کی ادائیگی میں مصروف ہے، فرزندان توحید کے لئے حکم خداوندی کے بجا آوری میں سخت گرمی کا موسم اگرچہ متاثر کررہا ہے، لیکن اللہ کے نیک بندے روزہ رکھنے میں مشغول ہیں،
نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے روزہ رکھ رہے ہیں، قصبہ مئو آئمہ کے محلہ حجیانہ کے محمد اویس ولد محمد منصور جس کی عمر محض ۵ سال چار ماہ ہے، رمضان المبارک کا پورا روزہ رکھ کر لوگوں کو تعجب میں ڈال دیاہ ہے، آس پاس کے لوگ اس بچہ پر رشک کررہے ہیں.
اس موقع پر نوجوان عالم دین مفتی فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی نے کہا رمضان المبارک میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں، انسان تھوڑی بھی کوشش کرلے تو اللہ اسے ہمت اور طاقت دیتا ہے، مفتی فضل الرحمان نے کہا والدین کو بچپن ہی سے بچوں کو روزہ رکھنے کی عادت ڈلوانی چاہے، تاکہ جوانی میں روزہ رکھنے میں آسانی ہو، مفتی قاسمی نے اس بچہ کے والدین کو مبارکباد دیا، ماسٹر محفوظ صاحب، اویس شیخ اور اہل خانہ نے اس بچہ کی حوصلہ افزائی کے لئے گراں قدر انعامات سے نوازا.

مسلمانو! رمضان المبارک ختم ہونے سے پہلے اسکی قدر کرلو، رمضان کی ناقدری اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے: شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی

محمد فرقان
ـــــــــــــــــــ
 بنگلور(آئی این اے نیوز 10/جون 2018) اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کو اپنے سے قریب کرنے کیلئے ہر لمحہ کوئی کوئی موقع دیکھتے رہتے ہیں لیکن انسان ہیکہ ہر لمحہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے، رمضان المبارک جیسے عظیم نعمت اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہم لوگوں عنایت فرمائی، ہمارے آقا حضرت محمد بخشے بخشائے ہوتے ہوئے بھی آپکی زندگی میں جب بھی رمضان المبارک کی آمد ہوئی تو آپ نے دنیا کے ہر کام کو چھوڑ کر پورا وقت اللہ کو راضی کرنے کیلئے اللہ کی عبادت میں گزارا کرتے تھے، لیکن آج مسلمان رمضان میں عبادت تو دور کی بات گناہوں کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتا۔ مسلمان رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے کی قدر و قیمت بھلا بیٹھا ہے.
جس کی وجہ سے آج وہ دنیا میں ذلیل ہورا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسجد شباب الاسلام، گروپن پالیہ، بنگلور میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔
 شاہ ملت نے فرمایا کہ رمضان المبارک کے دو عشرے ختم ہوکر تیسرا عشرہ بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔مولانا نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ کنتے لوگ ہیں جنہوں نے رمضان المبارک جیسا مہینہ پایا لیکن اس کی قدر نہیں کی، روزے نہیں رکھے، تراویح نہیں پڑھی، اعتکاف میں نہیں بیٹھے، اپنا وقت صرف دنیاوی کاموں میں برباد کرتے رہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ایسے شخص کو حضرت جبریل نے بدعا دی ہے اور اس پر نبی کریم نے آمین کہا اور اللہ نے اسے قبول بھی کیا ہے۔ مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے فرمایا کہ سال کے گیارہ مہینے دنیاداری کیلئے اور اللہ نے ایک ماہ اپنے لئے مانگا، لیکن آج لوگوں کے پاس دنیاداری کیلئے وقت ہے، پیسہ کمانے کیلئے وقت ہے، سودی کاروبار کرنے کیلئے وقت ہے اگر وقت نہیں ہے تو نماز کیلئے نہیں ہے، عبادتوں کیلئے وقت نہیں ہے، اللہ اور اسکے رسول کیلئے وقت نہیں۔نیز فرمایا کہ آج مسلمانوں کی ذلت ورسوائی کی وجہ بھی یہی ہے۔ شاہ ملت نے فرمایا کہ قرآن جیسی عظیم کتاب پڑھنے اور سننے پر بھی اگر ہماری زندگیاں نہیں بدلتی ہیں تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ قرآن بدل گیا، اسکے احکام بدل گئے بلکہ ہمارا دل بدل چکا ہے۔ مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ پہلے تو گناہ کرتے ہوئے شرمندگی بھی ہوتی لیکن آج تو رمضان المبارک کا لحاظ بھی نہیں کرتے۔ انہوں نے فرمایا کہ کل قیامت کے دن ان لوگوں کی پکڑ ہوگی۔مولانا نے فرمایا کہ آج ضرورت ہے کہ ہم اپنے زندگی کے طریقے کار کو بدل کر سنتوں کے مطابق گزاریں۔نیز فرمایا کہ اب رمضان المبارک کے کچھ لمحے پچھ چکے ہیں لہٰذا مسلمان اسکی قدر کرتے ہوئے توبہ کرلیں۔ اللہ بڑا رحیم ہے اسے اپنے بندوں کو معاف کرنے کیلئے صرف بہانہ چاہیے، قابل ذکر ہیکہ ہزاروں کی تعداد میں عوام الناس سے خطبہ جمعہ سے استفادہ کیا اور نماز جمعہ ادا کی، بعد نماز ذکر کی مجلس منعقد ہوئی اور شاہ ملت کی رقت آمیز دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔

