اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Tuesday, 4 December 2018

مدرسہ نور العلم، مالیر کوٹلہ میں انعامیہ پروگرام کا انعقاد!

مالیر کوٹلہ/پنجاب(آئی این اے نیوز 4/دسمبر 2018) مدرسہ نور العلم مسجد بن والی، محلہ گوجرانوالہ، مالیر کوٹلہ کا ایک ابتدائی دینی ادارہ ہے جس میں تقریبا پچاس طلباء وطالبات دینی وعصری تعلیم حاصل کررہے ہیں، جس میں طلباء کو ناظرہ وحفظ قرآن کے علاوہ دینیات میں احادیث وسنن پڑھایا جاتا ہے، بروز جمعہ ادارہ میں ایک انعامیہ پروگرام منعقد کیا گیا اولا مدرسہ ہذا کے بانی ومہتمم مفتی عبد الملک قاسمی نے تعلیم کی اہمیت وفضیلت، طلباء کی عمدہ تربیت
اور انکی گاہے بگاہے حوصلہ افزائی اور دینی عصری علوم سکھانے کی تلقین کی، کامیاب ہونے والے طلباء اور انکے والدیں کو مبارک بادیاں پیش کیں، اسکے بعد چیف گیسٹ مفتی محمد ثاقب قاسمی نے ادارہ کی کامیابی پر ادارہ کے منتظمین کی تعریف کی، عمدہ اور اچھی تعلیم کے دلانے اور قرآن کے معجز اور اسکی تعلیمات کے پھیلانے اور ان پر عمل کرنے پر زور دیتے ہوئے قوم کے بچوں کی حوصلہ افزائی کی، آخر میں پوزیشن لانے والے طلباء کو انعام سے نوازا گیا، درجہ حفظ میں اول پوزیشن لانے والے دو طالب علم محمد علی اور محمد ارمان ہیں، دوم پوزیشن محمد ساحل کی ہے جبکہ سوم پوزیشن حاصل کرنے والا محمد قاسم ہے، ناظرہ قرآن میں اول محمد احسان دوم ابوبکر سوم پوزیشن محمد حارث نے حاصل کی ہے.

Monday, 3 December 2018

افواہ سے بلند شہر کا ماحول کشیدہ، انسپکٹر سمیت دو افراد کی موت، کئی زخمی!

بلند شہر(آئی این اے نیوز 3/دسمبر 2018) اترپردیش کے بلند شہر میں گئو کشی کی افواہ کو لیکر ہنگامے کی خبر آرہی ہے، پولیس والوں پر فائرنگ اور پتھراؤ کی خبر بھی یے، بتایا جارہا ہے کہ شہر میں تشدد میں ایک انسپکٹر سوبودھ کمار سنگھ کی موت ہوگئی ہے، یہ معاملہ سیانا کوتوالی کا ہے، کہا جارہا ہے کہ یہ ہندو تنظیم کے لوگ ہیں جو لوگ ہنگامہ کررہے ہیں۔
خبروں کے مطابق اترپردیش کے بلند شہر میں آج گئو کشی کے شک میں لوگوں نے جم کر ہنگامہ کیا، یہاں مشتعل افراد نے چنگراوٹی چوراہے پر ہنگامہ کرتے ہوئے پولیس پر پتھراو بھی کیا، اس دوران مشتعل افراد نے کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی، جانکاری کے مطابق، ہندو تنظیم کے لوگوں کو کہیں سے گئو کشی کی اطلاع یا افواہ ملی، جس کے بعد تنظیم کے لوگوں نے سڑکوں پراتر آئے ہیں۔
بتایاجارہاہے کہ مظاہرین نے پولیس چوکی میں آگ لگادی اور درجنوں گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا، بتایا جارہا ہے کہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں ایک مظاہرین کو گولی لگی، جس کی اسپتال میں موت ہوگئی ہے، تشدد میں کئی اور پولیس اہلکار اور مظاہرین بھی زخمی ہوئے ہیں، اسیانا کے چنگراوٹی علاقے میں آج صبح مقامی لوگوں کو گئو کشی کی اطلاع ملی تھی، بہرکیف بلندشہر کے سیانا کوتوالی حلقہ میں واقع چرنگراوٹھی علاقہ میں پیش آئے اس واقعہ سے پورے علاقہ میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا ہے، حالات کو قابو میں رکھنے کیلئے کثیر تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

مولانا محمد علی نعیم رازی حیدرآباد کے سفر پر!

لکھنؤ(آئی این اے نیوز 3/دسمبر 2018) نوجوان اسلامی اسکالر مولانا محمد علی نعیم رازی نجیب آبادی فاضل مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپور ۲۱ دسمبر سے  اپنے پانچ روزہ دورہ پر حیدرآباد روانہ ہورہے ہیں، اس کی اطلاع دیتے ہوئے مولانا کے پرسنل سکریٹری مولانا محمد جاوید قاسمی نے بتایا کہ مولانا محمد علی نعیم رازی کا یہ سفر حیدرآباد دعوتی و دینی امور کی بنیاد پر ہے،
انہوں نے بتایا کہ مولانا ۲۱ دسمبر کو دہلی سے بذریعہ ٹرین حیدرآباد کے لئے روانہ ہوں گے، ۲۲ کی شام کو حیدرآباد پہنچیں گے، ۲۵/۲۴/۲۳ کو ملت فاؤنڈیشن کے زیر اھتمام منعقدہ چودہویں سالانہ کانفرنس میں شرکت کریں گے، اسکے بعد ۲۵ کی رات کو قریبی ضلع ورنگل میں ایک پروگرام کو خطاب فرمائیں گے، نیز ایک نکاح میں شرکت کریں گے.
۲۶ کو حیدرآباد کے اکابر علماء کی خدمت میں حاضری دیں گے ۲۷ کو مولانا بذریعہ ٹرین دہلی واپس ہوجائیں گے انشاءاللہ
مولانا جاوید قاسمی نے تمام احباب سے حضرت کے سفر کی عافیت و خیریت کے لئے دعاؤں کی درخواست کی ہے.

