اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 25 July 2018

جین پور: دھان میں پانی کھولنے کو لیکر دبنگوں نے پیٹا، مقدمہ درج!

جین پور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 25/جولائی 2018) جین پور کوتوالی علاقہ کے زمین ہرکھوری میں منگل کو صبح کے وقت دھان میں پانی کھولنے کو لیکر تنازعہ ہوگیا، جس میں دبنگوں نے کسان کو پیٹ دیا.
اطلاع کے مطابق مٹھو پاسوان(52) بیٹے مہابل منگل کو صبح میں سرکاری ٹیوب ویل سے اپنے کھیت میں پانی لے جارہے تھے، ابھی پانی چل ہی رہا تھا، آدھا کھیت باقی تھا، تبھی دوسرے لوگ آگئے اور کہنے لگے کہ پانی میرے کھیت میں چلے گا، اسی دوران کہا سنی ہوئی اور مٹھو پاسوان کو گاؤں کے ہی للن سنگھ بیٹے رام کشُن، روہت، موہت نے پیٹ دیا، اور مٹھو پاسوان زخمی ہوگئے، مار پیٹ کے بعد مٹھو پاسوان طبی جانچ کراکر تھانے میں تحریر دی، جس پر دھارا 332, 502, 506 ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت پولیس نے مقدمہ درج کر تفتیش میں جٹ گئی.

Tuesday, 24 July 2018

اعظم گڑھ: لاکھوں کی آبادی والا قصبہ ریشم نگری مبارکپور بنیادی سہولیات سے محروم: سنیل ورما

ابوھاشم انصاری
ــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 24/جولائی 2018) مبارکپور کے مشہور سماجی اور سماج وادی پارٹی کے نوجوان لیڈر مسٹر سنیل ورما جی نے اپنے رہائش گاہ پر آج میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ایک لاکھ سے زیادہ آبادی والا نگرپالیکا ریشم نگری اور تاریخی قصبہ مبارکپور جہاں کے غریب، مزدور، بنکر مرد و خواتین صبح سے شام تک پسینہ بہانے کے بعد وہ اپنی صلاحیت ظاہر کرتے ہیں اور پھر ہفتوں بھر محنت کرنے کے بعد ساڑی تیار کی جاتی ہے جو بنارسی ساڑیوں کے نام سے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے، مگر آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ آج بھی یہ ریشم نگری مبارکپور بنیادی سہولیات سے محروم ہے سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں بھی
اگر مبارکپور کے کسی شخص کو رات میں پیٹ میں درد ہو جائے یا ہارٹ اٹیک ہوجائے یا لقوہ ہو یا بلڈ پریشر کا بڑھ جانا یا اچانک شوگر کا بڑھ جانا یا کوئی حادثہ ہو جائے تو مریض کو اعظم گڑھ یا وارانسی لے کر جانا پڑتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مریض کو راستے میں ہی جان سے ہاتھ دھو دینا پڑتا ہے، یہاں کی عوام نے اب تک بہت سے ایسے جنازے اپنے کندھوں سے اٹھائے ہیں جو وقت پر علاج نہ ہونے کی وجہ سے دنیا سے چل بسے، یعنی مبارکپور آج بھی ایک چھوٹے سے ایسے ہسپتال سے محروم ہے جہاں روزانہ کی زندگی میں پیش آنے والی چھوٹی سی بیماری کا علاج کرکے صحیح وقت پر مریض کو بچایا جا سکے، اگر تعلیم کرتے ہیں تو یہاں کوئی ڈگری کالج نہیں ہے جس سے اچھی تعلیم بچوں کو مل سکے.
مسٹر سنیل ورما جی نے کہا کہ اتنی گھنی آبادی والے اس قصبے میں ایک تحصیل بھی نہیں ہے اور یہ سب حکومت کی دین ہے کہ حکومت اس معاملے پر کوئی خاص توجہ نہیں دے رہی ہے اور جب انتخابات کا وقت قریب ہوتا ہے تو تمام پارٹی کے رہنما مبارکپور کی پسماندگی کا رونا روتے ہیں اور ان کی حکومت آجانے پر ایس پی کے علاوہ مبارکپور کو ہر طرح کی سہولیات دینے کی یقین دہانی دیتے ہیں مگر کتنی حکومتیں آئی اور چلی گئی سوائے ایس پی حکومت کے سبھی حکومتیں آج بھی چھوٹی سی چھوٹی سہولیات پورا نہ کر پائی.

دارالقضاء کا قیام عدالتوں کا تعاون اور ان پر احسان ہے: شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی

محمد فرقان
ـــــــــــــــــــــ
بنگلور(آئی این اے نیوز 24/جولائی 2018) آزادی کے بعد سے ہندوستان میں دن بہ دن مسلمانوں پر زیادتی کی جارہی ہے۔کبھی انکے عائلی مسائل کو اچھالا جاتا ہے تو کبھی مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی جاتی ہے۔اغیار دن رات مسلمانوں کو پریشان اور اسلام کو بدنام کرنے کا موقعہ دیکھتے رہتے ہیں، مسلم پرسنل لا بورڈ جیسی ایک عظیم مذہبی تحریک کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے،
اس پر تنقیدیں کی جارہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مسجد طٰہٰ، ڈی جے ہلی بنگلور میں ہزاروں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین، شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظرشاہ قاسمی مدظلہ نے کیا، شاہ ملت نے فرمایاکہ جہاں پر مسلمانوں کی آبادی ہووہاں دارالقضاء کا ہونا شرعاً واجب ہے، دارالقضاء کا قیام کوئی نئی بات نہیں ہے، صدیوں سے دارالقضاءکا نظام چلا آ رہا ہے، لیکن جب ہمارے اکابرین نے دیکھا کہ طلاق کے مسائل، حلالہ کے مسائل، گھریلو مسائل کو لیکر جب مسلمان عدالت جاتے ہیں تو اغیار اور میڈیا اسکا مزاق بناتے ہیں ، دنیا کے سامنے اسے ایک خطرناک اہم مسئلہ بنا کر اسلام کو بدنام کررہے ہیں، تو انہوں نے ہر شہر میں مزید دارالقضاءکے قیام کا اعلان کیا۔ دارالقضاءکا قیام کسی عدالت کے مقابلے میں نہیں کیا جاتا بلکہ وہ خود عدالت کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں، عدالت کا تعاون کرتے ہیں، شاہ ملت نے فرمایا کہ آج ہندوستانی عدالتوں میں اتنے مقدمات موجود ہیں کہ اسے حل کرنے کیلئے دسیوں سال لگ جائیں گے، دارالقضاء اگر قائم ہورہے ہیں تو وہ عدالت پر احسان ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہر مسئلے کو اگر ہم عدالت لیکر جاتے ہیں تو عدالت پر بوجھ اور زیادہ ہو جاتا ہے۔اسلئے گھریلو اور دیگر مسائل کو حل کرنے کیلئے دارالقضاءکا قیام کیا جارہا ہے، لیکن اغیار کو یہ قبول نہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ہر مسئلے پر عدالت جائے اور دجالی میڈیا اسکو مجرم کے طور پر پیش کرے اور اسلام اور مسلمانوں کا ٹھٹھا کیا جائے۔ مولانا شاہ قاسمی نے سوال کھڑا کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا گاؤں اور دیہاتوں میں جو پنچایت ہوتی ہے وہ عدالت کا مقابلے میں ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اسی طرح دارالقضاء بھی عدالت کے مقابلے میں قائم نہیں ہورہی۔
 نیز فرمایا کہ دارالقضاءمیں وہاں کے قاضی اپنی ذاتی رائے پر فیصلہ نہیں سناتے بلکہ وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں فیصلے کرتے ہیں، مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے نجی مسائل کو عدالتوں میں لے جانے کے بجائے دارالقضاء میں حل کروائیں۔