Saturday, 9 June 2018

حضرت مولانا محمد غزالی ندوی بھٹکلی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار: مولاناہاشم نظام ندوی

محمد صدرعالم نعمانی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 كارواں سے كیسے كیسے لوگ رخصت ہو گئے  
 كچھ فرشتے چل رہے تھے جیسے انسانوں كے ساتھ

بھٹکل(آئی این اے نیوز 9/جون 2018) رمضان كا بابركت مہینہ، اس كا بھی آخری عشرہ ، آخری عشرہ كی بھی طاق رات،اوررات بھی جمعہ كی، جس میں  لیلۃ القدر كے زیادہ امكانات تھے،  ایسے با بركت مہینے كے با بركت دن كے با بركت وقت میں مختصر سحری کھانےكے بعد اپنی صحت كی ناسازی كی طرف اشارہ كرتے ہوئے اللہ كے ولی اور دین كے داعی عارف باللہ حضرت مولانا محمد غزالی خطیبی ندوی بھٹکلی اپنی زبان سے توحید كا اقرار كرتے، اپنے گناہوں سے معافی مانگتے، گھر والوں سے بھی معافی كی درخواست كرتے ہوئے اس جہانِ فانی سے چل  بسے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
 انتقال كی خبر سنی پھر اپنے دوست اور مولانا كے فرزند مولانا ابو بكر صدیق سے رابطہ كیا، تو لہجہ کی لرزش اور غم کی آمیزش سے خبر كی تصدیق ہوگئی، پھر مولانا كے برادرِ نسبتی مولانا محمد یونس برماور ندوی سے تعزیت کی انھوں نے آپ کے آخری وقت کی كیفیات اور موت کے وقت کا ذکر کیا ، اسی كے ساتھ دبئ میں موجود آپ كے بڑے داماد مولانا محمد بن عبد الوہاب خلیفہ ندوی سے تعزیت كی ۔ سبحان اللہ ، كیا قابلِ رشك موت تھی، مہینہ و دن اور وقت كی بركتوں كے ساتھ ساتھ عجیب وغریب سعادتیں، بركتیں اور رحمتیں پائیں ۔ آپ نے  رات ہوتے ہی اپنے بچوں، پوتے پوتیوں اور گھر والوں كو جمع فرمایا، آج کے رات كی خیر وبركت اور اہمیت بتائی، اس کے ایك ایك لمحہ کو غنیمت جاننے كی تلقین فرمائی، سب كو ذكر و دعا میں مشغول رہنے كی وصیت كی، خود بھی ہاتھ میں تسبیح لئے ذكر میں مشغول رہے، رات گھر والوں كے ساتھ عبادت، تلاوت اور ذکر میں گزاری، سحری كا وقت ہوا تو اہلیہ محترمہ نے سحری لانے كا اظہار كیا، كہنے لگے اب  سحری كیا كھائیں، اب تو اللہ کی جانب سے بلاوا آیا ہے، موت کے فرشتوں کی آمد آمد ہے ، یہ میری زندگی كا آخری وقت ہے، سب مجھے معاف كردیں، پھر جیسے ہی فجر كی اذان ہوئی تو پانی طلب کیا كہ جلدی سے وضو كر كے دو ركعت نماز پڑھ لوں، اہلیہ محترمہ ابھی پانی لا ہی رہی تھی كہ اللہم اغفرلی ، اللہم اغفرلی اور کلمہ طیبہ كا ورد زبان پر جاری ركھتے ہوئے  اذان فجر كے ساتھ ساتھ آپ  کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی،جس طرح آپکی زندگی مثالی تھی اسی طرح آپ نے موت بھی مثالی پائی.