گٹھیا کے مریض اپنائیں یہ طریقہ: ڈاکٹر محمد انور سنجری

عبدالرحیم صدیقی
ـــــــــــــــــــــــــــــ
لالگنج/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 3/دسمبر 2018) ڈاکٹر محمّد انور سنجری جو لال گنج روڈ ویز پر اطہر ہومیو کلینک کے نام سے دوا خانہ ہے، انہوں نے گٹھیا مرض پر اپنے مشورے  دیئے، بہت سے افراد گھٹنے کے مسئلے سے متاثر رہتے ہیں آسٹیوپروسس اور گٹھیا گھٹنے کے درد کے دو اہم سبب ہیں،
گھٹنے کے درد کا عام سبب چوٹ، ہڈی کا ٹیومر، موٹاپا، یوریکیسڈ کا بڑھ جانا اور کیلشیم کا کم ہونا ہے، جس کے علامات ہی گھٹنے میں درد، گھٹنے میں سرخی جوڑوں میں اکڑن کمزوری، جوڑوں کے ارد گرد سوزش کا ہونا، گھٹنے کے درد کے علاج کے لیے مختلف گھریلو علاج کا استعمال کیا جاسکتا ہے میتھی کے بیج اور سرسوں کے تیل سے مرکب تیار کرے اور اس سے جوڑو کی جگہ پر مالش کریں، تین چمچ میتھی کا بیج تین چمچ زیرہ پانی میں جوش دے کر صبح خالی پیٹ پی لیں، اس سے جوڑوں کے درد کو آرام ملتا ہے، جوڑوں کے درد کا مکمل علاج ہومیوپیتھک میں بھی موجود ہے، کاسٹیکم 1000 ہفتے میں ایک بار اور اسٹلریا میڈیا کیو 15 بوند تین مرتبہ روز لینے سے جوڑوں کے درد سے  مکمل آرام مل جائے گا، ان شاء اللہ
نوٹ: اس دوا کو لگاتار تین مہینہ استعمال کرنا ہے.

اپنے بچوں کو خسرہ اور روبیلا کا ٹیکہ ضرور لگوائیں: عبیدالرحمن الحسینی

آنند نگر/مہراج گنج(آئی این اے نیوز 3/دسمبر 2018) حافظ شجاعت فیض عام چیریٹیبل ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری حافظ عبیدالرحمن الحسینی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ خسرہ ایک نہایت تیزی سے پھیلنے والی وبائی امراض میں سے ہے، یہ مہلک مرض خسرہ کے وائرس سے پھیلتا ہے،
خسرہ کی وجہ سے اسہال، اندھا پن، نمونیا اور اتہابِ دماغی جیسے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے، ان بیماریوں کی وجہ سے پوری دنیا کی اموات کا ایک سے دس فیصد بنتا ہے، بھارت میں خسرہ کی وجہ سے بیمار پڑنے والے مریضوں میں 95 فیصد 15 سال سے کم عمر کے بچے ہوتے ہیں۔ عالمی سطح پر ایک لاکھ بتیس ہزار دو سو بچے سالانہ اس مرض سے موت کا شکار ہوتے ہیں، 2014 ء میں یہ تخمینہ سامنے آیا ہے کہ خسرے کی وجہ سے مرنے والے بچوں کا ایک تہائی بھارت کے بچوں کا ہوتا ہے، روبیلا ایک لطیف مگر مہلک انفیکشن ہے جوکہ روبیلا وائرس سے ہوتا ہے اور جس سے بچے اور بڑے دونوں متاثر ہوتے ہیں، بھارت میں اس مرض سے متاثر ہونے والے مریضوں کا 90 فیصد حصہ 15 سال سے جکم عمر کے بچوں کا ہے۔ خسرہ اور روبیلا کا ٹیکہ 9 ماہ سے 15 سال کے ہر لڑکے اور لڑکی کو دیا جائے گا، سرکاری اور خانگی اسکول، مدرسہ آنگن واڑی اور سرکاری دواخانوں میں اس ٹیکے کے دینے کا انتظام ڈاکٹروں کے ذریعہ کیا جارہا ہے جو پہلے سے ایسا ٹیکا لے چکے ہیں ان کے لئے بھی ٹیکہ لینا ضروری ہے تاکہ بھارت کا کوئی بھی بچہ ان امراض کا شکار نہ ہو‌، تمام والدین، اساتذہ و ذمہ داران سے گذارش کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو خسرہ اور روبیلا جیسے مہلک امراض سے بچانے کے لئے ایم آر ٹیکہ ضرور لگوایئے، اپنی آنے والی نسلوں کی بہتر صحت کے لئے اس مہم میں ضرور حصہ لیں اور ملک کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔

ہم نے تو محنت نہیں کیا پر آپ ضرور کرنا!