دیوگاؤں میں اقصیٰ الیکٹرانک اینڈ پرنٹر کا افتتاح!

عبدالرحیم
ـــــــــــــــــــ
دیوگاؤں/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 24/جولائی 2018) تجارت نبی صلعم کی سنت ہے، آپ صلعم تجارت کیا کرتے تھے، اور جھوٹ بول کر گراہک نہیں بناتے بلکہ سچائی کیساتھ تجارت کیا کرتے تھے، تو یہ تجارت بھی عبادت ہوتی تھی، مذکورہ خیالات کا اظہار راشٹریہ علماء کونسل کے قومی ترجمان طلحہ رشادی نے لال گنج کے نصیرپور موڑ پر واقع اقصیٰ الیکٹرانک اینڈ پرنٹر کے افتتاح کے موقع پر کیا، انہوں نے مزید کہا ہمیں نبی پاک صلعم کی ایک ایک سنت پر عمل پیرا ہونا چاہیے، اسلام میں ذریعہ معاش کا سب سے پہلا ذریعہ تجارت ہے، دوسرا کاشتکاری اور تیسرے نمبر پر نوکری اور ملازمت ہے، لیکن ہمارے اطراف کے مسلمان تجارت سے دور ہوکر بیرون ملک میں ملازمت کو اپنا لیا ہے، اب کچھ سالوں سے یہاں کا مسلمان بھی تجارت سے جڑنے لگا ہے، اور کافی تیز رفتار سے اس میں دلچسپی لے رہا ہے، جو ایک اچھا قدم ہے.
جناب رشادی نے اقصیٰ الیکٹرانک اینڈ پرنٹر کے مالک جناب گڈو انصاری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سچائی پر مبنی تجارت دن دونی رات چوگنی ترقی کرتی ہے.
اس موقع پر راشٹریہ علماء کونسل کے کے نوجوان لیڈر نورالھدیٰ انصاری، ذوالفقار احمد، عظیم احمد، ابوسعد قاسمی، علیم احمد، مسٹر، ببلو، اشتیاق احمد سمیت کافی تعداد میں لوگ موجود رہے.

Monday, 23 July 2018

ہجومی دہشت گردی……آخر کب تک؟

محمد سالم قاسمی سریانوی
ــــــــــــــــــــــــــ
 ہمارا ملک عزیز ’’ہندوستان‘‘ ایک کثیر المسلکی والمذہبی ملک ہے، جہاں ’’جمہوریت‘‘ کو اصل اصیل قرار دیا گیا ہے،اور دیگر تمام امور وشعبہائے زندگی کو اس کے تابع قرار دیا گیا ہے، اور جملہ شعبہ کے آئین و قواعد اور اصول وضوابط طے کیے گئے ہیں، جن کے مطابق باشندگانِ وطن کو زندگی گزارنا لازم وضروری ہے، خود کسی کو ذاتی طور پر قانون کے استعمال کی ہر گز اجازت نہیں ہے، بل کہ اگر کسی پر ظلم کیا جاتا ہے اور کسی طرح کی تعذیب دی جاتی ہے، تو اسے جمہوریت کے تیسرے ستون یعنی ’’عدالت‘‘ کا سہارا لینا ہوگا، اس کے بغیر اسے کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ کتنا عمدہ قانون ہے، ہم اس بند ونقطہ کا احترام کرتے ہیں۔
  لیکن!……راجستھان کے ’’الور‘‘ اور دہلی کے ’’ترلوک پوری بلاک‘‘ کے تازہ ترین خطرناک سانحہ، بلفظ دیگر ’’ہجومی دہشت گردی‘‘ نے اس مذکورہ نقطہ وبند کی جس انداز سے دھجیاں اڑائی ہیں وہ اہل عقل وخرد اور مفکرین ودانش مندان وطن پر مخفی نہیں ہیں، اس ذیل میں صرف یہی ایک دو واقعہ نہیں ہے؛ بل کہ ’’ہجومی دہشت گردی‘‘ کی ایک طویل فہرست ہے، جس میں ہر واقعہ کے پس منظر وپیش منظر پر تفصیلی تحریر ورپورٹ لکھی جاسکتی ہے، اور لکھی گئی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ قانون کے رکھوالے اور ہندوستانی آئین وقانون کا ہمیشہ حوالہ دینے والے افردا ، ’’جمہوریت‘‘ کے دوسرے ستون ’’انتظامیہ‘‘ کے ٹھیکے داران، اور ان کی ماتحتی میں رہ کر ضمیر فروش، چاپلوسی کی زندگی گزارنے والے اور بھیڑیے کے مانند نظر آنے والے محافظین وطن وآئین کہاں گم ہیں؟……اور کس چوہے کی بل میں خواب نسیاں کی زندگی گزار رہے ہیں!……
 ’’حکومت وانتظامیہ‘‘ کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے، ان پر کون سے فرائض عائد ہوتے ہیں، ان کے ذمہ عوام کے تئیں کیا حقوق لازم کیے جاتے ہیں، یہ اور اس جیسی بنیادی ذمہ داریاں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کو قصدا ’’ردی کی ٹوکری‘‘ میں ڈال دیا گیا ہے، اور ان کی طرف نظر غلط کی طرح بھی التفات وتوجہ نہیں دی جارہی ہے۔بل کہ اس کے بر عکس ایسے بیانات وشوشے چھوڑے جارہے ہیں کہ ایک سادہ دل انسان سمجھ ہی نہیں پاتا اور ان کے دام فریب میں پھنس جاتا ہے۔
 ہمارے ملک میں اس وقت ’’ہجومی دہشت گردی‘‘ جس شد ومد کے ساتھ جاری ہے، وہ صرف ہمارے لیے نہیں؛ بل کہ تمام برادران وطن بشمول ’’جمہوریت‘‘ کے ’’ستون اربعہ‘‘ کے قابل غور وفکر ہے، حکومتیں شہر خموشاں کی طرح لبوں پر مہر سکوت لگائے ہوئے ہیں، جب کہ ذمہ داران اور عمائدین وطن اپنی مصروف ترین زندگیوں میں ہمہ تن مشغول ہیں، جہاں تک بات عام افراد انسانی کی ہے تو ان کا معاملہ روز روشن کی طرح واضح ہے، ایسے خطرناک اور خون آشام ماحول میں ہمارا چپ رہنا اور ظلم وبربریت کے خلاف آواز بلند نہ کرنا بذات خود ایک عظیم ترین ظلم ہے۔
 اطلاع ملی ہے کہ الور کے اس مظلوم گاؤں والوں نے صدائے احتجاج بلند کیا ہے اور سڑک پر جنازہ لے کر اڑے ہوئے ہیں کہ جب تک ہمیں انصاف نہیں ملتا، ہم تدفین نہیں کریں گے، یہ قابل قدر جذبہ ہے، ہم اس جذبہ کو سلام کرتے ہیں اور استقامت واستحکام کے لیے دعا گو ہیں۔
 موجودہ حالات میں ہر فرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ’’انسانیت‘‘کے بلند وبالا معیار پر قانون کے دائرے میں اٹھ کھڑا ہو اور اس ’’ہجومی دہشت گردی‘‘ کا جواں مردی وپا مردی سے مقابلہ کرے، اور پایۂ استقامت میں ذرا بھی تزلزل نہ آنے دے، اس کے لیے ملی، قومی، سماجی اور دینی تنظیموں کو بیدار کیا جائے، ان کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے، اپوزیشن کو بیدار کیا جائے اور پورے ملک میں اس کے لیے پر امن تحریک چلائی جائے اور حکومت وانتظامیہ کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی طاقت وپاور کا استعمال کرکے اس ’’دہشت گردی‘‘ کا خاتمہ کرے، مجرمین کو سخت سے سخت سزا دے کر نشان عبرت بنائے؛ تاکہ آگے کوئی بھی ہجوم ایسی کوئی حرکت نہ کرسکے، ورنہ بقول مظفر رزمی کے یاد رکھیے گا.
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
محمد سالم قاسمی سریانوی
(استاذ تفسیر وفقہ جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور اعظم گڑھ)
(تحریر: 8/ ذو قعدہ 1439ھ مطابق 22/جولائی 2018ء بروز یکشنبہ بوقت 11/ بجے رات)
salimmubarakpuri@gmail.com