آپ كی پیدائش شہر بھٹكل  میں سنہ۱۹۴۴ عیسوی كو ہوئی، آپ كے والد مولانا ابو بكر  خطیبی شہر كے چیف قاضی  تھے، آپ کی ابتدائی قرآنی تعلیم گھر ہی میں ہوئی، تربیت دینی اور ایمانی پائی، ابتدائی عصری تعلیم اسلامیہ اینگلو ہائی اسكول بھٹکل میں ہوئی، یہاں سے میٹرك تك تعلیم حاصل كرنے كے بعد جامعہ اسلامیہ جامعہ آباد بھٹکل میں داخلہ لیا، جامعہ سے فراغت كے بعد مشہور عالمی درسگاہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے ۱۹۶۷ میں سندِ عالمیت حاصل كی، فراغت كے بعد كا كچھ عرصہ اپنی مادرِ علمی میں تدریسی خدمات انجام دے كر گزارا ، آپ كی زندگی كا مختصر عرصہ مدراس میں بھی گزرا جہاں پر آپ نے مولانا كمپنی میں ملازمت اختیار كی، جس كے بعد آپ نے اپنے آپ كو مرکزبنگلہ والی مسجد نظام الدین دہلی میں دعوتی وتبلیغی خدمات کے لئے وقف کردیا تھا.
مولانا علیہ الرحمہ كی شخصیت حسن و خوبی کے رنگارنگل پھولوں کا حسین گلدستہ تھی، علم وعمل، اخلاص وللہیت، بزرگوں سے نسبت،  فقاہت ونجابت اورحق گوئی و راست بازی، آپ كے اوصافِ حمیدہ تھے، جس میں بہت  نمایاں وصف حسن عمل، تبلیغ و دعوت  اور جہد مسلسل تھا، آپ دیكھنے میں ایك عام انسان نظر آتے لیکن عادات اور صفات میں  ملكوتی خصوصیات پائی جاتی تھیں، آپ صلاح وتقوی كی چلتی پھرتی تصویر تھے، اس لیے كہ آپ انسانی بلندی کی تمام معیاروں پر پورا اترتےتھے، اخلاص و بے نفسی اور بے غرضی ان کی زندگی کا جوہر اور ان کے تمام اعمال و مساعی کا محرک تھا، مزاج میں اعتدال  تھا، طبیعت میں شرافت تھی، چہرہ ہنس مکھ تھا، تصنع و بناوٹ سے کوسوں دور تھے ، سب كو چاہتے ، سب سے محبت فرماتے، ملاقاتیوں سے میٹھے بول بولتے،  ظاہر و باطن میں یكسانیت ركھتے، آپ كے بیانات انتہائی مؤثر ہوتے ، سامعین كے دلوں تك رسائی كرتے،  گفتگو مربوط فرماتے، بولتے تو گویا موتی برساتے۔
تواضع و انكساری اور شہرت پسندی سے ہمیشہ اجتناب کرتے, آپ ایسی عظیم صفات کےمالک تھے,جو انسان كو عند اللہ اور عند الناس مقبول بنا دیتی ہیں، آپ كی شخصیت كا كمال تھا كہ كبھی كسی نے آپ سے اختلاف نہیں كیا، قدرت نے آپ کو خوبیوں کاعطر مجموعہ بنایا تھا، بے حد محنتی تھے، مخلص و داعی تھے، عظیم مربی تھے، جذبہ صادق کے ساتھ دین کی خدمت اور اصلاحی دعوت کے لیے زندگی بھر کوشاں رہے۔ آپ نے ہمیشہ اعلائے کلمہ اللہ کے لیے كام كیا، دعوت وتبلیغ كے لیے ملك و بیرون ملک كے  متعدد اسفار كئے، آپ كے سات بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، ماشاء اللہ ساتوں عالم دین ہیں اور ان میں سے چھ عالمِ دین ہونے كے ساتھ ساتھ حافظِ قرآن بھی ہیں ، ساتھ ہی دونوں بیٹیاں بھی حافظِ قرآن ہیں اور مزید زہے نصیب یہ کہ آپ كے دونوں داماد بھی حافظ قرآن  ہیں ۔
دعا ہے كہ اللہ تعالی حضرت کی بال بال مغفرت فرمائے ،اور جنت الفردوس میں اعلی سےاعلی مقام عطا فرمائے, اور پسماندگان كو صبر جمیل عطا فرمائے ۔آمین