بقلم: أبو معاذ
ــــــــــــــــــــــ
           مدرسہ سے فارغ ہونے کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض دلی آنا ہوا، ہم سے کچھ سالوں پہلے دلی و علیگڑھ آنے والےطلبا کی زبان پر نئے آنے والے طلباء کے لیے ایک نصیحت عام تھی کہ ہم نے تو اپنا وقت سیر وتفریح، کھیل کود و گپ شپ میں ضائع کردیا ” ہم نے تو محنت نہیں کیا پر آپ ضرور کرنا” ہم سوچتے تھے خود تو عیش کیے اور ہمیں نصیحت کررہے ہیں، ویسے بھی ناکام انسان کی نصیحت خواہ کتنی بیش قیمت ہو کون سنتا و عمل کرتا ہے۔
سندیپ سنگھ جے این یو میں میرے پہلے روم پارٹنر تھے، جے این یو میں فارغین مدارس کی اچھی تعداد تھی، زبان و بیان، رہن سہن، طور طریقے میں فرق کی وجہ سے مدارس کے فارغین غیر مسلم طلبا کے ساتھ ایک کمرہ میں رہنا اتنا پسند نہیں کرتے تھے، مدارس کا ایک اہم مقصد دعوت دین کے لیے افراد سازی ہے اور ہندوستان میں غیر مسلمین کی اکثریت بھی ہے پھر بھی مدارس کی تعلیم و تربیت میں غیر مسلمین سے رابطہ بنانے کی ضرورت و اہمیت پر کوئی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے فارغین مدارس ‌ایسی صورتحال و مواقع سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ لہذا بلا مقصد غیر مسلم طلبا کے ساتھ انکا نہ رہنا فطری امر تھا۔ خیر مدارس بھی دینی و دنیاوی تعلیم کے درمیان امتزاج پیدا کرنے میں ایسا الجھے ہیں کہ نہ خدا ہی مل پارہا ہے اور نہ وصال صنم۔
           سندیپ سنگھ میرے روم پارٹنر ہیں مجھے جب معلوم ہو تو اچھا نہی لگا، کوشش بھی کیا کہ کمرہ بدل جائے، ناکامی ہاتھ لگی۔ لیکن چند ہی دنوں میں اندازہ ہو گیا کہ سندیپ مہذب، سادہ لوح اور انتہائی شریف ہے۔ سندیپ کا تعلق بنارس کے قریب کسی گاؤں سے تھا۔ گھر کی مالی حالت اچھی نہیں تھی، چھوٹی موٹی کھیتی کے علاوہ کوئی سہارا نہی تھا۔ سندیپ نے بنارس ہندو یونیورسٹی سے گریجویشن کیا تھا، یہاں بایو ٹکنالوجی میں اسی سال پوسٹ گریجویشن میں داخلہ ہوا تھا، لہذا ہم دونوں یونیورسٹی میں نئے تھے، سندیپ کی اب تک کی تعلیم ہندی میڈیم سے ہوئی تھی اس لیے انگریزی بہت کمزور تھی، اور ہم تو مدرسہ سے گئے تھے، مدرسہ کی تعلیم بھی گاؤں میں رہتے ہوۓ حاصل کی تھی تو ہماری انگریزی کے کیا کہنے، ہمارے پاس تو ا‌نگریزی نہ جاننے کی سند ہی تھی۔ مشترک کمزوری کی وجہ سے جلدی دوستی ہوگئی۔
         سندیپ شدھ ہندی بولتے تھے ہم تو کسی طرح سیاق و سباق سے انکی بات سمجھ بھی جاتے تھے لیکن ہماری زبان سے نکلنے والے اردو کے الفاظ سندیپ کے سر سے گذر جاتے تھے۔سندیپ کو اردو الفاظ کی اتنی سمجھ تھی کہ ایک روز ہاسٹل کے لینڈ لائن پر ہمارے ابو کا فون آیا میں کمرے پر نہی تھا، سندیپ ریسیو کرنے چلے گئے، میں جب آیا تو سندیپ نے بتایا کہ آپ کے کسی جاننے والے کا فون آیا تھا اپنا نام "والد” بتارہے تھے اور کہا کہ آپ ان کو فون کرلیں گے۔
          سندیپ کے یہاں کلاس میں لیکچرز انگریزی میں ہوتے تھے، سندیپ لیکچرز بالکل نہی سمجھ پاتے تھے، بہت پریشان رہتے تھے، لیکچرز نہ سمجھ پانے کی وجہ سے درجہ میں سندیپ کو کئی بار رسوائیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، مجھ سے اکثر اپنا دکھ سنایا کرتے تھے، دکھ سناتے سناتے اکثر انکا دل بھر آتا اور آنکھ سے آنسو جاری ہوجاتے۔ میرے پاس سندیپ کو تسلی دینے کیے لیے دو چار الفاظ کے علاوہ کچھ نہ تھا.
        مجھے تو عربی اور اردو پڑھنا ہوتا تھا، جے این یو میں بی اے میں عربی کا سیلبس مدارس کے بچوں کے لیے بہت آسان بھی تھا، لہذا انگریزی نہ جاننے کی وجہ سے میرے لیے درجہ میں کوئی دشواری نہ تھی، حسب روایت پاس ہونے کے علاوہ کوئی خاص ہدف بھی نہ تھا، اردو جانتے تھے، سہ روزہ "دعوت” بھی منگواتے تھے، اور جتنے سے کام چل جائے اتنی عربی بھی آگئی تھی۔ انگریزی سیکھنے یا مزید عربی میں مہارت پیدا کرنے کے لیے محنت کرنے کی اہمیت کا احساس دسیوں بار نوکری کے لیے ا‌نٹرویو میں ریجکٹ ہونے پر ہوا، تب تک بہت تاخیر ہوچکی تھی۔
مجھ میں اور سندیپ میں ایک بڑا فرق تھا، سندیپ بہت محنتی تھے، فجر سے بہت پہلے اٹھ کر پڑھائی کرنے کے عادی تھے، ہم بلا غور و فکر زبان سے جسے عارضی دنیا کہ کر اہمیت نہ دینے کے عادی تھے سندیپ کو اس عارضی دنیا میں کامیاب ہونا تھا اس لیے انتھک محنت کرتے تھے۔ ادھر ابدی دنیا میں کامیابی پانے کا زعم و فریب تھا اور فجر کی فرض نماز بھی قضاء ہی پڑھی جاتی رہی۔
        ہم دونوں نے جب پہلا سال مکمل کیا، سندیپ نہ صرف انگریزی سیکھ چکے تھے بلکہ اپنے کلاس میں ٹاپ بھی کیا، اپنی محنت کی بدولت اپنی کلاس میں ایک مثالی طالب علم بن چکے تھے۔ اگلی سال اپنے کلاس سے تنہا جی آر ایف بھی حاصل کیا اور جرمنی میں ریسرچ کرنے کے لیے کوالیفائی بھی کیا، ریسرچ کے دوران ہی نوکری کے لیے بڑے بڑے آفر ملنے لگے، آج امریکہ میں ایک کامیاب سائنس داں کی حیثیت سے نمایاں کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔ اور میرے پاس وہی بیش قیمت نصیحت جو بڑوں سے ملی تھی "ہم نے تو محنت نہی کیا پر آپ ضرور کرنا” پر ایک سیکھ کے ساتھ کہ کامیاب انسان کی نصیحت خواہ کتنی ہی بیش قیمت ہو نظر انداز کردیں لیکن ناکام انسان کی نصیحت پر ضرور عمل کرنا چاہیے۔
قلمکار جناب أبو معاذ صاحب جے این یو سے پی ایچ ڈی کر قطر میں رہائش پزیر ہیں.