جونپور: سڑک حادثے میں نصف درجن افراد کی موت، پانچ زخمی!

جلال پور/جونپور(آئی این اے نیوز 23/جولائی 2018) اتوار کی صبح جونپور ضلع میں ایک سڑک حادثے میں 6 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ پانچ لوگ زخمی ہوگئے، زخمیوں کو جلال پور کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں داخل کیا گیا، واقعے کے بعد گاؤں والوں نے ٹریلر میں آگ لگادیا.
 اطلاع پاکر پولیس موقع پر پہنچی، اور لاش کو قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا، حادثے کے بعد علاقے میں کشیدگی کا امکان تھا، کشیدگی کو دیکھ کر پولیس فورس تعینات کی گئی ہے، پولیس حادثہ کی تحقیقات میں مصروف ہوگئی،  یہ حادثہ وارانسی ہائی وے کے جلال پور چوراہے پر ہوا ہے، جہاں ایک تیز رفتار ٹریلر نے 10 افراد کو کچل دیا، پانچ افراد کی موقع پر ہی موت ہوگئی، جبکہ ایک کی ہسپتال میں علاج کے دوان موت ہوگئی، اس حادثے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوگئے، جن کا علاج جلال پور کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں جاری ہے.
حادثے کے بعد ناراض افراد سڑک پر اتر گئے اور ٹریلر میں آگ لگا دیے، بتایا جا رہا ہے کہ جلال پور کے چوک پر گاڑیوں کا جام لگا تھا، ٹرک کے پیچھے دو بائک سوار  پانچ افراد تھے، اور سائیکل سوار بھی تھے،تبھی وارانسی کی طرف سے جونپور کی جانب سامانوں سے بھرےٹریلر نے ٹرک اور موٹر سائیکل سواروں کو کچل دیا، جس میں موٹر سائیکل نوادہ جلال پور کے رہائشی اجے سنگھ اور اس کی دو سالہ بیٹی کی موقع پر موت ہوگئی، دوسری موٹر سائیکل پر، وبھن مئو کے رہائشی برجش سروج ایک ٹیچر تھے اور ان کے ساتھ منگرو اور انور سوار تھے، انور کی موقع پر موت ہوگئی، جبکہ دو زخمی ہوئے اس کے علاوہ، دو سائیکل سوار کی موت ہوگئی ہے، پولیس  واقعہ کی تحقیقات میں مصروف ہوگئی ہے، میت کے خاندان میں کہرام مچا ہوا ہے.

Sunday, 22 July 2018

بیت العتیق کا سفر مبارک ہو!