مدرسہ، طالب علم کی حقیقت اور والدین کی ذمہ داریاں کیا ہے: مولانا محمد سعید قاسمی

حافظ عقیل خان
ـــــــــــــــــــــــــــ
سنت کبیرنگر(آئی این اے نیوز 3/نومبر 2018) مدرسہ کا مقام اور منصب کیا ہے، مدرسہ سب سے بڑی کارگاہ ہے جہاں آدم گری اور مردم سازی کا کام ہوتا ہے، جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتے ہیں، مدرسہ عالم اسلام کا بجلی گھر (پاور ہاوس) ہے جہاں سے اسلامی آبادی میں بجلی تقسیم ہوتی ہے، مدرسہ وہ کارخانہ ہے جہاں قلب و نگاہ اور ذہن و دماغ دھلتے ہیں، مذکورہ باتیں مولانا محمد سعید قاسمی بانی مدرسہ عربیہ ہدایت العلوم موضع چکیا دھسوا دھن گھٹا سنت کبیرنگر نے اپنے رہائش پر ایک خصوصی ملاقات میں نمائندہ سے اپنی گفتگو میں کہا،
انہوں نے مدرسے کا اعلیٰ مقام بتاتے ہوئے کہاکہ مدرسہ وہ مقام ہے جہاں سے پوری کائنات کا احتساب ہوتا ہے اور پوری انسانی زندگی کی نگرانی کی جاتی ہے جہاں کے فرمان کا پورے عالم پر انحصار ہوتا ہے، مدرسہ کا تعلق کسی تقویم کسی تمدن کسی عہد کسی کلچر، زبان و ادب سے نہیں کہ اسکی قدامت کا شبہ ہو اور اس کے زوال کا خطرہ ہو، اس کا تعلق براۂ راست نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور زندہ جاوید بھی اس کا تعلق اس انسانیت سے ہے جو ہر وقت جواں ہے، اس زندگی سے ہے جو ہمہ وقت رواں دواں ہے، مدرسہ درحقیقت قدیم و جدید کی بحثوں سے بالا تر وہ تو ایسی جگہ ہے جہاں نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی ابدیت اور زندگی کا نمونہ اور حرکت دونوں پائے جاتے ہیں، مدسہ میں زیر تعلیم طلباء کی خصوصیت پر تفصیلی گفتگو میں کہا کہ طالب علم نام کی حقیقت سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ آپ کا نام طالب علم ہے، بڑا پاکیزہ اور معتبر نام ہے، طالب تلاش کرنے والے ڈھونڈنے والے جوئندہ اور عاشق سرگرداں کو کہتے ہیں، بھوکے کو کھانے کی طلب کھانا مانگنے اور نہ ملنے لوٹنے پر آمادہ کردیتی ہے، تو پیاسا پانی کی طلب میں بے تاب ہو ہو کر صفا و مروہ کے سات چکر لگاتا ہے، اور تا دم حیات پانی کے حصول کی ہر ممکن کو شش کرتا ہے کیونکہ اس کی طلب مجبور ہی ہے آپ علم کے جویاں ہیں آپ علم کے طالب ہیں کیا آپ کے علمی طلب کو بھوکے اور پیاسے کی طلب سے کچھ مشابہت ہے، کیا علم کی پیاس نے آپ کو باربار درسگاہ میں سوالات کرنے، بار بار استاذ کے کمرے میں جاجا کر پوچھنے، بار بار کتب خانہ میں کتابوں کے کھنگالنے پر مجبور کیا ہے، اگر آپ کی علمی طلب کم از کم بھوک اور پیاس  کی طرح ہے تو آپ طالب علم ہیں، آپ کو یہ نام سوبار مبارک ہو.
مولانا سعید قاسمی نے مدرسے کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ یقیناً آج بھی ہمارے مدارس جیسے بھی ہیں دین کے ٹوٹے قلعے ہیں، جن کی مرمت درکار ہے، یقیناً وہ بڑے خیر کے حامل ہیں، لیکن اس خیر کے مشعل کو تند وتیز آندھیوں کا سامنا ہے، علمی مدارس ماں باپ کو اولاد کی صحیح اور اسلامی تربیت پر ڈالتا ہے اور اولاد کو والدین اور اپنے بزرگوں کا سچا تابعدار و فرماں بردار بناتا ہے، علم بھائی بہنوں کے حقوق بتاتا ہے اور ان کے ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے، علم ایک اونچی اور مشکل منزل ہے، اس تک خاص لوگ ہی پہنچتے ہیں، بہت محنتی، مستقل مزاج، مخلص اور اللہ کا خوف رکھنے والے علم کا کوئی ایک چراغ بجھتا ہے تو دور دور تک تاریکی محسوس ہوتی ہے، ملتِ اسلامیہ پر مدارس کا احسان عظیم ہے.
 مولانا قاسمی نے اساتذہ کی اولین ذمہ داری پر زور دے کر کہا کہ اساتذہ کو ان جماعتوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے جو بچوں کی ابتدائی تعلیم میں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، طلبہ کے ساتھ اعتدال میانہ روی اور دوستانہ رویہ ان کی فکری علمی اور ذہنی صلاحیتوں کو ابھارنے اور نکھارنے میں بے حد مفید و معاون ثابت ہوتا ہے، بچوں کی تربیت کے ہر پہلو کو ملحوظِ خاطر رکھنے کیلئے بچوں کے والدین سے رابطہ رکھیں اور انکی خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں، بچوں میں علم حاصل کرنے کی لگن پیدا کرنے کی ہرممکن کوشش کریں.
اخیر میں مولانا سعید قاسمی نے والدین کی مزید ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ جیسے شریعت نے والدین کے کچھ حقوق مقرر کئے ہیں کہ جن کا خیال رکھنا اور پورا کرنا اولاد پر واجب ہے، ویسے ہی اولاد کے کے لئے کچھ حقوق بیان فرمائے ہیں جن کا اہتمام والدین پر فرض ہے اور ان میں کوتاہی یا سستی دراصل اولاد کے ساتھ خیانت کے زمرے میں آتی ہے، والدین چونکہ اولاد کی تعلیم و تربیت کے ذمہ دار ہیں، اس لئے بچوں کے حقوق کا تحفظ ہر لحاظ سے کرنا ہوگا ورنہ ناقص تربیت اور لاپرواہی کے سبب نئی نسل کا مستقبل تباہ و برباد ہوتا نظر آئے گا.

تاریخ انسانی کا ایک عظیم حکمراں!