حافظ سیف الاسلام مدنی کانپوری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کانپور(آئی این اے نیوز 22/جولائی 2018) حج اسلام کا پانچواں رکن ہے، یہ بھی نماز روزے اورزکوۃ کی طرح ایک فرض عبادت ہے ،یہ ہر اس مسلمان پر اللہ کا ایک حق ہے ، جو خانہ کعبہ تک جانے کے وسائل اورطاقت رکھتا ہو، ایک مسلمان کا سفر حج وزیارت کے لیے نکلنا یقینااس بات کا بین ثبوت ہے کہ اس کے اندر اللہ کی اطاعت اور اس سے محبت کا کتنا جذبہ ہے، حج کی مدت چند مہینے ہیں جو مشہور و معلوم ہیں،
پس جو شخص ان یام میں اپنے اوپرحج مقرر کرے(یعنی حج کا احرام باندھ لے) تو پھر نہ کوئی فحش بات جائز ہے ،نہ عدول حکمی درست ہے اورنہ کسی قسم کا جھگڑا زیبا ہے بلکہ اس کو چاہیے کہ ہروقت نیک کام میں مشغول رہے اور جو بھی نیک کام کروگے اللہ اس کو جانتا ہے، جو شخص حج کرے اس طرح کہ دورانِ حج نہ رفث ہو (یعنی فحش بات) اورنہ فسق (یعنی حکم عدولی) وہ حج سے ایسا واپس ہوتا ہے جیسا اس دن تھا جس دن ماں کے پیٹ سے پیداہوا تھا ‘‘۔) (صحیح البخاری) آتے ہیں وہی جنہیں سرکار بلاتے ہیں.
 ہمارے محترم و مکرم استاذ مولانا مشتاق احمد صاحب القاسمی ناظم مدرسہ عربیہ مدنتہ العلوم نور گنج پکھرایاں ضلع کانپور دیہات یوپی
 جن کو اللہ تعالی نے اپنے گھر کی طرف بلایا اور وہ حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں اور بہت خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کو اللہ رب العزت اپنے دربار پر بلائے، اللہ تعالی انکی حاضری ، آنے جانے ، انکی نیت و سفر و عبادات کو قبول فرمائے اور ہم سب کو بھی جلد از جلد اپنے پاک گھر کی زیارت نصیب فرمائے۔۔۔آمین ثم آمین

آہ، اکبر چیخ رہا ہے!

توقیرعالم غازی پور
ـــــــــــــــــــــــــــ
وہ چیخ و پکار، وہ رونا چلانا، زندگی کی بھیک مانگنا، ارے محض آنکھوں سے آنسو نہیں خون کے فوارے جسم سے نکل رہے تهے۔ جسم زخم کی شدت سے چکناچور تھا، خون میں لت پت، چہرا عجیب تر، دردناک مصیبتوں کا اثر اس کے چہرے سے عیاں تھا۔ تکلیف سے بے قابو اکبر گڑگڑاتا رہا۔ آہ!! وہ تو چیختا چلاتا ہوا  اس دنیا سے چلا گیا۔ ارے الور تو نے "پہلو خان" کو تو کھویا ہی تھا اب اکبر بھی تیری گود میں پل رہے ناپاک ظالموں کا شکار ہوگیا.
اور کتنے اکبر مارے جائیں گے؟
کتنے پہلو خان مارے جائیں گے؟
کتنے اخلاق قتل کیے جائیں گے؟
کتنے جنید ظالموں کے ہاتھوں موت کا شکار ہوں گے؟
مشن 2019 کی کامیابی کے لیے اور کتنی جانوں کی قربانی درکار ہے؟
مسلمانو!
کہاں گئی تمہاری جرأت؟
کہاں گئے خالد بن ولید کے ماننے والے؟
کہاں ہیں محمد بن قاسم والے؟
 موسی بن نصیر والے !
قتیبہ بن مسلم والے !
طارق بن زیاد والے!
نوجوانو!
اٹهو نا! آؤ عمل کے میدان میں، اے دانشورانِ مسلم ! سیاسی میدان کیوں چھوڑے بیٹھے ہو؟ سیاست اور حکومت پر غیروں کا قبضہ رہے گا تو تمہارے اپنوں پر یوں ہی ظلم ہوتا رہے گا، آؤ عملی میدان میں اور بزدلی و خوف کی چادر اتار پھینکو، ملک کی سیاسی فضا کو چوروں، لٹیروں، ظالموں اور قاتلوں کے چنگل سے آزاد کراؤ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ملک بھی تم ہی نے آزاد کرایا تھا.

اور اب اکبرخان کا قتل!

لِنچِستان میں خون مسلم کی ارزانی کب تک؟

سمیع اللّٰہ خان
ksamikhann@gmail.com
ـــــــــــــــــــــ
 ابھی کل کی ہی تو بات ہے، پارلیمنٹ میں نریندرمودی اور راجناتھ سنگھ چیخ چیخ کر اپنے سیکولرزم کا تمغہ دکھا رہےتھے، ملک کو عالمی صف بندی تک میں لے آئے تھے، لیکن زہر جو بویا ہے اس کا کیا کرینگے صاحب! وہ آپکی جھوٹی دہاڑوں میں چھپ نہیں سکتا
 ابھی کل کی ہی تو بات ہے
کانگریس کے صدر راہل گاندھی چیخ چیخ کر اپنی کانگریسییت کا یقین دلا رہے تھے، وہ امن و آشتی کے ایسے علمبردار نکلے کہ جاکر نریندرمودی کو گلے لگا لیا، اور خم ٹھونک کر بھاجپائی نفرتوں کو ختم کرنے کا عہد دوہرایا، لیکن پپو بھائی بھول گئے کہ: ان کی عیاری اور مکاری سے اسکرین پر تو ڈرامے ہوسکتے ہیں لیکن Ground Reality بدل نہیں سکتی ۔
 ستر سال سے مرکز پر راج کرنے والی کانگریس کی زمینی گرفت آج چوہیا کے بِل برابر بھی نہیں ہے، اور ستر سالوں سے ملک میں چوہوں کی طرح گنگا جمنی زمین کترنے والوں کی ہندوتوا زمین ناقابل تسخیر ہوتی جارہی ہے، آج کے زہر آلود ہندوستان کی ذمہ داری کون لےگا؟ اور یہ کب تک جاری رہےگا؟
 ہجومی دہشتگردی کی بڑھتی پیاس پر آخر یہ راہل گاندھی کی انسانیت کہاں مرجاتی ہے؟
 کیوں ہمارے لوگ اس خطرناک لعنت کے خلاف متحد نہیں ہوتے؟
 کیوں اس ذلّت کا احساس نہیں ہوتا؟
کیا اس لعنت پر نوجوانوں کے تباہ کن ردعمل کا انتظار کررہےہیں؟
احساس نہیں یا معلومات کی ضرورت نہیں سمجھتے؟ کہ یہ لعنت کہاں جاپہنچی ہے؟
ملک کی عدالت عالیہ جس دن " ہجومی دھشتگردی " پر مرکزي حکومت کو لتاڑتی ہے، اس دن ملک کی سب سے ڈراؤنی ماب لنچنگ ہوتی ہے، ایک قدآور مذہبی و سماجی رہنما سوامی اگنی ویش کو ٹارگٹ کیا جاتاہے اور بدترین ذلت آمیز طریقے سے ٹارگٹ کیا جاتاہے ۔
جس دن ملک کی سب سے بڑی نمائندہ سنستھا میں اس لعنت کے خلاف آواز بلند ہوتی ہے، اس کے چند ہی گھنٹوں بعد ملک کی سب سے بڑی ریاست میں گائے ہی کے نام پر اکبر خان نامی شخص کو مار ڈالا جاتاہے، یہ دہشتگردانہ حادثہ اس شہر میں ہوتاہے، جہاں اس سے قبل ایسا ہی ایک سفاک حادثہ پہلو خان نامی شخص کے ساتھ ہوچکاہے ۔
آج پھر راجستھان کے اسی شہر الور سے گائے کے نام پر ہجومی دہشتگردی میں اکبرخان کی شہادت ہوچکی ہے ۔
 راجستھان میں مرکزی حکومت کی ہی سرکار ہے، وسندھرا وزیراعلیٰ ہے، لیکن سسٹم اور قانونیت کے بڑے بڑے بول ہانکنے والی اس سرکار نے وہاں آج تک پہلو خان کے قاتلوں کو سزا نہیں دی جس کے نتیجے میں آج اکبر خان شھید ہوگیا ۔
یہ بات بالکل صاف ہے کہ راجستھان کی بھاجپائی سرکار نہایت سخت گیر اور طاقت کے نشے میں چور ہے، راجپوتانہ کا ہندوتوا کے لیے استحصال کرنے والی خون کی کیسی پیاسی ہوگی اس کا اندازہ ہر اس شخص کو ہوگا جو قدیم راجپوتانہ اور ان کی واقعی تاریخ سے واقف ہوں گے، لہٰذا ایسے بے رحم لوگوں سے ہم انصاف کی بھلا کیا آس لگائیں؟
 سوال اٹھتا ہے اپنوں پر، سوال بنتا ہے اپنوں سے:
راجستھان کے غیور مسلمانوں سے، ملک بھر کے انصاف پسندوں سے، ملی اور سماجی قائدین سے، آخر کون سی چیز نے انہیں " ہجومی دہشتگردی " پر ایکشن لینے سے روک دیا ہے؟
اب تو لکھتے ہوئے احساس ہوتاہے کہ بے حس لوگوں سے بات کیا کریں جو نا نجی خطوط کا جواب دینا ضروری سمجھتے ہیں اور نا ہی قومی سطح کی پکار کو خاطر میں لاتے ہیں، بالکل بھی یقین نہیں آتا کہ ایسے غیر اسلامی جراثیم ہماری صفوں میں بھی پنپ سکتے ہیں،شاید وہ یہ سمجھ رہےہیں کہ اگر ایک بار ان کی سن لی تو ہماری بالادستی پر آنچ نا آجائے ۔
 ایک طرف خوشی ہوتی ہے کہ سوامی اگنی ویش پر حملے کے خلاف لب بستگی ٹوٹ گئی تھی، لیکن دوسری طرف سینکڑوں مسلمانوں پر ایسے حملوں پر گویا ان کے ہونٹ سل دیے جاتے ہوں، اور آج الور میں ہوئے اکبر خان کے قتل پر بھی یہی دیکھنے کو مل رہاہے، جو ہر حساس شخص کو بری طرح کچوکے لگاتے ہیں ۔
قبل اس کے کہ، تنگ آمد بجنگ آمد کی صورتحال پیدا، ہوجائے جناب میدان سنبھال لیجیے، بعد میں حکمت و مصلحت کی اپیلیں کارگر نہیں ہوں گی، بعد میں آداب و عظمتوں کی صدائیں بے سود ہوں گی، مسلمان اپنی قیادت پر آج بھی فنائیت کے جذبات رکھتاہے، لیکن تنزل مسلسل پر حق فاروقی بھی رکھتا ہے ۔
 ہجومی دہشتگردی کے سلسلے میں اتنی فریادیں کرچکے ہیں کہ اب تو لگتا ہے اپنوں سے نہیں، کسی سرکاری دفتر میں یا بینک کی لائن میں کھڑے ہیں، شاید اب ہم کو احتسابی اور عملی صورت میں جس طرح جو بھی سمجھ آئے بجا لاناچاہیے، کیونکہ قومی سطح پر اس بدترین ذلت کو برداشت کرنے کا چلن ہر صورت میں خودکشی کے مترادف ہے، میں اہل قلم سے گذارش کرتاہوں، ڈاکٹروں، وکیلوں، اسکالروں، اسٹوڈنٹس، طلبا، علما، ائمہ، سوشل ورکرز، سب سے اپیل کرتاہوں کہ اب وہ Lynching Terrorism کے خلاف کھڑے ہوجائیں، جب آپ اٹھیں گے اسی وقت نرگسیت کا خاتمہ ہوگا ۔

شاعر بسمل اعظمی ایک تعارف!

ترتیب و پیشکش: عاصم طاہر اعظمی

               نذرِ بسمل

بھرم فلک کی بلندیوں کا زمیں پہ تیری نثار ہوگا
کہ تیرا ذرّہ بھی کائناتِ نظر میں صد افتخار ہوگا
ادب کی یہ محفلیں کہ جن کو ہے تیرے فیضِ نظر سے نسبت
یہاں کی مٹی کا ذرہ ذرہ ترا ہی فیضان کار ہوگا
یہ شہر ترا، تِری محبت کی روشنی سے رہے گا روشن
تِری عقیدت کا نور ہر ہر قدم یہاں آشکار ہوگا