بقلم محمد فہیم قاسمی گورکھپوری
استاذ جامعہ شیخ الہند انجانشہید اعظم گڑھ
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کرہ ارضی پر بہت سے خلفاء اور بادشاہوں نے اپنی زندگی کی بہاریں گزار کر راہی ملک عدم ہوئے، ان میں بعض اڑتے ہوئے بادلوں کو دیکھ کر اپنی حکومت کی وسعت کا اندازہ کرتے اور کہتے، "تو کہیں بھی برسے تیرے پانی سے اگنے والی فصل میرے ہی خزانے کی ملکیت ہوگی'، ایسے بھی جنہوں نے حاکمیت اور شہنشاہیت کے نشے میں "انا و لا غیری" کا اعلان کیا، ایسے بھی جن کو یہ زعم اور خیال تھا کہ ان کے حکومت میں آفتاب غروب نہیں ہوتا، ایسے بھی شہنشاہ اور حاکم ہوئے جن کے ایک انگلی کے اشارے سے ہزاروں کا لشکر میدان کے ایک سرے سے دوسرے سرے پر پہنچتا تھا اور جب تاریخ کے صفحات پر نظر پڑتی ہے، سینکڑوں بادشاہ ایسے ملتے ہیں کہ تاریخ ان کے ظلم و زیادتی کے سیاہ کارناموں سے اٹی پڑی ہے؛ لیکن اسی کرہ ارضی پر ایک ایسا عظیم خلیفہ بھی ہوا کہ جس نے بادلوں کو دیکھ کر اس کے اگنے والی فصل پر اپنا استحقاق نہیں جتایا؛ لیکن 22 لاکھ مربع میل میں اگنے والی فصل اس کے بیت المال میں پہنچتی رہیں، جس نے اناولا غیری کی صدا نہیں لگائی؛
لیکن اس کے رعب اور دبدبے سے سینکڑوں میل دور قیصر و کسریٰ کو اپنی زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوتی، جسے آفتاب کے غروب ہونے کا زعم تو نہ تھا؛ لیکن اس کے انصاف پروری اور کرم گستری سے اس کے تمام ممالک محروسہ آفتاب سے کہیں زیادہ روشن تھے؛ اس کے انگلی کی ایک حرکت نے بہادر سپاہیوں کے اندر ہی نہیں؛بلکہ  دریائے نیل میں حرکت پیدا کر دی۔
جب تاریخ پر نظر کرتے ہیں تو اس کے زریں اوراق یہ بتلاتے ہیں کہ زمین کی پشت  پر پھر ایسا عظیم خلیفہ ظاہر نہ ہوا، جو بیواؤں اور بے سہاروں کی خبر گیری کرتا ہوں، جو راتوں کو بیدار رہ کررعایا کے حالات کی نگرانی کرتا ہو، غلام کو مخاطب کرکے کہتا ہوبوری میری پشت پر اٹھا، غلام کے اصرار پر گویا ہوا ہو قیامت کے دن میرا بوجھ نہیں اٹھاؤ گے، قحط سالی کے زمانے میں لذیذ کھانوں سے اس لئے ہاتھ کھینچ لیا ہو کہ اگر فرات کے کنارے کوئی جاندار جسے سوکھی روٹی اور گوشت سے آزاد ہڈی بھی میسر نہ ہو تو قیامت کے دن رب کے حضور کیا جواب دوں گا، جس سے بر سر منبر استفسار کیا جاتا ہو امیر المومنین!آپ کے دیئے ہو کپڑے میں میرے لئے صرف کرتا بن سکا اور آپنے ازار بھی باندھ رکھی ہے، جو ایک بوڑھے یہودی کا ہاتھ پکڑے ہوئے بیت المال کے خازن کے پاس آتا ہو اور کہتا ہو یہ سراسر ناانصافی ہے کہ جوانی کے ایام میں ہم ان کی کمائی ہوئی دولت سے فائدہ اٹھائیں اور بوڑھاپے ہم انہیں بے سرو سامانی کی حالت میں چھوڑ دیں، اور پھر ایسے تمام  بوڑھوں کے وظیفے جاری کرنے کا حکم دیتا ہو، جواینٹ کو تکیہ بنا کر فرش پر سوتا ہو، جو عمدہ لباس یہ کہہ کر اتار پھینکا ہو کہ اس سے  کبر پیدا ہوتا ہے اور وہی پیوند لگا ہوا کپڑا پہنے ہوئے غلام کو سوار اور اس کی سواری کی نکیل پکڑے ہوئے بیت المقدس پہنچتا ہو، اور یہ اعلان کرتا ہو کہ اللہ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت بخشی ہے؛ اگر ہم کسی اور ذریعے سے عزت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالی ہمیں ذلیل کر دے گا، ایسے عظیم خلیفہ کو ہم عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔

شوشل میڈیا کے ذرائع ابلاغ کو ”مفتی“ یا ”عالم“ سمجھنا وقت کا سب سے بڑا فتنہ، مسلمان اپنے مسائل کو علماء کرام و مفتیان عظام سے حل کرائیں: شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی

محمد فرقان
ــــــــــــــــــ
بنگلور(آئی این اے نیوز 3/دسمبر 2018) اللہ تبارک و تعالیٰ نے امت کی رہبری کیلئے انبیاء عظام کو پیدا فرمایا، ہمارے آقا حضرت محمدﷺ کے ذریعہ نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا، اب کوئی نبی آنے والا نہیں، لیکن اللہ نے نبی کریم کی جانشینی کو علماء کرام کے طبقے کو عطاء فرمایا، علماء کرام ہی نبی کے جانشین اور وارثین ہیں، یہی لوگ قیامت تک امت کی رہبری کریں گے، ہر چھوٹے بڑے مسائل کا صحیح حل ان کے پاس موجود ہوتا ہے، لیکن آج کے اس انٹرنیٹ اور ترقیاتی دور میں امت مسلمہ یوٹیوب، گوگل اور دیگر ذرائع ابلاغ کو اپنا رہبر، مفتی اور عالم سمجھ رہی ہے، جو اس پورے عالم میں سب سے بڑا فتنہ ہے، مذکورہ خیالات کا اظہار مسجد ہادی، کے آر پورم ،بنگلور میں ہزاروں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔
شاہ ملت نے فرمایا کہ یوٹیوب پر چینلس، گوگل پر سائٹس اور دیگر شوشل میڈیا پر جو لنکس موجود ہوتے ہیں وہ اکثر اسلام مسلمان دشمنوں کے ہوتے ہیں، وہ اسلام کی چادر اوڑھ کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتی ہیں اور مسائل کا غلط حل بتاتی ہیں، مولانا نے فرمایا کہ آج امت مسلمہ میں جو شکوک و شبہات کی بیماری و دیگر مسائل میں پیدا ہورہی ہیں وہ انہیں ذرائع ابلاغ کی وجہ سے ہے، لیکن امت اپنے مسائل کو علماء کے پاس لے جانے کے بجائے ان ذرائع ابلاغ سے خود تلاش کررہی ہے، مولانا نے دوٹوک فرمایا کہ کیا علماء مر چکے ہیں؟ کیا کہیں پر علماء کرام کا طبقہ موجود نہیں؟ مولانا نے فرمایا کہ یہ سب اس وجہ سے ہورہا ہے کہ ہم نے علماء کی قدر کو پہچانا نہیں،
ان کی قیمت کو جانا نہیں۔ اگر ہم جانتے تو کبھی دوسرے ذرائع ابلاغ اختیار نہ کرتے، مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ ہمارے اندر علماء کی قدر و قیمت کا اندازہ اس سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے محلے کے مساجد میں خدمات انجام دینے والے نبی اور بلالؓ کے نائب کی کتنی تنخواہ ہے؟ اور ایک گٹر صاف کرنے والے بھنگی کا مشاہرہ کیا ہے؟ ہم خود معلوم کریں، مولانا نے فرمایا کہ جو قوم اپنے اماموں کی قدر نہ کرے وہ قوم تباہ و برباد نہیں ہوگی تو کیا ہوگی؟
مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے امت مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے مسائل علماءکرام و مفتیان عظام سے حل کروائیں۔
قابل ذکر ہیکہ ہزاروں افراد نے بیان سے استفادہ کیا، خطاب سے پہلے مسجد ہٰذا کے امام و خطیب مولانا مفتی محمد زکریا قاسمی نے استقبالیہ کلمات کو پیش کیا، شاہ ملت کی دعا سے مجلس کا اختتام ہوا۔

Sunday, 2 December 2018

ابراہیم پور میں فٹ بال ٹورنامنٹ کا انعقاد، ینگ اسٹار کلب مئو نے جیتا فائنل!