                         نعمان امام
خالقِ کائنات نے، کائنات کی تکمیل میں اپنی خلاقی کے بہت سے نمونے چھوڑے ہیں 18 ہزار مخلوقات میں کم و بیش چرند، پرند حیوانات، انسان اور جن، سب کے مشاہدے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خالقِ کائنات نے ہر کسی کو فطرت اور ہیئت کے اعتبار سے مختلف پیدا کیا ہے انسان اپنے اعضا و جوارح کے اعتبار سے بھی کہیں کہیں مختلف دکھائی دیتا ہے، اور یہ ساری خوبیاں اس کی خلاقی کا مظہر ہے مختلف علاقوں میں جس طرح مختلف رنگت کے انسان ہیں اسی طرح ان سوچ و فکر طبیعت اور خواہش ایک دوسرے سے یکساں نہیں رہتی ہیں بسمل اعظمی بھی اسی اعتبار سے اپنی فکر و سوچ پسند اور ناپسند میں بہت سارے انسانوں سے مختلف ہیں.
شاعر محمد ایوب اعظمی بسمل کی پیدائش یکم جولائی 1946ء کو موضع اساڑھا ڈاک خانہ ننداؤں، سرائے میر اعظم گڑھ میں ہوئی، اسکولی تعلیم اساڑھا ضلع اعظم گڑھ میں مکمل کرنے کے بعد 1972ء میں شبلی نیشنل کالج اعظم گڑھ سے  *بی_اے* *بی_ایڈ* کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد تلاشِ معاش کے لیے عروس البلاد ممبئی کا رخ کیا، حسنِ اتفاق 6/جولائی 1972ء کو انجمن خیرالاسلام ہائی اسکول کی کرلا شاخ میں بحیثیت معلم تقرر ہوا، اسی دوران ممبئی یونیورسٹی سے *ایم_اے*(اردو فارسی) کی سند حاصل کی، انجمن خیرالاسلام ہائی اسکول کی مختلف شاخوں میں معلم کے فرائض انجام دیتے ہوئے 1996ء میں صدر مدرس کے عہدے پر فائز ہوئے اور 2004 میں کرلا شاخ سے ہی وظیفہ یاب ہوئے، پہلے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے اسٹڈی سینٹر انجمن خیرالاسلام کرلا (ممبئی) میں کوآرڈی نیٹر اور 2006 سے گوونڈی (ممبئی)
اسٹڈی سینٹر میں کوآرڈی نیٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں،
جہاں *بی_اے* اور *ایم _اے*
کے طلبا کے لیے خصوصی کلاسیز لیے جاتے ہیں

تخلیقات بسمل اعظمی

(1) رقصِ بسمل 
شعری مجموعہ
مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی سے انعام یافتہ
پہلا ایڈیشن 2002
دوسرا ایڈیشن 2013

(2) گُزر گاہِ خیال 2005
شعری مجموعہ، اتر پردیش اردو اکیڈمی سے انعام یافتہ

(3) کِشتِ دل  2010
شعری مجموعہ

(4) مضامین بسمل 2013
مضامین کا مجموعہ
N.C.P.U.L
نیشنل کونسل آف پرمیشن اردو لینگویج نے اس کتاب کی 100 کاپیاں خریدیں
*بسمل اعظمی*
کی شخصیت اور شاعری کو ڈاکٹر رشید اشرف خان نے اپنی تحقیق کا موضوع بنایا جس پر انہیں وکرم یونیورسٹی اجین (مدھیہ پردیش) نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی،
فخر کی بات ہے کہ سال 2017 میں ان کو پورے ہندوستان میں اردو یوا کا ایوارڈ ملا
اسی طرح
گزر گاہ خیال اور رقص بسمل پر اظفر خان اعظمی نے ممبئی یونیورسٹی سے ایم فِل کیا ہے
جوکہ اس وقت مہاراشٹر کالج میں شعبہ اردو ادب سے منسلک ہیں

*شاعر بسمل اعظمی کے اشعار پر اردو ادب کے نباضوں کے تاثرات*
*(پروفیسر) غلام حسین حملانی* صاحب لکھتے ہیں
محمد ایوب بسمل کے اشعار میں وہ ساری خوبیاں موجود ہیں جو اچھی شاعری میں ہونی چاہئیں اور خود ان کی طبعی کیفیت اور مزاج میں بھی وہ باتیں موجود ہیں جو ایک اچھے شاعر میں ہونی چاہئیں، وہ اپنے سینے میں ایک حسّاس اور درد مند دل رکھتے ہیں، ان میں ایک پختہ شعور ہے جو انھیں اپنی داخلی کیفیات کے اظہار کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی غزل کے اشعار نہایت ہی مؤثر اور دل کو چھو جانے والے ہوتے ہیں جن میں زبان و بیان کے وہ محاسن  ہیں جو ان کی غزلوں کو تغّزل و ترنّم اور وسعت و بلندی، گہرائی و گیرائی بخشتے ہیں، ان کی شاعری میں زمانے کی تمازت ہے ان کے بدلتے ہوئے رنگ ہیں غمِ دوراں اور غمِ جاناں کے ساتھ ساتھ دنیا اور اس کے سلوک کا مشاہدہ اور اس کی کڑوی کسیلی سچائیوں کی ترجمانی ہے،
زندگی کی وارداتیں، چھوٹی چھوٹی باتیں ان کی طبعِ نازک کو آسانی سے متاثر کرتی ہیں جو ردّ عمل کے طور پر ان کے اچھے اشعار میں ڈھل جاتی ہیں حالانکہ ان کی شاعری روایتی شاعری کی پابند ہے اور کلاسیکیت سے زیادہ متاثر ہے لیکن ان غزلوں میں عشق اور وارداتِ عشق کے موضوعات کے علاوہ دوسرے موضوعات میں بھی ان کی تنوّع کاری ملتی ہے جن میں مشاہدے کی گہرائی اور تجربے کی تپش بھی دیکھی جا سکتی ہے
*پروفیسر خورشید نعمانی صاحب ممبئی*
 نے اپنے تأثر کو کچھ یوں بیان کیا ہے
اچھی شاعری کی ایک پہچان یہ بھی بتائی گئی ہے کہ اس میں روحِ عصر جلوہ گر ہوتی ہے شاعر اپنے ماحول سے ضرور متاثر ہوتا ہے وہ شامِ غم کا ترجمان بھی ہوتا ہے صبح نو کا نقیب بھی، حیات و موت، زندگی کے مسائل اور انسانی قدر و منازلات اس کے شعری منظر نامے کا جزو لاینفک ہوتے ہیں، اس طرح بسمل کی شاعری میں بھی روحِ عنصر بدرجہء اتم جلوہ گر ہے،
بسمل اپنی شاعری میں اول تا آخر کلاسیکیت کے علمبردار ہیں، مجھے ان کی شاعری میں قوسِ قزع کے ہفت رنگ نظر آتے ہیں،
*ڈاکٹر مظفر احسن اصلاحی صاحب*
کلامِ بسمل پر اپنے تأثر کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کلام بسمل میں جلال اور جمال دونوں کی آمیزش ہے موقع اور موضوع نیز احوال کے تقاضے نے شاعر اور خطیب اپنے اس آہنگ اور لہجے میں فرق کرتے رہے ہیں اور اس طرح کی تبدیلیاں شاعر اور خطیب کی زبان پر قدرت اور لہجہ کی صنعت پر اس کی دسترس کی غماز ہوا کرتی ہیں، اس کے علاوہ ان کے کلام کی گھلاوٹ اور حلاوت ان کے سوزدروں اور شعور پختہ کی دلیل ہوا کرتی ہے اسی طرح جب وہ داخلیت کا اظہار کرتے ہیں تو نہایت مؤثر غزل کے اشعار وارد ہوتے ہیں اور جب وہ غمِ دوراں کو موضوع بناتے ہیں تو کلام سے پختگی اور حکمت کے موتی رولتے ہوئے پائے جاتے ہیں،
*ڈاکٹر ناطق اعظمی صاحب*
بسمل اعظمی کی شاعری پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بسمل اعظمی کی شاعری ایک حد تک روایتی شاعری ہے مگر مگر عصری تقاضوں سے چشم پوشی نہیں کی ہے، ان کی غزلوں میں ایک طرف سوزوگداز کا احساس ہوتا ہے تو دوسری طرف حسن تغزل اور جمالیات کا بھر پور عکس نظر آتا ہے، ان کی شاعری میں غمِ دوراں اور غمِ جاناں کے ساتھ ساتھ حدیث دلبراں کا بھی پہلو جلوہ گر ہوتا ہے، زندگی کے بارے میں ان کا عقیدہ تصوراتی نہیں بلکہ عاملانہ ہے

*دعا میری یہ ہے تجھ کو کبھی منزل نہ راس آئے*
*کہ ہنگامِ سفر تک ہے وجودِ کارواں ساقی*

*ڈاکٹر شوکت علی صاحب علیگ*
*ایڈیٹر ماہنامہ زادِ سفر ممبئی*
نے بسمل اعظمی کی شاعری پر اپنے تأثر کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بسمل صاحب کا پیشہ درس و تدریس ہے شاعری کا ذوق فطری و موروثی ہے، لطافت، شعریت اور ذوقِ جمال ان کے خمیر میں شامل ہیں شاعری میں وہ کسی رجحان، تحریک یا بندھے ٹکے نظریے کے قائل نہیں ہیں، دنیا اور اس کے سلوک کا مشاہدہ انھوں نے بڑی باریک بینی سے کیا ہے اسی لیے اس کی کڑوی اور کسیلی سچائیوں کی ترجمانی کرتے ہیں انھیں کوئی بھی واردات یا چھوٹی سے چھوٹی بات متاثر کرتی ہے جو ان شعروں میں ڈھل جاتی ہے .
پروفیسر مجاہد حسین صاحب نے لکھا ہے کہ بسمل صاحب کی کہی ہوئی غزلیں محض معنوی اعتبار سے سے ہی دلکش و دلرُبا نہیں بلکہ ان کا لباس ظاہری بھی نظر افروز ہے یعنی ان میں زبان و بیان کے محاسن بھی ہیں اور صنائع و بدائع لفظی کا وافر استعمال بھی نظر آتا ہے،
رقص بسمل کا مطالعہ سیکڑوں اور ہزاروں زاویوں سے کیا جا سکتا ہے اور کمال یہ ہے کہ ان میں سے ہر زاویہ ایک عجیب و غریب ندرت، اچھوتے کیف و سرور اور ناقابلِ بیان لزت کی نشان دہی کرتا ہے اس بات کا اعتراف پورے وثوق سے کیا جاسکتا ہے کہ جناب بسمل اعظمی کی غزلیں اردو غزل گو یوں کی صفِ اول میں اپنا ایک ممتاز و منفرد مقام رکھتی ہیں.
اللہ جل مجدہ شاعر بسمل اعظمی صاحب کی اردو ادب کی خدمات کو قبول فرمائے آمین ثم آمین

ریلوے انچارج مرزا راشد بیگ، ایس پی لیڈر حکیم بیگ، سابق بلاک پرمکھ ابھے یادو جی کا سفاری ڈھابہ علی نگر میں استقبال!

جاوید حسن انصاری
ــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 22/جولائی 2018) ایماندار افسر ریلوے انچارج انسپکٹر آر پی ایف مرزا راشد بیگ صاحب اور ایس پی ضلع صدر اقلیتی مرزا حکیم بیگ صاحب، سابق بلاک پرمکھ ابھے یادو جی اتروليا نے ہفتہ کی رات 9 بجے سفاری ڈھابا اینڈ فیملی علی نگر چوراہے پر دبئی کے مشہور کاروباری
قصبہ کی شان مرزا مسيح الدین بیگ عرف مرزا گڈو بیگ صاحب سے ملاقات کرنے پہنچے، جہاں انچارج ریلوے انسپکٹر مرزا راشد بیگ صاحب اور حکیم بیگ صاحب اور سابق بلاک پرمکھ ابھے یادو جی کا شاندار استقبال مرزا گڈو بیگ اور صحافی جاوید حسن انصاری مبارکپور، مرزا منا جی نے کیا.
اس موقع پر سفاری ڈھابا کے مالک مرزا منا، سابق مهاپردھان محمد دانش عرف ابو غالب، قصبہ کے نوجوان سماجی کارکن بنٹی سیٹھ صرافہ، اسرار بھائی، حافظ ارشد صاحب، شریف احمد، خیرالبشر، عدنان مرزا وغیرہ موجود رہے.

Saturday, 21 July 2018

"درس قرآن" خدمت قرآن کا عظیم وبہترین موقع!