جمال احمد پردھان ابراہیم پور اور پولیس ذیلی انسپکٹر دیویندر سنگھ کے ہاتھوں انعامات تقسیم.

 جاوید حسن انصاری
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 2/دسمبر 2018) مبارکپور تھانہ علاقہ کے ابراہیم پور گاؤں میں ایک روزہ بنام "حاجی عبدالودود میموریل فٹ بال ٹورنامنٹ" کا انعقاد حیات اسپورٹنگ کلب ابراہیم پور کی طرف سے کیا گیا، جس میں اعظم گڑھ اور مئو ضلع کی درجنوں ٹیموں نے حصہ لیا، مہمان خصوصی کے طور پر علاقے کے سابق پردھان و مهاپردھان امیدوار حاجی جمال انصاری اور ذیلی پولیس انسپکٹر دویندر سنگھ موجود رہے.
فٹ بال میچ میں دوسرے ٹیموں کو روندتے ہوئے ینگ اسٹار کلب مئو اور انصاری اسپورٹنگ کلب فائنل میں پہنچی، دونوں ٹیموں کے درمیان فائنل میچ 25-25 منٹ کا ہاف کھیلا گیا، دونوں ٹیموں نے زبردست اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے گول کرنے میں مصروف رہی، لیكن مقررہ وقت پر کھیل ختم ہونے تک دونوں ٹیمیں برابری پر رہیں، كھیل کا فیصلہ نہ ہونے پر پینالٹی لگائی گئی، جس میں دونوں ٹیموں کی جانب سے 5-5 كھلاڑیوں نے پینالٹی ماری، جس میں ينگ سٹار کلب مئو نے 2 گول سے یہ میچ جیت کر یہ فائنل میچ پر قبضہ کر لیا.
ٹورنامنٹ میں مہمان خصوصی جمال احمد انصاری پردھان نے جیتنے والی ٹیم کو شیلڈ دیکر حوصلہ افزائی کی.
اس موقع پر ذیلی پولیس انسپکٹر دویندر سنگھ، عین الحق، بدرعالم، احمد جمال، عبدالبیر، انیس اختر، محمد طفیل، محمد طاہر، عبدالصمد، عبدالابل، منصور، نور عالم وغیرہ موجود رہے.

مسلم لڑکیوں میں پھیلتا ارتداد!