محمد سالم قاسمی سریانوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 ساری تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے سزاوار ہیں، جس نے محض اپنی توفیق سے آج سے ہمیں باقاعدہ ’’درس قرآن‘‘ کی عظیم خدمت کا موقع دیا،پہلے بھی بارہا اس پر غور کیا اور کسی نظام عمل کا جائزہ لیا، لیکن شروعات نہیں کی ہوسکی تھی، اس لیے کہ ہر چیز کا اللہ کے یہاں ایک مقررہ وقت ہوتا ہے، چناں چہ اللہ کی توفیق سے آج ہی بعد نماز مغرب جامع مسجد انس (رضی اللہ عنہ) پچھم جامع مسجد سریاں مبارک پور اعظم گڑھ میں باقاعدہ ’’درس قرآن‘‘ کا آغاز کیا گیا، ان شاء اللہ یہ سلسلہ ہفتہ واری ہوگا اور اسی ترتیب سے چلتا رہے گا۔ الحمد للہ اس پر بہت ہی عمدہ رد عمل رہا، اور لوگوں نے خوب سراہا، اللہ سے دعا ہے کہ اخلاص وللہیت کے ساتھ اس کو کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
  ’’درس قرآن‘‘ کی اہمیت وافادیت اہل علم وبصیرت کے یہاں مسلم ہے، کسی کو اس سے انکار نہیں ہے، لیکن آج کل موجودہ حالات کے تحت اس کی اہمیت وافادیت مزید دو چند ہوجاتی ہے، کیوں کہ ہندوستان جن نازک حالات سے دو چار ہے، اس کی نظیر نہیں ہے، ایسے پس منظر میں عام مسلمانوں اور دیگر برادران وطن کو قرآن کے آفاقی وعالم گیر پیغام سے روشناس کرانا اور اس کے مطابق پابند عمل بنانا نہایت ہی ضروری ہے۔
 بعثت نبوی ﷺکے مقاصد کے تحت جو تیسرا مقصد ہے وہ اسی حوالے سے ہے، جس کو اللہ رب العزت نے ’’تعلیم کتاب‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے، اور در حقیقت قرآن کی تعلیم، اس کے معانی ومفاہیم کی تعیین، خدا کے آفاقی وابدی پیغام کی جو تشریح خود جناب رسول اللہ ﷺ کرسکتے ہیں اس کا تصور کسی اور سے نہیں ہوسکتا، قرآن ہی نے ایک جگہ نزول قرآن کا مقصد ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:  وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ۔ (سورۃ النحل:44) ’’کہ ہم نے آپ کی جانب ذکر یعنی قرآن نازل کیا ہے تاکہ آپ ان سے کھول کھول کر وہ باتیں بیان کریںجو ان کی جانب نازل کی گئی ہیں اور تاکہ وہ لوگ غور وفکر کریں‘‘، اس لیے اس عظیم ومبارک مقصدکو ہمیں بھی اپنی زندگی کے اندر اتارنا ہوگااور اس کے مطابق عمل کرنا لازم ہوگاہے۔
 آج کے اس مادی ودہریاتی دور میں جہاں اور علوم اسلامی سے کنارہ کشی ہوئی ہے، وہیں قرآن وپیغام قرآن سے عام طبقہ دور ہوچکا ہے، اس کے معانی ومضامین سے نابلد ہے، قرآنی اسلوب کے مطابق قوموں کے عروج وزوال سے ناواقف ہے، اس کمی کو دور کرنے اور عام مسلمانان عالم کو قرآن سے قریب کرنے کا ایک آسان ذریعہ ’’درس قرآن‘‘ ہے، اسی لیے ہر دور میں اس کی افادیت محسوس کی گئی ہے، بل کہ بقول حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ مسلمانوں کے زوال کے دو اسباب میں سے ایک سبب قرآن سے دوری ہے، جس میں لفظا ومعنی بُعد دونوں داخل ہے، اسی لیے انھوں نے مالٹا کی جیل میں ہی یہ طے کرلیا تھا کہ جیل سے آزاد ہونے کے بعد اس کو پھیلانا ہے، اس کے لیے انھوں نے نظام عمل بنایا اور ہر دو طریقہ لفظا ومعنی قرآن کو عام کرنے کی کوشش کی۔
 الحمد للہ! ہندوستان کے ایک بڑے حصہ میں ’’دروس قرآن‘‘ کے مبارک سلسلے جاری ہیں، لیکن پھر بھی بہت سی جگہوں پر اس کا کوئی تصور ہی نہیں پایا جاتا، اس لیے جو حضرات اس مبارک سعی میں لگے ہیں وہ اس میں استحکام پیدا کریں، دوسروں کو بھی اس پر آمادہ کریں، اورجہاں اس کا نظام نہیں ہے وہاں کے علماء وفضلاء اس جانب خصوصی توجہ دیں اور جلد ہی سلسلہ شروع فرمادیں، یہ نظام ایسے مستحکم انداز میں پورے ہندوستان میں پھیلانے کی ضرورت ہے کہ  کوئی بھی خطہ وعلاقہ اس سے محروم نہ رہے۔اگر ہم نے اپنی کوشش سے ہندوستانی عوام کو قرآن سے قریب کرلیا اور ان کو پیغام قرآنی وتقاضائے قرآنی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی تو ان شاء اللہ بہت جلد ہی اس مفید نتائج ظہور پذیر ہوں گے، جہاں یہ سلسلہ جاری ہے وہاں اس کے خاطر خواہ فوائد سامنے آرہے ہیں۔
واللہ الموفق وھو المستعان
محمد سالم قاسمی سریانوی
(استاذ تفسیر وفقہ جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور اعظم گڑھ)
(تحریر: 6/ ذو قعدہ1439ھ مطابق 20/ جولائی 2018ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء)
salimmubarakpuri@gmail.com

ہمارے گھر ہماری یونیورسٹیاں ہیں: مبارک کاپڑی

احمد ریحان فلاحی
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
منگراواں/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 21/جولائی 2018) الأمین نیشنل اسکول منگراواں اعظم گڑھ میں"آئیے اچھے سرپرست بنیں" کے موضوع پر والدین وسرپرستوں کے لئے تربیتی پروگرام منعقد ہوا، جس کی صدارت مفتی شاہد مسعود  قاسمی نے کی، احمد ریحان فلاحی نے پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد والدین وسرپرستوں کو ان کہ ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے، مزید کہا کہ ہم عظمت گروپ آف انسٹی ٹیوشن کے ممنون ہیں کہ آج ان ہی کی بدولت ہمارےاسکول میں مبارک کاپڑی جیسی عالمی شہرت یافتہ شخصیت یہاں موجود ہے۔
مبارک کاپڑی نے وہاں موجود والدین وسرپرستوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اول مقام پر تعلیم کو ہی رکھنا چاہیے، کیونکہ قرآن وحدیث کی شکل علوم کا منبع موجود ہے، اس لئے اوروں کے مقابلے ہمیں زیادہ علم والا ہونا چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ آنے والی صدی ان شاءاللہ قرآن مجید کی صدی ہوگی، سائنس کو مجبور ہونا پڑے گا قرآنی تعلیمات کو قبول کرنے کے لئے، انہوں نے والدین کو مشورہ دیتےہوئے کہا کہ ہمارا گھر ہماری یونیورسٹیاں ہیں، اس لئے گھروں کے ماحول کو بچوں کی تعلیم کے لئے سازگار بنانا چاہیے، بچوں کی حوصلہ افزائی کریں انہیں زیادہ سے زیادہ وقت دیں ان کی پریشانیوں کو شیئر کریں۔ افتتاحی خطاب میں عظمت گروپ آف انسٹی ٹیوشن کے صدر طاہر جمال نے مہمان موصوف کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے سامنے جو شخصیت موجود ہے ان کا اوڑھنا بچھونا تعلیم کیلئے ہی ہے، اپنے صدارتی خطاب میں مفتی شاہد مسعود قاسمی نے قرآن وحدیث کی روشنی میں علم کی اہمیت پر مختصر و جامع گفتگو کی۔
اس موقع پر اساتذہ ،طلبہ، سرپرست سمیت کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