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس وقت پورے ہندوستان میںشر پسند عناصر اور فرقہ پرست تنظیموں کے ذریعہ مسلم لڑکیوں کو مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکے غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرنے پر اکسایا جاتا ہے، اس مہم میں کامیاب لڑکوں کو خطیر رقم دی جاتی ہے؛ تاکہ وہ انہیں لبھانے، محبت کے جال میں پھنسانے اور اپنے بستر تک لے جانے میں کامیاب ہوجائیں، ملک کے مختلف حصوں اور بہار کے بہت سارے اضلاع سے اس قسم کی تشویشناک، المناک اور پریشان کن خبریں ہر دن موصول ہو رہی ہیں، اس طرح ان لڑکیوں کو دین و ایمان سے بے زار کرکے ہندو مذہب میں داخل کرنے کا سلسلہ جاری ہے، یہ سلسلہ اتفاقی اور حادثاتی نہیں ہے ، بلکہ پورے منصوبہ بند انداز میں اس کام کو کیا جا رہا ہے، اس منصوبہ کا آغاز لو جہاد کے فرضی نعروں سے کیا گیا تھا، تاکہ غیر مسلم جوانوں کے اندر انتقامی جذبہ پیدا کیا جائے، جس کے تحت وہ مسلم لڑکیوں کو مرتد بنا سکیں اور اس منصوبے کو کامیابی سے ہم کنار کر سکیں۔
 ہماری لڑکیاں ان کے جال میں جن وجوہات سے پھنستی ہیں، ان میں ایک بڑا سبب اختلاط مرد و زن ہے ، یہ اختلاط تعلیمی سطح پر بھی ہے اور ملازمت کی سطح پر بھی، کوچنگ کلاسز میں بھی پایا جاتا ہے اور ہوسٹلز میں بھی، موبائل انٹرنیٹ، سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ اختلاط زمان ومکان کے حدود وقیود سے بھی آزاد ہو گیا ہے، پیغام بھیجنے اور موصول کرنے کی مفت سہولت نے اسے اس قدر بڑھاوا دے دیا ہے کہ لڑکے لڑکیوں کی خلوت گاہیں ہی نہیں جلوت بھی بے حیائی، عریانیت کا آئینہ خانہ بن گئی ہیں، یہ اختلاط اور ارتباط آگے بڑھتا ہے تو ہوسناکی تک نوبت پہونچتی ہے، جسے محبت کے حسین خول میں رکھ کر پیش کیا جاتا ہے، والدین اور گارجین یا تو اتنے سیدھے ہیں کہ انہیں لڑکے لڑکیوں کے بے راہ روی کا ادراک ہی نہیں ہوتا، یا اتنے بزدل ہیں کہ وہ لڑکے لڑکیوں کی بے راہ روی پر اپنی زبانیں بند رکھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں، یا تلک جہیز کی بڑھتی ہوئی لعنت، شادی کے کثیر اخراجات کے خوف سے اسی میں عافیت سمجھتے ہیں کہ لڑکیاں اپنا شوہر خود تلاش لیں، کورٹ میریج کرلیں؛ تاکہ یہ درد سر ان سے دور ہوجائے، ان خیالات کے پیچھے ان کی غربت اور دینی تعلیم وتربیت سے دوری کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے، اگر بنیادی دینی تعلیم وتربیت والدین اور لڑکے لڑکیوں کے پاس بھی ہو تو انہیں اس کا ہر پل احساس ہوگا کہ غربت اور شادی کے حوالے سے پریشانیاں وقتی ہیں غیر شرعی ہیں اور وہ ہماری اپنی بے راہ روی کا نتیجہ ہیں، جب کہ ایمان چلے جانے کی صورت میں آخرت کا عذاب حتمی اور لازمی ہے تو شاید ان کے لیے ان وقتی پریشانیوں کو جھیل جانا آسان ہوجائے ۔
 اس بُرائی سے گذرنے والی لڑکیوں کے اندر ایک طرف تو خوف خدا نہیں ہوتا دوسری طرف عدالت کے مختلف فیصلے نے جس میں عورتوں کی آزادی کے نام پربے لگام جنسی تعلقات کو جائز قرار دیا گیاہے اور طوائفوں کی طرح ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کو قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، اب وہ ایک مرد کی بیوی رہتے ہوئے دوسرے کے بستر گرم کرنے کے لیے آزاد ہیں، شوہر اس بے راہ روی پر طلاق کی عرضی عدالت میں دے تو سکتا ہے، لیکن اس پر کوئی دارو گیر نہیں کر سکتا، انتہائی جری بنا دیا ہے، اس قسم کے فیصلے نے ان کے دل سے سماجی خوف کو نکال دیا ہے اور وہ اپنی من مانی پر اتر آئی ہیں، انہیں نہ اللہ رسول کا خوف ہے اور نہ سماج کا، رہ گیا قانون تو وہ ان کی پیٹھ پر ہاتھ رکھے ہوئے کھڑا ہوا ہے، ایسے میں بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے ۔
 یہ بے راہ روی کنواری لڑکیوں میں تاخیر سے شادی کی وجہ سے بھی آتی ہے؛ اور عورتوں میں شوہر کے بسلسلۂ ملازمت ان سے دور رہنے کی وجہ سے بھی، یہ دوری ملکی ملازمت میں بھی ہوتی ہے لیکن غیر ملکی ملازمت کے حدود وقیود کی وجہ سے دوسرے ملکوں میں کام کرنے والے شوہروں کے یہاں کچھ  زیادہ ہی ہوجاتی ہے ۔ مجبوریاں اپنی جگہ ؛ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس دوری کی وجہ سے بڑے مفاسد پیدا ہورہے ہیں۔
 ارتداد کی اس نئی لہر سے ہر ایمان والے کا بے کل اور بے چین ہونا فطری ہے ، ضرورت ہے کہ ان اسباب کو دور کیا جائے، جس کی وجہ سے ہماری لڑکیاں مرتد ہو رہی ہیں اور غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرکے اپنی عاقبت خراب کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔
ظاہر ہے  اس فتنہ کا تدارک کسی ایک شخص اور تنظیم کے بس کا نہیں ہے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ گاؤں اور محلہ کے مسلم اور غیر مسلم دانشورسر جوڑ کر بیٹھیں، اس لیے کہ اس مسئلہ سے سماج میں تناؤ پیدا ہوتا ہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہونچتا ہے ، اس کے علاوہ وقفے وقفے سے خواتین کے اجتماعات رکھے جائیں ان میں جوان لڑکیوں کو خصوصیت سے بلایا جائے، انہیں شرپسند عناصر اور فرقہ پرست تنظیموں کی اس مہم سے آگاہ کرنے کے ساتھ انہیں اس راہ پر بڑھنے کے دنیوی اور اخروی نقصانات کو تفصیل سے بتایا جائے، اس کام کے لیے تمام ملی تحریکیں اور تنظیمیں آگے آئیں اور اپنے اپنے حلقہ اثر میں اس فتنہ کے تدارک کی کوشش ترجیحی بنیادوں پر کریں، مسلم گھرانوں کے اندرونی حالات بھی پیش نظر رہیں اور مقامی سطح سے اصلاح کا کام شروع کیا جائے، غیر مسلم لڑکوں کے مسلم محلہ میں ٹیوشن پڑھانے اور دوسرے مقاصد سے آنے پر بھی نگاہ رکھی جائے، مرد وزن کے اختلاط سے بچا جائے، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لڑکے لڑکیوں کے سیکشن الگ الگ کرنے کے لیے اداروں کے ذمہ داروں سے باتیں کی جائیں ، مدارس والے بھی لڑکیوں کے لیے الگ تعلیم کا نظم کریں، تلک وجہیز کی لعنت کو ختم کیا جائے، انڈرائڈ موبائل سے لڑکیوں کو بچایا جائے اور ان کی حرکات وسکنات پر خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ پہلے مرحلہ میںہی اس کے سد باب کی کوشش ہم کنار ہو سکے ، لڑکیوں کو وراثت میں حصہ دینے کی مہم چلائی جائے اور مورث کو ان کی حق تلفی سے روکا جائے ۔ ان تمام صورتوں سے لڑکیوں کو بچایاجائے، جس سے اس فتنہ میں ملوث ہونے کا امکان ہو، امکانات کے اسباب مختلف علاقوں میں الگ الگ ہوسکتے ہیں، مرض نمایاں ہے ، اسباب وعلاج کے سلسلے میں تشخیصات میں فرق ہو سکتا ہے، اس لیے اپنے اپنے علاقوں میں اسباب ووجوہ کا جائزہ لے کر فتنہ کا تدارک کیا جائے۔
 جن علاقوں میں ارتداد کی یہ نئی قسم سامنے آئی ہو، اس کا مقامی سطح پر سروے کرایا جائے، جو لڑکیاں گھر سے نکل گئی ہیں، ان کے گارجین کی جانب سے گم شدگی کا اف آئی آر درج کرایا جائے، وکلائی سے قانونی مدد لی جائے، تاکہ ایسی لڑکیوں کی گھر واپسی کا کام آسان ہوجائے۔
مضمون نگار مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ وجھارکھنڈ کے نائب ناظم اور وفاق المدارس الاسلامیہ امارت شرعیہ کے ناظم اور ہفتہ وار نقیب کے مدیر ہیں.

پسماندہ مسلمانوں کو سیاست کے میدان میں دل کا استعمال نہ کرکے دماغ کا استعمال کرنا ہوگا: حاجی نثار احمد

خیرآباد/مئو(آئی این اے نیوز 2/دسمبر 2018) ہندوستان کی بہت سی تنظیمیں آج بھی مسلمانوں کیلئے ریزرویشن کی مانگ کر رہی ہیں اور ان تنظیموں کے لیڈران کا تعلق ایک مخصوص طبقہ سے ہے جو مسلمانوں میں 15 فیصد ہیں، جبکہ اس ملک میں مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جسکی تعداد 85 فیصد ہے جو پسماندہ یعنی بیک ورڈ کہلاتا ہے اور اس کو 27 فیصد ریزرویشن میں شامل کیا گیا،
اس سلسلے میں آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ کے قومی نائب صدر حاجی نثار احمد انصاری صاحب نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل تک کچھ مسلم لیڈران مسلمانوں میں پسماندہ مسلم ماننے کو تیار نہیں تھے اور آج وہ دلت مسلمان ماننے کا ناٹک کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کل بھی انکی نیت درست نہیں تھی اور آج بھی درست نہیں ہے، اگر نیت درست ہوتی تو سارے مسلمانوں کیلئے ریزرویشن مانگنے کے بجائے وہ ان مسلمانوں کے لئے ریزرویشن کی مانگ کرتے جو پیشے کی بنیاد پر دوسرے مذہب کے لوگوں کو دلت زمرے میں شامل کر کے دیا جارہا ہے، لیکن دفعہ3 /341 کے تحت پابندی لگا کر دلت مسلمانوں کو اس سے محروم رکھا گیا ہے، اگر وہ پابندی ہٹالی جائے تو مسلمانوں کی وہ برادریاں جنہیں حلال خور، نٹ، دھوبی وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے وہ بھی ملک کی محفوظ نشستوں پر انتخابات میں حصہ لے سکیں گی، اور اسمبلی و پارلیمنٹ میں پہنچنے کا راستہ کھل جائے گا، انہوں نے آگے کہا کہ کیا یہ مذکورہ برادری کے مسلمان نہیں ہیں؟  علاوہ ازیں ایسا مطالبہ کیا جاتا ہے جو کبھی پورا ہوگا ہی نہیں، ہاں جو تھوڑا بہت ریزرویشن کا فائدہ مل رہا ہے وہ بھی ختم ہو سکتا ہے اور نام نہاد مسلم لیڈران یہی چاہتے بھی ہیں اور ہم اسی لئے کہتے ہیں کہ انکی نیت کل بھی درست نہیں تھی اور آج بھی درست نہیں ہے.
 حاجی نثار انصاری صاحب نے کہا کہ سارے مسلمانوں کیلئے ریزرویشن مانگنا یا سارے مسلمانوں کی حالت کو دلتوں سے بدتر بتانا بے حیائی اور مکاری ہے اور اگر مسلمانوں کا لیڈر بننے کا شوق ہے تو پہلے خود اپنی تنظیموں کی جو عاملہ کمیٹی ہے اس میں پسماندہ مسلمانوں کو حصہ دو، بعد میں حکومت سے ریزرویشن کا مطالبہ کرنا، اتر پردیش کے بنکروں کی حالت کچھ دنوں قبل کتنی خراب تھی خون فروخت کیا جارہا تھا جبکہ اترپردیش کے بنکر اکثریت سے مسلمان ہیں تو پھر مسلم تنظیموں نے بنکروں کے فلاح و بہبود کیلئے لڑائی کیوں نہیں لڑی، آخر تم کون سے مسلمانوں کی بات کرتے ہو معلوم ہوا کہ یہ مسلمان ہوکر بھی مسلمان کو خوشحال دیکھنا نہیں چاہتے.
گفتگو کے آخر میں دونوں رہنماؤں نے کہا کہ پسماندہ مسلمانوں کو بھی سیاست کے میدان میں دل کا استعمال نہ کرکے دماغ کا استعمال کرنا ہوگا کیونکہ دل سے محبت کی جاتی ہے اور محبت کا انجام چھپا نہیں ہے، جذباتی نعروں سے پرہیز کرنا ہوگا اور اس بات کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ جمہوریت میں سروں کی قربانی دینے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ سروں کی گنتی کرانے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن وہ گنتی اپنے سماج کیلئے کرانی ہوگی ورنہ اپنے آپ کو مہذب کہلانے والے لوگ پھر سروں کی تعداد اور جم غفیر کو سکوں کے طور بہکا لیں گے جیسے ابتک بہکاتے آئے ہیں.

Saturday, 1 December 2018

اور کتنے زین الانصاری کو مرواؤگے؟ جب خود پہ پڑے گی تو کوئی پرسان حال نہیں ہوگا: نظر عالم

محمد سالم آزاد
ــــــــــــــــــــــــ
پٹنہ(آئی این اے نیوز یکم دسمبر 2018) اللہ کا کرم اور آپ مخلصوں کی دعا سے سیتامڑھی فساد کے خلاف 29 نومبر کو پٹنہ میں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کا احتجاجی پروگرام بہت ہی کامیاب رہا
اور حکومت نے معاملے پر فوراً کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے اور اگر کارروائی نہیں کی گئی تو اب اگلا غیرمعینہ مدت کے لئے سیتامڑھی ہیڈکوارٹر پر دھرنا و بھوک ہڑتال کیا جائے گا، معافی چاہتا ہوں جناب سبھی سیاسی پارٹیاں تو ہمیں مروا ہی رہی ہیں اس سے تعاون کی امید تو کبھی کی ہی نہیں جا سکتی، مذکورہ خیالات کا اظہار آل انڈیا سسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظر عالم نے کیا، انہوں نےکہا کہ جو مسلم تنظیمیں خود کو مسلمانوں کی رہنمائی کرنے کا دعوی کرتی ہے اور مسلمانوں کو اپنا زر خرید غلام سمجھتی ہے، یا مذہبی مدعے میں اکسا کر اور جذبات کو بھڑکا کر اتنا ہی نہیں مسلمانوں کے کروڑوں روپئے چندہ لیکر ملک کا سب سے امیر مسلمان بن کر لمبی لمبی چھوڑتا ہے، ملک کی جمہوریت بچانے، دین بچانے، قومی ایکتا پر پروگرام کرکے ہندوستان کے ہندؤوں کو مضبوط بنانے، بابری مسجد اور تین طلاق پر کانگریس سے سودا کر بھاجپا حکومت میں مسلمانوں کو کمزور کرنے، مسلمانوں کو کٹوانے، دنگا فساد قدرتی آفات میں صرف تھوڑا بہت راحت رسانی کرکے اردو اخبار میں سرخیاں بٹورنے اور راحت رسانی کے نام پر مضبوط مسلمانوں سے موٹی رقم ٹھگ کر اپنی دکان چلا رہے ہیں اور آزادی سے لیکر آج تک کانگریس کی دلالی کرتا ہے اس نے تو زبان تک نہیں کھولی اور ہم جیسے چھوٹے لوگوں کو یہ حمایت کیا دیں گے، خیر چھوڑیے جناب اب ان جیسے دلالوں کی مسلمانوں کو ضرورت بھی نہیں ہے، اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں، بڑے بڑے لوگ اس سماج میں ننگے ہو گئے ہیں تو یہ لوگ کس کھیت کی مولی ہیں.
یاد رکھیے! آج ہماری تو کل آپ کی باری ہے، اور کتنے زین الانصاری کو مرواؤگے؟ جب خود پہ پڑے گی تو کوئی پرسان حال نہیں ہوگا، ہمارا اتحاد ہی ہماری کامیابی کا ضامن ہے، اب مزید مسلمانوں کا سودا مت کرو.